Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • افغانستان،سیلاب سے 40 ہلاکتیں،1500 بچے بے گھر

    افغانستان،سیلاب سے 40 ہلاکتیں،1500 بچے بے گھر

    افغانستان کے مشرقی صوبوں میں مون سون بارشوں اور طوفان کی وجہ سے سیلاب نے تباہی مچا دی ہے، ننگرہار صوبے میں سیلاب اور طوفان سے 40 افراد ہلاک 450 شدید زخمی ہیں،سیو دی چلڈرن کے مطابق، مشرقی افغانستان میں حالیہ سیلاب سے کم از کم 1500 بچے بے گھر ہو گئے ہیں۔

    افغانستان کے صوبے ننگرہار کے مختلف اضلاع میں اس وقت سیلابی صورتحال کا سامنا ہے،سیو دی چلڈرن نے کہا ہے کہ حالیہ طوفانوں اور شدید بارشوں سے متاثرہ ننگرہار، کنڑ اور لغمان صوبوں کے اضلاع میں کم از کم 850,000 بچے رہتے ہیں۔ایجنسی کے مطابق سیلاب کے بعد کم از کم 1500 بچے بے گھر ہوئے ہیں،صوبہ ننگرہار میں کم از کم 400 گھر تباہ ہوئے ہیںَ،حالیہ مہینوں میں افغانستان میں اس قسم کے واقعات سے خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

    افغان میڈیا کے مطابق سیلاب کے باعث لوگوں کے مال مویشی کو بھی نقصان پہنچا ہے جب کہ کچھ دیہات مکمل طور پر سیلاب میں بہہ گئے ہیں۔

    طالبان حکام کا کہنا ہے کہ ننگرہار میں سیلاب سے ہونے والی اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔طالبان کی وزارت صحت کے ترجمان شرافت زمان نے کہا کہ سیلاب اور طوفان نے لوگوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے ننگرہار کا ضلع سورخرود سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔طوفان سے بجلی کی لائنیں اور ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورک تباہ ہو رہے ہیں۔ایک واقعے میں ضلع سورخرود میں مکان کی چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے 11 افراد جاں بحق ہوگئے۔لغمان، کنڑ، پنجشیر اور بدخشاں صوبوں میں بھی سیلاب آیا۔ کنڑ میں سیلاب سے پانچ افراد جاں بحق ہو گئے۔موسمیاتی تبدیلی، خشک سالی اور شدید بارشوں نے کئی صوبوں میں تباہ کن سیلابوں کو جنم دیا ہے۔ اقوام متحدہ نے مئی میں کہا تھا کہ بغلان میں سیلاب سے کم از کم 60,000 افراد متاثر ہوئے ہیں۔

  • ٹرمپ پر حملہ،ایران پر الزام لگ گیا،ایران کی تردید

    ٹرمپ پر حملہ،ایران پر الزام لگ گیا،ایران کی تردید

    امریکہ نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کا الزام مبینہ طور پر ایران پر لگا دیا، ایران نے جواب میں کہا کہ ایران ملوث نہیں، ایسی اوچھی حرکت نہیں کرسکتے،

    امریکی حکام نے ٹرمپ پر حملے کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ ایک خفیہ ذرائع نے اطلاع دی تھی کہ ایران سابق امریکی صدر ٹرمپ کو قتل کروانے کی سازش کر سکتا ہے، خبر رساں ادارے سی این این کے مطابق امریکی حکام کو یہ رپورٹ کافی دن پہلے ملی تھی جس کے بعد ٹرمپ کی سیکورٹی میں اضافہ کر دیا گیا تھا، خبر رساں ادارے سی این این کے مطابق حملہ آور تھامس اور ایرانی سازش کے مابین تاحال ابھی تک کوئی لنک نہیں مل سکا،حملہ آور کو سیکرٹ سروس حکام نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر ہی مار دیا تھا

    امریکی حکام کی جانب سے ایران پر الزام کے بعد ایرانی ردعمل سامنے آیا ہے، ایران نے امریکی دعوے کو مسترد کر دیا، اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایران کی نظر میں ٹرمپ ایک مجرم ہیں جن پر مقدمہ چلایا جانا چاہیے کیونکہ انہوں نے جنرل سلیمانی کے قتل کا حکم دیا تھا ایران نے اس معاملے میں انصاف کے لیے قانون کا راستہ منتخب کیا ہے،سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری 2020 میں ایرانی جنرل سلیمانی کے قتل کا حکم دیا تھا،امریکی حکام کو یہ خدشہ لاحق رہا ہے کہ جنرل سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے ایران سابق امریکی صدر پر حملہ کرواسکتا ہے

    امریکا کی قومی سلامتی کے ادارے کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ پنسلوانیہ میں ٹرمپ پر حملے سے قبل سیکریٹ سروس اور ٹرمپ کی الیکشن ٹیم کو ٹرمپ کے قتل کے ایرانی منصوبے کے بارے میں معلوم ہوچکا تھاجس کے بعد ٹرمپ کی سیکورٹی بڑھا دی گئی تھی،

    سی این این کے مطابق ٹرمپ کو انتخابی مہم کے دوران کئی بار متنبہ کیا گیا تھا کہ ریلیوں میں جانا ان کے لئے خطرہ ہو سکتا ہے،سیکرٹ سروس کے ترجمان انتھونی گگلیلمی نے سی این این کو بتایا کہ ایجنسی نے حال ہی میں "سابق صدر کے سیکورٹی انتظامات کو بڑھایا تھا۔”

    امریکہ کی سیکرٹ سروس حالیہ دنوں میں اس وقت شدید تنقید کی زد میں ہے ،کیونکہ ریلی میں بندوق بردار نے بغیر کسی رکاوٹ کے چھت تک رسائی حاصل کی اور ٹرمپ پر براہ راست فائرنگ کی،

    قانون نافذ کرنے والے حکام طویل عرصے سے سابق صدر کو نقصان پہنچانے کے ایرانی منصوبوں کے امکان کے بارے میں فکر مند تھے، حال ہی میں انٹیلی جنس نے بڑھتے ہوئے خطرے کا اشارہ کیا تھا،ذرائع کے مطابق ایران کے سرکاری میڈیا اور آن لائن اکاؤنٹس میں ٹرمپ کے تذکرے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس سے امریکی حکام میں تشویش پائی جاتی ہے۔

    ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے دیگر سابق اعلیٰ حکام کو بھی تحفظ حاصل ہے۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد سے، بائیڈن انتظامیہ نے ایران سے ان کی جانوں کو لاحق خطرات کے پیش نظر سابق سیکرٹری آف سٹیٹ مائیک پومپیو اور ان کے اعلیٰ ایرانی معاون برائن ہک کو 24/7 تحفظ فراہم کیا ہے۔

    اوہائیو،ریپبلکن نیشنل کنونشن کے باہر فائرنگ سےچاقو بردار شخص ہلاک

    سری لنکن کپتان مستعفی،ہمارے والے اب بھی لابنگ میں مصروف

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

    کرکٹ میں سٹے بازی اور سپاٹ فکسنگ،پاک بھارت میچ میں‌کتنے کا جوا؟

    لڑائی شروع،کیا ایمرجنسی لگ سکتی؟جمعہ پھر بھاری،کپتان جیت گیا

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

  • عمان،بحری جہاز ڈوب گیا،عملے میں 13 بھارتی افراد شامل

    عمان،بحری جہاز ڈوب گیا،عملے میں 13 بھارتی افراد شامل

    عمان میں یمن کی طرف جانے والا بحری جہاز ڈوب گیا، عملے کے 16 افراد میں سے 13 بھارتی تھے

    عمان کی میری ٹایم سیکورٹی سنٹر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یمن کی طرف جانے والاایک بحری جہاز عمان کے قریب سمندر میں ڈوب گیا ہے، جہاز پر عملے کے 16 ارکان سوا تھے جن میں سے 13 بھارتی اور 3 سری لنکن شہری تھے،جہاز پر تیل لدا ہوا تھا،جس کا نام پریسٹیج فالکن بتایا گیا ہے، جہاز ڈوبنے کے بعد سوار عملے کی تلاش جاری ہے تاحال عملے کے بارے کچھ پتہ نہ چل سکا

    عمان کے میری ٹائم سیکیورٹی سینٹر کے مطابق ڈوبنے والے بحری جہاز پر مشرقی افریقی ملک کوموروس کا جھنڈا بنا ہوا تھا،جہاز عمان کی مرکزی صنعتی دوقم بندرگاہ کے قریب ڈوب گیا تھا جس کے بعد مقامی حکام نے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا تاہم تازہ ترین معلومات کے مطابق ٹینکر میں سوار افراد کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل سکا.

  • ایمازون جنگلات کی کٹائی کے باعث ماشکو پیروقبیلے کے لوگ منظرِعام پر آنے لگے

    ایمازون جنگلات کی کٹائی کے باعث ماشکو پیروقبیلے کے لوگ منظرِعام پر آنے لگے

    جنوبی امریکا کے ملک پیرو کے ایمازون جنگلات میں ایک ایسا قبیلہ بھی رہتا ہے جس کا باقی دنیا سے کوئی رابطہ نہیں۔ حال ہی میں اس قبیلے کے کچھ افراد کو خوراک، ایندھن اور دواؤں کی تلاش میں دریا کے کنارے لکڑی کے حصول کے لیے درخت کاٹنے والوں (لاگرز) کے نزدیک دیکھا گیا ہے۔

    باقی دنیا سے تعلق نہ رکھنے والا یہ قبیلہ ماشکو پیرو کہلاتا ہے۔ جنگلات سے اِس قبیلے کے افراد کے باہر آنے کی خبر سروائول انٹرنیشنل نامی گروپ نے بریک کی ہے۔

    پیرو کے اصل باشندوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے گروپ فینامیڈ نے بتایا ہے کہ چند حالیہ ہفتوں کے دوران ماشکو پیرو کے لوگ جنگلات سے باہر آئے ہیں تاہم وہ لاگرز سے دور دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    ماشکو پیرو کے لوگوں کو جون کے اواخر میں برازیل سے ملحق پیرو کی سرحد کے نزدیک مادرے ڈی ڈایوز نامی علاقے میں ایک دریا کے کنارے دیکھا گیا تھا اور ان کی تصویریں بھی لی گئی تھیں۔ یہ پیرو کے جنوب مشرق کا علاقہ ہے۔ تصویریں سروائول انٹرنیشنل نے جاری کی ہیں۔ سروائول انٹرنیشنل کی ڈائریکٹر کیرولین پیئرس نے بتایا ہے کہ ماشکو پیرو قبیلے کے لوگ لاگرز سے صرف ایک کلومیٹر دور تک دیکھے گئے ہیں۔

    حال ہی میں ماشکو پیرو کے 50 سے زیادہ افراد یائن قبیلے کے لوگوں کے گاؤں مونٹے سلواڈو کے نزدیک دیکھے گئے ہیں۔ سروائول انٹرنیشنل نے بتایا کہ ماشکو پیرو کے 17 افراد کو ایک اور قریبی گاؤں پوئرٹو نیووو کے باہر دیکھا گیا۔

    ماشکو پیرو کے لوگ بالعموم اپنے آبائی علاقوں تک محدود رہتے ہیں۔ وہ یائن قبیلے کے لوگوں سے بھی بات کرنے کو ترجیح نہیں دیتے۔

    جن علاقوں میں ماشکو پیرو کے لوگ رہتے ہیں اُن میں کئی لاگنگ کمپنیوں کو درخت کاٹنے کی اجازت دی گئی ہے۔ جنگلات میں گرائے جانے والے درختوں کی منتقلی کے لیے ایک لاگنگ کمپنی کینالیز تاہومانو نے کم و بیش 200 کلومیٹر کی طوالت کی سڑکیں بھی بنوائی ہیں۔

    کینالیز تاہومانو کو فاریسٹ اسٹیوارڈ شپ کونسل کے ذریعے مادرے ڈی ڈایوز نامی علاقے مین ایک لاکھ 30 ہزار ایکٹر کے رقبے پر درخت کاٹنے کی اجازت دی گئی ہے۔

  • عمان،مسجد پر حملے ذمہ داری داعش نے قبول کر لی

    عمان،مسجد پر حملے ذمہ داری داعش نے قبول کر لی

    عمان،مسقط میں مسجد پر حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی ہے

    مسقط میں مسجد کے قریب فائرنگ سے 4 پاکستانی شہریوں سمیت چھ افراد کی موت ہوئی تھی، حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے،پولیس کے مطابق واقعہ مسقط کے علاقے وادی کبیر میں پیش آیا جہاں امام علی مسجد کے قریب مسلح ملزم نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، عمانی پولیس نے3 حملہ آوروں کو ہلاک کیا تھا،فائرنگ کے وقت مسجد میں تقریباً 700 افراد موجود تھے اور فائرنگ کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    پاکستان کی وزارت خارجہ نے اس سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ وزارت کے مطابق، پاکستانی سفارت خانے میں متاثرہ خاندانوں کی رہنمائی کے لیے ایک ہاٹ لائن قائم کی گئی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستانی سفارت خانے کو زخمیوں اور ان کے اہل خانہ کی ہر ممکن مدد کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے اس سانحے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کی ہر شکل کی مخالفت کرتا ہے۔

    اس واقعے کے بعد مسقط میں امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کے لیے الرٹ جاری کیا ہے اور آج کے لیے تمام ویزا سروسز معطل کر دی گئی ہیں۔عمانی حکام نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق، یہ حملہ نماز کے دوران کیا گیا، جس سے مسجد میں افراتفری پھیل گئی۔اس دہشت گرد حملے نے پورے خطے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ مختلف ممالک کے سربراہان نے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور عمان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ عالمی برادری اس طرح کے حملوں کو روکنے کے لیے مل کر کام کرنے پر زور دے رہی ہے۔

  • اوہائیو،ریپبلکن نیشنل کنونشن کے باہر فائرنگ سےچاقو بردار شخص ہلاک

    اوہائیو،ریپبلکن نیشنل کنونشن کے باہر فائرنگ سےچاقو بردار شخص ہلاک

    اوہائیو، ریپبلکن نیشنل کنونشن کے باہر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے، اس دوران ایک چاقو بردار شخص ہلاک ہو گیا ہے

    پولیس ڈیپارٹمنٹ کے 5 اہلکاروں نے چاقو بردار شخص پر فائرنگ کی، ترجمان پولیس کے مطابق چاقو بردار شخص کو وارننگ دی گئی، سرنڈر نہ کرنے پر فائرنگ کی،سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کنونشن میں موجود تھے،پولیس کے مطابق ملزم کے پاس دو چاقو تھے، اسے سرنڈر کرنے کا کہا گیا تھا لیکن اس نے سرنڈر نہیں کیا،

    ملواکی کے چیف جیفری نارمن نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ کولمبس، اوہائیو، پولیس ڈیپارٹمنٹ کے پانچ ارکان نے اس شخص پر گولی چلائی، جس کے دونوں ہاتھوں میں چاقو تھے ،پولیس نے باڈی کیمرہ فوٹیج جاری کی جس میں بائک پر سوار افسران کو بات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے،سنا جا سکتا ہے ایک کہہ رہا ہے کہ”اس کے پاس چاقو ہے۔”کئی افسران پھر چیختے ہیں "چاقو گراؤ!” جب وہ ایک گلی میں کھڑے دو آدمیوں کی طرف بھاگے۔ مسلح شخص جب غیر مسلح شخص کی طرف بڑھا تو پولیس نے اپنے ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔

    نارمن کا کہنا تھا کہ کسی کی جان خطرے میں تھی، "ان افسران نے، جو اس علاقے سے نہیں تھے، آج کسی کی جان بچانے کے لیے کام کرنے کا ذمہ لیا۔سوموار سے شروع ہونے والے اور جمعرات کو ختم ہونے والے کنونشن کے لیے ملواکی میں متعدد دائرہ اختیار کے ہزاروں افسران اضافی سیکیورٹی فراہم کر رہے ہیں۔

    چاقو بردار ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت 43 سالہ سیموئل شارپ کے طور پر کی گئی، ہلاک ہونے والے شخص کی کزن لنڈا شارپ پولیس پر برہم ہوئیں، انہوں نے کہا، "وہ ہماری کمیونٹی میں آئے اور ہمارے خاندان کو یہیں ایک پبلک پارک میں گولی مار دی۔” "تم ہمارے شہر میں کیا کر رہے ہو، لوگوں کو گولی مار رہے ہو؟”

    لنڈا شارپ نے بتایا کہ اس کا کزن کنگ پارک سے سڑک کے پار ایک خیمے کے کیمپ میں رہتا تھا، جہاں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔

    ملواکی کے سربراہ نارمن نے کہا کہ 13 افسران جو کولمبس سے سائیکل گشت کا حصہ تھے اپنے تفویض کردہ زون کے اندر ایک میٹنگ کر رہے تھے جب انہوں نے جھگڑا دیکھا۔افسران نے چاقو سے مسلح ایک شخص کو دیکھا، جو ایک اور غیر مسلح فرد کے ساتھ جھگڑے میں مصروف تھا۔ مسلح شخص کے متعدد احکامات کو نظر انداز کرنے اور غیر مسلح شخص کی طرف بڑھنے کے بعد ہی انہوں نے فائرنگ کی۔”یہ ایک ایسی صورت حال ہے جہاں کسی کی جان کو فوری خطرہ تھا۔”

    سری لنکن کپتان مستعفی،ہمارے والے اب بھی لابنگ میں مصروف

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

    کرکٹ میں سٹے بازی اور سپاٹ فکسنگ،پاک بھارت میچ میں‌کتنے کا جوا؟

    لڑائی شروع،کیا ایمرجنسی لگ سکتی؟جمعہ پھر بھاری،کپتان جیت گیا

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

  • امریکہ کا پاکستان کے ساتھ تعاون کا عزم، دہشت گردی سے مشترکہ مقابلہ پر زور

    امریکہ کا پاکستان کے ساتھ تعاون کا عزم، دہشت گردی سے مشترکہ مقابلہ پر زور

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے حالیہ بیان میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔ واشنگٹن میں منعقدہ پریس بریفنگ کے دوران، ملر نے کہا کہ پاکستانی عوام نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے باعث شدید نقصان اٹھایا ہے۔میتیھو ملر نے علاقائی سلامتی کے مسائل پر پاکستان کے ساتھ مشترکہ مفادات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے افغان طالبان پر زور دینے کی ضرورت پر بھی بات کی تاکہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گرد حملوں کو روکنے کی ذمہ داری لیں۔
    امریکی حکام نے پاکستان کو "قریبی پارٹنر” قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان وسیع تعاون کا ذکر کیا۔ خاص طور پر، ملر نے پاکستانی معیشت کی بہتری کے لیے جاری کوششوں کا حوالہ دیا، جس میں آئی ایم ایف کی امداد اور اقتصادی اصلاحات شامل ہیں۔یہ بیانات امریکہ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ مضبوط تعلقات کی خواہش کو ظاہر کرتے ہیں، خاص طور پر علاقائی سلامتی اور معاشی استحکام کے شعبوں میں۔ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی یہ تجدید خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اہم قدم سمجھی جا رہی ہے

  • صحافیوں کے قتل میں اضافہ،  عالمی تنظیم کا اظہار تشویش

    صحافیوں کے قتل میں اضافہ، عالمی تنظیم کا اظہار تشویش

    نیویارک: عالمی صحافتی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے پاکستان میں صحافیوں کے قتل میں حالیہ اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم نے پاکستانی حکومت سے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔سی پی جے کے پروگرام ڈائریکٹر کارلوس مارٹنیز نے ایک بیان میں کہا، "پاکستان میں صحافیوں کے خلاف تشدد کی یہ لہر انتہائی تشویشناک ہے۔ حکومت کو فوری طور پر اس صورتحال کو سنجیدگی سے لینا ہوگا اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔”تنظیم کے مطابق، رواں سال کے آغاز سے اب تک پاکستان میں سات صحافیوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔ حالیہ واقعہ 14 جولائی کو پیش آیا جب صحافی ملک حسن زیب کو نامعلوم افراد نے قتل کر دیا۔ مارٹنیز نے اس واقعے پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے کہا، "ہم پاکستانی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ملک حسن زیب کے قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کرے اور انہیں سزا دلوائے۔”
    سی پی جے کے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں صحافیوں کے قتل کی شرح میں گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ رجحان نہ صرف پاکستان میں آزادی صحافت کے لیے خطرہ ہے بلکہ ملک کی جمہوریت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔پاکستان کے متعدد صحافتی تنظیموں نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر افزال بٹ نے کہا، "ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ صحافیوں کی حفاظت کے لیے خصوصی اقدامات کرے۔ ہمیں ایک ایسا نظام چاہیے جو صحافیوں کو دھمکیوں اور حملوں سے محفوظ رکھ سکے۔”
    اس صورتحال پر پاکستان کے وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت صحافیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم نے صحافیوں کی حفاظت کے لیے خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی ہے جو ان واقعات کی تحقیقات کرے گی اور مجرموں کو سزا دلوانے کے لیے کام کرے گی۔”تاہم، اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے یہ اقدامات ناکافی ہیں۔ ایک اپوزیشن رہنما نے کہا، "حکومت کو چاہیے کہ وہ صحافیوں کی حفاظت کے لیے ایک جامع قانون سازی کرے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے۔”
    عالمی برادری بھی اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان نے کہا، "ہم پاکستان میں صحافیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد پر شدید تشویش رکھتے ہیں۔ ہم پاکستانی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ صحافیوں کی حفاظت کو یقینی بنائے اور ان کے خلاف ہونے والے جرائم کی مکمل تحقیقات کرے۔”
    ماہرین کا کہنا ہے کہ صحافیوں کے خلاف یہ بڑھتا ہوا تشدد پاکستان میں آزادی اظہار رائے اور جمہوریت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے حکومت، سول سوسائٹی اور میڈیا کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

  • تھائی لینڈ  :  لگژری ہوٹل کےکمرے  سے 6 غیرملکی سیاحوں کی لاشیں بر آمد

    تھائی لینڈ : لگژری ہوٹل کےکمرے سے 6 غیرملکی سیاحوں کی لاشیں بر آمد

    تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں ایک لاکھ ڈالر کے افتتاحی خرچے والے لاجری ہوٹل کے ایک کمرے سے 6 غیر ملکی سیاحوں کی لاشیں ملی ہیں۔ برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق، تمام افراد کی موت ممکنہ طور پر زہر خورانی سے ہوئی ہے، اور ان میں ایک ویتنامی نژاد امریکی شہری بھی شامل ہے۔معلومات کے مطابق، واقعہ کی تفصیلات میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ سیاحوں تھائی لینڈ کی سیاحتی صنعت سے تعلق رکھنے والے افراد تھے، جس کی وجہ سے اس واقعہ نے سیاحت کے شعبے میں خوف وہم پیدا کیا ہے۔تھائی حکومت نے واقعے کی تحقیقات کی شروعات کردی ہے۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر، تمام محکموں کو فوری کارروائی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ واقعے کے منفی اثرات کو مرتب نہ ہونے دیا جائے۔
    ایک پولیس افسر نے برطانوی خبر ایجنسی کو بتایا کہ ابھی تک ان لاشوں سے متعلق کوئی ثبوت نہیں ملا ہے جو واقعے کی وجہ کا پردہ فاش کر سکے۔ اس نے شناخت کی شرط پر بتایا ہے کہ اس واقعہ کے پیچھے کیا واقعیت ہے، لیکن حالیہ معلومات اس بات کی تصدیق نہیں کرتی کہ یہ لاشیں گولیاں مار کر قتل کی گئی ہیں۔ حکومتی ادارے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے نے فوری طور پر اقدامات کی شروعات کی ہیں تاکہ حقیقت کا پتہ چل سکے اور واقعہ کے مسئلے کو حل کیا جا سکے۔

  • بھارتی فوج شہریوں کی قاتل،وزارت دفاع سے جواب طلب

    بھارتی فوج شہریوں کی قاتل،وزارت دفاع سے جواب طلب

    بھارتی فوج شہریوں کی قاتل،سپریم کورٹ میں درخواست، بھارتی وزرات دفاع سے جواب طلب کر لیا گیا

    نگالینڈ حکومت نے بھارتی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی ،ناگا لینڈ حکومت نے تین سال پہلے ریاست کے علاقے مون میں 13 شہریوں کے قتل پر بھارتی فوج کے 30 اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی درخواست دی ہے جس پر بھارتی سپریم کورٹ نے وزارت دفاع سے جواب طلب کر لیا ہے، بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس منوج مشرا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی،

    ناگالینڈ میں بھارتی فوج کے ہاتھوں 13 شہریوں کے قتل پر مودی سرکار نے کوئی کاروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس پر ناگالینڈ سرکار نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، 4 دسمبر 2021 کو بھارتی فوجی اہلکاروں نے ناگالینڈ کے ضلع مون میں ایک کاروائی کے دوران 13 شہریوں کو قتل کر دیا گیا، ناگالینڈ پولیس نے واقعہ کا مقدمہ بھی درج کیا تھا،

    ناگالینڈ کی ریاستی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت بھارتی سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی،اس آرٹیکل کے تحت بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر درخواست دائر کی جا سکتی ہے۔ ریاستی حکومت نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس ایک میجر سمیت فوجی اہلکاروں کے خلاف مضبوط ثبوت موجود ہیں، اس کے باوجود مودی سرکار نے ان کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری نہیں دی، مودی سرکار کی جانب سے مقدمہ چلانے سے انکار پر ہم نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا،ناگالینڈ حکومت کی درخواست پر سماعت 3 ستمبر 2024 کو ہوگی،عدالت نے مرکزی حکومت سے چار ہفتوں میں جواب طلب کیا ہے

    واضح رہے دسمبر 2021 میں ناگالینڈ واقعے پر بھارتی فوجی اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا،بھارتی فوج کے 21 پیرا اسپیشل فورسز کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا،جس میں کہا گیا تھا کہ بھارتی فوج کی خصوصی یونٹ نےکارروائی پر پولیس کو مطلع کیا اور نہ ہی رہنمائی لی،ایف آئی آر میں کہا گیاکہ بھارتی سیکیورٹی فورسز کا ارادہ شہریوں کو قتل اور زخمی کرنا تھا، آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت 21 پیرا اسپیشل فورس کی آپریشن ٹیم کے تیس ارکان بشمول ایک میجر، دو صوبیدار، آٹھ حوالدار، چار نائک، چھ لانس نائک اور نو پیرا ٹروپرز کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ڈی جی پی نے کہا تھا کہ سی آئی ڈی کی رپورٹ جس میں مقدمہ چلانے کی منظوری مانگی گئی تھی،

    واضح رہے کہ ناگا لینڈ میں بھارتی فوج نے 13 کان کنوں کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا، بدلے میں گاؤں والوں نے بھارتی فوج کی گاڑیوں اور کیمپوں کو آگ لگا دی تھی،بھارتی میڈیا کے مطابق ناگا لینڈ میں کان کن ایک ٹرک پر سوار ہو کر اپنے مطالبات کے لئے احتجاج کرنے جا رہے تھے اس دوران بھارتی فوج نے انہیں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا، بھارتی فوج کی جانب سے کہا گیا کہ ٹرک کو رکنے کا اشارہ کیا گیا لیکن ٹرک نہ رکا اسکے بعد فائرنگ کی گئی تھی.

    سری لنکن کپتان مستعفی،ہمارے والے اب بھی لابنگ میں مصروف

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

    کرکٹ میں سٹے بازی اور سپاٹ فکسنگ،پاک بھارت میچ میں‌کتنے کا جوا؟

    لڑائی شروع،کیا ایمرجنسی لگ سکتی؟جمعہ پھر بھاری،کپتان جیت گیا

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان