Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • بنگلادیش: سابق وزیر اعظم  خالدہ ضیا کی رہائی کا حکم، کرفیو کے خاتمے کا اعلان

    بنگلادیش: سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کی رہائی کا حکم، کرفیو کے خاتمے کا اعلان

    بنگلادیش کے صدر محمد شہاب الدین نے سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی جیل سے رہائی کا حکم دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ صدارتی اجلاس میں کیا گیا، جہاں اپوزیشن جماعت بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہ خالدہ ضیا کی رہائی پر اتفاق ہوا۔ خالدہ ضیا، جو بنگلادیش کی معروف سیاستدان اور بی این پی کی رہنما ہیں، ایک عرصے سے جیل میں قید تھیں۔ ان کی رہائی کے حکم نے ملک بھر میں سیاسی اور سماجی حلقوں میں گہری دلچسپی پیدا کر دی ہے۔ خالدہ ضیا کی رہائی بنگلادیش کی سیاست میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، کیونکہ ان کی جماعت کی جانب سے اس اقدام کی تائید کی گئی ہے۔
    دوسری جانب، بنگلادیش کی فوج نے ملک میں نافذ کرفیو کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔ فوج کے ترجمان نے بتایا کہ کرفیو منگل کی صبح سے ہٹا دیا جائے گا، جس کے بعد اسکول کھل جائیں گے اور کاروباری سرگرمیاں معمول پر آ جائیں گی۔ کرفیو کے خاتمے کا اعلان ملک میں سکونت کی حالت کو بحال کرنے اور عوام کی زندگی کو معمول پر لانے کے عزم کا عکاس ہے۔اس اعلان کے بعد، عوامی زندگی میں تیزی سے بحالی متوقع ہے، جس سے ملک کی معیشت اور سماجی سرگرمیوں پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس وقت بنگلادیش میں سیاسی و سماجی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے اور یہ اقدامات ملک کی موجودہ صورتحال پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔

  • شیخ حسینہ واجد کے بیٹے صجیب واجد نے والدہ کی سیاست کو خیر باد کہنے کی تصدیق کر دی

    شیخ حسینہ واجد کے بیٹے صجیب واجد نے والدہ کی سیاست کو خیر باد کہنے کی تصدیق کر دی

    شیخ حسینہ واجد کے بیٹے صجیب واجد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کی والدہ، جو کہ بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم ہیں، اب کبھی سیاست میں واپس نہیں آئیں گی۔ صجیب واجد نے اس بات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شیخ حسینہ واجد نے بنگلہ دیش کی تعمیر اور ترقی کے لیے بے پناہ محنت کی ہے، اور ان کی سیاست سے رخصت ہونا ان کے خاندان کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہے۔صجیب واجد نے بتایا کہ ان کی والدہ نے بنگلہ دیش کی سیاست کو ترک کرنے کا فیصلہ اہل خانہ کی ضد اور سیکیورٹی خدشات کی بنا پر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری والدہ کی زندگی خطرے میں تھی، اور ہمارے دباؤ کے تحت انہوں نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
    صجیب واجد نے مزید کہا کہ شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا یوں چلے جانا ہمارے لیے ایک سنجیدہ دھچکا ہے کیونکہ انہوں نے ملک اور قوم کی خدمت کے لیے دن رات محنت کی۔ ان کی کوششوں کی عالمی سطح پر بھی تعریف کی گئی ہے، اور ان کی معیشت کو مضبوط کرنے کی پالیسیوں کا اعتراف کیا گیا ہے۔صجیب واجد نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ شیخ حسینہ واجد اب سیاست میں واپس نہیں آئیں گی، اور ان کی سیاست سے رخصت ہونے کا فیصلہ آخری ہے۔ ان کے مطابق، یہ فیصلہ ان کی والدہ کی محفوظیت اور خاندان کی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

  • ایران نے خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کو مسترد کر دیا

    ایران نے خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کو مسترد کر دیا

    تہران: ایرانی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ ایران خطے میں جنگ کی صورت حال کو پھیلانے پر یقین نہیں رکھتا اور نہ ہی عدم استحکام میں اضافہ کرنا چاہتا ہے۔یہ بیان گروپ سیون کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے بڑھتے ہوئے حالات پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ گروپ سیون کا اجلاس اٹلی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
    حماس کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کی تہران میں اچانک ہلاکت کے بعد علاقے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔ تاہم، ایران نے اپنے حالیہ بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ جنگی ماحول کے پھیلاؤ کا حامی نہیں ہے اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے پرعزم ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے اس بیان سے خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ایران تنازعات کے حل کے لیے پرامن طریقوں کا خواہاں ہے۔

  • حسینہ واجد سے استعفی لیکر فوجی ہیلی کاپٹر میں بھارت جلاوطن کردیا گیا

    حسینہ واجد سے استعفی لیکر فوجی ہیلی کاپٹر میں بھارت جلاوطن کردیا گیا

    بنگلہ دیش میں پرتشدد مظاہرے، جلاؤ گھیراؤ توڑ پھوڑ جاری ہے

    ہزاروں افراد سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی رہائش گاہ میں داخل ہو گئے،بنگلہ فوج نے بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو 45منٹ میں مستعفی ہونے کا کہا تھا، خبر رساں ادارے کے مطابق بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد اور ان کی بہن کو سرکاری رہائش گاہ سے دور ایک محفوظ پناہ گاہ میں منتقل کردیا گیا تھا بعد ازاں خبر رساں ادارے کے مطابق شیخ حسینہ واجد سے استعفی لیکر فوجی ہیلی کاپٹر میں بھارت جلاوطن کردیا گیا، حسینہ واجد نے محفوظ مقام پر منتقلی سے قبل تقریر ریکارڈ کروانے کی کوشش بھی کی لیکن اُنہیں تقریر ریکارڈ کروانے کا موقع نہیں دیا گیا،شیخ حسینہ نے استعفیٰ دے دیا دہلی میں بنگلہ دیش کے اعلیٰ کمیشن کے افسران نے تصدیق کردی، رائٹرز کے مطابق شیخ حسینہ واجد نے استعفی دے کر ملک چھوڑ دیا ہے.

    بنگلہ دیش سے فرار شیخ حسینہ بھارت پہنچ گئیں
    بھارت شیخ حسینہ واجد کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کےلئے تیار ہو گیا، سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم کا ہیلی کاپٹر بھارت کے مشرقی شہر اگرتلہ میں لینڈ کر گیا ہے،جس کے بعد حسینہ واجد بھارتی دارالحکومت دلی کی جانب روانہ ہو گئی ہیں، حسینہ واجد کے بھارت سے لندن جانے کا امکان ہے، بھارتی سیکیورٹی ایجنسیاں شیخ حسینہ کے طیارے کی مانیٹرنگ کر رہی ہیں ،حسینہ واجد دہلی میں بھارتی حکام کے ساتھ ملاقات کے بعد آگے کہیں جانے کا پروگرام بنائیں گی.اگر بھارت نے رہنے کی اجازت دے دی تو شاید آج شام حسینہ واجد کوئی ویڈیو پیغام اپلوڈ کرے یا پریس کانفرنس کرے،ورنہ کسی کمرشل فلائٹ سے لندن یا کسی اور ملک چلی جائے گی.

    15 سالہ اقتدار کا خاتمہ، حسینہ واجد کے بیٹے کی دہائیاں بھی کام نہ آئیں
    سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کا 15 سالہ دور اقتدار کا خاتمہ،تختہ الٹنے سے قبل شیخ حسینہ واجد کے بیٹے کی فیس بک پر پوسٹ سامنے آئی ہے جس میں شیخ حسینہ کے بیٹے سجیب واجد کا کہنا تھا کہ فوج کسی بھی قسم کے قبضے کو روکے،آپ کا فرض ہے کہ اپنے لوگوں اور ملک کو محفوظ رکھیں اور آئین کو برقرار رکھیں، کسی غیر منتخب حکومت کو ایک منٹ بھی اقتدار میں نہ آنے دیں، یہ آرمی کا فرض ہے، حسینہ واجد کا بیٹا امریکا میں مقیم ہے اور اس نے امریکہ سےویڈیو پیغام پوسٹ کیا ہے.حسینہ کے بیٹے کا کہنا تھا کہ اگر زبردستی اقتدار ختم کیا جاتا ہے تو بنگلادیش کی سالمیت کو خطرہ ہوگا،ہمارے ملک کی تمام تر ترقی ختم ہوجائے گی، اتنے سالوں میں جو ہوا جب پہلے جیسا ہوجائے گا اور پھر بنگلادیش اس بحران سے نہیں نکل سکے گا،میں ایسا نہیں چاہتا، یقیناً آپ بھی ایسا نہیں چاہیں گے، جب تک ہوسکا میں یہ نہیں ہونے دوں گا

    بنگلہ دیش کی وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کے مستعفی ہونے پر بنگلہ دیش میں جشن کا سماں ہے، شہری سڑکوں‌پر نکل آئے اور جشن منار ہے ہیں، طُلبہ اپنے خاندان والوں کے ساتھ سڑکوں پر جشن منا رہے ہیں،بنگالی اپنی فتح کی خوشی میں سجدہ ریز ہوگئے ،احتجاج کرنے والی عوام کو دہشت گردی اور غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے والی شیخ حسینہ واجد بطور وزیراعظم بھارت فرار ہونے سے قبل اپنا آخری خطاب بھی ریکارڈ نہ کراسکی ۔

    بنگلہ دیش میں عبوری حکومت بنائی جائےگی،بنگلہ آرمی چیف
    بنگلہ دیشی آرمی چیف وقار الزمان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنگلہ دیش میں عبوری حکومت بنائی جائےگی،عوام فوج پر یقین رکھیں ،بنگلہ دیشی آرمی چیف وقارالزماں نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی اور کہا کہ صورتحال کو بہتر کر رہے ہیں،مظاہرین کے تمام مطالبات پو رے کیے جائیں گے ،عوام پُرتشدد واقعات سے دوررہیں ،اپنے ملک میں امن واپس لائیں گے،مل کر مسائل کا حل نکالیں گے ،مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تحقیقات کریں گے،عبوری حکومت کےقیام کیلئے بات چیت جاری ہے ،عوامی لیگ کے سوا تمام سیاسی جماعتوں سے بات چیت ہوئی ہے، ملک میں کرفیو یا ایمرجنسی کی کوئی ضرورت نہیں اور آج رات تک مسائل کا حل تلاش کرلیں گے۔

    بنگلہ دیش میں ہزاروں مظاہرین نے آج وزیر اعظم شیخ حسینہ کی سرکاری رہائش گاہ پر دھاوا بولا جس کے بعد دارالحکومت میں شدید افراتفری مچ گئی،صورتحال پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کے لیے بڑی تعداد میں سیکیورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا تھا تاہم سوشل نیٹ ورکس پر پوسٹ کی گئی تصاویر اور ویڈیوز میں مظاہرین کے رہائش گاہ کے محفوظ علاقوں میں داخل ہونے کے ساتھ بدنظمی کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ حکام نے ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ آیا کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے یا زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

    شیخ حسینہ کی حکومت، جو 2009 سے برسراقتدار ہے، اس کے طرز حکمرانی پر اکثر تنقید کی جاتی رہی ہے، لیکن یہ واقعہ ان کی انتظامیہ کے خلاف عوامی مظاہروں میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کار اس کشیدگی کے نتائج کے بارے میں فکر مند ہیں اور اس سے ملک کے سیاسی استحکام پر کیا اثر پڑ سکتا ہے،اس وقت صورتحال کشیدہ ہے اور عالمی برادری بحران کے ارتقاء پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

    بنگلہ دیش میں کرفیو نافذ ہے،مظاہرین نے کریک ڈاؤن اور کرفیو توڑتے ہوئے ڈھاکا کی جانب مارچ کی کال دی ہوئی ہے،بنگلہ دیش میں گزشتہ روز پرتشدد مظاہروں میں 100کے قریب افراد جاں بحق ہوئے تھے،اس سے قبل ہنگاموں میں 200 سے زائد ہلاکتیں ہوئی تھیں، پرتشدد مظاہروں کے بعد بنگلہ دیش کے آرمی چیف جنرل وقار الزمان نے مسلح افواج کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی حالت میں عوام کی جان و مال اور اہم ریاستی اداروں کے تحفظ کو یقینی بنائیں، فوج عوام کے اعتماد کی علامت ہے اور اسے ٹھیس نہیں پہنچائیں گے۔ ہم ہمیشہ اپنے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں،ہماری افواج عوام کی حفاظت کی خاطر اور ریاست کی کسی بھی ضرورت کے لیے مستعد اور مکمل طور پر تیار ہیں،انہوں نے افسران کو سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں سے باخبر رہنے کے لیے رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ہر ڈپارٹمنٹ اپنے فرائض ایمانداری اور خلوص نیت سے ادا کریں۔

    بنگلہ دیش کی فوج نے آج ہندوستانی چنگل کے خلاف ایکشن لیا
    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر "مارخور”نامی صارف نے کہا کہ بنگلہ دیش کی فوج نے آج ہندوستانی چنگل کے خلاف ایکشن لیا ہے۔ یاد رہے کہ حسینہ واجد حکومت کی بھارت نوازی بنگلہ دیش کے فوجیوں پر بہت گراں تھی۔ جہاں بھی مارخور کی ملاقات ہوئی بنگلہ دیش کے فوجی حسینہ واجد اور بھارت کے خلاف نفرت سے بھرے ہوئے پائے گئے۔

    آج بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کو ملک چھوڑ کر بھارت جانا پڑا یقیناً حسینہ واجد کا دور نفرت، انتشار، بد ترین سیاسی بدلے لینے سے بھرپور دور تھا جس میں بنگلادیشی عوام کو پاکستان مخالف زہر آلود بیانیے پر مجبور کیا گیا اور ماضی میں پاکستان کے حلیفوں کو چن چن کر مارا گیا ،اِس کے علاوہ ۱۹۷۱کے بعد سے حسینہ واجد اور اسکے والد کی مسلسل بھارت نواز اور پاکستان مخالف پالیسیوں کا عوام نے آج حسینہ واجد سے بدلہ لے لیا کیونکہ جھوٹ اور فریب پر مبنی بیانیے کو لا محدود وقت تک نہیں چلایا جا سکتا،آج وہی فاشسٹ وزیر اعظم جس نے پاکستان دشمنی اور بھارت نوازی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی آج اُسے اپنا اقتدار چھوڑ کر اپنے من پسند ملک بھارت روانہ ہونا پڑا .پہنچی وہیں پے خاک جہاں کا خمیر تھا

    حسینہ واجد کی رہائشگاہ سے شہریوں نے سامان مال غنیمت سمجھ کر لوٹ لیا، بیڈروم میں بھی گھس گئے
    بنگلہ دیش میں شہریوں نے حسینہ واجد کی رہائش گاہ پر ہلہ بولا اور جو کچھ سامنے آیا مال غنیمت سمجھ کر لوٹ لیا، کچھ تصاویر اور ویڈیو سامنے آئی ہیں جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شہری حسینہ واجد کے گھر میں گھسے اور چیزیں اٹھا کر نعرے لگاتے ہوئے باہر آئے،بنگلہ دیش کے شہری حسینہ واجد کے ذاتی بیڈ روم میں گھسے تو وہیں سوئمنگ پول میں نہاتے ہوئے بھی نظر آئے.مظاہرین نے ڈھاکا میں بنگلا دیش کے بانی اور شیخ حسینہ کے والد شیخ مجیب الرحمان کے مجسموں کو بھی نقصان پہنچایا،سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دارالحکومت ڈھاکا میں مشتعل مظاہرین شیخ مجیب کے مجسموں کو توڑ رہے ہیں

    بنگلہ دیش،پاکستانی طلبا پھنس گئے، والدین کی وزیراعظم سے اپیل

    بنگلہ دیش: 105 افراد کی ہلاکت کے بعد کرفیو نافذ، فوج طلب کرلی گئی

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے بھی پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کی مذمت کی ہے،

     بنگلہ دیش میں یونیورسٹیوں کو غیر معینہ مدت کے لئے مدت کر دیا گیا 

  • مشرق وسطیٰ کشیدگی،کئی ممالک کااپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے کی ہدایت

    مشرق وسطیٰ کشیدگی،کئی ممالک کااپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے کی ہدایت

    مشرق وسطیٰ ميں کشيدگی کم کرنے کی علاقائی و عالمی کوششیں جاری ہیں،اردن کے وزير خارجہ ايران کا دورہ کر رہے ہيں تاکہ ايران کو اسرائيل کے خلاف کسی ممکنہ کارروائی سے روکا جا سکے۔ دوسری جانب امريکہ اور کئی عرب ممالک بھی اس وقت کشیدگی میں کمی کے لیے متحرک ہیں۔

    امریکا کا کہنا ہے کہمشرق وسطیٰ میں فوجی اقدامات کا مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا ہے،وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی نیشنل سکیورٹی کے ایڈوائزر جوناتھن فنر نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں فوجی اقدامات کا مقصد حملوں کو روکنا، دفاع کرنا اور علاقائی تنازعات سے بچنا ہے، امریکا اور اسرائیل ہر ممکن تیاری کر رہے ہیں، اپریل میں علاقائی تصادم کا امکان بہت قریب پہنچ گیا تھا، امریکا چاہتا ہے دوبارہ ایسی صورت پیدا ہوتی ہے تو اس کیلئے تیاری کی جائے۔

    مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کی وجہ سے امریکہ، برطانیہ،جاپان، اٹلی اور ترکیہ سمیت کئی ممالک نے لبنان کے لیے سفری ایڈوائزری جاری کی ہے اور اپنے شہریوں کو لبنان کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے،اطالوی وزیر خارجہ نے اپنے شہریوں کو لبنان کے جنوبی حصے کا سفر نہ کرنے کی ہدایت بھی کی ہے،ترک وزارت خارجہ نے اپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے اور لبنان کے کشیدگی والے علاقوں کا سفر کرنے سے گریز کی ہدایت کی ہے، جاپان نے بھی اپنے شہریوں کو فوری لبنان چھوڑنے کی ہدایت کر دی،جاپانی وزارت خارجہ نے ٹریول الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو لبنان چھوڑنے پر زور دیا ہے، امریکا،برطانیہ،سوڈان، اردن بھی اپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے کا کہہ چکے ہیں،لبنان میں امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ امریکی شہری فوری طور پر کسی بھی میسر ایئرلائن سے واپسی کر لیں،دوسری جانب کینیڈا نے اپنے شہریوں کو اسرائیل کا سفر کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، فرانس نے بھی اپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے کی ہدایت کی اور کہا کہ مشرق وسطیٰ میں فوجی کشیدگی کے خطرے کے پیش نظر فرانسیسی شہری لبنان کا سفر نہ کریں۔

    عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق لبنان میں گاڑی پر فضائی حملے میں حزب اللّٰہ کے اہم کمانڈر علی عبد علی شہید ہوگئے، جواب میں حزب اللّٰہ نے اسرائیلی اہداف کو راکٹوں اور توپوں سے نشانہ بنایا۔

    دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے خبردار کیا ہے کہ ایران اور حزب اللہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف حملہ آج ہو سکتا ہے،اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران کی جانب سے حملے کے پیشں نظر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ایران پر قبل از وقت حملے کی منظوری دے سکتے ہیں،اسرائیل نے بھی ایران پر جوابی حملے کے لیے تیاری مکمل کرلی ہے،یہ تیاری اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے بلائی گئی میٹنگ کے بعد کی گئی ہے، جس میں اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان کے علاوہ وزیر دفاع یوو گیلنٹ اور آئی ڈی ایف کے چیف آف اسٹاف ہرزی حلوی نے بھی شرکت کی تھی۔

    واضح رہے کہ اسرائیلی میڈیا کے علاوہ امریکی ویب سائٹ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ تہران اور بیروت میں اسرائیلی حملوں کا جواب ایران آج دے سکتا ہے،امریکی اور اسرائیلی عہدیداروں کے حوالے سے امریکی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ ایران اور اس کی پراکسیز پیر تک اسرائیل پر حملہ کرسکتے ہیں، جو 13 اپریل جیسا لیکن پہلے سے زیادہ وسیع پیمانے پر ہوگا، اس حملے میں ایران لبنان سے حزب اللہ کو بھی اپنے ساتھ شامل کرسکتا ہے

    مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان کئی ایئر لائن نے تل ابیب جانے والی اپنی تمام پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ منسوخی سے سینکڑوں اسرائیلی پھنسے ہوئے ہیں اور اس نے خطے میں پروازوں کی حفاظت اور حفاظت کے بارے میں خدشات کو جنم دیا ہے۔ امریکہ مشرق وسطیٰ میں اضافی لڑاکا طیارے بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ ایران اور اس کے پراکسیوں کے متوقع حملوں کا مقابلہ کرنے میں اسرائیل کی مدد کی جا سکے۔ صدر بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ایک تناؤ بھرا فون کیا، جس میں ان پر زور دیا کہ وہ مزید کشیدگی سے گریز کریں اور غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کے معاہدے پر عمل کریں۔

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

    واضح رہے کہ اسماعیل ہنیہ، جو ایران میں ایک حملے میں شہید ہوئے، کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دفن کیا گیا۔ ان کی نمازِ جنازہ میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمد، حماس کے سابق رہنما خالد مشعل، اسماعیل ہنیہ کے بیٹے، اور فلسطینی تنظیموں کے اعلیٰ رہنماؤں نے شرکت کی۔ پاکستان سے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے بھی نماز جنازہ میں شرکت کی، اسماعیل ہنیہ کو دوحہ کے لوسیل قبرستان میں علامہ یوسف القرضاوی کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔ ان کی وفات نے عالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، اور ان کے جنازے میں شرکت کرنے والے لوگوں کی تعداد نے ان کے عالمی مقام اور فلسطین کی جدوجہد میں ان کے کردار کو اجاگر کیا۔

    حافظ نعیم الرحمان کی اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں سے ملاقات، تعزیت کا اظہار

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت،عمران خان کی پراسرار خاموشی،56 گھنٹے بعد دیا ردعمل

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات

    مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ

  • بنگلہ دیش،طلبا کی سول نافرمانی تحریک،100 ہلاکتیں،ہزاروں گرفتار

    بنگلہ دیش،طلبا کی سول نافرمانی تحریک،100 ہلاکتیں،ہزاروں گرفتار

    بنگلہ دیش میں کوٹی سسٹم مخالف طلبا کی جانب سے سول نافرمانی تحریک کے اعلان کے بعد ہونے والے پرتشدد احتجاج میں ہلاکتوں کی تعداد 100 ہو گئی ہے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش میں سول نافرمانی کی تحریک چلانے والے طلبا نے بنگلہ وزیراعظم حسینہ واجد سے مستعفی‌ہونے کا مطالبہ کیا ہے اور سخت ترین کرفیو ہونے کے باوجود ڈھاکہ کی طرف مارچ کا اعلان کیا ہے،طلباکے ساتھ جھڑپوں میں اب تک 100 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، ڈاکٹرز اور پولیس نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے،پولیس اور مظاہرین کے درمیان تازہ جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں پولیس نے آنسو گیس اور دیگر ہلکے ہتھیاروں کا استعمال کیا جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں، حکام نے کرفیو والے علاقوں میں انٹرنیٹ بھی بند کردیا ہے اور ایک ہفتے میں کم ازکم 11 ہزار افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے

    اتوار کے روز دارالحکومت ڈھاکا اور شمالی اضلاع میں ہلاکتیں ہوئیں جب کہ پولیس حکام کا بتانا ہےکہ مظاہرین نے سراج گنج کے علاقے میں پولیس پر بھی حملہ کیا کوٹہ سسٹم کے خلاف جولائی سے شروع ہونے والے احتجاج میں پرتشدد واقعات کے نتیجے میں اب تک سینکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں

    ملکی صورتحال پر بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد کا کہنا ہے کہ جو لوگ احتجاج کے نام پر یہ سب تباہی کررہے ہیں وہ طالب علم نہیں جرائم پیشہ افراد ہیں، عوام کو ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا چاہیے ،

    بھارت کا پڑوسی ملک شیخ حسینہ حکومت کے استعفے کے مطالبے پر بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ جب حکمران عوامی لیگ نے بنگلہ دیش میں استحکام بحال کرنے کے لیے مظاہرین کو دبانے کی کوشش کی تو پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جس میں ایک کے بعد ایک ہلاکتیں ہوئیں۔ بنگلہ دیش میں آخری اطلاعات تک 100 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مرنے والوں میں 14 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ اتوار کو مرنے والوں کی تعداد 98 سے بڑھ کر پیر کی صبح 100 سے زیادہ ہو گئی۔ کئی زخمی بھی ہوئے۔

    مظاہروں کو روکنے کے لیے پیر سے بدھ تک ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ عوامی حکومت نے کہا کہ یہ فیصلہ ملک کے عوام کے تحفظ کے لیے ہے۔طلبہ کی اس تحریک کو ’’مارچ ٹو ڈھاکہ‘‘ کا نام دیا گیا۔ ان کا واحد مطالبہ شیخ حسینہ حکومت کا استعفیٰ ہے۔اتفاق سے بنگلہ دیش یونیورسٹی ٹیچرز یونین بھی شیخ حسینہ حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرے گی۔ یونیورسٹی ٹیچرز یونین کا مطالبہ ہے کہ شیخ حسینہ کی حکومت مستعفی ہو کر ذمہ داری داخلی حکومت کو سونپے۔

    دوسری جانب بنگلہ دیش میں امن وامان کی ابتر صورتحال کے حوالے سے بنگلادیش میں پاکستانی ہائی کمشنر سید احمد معروف کا کہنا ہے کہ بدلتی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، پاکستانی شہریوں کی حفاظت ہمارا اولین فرض ہے، اپنے شہریوں خصوصاً زیر تعلیم طلبہ سے مسلسل رابطے میں ہیں، ہائی کمیشن کے حکام بنگلا دیش کی انتظامیہ سے بھی رابطے میں ہیں، بدلتی صورتحال سے طلبہ و طالبات کو بھی مسلسل آگاہ رکھا جارہا ہے، صورتحال خراب ہونا شروع ہوئی تو طلبا کو فوری ہائی کمیشن پہنچنےکا کہا ہےجو طلبہ ہائی کمیشن نہیں پہنچ سکے ان کے ساتھ ٹیلیفون پر رابطہ ہے، پاکستانی طلبہ سے کہا ہےکہ اپنے کمروں تک محدود رہیں، پاکستانی طلبہ موجودہ صورتحال سے اپنے آپ کو الگ رکھیں بنگلہ دیش میں زیر تعلیم 144 طلبہ میں سے ایک تہائی پہلے ہی وطن واپس پہنچ چکے ہیں،

    بنگلہ دیش،پاکستانی طلبا پھنس گئے، والدین کی وزیراعظم سے اپیل

    بنگلہ دیش: 105 افراد کی ہلاکت کے بعد کرفیو نافذ، فوج طلب کرلی گئی

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے بھی پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کی مذمت کی ہے،

     بنگلہ دیش میں یونیورسٹیوں کو غیر معینہ مدت کے لئے مدت کر دیا گیا 

  • سعودی عرب کا انقلابی قدم: حج انتظامات میں مصنوعی ذہانت کی شمولیت

    سعودی عرب کا انقلابی قدم: حج انتظامات میں مصنوعی ذہانت کی شمولیت

    ریاض: سعودی عرب نے حج کے دوران حفاظتی انتظامات کو مزید بہتر بنانے اور غیر رجسٹرڈ حاجیوں کا پتہ لگانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ اس میں مصنوعی ذہانت سے لیس کیمروں کا استعمال بھی شامل ہے۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، وزارت داخلہ کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹ نے کوٹ ڈی آئیور کے عابد جان ہوائی اڈے سے آنے والے عازمین حج کے لیے حج کے طریقہ کار کو تیز اور آسان بنانے کے لیے اس ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کیا ہے۔

    یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا ہے جب حالیہ حج سیزن کے دوران مکہ مکرمہ اور دیگر مقدس مقامات پر شدید گرمی کی وجہ سے سینکڑوں عازمین حج کی اموات ہوئیں۔ اس صورتحال نے سعودی حکام کو حج کے انتظامات پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کیا۔نئے نظام کی اہم خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ اسمارٹ کیمرے جدید الگورتھم سے لیس ہیں۔ یہ کیمرے حقیقی وقت میں ویڈیو فیڈز کا تجزیہ کر کے ایسے افراد کی شناخت کر سکیں گے جنہوں نے حج کے لیے باضابطہ رجسٹریشن نہیں کروائی ہے۔

    اس ٹیکنالوجی کا مقصد غیر قانونی زائرین کا پتہ لگانا اور خطرناک حد تک ہجوم کو روکنا ہے۔ یہ نظام حکام کو بہتر انتظامات کرنے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے میں مدد فراہم کرے گا۔سعودی وزارت حج و عمرہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ "ہمارا مقصد ہر حاجی کو محفوظ اور پرسکون ماحول فراہم کرنا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی ہمیں اس مقصد کے حصول میں مدد دے گی۔”تاہم، اس نظام کے استعمال پر کچھ تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ پرائیویسی کے حامی گروپوں کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ذاتی آزادی کو محدود کر سکتی ہے۔ سعودی حکام نے اس تشویش کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نظام صرف حفاظتی مقاصد کے لیے استعمال ہوگا۔

    مسلم دنیا کے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اقدام حج کے انتظامات میں ایک نیا باب ثابت ہو سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ نظام کامیاب رہا تو دوسرے مسلم ممالک بھی اپنے مذہبی تہواروں کے دوران اسی طرح کی ٹیکنالوجی استعمال کر سکتے ہیں۔سعودی عرب کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ ملک اپنے مذہبی سیاحتی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ ویژن 2030 کے تحت سیاحت کے فروغ کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ یہ نیا نظام کتنا مؤثر ثابت ہوتا ہے اور کیا یہ واقعی حج کے دوران حفاظتی خدشات کو کم کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔

  • برطانیہ میں نسل پرستی کی لہر: اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ

    برطانیہ میں نسل پرستی کی لہر: اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ

    لندن: برطانیہ میں حالیہ دنوں میں نسل پرستی کی ایک نئی لہر دیکھنے میں آئی ہے، جس میں سفید فام انتہا پسند گروہوں کی جانب سے ایشیائی اور افریقی نژاد شہریوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ واقعات برطانوی معاشرے میں موجود نسلی تناؤ اور عدم برداشت کو ظاہر کرتے ہیں .برطانوی پولیس نے اس صورتحال کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ حکام کے مطابق، اب تک 250 سے زائد مشتبہ حملہ آوروں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ 500 سے زائد افراد کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا اشارہ ہیں کہ یہ حملے منظم اور وسیع پیمانے پر ہو رہے ہیں۔ان حملوں کے پیچھے انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کا ہاتھ بتایا جا رہا ہے۔ یہ گروہ اکثر سفید فام برتری کے نظریات کی حمایت کرتے ہیں اور اقلیتوں کو اپنے ملک کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ ان کی سرگرمیوں نے خاص طور پر برطانوی مسلمانوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔

    متاثرہ کمیونٹیز:
    ایشیائی اور سیاہ فام برطانوی شہری ان حملوں کا خاص نشانہ بن رہے ہیں۔ کئی افراد نے اپنی روزمرہ کی زندگی میں خوف محسوس کرنا شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں وہ اپنے گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کر رہے ہیں۔ مساجد اور کمیونٹی سنٹرز جیسی جگہوں پر سیکیورٹی میں اضافہ کیا گیا ہے۔برطانوی حکومت نے ان واقعات کی شدید مذمت کی ہے اور وعدہ کیا ہے کہ نسل پرستی اور نفرت پر مبنی جرائم کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ ملک میں ہر شہری کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔مختلف نسلی و مذہبی کمیونٹیز کے رہنما امن و امان کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔ وہ پرامن مظاہرے اور آگاہی مہمات چلا رہے ہیں تاکہ معاشرے میں ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔
    ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ان حملوں کو فوری طور پر روکا نہ گیا تو یہ برطانوی معاشرے میں مزید تقسیم کا باعث بن سکتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نسلی مساوات اور سماجی انضمام کے لیے طویل مدتی حکمت عملی وضع کی جائے۔اس صورتحال نے برطانیہ کے بین الاقوامی امیج کو بھی متاثر کیا ہے، جو روایتی طور پر ایک کثیر الثقافتی اور برداشت کے حامل معاشرے کے طور پر جانا جاتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ برطانوی حکومت اور معاشرہ اس چیلنج سے کیسے نمٹتا ہے۔

  • امریکا میں صدارتی انتخابات:   ٹرمپ نے ایک بار پھر کملا ہیرس کے ساتھ مباحثے میں شرکت سے انکار کر دیا

    امریکا میں صدارتی انتخابات: ٹرمپ نے ایک بار پھر کملا ہیرس کے ساتھ مباحثے میں شرکت سے انکار کر دیا

    امریکا میں صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر نائب صدر کملا ہیرس کے ساتھ مباحثے سے راہ فرار اختیار کر لی ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کملا ہیرس کے بائیڈن کی جگہ لینے سے اے بی سی پر مباحثہ تمام ہو گیا ہے اور مزید کسی بھی مباحثہ کی ضرورت نہیں رہی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کملا ہیرس کے موجودہ پوزیشن کے تحت مباحثے کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی اور اس وجہ سے وہ اس میں حصہ لینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ ٹرمپ نے اے بی سی نیوز کے خلاف ہتک عزت کے مقدمے کو جواز بنانے کی کوشش کی اور کہا کہ اس کی وجہ سے وہ مباحثے میں شامل نہیں ہو سکتے۔
    خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن کے درمیان ستمبر میں اے بی سی نیوز پر مباحثہ ہونا تھا۔ تاہم، ٹرمپ کی جانب سے مباحثے سے انکار اور ہتک عزت کے مقدمے کو جواز بنانے کی کوشش نے اس مباحثے کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔دوسری جانب، کملا ہیرس نے ٹرمپ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "ڈونلڈ ٹرمپ، اُمید ہے کہ تم نظر ثانی کرو گے اور مباحثے کے سٹیج پر مجھ سے ملو گے۔ اگر کہنے کیلئے کچھ ہے تو تم ضرور آؤ گے۔ تم نے خوفزدہ ہو کر مباحثے سے دوڑ لگائی ہے۔” کملا ہیرس نے مزید کہا کہ عوام کے سامنے اپنی پالیسیوں اور نظریات کا دفاع کرنے سے راہ فرار اختیار کرنا عوام کی خدمت نہیں بلکہ ان کے ساتھ دھوکہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹرمپ کے پاس کہنے کے لئے کچھ ہے تو انہیں سامنے آ کر بات کرنی چاہیے۔صدارتی انتخابات کے قریب آتے ہی یہ معاملہ سیاسی منظرنامے پر ایک اہم موضوع بن گیا ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ کیا ٹرمپ اپنے فیصلے پر قائم رہتے ہیں یا کملا ہیرس کے چیلنج کا سامنا کرتے ہیں۔ عوام اور سیاسی تجزیہ کار دونوں ہی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور آئندہ چند دنوں میں اس حوالے سے مزید پیش رفت کا انتظار کر رہے ہیں۔

  • برطانیہ میں دوبارہ ہنگامہ: فاشسٹ گروپوں کی جانب سے عمارتوں کو نذر آتش ، لوٹ مار کی گئی

    برطانیہ میں دوبارہ ہنگامہ: فاشسٹ گروپوں کی جانب سے عمارتوں کو نذر آتش ، لوٹ مار کی گئی

    گزشتہ رات برطانیہ میں ایک بار پھر شدید افراتفری اور تشویش ناک ہنگاموں کا سامنا کرنا پڑا جب دائیں بازو کے گروپوں نے سڑکوں پر نکل کر عمارتوں کو آگ لگا دی اور دکانوں کو لوٹ لیا۔ لِورپول، ہل، مانچسٹر اور بیلفاسٹ کی سڑکوں پر ایک بار پھر انارکی کا راج قائم ہوا، جبکہ پولیس فورسز ملک بھر میں آج رات مزید بدمعاشی کے لیے تیار ہیں۔مَرسی سائیڈ پر ایک کمیونٹی لائبریری، جو کہ چند ماہ کی فنڈ ریزنگ کے بعد پچھلے سال کھولی گئی تھی، کو آگ لگا دی گئی۔ 300 سے زیادہ افراد کے ایک علاقے میں نکلنے کے بعد، فائر فائٹرز نے اسپیلوس لین لائبریری ہب کی آگ بجھانے کی کوشش کی جو کہ ایک فوڈ بینک کے طور پر بھی کام کرتی ہے۔ ہنگامہ آرائی کرنے والوں نے فائر انجین پر مِسل پھینک دیا اور ایک قریبی کیب کی پچھلی کھڑکی توڑ دی۔

    آج صبح کی تصاویر میں لائبریری کے جلتے ہوئے اندرونی حصے کو دکھایا گیا ہے، جہاں کتابوں کی الماریاں الٹی ہوئی ہیں اور کمپیوٹرز کے ارد گرد شیشے بکھرے ہوئے ہیں۔ ایک پولیس افسر کو اس کے موٹر سائیکل سے دھکا دے کر گرا دیا گیا جبکہ دوسرے افسر کو تشویش ناک حالت میں دیکھ بھال کی گئی۔اسی دوران، لوٹ مار کرنے والوں نے تشویش ناک صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مقامی دکانوں سے فونز، جوتے اور شراب چوری کر لی۔ ہِل میں، شو زون کے شیشے ٹوٹے ہوئے نظر آئے اور دکان کے اندر آگ لگی ہوئی تھی۔ ملوث افراد سڑک کے کنارے کروکس کا تبادلہ کرتے ہوئے نظر آئے جبکہ انتشار بڑھتا گیا۔ بیلفاسٹ میں، دکانوں کو بے شرمی سے آگ لگا دی گئی اور تباہ کر دیا گیا، ایک کیفے کے باہر تصاویر میں نوجوانوں کو بینچوں کو زمین پر توڑتے ہوئے دکھایا گیا۔یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب ملک ایک ہفتے سے تشویش ناک ہنگاموں میں گھرا ہوا ہے، جس کی ابتداء جنوبی پورٹ کے ٹیلر سوئفٹ تھیمڈ ڈانس پارٹی میں چھوٹے بچوں کی ہلاکتوں کے بعد ہوئی تھی۔