Baaghi TV

Category: صحت

  • کراچی میں 10 دن میں 90 ڈینگی کیسز سامنے آ گئے

    کراچی میں 10 دن میں 90 ڈینگی کیسز سامنے آ گئے

    کراچی میں رواں ماہ ڈینگی کے 90 کیس سامنے آئے ہیں۔

    ترجمان محکمہ صحت سندھ کے مطابق کراچی میں 8 اکتوبر کو ڈینگی کے 10 کیس رپورٹ ہوئے، ضلع وسطی 4، ضلع شرقی 3 اور ضلع جنوبی سے ڈینگی کے 3 کیس رپورٹ ہوئے۔رواں سال کراچی میں اب تک ڈینگی کے 1 ہزار 473 کیس رپورٹ ہو چکے ہیں جبکہ رواں سال سندھ میں ڈینگی کے 1 ہزار 709 کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔ترجمان کا کہنا ہے کہ رواں سال سندھ میں ڈینگی سے ایک شخص کا انتقال بھی ہو چکا ہے۔دوسری جانب شہر میں چکن گونیا کے کیسز کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ واضح رہے کہ کراچی کے تمام سرکا ری و نجی اسپتال اس وقت مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں لیکن شہرمیں جراثیم کش اسپرے کا مرحلہ اب تک شروع نہیں ہوسکا، بلدیہ عظمی کراچی مختلف ٹیکسوں کی ریکوری پراپنی پوری طاقت صرف کررہی ہے لیکن عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے۔دوسری جانب پچیس ٹائونز کی انتظا میہ بھی عوام کو ریلیف فراہم کر نے کے لیے کو ئی اقدامات کرنے کو تیارنہیں ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلا ت کاسامنا کرنا پڑرہا ہے۔شہریوں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں فوری طور پر جراثیم کش اسپرے کرایا جا ئے تاکہ ان بیماریوں سے بچا جا سکے۔

    ایف آئی اے کراچی زون میں تقرریاں و تبادلے

    کراچی سے کشمور جانے والی مسافر کوچ پر ڈاکوں کی اندھا دھند فائرنگ

    کراچی دھماکہ، خودکش بمبار کی سہولت کاری میں ملوث خاتون سمیت دو افراد گرفتار

  • چکن گونیا، ڈینگی اور ملیریا کے کیسزمیں تشویشناک حد تک اضافہ

    چکن گونیا، ڈینگی اور ملیریا کے کیسزمیں تشویشناک حد تک اضافہ

    چکن گونیا، ڈینگی اور ملیریا کے کیسزمیں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا،60 فیصد کیسز نجی اور سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی میں رپورٹ ہورہے ہیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ماہرین صحت نے بتایا کہ تینوں بیماریوں کی علامات اوران کے پھیلنےکی وجوہات میں مماثلت ہے، ساٹھ فیصد کیسز نجی اور سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی میں رپورٹ ہورہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مضر صحت پانی اور مچھروں کی افزائش حالیہ وباء پھیلنے کا سبب ہے۔سرکاری و نجی اسپتالوں میں صبح اور شام کے اوقات کی اوپی ڈی میں آنیوالے مریضوں میں ہر عمر کے افراد شامل ہیں جبکہ اسپتال کی ایمرجنسی میں لائے جانے والے مریضوں میں زیادہ تعداد چکن گونیا میں مبتلا شہریوں کی ہوتی ہے۔ڈاکٹرز نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ چکن گونیا یا ڈینگی اور ملیریا کی صورت میں ازخود اینٹی بائیوٹک ادویات کے استعمال سے پرہیز کریں اور صرف اپنے معالج کی ہدایت کے مطابق ہی ادویات کا استعمال کریں۔

    شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس،فضل الرحمان کی آئینی ترمیم کا بل مؤخر کرنے کی درخواست

  • کراچی:  موسم بدلتے ہی بخار کی مختلف اقسام تیزی سے پھیلنے لگیں

    کراچی: موسم بدلتے ہی بخار کی مختلف اقسام تیزی سے پھیلنے لگیں

    کراچی میں موسم بدلنے کے بعد بخار کی مختلف اقسام تیزی سے پھیلنے لگیں، سرکاری اسپتالوں میں یومیہ وائرل انفیکشنز کے تقریباً ڈھائی سو تک کیسز رپورٹ ہورہے ہیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق طبی ماہرین کہتے ہیں کہ بیماریوں کا سبب بننے والے مچھروں کے خاتمے کیلیے شہر میں اسپرے مہم میں تیزی لائی جائے، مختلف احتیاطی تدابیر اختیار کرکے ہی ان بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے۔مختلف اقسام کے مچھر شہر میں ملیریا، ڈینگی اور چکن گونیا جیسے وائرل امراض پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں۔سرکاری اسپتالوں میں ایک دن میں ملیریا، ڈینگی اور چکن گونیا کی علامات کے ساتھ 50 سے زائد مریض آرہے ہیں۔
    طبی ماہرین کے مطابق کراچی میں رواں سال اب تک ڈینگی کے ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے ہیں اور ایک شخص انتقال کرچکا ہے۔ شہر میں ملیریا کے ڈیڑھ ہزار جبکہ چکن گونیا کے ڈیڑھ سو سے زائد کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔محکمہ صحت سندھ کے مطابق ضلعی ٹیمیں شہر میں اسپرے مہم انجام دے رہی ہیں۔وائرل انفیکشنز کے پھیلاو کو روکنے کیلیے ضروری ہے ماسک کا استعمال لازمی کیا جائے اور اپنے ارد گرد صفائی ستھرائی کا بھی خاص خیال رکھا جائے تاکہ ان امراض سے کسی حد تک بچا جاسکے۔

    معروف عالم دین ڈاکٹر ذاکر نائیک کل کراچی پہنچیں گے

    قومی ایئرلائن کی نجکاری ایک مرتبہ پھر مؤخر ہو گئی

  • ڈاکٹرز نے بغیر آپریشن ڈیڑھ سالہ بچی کے معدے سے ہئیر کلپ نکال لیا

    ڈاکٹرز نے بغیر آپریشن ڈیڑھ سالہ بچی کے معدے سے ہئیر کلپ نکال لیا

    جنرل ہسپتال کے ڈاکٹروں نے بغیر آپریشن ڈیڑھ سالہ بچی کی کامیاب اینڈو سکوپی کرتے ہوئے معدے سے ہئیر کلپ نکال لیا،

    ڈاکٹر حسن سلمان ملک کی سربراہی میں اینڈو سکوپی کا یہ پروسیجر ڈاکٹرز کی ٹیم نے مکمل کیا جس سے چونگی امر سدھو کی رہائشی ننھی بچی مومنہ فیصل کی جان بچا لی گئی جبکہ یہ اقدام والدین کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں تھا۔پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر محمد الفرید ظفر نے ڈاکٹرز اور نرسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایک مرتبہ پھر ثابت ہو گیا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں بالخصوص لاہور جنرل ہسپتال جیسے تاریخی اور سٹیٹ آف دی آرٹ ادارے کے معالج کسی سے کم نہیں،یہاں مریضوں کی بڑی تعداد کے باوجود معیار اور رفتار کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اینڈو سکوپی علاج معالجے کے شعبے میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے جسے ڈاکٹر حسن سلمان ملک کی قیادت میں ڈاکٹرز کی ٹیم احسن انداز میں چلا رہی ہے اور بالخصوص اس بچی کے معدے سے ہئیر کلپ نکالنے جیسے پیچیدہ عمل کو کامیابی سے مکمل کرنا تاریخی اقدام ہے جس پر سارے ڈاکٹرز اور میڈیکل عملہ مبارکباد کا مستحق ہے۔

    میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر فریادحسین نے بھی اس اہم کامیابی کو سراہتے ہوئے کہ والدین سے اپیل کی کہ وہ کم عمر بچوں کو کھیلنے کے لئے چھوٹی، تیز دھار اور خطر ناک اشیاء دینے سے اجتناب برتیں اور بالخصوص دو سے چار سال کے بچوں پر کڑی نگاہ رکھیں چونکہ اس عمر کے بچے کسی بھی چیز کو دیکھے بغیر منہ میں ڈال سکتے ہیں جس سے اس طرح کی خطرناک صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ اس بچی کی کامیاب اینڈو سکوپی کرنے والے ڈاکٹر حسن سلمان ملک نے اس امر پر اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ شکر بجا لاتے ہوئے اسے ادارے کا اعزاز قرار دیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مستقبل میں بھی وہ پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر اور ایم ایس ڈاکٹر فریادحسین کی قیادت میں اسی لگن اور جوش و ولولے کے ساتھ کام کرتے رہیں گے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ڈیڑھ سالہ بچی مومنہ فیصل کے والدین نے بھی ڈاکٹرز کی ٹیم اور لاہور جنرل ہسپتال کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور اُن کو ڈھیروں دعائیں دیں

    جسٹس منصور علی شاہ کا پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں عدم شرکت، چیف جسٹس کو خط

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میرے کیس نہ سنیں،عمران خان کی پھر درخواست

    پاکستان بار کا پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کے اجرا پر شدید تحفظات کا اظہار

    پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کیس،جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید کا اختلافی نوٹ

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ ،جسٹس یحییٰ آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    بریکنگ،سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو قانونی قرار دے دیا

  • ادویات بے اثر،کیا پاکستان ٹائیفائیڈ لا علاج  ہو چکا ؟

    ادویات بے اثر،کیا پاکستان ٹائیفائیڈ لا علاج ہو چکا ؟

    اسلام آباد(باغی ٹی وی رپورٹ) پاکستان میں ادویات کو بے اثر کرنے والے ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ کے کیسز میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    مصباح خان کی بیورو آف انویسٹی گیٹو جرنلزم کے اشتراک سے شائع کردہ رپورٹ کے مطابق2016 میں پاکستان میں پہلا ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ کیس سامنے آیا اور اب تک ملک میں 15 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں ٹائیفائیڈ کی شرح سب سے زیادہ ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اینٹی بائیوٹکس کے غیر ضروری اور زیادہ استعمال سے بیکٹیریا کی ادویات کے خلاف مزاحمت میں اضافہ ہو رہا ہے، جو ٹائیفائیڈ جیسے امراض کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ادویات کی افادیت ختم ہو گئی تو مستقبل میں ٹائیفائیڈ ایک خطرناک عالمی وبا کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ ہر سال دنیا بھر میں تقریباً 90 لاکھ افراد ٹائیفائیڈ کا شکار ہوتے ہیں، جن میں سے اکثریت ان افراد کی ہوتی ہے جو اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت کرنے والے بیکٹیریا سے متاثر ہوتے ہیں۔

  • پاکستان میں منکی پاکس کا 7 واں کیس  رپورٹ

    پاکستان میں منکی پاکس کا 7 واں کیس رپورٹ

    پاکستان میں منکی پاکس کے کیسز میں مزید اضافہ ہونے لگا ایک اور مریض سامنے آنے کے بعد پاکستان میں منکی پاکس کے مریضوں کی تعداد سات ہو گئی ہے

    پاکستان میں منکی پاکس کا ساتواں‌مریض وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سامنے آیا ہے، متاثرہ شخص سعودی عرب سے اسلام آباد پہنچا تھا،مریض کا تعلق پنجاب کے شہر گجرات سے ہے اور اسکی عمر 44 برس ہے، متاثرہ شخص کو اسلام آباد کے ہسپتال میں داخل کروایا گیا ہے جہاں اسکی طبیعت بہتر ہے، پاکستان میں منکی پاکس کے اس سے قبل چھ کیس رپورٹ ہوئے، پہلا کیس خیبر پختونخوا میں سامنے آیا تھا، تمام مریض بیرون ممالک سے آئے جن میں منکی پاکس رپورٹ ہوا،

    واضح رہے کہ منکی پاکس کو عالمی ادارہ صحت نے پبلک ہیلتھ ایمرجنسی قرار دیا تھا، گزشتہ دنوں منکی پاکس کے حوالہ سے ڈبلیو ایچ او نے ایک ویکسین کی بھی منظوری دی تھی، عالمی ادارہ صحت کے مطابق منکی پاکس 121 ممالک میں پھیل چکا ہے، رواں سال 500 افراد اس سے ہلاک ہوچکے ہیں، ہائی رسک گروپس اور کمزور قوتِ مدافعت والے افراد میں منکی پاکس کی شرحِ اموات 10فیصد تک ہوسکتی ہے۔

    ترجمان وزارت قومی صحت کا کہنا تھا کہ ایم پاکس ایک نیا وائرس ہے اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گھبرانے کی بجائے احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور اگر کسی میں علامات ظاہر ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ایم پاکس کی علامات میں بخار، جسم پر دانے، سر درد، اور دیگر فلو جیسی علامات شامل ہیں۔ یہ وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص میں قریبی رابطے کے ذریعے پھیل سکتا ہے، لہذا اس حوالے سے عوام کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔حکومت پاکستان اور وزارت قومی صحت ملک میں اس بیماری کی روک تھام کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں

  • بھارت میں نپاہ وائرس سے ایک اور موت

    بھارت میں نپاہ وائرس سے ایک اور موت

    کیرالہ: بھارتی ریاست کیرالہ میں نپاہ وائرس سے ایک اور مریض جان بحق ہو گیا-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق کیرالہ میں 24 سالہ طالب علم نپاہ وائرس سے متاثر ہوا تھا جو بعد ازاں دم توڑ گیا،نپاہ وائرس کا پھیلاؤ روکنےکے لیے متاثرہ فرد سے ملنےوالے 151 افراد زیرنگرانی ہیں جن میں طالب علم کے رشتہ دار اور قریبی دوست شامل ہیں،نپاہ وائرس انسانوں میں مہلک اور دماغی سوجن والے بخار کا سبب بن سکتا ہے جب کہ کیرالہ میں رواں سال نپاہ وائرس سے 2 اموات ہوچکی ہیں۔

    ریاست کے وزیر صحت وینا جارج نے اتوار کے روز کیس کی تصدیق کی، طالب علم کا تعلق بنگلورو کے آچاریہ کالج سے تھا، 24 سالہ ایم ایس سی طالب علم کی موت 9 ستمبر کو ایک پرائیویٹ اسپتال میں ہوئی تھی، شک کے بنا پر ڈاکٹروں نے نپاہ وائرس کے لیے ٹیسٹ کرایا تو وہ مثبت نکل آیا۔

    حکام کا کہنا تھا کہ ترووالی پنچایت میں ماسک پہننے سمیت سخت نپاہ پروٹوکول پابندیاں عائد کی گئی ہیں، بخار سے متاثرہ افراد سے متعلق ڈور ٹو ڈور ڈیٹا اکٹھا کرنے کا کام جاری ہے۔

    واضح رہے کہ 2018 کے بعد سے ریاست کیرالہ میں نپاہ وائرس کی یہ چھٹی وبا ہے، اس کی وجہ سے ریاست میں گزشتہ چھ سالوں میں 22 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔

    نپاہ وائرس کیا ہے؟
    نپاہ وائرس (NiV) ایک زونوٹک وائرس (جانوروں سے انسان) ہے جو آلودہ یا براہ راست لوگوں کے درمیان کھانے کے ذریعے منتقل ہوسکتا ہے۔ NiV کا تعلق Paramyxoviridae خاندان میں Henipavirus کی نسل سے ہے۔ پھلوں کی چمگادڑیں، جنہیں عام طور پر اڑنے والی لومڑی کے نام سے جانا جاتا ہے، NiV کے قدرتی جانوروں کے میزبان ذخائر ہیں۔ نپاہ وائرس خنزیروں اور انسانوں کو بھی متاثر کرتا ہے یہ ساحلی علاقوں اور بحر ہند، ہندوستان، جنوب مشرقی ایشیا اور اوشیانا کے کئی جزیروں میں پایا جاتا ہے۔ یہ وائرس جنگلی اور گھریلو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے، اب تک صرف ایشیا میں پھیلنے کی اطلاع ملی ہے۔

    ابتدائی علامات میں بخار، سر درد، کھانسی، گلے کی سوزش، سانس لینے میں دشواری، قے، انتہائی کمزوری اور پٹھوں میں درد شامل ہیں جب کہ شدید علامات میں الجھن، غنودگی یا بدحواسی، دورے، بے ہوشی، دماغ کی سوجن شامل ہیں40 سے 75 فی صد کیسز میں موت واقع ہو سکتی ہے، نپاہ وائرس کے انفیکشن سے بچ جانے والوں نے طویل مدتی ضمنی اثرات کی اطلاع دی ہے۔

  • ڈاکٹر آصف بشیر یونائیٹڈ سٹیٹس سوسائٹی آف نیورولوجیکل سرجنز کے تاحیات اعزازی رکن منتخب

    ڈاکٹر آصف بشیر یونائیٹڈ سٹیٹس سوسائٹی آف نیورولوجیکل سرجنز کے تاحیات اعزازی رکن منتخب

    پاکستان کے لئے بڑا اعزاز،پروفیسر ڈاکٹر آصف بشیر یونائیٹڈ سٹیٹس سوسائٹی آف نیورولوجیکل سرجنز کے تاحیات اعزازی رکن منتخب ہو گئے ہیں

    ڈاکٹر آصف بشیر کا بطور رکن انتخاب کشنگ سوسائٹی یو ایس اے نے کیا. نیورو سرجنز سوسائٹی کا رکن منتخب ہونا کسی بھی نیورو سرجن کیلئے سب سے بڑا اعزاز ہے۔ ڈاکٹر آصف بشیر کا بطور رکن انتخاب ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر انتونیو چیوک کی زیر صدارت اجلاس میں رائے شماری کے دوران ہوا۔ پروفیسر ڈاکٹر آصف بشیر کا شمار پاکستان میں ان 2 نیورو سرجنز میں ہوتا ہے جو امریکن بورڈ سے بھی سرٹیفائیڈ ہیں۔ڈاکٹر آصف بشیر پنجاب انسٹیٹیوٹ آف نیورو سائنسز لاہور میں نیورو سرجری ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ کے طور پر فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ طب کے شعبہ میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں ڈاکٹر آصف بشیر کو صدارتی ایوارڈ تمغہ امتیاز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ اجلاس میں پروفیسر ڈاکٹر اصف بشیر کی پیشہ ورانہ کاوشوں کو بھی سراہا۔

    سوسائٹی آف نیورولوجیکل سرجنز 100 سال سے قائم دنیا کی قدیم ترین سوسائٹی ہے۔سوسائٹی آف نیورولوجیکل سرجنز ہارورڈ سمیت مختلف یونیورسٹیز اور اداروں کے سربراہان پر مشتمل تنظیم ہے۔ ڈاکٹر آصف بشیر کا کہنا تھا کہ نیورو سرجنز کی نمائندہ تنظیم سوسائٹی آف نیورولوجیکل سرجنز کا رکن بننا مقام فخر ہے۔

    فیض حمید کی گرفتاری پر نہ ڈرا ہوں نہ گھبرایا ہوں،عمران خان

    جنرل فیض حمید کا 30 سال تک قبضے کا منصوبہ،بغاوت ثابت؟

    فیض نیازی گٹھ جوڑ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے کیسے توڑا تھا؟ اہم انکشافات

    فیض حمید کی گرفتاری پر خلیل قمر،عمر عادل خوش،اڈیالہ جیل سے جاسوس گرفتار

    گرفتاری کا خوف،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار بیرون ملک فرار

    فیض حمید کا نواز،شہباز کو پیغام،مزید گرفتاریاں متوقع

    فیض حمید پر ڈی ایچ اے پشاور کو 72 کروڑ کا نقصان کا الزام،تحقیقات

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    فیض حمید ہمارا اثاثہ تھا جسے ضائع کر دیا گیا ،عمران خان

    فیض حمید کے مسئلے پر بات نہیں کرنا چاہتا یہ فوج کا اندورنی معاملہ ہے ، حافظ نعیم

    9 مئی کے واقعات کی تحقیقات صرف جنرل فیض حمید تک محدود نہیں رہیں گی. وزیر دفاع خواجہ آصف

    فیض حمید 2024 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی حمایت میں سرگرم تھے،سینیٹر عرفان صدیقی کا انکشاف

  • فریزر میں رکھا گوشت کتنے عرصے تک استعمال کیا جا سکتا ہے؟

    فریزر میں رکھا گوشت کتنے عرصے تک استعمال کیا جا سکتا ہے؟

    اسلام آباد: بہت سے لوگ قربانی کا گوشت کئی ماہ تک فریزر میں رکھ کر کھاتے رہتے ہیں تاہم یہ عمل خطرے سے خالی نہیں، خراب گوشت کھا لیا جائے تو یہ مہلک اور پیچیدہ امراض میں مبتلا کر سکتا ہے-

    باغی ٹی وی : امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے گوشت کھانے سے متعلق ہدایات میں کہا گیا ہے کہ گائے یا دنبے کے گوشت کو 6 سے 12 ماہ تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے جبکہ ان کا قیمہ 3 سے 4 ماہ تک کھانے کیلئے قابل استعمال رہ سکتا ہے۔ فریزر کا درجہ حرارت صفر فارن ہائیٹ سے کم ہونا چاہئے۔

    بعض ماہرین کی رائے میں گوشت فریزر میں محفوظ تک کئی ماہ تک کیا جا سکتا ہے مگر اس کی غذائیت میں کمی آ جاتی ہے، 3 سے 4 ہفتوں میں ہی استعمال کر لیا جائے تو تازہ گوشت جیسی اصل غذائیت حاصل ہو سکے گی،اگر فریزر میں رکھا گوشت خراب ہو جائے تو اس کا رنگ ہرے یا گرے رنگ میں تبدیل ہو جائے گا یا گوشت کی بو بھی تبدیل ہونے پر خرابی کا پتہ چلایا جا سکتا ہے۔

    علاوہ ازیں برطانوی فوڈ سیفٹی ماہرین نے خراب گوشت کی چند علامات بتائی ہیں میل آن لائن کے مطابق ماہرین نے بتایا ہے کہ گوشت کی رنگت، بو اور ہیئت سے اس کے خراب ہونے یا نہ ہونے کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق خراب گوشت کی رنگت سبزی مائل ہونی شروع ہو جاتی ہے، اس سے بدبو آنے لگتی ہے اور اس پر سفید دھبے پڑنے لگتے ہیں۔جب آپ گوشت کے موٹے حصے کو کاٹیں تو اس کی رنگت گلابی اور ہیئت بہت زیادہ نرم نہیں ہونی چاہیےسلویا اینڈرسن نامی خاتون ماہر نے کہا کہ آپ اپنے صرف حواس کو بروئے کار لاتے ہوئے ہی گوشت کے خراب ہونے کا پتا چلا سکتے ہیں۔

    سلویا اینڈرسن کا کہنا تھا کہ آپ کو علم ہونا چاہیے کہ جب چکن خراب ہوتا ہے، اس کی رنگت سبز پڑجاتی ہے اور جب بیف خراب ہوتا ہے تو یہ بالکل نرم اور لیس دار ہونے لگتا ہے اس کے علاوہ اس پر سفید دھبے پڑنے لگتے ہیں جو وقت کے ساتھ سیاہ ہوجاتے ہیں۔

  • ماہرین صحت کیمطابق ایک شخص کو کتنا گوشت کھانا چاہیئے؟

    ماہرین صحت کیمطابق ایک شخص کو کتنا گوشت کھانا چاہیئے؟

    اسلام آباد: عید الاضحیٰ کے موقع پر گوشت کی زیادتی اکثر لوگوں کی صحت کو متاثر کر دیتی ہے،غذا میں گوشت کا استعمال پروٹین،آئرن ،وٹامنز اور معدنی طاقت فراہم کرتا ہے لیکن اس کی زیادتی مختلف بیماریوں سے دوچار کر سکتی ہے۔

    عموماً گھروں میں گوشت کو کئی کئی ہفتے یا مہینوں تک فریز کر دیا جاتا ہے لیکن ایسا کرنے سے اس میں جراثیم پیدا ہو سکتے ہیں اس لیے ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ گوشت کو 3 ہفتوں سے زیادہ فریز نہیں کیا جانا چاہیے۔

    ماہرین کے مطابق خوراک میں روزانہ صحت کے لئے 90 گرام اور ہفتہ میں 500 گرام تک گوشت کا استعمال مفید ہوتا ہے تاہم اس میں زیادتی صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے،ماہرین کے مطابق بہت زیادہ گوشت کا استعمال کولیسٹرول ، فیٹ، بلڈ پریشر اور پیٹ کے امراض میں اضافے کا باعث بنتا ہے جس سے انسانی قوت مدافعت اور صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کی جانب سے 2015 میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق وافر مقدار میں گوشت کے استعمال سے کینسر کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں اسی طرح امریکا کے نیشنل کینسر انسٹیٹیوٹ کے مطابق گوشت کو بہت زیادہ درجہ حرارت پر پکایا جاتا ہے جس سے ہیٹروسائیکلیک امائن (HCAs) اور پولیسائیک لک ایرومیٹک ہائیڈروکاربن کیمیکلز فراہم ہوتے ہیں جس سے انسانی صحت میں کینسر کا خدشہ بڑھ سکتے ہیں۔

    اکثر عیدالاضحی کے فورا بعد لوگوں میں قبض سمیت پیٹ کے امراض بھی بڑھ جاتے ہیں جس کی ایک وجہ گوشت کے استعمال میں زیادتی ہو سکتی ہے ماہرین کے مطابق رات میں سونے سے قبل اسپغول کا استعمال مفید ثابت ہو سکتا ہےاسپغول کھانے میں موجود چربی اور کولسٹرول کی ایک مقدار جذب کرکے فضلے میں خارج کردیتا ہے جس سے دل کی بیماریوں سے ایک حد تک بچاؤ ممکن ہے۔

    ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ گوشت کو زیادہ سے زیادہ دو ہفتے تک کے لیے ڈیپ فریزر میں محفوظ کریں، بلڈ پریشر، ہائی کولیسٹرول، یورک ایسڈ اور دل کے مریض میانہ روی سےگوشت استعمال کریں جانور ذبح کرنے کے لیے اوزاروں کو اچھی طرح صاف کریں، ذبح کے بعد گوشت دو گھنٹے رکھنے کے بعد پکائیں، گوشت میں خون کا رہ جانا بیماریوں کا باعث ہوتا ہے لہٰذا گوشت اچھی طرح دھوئیں, گوشت پکانے کے لیے مرچ مصالحوں اور گھی کا استعمال کم سے کم کریں، گوشت کے ہمراہ سبزی، دہی اور زود ہضم چیزوں کا استعمال کریں، گوشت کھانے کے بعد سبز قہوے کا استعمال ہاضمے میں مدد دے گا۔

    ڈاکٹر زنے عید الاضحیٰ سے متعلق بتایا کہ عید کے دنوں میں گوشت کا زیادہ استعمال صحت پرمنفی اثرات ڈال سکتا ہے لہٰذاعید کے دنوں میں کھانے پینے میں احتیاط کریں، دل کے مریض مرغن غذائیں کھانے سے پرہیز کریں،دل کے مریضوں کے لیے بڑا گوشت مضر ہے۔