Baaghi TV

Category: صحت

  • ڈی پی او جھنگ نے تھیلیسیمیا کی مریضہ بچی کی دل کی خواہش پوری کردی

    ڈی پی او جھنگ نے تھیلیسیمیا کی مریضہ بچی کی دل کی خواہش پوری کردی

    ڈی پی او جھنگ نے تھیلیسیمیا کی مریض بچی مدیحہ واجد کی خواہش پر اسے ایک دن کے لئے ڈی پی او کی ذمہ داریاں سونپ دیں اور اپنی کرسی پر بٹھایا پولیس لائنز چاق و چوبند دستے نے ڈی پی او کی وردی میں ملبوس مدیحہ کو سلامی بھی دی گئی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا جھنگ کی رہائشی تیرہ سالہ مدیحہ واجد نے ڈی پی او جھنگ سرفراز ورک سے خواہش ظاہر کی کہ وہ ایک دن کے لئے ڈی پی او جھنگ بننا چاہتی ہے جس پر سرفراز ورک نے اس کی خواہش پوری کرتے ہوئے اسے ایک دن کے لئے ڈی پی او بنا دیا۔


    ڈی پی او نے ایک دن کے لئے اپنی کرسی ننھی مدیحہ کے نام کر دی ڈی پی او کی وردی میں ملبوس ننھی مدیحہ کو پولیس کے چاق و چوبند دستے نے سلامی بھی پیش کی۔ مدیحہ نے ڈی پی او بننے پر جھنگ پولیس کا شکریہ ادا کیا۔

    ڈی پی او جھنگ سرفراز ورک نے کہا کہ مدیحہ کو ڈی پی او بنا نے کا مقصد پولیس کا سوفٹ امیج دینا ہے اور وہ یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ شہری زیادہ سے زیادہ اس مرض میں مبتلا بچوں کے لئے خون کا عطیہ دیں۔

    ڈی پی او بننے پر ننھی مدیحہ کی خوشی کی انتہا نہ تھی تاہم ڈی پی او جھنگ اور دیگر عملہ بھی سارا دن بچی کی خواہشات پوری کر نے میں مصروف نظر آئے۔

    ننھی مدیحہ نے اپنی اس خواہش پوری کئے جانے پر ڈی پی او جھنگ اور ان کی پوری ٹیم کا شکریہ اداکیا-

  • کرونا وائرس ، فرض کی ادائیگی کرتے ہوئے ایک اور ڈاکٹر نے جان کا نذرانہ پیش کر دیا

    کرونا وائرس ، فرض کی ادائیگی کرتے ہوئے ایک اور ڈاکٹر نے جان کا نذرانہ پیش کر دیا

    خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس سے ایک اور لیڈی ڈاکٹر جاں بحق ہوگئیں۔ ڈاکٹر زیب النساء کورونا کے باعث نجی ہسپتال میں زیر علاج تھیں۔ کبیر میڈیکل کالج میں پتھالوجی کی سربراہ تھیں۔

    خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس کے باعث ایک اور لیڈی ڈاکٹر جان کی بازی ہار گئیں۔ پروفیسر ڈاکٹرزیب النساء نجی ہسپتال میں گزشتہ ایک ہفتے سے زیر علاج تھیں، حالت بگڑنے پر انہیں آئی سی یو منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکیں۔

    ڈاکٹر زیب النساء خیبر میڈیکل کالج پتھالوجی ڈیپارٹمنٹ کی سابقہ سربراہ تھیں جہاں سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد کبیر میڈیکل کالج میں پتھالوجی کی سربراہ کے فرائض سرانجام دے رہی تھیں۔ پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق صوبہ میں کورونا وائرس سے جاں بحق ڈاکٹروں کی تعداد 28 ہوگئی، صوبائی حکومت کی جانب سے تاحال کسی شہید ڈاکٹر یا شہید ہیلتھ ملازمین کو شہدا پیکیج نہیں دیا گیا۔

  • حکومت پنجاب کی ہدایت پر ٹی ایچ کیو ہسپتال شاہکوٹ اور سانگلہ ہل میں کرونا وارڈز قائم۔ڈپٹی کمشنر ننکانہ

    حکومت پنجاب کی ہدایت پر ٹی ایچ کیو ہسپتال شاہکوٹ اور سانگلہ ہل میں کرونا وارڈز قائم۔ڈپٹی کمشنر ننکانہ

    ننکانہ صاحب: نمائندہ باغی ٹی وی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت پاکستان اور بزدارحکومت وطن عزیز سے کرونا وائرس کے خاتمے کے لیے ہرممکنہ اقدامات کررہی ہے،عوام الناس کو کرونا وائرس کے خاتمے کے لیے حکومتی ایس او پیز پر عمل کرکے اس وباءسے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا،حکومت پنجاب کی ہدایت پر ٹی ایچ کیو ہسپتال شاہکوٹ اور سانگلہ ہل میں کرونا وارڈز قائم کردی گئی ہیں،ضلع بھر کے ہسپتالوں میں کرونا کے 24مریض زیر علاج ہیں۔ان خیالات کاظہار ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب راجہ منصور احمد نے ضلع بھر میں حکومتی ایس او پیز پرعمل درآمد کروانے، کرونا وائر س کے پھیلاﺅ کو روکنے اورعوام الناس کو اس وباءسے بچانے کے حوالے سے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیانمائندگان سے بریس بریفنگ کے دوران کیا ۔اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) محمد عثمان خالد،چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ اتھارٹی ننکانہ صاحب ڈاکٹر طارق سہیل سمیت صدر پریس کلب ننکانہ صاحب چوہدری افضل حق خاں،صدر الیکٹرانک میڈیا رپورٹر ایسوسی ایشن چوہدری رمضان و دیگر پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا نمائندگان بھی موجود تھے ۔ کرونا آرڈیننس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ضلع بھر میں جاری کریک ڈاﺅن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب راجہ منصور احمد نے بتایا کہ حکومتی احکامات کی خلاف ورزی پراب تک ضلع بھر میں 75مارکیٹیں،13ہوٹل،7شادی ہال،25پبلک ٹرانسپورٹ جبکہ 12سکولوں کے خلاف کاروائی کی گئی ہے جس کے دوران 45شاپنگ مال/مارکیٹوں6ہوٹلز،12پبلک ٹرانسپورٹ سمیت 2سکولوں کو سیل کیا گیا ہے جبکہ ضلع بھر میں کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں سے مجموعی طور پر 3لاکھ 25ہزار سے زائد کاجرمانہ بھی وصول کیا گیا۔اس موقع پر چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ اتھارٹی ننکانہ صاحب ڈاکٹر طارق سہیل نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت پنجاب کی ہدایت پر ڈی ایچ کیوہسپتال سمیت ٹی ایچ کیو ہسپتال شاہکوٹ اور سانگلہ ہل میں بھی کرونا وارڈز قائم کردی گئی ہیںجہاں کرونا کے سلسلہ میں تشکیل کردہ ٹیمیں فری کرونا ٹیسٹ کررہی ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ کرونا وارڈز میں ڈیوٹی کے فرائض سرانجام دینے والے558 ڈاکٹر ز اور پیرامیڈیکل سٹاف میں سے 528صحت یاب ہوگئے ہیں،ضلع بھر کے ہسپتالوں میں کرونا کے 24مریض زیر علاج ہیں۔ڈپٹی کمشنر راجہ منصور احمد نے مزید کہا کہ بزدار حکومت کی خصوصی ہدایت کی روشنی میںضلع بھرمیں حکومتی ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے،احتیاط ہی کورونا وائرس سے نجات کا ذریعہ ہے،حکومتی ایس او پیز کی پابندی سے ہی زندگیوں کو محفوظ بنایا جاسکتا ہے، عوام الناس کورونا وائرس سے بچنے کے لیے تمام احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہوگا۔ڈپٹی کمشنر نے ضلع بھر کی عوام سے اپیل کی کہ غیر ضروری سفر اور گھروں سے نکلنے سے پرہیز کریں، رش والی جگہ پر جانے سے گریز کریں ،اپنے ہاتھوں کو بار بار صابن سے دھوئیں اور ہینڈ سینیٹائزر کے استعمال کو یقینی بنائیں تا کہ ملک پاکستان سے کرونا وائرس کو شکست دی جا سکے۔

  • ڈپٹی کمشنر ننکانہ کا دیہی مرکز صحت واربرٹن کا دورہ۔

    ڈپٹی کمشنر ننکانہ کا دیہی مرکز صحت واربرٹن کا دورہ۔

    ننکانہ صاحب: نمائندہ باغی ٹی وی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بزدار حکومت کی خصوصی ہدایت پر عملدرآمد کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب راجہ منصور احمد نے دیہی مرکز صحت واربرٹن کااچانک دورہ کیا ،ڈپٹی کمشنرنے مریضوں کے وارڈ،ایمرجنسی وارڈ کے علاوہ ہسپتال کے مختلف شعبہ جات سمیت صفائی ستھرائی اورسیکورٹی سمیت عملہ کی حاضری کاجائزہ لیااور مریضوں اور انکے لواحقین کو فراہم کی جانیوالی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا۔اس موقع پر انچارج رورل ہیلتھ سنٹر واربرٹن نے ڈپٹی کمشنر کومریضوں کو دی جانے والی طبی سہولیات بارے تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ رورل ہیلتھ سنٹر میں مریضوں اور ان کے لواحقین کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں، آرایچ سی ہسپتال کے دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب راجہ منصور احمد نے کہا کہ حکومت پنجاب کی خصوصی ہدایت کے مطابق ضلع ننکانہ صاحب کی تینوں تحصیلوں کے ہسپتالوں میں کرونا وائرس کے حوالے سے وارڈ ز قائم کیے گئے ہیں جہاں کرونا وائرس کے حوالے سے مریضوں کوآگاہی ، تشخیص کے ساتھ ساتھ مفت ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایاجائے گا۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ عوام الناس کو صحت کی معیاری اور مفت سہولیات فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل سٹاف و دیگر عملے کو چاہیے کہ مریضوں اور انکے لواحقین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں۔ ڈپٹی کمشنرراجہ منصور احمد نے اس موقع پر ہسپتال کے عملے کو ہدایت کی کہ مریضوں کیلئے بہترین سہولیات کی فراہمی کیلئے ہر ممکن وسائل کو بروئے کار لایا جائے، مریضوں کو بہترین علاج، تشخیص کے ساتھ ساتھ مفت ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
    ترجمان ڈپٹی کمشنر ننکانہ

  • ڈپٹی کمشنر ننکانہ کا دیہی مرکز صحت محمد پورہ،بنیادی مرکز صحت پنواں اور بی ایچ یو نتھووالاکے اچانک دورے

    ڈپٹی کمشنر ننکانہ کا دیہی مرکز صحت محمد پورہ،بنیادی مرکز صحت پنواں اور بی ایچ یو نتھووالاکے اچانک دورے

    ننکانہ صاحب: نمائندہ باغی ٹی وی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بزدار حکومت کی واضح ہدایت کے مطابق ضلع بھر کی عوام الناس کو صحت کی معیاری اور مفت سہولیات فراہم کرناضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے،ضلع بھر کے تمام ہسپتالوں میں تعینات ڈاکٹرز ، پیرامیڈیکل سٹاف سمیت دیگر عملہ عوام الناس کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔ان خیالات کا اظہارڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب راجہ منصور احمدنے دیہی مرکز صحت محمد پورہ،بنیادی مرکز صحت پنواں اور بی ایچ یو نتھووالاکے اچانک دورے کے دوران کیا ۔ہسپتالوں کے دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر راجہ منصور احمد نے ہسپتالوں میں صفائی ستھرائی، سیکورٹی ،ادویات کے سٹاک سمیت ہسپتال کے عملے کی حاضری کا جائزہ لیتے ہوئے عملے کو ہدایات جاری کیں کہ وہ ہسپتال میں اپنی حاضر ی کوسو فیصد یقینی بنائیں غیر حاضری رپورٹ ہونے پر ڈاکٹرز اور پیرامیڈکس کے علاوہ درجہ چہارم کے ملازمین کے خلاف بھی ایکشن لیا جائے گا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ننکانہ راجہ منصور احمد کومریضوںاور انکے لواحقین کو دی جانے والی طبی سہولیات بارے تفصیل سے آگاہ کیا گیا۔ ڈی سی راجہ منصور احمدنے کہا کہ ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل سٹاف و دیگر عملے کو چاہیے کہ مریضوں اور انکے لواحقین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیںاور مریضوں کیلئے بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے ہر ممکن وسائل کو بروئے کار لایا جائے، مریضوں کو بہترین علاج، تشخیص کے ساتھ ساتھ مفت ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔علاوہ ازیں ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب راجہ منصور احمد نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے لگائے گئے سستے سہولت بازار ننکانہ سٹی میں اشیائے ضروریہ کے سٹالوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی خصوصی ہدایت پرضلع ننکانہ صاحب میں ضلع بھر کے تمام سستے سہولت بازاروں میں عوام کو اشیاءخوردونوش کی سرکاری نرخوں پر فراہمی کو یقینی بنایا جارہا ہے تاکہ عوام حکومت پنجاب کی جانب سے بہترین سہولیات سے زیاد سے زیادہ مستفید ہوسکیں۔ سستے سہولت بازاروں میں آٹا،چینی ،دالیں، سبزیاں، پھل ودیگراشیائے ضروریہ سرکاری نرخوں پر دستیاب ہیں، سبزیوں، پھلوں اور دالوں ودیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مصنوعی اضافہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
    ترجمان ڈپٹی کمشنر

  • کورونا آرڈیننس پر عملدرآمد کا جائزہ۔

    کورونا آرڈیننس پر عملدرآمد کا جائزہ۔

    ننکانہ صاحب: نمائندہ باغی ٹی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ضلع بھر میں کرونا وائرس کے پیش نظرحکومتی ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاﺅن کیا گیا۔
    تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر ننکانہ کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر صولت حیات وٹو اور اسسٹنٹ کمشنر صباءسحر نے ننکانہ اور شاہکوٹ شہروں میں کورونا آرڈیننس پر عملدرآمد کا جائزہ لیا۔کورونا کے پیش نظر حکومتی احکامات کی خلاف ورزی پر مجموعی طور پر 12ہزار روپے جرمانہ جبکہ13دکانیں سیل کردی گئی ہیں۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ننکانہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہاانتظامی افسران اور پولیس مارکیٹوں اور بازاروں میں حکومتی احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔حکومتی احکامات کی پابندی سے ہی زندگیوں کو محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔کورونا سے تحفظ کے لیے حکومتی ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا۔عوام الناس کورونا وائرس سے بچنے کے لیے تمام احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔حکومتی ایس او پیز کی خلاف ورزی پرکاروائیوں کا سلسلہ بلا امتیاز جاری رہے گا۔ عوام انتظامی اداروں کا ساتھ دیں عوام کو چاہیے کہ سوشل ڈسٹینس سمیت تمام تر حکومتی ہدایات پر عمل پیرا ہوں۔
    ترجمان ڈپٹی کمشنر ننکانہ

  • جمخانہ کلب ساہیوال کو کیوں سیل کیا گیا،وجہ سامنے آگئی

    جمخانہ کلب ساہیوال کو کیوں سیل کیا گیا،وجہ سامنے آگئی

    ساہیوال:جمخانہ کلب اور گراؤنڈ کی تالا بندی کے خلاف ممبران و کھلاڑیوں کا احتجاج،کلب کو فورا کھولنے کا مطالبہ
    کرونا وبا اور انتظامی بے قاعدگیوں کی وجہ سے بند کیا،جنوری کے بعد کھول دیا جائے گا،ضلعی انتظامیہ
    تفصیلات کے مطابق ساہیوال شہر کے وسط میں واقع مشہور سپورٹس کمپلیکس جمخانہ کلب کو گزشتہ روز ضلعی انتظامیہ کی طرف سے سیل کردیا گیا تھا،انتظامیہ کے اس فیصلے کے خلاف آج ضلع بھر سے کلب ممبران اور کھلاڑی کلب کے باہر جمع ہوئے اور احتجاج کرتے ہوئے کمپلیکس کو فورا کھولنے کا مطالبہ کیا،انہوں نے کہا کہ ساہیوال میں جہاں صحتمندانہ سرگرمیوں کے مواقع پہلے ہی بہت کم ہیں وہاں جمخانہ کلب کی بندش سے کھلاڑیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے،صحتمندانہ سرگرمیوں پر قدغن لگا کر گورنمنٹ ہمارا ذہنی سکون چھیننا چاہتی ہے،ہمارا حکام سے مطالبہ ہے کہ کلب کو جلد از جلد کھولا جائے جبکہ دوسری جانب ڈپٹی کمشنر بابر بشیر نے جمخانہ کلب کو سیل کرنے سے متعلق کہا ہے کہ کلب کو کورونا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور انتظامی بے قاعدگیوں کی وجہ سے سیل کیا گیا ہے اور کوشش کی جائے گی کہ کلب کے معاملات کو بہتر کر کے اسے 31جنوری کے بعد کھول دیا جائے -انہوں نے کہا کہ کلب کی لیز بھی ختم ہو چکی ہے جس کے لئے بورڈ آف ریونیو سے اجازت حاصل کی جائے گی جبکہ کلب کے انتظامی معاملات کو بھی درست کیا جائے گا تا کہ ممبران کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں

  • کروناوائرس سے بچاؤ صرف احتیاطی تدابیر سے۔

    کروناوائرس سے بچاؤ صرف احتیاطی تدابیر سے۔

    ننکانہ صاحب: نمائندہ باغی ٹی وی عبدالرحمان یوسف
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بزدارحکومت کی خصوصی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر ننکانہ راجہ منصور نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ عوام الناس کو کرونا وائرس سے بچانے کے لئے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے، تمام ضلعی افسران کروناوائرس کے خاتمہ کے لئے دن رات کوشاں ہے، عوام الناس سے اپیل ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہو کر اس کرونا وائرس سے نجات حاصل کرنے کے لئے حکومت اور ضلعی انتظامیہ کا ساتھ دیں تاکہ ملک پاکستان میں کرونا وائرس کے خاتمہ کو یقینی بنایا جا سکے۔
    ان خیالات کا اظہار ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب راجہ منصور احمد نے کرونا وائرس کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے احتیاطی اقدامات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ضلع بھر کی تینوں تحصیلوں کے دفاتروں،سکولوں ،کالجوں،بازاروں، گلیوں میں کرونا وائرس کے بچاﺅ کے لئے احتیاطی تدابیر کا عمل جاری ہے، عوام الناس کو احتیاطتی تدابیر اپنانے کے لیے آگاہی فراہم کی جارہی ہے۔ڈپٹی کمشنر راجہ منصور احمد نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان کی ہدایت پر ضلع بھر میں کروناوائرس کے مریضوں کے لئے فیلڈ ہسپتالوں اور قرنطینہ سینٹرز میں بہترین طبی سہولیات کا بندوبست کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید ضلع بھر کی عوام سے اپیل کی کہ ماسک کا استعمال ضرور کریں، غیر ضروری سفر اور گھروں سے نکلنے سے پرہیز کریں،اپنے ہاتھوں کو بار بار صابن سے دھوئیں اور ہینڈ سینیٹائزر سے استعمال کو یقینی بنائیں ۔

  • سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر طارق سہیل کا رات گئے مرکز صحت واربرٹن کا دورہ

    سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر طارق سہیل کا رات گئے مرکز صحت واربرٹن کا دورہ

    ننکانہ صاحب: نمائندہ باغی ٹی وی عبدالرحمان یوسف
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب راجہ منصور احمد کی خصوصی ہدایت پر چیف ایگزیکٹوآفیسر ہیلتھ اتھار ٹی ننکانہ صاحب ڈاکٹر طارق سہیل نے رات گئے اپنی ٹیم کے ہمراہ دیہی مرکز صحت منڈی واربرٹن میں طبی سہولیات کا جائزہ لینے کے لیے اچانک دورہ کیا ۔دورے کے دوران سی ای او ہیلتھ اتھارٹی ڈاکٹر طارق سہیل نے ہسپتالوں کے انچارج ودیگر عملہ کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز ، پیرامیڈکس سٹاف سمیت دیگر عملے کو چاہیے کہ مریضوں اور انکے لواحقین کے ساتھ حسن اخلاق کا مظاہر ہ کریں،عوام الناس کو صحت کی تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتطامیہ اور محکمہ صحت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں ۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ اتھارٹی ننکانہ صاحب ڈاکٹر طارق سہیل نے اس موقع پر ہسپتال کے مختلف وارڈز ، ایمرجنسی، آپریشن تھیٹر،سٹا ک رجسٹر سمیت مفت ادویات کا جائزہ لیا اورہسپتالوں میں مریضوں سے درپیش آنے والی مشکلات بارے دریافت کیا ۔ انہوں نے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کا تفصیلی دورہ کیا ہسپتال میں ایم ایس سمیت میڈیکل آفیسرز اور وومن میڈیکل آفیسر اور پیرا میڈیکل سٹاف ڈیوٹی پر موجود تھے۔ سی او ہیلتھ اتھارٹی نے صفائی ستھرائی ،سیکورٹی،ادویات کے سٹاک سمیت عملہ کی حاضری چیک کرتے ہوئے اطمینان کااظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کے ویثرن کے مطابق مریضوں کو ذیادہ سے ذیادہ طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے اپنے سرپرائز دورے کے دوران ادویات کے اسٹاک اور عملے کی حاضری کو باقاعدہ چیک کرتے ہوئے کہا کہ ضلع ننکانہ کے تمام مراکز صحت میں عملہ کی حاضری کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے اور غیر حاضر ہونے والے عملے کے خلاف سخت کارروائی عمل لائی جائے گی۔

  • کرونا دراصل کیا ہے ؟ تحریر :عشاء نعیم

    کرونا دراصل کیا ہے ؟ تحریر :عشاء نعیم

    کرونا دراصل کیا ہے ؟
    تحریر :عشاء نعیم

    آج ہماری ایک تحقیقی تحریر ہے ذرا پڑھ کر رائے دیجئے گا ۔

    اس سال مارچ کے مہینے سے دنیا میں ایک نئی اور انوکھی بیماری آ گئی جسے کرونا کہتے ہیں یہ کرونا بھی سمجھ میں نہ آنے والی بیماری ہے جانے یہ عالمی سطح پر پھیل جانے والی بیماری ہے یا عالمی سطح پر کی جانے والی سازش؟کیونکہ یہ پھیلی تو اچانک لیکن پیش گوئی کچھ سال پہلے ہی کردی گئی تھی ۔

    یہ پھیلا تو چین کے صوبے ووہان سے تھا ۔جب وہاں یہ پھیلا تو خوف ناک صورت حال تھی ۔وہاں سے آنے والی مریضوں کی ویڈیوز دیکھ کر دل کانپتا تھا اور کہا جارہا تھا یہ بیماری اگر لاک ڈاون جہنم کا گیا تو جلد پوری دنیا میں پھیل جائے گی اس کی وجوہات کے بارے میں بھی سائنس دان کوئی حتمی بات نہیں کر رہے پہلے کہا گیا یہ چمگادڑ سے انسان میں آئی ہے ۔پھر کہا گیا یہ کتے سے آئی ہے ۔

    کتوں کے ذریعے کرونا پھیلنے کا دعویٰ سائنسدانوں نے تحقیق کے بعد کیا، کینڈا میں کی گئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ چین میں آوارہ کتوں نے چمگادڑ کا پھینکا ہوا گوشت کھایا جس سے ان میں کرونا وائرس کا انفیکشن ہوا اور پھر کتوں سے یہ وائرس انسانوں میں پھیل گیا۔ ماہرین دسمبر 2019 سے ہی انسانوں اور چمگادڑ کے درمیان ذریعہ بننے والے جانوروں سے متعلق پتہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن حتمی طور پر کچھ بھی معلوم نہیں ہو سکا ہے-

    کینیڈا کی اوٹاوا یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے دعویٰ کیا ہے کہ انسانوں تک کرونا وائرس پھیلانے کے ذمہ دار آوارہ کتے ہی ہو سکتے ہیں۔ لیکن ابھی تک حتمی طور پہ جانا نہیں جا سکا کہ بیماری آئی کیسے ہے بحرحال جب یہ بیماری آ گئی تو دیکھتے ہی دیکھتے ملکوں کے ملک بند ہوتے چلےگئے ۔

    ویسے یہ بات الگ ہے کہ چین کی سرحد پاکستان کے ساتھ لگتی ہے لیکن یہاں بیماری بعد میں آئی جبکہ یورپ میں پہلے پہنچ گئی اور لاک ڈاون بھی پہلے ہی لگ گیا تھا یہ بیماری پاکستان میں بھی پہنچی لیکن یہاں لوگ شش و پنج میں مبتلا ہو گئے ہیں ۔آخر یہ بیماری ہے یا نہیں ہے ؟

    پہلے ہر کسی نے صرف خبر سنی تو کہا جانے لگا کہ کسی قریبی کو نہیں سنا بس میڈیا ہی دکھاتا ہے بہت جلد یہ رپورٹ قریبی لوگوں کے بارے میں بھی سننے لگے حتی کہ کچھ دوستوں کے گھر والے اللہ رب العزت سے جا ملےلیکن شش و پنج پھر نہیں گیا کیوں کہ جن کے بارے میں کہا گیا وہ کرونا سے مرے ہیں بعد میں ان کی رپورٹس دیکھی گئیں تو وہ نیگٹو تھیں ۔

    اسی طرح بعض جاننے والوں نے بتایا کہ ہمارے مریض کو زبردستی کرونا کا مریض بنایا گیا یا کسی اور وجہ سے مرنے والے کو کرونا سے ہونے والی موت میں شامل کردیا گیا اس قسم کی متضاد خبروں نے ہمیں بھی بےیقینی کی کیفیت میں مبتلا کیا ہوا ہے شروع شروع میں بہت خوف زدہ ہوئے ہر قسم کہ ایس او پیز کا خیال بھی رکھا دعائیں بھی کی گئیں۔

    لیکن پھر کرونا کی "آنیاں’جانیاں” نے ہمیں عجیب کشمکش میں مبتلا کردیا ہے پہلے رمضان آیا تو لاک ڈاون لگا دیا گیا بہت سختی کی گئی ‘مسجدوں میں جمعہ تک پہ پابندی لگ گئی ‘موذن اکیلا مسجد جاتا اذان دیتا اور یا تو اکیلا یا چند ایک لوگ فاصلے پہ کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے ‘اعتکاف بند کر دیا گیا ۔ سکول یونیورسٹیز ہر ادارہ بند کردیا گیا پھر عید گزر گئی اور لاک ڈاون آہستہ آہستہ کھلنے لگا ۔جب لاک ڈاون کھل گیا لوگ تھوڑا بےفکر ہونے لگے عید الاضحی آ گئی اور دس دن پہلے انتہائی سخت لاک ڈاون لگا دیا گیا لوگوں نے وہ عید بہت مشکل میں گزاری ۔

    لیکن مزے کی بات کہ عید کے بیس دن بعد محرم کے آتے ہی کرونا بھائی بھاگ گئے اور محرم کے ماتمی جلسے جلوس اور سڑکوں پہ اکٹھے ہونے پہ کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں لگائی گئی ۔کرونا کے کیسز کنٹرول رہے نہ کہیں خطرہ بڑھا نہ ہی کوئی مسلہ ہوا کوئی بھی شیعہ کرونا سے نہ مرا ۔

    کرونا بھائی سوئے رہے اور پھر ربیع الاول جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش اور وفات کا مہینہ بھی ہے اب مسلمانوں کے اندر چونکہ بہت بگاڑ پیدا کیا جا چکا ہے اور ان عظیم ترین ہستیوں کو بھی اپنی ان خرافات سے نہیں بچنے دیتے اور ان کے نام پہ جو کچھ کیا جاتا ہے اللہ کی پناہ لوگوں نے میلاد ہے نام پہ جلسے جلوس کیے اور میلاد منائے بعض لوگوں نے عید تک منا ڈالی لیکن اس عید پہ کوئی کرونا آیا نہ ہی پابندی لگی ۔

    اب جبکہ یہ دن نکل گئے تو کرونا بھائی پھر سے نمودار ہو گئے ہیں ہم نے سوچا سارے سائنس دان کھوج لگا رہے ہیں کہ آخر یہ وائرس ہے کیا؟ آیا کہاں سے ہے؟تو جو تحقیق ہم نے کی وہ بھی آپ کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور ہمیں پتہ چلا کہ دراصل کرونا جو رمضان میں بھرپور آیا ‘اعتکاف پہ ‘حج پہ ‘عید پہ پورے جوش و خروش سے آیا لیکن یہ ماتمی جلوسوں پر نہیں آیا اور نہ ہی ربیع الاول کے میلادی جلوسوں پہ تو یقینا یہ کرونا "وہابی ہے”۔

    آپ کا کیا خیال ہے ؟