Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • غزہ:  اسرائیلی فوج کا ایمبولینس  پر  حملہ،فلسطینی ہلال احمر کے 4 کارکن شہید

    غزہ: اسرائیلی فوج کا ایمبولینس پر حملہ،فلسطینی ہلال احمر کے 4 کارکن شہید

    غزہ: غزہ میں اسرائیلی فوج کے ایمبولینس پر حملے میں فلسطینی ہلال احمر کے 4 کارکن شہید ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: فلسطینی ہلال احمر کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے دیرالبلح کے نزدیک ایمبولینس کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جس میں ہلال احمر کے 4 کارکن شہید ہوگئے،چاروں افراد طب کے شعبے سے تعلق رکھتے تھے،انہیں ہلال احمر کا نشان پہنے ہوئے شہید کیا گیا، جس کا بین الاقوامی قانون کے مطابق تحفظ ہونا چاہیے۔
    https://x.com/PalestineRCS/status/1745129136555733331?s=20
    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے غزہ میں الاقصیٰ اسپتال کے اطراف شدید بمباری کی جس کے نتیجے میں 40 سے زیادہ فلسطینی شہید اور 150 سے زیادہ زخمی ہوگئے24 گھنٹوں میں 150 سے زائد صیہونی حملوں میں 200 فلسطینی شہید ہوگئے،7 اکتوبر سے اب تک شہدا کی تعداد 23 ہزار 350 سے تجاوز کرگئی ہے۔

    ہمسائیوں کا بچہ 2 لاکھ روپے میں فروخت کرنے والی خاتون سمیت 4 افراد …

    قبل ازیں اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے منگل کے روز امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کو کہا ہے کہ فوج جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس میں اپنی کارروائیاں تیز کرے گی ٹائمز آف اسرائیل اخبار کی رپورٹ کے مطابق گیلنٹ نے بلنکن کو اسرائیل کے دورے کے دوران مطلع کیا کہ خان یونس میں کارروائیوں میں شدت لائی جائے گی تاکہ حماس کے لیڈروں کو تلاش کیا جائےاور اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرایا جائے۔

    ن لیگ نے راولپنڈی، اٹک، چکوال،گوجرانوالہ، جہلم اور تلہ گنگ سے امیدواروں کی ٹکٹوں …

    علاوہ ازیں مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی فورسز کی پُرتشدد کارروائیاں جاری ہیں عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فورسز کی مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس میں چھاپہ مارکارروائی میں اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے 12 فلسطینی زخمی ہوگئے، اس دوران 5 فلسطینی گرفتار بھی کرلیےگئے۔

    ایک اور سیاسی جماعت کا الیکشن کمیشن سے بلے کے نشان کا مطالبہ

  • جنوبی کوریا میں  کتےکےگوشت کی خریدو فروخت پر پابندی عائد

    جنوبی کوریا میں کتےکےگوشت کی خریدو فروخت پر پابندی عائد

    سیئول : جنوبی کوریا نے ملک میں کتےکےگوشت کی خریدو فروخت پر پابندی عائدکردی۔

    باغی ٹی وی: بی بی سی کے مطابق منگل کے روز جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ نےکتےکےگوشت کی خریدوفروخت اور گوشت کے حصول کے لیےکتوں کی فارمنگ پر پابندی کا بل منظور کرلیا،بل سے جنوبی کوریا میں صدیوں سے جاری کتوں کےگوشت کا بطور خوراک استعمال کا خاتمہ ہوجائےگا-

    ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے ایک نئے قانون کی حمایت کے بعد جنوبی کوریا میں کتوں کو ذبح اور ان کے گوشت کے لیے فروخت کرنا غیر قانونی ہو گیا ہے2027 تک نافذ ہونے والی اس قانون سازی کا مقصد انسانوں کے کتے کا گوشت کھانے کے صدیوں پرانے رواج کو ختم کرنا ہے جبکہ کتوں کی فارمنگ کرنے والے بعض افراد کا کہنا ہےکہ وہ اس قانون کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔

    رپورٹ کے مطابق جنوبی کوریا میں اب بہت کم افراد ایسے رہ گئے ہیں جوکتوں کا گوشت کھاتے ہیں، حالیہ عرصے میں نوجوان نسل نے سگ خوری کی مخالفت کی ہے اور اس پر پابندی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں پچھلے سال گیلپ پول کے مطابق، صرف 8% لوگوں نے کہا کہ انھوں نے پچھلے 12 مہینوں میں کتے کا گوشت کھایا ہے، جو کہ 2015 میں 27% سے کم ہے۔

    ایک 22 سالہ طالب علم لی چی یون نے کہا کہ یہ پابندی جانوروں کے حقوق کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہےانہوں نے سیئول میں بی بی سی کو بتایا، "آج کل زیادہ لوگوں کے پاس پالتو جانور ہیں،کتے اب خاندان کی طرح ہیں اور ہمارے خاندان کو کھانا اچھا نہیں لگتا۔

    نیا قانون کتوں کے گوشت کی تجارت پر توجہ مرکوز کرتا ہے – کتوں کو ذبح کرنے کے جرم میں سزا پانے والوں کو تین سال تک قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جب کہ جو لوگ گوشت کے لیے کتے پالنے یا کتے کا گوشت بیچنے کے مجرم پائے گئے انہیں زیادہ سے زیادہ دو سال کی سزا ہو سکتی ہے۔

    قانون سازی کے نافذ ہونے سے پہلے کسانوں اور ریستوران کے مالکان کے پاس روزگار اور آمدنی کے متبادل ذرائع تلاش کرنے کے لیے تین سال ہیں۔

    حکومتی اعدادوشمار کے مطابق، جنوبی کوریا میں 2023 میں کتے کے گوشت کے 1,600 ریستوراں اور 1,150 کتوں کے فارم تھے، جن میں سے سبھی کو اب اپنے کاروبار کو مرحلہ وار اپنے مقامی حکام کے پاس جمع کروانا ہوگا،حکومت نے کتے کے گوشت کے کاشتکا رو ں، قصابوں اور ریستوراں کے مالکان کی مکمل مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے-

  • یوکرینی صدر  کا مغربی ممالک سے شکوہ

    یوکرینی صدر کا مغربی ممالک سے شکوہ

    یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے شکوہ کیا ہے کہ مغربی ممالک جنگ میں یوکرین کی امداد کرنے سے ہچکچا رہے ہیں،جس سے روس کے حوصلے بلند ہورہے ہیں۔

    باغی ٹی وی:عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سرکاری دورے پر لتھوانیا پہنچے ہیں جہاں انھوں نے اپنے ہم منصب سے ملاقات کی اور روس یوکرین جنگ پر تبادلہ خیال کیا،ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں یوکرینی صدر نے کہا ہے کہ پیوٹن کبھی یوکرین پر مسلط جنگ کو کبھی ختم نہیں کریں گے جب تک ہم سب مل کر روسی جنگ کو منطقی انجام تک نہیں پہنچا دیتے۔

    صدر زیلنسکی نے متنبہ کیا کہ پیوٹن کا مقصد صرف یوکرین پر قبضہ نہیں اور اس پر رکیں گے نہیں بلکہ لتھوانیا، لٹویا، ایسٹونیا، مالڈووا کا اگلا نمبر ہو سکتا ہے اور یہ سلسلہ اسوقت تک نہ رکےگا جب تک کہ مغربی ممالک اسے روکنے کے لیے جنگ میں شامل نہ ہوں گے۔

    لائبیریا کی سابق چیف جسٹس اور وزیر انصاف کو قتل کے الزام میں عمر …

    واضح رہے کہ روس کے یوکرین پر حملے کو 2سال ہوچکے ہیں اور 4علاقوں کو فتح کرکے روس انھیں اپنا حصہ قرار دے چکا ہے جب کہ مغربی ممالک یوکرین کی مدد کے اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام نظر آرہے ہیں۔

    تبصرہ کتب، خواتین کے امتیازی مسائل

    ی پی 145 سے امیدوار میاں جنید نے علیم خان کی حمایت کر دی

  • لیگی رہنما  پر انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد

    لیگی رہنما پر انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد

    خیبر: پاکستان مسلم لیگ (ن) لیگ کے امیدوار شاہ جی گل آفریدی پر 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی: ڈی ایم او خیبر کے مطابق شاہ جی گل آفریدی پر انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کیا گیا ہےشاہ جی گل آفریدی نے لوئی شلمان کے سرکاری اسکول میں جلسہ کا انعقاد کیا تھا، سرکاری عمارت میں سیاسی جلسوں کے انعقاد پر پابندی ہے شاہ جی گل تین دنوں میں فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن میں اپیل دائر کرسکتے ہیں۔

    دوسری جانب سابق سینیٹر اور ن لیگی رہنما اسلم بلیدی پر نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے ، ن لیگی رہنما اسلم بلیدی کو 6 گولیاں لگی ہیں ، پولیس کا واقعے سے متعلق کہنا ہے کہ لیگی رہنما تربت کے میر عیسیٰ قومی پار ک میں چہل قدمی کر رہے تھے جب انہیں فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا ۔

    لائبیریا کی سابق چیف جسٹس اور وزیر انصاف کو قتل کے الزام میں عمر …

    اسلم بلیدی کو ٹیچنگ ہسپتال تربت منتقل کیا گیا ،تشویشناک حالت کے باعث انہیں مزید علاج کیلئے کراچی منتقل کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ اسلم بلیدی سابق سینیٹر، بلوچستان کے سابق وزیر زراعت بھی رہے ہیں، اسلم بلیدی کیچ اور گوادر سے قومی اسمبلی کی نشست 258سے بھی امیدوار ہیں۔

    شمالی وزیرستان، گولیاں چل گئیں، آزاد امیدوار جاں بحق

    پی پی 145 سے امیدوار میاں جنید نے علیم خان کی حمایت کر دی

  • لائبیریا کی سابق چیف جسٹس اور  وزیر انصاف کو قتل کے الزام میں عمر قید کی سزا

    لائبیریا کی سابق چیف جسٹس اور وزیر انصاف کو قتل کے الزام میں عمر قید کی سزا

    مغربی افریقہ: لائبیریا کی سابق چیف جسٹس اور وزیر انصاف کو قتل کے الزام میں عمر قید کی سزا سنادی گئی۔

    باغی ٹی وی : برطانوی میڈیا کے مطابق لائبیریا کی سابق چیف جسٹس اور وزیر انصاف گلوریا مایا پر اپنی 29 سالہ بھتیجی کے بہیمانہ قتل کا الزام تھا یہ لائبیریا کی سب سے مشہور جج اور سیاستدان کے عروج سے زوال کی نشانی ہے،گلوریا مایا نے اپنی پہچان ملک میں خواتین کے حقوق کی چیمپئن کے طور پر بنائی تھی۔

    جیل میں قید 70 سالہ گلوریا مایا فیصلےکے خلاف اپیل کرنےکا ارادہ رکھتی ہیں اور انہیں امید ہےکہ انہیں ریلیف مل جائےگاگلوریا مایا نے فرد جرم سے انکار کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ ان کی بھتیجی کو نامعلوم قاتل نے گھر میں گھس کر قتل کیا۔

    واضح رہے کہ گلوریا مایا نے لائبیریا کی وزیر انصاف کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھائیں اور پھر سینیئر جج منتخب ہوئیں جس کے بعد سپریم کورٹ کی چیف جسٹس بھی بنیں اور 2003 میں ریٹائرڈ ہوگئیں۔

    سانپ کے زہر سے بلڈ پریشر کا علاج دریافت

    تُرک مصنفہ خالدہ ادیب خانم

    برطانیہ اور امریکا نے بنگلادیش میں متنازع الیکشن پر سوالات اٹھادئیے

  • بھارتی وفد کا دورہ مدینہ منورہ،سوشل میڈیا صارفین کی سعودی حکام پر تنقید

    بھارتی وفد کا دورہ مدینہ منورہ،سوشل میڈیا صارفین کی سعودی حکام پر تنقید

    بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کی یونین وزیر سمراتی ایرانی کی قیادت میں بھارتی وفد نے مدینہ منورہ کا دورہ کیا ہے
    سعودی حکام نے پہلی بار کسی غیر مسلم وفد کو خصوصی درخواست پر اس طرح مدینہ منورہ کا دورہ کروایا ہے، اس دورے کو لے کر سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے، بھارتی میڈیا کے مطابق مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک مسجد نبوی کا دیدار کرنے والی وہ پہلی ہندو خاتون ہیں

    سعودی وزارت حج کے زیر انتظام بین الاقوامی حج و عمرہ کانفرنس، نمائش پیر 8 جنوری سے جدہ کے سپرڈوم میں شروع ہوئی ہے جو 11 جنوری تک جاری رہے گی جس میں 80 سے زیادہ ملکوں کے وزرا اور عہدیدار شرکت کر رہے ہیں،اس کانفرنس کے پیش نظر بھارتی وزیر اقلیت سمرتی ایرانی، وزیر مملکت برائے امور خارجہ وی مرلی دھرن اور دیگر اعلیٰ حکام سعودی عرب کے دو روزہ دورےپر ہیں.اس دورے کے دوران سعودی حکام نے پہلی بار بھارتی وفد کو مسجد نبویﷺ کا دورہ بھی کروایا، جس کی تصدیق خود سمرتی ایرانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مختلف پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کی.

    سمرتی ایرانی نے مدینہ منورہ کے دورے کو تاریخی قرار دیا اور کہا کہ ان کے وفد نے مدینہ منورہ میں مسجد نبوی ﷺ کا دورہ کیا، اس کے بعد احد پہاڑ اور مسجد قبا کی زیارت بھی کی ، سمرتی ایرانی نے ٹویٹر پر دورے کی تصاویر بھی شیئر کی ہیں،

    واضح رہے کہ غیر مسلموں کو 2021 تک مدینے میں داخلے کی اجازت نہیں تھی جس کے بعد قوانین میں نرمی کے باعث وہ شہر کے وسط میں مسجد نبویﷺ کے اطراف تک جا سکتے ہیں

    سماجی رابطےکی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صار امبر نے لکھا کہ سعودی تاریخ میں پہلی بار حکومتی دعوت نامے پر انڈیا سے آئے غیر مسلم وفد کو نا صرف غیر مسلموں کے داخلے کے لئے ممنوع مکہ و مدینہ میں اینٹری دی گئی،ماضی کے مشہور ڈرامے ساس بھی کبھی بہو تھی کی اداکارہ سمرتی تلسی ویرانی نے اپنے وفد کے ساتھ مدینہ منورہ کا دورہ کیا افسوس سعودی حکومت بھول گئی کہ حرم میں غیر مسلموں کا داخلہ منع ھے

    ایک صارف صبا زاہد نے لکھا کہ یہ ہیں وہ انڈین اداکارہ اور لو ک سبھا کی کٹر ہندو جو مدینہ منورہ پہنچی ہیں اپنے ڈیلیگیشن کے ساتھ مدینہ منورہ کی ہاک زمیں پر ان لوگوں کو کیسے آنے دیا گیا ،ہم لوگ کیا تمام اسلامی ممالک سعودیہ سے سوال کریں گے؟وہ کیسے ان کو اجازت دے سکتے ہیں ۔۔؟کیا کسی مسلم ملک بشمول پاکستان اتنی غیرت ہے کہ سوال کرے

    بھارتی وزیراعظم کی خواہشات کیا….امریکی اخبار نے بتا دیا

    گجرات فسادات میں‌ ملوث ڈیڑھ سو انتہاپسند پکڑنے والے سابق بھارتی پولیس افسر کو عمر قید کی سزا

    دہلی فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات میں گہری مماثلت،ہندوؤں کی دکانیں ،گھر کیوں محفوظ رہے؟ سوال اٹھ گئے

     عمر قید کی سزا پانے والے 11 مجرموں کی معافی کالعدم 

  • سانپ کے زہر سے بلڈ پریشر کا  علاج دریافت

    سانپ کے زہر سے بلڈ پریشر کا علاج دریافت

    ساؤ پاؤلو: سائنسدانوں نے سانپ کے زہر سے بلڈ پریشر کا علاج دریافت کیا ہے-

    باغی ٹی وی : سائنسدانوں نے ایک ایسی قسم کے سانپ کا زہر دریافت کیا ہے جو انسان کو بلڈ پریشر کے مسائل میں مدد فراہم کر سکتا ہے جرنل بائیو کیمی میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں سائنس دانوں کو جنوبی امریکی سانپ کی ایک قسم بوتھروپس کوٹیارا کے زہر میں ایسا پروٹین ملا ہے جو اپنے اندر کم یا زیادہ بلڈ پریشر کے مسئلے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    برازیل کی فیڈرل یونیورسٹی آف ساؤ پاؤلو کے میڈیکل اسکول سے تعلق رکھنے والے محققین نے سانپ کے زہر میں بی سی-7 اے نامی ایک پروٹین دریافت کیا ہے جو بلڈ پریشر کو کم کر سکتا ہے یہ پروٹین بالکل انہی پروٹینز کی طرح کام کرتا ہے جو بلڈ پریشر کو کم کرنے کی دوا کیپٹوپرل بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

    چاند پر امریکی خلائی مشن روانہ ،ناسا نے ماؤنٹ ایورسٹ کے ٹکڑے چاند پر بھیج …

    سائنسدانوں کے مطابق سانپ کے زہر میں موجود اس پروٹین کو اگر مناسب خوراکوں میں استعمال کیا جائے تو یہ ایک دن مطبی علاج کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا کیپٹوپرل اور دیگر ادویات اینجیوٹینسن-کنورٹنگ انزائم (اے سی ای) نامی خامروں کی سرگرمی روک کر کام کرتی ہیں، جو جسم میں خون کے دباؤ کو قابو کرنے کے لیے اہم ہوتا ہے۔

    بھارت کا شمسی خلائی مشن سورج کے مدار میں داخل

    تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر ایلگزینڈر تاشیما نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ زہر ہمیں حیران کرنے سے کبھی نہیں چوکتے، اتنی معلومات کے باوجود تازہ دریافتیں ممکن ہیں تمام دستیاب ٹیکنالوجی کے باوجود ان زہروں میں بہت سی ایسی چیزیں ہیں جن کا مطالعہ کیا جانا ابھی باقی ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ کا مشرق وسطیٰ کادورہ، اردن کے بعد قطر پہنچ گئے

    ماہرین کے مطابق یہ دریافت اے سی ای سے بچانے والی نئی اقسام کی ادویات کے لیے راہ ہموار کر سکتی ہے جو بلڈ پریشر کو کم کرتی ہیں سانپ کے زہر میں 197 قسم کے پروٹین دریافت ہوئے جن میں 189 پروٹینز پہلی بار دیکھے گئے ہیں۔

  • تُرک مصنفہ خالدہ ادیب خانم

    تُرک مصنفہ خالدہ ادیب خانم

    خالدہ ادیب خانم

    ترکی کی تاریخ میں جس طرح مصطفٰی کمال پاشا، انور پاشا اور طلعت پاشا کے نام نمایاں ہیں۔ اسی طرح خواتین میں خالدہ ادیب خانم المعروف خالدہ ادیب آدیوار کا نام بھی ناقابل فراموش ہے، خالدہ ادیب خانم 1884ء میں پیدا ہوئیں، آپ سلطان عبدالحمید کے وزیر خزانہ عثمان ادیب پاشا کی دختر تھیں، 1889ء میں آپ نے تعلیم کا آغاز کیا اور ابتدائی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد 1910ء میں بی اے کا امتحان نہایت اعلیٰ نمبروں کے ساتھ پاس کیا، دورانِ تعلیم آپ کی شادی آپ کے پروفیسر صحافی احمد صالح سے ہوگئی، ان کے شوہر نے چند سال بعد دوسری شادی کر لی، خالدہ خانم نے اس بات کو نا پسند کرتے ہوئے خلع لے کر شاہی فوج کے ڈاکٹر خالد بے سے شادی کر لی لیکن کچھ عرصہ بعد ڈاکٹر خالد بے کا انتقال ہو گیا۔

    خالدہ خانم نے لکھنے لکھانے کا سلسلہ کم عمری سے ہی شروع کر دیا تھا محض سولہ سال کی عمر میں آپ نے ”ترکی پردے‘‘ پر ایک نہایت عمدہ کتاب لکھی اور بعد میں افسانہ نگاری شروع کر دی۔ ان کے اسلوبِ بیان میں ایسی ندرت اور تازگی تھی کہ انہوں نے بہت جلد ترقی کر کے افسانہ نگاروں کی صف اول میں جگہ حاصل کر لی۔ آپ کے افسانوی مجموعوں کی نہ صرف ترکی بلکہ یورپ میں بھی خوب پذیرائی ہوئی اور روسی، فرانسیسی، جرمن، انگریزی اور عربی زبان میں ان کے تراجم ہوئے، خالدہ خانم نے جب شاعری کی جانب توجہ کی تو قلیل مدت میں اس شعبہ میں بھی مہارت اور شہرت حاصل کر لی، 1935 میں خالدہ ادیب خانم نے ڈاکٹر ایم اے انصاری کی دعوت پر ہندوستان کا دورہ کیا اور ”درونِ ہند‘‘ کے عنوان سے اپنی یادداشتیں لکھیں۔

    خالدہ خانم اگرچہ ادبی مشاغل میں مصروف تھیں لیکن ان کے اندر ایک مصلح بھی چھپا ہوا تھا۔ وہ ترکی کی خواتین میں جدید خیالات کا فروغ چاہتی تھیں، اس مقصد کے یئے انہوں نے ملک میں چھوٹی چھوٹی نسوانی انجمنیں قائم کیں۔ وزارتِ تعلیم پر زور دیا کہ ترک عورتوں کو جدید تعلیم حاصل کرنے کی سہولیات بہم پہنچائے ان سرگرمیوں کی بدولت خالدہ ادیب خانم ترکی میں باوقار خاتون رہنما تسلیم کی گئیں اور ترکوں کا ہر حلقہ ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے لگا۔

    ترکی میں سلطان عبدالحمید خان کی حکومت تبدیل ہوئی تو نوجوانانِ ترکی اپنے ملک کو ترقی دینے کی کوششوں میں مصروف ہوگئے۔ خالدہ خانم کی کوششوں کی بدولت مدبرین ترکی مطالباتِ نسواں کے حامی ہوگئے۔ اس مقصد کے لیے خالدہ خانم نے ترکی کے اخبارات میں مضامین لکھے جن کا خاطر خواہ اثر سامنے آیا۔ ترکی کی دستور پسند جماعت کی حمایت میں انہوں نے یورپ اور امریکہ کے اخبارات میں مضامین کا سلسلہ شروع کیا۔ امریکہ کے اخبارات نے ان مضامین کو نہایت فخر کے ساتھ شائع کیا اور کہا کہ یہ ہمارے ہی کالج کی ایک معلمہ ہیں جو آج اپنے ملک میں رہنما کی حیثیت اختیار کر گئی ہیں۔

    انور پاشا اور طلعت پاشا نے خالدہ خانم کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کو سیاسی آئین وضوابط کی تشکیل میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جلد ہی خالدہ خانم کو شام کے صوبے میں تعلیمات کی وزیر مقرر کیا گیا آپ نے ایک جامع لائحہ عمل مرتب کیا اور ملک میں ابتدائی مدارس اور ہائی سکولوں کاجال بچھا دیا، علاوہ ازیں یتیم خانے قائم کئے، مذہبی تبلیغ کا بندوبست کیا، ارمن اور کرد بچوں کی تعلیم پر خاص توجہ دی۔ شام کے گورنر جنرل جمال پاشا ان سے سیاسی معاملات پر مشورے بھی کرتے تھے۔

    آپ شام میں ہی تھیں کہ پہلی جنگ عظیم بھڑک اٹھی۔ آپ شام سے ترکی کے دارالحکومت استنبول آگئیں اور وزارتِ دفاع کی امداد میں مصروف ہوگئیں۔ آپ نے امریکہ کے اخبارات میں مضامین لکھے اور وہ مجبوریاں بیان کیں جن کی بناء پر ترکی کو جنگ میں شامل ہونا پڑا۔ ”نیویارک ٹائمز‘‘ نے ان کے مضامین کو نہایت قدرووقعت کے ساتھ شائع کیا۔ اسی دوران ترکوں کی وحدت یا پان توران ازم پر ان کی کتاب بہت مقبول ہوئی۔ اس کتاب میں ترکوں کی شجاعت کے جذبات کو اس طرح ابھارا گیا تھا کہ حکومت نے فوج میں اس کتاب کے ہزاوروں نسخے تقسیم کرائے۔ جنگ کے دور میں خالدہ خانم ترکی کی سراوٴں اور مساجد میں جاتیں اور ان کی امداد واعانت کے علاوہ لوگوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتیں۔

    1918ء میں خالدہ خانم نے غیور اور قوم پرست لیڈر عدنان بے شادی کر لی۔ وہ انجمن اتحاد ترقی کے ممتاز ممبر اور محترم رہنما خیال کیے جاتے تھے۔ عدنان بے بعد میں انقرہ میں لارڈ چیف جسٹس کے عہدے پر بھی کام کرتے رہے اور پھر دولت انقرہ کی طرف سے انقرہ کے گورنر جنرل بھی مقرر کیے گئے۔ پہلی جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا تو ترکوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ دیئے گئے۔ قسطنطنیہ پر اتحادی افواج کا قبضہ ہوگیا۔ قوم پرست خاص طور پر ان کا نشانہ بنے۔ اس دوران آزاد ترکی کے لیے مصطفٰی کمال پاشا نے جدوجہد جاری رکھی تو خالدہ خانم نے ان کے حق میں قسطنطنیہ میں لاکھوں کے مجمعوں میں آ تش بار تقاریر کیں، یہاں تک کہ کٹھ پتلی وزیراعظم کو آپ کی گرفتاری کا حکم دینا پڑا۔ آپ اپنے شوہر کے ساتھ نہایت تکالیف سے گزریں اور خفیہ طور پر مصطفٰی کمال پاشا سے جا ملیں۔ مصطفٰی کمال پاشا نے آپ کی قدر کی اور آپ کو ملک کی وزیرِ تعلیمات مقرر کیا۔ آپ نے ایک بار پھر اصلاحی اور تعلیمی کاموں کا سلسلہ شروع کیا۔

    جولائی 1921ء تک آپ کی سیاسی و تعلیمی خدمات کا سلسلہ جاری رہا۔ انہی دِنوں اطلاعات ملیں کہ یونانی لشکر انقرہ پر حملہ کرنے والا ہے تو پورے اناطولیہ میں مصطفٰی کمال پاشا کی قیادت میں دفاعِ وطن کا جذبہ پورے جوش و خروش کے ساتھ بیدار ہو گیا۔ اس موقع پر خالدہ خانم نے مادرِ وطن کے دفاع کے لیے ترک خواتین کے میدان میں لانے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک جنگی سکیم بھی تیار کی جس کا مقصد ترکی خواتین کو باقاعدہ لشکر میں بھرتی کیا جانا تھا.

    خواتین کا لشکر مردوں کے لشکر کے پیچھے رسد، بار برداری اور زخمیوں کی طبی امداد کے فرائض انجام دینے کے لیے تیار ہواتھا۔ خالدہ خانم نے اس مقصد کے لیے پورے ملک کا طوفانی دورہ کیا۔ ہزاروں عورتوں کو فوج میں بھرتی کیا۔ وزارتِ جنگ نے ان کی فوجی تربیت کا انتظام کیا۔ جب ہزاروں خواتین کو فوجی تربیت دی جا چکی تو ان کے باقاعدہ فوجی دستے بنا دیئے گئے۔ یہ دستے اناطولیہ میں پُلوں، تارگھروں اور ریلوے سٹیشنوں کی حفاظت کی خدمات انجام دینے لگے۔

    خواتین کے فوجی دستوں نے یونانیوں پر نہایت کامیاب شب خون مارے۔ جب ستمبر 1921ء میں یونانیوں کا سب سے بڑا فوجی حملہ ہوا تو خالدہ خانم یہ نفس نفس میدانِ جنگ میں موجود تھیں اور نسوانی دستہ بھی ان کے ہمراہ تھا۔ اسی طرح ایک مشہور لڑائی میں جہاں فیلڈ مارشل عصمت پاشا فوج کی کمان کر رہے تھے، خالدہ خانم مجاہدین کے عقب میں اپنے نسوانی لشکر کے ساتھ موجود تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ اگر غازی عصمت پاشا، نسوانی لشکر کو پیش قدمی سے روک نہ دیتے تو خالدہ خانم یقیناً اس جنگ میں شہید ہو جاتیں کیوں کہ ان کا جوشِ جہاد بہت زیادہ بڑھا ہوا تھا۔

    یورپ اور امریکہ کے اخبارات میں ترک خواتین کی عسکریت اور خالدہ خانم کی قیادت پر حیرانی کا اظہار کیا گیا۔ وہ پہلے ہی ترکی میں ایک خاتون کو وزیر تعلیم کے تعینات کیئے جانے پر حیران تھے۔ 19 اکتوبر کو رافت پاشا نے اعلان کیا کہ کہ قسطنطنیہ پر ترکانِ احرار کا قبضہ ہو چکا ہے اور اتحادی رخصت ہو چکے ہیں۔ آخر جنوری 1922ء میں ڈاکٹر عدنان بے کو حکم دیا گیا کہ وہ جا کر رافت پاشا سے گورنری کا چارج لے لیں۔ چنانچہ خالدہ خانم اپنے جلیل القدر شوہر کے ساتھ اناطولیہ سے قسطنطنیہ پہنچ گئیں۔

    خالدہ خانم نے تمام عمر ترکی کی خدمت میں گزاری۔ وہ ترکی میں جمہوری نظریات کے فروغ کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار تھیں۔ وہ امریکن گریجویٹ ہونے کی بناء پر مغربی طرزِ زندگی کی عادی تھیں لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ مغربی حکومتیں ترکی کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کر رہیں تو انہوں نے ترکی لباس اور رہن سہن کو اپنا لیا۔ خاص طور پر میدانِ جنگ میں وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سنت میں سیاہ عمامہ باندھتیں تو فوجیوں میں جوش وخروش کی لہر دوڑ جاتی۔ آپ نے ستر سال سے زیادہ عمر پائی اور 9 جنوری 1964ء کو آپ کا انتقال ہوا۔

    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)قمیص من نار-1923
    ۔ (2)اندرون ہند-1937
    ۔ (3)ترکی میں مشرق و مغرب کی کشمکش
    ۔ 1938
    ۔ (4)اندرون حیدرآباد-1939
    ۔ (5)پیراہن آتشین
    ۔ (6)دختر سمرنا
    ۔ (7)ربیعہ

  • برطانیہ اور امریکا نے بنگلادیش میں متنازع الیکشن پر سوالات اٹھادئیے

    برطانیہ اور امریکا نے بنگلادیش میں متنازع الیکشن پر سوالات اٹھادئیے

    برطانیہ اور امریکا نے بنگلادیش میں متنازع الیکشن پر سوالات اٹھادئیے-

    باغی ٹی وی : عام انتخابات میں شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ نے مسلسل چوتھی اور مجموعی طور پر پانچویں بار الیکشن جیت کر ریکارڈ قائم کیا ہےبنگلا دیشن کے انتخابات اپوزیشن کی طرف سے مکمل بائیکاٹ کےمتنازع قرار پائے ہیں ووٹنگ کے بعد عوامی لیگ دو تہائی اکثریت کی حامل قرار پائی، تاہم امریکا اور برطانیہ کی جانب سے الیکشن کی شفافیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ شفاف تھے نہ ہی غیرجانبدار-

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ہم بنگلہ دیش کے عوام اور آزاد انہ اور منصفانہ انتخابات میں رہنماؤں کے انتخاب کیلئے اُن کے حق کی حمایت کرتے ہیں ہم دوسرے مبصرین کے ساتھ اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ انتخابات آزادانہ یا منصفانہ نہیں تھے، اور ہم انتخابات کے دوران اور اس سے پہلے کے مہینوں میں ہونے والے تشدد کی مذمت کرتے ہیں ،افسوس ہے کہ بنگلادیش کےانتخابات میں تمام جماعتوں نےحصہ نہیں لیا۔
    https://x.com/StateDeptSpox/status/1744463990862827869?s=20
    دوسری جانب برطانیہ نے بھی کہا ہے کہ بنگلا دیش کے انتخابات آزادانہ اور منصفانہ معیار کے مطابق نہیں، اپوزیشن کی جانب سے بائیکاٹ کرنا بھی جمہوری نہیں ہے۔

    تاہم فتح کا جشن منانے والی شیخ حسینہ واجد نے انتخابات کو آزادانہ اور منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہاگرکوئی پارٹی الیکشن میں حصہ نہیں لیتی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملک میں جمہوریت نہیں، تنقید کرنے والے ایسا کرتے رہیں۔

    واضح رہےکہ 76 سالہ شیخ حسینہ واجد 2009 سے بنگلادیش کی وزیراعظم ہیں جب کہ انہوں نے الیکشن کا بائیکاٹ کرنے والے جماعتوں کو دہشتگرد جماعتیں قرار دیا ہے۔

  • انتخابات میں جیت کیلئے مودی نے رام مندر کو بھی داؤ پر لگا دیا

    انتخابات میں جیت کیلئے مودی نے رام مندر کو بھی داؤ پر لگا دیا

    نئی دہلی: بھارت کی سیاسی جماعت جنتا دل پارٹی کے رہنما اجے یادیو نے مودی سرکار پر رام مندر کو بم سے اڑانے کی پلاننگ کا الزام لگا دیا۔

    باغی ٹی وی :این ڈی ٹی وی کے مطابق اجے یادیو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) 22 جنوری 2024 کو افتتاح کے موقع پر بم دھماکا کرائے گی اور مودی سرکار حملے کا الزام پاکستان اور مسلمانوں پر لگا دے گی، ممکنہ بم دھماکے سے مذہبی تناؤ شدت اختیار کر جائے گا۔

    اجے کمار یادیو کا کہنا ہے کہ ٹیکس کے پیسے سے تعمیر رام مندر کا کریڈٹ بی جے پی لے رہی ہےجنتا دل پارٹی کے ایم پی کوشلندر کمار نے بھی مودی سرکار کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    بیٹی نے گھر پر قبضہ کر کے بیوہ ماں‌کو نکال دیا،بیوہ خاتون کا تحفظ کا …

    بھارتی پولیس نے خبردار کیا ہے کہ رام مندر کے افتتاح کے موقع پر دھماکا کرنے کی دھمکی دی گئی ہے تیہار سنگھ اور اوم پرکاش مشرا نامی دو افرادے یوگی آدتیہ اور رام مندر پر حملے کی دھمکی دی ہے22 جنوری 2024 کو رام مندر کے افتتاح پر مودی کو بطور مہمان خصوصی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

    اسٹاک ایکسچینج میں مثبت آغاز،ڈالر کی قیمت میں بھی کمی کا سلسلہ جاری

    خسرہ نمبر 33، سال 1919 ریونیو ریکارڈ کے مطابق ہماری ملکیت ہے : …