Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • حماس نے  مزید 17 یرغمالیوں کو رہا کر دیا،  جبکہ اسرائیل کی جانب سے 39 فلسطینی قیدی رہا

    حماس نے مزید 17 یرغمالیوں کو رہا کر دیا، جبکہ اسرائیل کی جانب سے 39 فلسطینی قیدی رہا

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتہ کے روز قطر اور مصر نے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر عمل کے حوالے سے حماس اور اسرائیل سے مذاکرات کئے اور رکاوٹوں کو دور کیا۔ جس کے بعد رات گئے حماس نے دوسرے مرحلے میں مزید 17 یرغمالیوں کو رہا کر دیا، جبکہ اسرائیل کی جانب سے بھی 39 فلسطینی قیدیوں کو رہا کردیا گیا جن میں 33 بچے اور 6 خواتین شامل ہیں۔ فلسطینی قیدی مغربی کنارے کے علاقے بیتونیا پہنچ گئے جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا ، رہا ہونے والے فلسطینیوں میں 38 سال کی اسراء جعابیص بھی شامل ہیں انہیں 2015 میں گرفتار کیا گیا تھا اور 11 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتہ کے روز قطر اور مصر نے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر عمل کے حوالے سے حماس اور اسرائیل سے مذاکرات کئے اور رکاوٹوں کو دور کیا۔

    جس کے بعد رات گئے حماس نے دوسرے مرحلے میں مزید 17 یرغمالیوں کو رہا کر دیا، اسرائیل کی جانب سے بھی 39 فلسطینی قیدیوں کو رہا کردیا گیا جن میں 33 بچے اور 6 خواتین شامل ہیں۔ فلسطینی قیدی مغربی کنارے کے علاقے بیتونیا پہنچ گئے جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا ، رہا ہونے والے فلسطینیوں میں 38 سال کی اسراء جعابیص بھی شامل ہیں انہیں 2015 میں گرفتار کیا گیا تھا اور 11 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اسرائیلی حکام کاکہنا ہے کہ اسرائیلی یرغمالی بذریعہ رفاح کراسنگ مصر سے اسرائیل پہنچ رہے ہیں ۔ قطر کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی رہائی کی راہ میں حائل رکاوٹیں قطر اور مصر کے دونوں فریقوں کے ساتھ رابطوں کے ذریعے دور ہوگئیں جس کی حماس نے بھی تصدیق کی تھی۔اس سے پہلے حماس نے یرغمالیوں کی رہائی مؤخر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد نہیں کررہا اور قیدیوں کی رہائی کا عمل روک دیاگیا ۔

    حماس کا کہنا تھا کہ صیہونی فوج شمالی غزہ میں امداد اور بے دخل فلسطینیوں کو واپسی سے روک رہی ہے، ڈرون کی پروازیں بھی جاری ہیں، مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فورسز کی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ یاد رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان چار روزہ جنگ بندی کے دوران 50 اسرائیلیوں کو رہا کیا جائے گا اور بدلے میں 150 فلسطینیوں کو رہائی ملے گی. اس سے پہلے 7 اکتوبر سے غزہ پر اسرائیل کے زمینی اور فضائی حملوں میں اب تک 14 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، شہدا میں 6 ہزار 150 بچے اور 4 ہزار سے زائد خواتین بھی شامل ہیں جبکہ بچوں اور خواتین سمیت زخمیوں کی تعداد 36 ہزار تک پہنچ چکی ہے ۔ دوسری جانب غزہ پر اسرائیل کے وحشیانہ حملوں اور بربریت کے خلاف دنیا بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔
    یاد رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان چار روزہ جنگ بندی کے دوران 50 اسرائیلیوں کو رہا کیا جائے گا اور بدلے میں 150 فلسطینیوں کو رہائی ملے گی۔
    یاد رہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ پر اسرائیل کے زمینی اور فضائی حملوں میں اب تک 14 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، شہدا میں 6 ہزار 150 بچے اور 4 ہزار سے زائد خواتین بھی شامل ہیں جبکہ بچوں اور خواتین سمیت زخمیوں کی تعداد 36 ہزار تک پہنچ چکی ہے ۔
    دوسری جانب غزہ پر اسرائیل کے وحشیانہ حملوں اور بربریت کے خلاف دنیا بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

  • سابق صدر آصف علی زرداری اوربلاول بھٹو کی دبئی میں ملاقات

    سابق صدر آصف علی زرداری اوربلاول بھٹو کی دبئی میں ملاقات

    دبئی: سابق صدر آصف علی زرداری اوربلاول بھٹو کی دبئی میں ملاقات ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی: تفصٰلات کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کر دی،پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف زرداری اور چئیرمین بلاول بھٹو نے دبئی میں فیملی کے ساتھ یادگار ”ری یونین“ گزارا، اس موقع آصف زرداری اور بلاول بھٹو نے اہلِ خانہ کے ساتھ گروپ فوٹو بھی بنوائی، جس میں فرال تالپور بھی موجود تھیں تصویر میں بلاول بھٹو کو بہنیں بختاور بھٹو، آصفہ بھٹو اور ان کی خالہ صنم بھٹو بھی موجود تھی-

    دوسری جانب صدر پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز آصف علی زرداری سیاسی منظرنامے پر متحرک ہوگئے ہیں، آصف زرداری نےسیاسی شخصیات سے بات چیت کیلئے نمائندے مقرر کر دئیے سندھ میں مختلف سیاسی شخصیات سے بات چیت کیلئے سعید غنی اور ناصر حسین شاہ کومقررکیا گیا۔

    سیاسی جماعتوں سے رابطے کیلئے آصف زرداری نے مذاکراتی کمیٹیاں بنا دیں

    بلوچستان میں چنگیز خان جمالی، روزی خان کاکڑ اور صابر علی بلوچ ذمےداریاں نبھائیں گے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں نیئر بخاری، قمر زمان کائرہ سیاسی شخصیات سے رابطے کریں گےفیصل کنڈی، محمد علی شاہ اور ساجد طوری بھی پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ذمے داریاں نبھائیں گے۔
    https://x.com/BakhtawarBZ/status/1728460397684932880?s=20
    https://x.com/ArfaBhutto786/status/1728084895321170256?s=20
    خیال رہے کہ یہ فیملی ری یونین ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بلاوال اور زرداری کے درمیان اختلافات کی خبریں گردش کر رہی ہیں، بختاور بھٹو نے تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ ’سرخیوں پر یقین نہ کریں، ہمارے لیے صرف اور ہمیشہ پہلے فیملی ہے‘۔

    نگراں حکومت کسی ایک جماعت کو فیور نہیں دے رہی،نگران وزیراعظم

  • معاہدے کی خلاف ورزی،حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کے دوسرے گروپ کی رہائی مؤخر کردی

    معاہدے کی خلاف ورزی،حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کے دوسرے گروپ کی رہائی مؤخر کردی

    اسرائیل کی جانب سے عارضی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کے دوسرے گروپ کی رہائی مؤخر کردی۔

    باغی ٹی وی : فلسطینی میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فورسز نے جنگ بندی معاہدے کے باوجود شمالی غزہ کے بعض مقامات پر چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں سے گولہ باری کی جبکہ مغربی کنارے کے شہر جنین میں چھاپے کے دوران بھی اسرائیلی فوج نے فلسطینی نوجوان کو شہید کردیا ہے اور جیل کے باہر صیہونی فوج کی فائرنگ سے ایک اور 17 سالہ فلسطینی نوجوان زخمی ہوا ہے۔

    ہلال احمر نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے اوفر جیل کے باہر قیدیوں کے دوسرے دور کی رہائی کے منتظر لوگوں پر سیدھی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 17 سالہ نوجوان زخمی ہوا۔

    جس کے بعد حماس نے اسرائیل پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے مزید اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کو شمالی غزہ میں امدادی ٹرکوں کے داخلے سے مشروط کردیا۔

    حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسرائیل معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہا، اس لیے فوری طور پر یرغمالیوں کے دوسرے گروپ کی رہائی مؤخر کر رہے ہیں یرغمالیوں کے دوسرے گروپ کی رہائی اس وقت تک نہیں ہوگی جب تک اسرائیل شمالی غزہ کی پٹی میں امدادی ٹرکوں کے داخلے سے متعلق معاہدے کی شرائط پر عمل نہیں کرتا اسرائیل کو امدادی ٹرکوں کے داخلے سے متعلق معاہدے کی شرائط پر عمل کرنا ہوگا اور معاہدےکے تحت رہا ہونے والے فلسطینی قیدیوں میں سینیئر قیدیوں کو شامل کرنا ہوگا۔

    دوسری جانب یرغمالیوں کے دوسرے گروپ کی رہائی مؤخر کرنے پر اسرائیل نے حماس کو دھمکی دی ہےاسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل کی جانب سے دھمکی دی گئی ہےکہ حماس نصف شب تک یرغمالیوں کو رہا کرے یا حملوں کے لیے تیار ہوجائے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل حماس نے اسرائیل پر معاہدےکی طے شدہ شرائط کی خلاف ورزی کا الزام عائدکیا تھاحماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے مشیر طاہر النونو نے ایک بیان میں کہا ہےکہ اسرائیل نے معاہدے کی بہت سی خلاف ورزیاں کی ہیں، اسرائیل نےامدادی ٹرکوں کے غزہ میں داخلےکی شرائط پرعمل نہیں کیا، اسرائیل نے قیدیوں کی رہائی کے لیے طے شدہ معیار پر بھی عمل نہیں کیا۔

    یاد رہے کپ عارضی جنگ بندی معاہدے کے تحت حماس کو آج 14 یرغمالیوں کو رہا کرنا تھا گزشتہ روز القسام بریگیڈ ز نے 7 اکتوبر کو یرغمال بنائے گئے 24 یرغمالیوں کو رہا کیا تھا جب کہ جواب میں اسرائیل نے اپنی جیلوں میں قید 39 فلسطینی بچوں اور خواتین کو آزاد کیا تھا۔

  • عارضی جنگ بندی،اسرائیل کی اگلے مرحلے کی جنگی تیاری شروع

    عارضی جنگ بندی،اسرائیل کی اگلے مرحلے کی جنگی تیاری شروع

    غزہ: اسرائیل نے عارضی جنگ بندی کو اگلے مرحلے کی جنگی تیاری کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا۔

    باغی ٹی وی : اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینئیل ہگاری نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ حماس سے 4 روزہ عارضی جنگی بندی کے دوران اسرائیلی فوج اگلے مرحلے کی جنگ کے لیے خود کو تیار کررہی ہے اسرائیلی کابینہ کا ایک رکن بھی وقفے کے بعد حماس سے جنگ جاری رکھنے کا بیان دے چکا ہے۔

    دوسری جانب فلسطینی تنظیم حماس نے اسرائیل پر امن معاہدے کی طے شدہ شرائط کی خلاف ورزی کا الزام عائد کردیا ہے،عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ مشیر طاہر النونو نے کہا ہے کہ اسرائیل نے معاہدے کی بہت سی خلاف ورزیاں کی ہیں ،اسرائیل نے امدادی ٹرکوں کے داخلے کی شرائط پر عمل نہیں کیا۔

    امریکی کوششوں سے جنگ بندی ممکن ہوئی، جوبائیڈن

    انہوں نے کہا کہ معاہدے کے باوجود اسرائیلی فوج نے غزہ میں ایک سے زائد مقامات پر فائرنگ کی، قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں 2 افراد شہید ہوگئے اسرائیل نے قیدیوں کی رہائی کےلیے طے شدہ معیار پر بھی عمل نہیں کیا، ہم اب بھی معاہدے کی شرائط پر نظر رکھے ہوئے ہیں، اسرائیل اور اقوام متحدہ کو پیغام دے رہے ہیں، کوئی بھی عذر ناقابل قبول ہے، ہم ثالث کے کردار کے لیے تیار ہیں۔

    جنگ بندی کا پہلا دن، حماس نے 24 قیدی رہا کر دیئے

    طاہر النونو نے کہا کہ نئے معاہدوں تک پہنچنے کےلیے سنجیدگی سے راہیں تلاش کرنے کے لیے بھی تیار ہیں، غزہ پر دوبارہ قبضہ کرنے سے متعلق قابضین کی بات دھوکا ہے غزہ میں حماس موجود ہے اور اس کی جڑیں فلسطینی عوام میں ہیں، طبی اور غذائی امداد کے 50 ٹرک اور ایمبولینس گھنٹوں سے انتظار میں ہیں، اسرائیلی فوج غزہ شہر میں داخلے کی اجازت نہیں دے رہی۔

    بحر ہند میں اسرائیلی جہاز پر ڈرون حملہ

  • بحر ہند میں اسرائیلی  جہاز پر ڈرون حملہ

    بحر ہند میں اسرائیلی جہاز پر ڈرون حملہ

    بحر ہند میں اسرائیلی جہاز پر ڈرون حملہ کیا گیا ہے

    دبئی پورٹ سے نکلنے والے اسرائیل کی ملکیت والے جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے، جہاز کا نام CGM CMA SYMI ہے، اس کا سیریل نمبر 9867839 ہے، اور یورپی ملک مالٹا سے رجسٹرڈ ہے۔ یہ جہاز 21 نومبر کو صبح 08:40 بجے عرب امارات کے جبل علی نامی بندرگاہ سے نکلا۔ اسے ایرانی ساختہ شاہد 136 نامی مسلح خودکش حملہ آور ڈرون سے انصار اللہ حوثیوں نے شمالی بحیرہ ہند میں نشانہ نشانہ بنایا اور عرشے و ڈیک سمیت انجن میں شدید نقصان پہنچا ہے ۔

    جس جہاز کو نشانہ بنیا گیا یہ جہاز اسرائیلی ارب پتی ایڈم اوفیر کی ملکیت ہے، جو اسرائیل کا چوتھا امیر ترین شخص ہے،ان کی کمپنی ایسٹرن پیسیفک شپنگ 210 بلک، کنٹینر اور خام تیل کے جہازوں کا بیڑا چلاتی ہے۔جنگ کے بعد سے اب تک 2 اسرائیلی ارب پتی متاثر ہو چکے ہیں۔

    ایک امریکی دفاعی اہلکار نے ہفتے کے روز خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ایک اسرائیلی ارب پتی کی ملکیت والے کنٹینر جہاز پر بحر ہند میں ایک مشتبہ ایرانی ڈرون نے حملہ کیا

    دفاعی اہلکار، جس نے انٹیلی جنس معاملات پر بات کرنے کے لیے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دی ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کی، کہا کہ جہاز کو 136 ڈرون سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ ڈرون پھٹ گیا جس سے جہاز کو نقصان پہنچا لیکن عملے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ہم صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اہلکار نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ امریکی فوج نے اس حملے کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہونے کا اندازہ لگانے کے لیے کیا انٹیلی جنس جمع کی تھی۔

    بادلوں کی وجہ سے طیارے راڈار میں نہیں آتے، بھارتی آرمی چیف کی مودی کے بیان کی تصد

    بھارتی ائیر فورس نے مقبوضہ کشمیر کے سرینگر ائیر بیس کے سینئر ترین ائر آفیسر کمانڈر کا تبادلہ کر دیا

    اپنا ہیلی کاپٹر گرانے والے بھارتی آفیسر کے ساتھ بھارت نے کیا سلوک کیا؟

    پاکستان کو دھمکیاں دینے والے بھارت کا ہیلی کاپٹر کیسے تباہ ہوا؟ جان کر ہوں حیران

    بریکنگ.بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ، کیپٹن ہلاک

    بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ،پائلٹ ہلاک، رواں برس کتنے طیارے تباہ ہو چکے؟

  • 2008 میں قتل ہونیوالی بھارتی خاتون صحافی کے ملزمان کو سنائی گئی سزا

    2008 میں قتل ہونیوالی بھارتی خاتون صحافی کے ملزمان کو سنائی گئی سزا

    بھارتی خاتون صحافی کے قاتلوں کو عدالت نے سزا سنا دی، عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے چار مجرموں کو عمر قید کی سز ا سنائی، خاتون صحافی سومیا کو 30 ستمبر 2008 کو قتل کیا گیا تھا

    آج عدلت نے فیصلہ سناتے ہوئے چار مجرموں روی کپور،امت شکلا،بلجیت اور اجے کمار کو عمر قید کی سزا سنائی، پولیس حکام کے مطابق صحافی سومیا وشوناتھ کو دہلی میں اسوقت قتل کیا گیا تھا جب وہ دفتر سے گھر واپس آ رہی تھیں، پولیس حکام کے مطابق ملزمان نے ڈکیتی کے دوران صحافی کو گولیاں ماری تھی،جمعہ کو عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج سنایا گیا ہے، عدالت نے ملزمان پر ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے جبکہ ایک اور ملزم اجے سیٹھی کو تین برس قید کی سزا سنائی ہے

    اجے سیٹھی نے عرف چاچا نامی ملزم نے مجرمان کی مدد کی تھی،ملزمان جس کار میں سوار تھے وہ اجے سیٹھی کی تھی، پولیس نے تحقیقات کیں تو کار اجے کے گھر سے برآمد ہوئی تھی،ملزمان کو پولیس نے مارچ 2009 میں گرفتار کیا تھا،

    15 برس بعد کیس کا فیصلہ آنے کے بعد خاتون صحافی سومیا کی والدہ مادھوری وشوانا کا کہنا تھا کہ وہ عدالت کے فیصلے سے مطمین ہیں لیکن خوش نہیں ہیں،میں یہ چاہتی تھی کہ میں جو دکھ اٹھا رہی ہوں وہ یہ زندگی بھر بھگتیں، میرے شوہر آئی سی یو میں ہیں،سماعت کے دوران عدالت نے صحافی کی والدہ سے استفسار کیا کہ آپ کیا چاہتی ہیں جس پر مادھوری کا کہنا تھا کہ انصاف ہونا چاہئے.

    ٹرمپ خاتون صحافی کے ساتھ جنسی ہراسانی میں ملوث قرار

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

    پشاورایئرپورٹ پر غیر ملکی خاتون صحافی کی تلاشی،صحافی کا احتجاج

    چائلڈ پورنوگرافی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلانے کا کیس، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    چائلڈ پورنوگرافی میں‌ ملوث ملزم گرفتار،کتنی اخلاق باختہ ویڈیوز شیطان صفت کے پاس برآمد ہوئیں

    دہلی فسادات میں امت شاہ کی پرائیویٹ آرمی ملوث،یہ ہندوآبادی پر دھبہ ہیں، سوشل ایکٹوسٹ جاسمین

    دہلی فسادات،مسلمان جی رہے ہیں خوف کے سائے میں، مذہبی شناخت چھپانے پر مجبور،خواتین نے حجاب اتار دیا

    حجاب کیوں پہنا؟ طالبات کو سرکاری سکول میں داخل ہونے سے روک دیا گیا

    گھونگھٹ ، جینز یا حجاب یہ فیصلہ کرنا خواتین کا حق ہے،مسکان کو خراج تحسین

  • خاموشی توڑنا: خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا عالمی دن

    خاموشی توڑنا: خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا عالمی دن

    خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا عالمی دن، ہر سال 25 نومبر کو منایا جاتا ہے، دنیا بھر میں انسانی اور خاص طور پر خواتین کے حقوق کی سب سے زیادہ خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی کے لیے عالمی بیداری کے طور پر کام کرتا ہے۔ خواتین کے خلاف تشدد کے خطرناک پھیلاؤ، اور اس گہری جڑوں والے مسائل کو ختم کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی فوری ضرورت پر روشنی ڈالتا ہے۔خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا عالمی دن عالمی یکجہتی کا ثبوت ہے۔ دنیا بھر کی کمیونٹیز نہ صرف بیداری بڑھانے بلکہ اجتماعی ذمہ داری کے احساس کو فروغ دینے کے لیے اکھٹی ہوتی ہیں۔ بین الاقوامی تنظیمیں، جیسے کہ اقوام متحدہ اور یو این ویمن، کوششوں کو مربوط کرنے، وسائل کی تقسیم، اور بین الثقافتی مکالمے کی حوصلہ افزائی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں،

    اورنج ربن کی علامت زنجیر کو توڑنا، ایک محفوظ دنیا کی تعمیر
    ہر سال، خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا عالمی دن صنفی بنیاد پر تشدد کے مختلف پہلوؤں کو حل کرنے کے لیے ایک مخصوص تھیم اپناتا ہے۔ سب سے بڑا مقصد خاموشی کے سلسلے کو توڑنا اور خواتین کے لیے ایک محفوظ دنیا کی تعمیر کو ممکن بنانا ہے، یہ تھیم خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام، تحفظ اور بااختیار بنانے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اقدامات اور وکالت کی کوششوں کی رہنمائی کرتی ہے .اس دن سے وابستہ ایک طاقتور علامت نارنجی ربن ہے۔ نارنجی رنگ کا ربن پہننا خواتین کے خلاف تشدد کے خلاف متحد موقف کی نمائندگی کرتا ہے، جو یکجہتی کے واضح اظہار، بیداری کے لیے کال، اور صنفی بنیاد پر تشدد سے پاک مستقبل کے لیے امید کی علامت ہے۔ ویب سائٹس، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، اور نشانات عالمی سطح پر اس متحرک رنگت میں روشن ہونے کی وجہ سے ڈیجیٹل دائرہ بھی نارنجی رنگ میں ڈوبا ہوا ہے،

    صنفی بنیاد پر تشدد کا عالمی پیمانہ: وہ اعدادوشمار جو کارروائی کا مطالبہ
    جب ہم خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے قریب پہنچ رہے ہیں، تو حیران کن اعدادوشمار کو تسلیم کرنا بہت ضروری ہے جو اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔ عالمی سطح پر، ہر تین میں سے ایک عورت اپنی زندگی میں جسمانی یا جنسی تشدد کا سامنا کرتی ہے۔ یہ اعدادوشمار فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں، جس سے بین الاقوامی تنظیموں، حکومتوں اور کمیونٹیز کو خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کو ترجیح دینے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
    قومی کوششیں: پالیسیاں، قوانین، اور وکالت
    دنیا بھر کی حکومتیں اور تنظیمیں صنفی بنیاد پر تشدد سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں۔ سخت قوانین بنانے سے لے کر جامع پالیسیاں بنانے تک، ممالک اس مسئلے کی عجلت کو تسلیم کر رہے ہیں۔ خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا عالمی دن حکومتوں کو اپنی وابستگی ظاہر کرنے، پیش رفت کا جائزہ لینے اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ مختلف خطوں میں خواتین کو درپیش چیلنجز کو تسلیم کرنا ضروری ہیں ۔ اگرچہ یہ دن عالمگیر اہمیت رکھتا ہے، اس کا اثر اس وقت زیادہ ہوتا ہے جب اقدامات مخصوص علاقائی باریکیوں کو حل کرتے ہیں۔ مقامی تنظیمیں اکثر اپنی برادریوں کے ثقافتی اور سماجی سیاق و سباق کے مطابق مہمات چلاتی ہیں، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف جنگ جامع اور متعلقہ دونوں طرح کی ہو۔


    بیداری اور مدد میں ٹیکنالوجی کا کردار
    ڈیجیٹل دور میں، ٹیکنالوجی بیداری بڑھانے اور مدد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ آن لائن پلیٹ فارمز زندہ بچ جانے والوں کو اپنی کہانیاں شیئر کرنے کے لیے جگہیں فراہم کرتے ہیں، خاموشی کو توڑتے ہوئے اور کمیونٹی کے احساس کو فروغ دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا مہمات کارکنوں کی آواز کو بڑھاتی ہیں، عالمی سامعین تک پہنچتی ہیں اور اس مقصد کے لیے حمایت حاصل کرتی ہیں۔ خواتین کے خلاف تشدد سے نمٹنے پر سوشل میڈیا کے اثرات کی ایک قابل ذکر مثال #MeToo تحریک ہے۔ ہیش ٹیگ نے زندہ بچ جانے والوں کو اپنے تجربات کا اشتراک کرنے کے لیے ایک جگہ فراہم کی، یکجہتی کے احساس کو فروغ دیا اور ہراساں کیے جانے اور حملے کے پھیلاؤ کے بارے میں عالمی سطح پر بات چیت کا آغاز کیا۔ ہیش ٹیگز کی کمیونٹیز کو متحرک کرنے اور مباحثوں کو تیز کرنے کی صلاحیت سوشل میڈیا کی مثبت تبدیلی کے لیےایک سیڑھی کا کام کرتی ہے،

    آگے کی تلاش: تشدد سے پاک مستقبل کا راستہ
    جب ہم خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کی یاد مناتے ہیں، تو آگے دیکھنا ضروری ہے۔ تشدد سے پاک مستقبل کے راستے کے لیے مسلسل کوششوں، تعلیم اور نقصان کو برقرار رکھنے والے اصولوں کو چیلنج کرنے کے عزم کی ضرورت ہے۔ کھلے مکالمے کو فروغ دے کر، زندہ بچ جانے والوں کی حمایت، اور نظامی تبدیلی کی وکالت کرتے ہوئے، ہم ایک ایسی دنیا کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں جہاں ہر عورت خوف سے آزاد رہ سکے۔ اگرچہ آگاہی ایک اہم پہلا قدم ہے، خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا عالمی دن بھی ٹھوس اقدام کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ بیان بازی سے ہٹ کر، کوششوں کو بااختیار بنانے اور لچک پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ اس میں قابل رسائی سپورٹ نیٹ ورکس بنانا، خواتین کے لیے معاشی مواقع کو یقینی بنانا، اور خود کفالت کے مواقع کو فروغ دینا شامل ہے۔ بنیادی وجوہات کو حل کرنے اور وسائل فراہم کرنے سے، کمیونٹیز ایسا ماحول بنا سکتی ہیں جہاں خواتین پروان چڑھیں۔

    آخر میں: مساوات کی طرف ایک مسلسل سفر
    خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا بین الاقوامی دن ایک پُرجوش یاد دہانی کے طور پر کام کرتا ہے جو ابھی ہونا باقی ہے۔ 25 نومبر کے بعد بھی، کال ٹو ایکشن برقرار ہے۔ باخبر رہنے، وکالت میں مشغول رہنے، اور تبدیلی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی حمایت کرکے، ہم خاموشی کو توڑنے اور ہر جگہ خواتین کے لیے ایک محفوظ، زیادہ مساوی دنیا کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔جیسا کہ ہم خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کی اہمیت پر غور کرتے ہیں، یہ واضح ہے کہ مساوات کی طرف سفر جاری ہے۔ یہ دن عمل کے لیے ایک سرگرمی کے طور پر کام کرتا ہے، لیکن لڑائی کیلنڈر پر ایک تاریخ سے کہیں زیادہ پھیلی ہوئی ہے۔ عالمی یکجہتی کو فروغ دے کر، علاقائی تناظر کو تسلیم کرتے ہوئے، کامیابی کی کہانیاں منا کر، تخلیقی طریقوں کو اپنانے، تعلیم کو ترجیح دینے، اور مردوں کو بطور اتحادی شامل کرکے، ہم ایک ایسی دنیا کے قریب جا سکتے ہے جہاں خواتین کے خلاف تشدد کی نہ صرف مذمت کی جاتی ہے بلکہ اسے ختم کیا جا سکتا ہے ۔ آگے کا راستہ مشکل ہو سکتا ہے، لیکن خواتین کے لیے ایک محفوظ، زیادہ مساوی دنیا بنانے کا اجتماعی عزم اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ یہ ترقی جاری رہے۔

  • امریکی کوششوں سے جنگ بندی ممکن ہوئی، جوبائیڈن

    امریکی کوششوں سے جنگ بندی ممکن ہوئی، جوبائیڈن

    اسرائیل حماس جنگ بندی کا آج دوسرا دن ہے، امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ امریکا کی کوشش سے غزہ میں جنگ بندی ممکن ہوئی.

    امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ یرغمالیوں کی رہائی شروعات ہے، خوشی ہوئی کہ 13 اسرائیلی رہا ہوئے، ہماری کوشش تھی کہ پہلے مرحلے میں 50 یرغمالی رہا کروائے جائیں،اب وقت آ گیا ہے کہ دو ریاستی حل پر کام کیا جائے، جنگ بندی کے لئے میں نےخطے کے رہنماؤں سے بات کی ہے، امریکا جنگ بندی پر زور دیتا رہا تاکہ یرغمالیوں کو رہا کرایا جاسکے

    واضح رہے کہ گزشتہ روز حماس نے سات اکتوبر کو یرغمال بنائے گئے افراد میں سے 24 کو رہا کیا جس کے بعد اسرائیل نے 39 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا،حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ تھائی لینڈ کے شہریوں سمیت 24 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا ہے،یرغمالیوں کو ریڈ کراس کے حوالے کیا، جو انہیں براستہ مصر اسرائیل لے کر گئے،رہا ہونے والے یرغمالیوں میں دہری شہریت کے حامل افراد سمیت 13 اسرائیلی، 10 تھائی اور ایک فلپائن کا شہری شامل تھا،

    حماس کی جانب سے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بعد اسرائیلی فوج نے بھی 39 فلسطینی قیدی خواتین اور بچوں کو رہا کیا تھا،فلسطینی قیدیوں کو اسرائیل کی مختلف جیلوں سے عوفر جیل منتقل کیا گیا جہاں سے 24 فلسطینی خواتین اور 15 بچوں کو اسرائیلی حکام رہا کرتے ہوئے ریڈ کراس کے حوالے کیا گیا، رہا ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل تھے، غزہ پہنچنے پر انتہائی جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے،فلسطینی شہریوں نے قیدیوں کا بھر پور استقبال کیا اور آتش بازی کرتے ہوئے حماس کے حق میں نعرے لگائے،

    اسسرائیلی جیل سے رہائی پانے والی سارہ عبداللہ نے قید سے آزاد ہوتے ہی سڑک پر سجدہ شکر ادا کیا ۔ نابلس کی رہائشی سارہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے حماس پر فخر ہے اور مجھے غزہ سے بہت پیار ہے، اور مجھے محمد الدیف اور السنور پر فخر ہے، کیونکہ یہ وہی ہیں جو ہمارے ساتھ کھڑے تھے،اسرائیلی جیل سے رہائی پانے والے ملک سلمان کا کہنا تھا کہ دمون جیل انتظامیہ نے 7 اکتوبر کے بعد ہمیں قیدِ تنہائی میں رکھا، غزہ پٹی کے تمام شہداء سے تعزیت کرتا ہوں،رہا ہونے والی فاطمہ شاہین کا کہنا تھا کہ غزہ کے عوام کو سلام جنہوں نے صبر کیا اور قیدیوں کی رہائی کے لیے اپنا خون بہایا،ہم سب کو حماس پر اعتماد ہے جو تمام قیدیوں کو آزاد کرانے کے لیے کام کر رہی ہے، فرید نامی شخص کا کہنا تھا کہ ہمیں اسرائیلی جیلوں کے اندر مسلسل زیادتی کا نشانہ بنایا گیا

    واضح رہے کہ اسرائیلی حملوں میں تقریبا 15 ہزار سے زائد شہری شہید ہو چکے ہیں جن میں چھ ہزار سے زائد بچے بھی شامل ہیں، حماس کے حملوں میں تقریبا 12 سو اسرائیلی بھی ہلاک ہوئے ہیں،

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

    ایرنی قدس فورس کے کمانڈر کا حماس کی حمایت و مدد کا اعلان

    غزہ،الشفا ہسپتال مسمار،29 ہسپتال بند،50 ہزار حاملہ خواتین کی پریشانی میں اضافہ

    غزہ جنگ میں امریکا خاموشی سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی منتقلی بڑھا رہا ہے،بلوم برگ

     اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے گھر کی جانب مارچ شروع کر دیا 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

     حماس کی حمایت کرنے والوں کو ختم کر دینا چاہئے

    الجزیرہ کے مطابق، جنگ بندی کا عمل شروع ہوا تو آدھے گھنٹے بعد غزہ میں شہری گھروں سے باہر نکلے تا ہم ابھی تک وہ ڈرے ہوئے ہیں، کہ اسرائیل کہیں جنگ بندی کی خلاف ورزی نہ کردے،کیونکہ اسرائیل نے غزہ میں کوئی ایسی جگہ نہیں چھوڑی جہاں بمباری نہ کی ہو.ایک فلسطینی شہری زاک ہانیہ جو بے گھر ہو چکی کا کہنا ہے کہ ہمیں نہیں معلوم ہم جنگ بندی سے خوش ہوں یا غمگین، ہمارا تو سب کچھ ختم ہو چکا، گھر ملیا میٹ ہو گئے، ہمارے دل ٹوٹ گئے، اب سب کچھ ختم ہونے کے بعد جنگ بندی،نہیں پتہ زندگی کیسے گزرے گی،ہانیہ کا کہنا تھا کہ ہم گھر نہیں جا سکتے ،ملبے تک بھی نہیں جا سکتے کیونکہ اسرائیلی فوج اجازت نہیں دے گی.ہم اب یہی دعا کر رہے ہیں کہ جنگ بندی قائم رہے.

  • جنگ بندی کا پہلا دن، حماس نے 24 قیدی رہا کر دیئے

    جنگ بندی کا پہلا دن، حماس نے 24 قیدی رہا کر دیئے

    غزہ جنگ بندی کے نئے معاہدے کے تحت حماس کے ہاتھوں 7 اکتوبر کو اغوا کیے گئے یرغمالیوں کی پہلی کھیپ کو رہا کر دیا گیا ہے۔ مقامی ٹی وی کے مطابق 13 اسرائیلی یرغمالیوں کو ریڈ کراس میں منتقل کیا اور پھر مصری علاقے میں داخل ہوتے دکھایا۔ کچھ عرصہ قبل تھائی لینڈ کی وزیر اعظم سٹریتھا تھاوسین نے کہا تھا کہ حماس نے غزہ میں یرغمال بنائے گئے 12 تھائی شہریوں کو رہا کر دیا ہے۔ غزہ میں عارضی جنگ بندی کے بعد یرغمالیوں کی رہائی کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ حماس نے 13 اسرائیلی یرغمالیوں اور 12 تھائی شہریوں کو رہا کردیا۔ جبکہ عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل آج 39 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ حماس نے 13 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کردیا ہے۔ عرب میڈیا کی رپوٹ کے مطابق اسرائیلی حکام یرغمالیوں کو منتقل کرنے کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں، یرغمالیوں کو بذریعہ ہیلی کاپٹر تل ابیب کے مضافات میں قائم شنائیڈر اسپتال منتقل کیا جائے گا۔

    عرب میڈیا کا مزید کہنا ہے کہ حماس کی جانب سے رہا تھائی لینڈ کے 12 شہری اسرائیل پہنچ گئے، تھائی شہریوں کو خصوصی طبی مراکز میں رکھا جائے گا۔غزہ میں 7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی بمباری کے بعد چار روزہ عارضی جنگ بندی ہوگئی، جس کے بعد فلسطینی خاندانوں کی واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان 4 روزہ عارضی جنگ بندی کے آغاز کے بعد مصر سے براستہ رفح کراسنگ 8 ٹینکر جنوبی غزہ میں داخل ہوگئے۔اسرائیلی فوج کے مطابق 4 ٹینکر ایندھن اور 4 ٹینکر کوکنگ گیس کے داخل ہوئے، ٹینکرز اقوامِ متحدہ کی امدادی تنظیموں کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔عارضی جنگ بندی کے بعد فلسطینی خاندانوں کی واپسی جاری ہے۔ لوگ اپنے پیاروں کی تلاش اور ملبے سے زخمیوں اور لاشوں کو نکالنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔غیرملکی میڈیا کے مطابق غزہ سٹی اور شمالی غزہ پر روزانہ چھ گھنٹے صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک اسرائیلی طیارے پرواز نہیں کریں گے۔
    واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی جارحیت میں شہداء کی مجموعی تعداد 14 ہزار 854 ہو گئی ہے جس میں 6 ہزار 150 بچے اور 4 ہزار خواتین شامل ہیں۔

  • نئی دہلی میں افغان سفارتخانہ مستقل بند

    نئی دہلی میں افغان سفارتخانہ مستقل بند

    افغانستان نے نئی دہلی میں مستقل طور پرسفارت خانہ بند کرنے کا اعلان کردیا

    افغانستان کے سفارتخانے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سفارت خانہ امارات اسلامی افغانستان نے نئی دہلی میں اپنے سفارتی مشن کو مستقل طور پر بند کر دیا ہے،ہندوستانی حکومت کی طرف سے مسلسل چیلنجوں کی وجہ سے 23 نومبر سے نافذ العمل ہے،یہ فیصلہ 30 ستمبر 2023 کو سفارتخانے کی کارروائیوں کے پہلے بند ہونے کے بعد کیا گیا ہے،یہ اقدام اس امید پر کیا گیا ہے کہ ہندوستانی حکومت کے موقف میں مثبت تبدیلی آئے گی تاکہ مشن کو معمول کے مطابق کام کرنے دیا جائے،

    افغان سفارتخانے کی جانب سے کہا گیا کہ ہم افغان کمیونٹی کو یقین دلاتے ہیں کہ یہ مشن شفافیت، احتساب اور ہندوستان کے ساتھ تاریخی اور دوطرفہ تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے افغانستان کی خیرسگالی اور مفادات کی بنیاد پر غیر جانبداری کے ساتھ چلایا گیا۔

    واضح رہے کہ ماہ ستمبر میں پہلی بار افغانستان کے سفارت خانے کے حوالے سے تنازع سامنے آیا تھا اور افغان سفیر نے کہا تھا کہ سفارت خانے کو ہندوستان سے تعاون نہیں مل رہا،بھارت نے کہا تھا کہ افغان سفیر پچھلے کئی مہینوں سے بھارت کی بجائے برطانیہ میں مقیم ہیں.

    افغان سفارت خانے کے عملے نے بھارتی وزارت خارجہ کو لکھے خط میں موقف اپنایا تھا کہ بھارت سفارتی کام میں تعاون نہیں کررہا، سفارت خانے کو بائی پاس کر کے افغانستان حکومت سے براہ راست رابطے کرتا ہے، جس سے معاملات خراب ہورہے ہیں۔

    واضح رہے کہ اگست2021 میں طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد سے تین ہزار افغان طلبا اب بھی اپنے ویزوں کے منتظر ہیں، جس سے ان کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے بھارت2021 میں اقتدار میں واپس آنے والی طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کرتا، اس نے افغان سفارت خانے کو سابق صدر اشرف غنی کے مقرر کردہ سفیر اور مشن کے عملے کے تحت کام جاری رکھنے کی اجازت دی تھی، جو امریکی فوجیوں کے انخلاء کے بعد کابل سے فرار ہو گئے تھے۔