بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد، جو ایک زمانے میں ملک کی طاقتور ترین شخصیت تھیں، آج خانہ بدوشی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ساڑھے 15 سال تک اقتدار پر قابض رہنے کے بعد، حالیہ پُرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں انہیں وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دینا پڑا اور وہ ملک سے فرار ہو گئیں۔شیخ حسینہ نے پہلے بھارت میں پناہ لی، پھر لندن میں سیاسی پناہ کی ناکام کوشش کی۔ امریکا نے بھی ان کا ویزا منسوخ کر دیا۔ اب خبریں ہیں کہ بھارت نے بھی انہیں ملک سے نکالنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ان کے دور حکومت میں سیاسی حریفوں پر سخت دباؤ، جمہوری اصولوں کی خلاف ورزیوں اور اپوزیشن کی سرکوبی کے لیے ریاستی طاقت کے استعمال کے الزامات لگے۔ آج وہی شیخ حسینہ ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل ہو رہی ہیں، کہیں مستقل ٹھکانہ نہ پا سکنے کے باعث خانہ بدوش کی زندگی گزار رہی ہیں۔
اس دوران، بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کل حلف اٹھائے گی، جس کی تصدیق آرمی چیف نے کی ہے۔ ملک میں نئے انتخابات کی تیاریاں جاری ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ واجد کی کہانی جمہوریت کے لیے ایک سبق ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ طاقت کا ناجائز استعمال آخرکار کس طرح سیاستدانوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ان کی موجودہ صورتحال "جیسی کرنی ویسی بھرنی” کی کہاوت کو سچ ثابت کرتی ہے، جہاں ایک وقت کی طاقتور وزیراعظم آج اپنے ہی کیے کا نتیجہ بھگت رہی ہیں۔
Category: بین الاقوامی
-

در بدر کے ٹھوکرے: شیخ حسینہ واجد کی سیاسی سفر کا المناک انجام
-

بنگلہ دیش کے برطرف انٹیلی جنس چیف بیرون ملک فرار ہوتے ہوئے طیارے سے گرفتار
بنگلہ دیش کے برطرف انٹیلی جنس چیف بیرون ملک فرار ہوتے ہوئے طیارے سے گرفتار کر لئے گئے ہیں
بنگلہ دیش میں گزشتہ روز انٹیلی جنس چیف میجر جنرل ضیاء الحسن کو عہدے سے ہٹایا گیا تھا جس کے بعد وہ ملک سے فرار ہو رہے تھے تا ہم انہیں پرواز سے اتار کر گرفتار کر لیا گیا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈھاکا ایئر پورٹ پر حکام نے رن وے پر موجود امارات کے طیارے سے گرفتار کیا ، میجر جنرل ضیاء الحسن کی گرفتاری کے بعد طیارے کو جانے کی اجازت دے دی گئی، مقامی میڈیا نے اس ضمن نے دعویٰ کیا ہے کہ طیارے سے گرفتار ہونے والے میجر جنرل ضیاء الحسن تھے،انہیں حسینہ واجد کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے،
میجر جنرل ضیاءالاحسن 2022 سے نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن مانیٹرنگ سینٹر کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، اس سے پہلے وہ اس کمپنی کے ڈائریکٹر تھے،ضیاءالاحسن 2009 میں راب 2 کے نائب کپتان بنے جب وہ میجر تھے، اسی سال انہیں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر ترقی دی گئی اور راب ہیڈ کوارٹر کے انٹیلی جنس ونگ کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا تھا،
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی اس ضمن میں وائرل ہو چکی ہے تا ہم میجر جنرل ضیاء الحسن کے اہلخانہ یا بنگلہ دیش کی فوج کی جانب سے ابھی تک اس خبر بارے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا،
حسینہ کی حکومت کا بد ترین خاتمہ،مودی کی سفارتی سطح پر ایک اور بڑی ناکامی
ہم پاکستان کے ساتھ جانا پسند کریں گے۔ بنگلہ دیشی شہریوں کا اعلان
بنگالی "حسینہ”مشکل میں،امریکی ویزہ منسوخ،سیاسی پناہ کیلیے لندن سے نہ ملا جواب
بنگلہ دیش،طلبا کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل ہی پارلیمنٹ تحلیل
حسینہ واجد کی ساڑھی بیوی کو پہنا کر وزیراعظم بناؤں گا،شہری
بنگلہ دیش میں ایک ماہ سے جاری پرتشدد مظاہروں اور ان میں سیکڑوں ہلاکتوں کے بعد بنگلادیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد استعفیٰ دے کر بھارت فرار ہوگئی ہیں،
حسینہ واجد بھارت میں خفیہ،محفوظ مقام پر،لندن یا فن لینڈ جائیں گی
شیخ حسینہ واجد کے بیٹے صجیب واجد نے والدہ کی سیاست کو خیر باد کہنے کی تصدیق کر دی
شیخ حسینہ واجد نے استعفی دے کر ملک چھوڑ دیا
بنگلہ دیش،پاکستانی طلبا پھنس گئے، والدین کی وزیراعظم سے اپیل
بنگلہ دیش: 105 افراد کی ہلاکت کے بعد کرفیو نافذ، فوج طلب کرلی گئی
-

حسینہ کی حکومت کا بد ترین خاتمہ،مودی کی سفارتی سطح پر ایک اور بڑی ناکامی
مودی کی سفارتی سطح پر ایک اور بڑی ناکامی اس کی حمایت یافتہ شیخ حسینہ کی حکومت کا بد ترین خاتمہ ہے۔
حسینہ واجد اور مودی سرکار کا گٹھ جوڑ اس طرح ثابت ہوا جب بھارتی ایئرپورٹ پر بھگوڑی حسینہ کا شاندار استقبال کیا گیا، شیخ حسینہ کا بھارت فرار ہونے پر بھارتی مشیراجیت ڈوال اور وزارت خارجہ کے اہم افسران نے استقبال کیا، بھارت عرصہ دراز سے بنگلہ دیش کو اپنے مذ موم سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتا رہا ہے ،حسینہ واجد نے بھارت کی کٹھ پتلی بن کر اپنی ہی عوام کے خلاف پالیسیاں بنائیں اور ظلم کیے، پاکستان کی نفرت میں بنگلہ دیش نے جماعت اسلامی کو بھی نشانہ بنایا اور اس پر پابندی عائد کی، 2014 میں عام انتخابات کے دوران اپوزیشن پارٹی کے لیڈر کو محض جماعت اسلامی کی حمایت پر نظر بند کیا گیا،حسینہ واجد کی غداری اور اسلام دشمنی کی واضح مثال یہ بھی ہے کہ اس نے اپنے دور حکومت میں سیاسی جماعت اسلامی کے متعدد رہنماؤں کو دہشت گردی کے مختلف مقدمات میں پھانسی دی گئی، 1971 میں بھارت اور شیخ مجیب الرحمن نے پاکستانی دشمنی میں جو بیج بویا تھا وہ آج انہی کے لیے نفرت کا تناور درخت بن چکا ہے، 1971 میں جس اگرتلہ میں بیٹھ کر شیخ مجیب نے پاکستان کے خلاف سازش کی آج وہیں پناہ لینے پر مجبور ہیں،حسینہ واجد اور اس کے تشدد پسند گروہ نے بھارتی ایجنسی را کے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے بنگلہ دیشی عوام کی آزادی کا گلا گھونٹے رکھا،حسینہ واجد اور مودی سرکار کے اس گٹھ جوڑ نے سینکڑوں مظلوم بنگلہ دیشی شہریوں کی جان لے لی، بھارت اس تمام خون ریزی میں برابر کا شریک ہے جو پچھلے ماہ سے بنگلہ دیش میں جاری تھی،بنگلہ دیش کے عوام نے اس نفرت انگیز گٹھ جوڑ کو مسترد کر کے بھارت کو منہ توڑ جواب دے دیا ہے
جو گڑھا حسینہ واجد دوسروں کے لیے کھود رہی تھیں خود ہی اس میں گر گئیں
حسینہ کے فرار کے بعد بنگلہ دیش میں جاری مظاہروں نے شدت اختیار کر لی ہے،مظاہروں کے دوران بنگلہ دیش کی عوام نے بھارتی نام نہاد کٹھ پتلی حکومت کو مسترد کرتے ہوئے بھارتی دراندازی کے خلاف غم و غصے کا اظہار کیا ہے، عوام کی جانب سے بھارتی اثرورسوخ اور مداخلت پر بھی شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا،حالیہ مظاہروں کے دوران مغربی بنگال میں شدید جھڑپیں ہوئیں، بنگلہ دیشی عوام نے بھارت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور ہندوؤں کی رہائش گاہوں پر پتھراؤ کیا،بھارت کے خلاف شدید رد عمل کے دوران نواخالی، مہرپور اور کالی مندروں پر بھی حملے کیے گئے،بھارت نے صدیوں پہلے جو بنگلہ دیش میں اپنے مذموم سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے سرمایہ لگایا وہ آج اسی کے گلے پڑ گیا،حسینہ واجد پر بھارت نواز ہونے کی چھاپ بہت گہری تھی اور اس بات کے خلاف بھی لوگوں میں ایک ردعمل تھا،بھارت کے زیر اثر بنگلادیش کی عوامی لیگ نے انتہا پسند پالیسیوں کے تحت عوام کو اپنے بنیادی حقوق تک سے محروم رکھا۔ جس طرح شیخ مجیب الرحمٰن کے مجسمے توڑے گئے اس سے معلوم ہوا کہ جو گڑھا حسینہ واجد دوسروں کے لیے کھود رہی تھیں اور خود ہی اس میں گر گئیں،اب وقت آ چکا ہے کہ بھارت ہوش کے ناخن لیتے ہوئے دوسرے ممالک کے نجی معاملات میں مداخلت کرنے سے گریز کرےہم پاکستان کے ساتھ جانا پسند کریں گے۔ بنگلہ دیشی شہریوں کا اعلان
بنگالی "حسینہ”مشکل میں،امریکی ویزہ منسوخ،سیاسی پناہ کیلیے لندن سے نہ ملا جواب
بنگلہ دیش،طلبا کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل ہی پارلیمنٹ تحلیل
حسینہ واجد کی ساڑھی بیوی کو پہنا کر وزیراعظم بناؤں گا،شہری
بنگلہ دیش میں ایک ماہ سے جاری پرتشدد مظاہروں اور ان میں سیکڑوں ہلاکتوں کے بعد بنگلادیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد استعفیٰ دے کر بھارت فرار ہوگئی ہیں،
حسینہ واجد بھارت میں خفیہ،محفوظ مقام پر،لندن یا فن لینڈ جائیں گی
شیخ حسینہ واجد کے بیٹے صجیب واجد نے والدہ کی سیاست کو خیر باد کہنے کی تصدیق کر دی
شیخ حسینہ واجد نے استعفی دے کر ملک چھوڑ دیا
بنگلہ دیش،پاکستانی طلبا پھنس گئے، والدین کی وزیراعظم سے اپیل
بنگلہ دیش: 105 افراد کی ہلاکت کے بعد کرفیو نافذ، فوج طلب کرلی گئی
-

حسینہ واجد کی پارٹی کے 20 حامیوں کی لاشیں برآمد
بنگلہ دیش میں پرتشدد کے واقعات کے بعد حسینہ واجد کی سیاسی جماعت عوامی لیگ سے تعلق رکھنے والے 20 سے زائد افراد کی لاشیں ملی ہیں
میڈیا رپورٹس کےمطابق مظاہرین نے عوامی لیگ کے رہنماؤں، حامیوں کے گھروں میں توڑ پھوڑ کی تھی، اب عوامی لیگ کے رہنما اور اسکے خاندان کے افراد کی لاشیں ملی ہیں،عوامی لیگ کے حامیوں کی لاشیں حسینہ واجد کے بنگلہ دیش چھوڑنے کے بعد ملی ہیں،حسینہ واجد کے ملک چھورنے کے بعد مظاہرین نے عوامی لیگ کے دفاتر پر بھی جلاؤ گھیراؤ کیا ہے
برطانیہ سے سیاسی پناہ کی درخواست کا جواب نہ ملنے پر حسینہ سعودی عرب،یو اے ای میں سیاسی پناہ کی خواہشمند
دوسری جانب بھارت میں موجود حسینہ واجدآئندہ 48 گھنٹوں میں یورپ کے کسی ملک میں جا سکتی ہیں،کس ملک جائیں گی ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ،امریکی ویزہ منسوخ ہونے اور برطانیہ کی جانب سے سیاسی پناہ کی درخواست پر ابھی تک جواب نہ ملنے پر حسینہ نے یورپ کے کسی ملک جانے کا فیصلہ کیا ہے، فی الحال حسینہ واجد اتر پردیش کے غازی آباد میں واقع ہنڈن ایئربیس کے سیف ہاؤس میں مقیم ہیں حسینہ واجد نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے بھی اب مدد مانگ لی ہے اور درخواست کی ہے کہ اسے سیاسی پناہ دی جائے، تاہم دونوں ممالک کی جانب سے ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا،حسینہ واجد کی برطانیہ میں بھی سیاس پناہ کے لئے بات چیت چل رہی ہے، برطانوی محکمہ داخلہ کے مطابق سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لئے شیخ حسینہ کو پہلے اس ملک میں سیاسی پناہ کا دعویٰ کرنا چاہئے، جہاں وہ سب سے پہلے پہنچی ہیں اس وجہ سے حسینہ واجد کی برطانیہ میں سیاسی پناہ کی درخواست ابھی تک زیرالتوا ہے، حسینہ واجد کی بہن شیخ ریحانہ اوربھتیجی ٹیولپ صدیق، جوبرطانوی شہری ہیں وہ برطانیہ میں حسینہ کو پناہ دلوانے کی کوشش کر رہی ہیں.بنگلہ دیش میں مظاہرین نے موسیقار راہول آنند کے گھر کو بھی جلا دیا
علاوہ ازیں بنگلہ دیش میں مظاہرین نے موسیقار راہول آنند کے گھر کو بھی جلا دیا ہے، مظاہرین نے دھان منڈی میں موسیقار راہول آنند کے گھر حملہ کیا، موسیقار ،اسکی بیوی اور بیٹا حملے سے قبل ہی گھر سے نکل گئے تھے، مظاہرین نے موسیقار راہول کی 140 سالہ پرانی رہائش گاہ کو لوٹا اور پھر جلادیا، آگ لگنے سے موسیقار کے آلات موسیقی بھی جل کر خاکستر ہو گئے.موسیقار کے قریبی ایک شخص نے میڈیا کو بتایا کہ حملہ آوروں نے پہلے گیٹ توڑا اور پھر توڑ پھوڑ شروع کر دی،موسیقار، گیت نگار اور گلوکار راہول دا آنند ڈھاکہ میں جولر گان نامی ایک مقبول لوک بینڈ چلاتے ہیں ،خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گزشتہ دو دنوں میں پرتشدد مظاہرین کی جانب سے کئی گھروں، کاروباری اداروں اور مذہبی مقامات کو آگ لگا دی گئی اور توڑ پھوڑ کی گئی ہے،

حسینہ کے اقتدار کے خاتمے کے بعد بھارت نے ہائی کمیشن سے غیر ضروری ملازمین کو واپس بلالیا
بنگلہ دیش میں حسینہ کے اقتدار کے خاتمے کے بعد بھارت نے ہائی کمیشن اور قونصلٹ سے غیر ضروری ملازمین کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے، فیصلے کے بعد ڈھاکہ میں بھارتی ہائی کمیشن اور قونصلٹ میںتعینات غیر ضروری ملازمین اور انکے اہلخانہ بھارت واپس پہنچ گئے ہیں،تاہم بھارتی ہائی کمیشن بنگلہ دیش میں کام جاری رکھے گا، بنگلہ دیش سے بھارتیوں کو واپس لانےکے لئے ایئر انڈیا اور انڈیگو نے خصوصی پروازیں چلائی ہیں جن میں 400 شہریوںکو واپس لایا گیا ہے، ایئر انڈیا کی خصوصی پرواز سے بدھ کی صبح 6 بچوں سمیت 205 شہری بھارت لوٹے، انڈیگو نے 6 اگست 2024 کو ڈھاکہ سے کولکتہ کے لیے خصوصی پرواز شروع کی ہیں جن میں بھارتی شہریوں کو واپس لایا جائے گا، ایئر انڈیا نے بھی دہلی سے ڈھاکہ کے درمیان اپنی روزانہ کی 2 پروازوں کا آغاز کیا ہے، وِستارا بھی بدھ سے ڈھاکہ کے لیے اپنی پروازیں شروع کر رہی ہےہم پاکستان کے ساتھ جانا پسند کریں گے۔ بنگلہ دیشی شہریوں کا اعلان
بنگالی "حسینہ”مشکل میں،امریکی ویزہ منسوخ،سیاسی پناہ کیلیے لندن سے نہ ملا جواب
بنگلہ دیش،طلبا کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل ہی پارلیمنٹ تحلیل
حسینہ واجد کی ساڑھی بیوی کو پہنا کر وزیراعظم بناؤں گا،شہری
بنگلہ دیش میں ایک ماہ سے جاری پرتشدد مظاہروں اور ان میں سیکڑوں ہلاکتوں کے بعد بنگلادیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد استعفیٰ دے کر بھارت فرار ہوگئی ہیں،
حسینہ واجد بھارت میں خفیہ،محفوظ مقام پر،لندن یا فن لینڈ جائیں گی
شیخ حسینہ واجد کے بیٹے صجیب واجد نے والدہ کی سیاست کو خیر باد کہنے کی تصدیق کر دی
شیخ حسینہ واجد نے استعفی دے کر ملک چھوڑ دیا
بنگلہ دیش،پاکستانی طلبا پھنس گئے، والدین کی وزیراعظم سے اپیل
بنگلہ دیش: 105 افراد کی ہلاکت کے بعد کرفیو نافذ، فوج طلب کرلی گئی
-

امریکی اہلکاروں پر حملے برداشت نہیں کرینگے، امریکی وزیر دفاع
امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا ہے کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں امریکی اہلکاروں پر حملے برداشت نہیں کرے گا
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے کہ عراق میں امریکی فوجیوں پر حملے کے پیچھے ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کا ہاتھ تھا،امریکی اہلکاروں پر حملے کسی صورت برداشت نہیں ہیں،قبل ازیں اسرائیلی وزیر دفاع یاو گیلنٹ نے اپنے امریکی ہم منصب لائیڈ آسٹن سے ٹیلی فون پر مشرق وسطی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کےلیے رابطہ کیا ہے۔ امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی سلامتی کےلیے امریکہ ہر ممکنہ تعاون کرے گا.
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ ہم نے ایران اور اسرائیل سے براہ راست بات چیت کی ہے کہ کسی کو بھی مشرق وسطیٰ میں تنازعات کو نہیں بڑھانا چاہیے، مشرق وسطیٰ میں مزید حملے تنازعات، عدم استحکام اور عدم تحفظ کو جنم دیں گے،غزہ کے یرغمالیوں کے مذاکرات آخری مرحلے پر پہنچ چکے ہیں، یہ اہم ہے کہ فریقین معاہدے کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کیلئے کام کر رہے ہیں،ایران اور اسرائیل کشیدگی سے گریز کریں ۔خطے میں کشیدگی کو روکنے کیلئے مسلسل کام کررہے ہیں ۔ اس سلسلے میں اتحادیوں سے بات چیت اور سفارتی ذرائع استعمال کررہے ہیں ۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز عراق میں امریکی فوجی اڈے پر راکٹ حملہ ہوا تھا جس میں متعدد امریکی اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔
لبنان بارے سفری ایڈوائزری،365 نیوز کی "کھرا سچ”ٹیم کی لبنان روانگی مؤخر
یحییٰ السنوار حماس کے نئے سربراہ مقرر
اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں
حافظ نعیم الرحمان کی اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں سے ملاقات، تعزیت کا اظہار
اسماعیل ہنیہ کی شہادت،عمران خان کی پراسرار خاموشی،56 گھنٹے بعد دیا ردعمل
حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا
حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید
سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات
اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش
اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ
ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ
ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب
غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری
اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی
اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید
فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان
مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات
مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات
اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ
-

ڈاکٹر محمد یونس عبوری حکومت کے سربراہ مقرر
حسینہ واجد کو اقتدار سے نکالنے کے بعد بنگلہ دیش کے طلبا نے نگراں حکومت کے لیے اپنی شرائط بھی منوا لیں۔ عالمی شہرت یافتہ معیشت دان ڈاکٹر محمد یونس عبوری حکومت کے سربراہ ہوں گے۔
حسینہ واجد کے مستعفی ہونے کے بعد بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کی تشکیل کا عمل شروع ہوگیا ہے،ڈاکٹر محمد یونس کو عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے،عبوری حکومت کے قیام کا فیصلہ ایوان صدر میں مشاورتی اجلاس میں ہوا جس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور طلبہ تحریک کے رہنمابھی شریک تھے، عبوری حکومت کے باقی ارکان کا فیصلہ مختلف سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا
شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلادیشی طلبہ تحریک نے ملک میں فوجی حکومت قبول کرنے سے انکار کردیا تھا اور ڈاکٹر یونس کی سربراہی میں عبوری حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا تھا، بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ طلبا کے مطالبے پر تحلیل کی گئی تھی، ڈاکٹر یونس علاج کے لئے بیرون ملک میں ہیں ،انکے ترجمان کے مطابق وہ بنگلہ دیش واپس لوٹ کر حکومت کا حصہ بنیں گے.
حسینہ واجد کی یورپ جانے کی تیاریاں
دوسری جانب بھارت میں موجود حسینہ واجدآئندہ 48 گھنٹوں میں یورپ کے کسی ملک میں جا سکتی ہیں،کس ملک جائیں گی ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ،امریکی ویزہ منسوخ ہونے اور برطانیہ کی جانب سے سیاسی پناہ کی درخواست پر ابھی تک جواب نہ ملنے پر حسینہ نے یورپ کے کسی ملک جانے کا فیصلہ کیا ہے، فی الحال حسینہ واجد اتر پردیش کے غازی آباد میں واقع ہنڈن ایئربیس کے سیف ہاؤس میں مقیم ہیں ،حسینہ واجد روس جانے کی بھی کوشش کر رہی ہیں تا ہم ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا،ہم پاکستان کے ساتھ جانا پسند کریں گے۔ بنگلہ دیشی شہریوں کا اعلان
بنگالی "حسینہ”مشکل میں،امریکی ویزہ منسوخ،سیاسی پناہ کیلیے لندن سے نہ ملا جواب
بنگلہ دیش،طلبا کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل ہی پارلیمنٹ تحلیل
حسینہ واجد کی ساڑھی بیوی کو پہنا کر وزیراعظم بناؤں گا،شہری
بنگلہ دیش میں ایک ماہ سے جاری پرتشدد مظاہروں اور ان میں سیکڑوں ہلاکتوں کے بعد بنگلادیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد استعفیٰ دے کر بھارت فرار ہوگئی ہیں،
حسینہ واجد بھارت میں خفیہ،محفوظ مقام پر،لندن یا فن لینڈ جائیں گی
شیخ حسینہ واجد کے بیٹے صجیب واجد نے والدہ کی سیاست کو خیر باد کہنے کی تصدیق کر دی
شیخ حسینہ واجد نے استعفی دے کر ملک چھوڑ دیا
بنگلہ دیش،پاکستانی طلبا پھنس گئے، والدین کی وزیراعظم سے اپیل
بنگلہ دیش: 105 افراد کی ہلاکت کے بعد کرفیو نافذ، فوج طلب کرلی گئی
-

ٹرمپ و امریکی حکام پر حملہ کی منصوبہ بندی،پاکستانی شہری امریکا میں گرفتار
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، ٹرمپ و دیگر امریکی حکام کے قتل کی منصوبہ بندی میں امریکہ نے پاکستانی شہری کو گرفتار کیا ہے، آصف مرچنٹ کو امریکہ نے اس الزام میں حراست میں لیا ہے اور اس پر فردجرم عائد کر دی گئی ہے
اگرچہ مجرمانہ شکایت میں ٹرمپ کے نام کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، تاہم اس کیس سے واقف متعدد ذرائع نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ مبینہ سازش کا ایک مطلوبہ ہدف ٹرمپ تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ دیگر ممکنہ اہداف میں دونوں اطراف کے سرکاری اہلکار شامل تھے۔آصف مرچنٹ نے جس شخص سے رابطہ کیا وہ ایف بی آئی کے ساتھ کام کرنے والا ایک خفیہ مخبر تھا۔ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق آصف مرچنٹ کا ٹرمپ پر قاتلانہ حملے سے کوئی تعلق نہیں،وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے آصف مرچنٹ کی ٹرمپ پر حملے میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ٹرمپ پر قاتلانہ حملے سے کوئی تعلق نہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستانی شہری آصف مرچنٹ پر الزام لگایا ہے کہ اس نے سابق امریکی صدر ٹرمپ سمیت امریکی حکام کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے، آصف مرچنٹ مبینہ طور پر ایرانی حکام سے بھی رابطے میں تھا،آصف مرچنٹ کی گرفتاری کے بعد ٹرمپ کی سیکورٹی میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے،امریکی محکمہ انصاف کے مطابق آصف مرچنٹ پر الزام ہے کہ وہ ایک ہٹ مین کے ساتھ امریکی حکام کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا،آصف مرچنٹ کو اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ 12 جولائی کو امریکا سے بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا
پاکستانی شہری جس کے ایران سے تعلقات ہیں سیاستدان یا امریکی حکومتی اہلکاروں کے قتل کی ناکام سازش کے سلسلے میں فرد جرم عائد کی گئی ہے،مدعا علیہ نے مبینہ طور پر امریکی سرزمین پر کسی سیاستدان یا امریکی حکومت کے اہلکاروں کو قتل کرنے کے لیے ہٹ مین کی خدمات حاصل کرنے کے لیے نیویارک شہر کا سفر کیا تھا۔ بروکلین کی وفاقی عدالت میں، آصف مرچنٹ، جسے "آصف رضا مرچنٹ” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کے خلاف امریکی سرزمین پر کسی سیاست دان یا امریکی حکومت کے اہلکاروں کو قتل کرنے کی اسکیم کے تحت کرایہ پر قتل کے الزام میں ایک شکایت کی گئی تھی . قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس الزام کی سازش کو ناکام بنا دیا اس سے پہلے کہ کوئی حملہ کیا جا سکے۔ مرچنٹ نیویارک میں وفاقی حراست میں ہے۔
اٹارنی جنرل میرک بی گارلینڈ نے کہا، "برسوں سے، محکمہ انصاف ایرانی جنرل سلیمانی کے قتل کے لیے امریکی سرکاری اہلکاروں کے خلاف انتقامی کارروائی کی ایران کی ڈھٹائی اور بے لگام کوششوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جارحانہ انداز میں کام کر رہا ہے۔محکمہ انصاف ان لوگوں کو روکنے اور جوابدہ بنانے کے لئے کوئی وسائل نہیں چھوڑے گا جو امریکی شہریوں کے خلاف ایران کی مہلک سازش کو انجام دینے کی کوشش کریں گے، اور آمریکی عوامی عہدیداروں کو نشانہ بنانے اور امریکہ کی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی آمرانہ حکومت کی کوششوں کو برداشت نہیں کرے گا۔”
نیو یارک کے مشرقی ضلع کے لیے امریکی اٹارنی بریون پیس نے کہا، "بیرون ملک دوسروں کی جانب سے کام کرتے ہوئے، مرچنٹ نے امریکی سرزمین پر امریکی حکومت کے اہلکاروں کے قتل کا منصوبہ بنایا۔ یہ استغاثہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ دفتر اور پورا محکمہ انصاف ہماری قوم کی سلامتی، ہمارے سرکاری اہلکاروں اور ہمارے شہریوں کو غیر ملکی خطرات سے بچانے کے لیے فوری اور فیصلہ کن کارروائی کرے گا۔”
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرسٹوفر رے نے کہا، "کرائے کے لیے قتل کی یہ خطرناک سازش آج کے الزامات میں مبینہ طور پر ایک پاکستانی شہری نے ترتیب دی تھی جس کا ایران سے قریبی تعلق ہے اور یہ براہ راست ایرانی پلے بک سے باہر ہے۔،کسی سرکاری اہلکار، یا کسی امریکی شہری کو قتل کرنے کی غیر ملکی ہدایت کی منصوبہ بندی، ہماری قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور اسے ایف بی آئی کی پوری طاقت اور وسائل سے پورا کیا جائے گا۔”
نیشنل سیکیورٹی ڈویژن کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل میتھیو جی اولسن نے کہا، ” جو لوگ امریکی سرزمین پر مہلک سازش میں ملوث ہیں، انہیں امریکی نظام انصاف کی پوری طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔” "غیر ملکی اداکاروں کی طرف سے سابق اور موجودہ اہلکاروں کو نشانہ بنانا ہماری خودمختاری کی توہین ہے اور ہمارے جمہوری ادارے اور محکمہ انصاف اس گھناؤنی سرگرمی کو بے نقاب کرنے اور اس میں خلل ڈالنے کے لیے ہر ممکن ہتھیار استعمال کرے گا۔”
عدالتی دستاویزات کے مطابق، مرچنٹ نے امریکی سرزمین پر کسی سیاستدان یا امریکی حکومت کے اہلکاروں کو قتل کرنے کی سازش رچی۔ تقریباً اپریل 2024 میں، ایران میں وقت گزارنے کے بعد، مرچنٹ پاکستان سے امریکہ پہنچا اور ایک ایسے شخص سے رابطہ کیا جس کے بارے میں اسے یقین تھا کہ اس اسکیم میں اس کی مدد کر سکتا ہے۔ اس شخص نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مرچنٹ کے طرز عمل کی اطلاع دی اور ایک خفیہ ذریعہ بن گیا۔جون کے شروع میں، مرچنٹ نے نیویارک میں اس شخص سے ملاقات کی اور قتل کی سازش کی وضاحت کی۔ آصف مرچنٹ کی جس شخص سے ملاقات ہوئی تھی وہ مخبر تھا اس نے مرچنٹ کی تمام معلومات ایف بی آئی کو بتائیں، اجرتی قاتل خفیہ طور پر امریکی انٹیلی جنس اداروں کیلئے کام کررہا تھا اور آصف مرچنٹ نےایک شخص کے گھر سے یو ایس بی چوری کرنے کی بات کی۔اس کے علاوہ یہ بھی دعوی کیا گیا تھا کہ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق منصوبہ بندی میں ایران بھی ملوث ہوسکتا ہے، اس بات کی تحقیقات کی جارہی ہیں کہ آصف مرچنٹ کو منصوبہ بندی کی ہدایت کس نے دی تھی۔ دوسری جانب کہا جا رہا ہے کہ سابق امریکی صدر ٹرمپ پر انتخابی مہم کے دوران ہونے والے حملے سے آصف مرچنٹ کا کوئی تعلق نہیں ہے.
اوہائیو،ریپبلکن نیشنل کنونشن کے باہر فائرنگ سےچاقو بردار شخص ہلاک
سری لنکن کپتان مستعفی،ہمارے والے اب بھی لابنگ میں مصروف
عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم
پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت
اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک
اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے
"بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے
اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی
کرکٹ میں سٹے بازی اور سپاٹ فکسنگ،پاک بھارت میچ میںکتنے کا جوا؟
لڑائی شروع،کیا ایمرجنسی لگ سکتی؟جمعہ پھر بھاری،کپتان جیت گیا
مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار
حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون
-

یحییٰ السنوار حماس کے نئے سربراہ مقرر
حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد حماس نے نئے سربراہ کا اعلان کر دیا ہے
حماس کی جانب سے نئے سربراہ کے حوالہ سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یحییٰ السنوار حماس کے سیاسی دفتر کے نئے سربراہ ہوںگے،ہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد اب یحییٰ السنوار حماس کے سیاسی دفتر کی سربراہی کریں گے،یحییٰ السنوار اس سے قبل غزہ میں حماس کی سربراہی کررہے تھے۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے، ایران اور اس کے حامیوں نے ہنیہ کے قتل کا بدلہ لینے کی دھمکی دی ہے، جس کا الزام وہ اسرائیل پر لگاتے ہیں۔ اسرائیل نے کوئی جواب نہیں دیا۔یحییٰ سنوار اس وقت اسرائیل کو مطلوب ترین فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔ اسرائیل کی سکیورٹی فورسز کا خیال ہے کہ اس نے 7 اکتوبر کے حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔یحییٰ سنوار کو اکتوبر کے حملوں کے بعد سے عوام میں نہیں دیکھا گیا اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ غزہ میں "10 منزلہ زیر زمین” چھپا ہوا ہے،
واضح رہے کہ اسماعیل ہنیہ 31 جولائی کو تہران میں ہونے والے اسرائیلی حملے میں شہید ہوگئے تھے،اسماعیل ہنیہ نومنتخب ایرانی صدر کی تقریب حلف برداری کے لیے تہران میں موجود تھے جب ان پر رات کو حملہ کیا گیا، اس حملے میں اسماعیل ہنیہ اور انکا محافظ شہید ہو گیا تھا، اسماعیل ہنیہ کی تہران میں نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد دوحہ میں نماز جنازہ ادا کی گئی اور دوحہ میں ہی تدفین کی گئی
نئے حماس سربراہ یحییٰ السنوار کون ہیں؟
یحییٰ السنوار 19 اکتوبر 1962 کو خان یونس کے ایک کیمپ میں پیدا ہوے، انہوں نے ابتدائی تعلیم خان یونس کے ہی اسکول میں حاصل کی، اس کے بعد غزہ کی اسلامک یونیورسٹی سے عربی میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی، یحییٰ السنوارنے 5 برس تک یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ کونسل میں خدمات انجام دیں اور پھر کونسل کے چیئرمین اور وائس چیئرمین بھی رہے،یحیٰ النسوار طویل عرصہ تک تقریبا 22 برس گرفتار بھی رہے،اسرائیل نے سنوار کو 1988 میں اس نیٹ ورک کے پاس ہتھیار رکھنے کا انکشاف کرنے کے بعد کئی ہفتوں کے لیے جیل بھیج دیا تھا،اگلے سال، اسے اسرائیل کے ساتھ کام کرنے کے الزام میں فلسطینیوں کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا اور اسے چار عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ 2011 میں شالت ،اسرائیلی فوجی کے رہائی، ڈیل کے بدلے اسرائیل کی جیل سے انہی رہائی ملی تو اسکے بعد غزہ کی ایک مسجد میں انکا نکاح ہوا، اسکے بعد یحییٰ السنوار کا شما رحماس کے سرکردہ رہنماؤں میں ہونے لگا،یحیٰ السنوار کو حماس کے سیاسی ونگ اور عزالدین القسام بریگیڈ کی لیڈرشپ کے درمیان روابط قائم رکھنے کا ٹاسک دیا گیا اور پھر 2014 میں اسرائیلی جارحیت کے اختتام پر انہوں نے حماس کے فیلڈ کمانڈرز کی کاکردگی کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے تحقیقات کروائیں جس کے نتیجے میں حماس کے کئی بڑے رہنماؤں کو عہدوں سے بھی ہٹایا گیا،ستمبر 2015 میں امریکا نے القسام بریگیڈ کے کمانڈر انچیف محمد الضیف اور سیاسی ونگ کے رہنما راہی مشتہا سمیت یحیٰ السنوارکا نام بھی بین الاقوامی دہشتگردوں کی بلیک لسٹ میں شامل کر دیا تھا.13 فروری 2017 کو یحیٰ النسوار اسماعیل ہنیہ کی جگہ غزہ پٹی میں حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ منتخب ہوئے تھے اور انہوں نے خلیل الحیا کو اپنا نائب مقرر کیا تھا،بعد ازاں یحیٰ النسوار کو پارٹی انتخابات کے ذریعے غزہ پٹی میں حماس کا سربراہ مقرر کر دیا گیا اور اسماعیل ہنیہ کو خالد مشعال کا جانشین بنا دیا گیا تھا،
مئی 2018 میں یحیٰ النسوار نے الجزیرہ پر آکر غیر متوقع اعلان کر دیا کہ حماس پرامن عوامی مزاحمت کی پالیسی اپنائے گی جس کا مقصد ممکنہ طور پر حماس پر بہت سے مملک کی جانب سے لگا دہشتگرد تنظیم کا ٹیگ اتارنا اور اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کیلئے کردار ادا کرنا تھا، اس اعلان سے ایک ہفتہ قبل یحیٰ النسوار نے غزہ کے شہریوں سے کہا تھا کہ اسرائیلی زنجیریں توڑ دیں، ہم دب کر مرنے سے شہید ہونے کو ترجیح دیں گے، ہم مرنے کے لیے تیار ہیں اور ہزاروں لوگ ہمارے ساتھ مریں گے،مارچ 2021 میں یحیٰ النسوار دوسری مدت کے لیے غزہ میں حماس کے سربراہ منتخب ہوئے اور انہیں غزہ کا ڈی فیکٹو حکمران تصور کیا جانے لگا اور انہیں حماس میں اسماعیل ہنیہ کے بعد دوسرا طاقتور ترین شخص تصور کیا جاتا تھا،
مئی 2021 میں اسرائیلی فورسز کی جانب سے خان یونس میں یحیٰ السنوارکے گھر پر بمباری کی گئی تاہم اس حملے میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی اور پھر حملے کے اگلے ہفتے یحیٰ النسوارکئی بار عوام میں دیکھے گئے اور پھر 27 مئی 2021 کو انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینتز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے قدموں پر چل کر اپنے گھر جاؤں گا، تمھارے پاس مجھے قتل کرنے کے لیے 60 منٹ ہیں اور پھر وہ اگلے گھنٹے غزہ کی گلیوں میں گھومتے رہے اور سلیفیاں لیتے رہے،
غزہ میں حماس کے رہنما یحییٰ سنوار کو 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر حملے اور قتل عام کے پیچھے ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا ہے، جس میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک اور 251 کو یرغمال بنا لیا گیا تھا،حماس کے اس حملے کے بعد غزہ میں جاری جنگ شروع ہوئی،فلسطین میں ہزاروں شہادتوں کے باوجود حماس اسرائیل کی تباہی کے لیے پرعزم ہے۔حملے کی منصوبہ بندی کے بعد سے یحییٰ سنوار غزہ میں روپوش ہے۔ اسرائیل ڈیفنس فورسز نے فروری میں فوٹیج جاری کی تھی جس میں مبینہ طور پر سنوار کو 10 اکتوبر کو غزہ کی ایک سرنگ میں اس کے اہل خانہ کے ساتھ دکھایا گیا تھا۔ یکم اگست کو، آئی ڈی ایف نے حماس کے عسکری ونگ کے کمانڈر محمد الضیف کی گزشتہ ماہ جنوبی غزہ میں ایک فضائی حملے میں شہادت کی تصدیق کی تھی تا ہم حماس نے اس کی تردید کی ہے،غزہ میں جاری حالیہ جنگ کے ابتدائی تین ہفتوں کے بعد یحیٰ السنوارنے اسرائیل کو پیشکش کی تھی کہ یرغمال بنائے گئے تمام اسرائیلیوں کے بدلے قید بنائے گئے تمام فلسطینیوں کو رہا کر دیا جائےلیکن اسرائیلی وزیراعظم نے حماس کی پیشکش قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے زمینی کارروائی کا فیصلہ کیا جس کا نقصان انہیں مزید اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت اور فوجی گاڑیوں کی تباہی کی صورت میں برداشت کرنا پڑا
اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں
واضح رہے کہ اسماعیل ہنیہ، جو ایران میں ایک حملے میں شہید ہوئے، کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دفن کیا گیا۔ ان کی نمازِ جنازہ میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمد، حماس کے سابق رہنما خالد مشعل، اسماعیل ہنیہ کے بیٹے، اور فلسطینی تنظیموں کے اعلیٰ رہنماؤں نے شرکت کی۔ پاکستان سے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے بھی نماز جنازہ میں شرکت کی، اسماعیل ہنیہ کو دوحہ کے لوسیل قبرستان میں علامہ یوسف القرضاوی کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔ ان کی وفات نے عالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، اور ان کے جنازے میں شرکت کرنے والے لوگوں کی تعداد نے ان کے عالمی مقام اور فلسطین کی جدوجہد میں ان کے کردار کو اجاگر کیا۔
حافظ نعیم الرحمان کی اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں سے ملاقات، تعزیت کا اظہار
اسماعیل ہنیہ کی شہادت،عمران خان کی پراسرار خاموشی،56 گھنٹے بعد دیا ردعمل
حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا
حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید
سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات
اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش
اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ
ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ
ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب
غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری
اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی
اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید
فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان
مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات
مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات
اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ
-

بنگلا دیشی وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کے بعد مظاہرین نے بھارتی کلچرل سینٹر نذر آتش کیا، پاکستان کے خلاف سازش کا ثبوت مل گیا
ڈھاکا: بنگلا دیش میں جاری پرتشدد مظاہروں کے دوران، مظاہرین نے بھارت کے سرکاری محکمے انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز کے تحت چلنے والے اندرا گاندھی کلچرل سینٹر کو نذر آتش کر دیا۔ یہ واقعہ بنگلا دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے مستعفی ہونے اور بھارت فرار ہونے کے بعد پیش آیا۔پرتشدد مظاہروں نے ڈھاکا شہر میں شدید ہنگامہ برپا کر دیا، جس کے نتیجے میں کلچرل سینٹر کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کی جانب سے جاری کردہ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کلچرل سینٹر کے احاطے میں ملبہ پھیلا ہوا ہے اور عمارت سے دھواں اٹھ رہا ہے۔ فوٹیج میں عمارت کے اندر موجود ملبے میں ویڈیو کیسٹس کا ڈھیر بھی نظر آ رہا ہے، جن میں سے ایک ویڈیو کیسٹ پاکستان سے متعلق ہے۔
ویڈیو کیسٹ کا عنوان ’پاکستان: دی وار وِد اِن‘ ہے، اور اس کے لیبل سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ویڈیو کیسٹ بھارتی وزارت خارجہ کے ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ کی جانب سے جاری کردہ ہے۔ یہ کیسٹ 30 منٹ کے دورانیے پر مشتمل ہے اور اس میں پاکستان سے متعلق مواد شامل ہے۔بنگلا دیش میں گزشتہ ماہ سے جاری عوامی احتجاج نے ملک میں شدید سیاسی بحران کو جنم دیا۔ وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی مستعفی ہونے کے بعد، بھارت فرار ہونے کے فیصلے نے مزید کشیدگی کو بڑھا دیا۔ فوج کے سربراہ نے اس صورتحال پر عبوری حکومت کے قیام کا اعلان کیا ہے، جس سے ملک کی موجودہ سیاسی عدم استحکام کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔مظاہرین کے غم و غصے کے نتیجے میں بھارتی کلچرل سینٹر کو نشانہ بنانے کے بعد، بھارت اور بنگلا دیش کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، اور اس واقعے نے دونوں ممالک کے درمیان موجود سیاسی اختلافات کو مزید ابھار دیا ہے۔ -

ہم پاکستان کے ساتھ جانا پسند کریں گے۔ بنگلہ دیشی شہریوں کا اعلان
بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش کے شہریوں نے جشن منایا ۔ اس دوران کئی مقامات پر پاکستان کے پرچم لہرائے گئے۔ حسینہ واجد کے گھر حملہ کر کے لوٹ مار کی گئی ۔ شیخ مجیب الرحمن کے کئی مقامات پر مجسموں کو گرایا۔ بنگلہ دیشی شہری سڑکوں پر نکلے اور جشن منایا اس دوران شہریوں سے سوال کیا گیا کہ پاکستان یا بھارت کسی ایک میں سے کس کے ساتھ جانا چاہیں گے تو اکثر شہریوں نے جواب دیا کہ ہمیں پاکستان پسند ہے پاکستان کے لوگ اچھے ہیں اس لئے ہم پاکستان کے ساتھ جانا چاہیں گے بھارت میں تو مودی سرکار اقلیتوں پر ظلم کرتی ہے کوئی بھی وہاں محفوظ نہیں ہے بنگالی شہریوں کے ساتھ بھئ بھارت میں ناروا سلوک رکھا جاتا ہے اس لئے بھارت کے ساتھ جانے کا کبھی سوچ بھی نہیں سکتے۔
بنگلہ دیشی شہریوں کی کئی ویڈیو سامنے آ چکی ہیں جس میں وہ پاکستان کے لیے اچھے جذبات اور مودی سرکار کے خلاف نفرت کا اظہار کر رہے ہیں۔بنگلہ دیش کی خواتین کا بھی کہنا ہے وہ پاکستان کے ساتھ جانا پسند کریں گی واضح رہے کہ حسینہ واجد مستعفی کو کر بھارت پہنچ گئی ہیں اجیت سے حسینہ کی ملاقات ہوئی ہے۔ حسینہ بھارتی فضائیہ کے گیسٹ ہاؤس میں مقیم ہیں جس کی سیکورٹی انتہائی سخت رکھی گئی ہے حسینہ کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جا رہی حسینہ لندن میں سیاسی پناہ کی خواہش مند ہیں تا ہم ابھی تک لندن سے کوئی حوصلہ افزا پیغام نہیں ملا۔ حسینہ واجد کسی بھی دوسرے ملک جانے تک بھارت میں ہی رہے گی۔