Baaghi TV

Category: صحت

  • -کورونا ایس او پیز پر سختی سے عملدرامد کا فیصلہ۔ شہریوں کے لئے ماسک لازمی قرار

    -کورونا ایس او پیز پر سختی سے عملدرامد کا فیصلہ۔ شہریوں کے لئے ماسک لازمی قرار

    -کورونا ایس او پیز پر سختی سے عملدرامد کا فیصلہ۔ شہریوں کے لئے ماسک لازمی قرار،خلاف ورزی پر پانچ سو روپے تک جرمانہ عاید کیا جائے گا،کمشنر و ایڈمنسٹریٹر کراچی افتخا ر شالوانی نے احکامات جاری کر دئے

    کراچی (باغی ٹی وی ) کراچی انتظامیہ نے کورونا پھیلنے کے خدشات کے پیش نظر شہریوں پر ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا ہے تفصیلات کے مطابق
    کمشنر و ایڈ منسٹریٹر کراچی افتخار شالوانی نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ شہریوں کو لازمی ماسک پہننے ی ہدایت کریں یقینی بنائیں کہ شہری لازمی ماسک پہنیں جو شہری اس ماسک پہننے کی ہدایت کی خلاف ورزی کریں ان کے خلاف کارروائی کریںاور پانچ سو روپے تک جرمانہ عاید کریں ۔

    کمشنر نے کہا کہ۰ دکانداروں اور مارکیٹوں پر کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں دکانداروں کو پابند کریں کہ وہ خود اور خریداروں سے ماسک کے بغیر دکان میں داخل ہونے کی اجاز ت نہ دیں لین دیں، کمشنر نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ ان دکانداروں اور مارکیٹ انتظامیہ کے خلا ف قانونی کارروائی کریں جو کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد سے گریز کریں

  • خواتین کو با اختیار اور با صلاحیت بنائے بغیر ان کی صحت کے مسائل حل ہونا مشکل ہے

    خواتین کو با اختیار اور با صلاحیت بنائے بغیر ان کی صحت کے مسائل حل ہونا مشکل ہے

    خواتین اور نوجوان لڑکیاں بریسٹ کینسر کو سٹیگما اور عیب سمجھ کر بیماری کو نا چھپائیں
    کسی تکلیف کی صورت میں اپنی فیملی اور معالج کو ضرور آگاہ کریں۔ ڈین IPH پروفیسر زرفشاں طاہر

    لاہورسابق گورنر پنجاب و  چیئرمین بورڈ آف مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد مقبول نے کہاہے کہ خواتین کو تعلیم یافتہ، بااختیار اور باصلاحیت بنائے بغیر ان کی صحت کے مسائل حل کرنا مشکل ہے، اگر خواتین اپنی بیماری کا انکشاف کریں تو انہیں بہت سے سماجی مسائل اور منفی رویوں کا سامناکرناپڑتاہے۔ہمارے ملک میں خواتین میں بریسٹ کینسرتیزی سے پھیل رہاہے۔ایک اندازے کے مطابق سالانہ 90ہزار نئے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں جبکہ 40ہزار خواتین اس بیماری سے اپنی جان گنوا بیٹھتی ہیں

       انہوں نے ان خیالات کا اظہار انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ میں بریسٹ کینسرکے بارے آگاہی سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔خالدمقبول کا کہناتھا کہ جدید ترقی یافتہ ممالک بھی تمام وسائل ہونے کے باوجود صحت کے مسائل سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں آگاہی نہ ہونے اور وسائل کی کمی کی وجہ سے بیماریوں پر کنٹرول ایک بڑا چیلنج ہے۔سابق گورنر نے مزیدکہاکہ دیہاتوں میں بنیادی مراکز صحت اور سکول موجود ہیں لیکن بہت کم ڈاکٹرز اور ٹیچرز وہاں جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ مریضوں کو علاج کے ساتھ کونسلنگ کی بھی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ بیماری کے ابتدائی مرحلے میں اپنے خاندان اور ڈاکٹرز کو آگاہ کرسکیں۔انہوں نے کہاکہ بنیادی صحت کے نظام کو مضبوط کئے بغیر بڑے ہسپتالوں میں مریضوں کا رش کم کرنا ممکن نہیں۔جنرل خالدمقبول نے مزیدکہاکہ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ سکولز اور کالجزکی سطح پر خواتین کی صحت خصوصاً بریسٹ کینسرکے بارے آگاہی سیمینار کا اہتمام کرے۔

    سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے پروفیسرعبدالمجیدچوہدری کاکہناتھاکہ بریسٹ کینسرکی اکثرمریض آپریشن کے بعد علاج چھوڑ دیتی ہیں جس سے مرض خطرناک صورتحال اختیارکرجاتاہے۔ان کا کہنا تھاکہ ناکافی سہولیات، علاج مہنگاہونے اور وسائل کی کمی بریسٹ کینسرکے مرض کو بڑھاوا دے رہی ہیں۔سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر روبینہ سہیل نے کہاکہ مانع حمل ادویات کا بریسٹ کینسر پھیلانے میں کوئی دخل نہیں۔ان کا کہناتھاکہ خواتین سال میں کم از کم ایک مرتبہ میموگرافی ٹیسٹ ضرور کرائیں تاکہ بیماری کی صورت میں ابتدائی سطح پر تشخیص ممکن ہوسکے۔انہوں نے کہاکہ جو مائیں اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلاتیں ان میں چھاتی کے سرطان کا خطرہ بڑھ جاتاہے۔ڈاکٹر طاہر اصغر پیتھالوجسٹ نے کہاکہ ہمارے ملک میں شوگراور بلڈپریشر کی طرح بریسٹ کینسر بھی تیزی سے پھیل رہاہے اور 40سال سے زائد عمر کی خواتین کے علاوہ نوجوان لڑکیاں بھی اس مرض کا شکار ہورہی ہیں جس کیلئے بڑے پیمانے پر عوامی آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ معاشرے میں کافی تبدیلی آگئی ہے اور اب قومی سطح پر بریسٹ کینسر کے بارے سیمینار اور گفتگو ہو رہی ہے جبکہ چندسال پہلے تک بریسٹ کینسر پر بات کرنابھی باعث شرم سمجھاجاتاتھا۔ پنک ربن پاکستان کے چیف ایگزیکٹو عمر آفتاب نے چھاتی کے سرطان کی روک تھام بارے پنک ربن کی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ ان کی این جی او لاہور میں جلد بریسٹ کینسر ہسپتال قائم کرے گی جس کیلئے حکومتی سطح پر بھی تعاون فراہم کیاجائے گا

  • روزانہ 6سوسے زائدکوروناوائرس سمیت مختلف بیماریوں کے تشخیصی ٹیسٹ کئے جاسکیں گے

    روزانہ 6سوسے زائدکوروناوائرس سمیت مختلف بیماریوں کے تشخیصی ٹیسٹ کئے جاسکیں گے

    بائیو سیفٹی کیبنٹس کے ذریعے پنجاب بھر میں ٹیسٹنگ کی استعدادکارمیں خاطرخواہ اضافہ ہوگا۔ڈاکٹریاسمین راشد
    ایک بائیو سیفٹی کیبنٹ کے ذریعے روزانہ 6سوسے زائدکوروناوائرس سمیت مختلف بیماریوں کے تشخیصی ٹیسٹ کئے جاسکیں گے

    صوبہ بھرمیں اس وقت 16سرکاری بی ایس ایل لیول تھری کی جدید لیبزکوروناوائرس کے تشخیصی ٹیسٹ کررہی ہے

    عالمی ادارہ صحت نے ہمیشہ مشکل گھڑی میں پاکستان کاساتھ دیا ہے،تمام بائیو سیفٹی کیبنٹس کو بی ایس ایل لیول تھری لیبز میں نصب کیاجائے گا
    وزیرصحت پنجاب

    وزیر صحت پنجاب ڈاکٹریاسمین راشد نے آج محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیرمیں عالمی ادارہ صحت سے 6بائیو سیفٹی کیبنٹس وصول کیں۔اس موقع پر سیکرٹری صحت کیپٹن(ر)محمد عثمان یونس،نمائندہ پاکستان عالمی ادارہ صحت ڈاکٹر پالیتھاگونارتھنا ماہیپالا،ڈاکٹر سعید اختر،رافعہ حیدر،ڈاکٹرجمشیدودیگرافسران موجودتھے۔

        صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے کہاکہ6بائیو سیفٹی کیبنٹس کا عطیہ دینے پر عالمی ادارہ صحت کے شکرگزارہیں۔بائیو سیفٹی کیبنٹس کے ذریعے پنجاب بھر میں ٹیسٹنگ کی استعدادکارمیں خاطرخواہ اضافہ ہوگا۔تمام بائیو سیفٹی کیبنٹس کو لاہورسمیت پنجاب کی مختلف سرکاری لیبزمیں زیراستعمال لایاجائے گا۔ایک بائیو سیفٹی کیبنٹ کے ذریعے روزانہ 6سوسے زائدکوروناوائرس سمیت مختلف بیماریوں کے تشخیصی ٹیسٹ کئے جاسکیں گے۔

    ڈاکٹریاسمین راشدنے کہاکہ عالمی ادارہ صحت نے ہمیشہ مشکل گھڑی میں پاکستان کاساتھ دیا ہے۔تمام بائیو سیفٹی کیبنٹس کو بی ایس ایل لیول تھری لیبز میں نصب کیاجائے گا۔صوبائی وزیر صحت نے مزیدکہاکہ پنجاب بھر میں عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کے مطابق کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیرپرسختی سے عملدرآمد کروایا جا رہاہے۔صوبہ بھرمیں اس وقت 16سرکاری بی ایس ایل لیول تھری کی جدید لیبزکوروناوائرس کے تشخیصی ٹیسٹ کررہی ہے۔

    پنجاب میں سرکاری و غیر سرکاری طورپر50سے زائد لیبز کوروناوائرس کے تشخیصی ٹیسٹ کررہی ہیں۔صوبائی وزیر نے کہاکہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں کوروناوائرس کی دوسری لہر زیادہ شدیدہے۔ پنجاب بھر کے سرکاری ہسپتالوں کی کوروناوائرس کے مریضوں کے علاج کیلئے استعدادکاربڑھائی جاچکی ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کے نمائندہ ڈاکٹرپالیتھا گونارتھاناماہیپالا نے کہاکہ عالمی ادارہ صحت پاکستان کے عوام کے ساتھ ہمیشہ تعاون جاری رکھے گا۔ڈاکٹرپالیتھاماہیپالا نے پنجاب میں کوروناوائرس پرقابوپانے کیلئے اٹھائے گئے بہترین اقدامات پر وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدکی کاوشوں کو سراہا۔

    صوبائی سیکرٹری صحت کیپٹن(ر)محمد عثمان یونس نے کہاکہ پنجاب بھرمیں کوروناوائرس کی صورتحال کو 24گھنٹے مانیٹرکیاجارہاہے۔کوروناوائرس کے ہر مثبت مریض کی کنٹیکٹ ٹریسنگ کا عمل تیز کردیاگیاہے۔صوبائی سیکرٹری صحت نے کہاکہ سموگ کے باعث کوروناوائرس کے مریضوں کی تعدادبڑھنے کا خدشہ ہے۔

  • فضائی آلودگی اور دیگر عوامل کی وجہ سے روزانہ 70افراد فالج میں مبتلا ہو رہے ہیں: طبی ماہرین

    فضائی آلودگی اور دیگر عوامل کی وجہ سے روزانہ 70افراد فالج میں مبتلا ہو رہے ہیں: طبی ماہرین

    فضائی آلودگی اور دیگر عوامل کی وجہ سے روزانہ 70افراد فالج میں مبتلا ہو رہے ہیں: طبی ماہرین 
    بیماری کی وجوہات میں ذہنی دباؤ، کھانے پینے میں لاپرواہی، بلند فشار خون، تمباکو نوشی، امراض قلب اور ذیابیطس وغیرہ شامل 
    نوجوان نسل اور خواتین میں مرض کی شرح بلند ، متحرک زندگی گزار کر فالج کے امکانات کم کریں
     
     علاج میں تاخیر پر بولنے میں مشکلات، یاداشت سے محرومی اور رویے میں تبدیلیوں جیسے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہےتفصیلات کے مطابق  
    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے پاکستان میں فالج کے مرض میں تیزی سے بڑھتی ہوئی شرح کو خطرے کی گھنٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ طب سے وابستہ افراد کو اس بیماری کی علامات، بچاؤ اور احتیاطی تدابیر سے آگاہی کیلئے مہم چلانا ہو گی کیونکہ دنیا بھر سالانہ میں 10لاکھ افراد الکوحل کے استعمال اور نشہ آور اشیاء کے باعث فالج کا شکار ہو جاتے ہیں

    جن سے اجتناب برتنا ضروری ہے جبکہ نیورو ریڈیالوجست جنرل ہسپتال ڈاکٹر عمیر رشید چوہدری و دیگر طبی ماہرین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بہتر نگہداشت اور مریض کے لئے اہل خانہ کی جانب سے خصوصی توجہ اور حوصلہ افزائی فالج کے مرض میں مریض کی جلد صحت یابی کے لئے نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فالج کا حملہ اُس وقت شدید ہوتا ہے جب دماغ کو خون پہنچانے والی کسی کوئی شریان بلاک ہو جائے یا پھٹ جائے
    ۔ایسی صورتحال میں فالج موت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ ڈاکٹر عمیر رشید نے انکشاف کیا کہ فضائی آلودگی اور دیگر عوامل کی وجہ سے روزانہ 70افراد فالج میں مبتلا ہو رہے ہیں بالخصوص نوجوان نسل اور خواتین میں مرض کی شرح بلند ہے،متحرک زندگی گزار کر فالج کے امکانات کم کریں۔اس موقع پر ڈاکٹر ہاشم،پروفیسر آصف بشیر،پروفیسر انور چوہدری، ڈاکٹر طارق میاں، ڈاکٹر صائمہ، ڈاکٹر سہیل اختر، ڈاکٹر حسنین ہاشم اور ڈاکٹر حسیب منظور و دیگر بھی موجود تھے۔ 

    پروفیسر الفرید ظفر نے اپنی گفتگو میں کہا کہ فالج کی بیماری دنیا بھر میں معذوری کی سب سے بڑی وجہ تسلیم کی جاتی ہے جس کی وجوہات میں ذہنی دباؤ، کھانے پینے میں لاپرواہی، بلند فشار خون، تمباکو نوشی، امراض قلب اور ذیابیطس وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاج میں جتنی تاخیر ہو گی اتنا ہی بولنے میں مشکلات، یاداشت سے محرومی اور رویے میں تبدیلیوں جیسے مسائل کا خطرہ بڑھ جائے گا جبکہ معاشی و سماجی مسائل، طبقاتی کشمکش، لوگوں میں ڈپریشن،احساس محرومی اور دیگر نفسیاتی عوامل فالج میں اضافے کا باعث ہیں جس کے نتیجے میں برین ہیمرج کے کیسز عام ہو گئے ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ اب فالج قابل علاج مرض ہے، ادویات بھی باآسانی دستیاب ہیں اور اس بیماری سے متاثرہ افراد جلد سے جلد صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ بر وقت تشخیص اور مناسب علاج کو یقینی بنایا جائے۔ طبی ماہرین نے سادہ غذا،پھل اور سبزیوں کے استعمال کے ساتھ ساتھ فاسٹ فوڈ سے اجتناب برتنے کا مشورہ دیا۔ اس موقع پر ایم ایس ڈاکٹر عبدالرزاق، ڈاکٹر شہزاد کریم، ڈاکٹر علی رزاق سمیت نوجوان ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔

  • شیخوپورہ میں پولیو کے خلاف مہم کا آغاز کر دیا گیا

    شیخوپورہ میں پولیو کے خلاف مہم کا آغاز کر دیا گیا

    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی) محمد اصغر جوئیہ ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ نے سی ای او ہیلتھ، اے سی شیخُوپورہ اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ہسپتال کے ہمراہ چلڈرن ہسپتال میں پولیو مہم کا افتتاح کیا۔ اس موقعہ پر عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے لئیے واک بھی کی گئی۔

  • ڈپٹی کمشنر ننکانہ نے پولیو مہم کا آغاز کر دیا۔

    ڈپٹی کمشنر ننکانہ نے پولیو مہم کا آغاز کر دیا۔

    ننکانہ صاحب:(نمائندہ باغی ٹی وی عبدالرحمان یوسف)
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈپٹی کمشنر ننکانہ راجہ منصور احمد نے ینگسن آباد میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر مہم کا افتتاح کر دیا۔اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد عثمان خالد، اسسٹنٹ کمشنر ننکانہ صولت حیات وٹو،سی او ہیلتھ سمیت دیگر حکام بھی موجود ہیں۔

  • ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ننکانہ میں جنرل وارڈ اور چیسٹ فی میل وارڈ کا افتتاح

    ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ننکانہ میں جنرل وارڈ اور چیسٹ فی میل وارڈ کا افتتاح

    ننکانہ صاحب:رپورٹ بائے عبدالرحمان یوسف
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈپٹی کمشنر ننکانہ راجہ منصور احمد نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں جنرل وارڈ اور چیسٹ فی میل وارڈ کا افتتاح کر دیا،بعد ازاں ڈپٹی کمشنر نے ایمرجنسی سمیت دیگر وارڈز کا دورہ بھی کیا اور مریضوں کو دی جانے والی طبی سہولیات کی فراہمی کا جائزہ لیا،اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کے ہمراہ سی او ہیلتھ ڈاکٹر کامران واجد،ایم ایس، ڈاکٹر افتخار محی الدین سمیت دیگر ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔

  • رنگ گورا کرنے والی 59 میں سے 57 کریموں میں کینسر پیدا کرنے والے عناصر شامل ہوتے ہیں   زرتاج گُل

    رنگ گورا کرنے والی 59 میں سے 57 کریموں میں کینسر پیدا کرنے والے عناصر شامل ہوتے ہیں زرتاج گُل

    موسمیاتی تبدیلی کی وزیر مملکت زرتاج گل نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں رنگ گورا کرنے والی 59 میں سے 57 کریموں میں کینسر پیدا کرنے والے عناصر شامل ہیں۔

    باغی ٹی وی: موسمیاتی تبدیلی کے وزیر مملکت ، زرتاج گل نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں رنگ گورا کرنے کی 57 مصنوعات جن میں کچھ بین الاقوامی برانڈز شامل ہیں میں کینسر پیدا کرنے والے عناصر شامل ہیں۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    پرو پاکستا نی نیوز ویب سائٹ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق وزارت کے ذریعہ کرائے گئے ایک سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ 59 میں سے 57 کریم میں مرکری کی سطح 1pbm سے زیادہ ہے جو تشویش کی بات ہے۔

    گل نے کہا کہ رنگت گورا کرنے والی مصنوعات کے تیار کنندگان کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سال 2020 کے آخر تک مصنوعات سے پارہ یعنی مرکری کی سطح کو 1pbm تک کم کرے۔

    زرتاج گُل نے بتایا کہ حکومت جلد کی مصنوعات میں پارے اور دیگر نقصان دہ مادوں کے استعمال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے میڈیا پر بھی زور دیا کہ وہ رنگ گورا کرنے والی مصنوعات سے متعلق گمراہ کن اشتہاروں کی حوصلہ شکنی کریں۔

    پروپاکستانی سے موصولہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ حکومت صنعتوں کو مرکری فری مصنوعات بنانے کی ترغیب دے رہی ہے اور مرکری کے استعمال سے متعلق قانون سازی کے سلسلے میں تمام اسٹیک ہولڈرز خصوصا سفید رنگ کی کریم بنانے والوں کو اعتماد میں لینا چاہتی ہے۔

    زرتاج گل نے کہا "ہم نے رنگ گورا کرنے والی مصنوعات کے بہت سے مینوفیکچررز کے سی ای اوز سے ملاقات کی اور ان سے مصنوعات سے مرکری ختم کرنے کو کہا۔”

    زرتاج گل نے مزید کہا کہ رنگ گورا والی کریموں میں پارے کی ضرورت سے زیادہ مقدار خطرناک ہے۔

    گل نے یہ بھی بتایا کہ بین الاقوامی برانڈ ‘فیئر اینڈ لولی’ نے وزارت کی سفارش پر اپنا نام تبدیل کرکے ‘گلو اینڈ لولی’ رکھ دیا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ماحولیاتی سہولت (جی ای ایف) حکومت کو مالی اعانت فراہم کررہی ہے تاکہ انسانی صحت اور ماحولیات کو مرکری اورمرکری کےمرکبات سے بچایا جاسکے۔


    دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھی اپنے ٹوئٹ میں زرتاج گُل نے بتایا کہ رنگ چٹا کرنے والی ہر وہ کریم جس میں پارے کی مقدار خطرناک شرح تک ہے، اس کے خلاف میری وزارت ایکشن لے رہی ہے، لائحہ عمل تیار کیا جا چکا ہے۔ ایسی ہر کریم کا غیر مناسب پرچار نہ صرف معاشرتی گراوٹ اور کم خود اعتمادی کا باعث ہے، بلکہ انسانی صحت کے لئے بھی انتہائی مضر ہے۔

    حریم شاہ کا خوبصورتی سے متعلق خصوصی پیغام

    آمنہ الیاس رنگ گورا کرنے والی کریموں کی تشہیر کرنے والی اداکاراؤں پر برہم

    آمنہ الیاس کا گہری رنگت کے حوالے سے ایک اہم پیغام

    سہانا خان کو رنگ پر تنقید کا سامنا ، سوشل میڈیا صارفین نے کالی چڑیل کہہ دیا

     

  • ستم کا شکار ہیموفیلیا مریض  تحریر:انجینئرمحمد ابرار

    ستم کا شکار ہیموفیلیا مریض تحریر:انجینئرمحمد ابرار

    ستم کا شکار ہیموفیلیا مریض
    انجینئر محمد ابرار

    آج پھر اسے کمرے میں بند کر کہ لاتا لگا دیا گیا دیا گیا.اسکے گال تھپڑوں سے سرُخ ہو چکے تھے. شاید وہ اسی لائق تھا یا زمانے کی ستم ظریفی تھی.امی میں کھیلنا چاہتا ہوں. شاید یہ ایک جملہ قتلِ ناحق سے بھی زیادہ گناہ اپنے اندر سموئے ہوئے تھا. چناچہ حسب معمول اسے کمرے میں بند کر کہ کمرے کو مقفل کر دیا گیا.
    عمار محمد ارسلان کے گھر پیدا ہونے والی پہلی اولاد تھی اسکے پیدا ہونے پر پورے گاؤں کو دعوت طعام دی گئی. عقیقہ کی سنت بھی ادا کر دی گئی. دیکھنے میں یہ ایک نارمل اور صحت مند سات سال کا خوبصوت بچہ ہے. بچپن میں دیہی نیم حکیم خطرہ جان کمپورڈر نما ڈاکٹر نے اسکی مرحم پٹی کر دی اور کامیابی سے ختنے کا عمل مکمل کرنے کی نوید سنائی لیکن پھر بھی خون تھا کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا.گھر جانے کے بعد بھی جب خون نہ رُکا تو ماسی، چچی، مامی سب نے مختلف ٹوٹکے بتائے تمام آزمائے گئے مگر یے خون تھا کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا. غریب مرتے کیا نہ کرتے اسے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال لے گئے وہاں جا کر معلوم ہوا کہ ختنے ٹھیک نہیں ہوئے. سارا خاندان اس کمپوڈر کو کوسنے اور لعنت طعن کرنے لگ گیا. خون کی ایک بوتل لگنے کے بعد خون تھم گیا اور گھر والوں نے سکھ کا سانس لیا. تین ماہ گزرنے کے بعد عمار چارپائی سے گزا اور ماتھے پر چوٹ لگ گئ پھر مرہم پٹی کروائی مگر خون ایک بار پھر تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا.
    اسی اثناء میں محلے کی چاچی بلقیس بیگم نے کہا کہ "میں تو کہتی ہوں اسے سول ہسپتال لے کر جاؤ وہاں سیانے ڈاکٹر ہوتے ہیں شاید اس کا کوئی علاج نکل آئے”.
    عمار کو صبح صادق کے وقت سول ہسپتال لے جایا گیا. خدا خدا کر کہ بڑے ڈاکٹر صاحب کی آمد ہوئی اور انہوں نے عمار کا چیک اپ گیا.ڈاکٹر صاحب نے پی ٹی، اے پی ٹی ٹی اور سی بی سی ٹیسٹ لکھ کر دیے. جب لیب سے ٹیسٹ کروا کر رپورٹ ڈاکٹر صاحب کو دکھائی گئی تو معلوم ہوا کہ عمار کو ہیموفیلیا جیسا مہلق مرض لاحق ہے اور اس کے جسم بھی قدرتی طور پر فیکٹر 9 کی کمی یے.ڈاکٹر صاحب نے عمار کے والدین کو بتایا کہ ہیموفیلیا ایک وراثتی بیماری یے جو والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے اور اس بیماری میں مبتلا افراد کے جسم میں خون جمانے والے اجزاء کی کمی ہوتی ہے جنہیں فیکٹرز کہتے ہیں. اسی کمی کی وجہ سے ختنے کروانے کے بعد اور حالیہ چوٹ لگنے کے بعد عماد کا خون بند نہیں ہوا تھا.
    عمار کے والد محمد ارسلان کو سعودی عرب سے ورکنگ ویزا مل گیا اور وہ سعودی عرب چلا گیا بعدازاں ویزہ کی مدت ختم ہونے کے بعد اکامہ نہ لگوانے کی باداش میں گزشتہ دو ماہ سے جیل میں ہے. عمار کی ماں چِٹی ان پڑھ ہے اور عمار کو فقط چوٹ لگنے کے ڈر سے دوسرے بچوں سے علیحدہ رکھا جاتا ہے.والد کا جیل میں ہونا ماں کے سٹریس کا باعث ہے مگر جب بھی عمار کھیل کود کا مطالبہ کرتا ہے تو اسے آگے سے خوب لتریشن اور تھپروں کا سامنا کرنا پڑتا یے جس کی وجہ سے عمار میں ایک وحشی پن موجود ہے. اسکی زبان گُنگ ہو گی ہے اور وہ بولنے کی بجائے بات کا جواب مُکے اور تھپڑ سے دیتا یے.
    عمار اور اس سے اور بچے جو ہیموفیلیا کے مرض میں مبتلا ہیں وہ ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں.والدین کی کونسلنگ اشد ضروری ہے تا کہ وہ ان پچوں کو چوٹ لگنے سے بچانے کی خاطر تشدد کا نشانہ نہ بنائیں انہیں انڈور گیمز کا بتائیں.سکولوں پرنسپلز ان بچوں کا داخلہ کرنے سے گھبراتے دکھائی دیتے ہیں.استاذہ کو اس بابت آگاہی دینے کی ضرورت ہے کہ انہیں سپیشل بچے کے طور پر ٹریٹ کیا جائے اور ان سے مار پیٹ جیسے رویے سے اجتناب کیا جائے.یہ بچے صرف تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو کر ہماری ملک و قوم کا نام روشن کرنے میں پیش پیش ہوں گے.

  • چھاتی کے کینسر سے آگاہی کے حوالہ سے اقدامات کی ضرورت ہے  بیگم ثمینہ علوی

    چھاتی کے کینسر سے آگاہی کے حوالہ سے اقدامات کی ضرورت ہے بیگم ثمینہ علوی

    اسلام آباد: :صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی اہلیہ بیگم ثمینہ علوی نے کہا ہے کہ چھاتی کے کینسر سے آگاہی کے حوالہ سے اقدامات کی ضرورت ہے، مرض سے آگاہی کیلئے سیمینارز منعقد کئے جائیں –

    باغی ٹی وی : چھاتی کے کینسر کی وجوہات میں موروثی منتقلی سمیت دیگر کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، چھاتی کے کینسر سے متعلق آگاہی کیلئے میڈیا کا کردار اہم ہے، این جی اوز بیماری سے متعلق ڈیٹابیس کی تیاری میں مدد دیں-

    اے پی پی کے مطابق چھاتی کے کینسر کے حوالہ سے شعور اجاگر کرنے کے بارے میں جمعرات کو یہاں ایوان صدر میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بیگم ثمینہ علوی نے کہا کہ بریسٹ کینسر کے دو اہم مسائل میں خواتین کی آگاہی اور تشخیص شامل ہیں، یہ مرض قابل علاج ہے اور جلد، بروقت تشخیص سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ خواتین اس مرض پربات نہیں کرتیں اور چھاتی کاکینسر خاموشی سے انسانی جانیں لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار اس کی سنگینی کے مظہر ہیں اس لئے اس مرض کی آگاہی کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین صحت، تعلیم، سفارتکار، حکومتی ادارے اور تمام شراکت دار آگاہی پیدا کریں۔ اس حوالہ سے تعلیمی اداروں اور دفاتر میں سیمینارز منعقد کئے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دیہی خواتین اس بیماری کو نظر انداز کر دیتی ہیں اور شرم سے اس کا ذکر نہیں کرتیں-

    بیگم ثمینہ علوی نے کہا کہ خاتون خاندان کا مرکز ہے اور اس کی صحت سے گھر خوشحال ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ خاندان میں مرض کی موجودگی سے چھاتی کے کینسر کا رسک بڑھ سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس کی بروقت تشخیص سے علاج ممکن ہے اس لئے چھاتی کے کینسر سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس کا علاج مہنگا ہے اور جو خواتین علاج کی استطاعت نہیں رکھتیں ان کے علاج کیلئے مخیر حضرات آگے آئیں اور فلاحی ادارے کام کریں تاکہ بروقت علاج کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

    بیگم ثمینہ علوی نے چھاتی کے کینسر کے علاج کی سہولتیں فراہم کرنے والے اداروں کی کاوشوں کوقابل تعریف قرار دیا اور کہا کہ این جی اوز کا کردار بھی اہم ہے۔

    انہوں نے فلاحی اداروں اور مخیر حضرات کے تعاون کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب اس میں ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔

    انہوں نے کہاکہ چھاتی کے کینسر کے علاج کیلئے خواتین کو دور دراز شہروں میں جانا پڑتا ہے اس لئے ہر ضلع کی سطح پر یاکم از کم ڈویژن کی سطح پر اس کے علاج کی سہولیات کو یقینی بنایا جائے۔

    انہوں نے کہا کہ خواتین کو ہسپتال تک پہنچانے کیلئے کچھ ادارے شٹل سروس شروع کرنا چاہتے ہیں جو قابل تعریف اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھاتی کے کینسر کی آگاہی کے بارے میں میڈیا کا کردار اہم ہے۔

    انہوں نے اینکرز، میڈیا مالکان اور مارننگ شوز کے میزبانوں سمیت تمام مکتبہ ہائے فکر سے کہا کہ دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے لوگوں میں بیماری کے حوالہ سے شعور اجاگر کریں۔ سوشل میڈیا صارفین بھی اپنے پیغامات میں کردار ادا کریں تاکہ قیمتی جانیں بچائی جا سکیں۔

    بیگم ثمینہ علوی نے کہا کہ تمام سٹیک ہولڈرز کے باہمی رابطہ کو بہتر بنایا جائے اور گھر گھر آگاہی فراہم کی جائے۔ پنک ربن مہم کو کامیاب بنانے میں معاونت پر انہوں نے تمام شراکت داوں سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ پاکستان میں اعدادو شمار مرتب کرنے کیلئے این جی اوز معاونت کریں۔ مسلح افواج بھی ڈیٹابیس کیلئے حکومت کی معاونت کریں۔

    انہوں نے کہا کہ پی اے ایف کے تمام بیسزپر آگاہی سیمینارز منعقد کئے جائیں گے۔ چھاتی کے کینسر کی بیماری کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے میں تمام اداروں کا کردارقابل تحسین ہے۔ اجتماعی کوششوں سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس مہم کیلئے کوئی سرکاری خزانہ استعمال نہیں کیا گیا بلکہ تمام شراکت داروں کے تعاون سے یہ مہم چلائی جا رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ خواتین معاشرے کا اہم ستون ہیں ان کی صحت کا تحفظ ہم سب کا مشترکہ فرض ہے۔