Baaghi TV

Category: صحت

  • جمخانہ کلب ساہیوال کو کیوں سیل کیا گیا،وجہ سامنے آگئی

    جمخانہ کلب ساہیوال کو کیوں سیل کیا گیا،وجہ سامنے آگئی

    ساہیوال:جمخانہ کلب اور گراؤنڈ کی تالا بندی کے خلاف ممبران و کھلاڑیوں کا احتجاج،کلب کو فورا کھولنے کا مطالبہ
    کرونا وبا اور انتظامی بے قاعدگیوں کی وجہ سے بند کیا،جنوری کے بعد کھول دیا جائے گا،ضلعی انتظامیہ
    تفصیلات کے مطابق ساہیوال شہر کے وسط میں واقع مشہور سپورٹس کمپلیکس جمخانہ کلب کو گزشتہ روز ضلعی انتظامیہ کی طرف سے سیل کردیا گیا تھا،انتظامیہ کے اس فیصلے کے خلاف آج ضلع بھر سے کلب ممبران اور کھلاڑی کلب کے باہر جمع ہوئے اور احتجاج کرتے ہوئے کمپلیکس کو فورا کھولنے کا مطالبہ کیا،انہوں نے کہا کہ ساہیوال میں جہاں صحتمندانہ سرگرمیوں کے مواقع پہلے ہی بہت کم ہیں وہاں جمخانہ کلب کی بندش سے کھلاڑیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے،صحتمندانہ سرگرمیوں پر قدغن لگا کر گورنمنٹ ہمارا ذہنی سکون چھیننا چاہتی ہے،ہمارا حکام سے مطالبہ ہے کہ کلب کو جلد از جلد کھولا جائے جبکہ دوسری جانب ڈپٹی کمشنر بابر بشیر نے جمخانہ کلب کو سیل کرنے سے متعلق کہا ہے کہ کلب کو کورونا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور انتظامی بے قاعدگیوں کی وجہ سے سیل کیا گیا ہے اور کوشش کی جائے گی کہ کلب کے معاملات کو بہتر کر کے اسے 31جنوری کے بعد کھول دیا جائے -انہوں نے کہا کہ کلب کی لیز بھی ختم ہو چکی ہے جس کے لئے بورڈ آف ریونیو سے اجازت حاصل کی جائے گی جبکہ کلب کے انتظامی معاملات کو بھی درست کیا جائے گا تا کہ ممبران کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں

  • کروناوائرس سے بچاؤ صرف احتیاطی تدابیر سے۔

    کروناوائرس سے بچاؤ صرف احتیاطی تدابیر سے۔

    ننکانہ صاحب: نمائندہ باغی ٹی وی عبدالرحمان یوسف
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بزدارحکومت کی خصوصی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر ننکانہ راجہ منصور نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ عوام الناس کو کرونا وائرس سے بچانے کے لئے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے، تمام ضلعی افسران کروناوائرس کے خاتمہ کے لئے دن رات کوشاں ہے، عوام الناس سے اپیل ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہو کر اس کرونا وائرس سے نجات حاصل کرنے کے لئے حکومت اور ضلعی انتظامیہ کا ساتھ دیں تاکہ ملک پاکستان میں کرونا وائرس کے خاتمہ کو یقینی بنایا جا سکے۔
    ان خیالات کا اظہار ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب راجہ منصور احمد نے کرونا وائرس کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے احتیاطی اقدامات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ضلع بھر کی تینوں تحصیلوں کے دفاتروں،سکولوں ،کالجوں،بازاروں، گلیوں میں کرونا وائرس کے بچاﺅ کے لئے احتیاطی تدابیر کا عمل جاری ہے، عوام الناس کو احتیاطتی تدابیر اپنانے کے لیے آگاہی فراہم کی جارہی ہے۔ڈپٹی کمشنر راجہ منصور احمد نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان کی ہدایت پر ضلع بھر میں کروناوائرس کے مریضوں کے لئے فیلڈ ہسپتالوں اور قرنطینہ سینٹرز میں بہترین طبی سہولیات کا بندوبست کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید ضلع بھر کی عوام سے اپیل کی کہ ماسک کا استعمال ضرور کریں، غیر ضروری سفر اور گھروں سے نکلنے سے پرہیز کریں،اپنے ہاتھوں کو بار بار صابن سے دھوئیں اور ہینڈ سینیٹائزر سے استعمال کو یقینی بنائیں ۔

  • سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر طارق سہیل کا رات گئے مرکز صحت واربرٹن کا دورہ

    سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر طارق سہیل کا رات گئے مرکز صحت واربرٹن کا دورہ

    ننکانہ صاحب: نمائندہ باغی ٹی وی عبدالرحمان یوسف
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب راجہ منصور احمد کی خصوصی ہدایت پر چیف ایگزیکٹوآفیسر ہیلتھ اتھار ٹی ننکانہ صاحب ڈاکٹر طارق سہیل نے رات گئے اپنی ٹیم کے ہمراہ دیہی مرکز صحت منڈی واربرٹن میں طبی سہولیات کا جائزہ لینے کے لیے اچانک دورہ کیا ۔دورے کے دوران سی ای او ہیلتھ اتھارٹی ڈاکٹر طارق سہیل نے ہسپتالوں کے انچارج ودیگر عملہ کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز ، پیرامیڈکس سٹاف سمیت دیگر عملے کو چاہیے کہ مریضوں اور انکے لواحقین کے ساتھ حسن اخلاق کا مظاہر ہ کریں،عوام الناس کو صحت کی تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتطامیہ اور محکمہ صحت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں ۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ اتھارٹی ننکانہ صاحب ڈاکٹر طارق سہیل نے اس موقع پر ہسپتال کے مختلف وارڈز ، ایمرجنسی، آپریشن تھیٹر،سٹا ک رجسٹر سمیت مفت ادویات کا جائزہ لیا اورہسپتالوں میں مریضوں سے درپیش آنے والی مشکلات بارے دریافت کیا ۔ انہوں نے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کا تفصیلی دورہ کیا ہسپتال میں ایم ایس سمیت میڈیکل آفیسرز اور وومن میڈیکل آفیسر اور پیرا میڈیکل سٹاف ڈیوٹی پر موجود تھے۔ سی او ہیلتھ اتھارٹی نے صفائی ستھرائی ،سیکورٹی،ادویات کے سٹاک سمیت عملہ کی حاضری چیک کرتے ہوئے اطمینان کااظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کے ویثرن کے مطابق مریضوں کو ذیادہ سے ذیادہ طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے اپنے سرپرائز دورے کے دوران ادویات کے اسٹاک اور عملے کی حاضری کو باقاعدہ چیک کرتے ہوئے کہا کہ ضلع ننکانہ کے تمام مراکز صحت میں عملہ کی حاضری کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے اور غیر حاضر ہونے والے عملے کے خلاف سخت کارروائی عمل لائی جائے گی۔

  • کرونا دراصل کیا ہے ؟ تحریر :عشاء نعیم

    کرونا دراصل کیا ہے ؟ تحریر :عشاء نعیم

    کرونا دراصل کیا ہے ؟
    تحریر :عشاء نعیم

    آج ہماری ایک تحقیقی تحریر ہے ذرا پڑھ کر رائے دیجئے گا ۔

    اس سال مارچ کے مہینے سے دنیا میں ایک نئی اور انوکھی بیماری آ گئی جسے کرونا کہتے ہیں یہ کرونا بھی سمجھ میں نہ آنے والی بیماری ہے جانے یہ عالمی سطح پر پھیل جانے والی بیماری ہے یا عالمی سطح پر کی جانے والی سازش؟کیونکہ یہ پھیلی تو اچانک لیکن پیش گوئی کچھ سال پہلے ہی کردی گئی تھی ۔

    یہ پھیلا تو چین کے صوبے ووہان سے تھا ۔جب وہاں یہ پھیلا تو خوف ناک صورت حال تھی ۔وہاں سے آنے والی مریضوں کی ویڈیوز دیکھ کر دل کانپتا تھا اور کہا جارہا تھا یہ بیماری اگر لاک ڈاون جہنم کا گیا تو جلد پوری دنیا میں پھیل جائے گی اس کی وجوہات کے بارے میں بھی سائنس دان کوئی حتمی بات نہیں کر رہے پہلے کہا گیا یہ چمگادڑ سے انسان میں آئی ہے ۔پھر کہا گیا یہ کتے سے آئی ہے ۔

    کتوں کے ذریعے کرونا پھیلنے کا دعویٰ سائنسدانوں نے تحقیق کے بعد کیا، کینڈا میں کی گئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ چین میں آوارہ کتوں نے چمگادڑ کا پھینکا ہوا گوشت کھایا جس سے ان میں کرونا وائرس کا انفیکشن ہوا اور پھر کتوں سے یہ وائرس انسانوں میں پھیل گیا۔ ماہرین دسمبر 2019 سے ہی انسانوں اور چمگادڑ کے درمیان ذریعہ بننے والے جانوروں سے متعلق پتہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن حتمی طور پر کچھ بھی معلوم نہیں ہو سکا ہے-

    کینیڈا کی اوٹاوا یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے دعویٰ کیا ہے کہ انسانوں تک کرونا وائرس پھیلانے کے ذمہ دار آوارہ کتے ہی ہو سکتے ہیں۔ لیکن ابھی تک حتمی طور پہ جانا نہیں جا سکا کہ بیماری آئی کیسے ہے بحرحال جب یہ بیماری آ گئی تو دیکھتے ہی دیکھتے ملکوں کے ملک بند ہوتے چلےگئے ۔

    ویسے یہ بات الگ ہے کہ چین کی سرحد پاکستان کے ساتھ لگتی ہے لیکن یہاں بیماری بعد میں آئی جبکہ یورپ میں پہلے پہنچ گئی اور لاک ڈاون بھی پہلے ہی لگ گیا تھا یہ بیماری پاکستان میں بھی پہنچی لیکن یہاں لوگ شش و پنج میں مبتلا ہو گئے ہیں ۔آخر یہ بیماری ہے یا نہیں ہے ؟

    پہلے ہر کسی نے صرف خبر سنی تو کہا جانے لگا کہ کسی قریبی کو نہیں سنا بس میڈیا ہی دکھاتا ہے بہت جلد یہ رپورٹ قریبی لوگوں کے بارے میں بھی سننے لگے حتی کہ کچھ دوستوں کے گھر والے اللہ رب العزت سے جا ملےلیکن شش و پنج پھر نہیں گیا کیوں کہ جن کے بارے میں کہا گیا وہ کرونا سے مرے ہیں بعد میں ان کی رپورٹس دیکھی گئیں تو وہ نیگٹو تھیں ۔

    اسی طرح بعض جاننے والوں نے بتایا کہ ہمارے مریض کو زبردستی کرونا کا مریض بنایا گیا یا کسی اور وجہ سے مرنے والے کو کرونا سے ہونے والی موت میں شامل کردیا گیا اس قسم کی متضاد خبروں نے ہمیں بھی بےیقینی کی کیفیت میں مبتلا کیا ہوا ہے شروع شروع میں بہت خوف زدہ ہوئے ہر قسم کہ ایس او پیز کا خیال بھی رکھا دعائیں بھی کی گئیں۔

    لیکن پھر کرونا کی "آنیاں’جانیاں” نے ہمیں عجیب کشمکش میں مبتلا کردیا ہے پہلے رمضان آیا تو لاک ڈاون لگا دیا گیا بہت سختی کی گئی ‘مسجدوں میں جمعہ تک پہ پابندی لگ گئی ‘موذن اکیلا مسجد جاتا اذان دیتا اور یا تو اکیلا یا چند ایک لوگ فاصلے پہ کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے ‘اعتکاف بند کر دیا گیا ۔ سکول یونیورسٹیز ہر ادارہ بند کردیا گیا پھر عید گزر گئی اور لاک ڈاون آہستہ آہستہ کھلنے لگا ۔جب لاک ڈاون کھل گیا لوگ تھوڑا بےفکر ہونے لگے عید الاضحی آ گئی اور دس دن پہلے انتہائی سخت لاک ڈاون لگا دیا گیا لوگوں نے وہ عید بہت مشکل میں گزاری ۔

    لیکن مزے کی بات کہ عید کے بیس دن بعد محرم کے آتے ہی کرونا بھائی بھاگ گئے اور محرم کے ماتمی جلسے جلوس اور سڑکوں پہ اکٹھے ہونے پہ کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں لگائی گئی ۔کرونا کے کیسز کنٹرول رہے نہ کہیں خطرہ بڑھا نہ ہی کوئی مسلہ ہوا کوئی بھی شیعہ کرونا سے نہ مرا ۔

    کرونا بھائی سوئے رہے اور پھر ربیع الاول جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش اور وفات کا مہینہ بھی ہے اب مسلمانوں کے اندر چونکہ بہت بگاڑ پیدا کیا جا چکا ہے اور ان عظیم ترین ہستیوں کو بھی اپنی ان خرافات سے نہیں بچنے دیتے اور ان کے نام پہ جو کچھ کیا جاتا ہے اللہ کی پناہ لوگوں نے میلاد ہے نام پہ جلسے جلوس کیے اور میلاد منائے بعض لوگوں نے عید تک منا ڈالی لیکن اس عید پہ کوئی کرونا آیا نہ ہی پابندی لگی ۔

    اب جبکہ یہ دن نکل گئے تو کرونا بھائی پھر سے نمودار ہو گئے ہیں ہم نے سوچا سارے سائنس دان کھوج لگا رہے ہیں کہ آخر یہ وائرس ہے کیا؟ آیا کہاں سے ہے؟تو جو تحقیق ہم نے کی وہ بھی آپ کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور ہمیں پتہ چلا کہ دراصل کرونا جو رمضان میں بھرپور آیا ‘اعتکاف پہ ‘حج پہ ‘عید پہ پورے جوش و خروش سے آیا لیکن یہ ماتمی جلوسوں پر نہیں آیا اور نہ ہی ربیع الاول کے میلادی جلوسوں پہ تو یقینا یہ کرونا "وہابی ہے”۔

    آپ کا کیا خیال ہے ؟

  • کورونا وائرس کی دوا کی تیاری میں اہم پیشرفت ہو گئی

    کورونا وائرس کی دوا کی تیاری میں اہم پیشرفت ہو گئی

    ڈاؤ یونیورسٹی میں کورونا کے علاج کی دوا کی تیاری اہم مرحلے میں داخل،کورونا میں جان بچانے والی دوا کے کامیاب کلینکل ٹرائل

    ڈاؤیونیورسٹی نے انٹر اوینس امیونوگلوبیولن (آئی وی آئی جی)بنانے کا اعلان اپریل کے دوسرے ہفتے میں کیا تھا۔ڈاکٹرز کے مطابق کلینکل ٹرائل کے دوران کورونا کی شدید علامات میں مبتلا مریضوں کی ریکوری 60فیصد رہی، کورونا کی کم شدت کے مریضوں میں آئی وی آئی جی سے ریکوری 100فیصد رہی،آئی وی آئی جی پر کام کا آغاز وائس چانسلر ڈاؤ یونیورسٹی پروفیسر سعید قریشی کی ہدایت پر مارچ میں شروع ہوا

    ڈاکٹر شوکت علی نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ آئی وی آئی جی (انجیکشن) کورونا سے صحت یاب مریضوں کے پلازما کو شفاف کرکے کشید کیا جاتاہے
    کلینیکل ٹرائل کے لیے ڈریپ کا تعاون حاصل رہا،

    کورونا وائرس کے مریضوں کو بیماری سے بچانے کے لیے اگرچہ دنیا میں تاحال ویکسین تیار نہیں کی جا سکی اور نہ ہی اگلے کئی ماہ تک ویکسین دستیاب ہو پائے گی لیکن اس کے علاوہ تقریبا دنیا کے تمام ممالک مذکورہ بیماری کے نئے نئے علاج دریافت کر رہے ہیں۔

    اگرچہ اس وقت پاکستان سے لے کر امریکا تک کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے پلازما یا اینٹی باڈیز تھراپی کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے، تاہم پاکستانی طبی ماہرین نے اسی طریقہ علاج سے ایک نیا طریقہ نکال لیا

  • حکومت پنجاب کے پروگرام کلین اینڈگرین پنجاب کے تحت ننکانہ ضلعی انتظامیہ متحرک

    حکومت پنجاب کے پروگرام کلین اینڈگرین پنجاب کے تحت ننکانہ ضلعی انتظامیہ متحرک

    رپورٹ بائے عبدالرحمان یوسف
    باغی ٹی کی رپورٹ کے مطابق ڈپٹی کمشنر ننکانہ راجہ منصور احمد نے کہا ضلع بھر کے شہریوں کو صفائی ستھرائی کی بہتر ین سہولیات فراہم کرنا ضلعی انتطامیہ کی اولین ترجیح ہے،نواحی قصبہ موڑکھنڈامیں40سے زائد کوڑا کرکٹ پھینکنے کے لیے ڈرم نصب کروائے کروا دیے گئے۔
    حکومت پنجاب کے پروگرام کلین اینڈگرین پنجاب کے تحت ضلعی انتظامیہ ، میونسپل کمیٹیاں،محکمہ لوکل گورنمنٹ اور تحصیل کونسل کی طرف سے ضلع بھر میں صفائی مہم اور ناجائز تجاوزات کے خاتمے کی مہم روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے ۔ان خیالات کا اظہارڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب راجہ منصور احمد نے ضلع بھر میں جاری کلین اینڈگرین پنجاب پروگرام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کیا ۔
    تفصیلات کے مطابق ننکانہ صاحب کے نواحی قصبہ موڑکھنڈا میں کلین اینڈگرین پنجاب پروگرام کے تحت تحصیل کونسل کی زیرنگرانی 40سے زائد کوڑا کرکٹ پھینکنے کے لےے ڈرم نصب کروائے جارہے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب راجہ منصور احمد نے کہا کہ ضلع بھر کی مختلف شاہراہوں،گلیوں ، بازاروں،فٹ باتھ کو روزانہ کی بنیاد پر تحصیل کونسل ،میونسپل کمیٹیوں اور ٹاﺅن کمیٹیوںکا عملہ صاف ستھرا بنانے کے لیے اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہے ۔ڈپٹی کمشنر راجہ منصور احمد نے مزیدکہا کہ ضلع بھر کو صاف ستھرا بنانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر ضلعی افسران ضلع بھر میں سرپرائز وزٹ کررہے ہیں اور جہاں ضرورت پیش آتی ہے وہاں متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر کی زیر نگرانی میونسپل کمیٹی کے عملہ سے فوری صفائی کروائی جارہی ہے تاکہ شہریوں کو صفائی ستھرائی کی بہتر ین سہولیات سمیت پرسکون ماحول مہیاکیا جاسکے۔

  • ڈپٹی کمشنر ننکانہ کا دورہ سانگلہ ہل

    ڈپٹی کمشنر ننکانہ کا دورہ سانگلہ ہل

    رپورٹ بائے عبدالرحمان یوسف
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی ہدایت پر کسانوں اور شوگر ملز مالکان دونوں کے حقوق کا تحفظ ہر قیمت پر یقینی بنایا جائےگا،کسانوں کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی برداشت نہیں کی جائے گی،ضلع بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں اور انکے لواحقین کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جارہاہے
    تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر ننکانہ راجہ منصور احمدوزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی خصوصی ہدایت پر کسانوں اور شوگر ملز مالکان دونوں کو کہا کہ آپ کے حقوق کا تحفظ ہر قیمت پر یقینی بنایا جائےگا،کسانوں کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی برداشت نہیں کی جائے گی ان خیالات کا اظہار ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب راجہ منصور احمد نے اسسٹنٹ کمشنر سانگلہ ہل سارا لونی کے ہمراہ ہداشوگر مل سانگلہ ہل میں شوگر ملز مالکان کی طرف سے کسانوں کو دی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر راجہ منصور احمد نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ گنے کے کاشتکاروں کو بہترین سہولتیں فراہم کررہی ہے ، کاشتکاروں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا، ملز مالکان کی طرف سے کاشتکاروں کو رقم کی بروقت ادائیگی کے لیے بہترین اقدامات کیے گئے ہیں۔انہوں نے ملز مالکان کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں سے گنے کی خریداری حکومت پنجاب کی طرف سے جاری کردہ ریٹوں کے مطابق کی جائے اور کسانوں کو بروقت ادائیگیاں کی جائیں اگر کسانوں کی طرف سے کسی قسم کی شکایت موصول ہو تو فوری طور پر ملز مالکان کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔بعدازاں ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب راجہ منصور احمد نے عوام الناس کو طبی سہولیات اور ادویات کی مفت فراہمی کا جائزہ لینے کے حوالے سے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال سانگلہ ہل کا بھی دورہ کیا ۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ننکانہ راجہ منصور احمد نے ہسپتال کی صفائی ستھرائی ، سیکورٹی ادویات کے سٹاک سمیت مریضوں اور انکے لواحقین کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیااور اس میں مزید بہتری لانے کے لیے ہسپتال انتطامیہ کو ہدایات جار ی کیں۔ڈپٹی کمشنر راجہ منصور احمد نے اس موقع پر کہا کہ حکومت پنجاب کا ویژن عوام کوصحت کی بہترین سہولیات فراہم کرنا ہے اس مقصد کے لیے ضلع بھر کے بنیادی مراکز صحت،ٹی ایچ کیو ہسپتالوں میں انتظامات اور سہولیات کی خصوصی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے،سستی اور کاہلی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی ،ڈاکٹرزو دیگر ہسپتالوں کا عملہ اپنی ڈیوٹی کو سو فیصد یقینی بنائیں۔

  • نرسنگ کے نصاب میں ذیابیطس کا مضمون شامل کیا جائے: سربراہ جنرل ہسپتال

    نرسنگ کے نصاب میں ذیابیطس کا مضمون شامل کیا جائے: سربراہ جنرل ہسپتال

    لوگوں کو امراض قلب، نابینا پن،بلڈ پریشر،فالج اور اعضاء کی قطع برید سے بچنے کیلئے طرز زندگی بدلنا ہوگا 
     تفصیلات کے مطابق پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے کہا کہ پاکستان میں نرسنگ کے نصاب میں ذیابیطس کے مضمون کو شامل کیا جائے۔ اگر نرسز کو مکمل طور پر میڈیکل ایجوکیشن سے آراستہ کیا جائے تو شوگر کے مرض پر قابوپانے کیلئے ان کی خدمات موثر ترین ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت نے بھی اپنی سفارشات میں نرسوں کے کردار کی افادیت اجاگر کرتے ہوئے2020عالمی یوم ذیابیطس کا تھیم "ذیابیطس اور نرسز کی خدمات "قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج کے جدید دور میں سپیشلائزیشن ضرورت بن چکی ہے اور ہمیں ذیابیطس کے مرض پر قابو پانے کیلئے بھی اس امر کو یقینی بنانا ہو گا کہ ڈاکٹرز اور نرسز اس بیماری کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ علم اور تجربہ رکھتے ہوں۔

    پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ ذیابیطس کی وجہ سے بے شمار امراض لاحق ہو جاتے ہیں اور لوگوں کو امراض قلب، نابینا پن،بلڈ پریشر،فالج اور اعضاء کی قطع برید سے بچنے کیلئے طرز زندگی بدلنا ہوگا جس کے لئے متوازن غذاء،باقاعدگی کے ساتھ سیر، ورزش اور جسمانی محنت شوگر کی بیماری کے خطرات کو کم کرتے ہیں۔ اسی طرح موٹاپے اور دیگر خاندانی امراض کی منتقلی پر بھی نگاہ رکھنی ہو گی جس کے لئے باقاعدگی سے میڈیکل چیک اپ بھی ضروری امر ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں پروفیسر الفرید ظفر کا کہناتھا کہ جدید آسائشوں میں کمپیوٹر، موبائل فون اور دیگر اشیاء کی شکل میں راحت اور آرام پہنچانے کے ساتھ ساتھ ہمیں پیچیدہ بیماریوں کا تحفہ دیا ہے،لوگوں نے پیدل چلنا چھوڑ دیا ہے اور فاسٹ فوڈ اس معاملے پر دوہرا نقصان کر رہی ہے۔انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ذیابیطس کا مستند معالج سے علاج کروائیں،اپنی دیکھ بھال کریں،خون میں شوگر کی مقدار نہ بڑھنے دیں، مناسب نیند لیں، پیٹ کی چربی کم کریں اور لفٹ کی بجائے سیڑھیوں کا استعمال کریں۔
     

     

  • ڈاکٹروں اور میڈیکل افسران کی ترقی/ صوبائی وزیر لیبر عنصر مجید کی مبارکباد

    ڈاکٹروں اور میڈیکل افسران کی ترقی/ صوبائی وزیر لیبر عنصر مجید کی مبارکباد

    129 ڈاکٹروں اور میڈیکل افسران کی ترقی/صوبائی وزیر لیبر عنصر مجید کیڈاکٹرز کو مبارکباد،

    تفصیلات کے مطابق 39 سینئر میڈیکل افسران کی بطور اسسٹنٹ پرنسپل میڈیکل آفیسرز (BS-19) میں ترقی ہو گئی ،90 سٹاف نرسسز (بی ایس ۔ 16) کی بطور نرسنگ سسٹرز(بی ایس ۔ 17) میں ترقی کر دی گئی ،صوبائی وزیر عنصر مجید نے ترقی پانے والے افسران کو مبارک باددی صوبائی وزیر نے کہا کہ تمام ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف مریضوں کے علاج میں مزید محنت سے کام کریں، امید کرتا ہوں تمام افسران اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں گے،

    شعبہ طب سے وابسطہ افراد روزگار کے ساتھ ثواب بھی حاصل کرتے ہیں ،افسران کو ترقی دے کر ادارہ نے اپنی ذمہ داری پوری کی، اب افسران کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی کارکردگی سے ادارہ میں مزید بہتری لائیں، ورکرز اور انکے اہل خانہ کیلئے قائم اسپتالوں میں اپگریڈیشن کا کام جاری ہے، ادویات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ جدید میڈیکل مشنری بھی فراہم کی جا رہی ہے،

    محکمہ میں بہت جلد آٹومیشن سسٹم نافذ کیا جا رہا ہے، اسپتالوں میں کمپیوٹرآئزڈ ریکارڈ مرتب کرر ہے ہیں،کمپیوٹر آئزڈ ریکارڈ سے ادویات اور مریضوں کا ڈیٹا آن لائن موجود ہو گا،میڈیکل عملے کی کارکردگی کو بھی آن لائن سسٹم کے ذریعے مانیٹر کیا جا رہا ہے، ورکرز کو بہت جلد ای کارڈز جاری کئے جائیں گے جس پر تمام کام مکمل کر لیا گیا ہے،

  • ڈینگی کے خلاف جنگ،ڈپٹی کمشنر ننکانہ کے سنگ

    ڈینگی کے خلاف جنگ،ڈپٹی کمشنر ننکانہ کے سنگ

    ننکانہ صاحب:(رپورٹ بائے عبدالرحمان یوسف)
    باغی ٹی کی رپورٹ کے مطابق ضلع بھر کو ڈینگی فری بنانے کے لیے تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جارہا ہے،ڈینگی لاروا کی ممکنہ افزائش کے مقامات کی چیکنگ کو مکمل کرلیا گیا ہے ،محکمہ صحت کے تمام افسران واہلکاران اپنی ذمہ داریوں کو ترجیحی بنیادوں پر اداکریں،پولیو مہم 30نومبر سے شروع ہوگی اور 4دسمبر تک جاری رہے گی ،بابا گورونانک کے جنم دن کی تقریبات کے دوران گردوارہ جا ت میں 24گھنٹے05پولیو ٹیمیں کام کریں گی۔ڈپٹی کمشنر ننکانہ راجہ منصور احمد
    تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے ویژن کے مطابق اوربزدار حکومت کی خصوصی ہدایت پر ضلع بھر کو ڈینگی فری بنانے کے لیے تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جارہا ہے ،ڈینگی لاروا کی ممکنہ افزائش کے مقامات کی چیکنگ کو مکمل کرلیا گیا ہے جبکہ ڈینگی سٹاف کی کارکردگی کا تسلسل سے معائنہ کیا جارہا ہے ،محکمہ صحت کے تمام افسران واہلکاران اپنی ذمہ داریوں کو ترجیحی بنیادوں پر ادا کریں تاکہ انسدادی و حفاظتی اقدامات کے حوالے سے کسی جگہ کوئی کمی یا کمزوری نہ رہے، اس ضمن میں غفلت اور لاپرواہی کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی ۔ ان خیالات کا اظہار ڈپٹی کمشنر راجہ منصور احمد نے ڈینگی تدراک ، اس کی روک تھام اور پولیو کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) محمد عثمان خالد ،چیف ایگزیکٹو آفیسرہیلتھ اتھارٹی ننکانہ صاحب ڈاکٹرطارق سہیل ،ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر واجد،ایم ایس ڈی ایچ کیو ڈاکٹر اسفند یار، ڈپٹی ڈی ایچ اوز کے علاوہ دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اس موقع پر سی ای او ہیلتھ اتھارٹی ڈاکٹر طارق سہیل اور ڈی ایچ او ڈاکٹر واجد نے ڈینگی کے خاتمہ کے لیے ضلع بھر میں کیے گئے اقدامات کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر راجہ منصور احمد کو آگاہ کیا اور تفصیلی بریفنگ دی ۔ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب راجہ منصور احمد نے کہا کہ ضلع بھر میں پولیو مہم 30نومبر سے شروع ہوکر 4دسمبر تک جاری رہے گی،بابا گورونانک کے جنم دن کی تقریبات کے دوران گردوارہ جا ت میں 24گھنٹے05پولیو ٹیمیں کام کریں گی ۔ انہوں نے کہا کہ اندرون و بیرون ملک سے آنےو الے بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے ضرور پلائے جائیںگے۔اس موقع پر سی ای او ہیلتھ اتھارٹی ڈاکٹر طارق سہیل نے ڈپٹی کمشنر راجہ منصور احمد کو پولیو مہم کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پولیو مہم کے دوران 2لاکھ46 ہزار5سو 63 بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں جائیں گے جس کے لیے کل 746ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں ہیں، پولیو مہم کوکامیاب بنانے کیلئے محکمہ صحت کی 654 موبائل ٹیمیں گھر گھر اور تعلیمی درسگاہوں میں ،65 فکسڈ ٹیمیں دیہی و بنیادی مراکز صحت ، 27ٹرانزٹ پوائنٹ ریلوے اسٹیشن، لاری اڈوں، اہم چوکوں ، چوراہوں ، بس اسٹاپس اور بازاروں میںکل 746ٹیمیں بچوں کو قطرے پلانے کا قومی فریضہ انجام دیں گی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر راجہ منصور احمد نے کہا کہ انسداد پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے ہر بچے کو پولیو کے دو قطرے پلانے ہوں گے ،اقلیتی ،خانہ بدوشوں اور اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے بچوں کاخاص خیال رکھا جائے تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو کے قطرے پینے سے نہ رہ جائے ۔بعد ازاں ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب راجہ منصور احمد نے سابقہ پولیو مہم کے دوران بہترین کارکردگی کا مظاہر ہ کرنے والے محکمہ صحت کے افسران و اہلکاران میں تعریفی اسناد بھی تقسیم کیں۔