Baaghi TV

Category: صحت

  • 2 ارب 23 کروڑ 78 لاکھ سے زائد کے فنڈزجاری ، کس شعبہ کے لیے جاری ہوئے خبرآگئی

    2 ارب 23 کروڑ 78 لاکھ سے زائد کے فنڈزجاری ، کس شعبہ کے لیے جاری ہوئے خبرآگئی

    اسلام آباد:ملک بھر میں صحت کی بہترین سے بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی غرض سے وفاقی وزارت منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات نے سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگراموں میں مجموعی طور پر اب تک2 ارب 23 کروڑ 78 لاکھ سے زائد کے فنڈزجاری کردیئے ہیں، حکومت نے ڈویژن کے ترقیاتی کاموں کے لئے رواں مالی سال کے لئے 13 ارب 37 کروڑ 65 لاکھ روپے کے فنڈز مختص کئے ہیں۔

    اعداد وشمار کے مطابق حکومت نے پمز اسلام آباد میں ایچ وی اے سی پلانٹ روم کی اپ گریڈیشن کے لئے 10 کروڑ 90 لاکھ، پرائمنسٹر نیشنل ہیلتھ پروگرام فیز II کے لئے 60 کروڑ، کنگ سلمان بن عبدالعزیز السعود ہسپتال میں ترقیاتی کاموں کے لئے ایک کروڑ، ای پی آئی پروگرام کے لئے 14 کروڑ 12 لاکھ روپے سے زائد کے فنڈز جاری کردیئے ہیں، یاد رہے کہ عمران خان بارہا کہہ چکے ہیں‌کہ وہ صحت کی بہترین سے بہترین سہولیات پہنچانےکے لیے خصوصی طور نگرانی کررہے ہیں

  • فیصل آبادی بھی ڈینگی کے حملوں کی زد میں آگئے

    فیصل آبادی بھی ڈینگی کے حملوں کی زد میں آگئے

    فیصل آباد : ملک کے دیگر اضلاع کی طرح فیصل آباد بھی ڈینگی کے حملوں سے محفوظ نہ رہ سکا ، اطلاعات کے مطابق فیصل آباد میں ڈینگی کے مریضوں کی تقداد 27 تک پہنچ گئی ۔فیصل آباد کے الائیڈاسپتال میں زیرعلاج ڈینگی سے متاثرہ مریض جان کی بازی ہارگیا، چودہ سالہ آریان راولپنڈی کا رہائشی تھا۔رواں سال ڈینگی سے متاثرہ پہلی موت فیصل آبادکے الائیڈ اسپتال میں رپورٹ ہوئی

    ذرائع کے مطابق محکمہ صحت فیصل آباد نے شہر میں ہنگامی طور پر ڈینگی کے خلاف آپریشن کردیا ہے . اور شہر کے مختلف حصوں میں‌اسپرے جاری ہے، یاد رہے کہ اس سال ملک بھر میں‌ڈینگی کے مریضوں‌کی تعداد میں بہت اضافہ ہوا ہےجس کے وجہ سے بہت زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں.
    ·

  • شوگراور چھوٹے قد کے درمیان تعلق نے پریشان کردیا

    شوگراور چھوٹے قد کے درمیان تعلق نے پریشان کردیا

    برلن: طبی ماہرین بھی روز کوئی نہ کوئی ایسی پشین گوئی یا تحقیق پیش کردیتے ہیں‌کہ جو مریض نہیں بھی ہوتا اسے مریض کردیتے ہیں‌، ایسے ہی جرمنی میں کی گئی ایک دلچسپ طبّی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ چھوٹے قد والے لوگوں میں ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ، طویل قامت افراد کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔

    جرمی میں کی گئی تحقیق کے اعدادوشمار کے مطابق27,500 افراد پر کیا گیا تھا جبکہ اس میں شریک افراد کی عمریں 35 سال سے 65 سال کے درمیان تھیں۔صحت سے متعلق مختلف عوامل مدنظر رکھنے کے بعد معلوم ہوا کہ مردوں کے قد میں ہر 10 سینٹی میٹر (تقریباً 4 انچ) اضافے کے ساتھ ان کے ٹائپ 2 ذیابیطس میں مبتلا ہونے کے امکانات 33 فیصد تک کم ہوجاتے ہیں جبکہ خواتین میں یہی شرح 41 فیصد تک دیکھی گئی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق صرف ذیابیطس اور قد کے مابین تعلق واضح کرنے کےلیے کی گئی تھی، جس سے ہر گز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ چھوٹے قد والوں کےلیے ذیابیطس میں مبتلا ہونا لازم ہے۔ اس لیے چھوٹے قد والوں کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔یہ بھی تسلی دی گئی کہ ایسی تحقیقات سے پریشان نہیں‌ہونا کیونکہ طبی ماہرین کی ذمہ داری ہے کہ وہ آنے والے حالات کے بارے میں تحقیق کرتے رہتے ہیں

  • راولپنڈی میں ڈینگی کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ، وزیر صحت کو بھی ہوش آ گیا

    راولپنڈی میں ڈینگی کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ، وزیر صحت کو بھی ہوش آ گیا

    پنجاب کی صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے بے نظیر بھٹو ہسپتال کا دورہ کیا اور ڈینگی وارڈ کا معائنہ کیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد نے پنڈی کی بے نظیر ہسپتال کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ایمرجنسی اور ڈینگی وارڈ کا معائنہ کیا، صوبائی وزیر نے ڈینگی کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مریضوں کو طبی سہولیات کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ خصوصا ڈینگی مریضوں کوعلاج معالجہ میں کوتاہی برداشت نہیں ہو گی۔

    واضح رہے کہ راولپنڈی میں 24 گھنٹوں کے دوران مزید 62 شہری بخار کا شکار ہو گئے، ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد بڑھ کر 1 ہزار 436 ہو گئی ہے.

    سکولوں میں انسداد ڈینگی مہم عدم توجہی کا شکار، محکمہ تعلیم نے رپورٹ مانگ لی

    ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر ہارون جہانگیر کا کہنا ہے کہ راولپنڈی کے اسپتالوں میں آنے والے ڈینگی کے مریضوں کے لواحقین اور دیگر آنے والے لوگوں میں ڈینگی سے متعلق آگاہی فراہم کی جائے اور پمفلٹ تقسیم کیے جائیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی ڈینگی کے مریضوں میں اضافے پر برہمی کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ ایس او پیز ہونے کے باوجود ڈینگی کے مرض کا بروقت تدارک کیوں نہیں کیا گیا؟ ہر سال ڈینگی سے بچاؤ کیلئے اقدامات کئے جاتے تھے، اب غفلت کیوں ہوئی؟جہاں تاخیر اور غفلت ہوئی ہے، اس کی انکوائری ہوگی .

  • پاکستانی ڈاکٹرز لائن آف کنٹرول پار کرنے کو تیار، دعاؤں کی اپیل

    پاکستانی ڈاکٹرز لائن آف کنٹرول پار کرنے کو تیار، دعاؤں کی اپیل

    پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرز بغیر کسی حکومتی سرپرستی کے کشمیری بھائیوں کے علاج معالجے کیلئے لائن آف کنٹرول پار کرنے کیلئے مظفر آباد کے علاقے چکوٹھی پہنچ گئے، باغی ٹی وی کو وصول ہونے والی تفصیلات کیمطابق یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم کی سربراہی 29 ڈاکٹرز کا قافلہ اپنی مدد آپ کے تحت کشمیری بھائیوں کی مدد کیلئے مظفر اباد کے علاقے چکوٹھی پہنچ گیا اس قافلے میں تین لیڈی ڈاکٹرز بھی شامل ہیں ڈاکٹر جاوید اکرم کے مطابق چکوٹھی کے مقام پر تمام ڈاکٹرز کی طرف سے پہلے مطاہرہ کیا جائے گا مطاہرے کے بعد قانونی طریقے سے بھارتی حکام سے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہونے کیلئے اجازت مانگی جائے گی اور اگر بھارتی حکام کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں علاج معالجے کی خاطر جانے کی درخواست رد کر دی گئی تو مظفر آباد واپس آ جائیں گے ، یادرہے کہ اس احتجاج و علاج معالجے کا اہتمام پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کی جانب سے کیا گیا ہے،

  • ویکسین سے انکار پر 2 مزید بچے پولیو وائرس کا شکار ، کہاں ہوئے رپورٹ نے کھلبلی مچادی

    ویکسین سے انکار پر 2 مزید بچے پولیو وائرس کا شکار ، کہاں ہوئے رپورٹ نے کھلبلی مچادی

    کراچی: پولیووائرس نے پھر سر اٹھا لیا ، ملک کے دیگر حصوں کی طرح کراچی سے بھی پریشان کن خبریں آنے لگیں‌، اطلاعات کےمطابق شہر قائد میں 2 مزید بچے پولیو وائرس کا شکار ہو گئے ہیں، بتایا گیا ہے کہ بچوں کو ویکسین پلانے سے انکار کا یہ نتیجہ نکلا کہ بچے پولیو کا شکار ہو گئے۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں 8 ماہ کی ایک بچی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے، 10 ماہ کے ایک بچے میں بھی پولیو کی تصدیق ہو گئی ہے جس کا تعلق جنوبی وزیرستان تحصیل لدھا سے ہے۔

    محکمہ صحت کے ذرائع کا کہنا ہےکہ دونوں بچوں کے والدین نے پولیو ویکسین سے متعلق منفی پروپیگنڈے کی وجہ سے ویکسین پلوانے سے انکار کیا تھا۔خیال رہے کہ رواں سال ملک میں پولیو کیسز کی تعداد 62 ہو گئی ہے، خیبر پختون خوا سے 35، قبائلی اضلاع سے 11 پولیو کیس سامنے آ چکے ہیں۔

  • آو ڈینگی کا سب مل کر مقابلہ کریں ،ڈی جی ہیلتھ پنجاب نے مدد مانگ لی

    آو ڈینگی کا سب مل کر مقابلہ کریں ،ڈی جی ہیلتھ پنجاب نے مدد مانگ لی

    لاہور: پنجاب حکومت بے بس دکھائی دی جانے لگی ، ڈینگی کے خلاف مزاحمت کے لیے مدد مانگ لی ، اطلاعات کے مطابق ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر ہارون جہانگیر کا کہنا ہے کہ ڈینگی پر مامور ٹیموں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنا کر ڈینگی کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر ہارون جہانگیر نے کہا کہ راولپنڈی کے اسپتالوں میں آنے والے ڈینگی کے مریضوں کے لواحقین اور دیگر آنے والے لوگوں میں ڈینگی سے متعلق آگاہی فراہم کی جائے اور پمفلٹ تقسیم کیے جائیں۔

    ڈی جی ہیلتھ نے کہا کہ شہری محکمہ صحت کی ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں، ڈینگی کے تدارک کے لیے ہم سب کو مل جل کر کام کرنا ہو گا تاکہ ڈینگی کے خلاف جاری مہم کو کامیاب بنایا جاسکے-ڈاکٹر ہارون جہانگیر نے کہا کہ ڈینگی پر مامور ٹیموں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنا کر ڈینگی کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے-ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ پنجاب نے کہا کہ ہائی رسک ایریاز میں موجود زیر تعمیر عمارتوں پر کڑی نظر رکھی جائے تا کہ ان میں پانی جمع نہ ہو-

  • دل والوں کے لیے اچھی خبر ، جو دل کے مریض پھل کھاتے ہیں وہ فائدے میں رہتے ہیں ،

    دل والوں کے لیے اچھی خبر ، جو دل کے مریض پھل کھاتے ہیں وہ فائدے میں رہتے ہیں ،

    واشنگٹن : دل والوں کے لیے ایک اچھی خبر، جو پھل کھائے گا وہ دل کو بہتر پائے گا، ماہرین طب کے مطابق اپنی روزانہ کی خوراک میں پھلوں کو شامل کرکے آپ خود کو امراض قلب کے خطرے سے کافی حد تک محفوظ رکھ سکتے ہیں۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔

    صلاح الدین کی غلطی کی سزا، پنجاب پولیس اپنے آپ کو جہنمی دروغے سمجھ بیٹھی ، ظلم اتنا کہ زبان سے بیان کرنا مشکل

     

    امریکہ میں ہونے والی اس تحقیق کے مطابق پھلوں کے ایک یا 2 ٹکڑوں کا روزانہ استعمال کرکے آپ دل کے دورے یا فالج کے خطرے کو 40 فیصد تک کم کرسکتے ہیں۔تحقیق میں بتایا گیا کہ جو لوگ اپنی رومرہ کی خوراک میں پھلوں کو شامل کرتے ہیں ان میں امراض قلب اور 2 طرح کے فالج کا خطرہ کافی کم ہوتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ لوگ جتنا زیادہ پھل کھائیں گے اتنا ہی خطرہ کم ہوجائے گا۔

    اس تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان لوگوں کے مقابلے میں جو پھل بالکل بھی استعمال نہیں کرتے، اس کے شوقین افراد میں دل کے دورے کا خطرہ 15 فیصد کم ہوتا ہے۔اسی طرح فالج کی سب سے عام قسم کا خطرہ 25 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔اسی طرح روز پھل استعمال کرنے والے افراد میں بلڈ پریشر بھی کم رہتا ہے

  • گنج پن کا باعث بننے والا غذائی جز سائنسدانوں نے دریافت کرلیا

    گنج پن کا باعث بننے والا غذائی جز سائنسدانوں نے دریافت کرلیا

    لندن : گوشت کم کھانے سے گنجا پن ہو سکتا ہے ، یہ انکشاف سائنسدانوں نے ایک تحقیق میں‌کیا ہے، طبی ماہرین کا کہنا ہےکہ درحقیقت طبی سائنس میں ایسے شواہد سامنے آرہے ہیں کہ صرف پھلوں یا سبزیوں تک غذا کو محدود کرنا بال گرنے یا گنج پن کے عمل کو تیز تر کرسکتا ہے۔2006 کی ایک تحقیق میں آئرن کی کمی اور گنج پن کے درمیان تعلق دریافت کیا گیا۔

    ماہرین طب کا کہنا ہےکہ اگرچہ اس تحقیق کے نتائج کا مطلب یہ نہیں کہ آئرن کی کمی یقیناً بالوں کے گرنے کا باعث بنے مگر سبزیاں کھانے کے عادی افراد اور گنج پن کے شکار لوگوں میں ایک تعلق دریافت ہوا ہے اور وہ ہے گوشت کا کم استعمال۔

    دوسری طرف انٹرنیشنل فوڈ انفارمیشن کونسل کے ڈاکٹر کرس سولائڈ کے مطابق بالوں کی نشوونما میں آئرن کا کیا کردار ہے، وہ تو ابھی نامعلوم ہے، مگر بالوں کا گرن آئرن کی کمی ایک بڑی علامت ضرور ہے

  • اگر ذہین بننا چاہتے ہو توگوشت کھاو اور اگر !گوشت نہیں کھائیں گے تو… کند ذہن ہوجائیں گے!

    اگر ذہین بننا چاہتے ہو توگوشت کھاو اور اگر !گوشت نہیں کھائیں گے تو… کند ذہن ہوجائیں گے!

    لندن: ایک حالیہ تحقیق میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صرف ’’سبزیجاتی غذا‘‘ (ویجی ٹیریئن) پر انحصار کرنے کا نتیجہ دماغی صحت کےلیے کچھ اچھا نہیں نکلتا، ماہرین طب نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ گوشت کا استعمال بہت ضروری ہے ، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر گوشت نہیں‌کھائیں گے تو کند ذہن بن جائیں‌گے

    ذرائع کے مطابق یہ تحقیق برطانوی ادارے ’’نیوٹریشنل انسائیٹ‘‘ سینئر تحقیق کارہ ڈاکٹر ایما ڈربی شائر کی نگرانی میں کی گئی ہے جس کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’بی ایم جے نیوٹریشن، پریوینشن اینڈ ہیلتھ‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

    اس تحقیق میں برطانوی ماہرین طب نے بتایا ہے کہ سبزیجاتی غذا میں ایک اہم غذائی جزو ’’کولائن‘‘ کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔ اگرچہ ہمارا جگر بھی کولائن بناتا ہے لیکن اس کی مقدار ہماری جسمانی ضروریات کے مقابلے میں نہایت کم ہوتی ہے۔ یہ کمی صرف اسی وقت پوری ہوسکتی ہے جب غذا میں سبزیوں، دالوں اور پھلوں کے ساتھ ساتھ مناسب مقدار میں گوشت بھی شامل رکھا جائے۔

    اس طبی تحقیق کا تقاضا یہ ہے کہ کسی بھی فرد کی خوراک میں‌ بڑے اور چھوٹے کے گوشت کے علاوہ مرغی، مچھلی، انڈے، دودھ اور دہی کی بھی مناسب مقدار ہماری غذا میں شامل ہونی چاہیے۔ واضح رہے کہ اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ ہر روز گوشت کھایا جائے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ سبزیجاتی غذا کے ساتھ ساتھ، ہفتے میں دو سے تین مرتبہ، گوشت پر مشتمل غذا کو بھی متوازن طور پر استعمال میں رکھنا چاہیے۔

    برطانوی طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دماغی نشوونما میں کولائن کی خصوصی اہمیت ہے، خصوصاً اُس وقت جب (دورانِ حمل) رحمِ مادر میں بچے کی نشوونما ہورہی ہوتی ہے۔ جگر کی کمزوری دور کرنے اور خون میں موجود چکنائی کو ختم کرنے کے علاوہ، کولائن ایسے آزاد اصلیوں (فری ریڈیکلز) کے خلاف بھی لڑتا ہے جو ہمارے جسمانی خلیوں کو تباہ کرتے ہیں اور متعدد بیماریوں کی وجہ بنتے ہیں۔