Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • واٹس ایپ میں  نئے فیچر کا اضافہ

    واٹس ایپ میں نئے فیچر کا اضافہ

    سلیکان ویلی: واٹس ایپ میں ایک نئے فیچر کا اضافہ کیا گیا ہے جو صارفین کی پرائیویسی کو زیادہ محفوظ بنائے گا۔

    باغی ٹی وی: واضح رہے کہ واٹس ایپ میں پہلے ہی میسجز کو اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کا تحفظ حاصل ہے،اب میٹا کی زیرملکیت میسجنگ ایپ میں کالز کی سکیورٹی کو بہتر بنایا جا رہا ہے،واٹس ایپ میں ایک نئے فیچر کا اضافہ کیا گیا ہے جو صارفین کی پرائیویسی کو زیادہ محفوظ بنائے گا۔

    اس فیچر کے تحت صارف کی کال واٹس ایپ سرورز کے ذریعے کی جائے گی،اس فیچر کو ان ایبل کرنے پر دیگر افراد کے لیے آپ کی لوکیشن کے بارے میں جاننا بہت مشکل ہو جائے گا،اگرچہ اس فیچر کو استعمال کرنے سے کالز کو زیادہ تحفظ مل سکے گا مگر کال کوالٹی کسی حد تک متاثر ہوگیااس کے ساتھ ساتھ واٹس ایپ میں نامعلوم نمبروں سے آنے والی کالز کو میوٹ کرنے کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے اس فیچر سے صارفین اپنے ڈیٹا کو سائبر حملوں سے زیادہ تحفظ فراہم کر سکیں گے۔

     

    یقین تو نہیں لیکن شبہ ہے عمران خان کو جیل میں دوائی مل رہی ہے،رانا …

    یہ فیچر آپشنل ہے یعنی صارف کو خود اسے ان ایبل کرنا ہوگا،اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے واٹس ایپ اوپن کرکے سیٹنگز میں جائیں،سیٹنگز میں پرائیویسی کے سیکشن میں ایڈوانسڈ آپشن کو سلیکٹ کریں،وہاں پروٹیکٹ آئی پی ایڈریس ان کالز کے آپشن پر کلک کرکے اسے ان ایبل کر دیں،اس فیچر کے استعمال سے کال کا معیار کسی حد تک متاثر ہو سکتا ہے۔

    تکلیف کسی اور جگہ،شکایت کسی اور جگہ،سزا کسی اور کو دی جاتی ہے،مولانا فضل الرحمان

  • اسرائیلی بربریت کی حمایت،جوبائیڈن امریکہ میں عوامی حمایت کھونے لگے

    اسرائیلی بربریت کی حمایت،جوبائیڈن امریکہ میں عوامی حمایت کھونے لگے

    سات اکتوبر کو اسرائیل نے غزہ پر بمباری شروع کی، ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر گیا، اسرائیل کی بمباری جاری ہے، ہسپتالوں‌سکولوں، ایمبولینس گاڑیوں،امدادی قافلوں سمیت کوئی جگہ ایسی نہیں بچی جہاں اسرائیل نے بمباری نہ کی ہو، ایسے میں امریکی صدر جوبائیڈن نے یکجہتی کے لئے اسرائیل کا دورہ کیا، امریکی وزیر خارجہ اسرائیل کے تین دورے کر چکے ہیں،ا مریکہ نے اسرائیل کو اسلحہ بھی فروخت کیا، دوسری جانب دنیا بھر میں اسرائیلی بربریت کے خلاف مظاہرے جاری ہیں، امریکہ میں بھی مظاہرے ہو رہے ہیں تا ہم امریکی حکومت اسرائیل کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی بربریت کی حمایت کی وجہ سے جوبائیڈن امریکہ میں عوامی حمایت کھو رہے ہیں، انکی حمایت میں کمی ہو رہی ہے،امریکی ڈیمو کریٹک پارٹی کے نوجوان ہامی اب کہنے لگ گئے ہیں کہ اسرائیلی بربریت کی حمایت کر کے جوبائیڈن غلطی کر رہے ہیں، اس ضمن میں یونیورسٹی آف میری لینڈ میں ایک سروے کیا گیا جس میں نوجوان طلبا کا کہنا تھا کہ جوبائیڈن بہت زیادہ اسرائیل نواز ہو گئے ہیں، یونیورسٹی میں ان طلبا کی تعداد دوگنا زیادہ ہو گئی ہے جن کا صرف ایک ماہ کے اندر جوبائیڈن کے خلاف ذہن بدلا،سات اکتوبر سے قبل جوبائیڈن کی حمایت کرنے والے نوجوان اسرائیلی حملوں کی حمایت کے بعد اب جوبائیڈن کے خلاف ہو رہے ہیں،نوجوانوں‌کا کہنا ہے کہ امریکہ کا جھکاؤ فلسطین کی طرف ہونا چاہئے جو بربریت کا شکار ہیں

    رائے شماری کے ڈائریکٹر پروفیسر شیبلی تلہامی کا کہنا ہے کہ حالیہ سروے کے مطابق امریکہ میں نوجوانوں کی ایسی تعداد جن کی عمر 35سال سے کم ہے ان میں ایسے نوجوانوں کی تعداد کم ہوتی چلی جارہی ہے جو یہ چاہتے ہیں کہ امریکہ اسرائیل کا ساتھ دے،پروفیسر تلہامی کا کہنا تھا کہ نوجوانوں نے بائیڈن کو اسرائیل کو نواز کہا، اب نوجوان فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں،اسرائیلی حملوں کے بعد نوجوان ناراض ہیں، اسی وجہ سے جوبائیڈن عوامی حمایت کی کمی کا شکار ہو رہے ہیں

    دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ اسرائیل کے ساتھ ملا ہوا ہے، غزہ کے لوگوں سے اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ جبری نقل مکانی کروا رہاہے، حماس کے میڈیا بیورو کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ انروا کے حکام کو غزہ میں انسانی تباہی کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے،اس ادارے کے لوگ اسرائیل کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور زبردستی لوگوں‌کو علاقے سے نکال رہے ہیں، واضح رہے کہ اسرائیل نے فلسطینی عوام کو شمالی غزہ سے نکل کر جنوبی غزہ کی طرف نقل مکانی کرنے کا کہہ رکھا ہے۔انروا کے ترجمان نے حماس کے الزام کا کوئی جواب نہیں دیا،

    اسرائیل کی غزہ پر مسلسل بمباری سے دس ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں،اسرائیلی بمباری سے 39 صحافی بھی مارے جا چکے ہیں جن میں سے 34 فلسطینی ہیں جبکہ چار اسرائیلی اور ایک لبنانی صحافی مارا گیا ہے،

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • ایرانی صدر  کا  ازبک ہم منصب شوکت مرزیوئیف سے ملاقات

    ایرانی صدر کا ازبک ہم منصب شوکت مرزیوئیف سے ملاقات

    ایرانی صدر اقتصادی تعاون تنظیم کے 16ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے جمعرات کی صبح ازبک دارالحکومت تاشقند پہنچے۔ تاشقند پہنچنے پر رئیسی کا استقبال ازبکستان کے وزیر اعظم اور ملک کے دیگر حکام نے کیا۔بعد ازاں جمعرات کو رئیسی نے اپنے ازبک ہم منصب شوکت مرزیوئیف سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران رئیسی نے کہا کہ پڑوسی اسلامی ممالک کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی تعاملات کی ترقی ایران کی خارجہ پالیسی کی اہم ترجیحات میں سے ایک ہے۔ مرزییوئیف نے اپنی طرف سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اور تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ایرانی صدر تاشقند میں اپنے ایک روزہ قیام کے دوران ECO سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے والے اپنے ہم منصبوں سے ملاقاتیں کریں گے۔ جیسا کہ صدر رئیسی نے بدھ کی صبح تہران سے دوشنبہ کے لیے روانگی سے قبل وضاحت کی، سربراہی اجلاس میں غزہ کے مسئلے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ بدھ کو مہرآباد ہوائی اڈے پر رئیسی نے کہا، "سربراہان مملکت غزہ کے مسئلے پر بات کریں گے۔”
    ایرانی صدر کی قیادت میں ایرانی وفد نے بدھ کی شام اپنے تاجک ہم منصبوں سے ملاقات کی اور بنیادی طور پر معیشت، تجارت، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون کی 18 دستاویزات پر دستخط کیے۔

  • حوثی باغیوں نے امریکی ڈرون گرا دیا

    حوثی باغیوں نے امریکی ڈرون گرا دیا

    حوثی باغیوں نے یمن کی فضائی حدود میں پرواز کرنیوالے امریکی ڈرون کو تباہ کر دیا ہے

    امریکی ڈرون کی تباہی امریکی حکام نے بھی تصدیق کی ہے، حوثی باغیوں نے جدید ترین امریکی ڈرون ایم کیو 9 اس وقت مار گرایا جب وہ یمن کی حدود میں داخل ہوا، امریکی حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ ڈرون بین الاقوامی سمندر میں پرواز کر رہا تھا کہ اسے گرا دیا گیا

    حوثی حکام کی جانب سے کہا گیا کہ امریکی ڈرون خطے میں اسرائیل کی حمایتی سرگرمیوں میں مصروف عمل تھا غزہ کے حق میں ہماری جنگی کارروائیاں امریکہ روک نہیں سکتا،ڈرون کو اسوقت گرایا گیا جب وہ یمنی علاقائی پانیوں کی فضائی حدود میں اور اسرائیلی وجود کے لیے امریکی فوجی تعاون کے فریم ورک کے اندر دشمنی، نگرانی اور جاسوسی کی سرگرمیاں انجام دے رہا تھا۔ اسے اللہ کی مدد سے، مناسب ہتھیاروں سے مار گرایا گیا۔ یمنی مسلح افواج ملک کے دفاع اور دشمن کے تمام خطرات کا مقابلہ کرنے کے اپنے جائز حق کی تصدیق کرتی ہیں۔ مخالفانہ حرکتیں یمنی مسلح افواج کو فلسطینی عوام کی مظلومیت کی حمایت میں اسرائیلی وجود کے خلاف فوجی کارروائیوں کو جاری رکھنے سے نہیں روکیں گی۔

    بادلوں کی وجہ سے طیارے راڈار میں نہیں آتے، بھارتی آرمی چیف کی مودی کے بیان کی تصد

    بھارتی ائیر فورس نے مقبوضہ کشمیر کے سرینگر ائیر بیس کے سینئر ترین ائر آفیسر کمانڈر کا تبادلہ کر دیا

    اپنا ہیلی کاپٹر گرانے والے بھارتی آفیسر کے ساتھ بھارت نے کیا سلوک کیا؟

    پاکستان کو دھمکیاں دینے والے بھارت کا ہیلی کاپٹر کیسے تباہ ہوا؟ جان کر ہوں حیران

    بریکنگ.بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ، کیپٹن ہلاک

    بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ،پائلٹ ہلاک، رواں برس کتنے طیارے تباہ ہو چکے؟

  • غزہ امدادی کانفرنس پیرس میں شروع ہونے کی توقع

    غزہ امدادی کانفرنس پیرس میں شروع ہونے کی توقع

    پیرس: فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون جمعرات کو غزہ کے لیے انسانی امداد سے متعلق ایک کانفرنس کی میزبانی کریں گے حالانکہ اسرائیل، جو 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد سے علاقے پر بمباری کر رہا ہے.میکرون کے ایک معاون نے اجتماع سے قبل نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نامہ نگاروں کو بتایا کہ اس کے باوجود تمام حکومتوں کو "اسرائیل سمیت غزہ میں انسانی صورتحال میں بہتری میں دلچسپی ہے”۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حماس نے 7 اکتوبر کو غزہ سے سرحد پار کر کے اسرائیل میں دھاوا بولا، جس میں 1,400 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے، اور 240 سے زیادہ کو یرغمال بنا لیا۔ غزہ میں حماس کے زیرانتظام وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فوج کی جوابی مہم میں 10,500 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر بچے ہیں۔اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ کو کوئی ایندھن نہیں پہنچایا جائے گا اور جب تک یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا جاتا حماس کے ساتھ جنگ بندی نہیں کی جائے گی۔ایلیسی پیلس نے کہا کہ میکرون نے منگل کو نیتن یاہو سے بات کی اور جمعرات کی امدادی کانفرنس ختم ہونے کے بعد یہ جوڑا دوبارہ بات کرے گا۔ حماس کے قریبی ذرائع نے بدھ کو اے ایف پی کو بتایا کہ غزہ کی پٹی میں تین روزہ جنگ بندی کے بدلے میں چھ امریکیوں سمیت حماس کے زیر حراست درجن بھر یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بات چیت جاری ہے۔ ایک اور ذریعے نے کہا کہ قطر امریکہ کے ساتھ مل کر مذاکرات میں ثالثی کر رہا ہے تاکہ "ایک سے دو دن کی جنگ بندی کے بدلے میں 10-15 یرغمالیوں کو رہا کیا جا سکے۔ ان کے دفتر نے بتایا کہ میکرون نے منگل کو مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے بات کی۔ جمعرات کی امدادی کانفرنس 10-11 نومبر کو سالانہ پیرس پیس فورم کے موقع پر عجلت میں اکٹھی کی گئی ہے۔ فرانس کی وزارت خارجہ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ "تمام بڑے عطیہ دہندگان کے ارد گرد جانا اور غزہ کی امداد کو تیز کرنا ہے،” فرانس کی وزارت خارجہ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ خوراک، ایندھن اور طبی سامان، مالی مدد اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رسائی جیسی اشیا کے عطیات کے حصے ہوں گے۔چند عرب ممالک سے وفود بھیجنے کی توقع ہے، حالانکہ فلسطینی اتھارٹی اپنے وزیر اعظم اور مصر ایک وزارتی وفد بھیجے گی۔

  • مشرق وسطیٰ میں تنازعات کا حل دو ریاستوں کا قیام ہے،جی سیون اجلاس

    مشرق وسطیٰ میں تنازعات کا حل دو ریاستوں کا قیام ہے،جی سیون اجلاس

    ٹوکیو: جاپان کے دارالحکومت میں ہونے والے جی-7 ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں فلسطین کے دو ریاستی حل پر زور دیا ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ٹوکیو میں جی 7 ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کی صدارت کرنے والے جاپان کے وزیر خارجہ یوکو کامیکاوا نے کہا ہے مشرق وسطیٰ میں تنازعات کا حل دو ریاستوں کا قیام ہے، جی-7 کے تمام رکن ممالک بھی فلسطین کے دو ریاستی حل کو درست سمجھتے ہیں اور اسی سے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن ہوگا۔

    اجلاس کے بعد جاری کیے گئے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم غزہ میں بگڑتے ہوئے انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر امداد، شہریوں کی نقل و حرکت اور سہولت فراہم کرنے کے لیے جنگ بندی اور راہداریاں کھولنے کی حمایت کرتے ہیں غزہ میں فوری طور پر انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر جنگ بندی کی حمایت کا اعلان بھی کیا، مطالبہ کیا گیا کہ 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد سے یرغمال بنائے گئے تمام اسرائیلی و غیر ملکیوں کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے، ایران حماس اور حزب اللہ کی فوجی اور مالی مدد کرنا بند کرے G7 ممالک نے ایرانی حکومت پر زور دیا سے ہے کہ وہ حماس اور لبنانی حزب اللہ کی حمایت ترک کرے۔

    علاوہ ازیں ”جی 7“ وزرائے خارجہ مذاکرات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ’غزہ سے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی نہیں ہونی چاہیے، نہ تو ابھی اور نہ ہی جنگ کے بعد۔ غزہ کو دہشت گردی یا دیگر پرتشدد حملوں کے لیے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا، تنازع ختم ہونے کے بعد غزہ پر دوبارہ قبضہ نہیں کیا جائے گا،غزہ کی ناکہ بندی یا محاصرہ کرنے کی کوشش‘ یا ’غزہ کے علاقے میں کسی قسم کی کمی‘ کے خلاف بھی خبردار کیا۔

  • اٹلی  اسپتال پر مبنی بحری جہاز غزہ  بھیجے گا،وزیر دفاع

    اٹلی اسپتال پر مبنی بحری جہاز غزہ بھیجے گا،وزیر دفاع

    روم: اٹلی کی جانب سے زخمی شہریوں کے علاج کے لیےغزہ کے قریب ایسا بحری جہاز بھیجا جائے گا جو اسپتال کے طور پر کام کرتا ہے۔

    باغی ٹی وی:”روئٹرز” کے مطابق اٹلی کے وزیر دفاع گیڈو کروسیٹو نے اعلان کیا ہے کہ 8 نومبر کو یہ خصوصی بحری جہاز غزہ کی جانب روانہ ہو جائے گا، اس بحری جہاز میں 170 افراد کا عملہ موجود ہوگا،جس میں 30 افراد طبی ہنگامی حالات کے لیے تربیت یافتہ ہیں،اٹلی کی جانب سے ایک فیلڈ اسپتال بھی غزہ بھیجنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

    خیال رہے کہ غزہ میں 33 روز سے جاری اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں کے دوران شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد ساڑھے 10 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے،فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی جارحیت سے مزید 214 فلسطینی شہید ہوئے، جس کے بعد 7 اکتوبر سے اب تک شہید ہونے والے افراد کی تعداد 10 ہزار 569 ہوگئی ہے شہید افراد میں 4324 بچے، 2823 خواتین اور 649 معمر افراد بھی شامل ہیں 26 ہزار 475 فلسطینی زخمی ہوئے 193 طبی ورکرز شہید جبکہ 45 ایمبولینسوں کو نقصان پہنچا ہے۔

  • غزہ کے علاقے خان یونس کی سب سے بڑی مسجد میں بمباری

    غزہ کے علاقے خان یونس کی سب سے بڑی مسجد میں بمباری

    غزہ میں اسرائیل کے بلا اشتعال حملے جاری ہیں-

    باغی ٹی وی: غزہ کے علاقے خان یونس میں الناصر اسپتال سے صرف 100 میٹر کے فاصلے پر علاقے کی سب سے بڑی مسجد پر بنا کسی وارننگ کے اسرائیلی فضائیہ نے بمباری کردی، جس کے نتیجے میں مسجد مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور سینکڑوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    اس فضائی حملے میں پریشانی کی بات یہ ہے کہ مسجد ایک مصروف سڑک کے بیچ میں واقع ہے، یہ مرکزی سڑک اسپتال کے سائیڈ گیٹ کی طرف جاتی ہے اور ایک مصروف بازار بھی ہے جہاں بہت سے لوگ روزمرہ ضروریات کی خریداری کرتے ہیں مسجد کے ساتھ ہی ایک بیکری بھی ہے جہاں سینکڑوں لوگ روٹی کے لیے قطار میں کھڑے تھے بغیر وارننگ کے ہوئی اس فضائی حملے میں زخمی ہوئے اب تک درجنوں افراد کو اسپتالوں میں لایا جا چکا ہے، جبکہ شہادتیں بھی متوقع ہیں جن کی تعداد فی الحال نامعلوم ہے۔

    او آئی سی اجلاس میں حماس رہنماوں کو بھی بلایا جائے، مولانا فضل الرحمان

    واضح رہے کہ غزہ میں 33 روز سے جاری اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں کے دوران شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد ساڑھے 10 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے،فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی جارحیت سے مزید 214 فلسطینی شہید ہوئے، جس کے بعد 7 اکتوبر سے اب تک شہید ہونے والے افراد کی تعداد 10 ہزار 569 ہوگئی ہےشہید افراد میں 4324 بچے، 2823 خواتین اور 649 معمر افراد بھی شامل ہیں،اس عرصے میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 26 ہزار 475 فلسطینی زخمی ہوئے۔

    خیال رہے کہ 33 روز سے جاری اس جنگ کے باعث غزہ کے 15 لاکھ سے زائد افراد بے گھر بھی ہوچکے ہیں وزارت صحت کے ترجمان نے بتایا کہ 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی بمباری میں 193 طبی ورکرز شہید جبکہ 45 ایمبولینسوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی نہیں ہونی چاہیے،امریکی وزیر خارجہ

    دوسری جانب ڈیفنس فار چلڈرن انٹرنیشنل فلسطین نامی این جی او نے بتایا کہ 1967 سے 7 اکتوبر 2023 سے قبل مغربی کنارے اور غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں جتنے بچے شہید ہوئے، اس دوگنا زیادہ بچے ایک ماہ کے دوران شہید ہوچکے ہیں، 1350 بچے ابھی بھی عمارات کے ملبے تلے موجود ہیں اور ان میں بیشتر ممکنہ طور پر شہید ہو چکے ہیں،ایک تخمینے کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے باعث روزانہ سو سے زائد فلسطینی بچے شہید ہو رہے ہیں۔

    اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ میں صحت، نکاسی آب، صاف پانی اور خوراک تک رسائی جیسی بنیادی سہولیات دستیاب نہیں اور مکمل نظام منہدم ہونے کے قریب ہے،9 اکتوبر کو اسرائیل نے غزہ کی سرحدوں کو مکمل بند کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد خوراک، پانی، ایندھن اور ادویات کی سپلائی مکمل طور پر رک گئی تھی-

    فلسطین کی حمایت میں ریلی،یہودی شخص کی جھگڑے میں موت

    انسانی حقوق کے گروپس برسوں سے غزہ میں پانی کی قلت کے حوالے سے خبردار کرتے آرہے ہیں2021 میں گلوبل انسٹیٹیوٹ فار واٹر، انوائرمنٹ اینڈ ہیلتھ نے کہا تھا کہ غزہ میں دستیاب 97 فیصد پانی پینے کے قابل نہیں مگر اب بجلی کی عدم دستیابی کے باعث پانی کو صاف کرنے والے پلانٹس بھی بند ہوچکے ہیں جس کے باعث صاف پانی تک رسائی لگ بھگ ناممکن ہوگئی ہے۔

    4 نومبر کو اسرائیل نے شمالی غزہ میں پانی کے ایک ذخیرے اور پبلک واٹر ٹینک کو تباہ کر دیا تھا جس کے باعث پانی کی قلت بحران کی شکل اختیار کر گئی اس وقت زیادہ تر افراد آلودہ اور کھارا پانی پینے پر مجبور ہیں اور اس کے حصول کے لیے بھی گھنٹوں تک قطاروں میں لگنا پڑتا ہے۔

    اسرائیلی حملوں میں 2 لاکھ سے زائد عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے 7 نومبر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ہر فرد کو روزانہ 50 سے 100 لیٹر پانی کی ضرورت ہوتی ہے، مگر غزہ میں ہر فرد کو اوسطاً محض 3 لیٹر پانی دستیاب ہے، جو پینے سمیت ہر مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے،جب کسی فرد کو پانی کی کمی کا سامنا ہوتا ہے تو سب سے پہلے گردوں پر اثرات مرتب ہوتے ہیں اور پھر دل متاثر ہوتا ہےبچوں کے لیے ڈی ہائیڈریشن جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے جبکہ بالغ فرد کو سر چکرانے، دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھنے اور دیگر مسائل کا سامنا ہوتا ہے اگر پانی بالکل دستیاب نہ ہو تو صحت مند فرد کے لیے بھی ایک ہفتے سے زیادہ زندہ رہنا ممکن نہیں ہوتا۔

    اقوام متحدہ کے ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن (ایف اے او) کے مطابق 7 اکتوبر سے پہلے بھی غزہ کی 80 فیصد آبادی کو مناسب مقدار میں خوراک دستیاب نہیں تھی، اس وقت لگ بھگ 50 فیصد آبادی کو خوراک کے حصول کے لیے اقوام متحدہ کے فلسطین میں کام کرنے والے ادارے کی امداد پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔

    فلسطینی صدر محمود عباس کے قافلے پر حملہ،ویڈیو

    7 اکتوبر سے قبل روزانہ اوسطاً 500 امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہوتے تھےمگر اب صورتحال بدل چکی ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق 21 اکتوبر سے اب تک محض 451 ٹرک غزہ میں داخل ہوئے ہیں، جن میں سے صرف 158 میں خوراک موجود تھی، 102 میں طبی سامان، 44 میں پانی یا صفائی سے متعلق مصنوعات، 32 میں عام اشیا اور 8 میں نیوٹریشن سپلائیز موجود تھیں کسی بھی ٹرک میں ایندھن موجود نہیں تھا کیونکہ اسرائیل اس کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں۔

    ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق غزہ میں خوراک کے ذخائر بمشکل 5 دن کے لیے کافی ہوں گے جبکہ زیادہ تر افراد کو خوراک دستیاب نہیں غزہ میں متعدد بیکریاں بند ہوچکی ہیں اور جو ابھی بھی فعال ہیں، وہ عام حالات کے مقابلے میں 6 گنا زیادہ سامان تیار کر رہی ہیں مگر وہاں سے روٹی یا دیگر سامان کے حصول کے لیے رہائشیوں کو گھنٹوں تک قطار میں انتظار کرنا پڑتا ہےایندھن اور گندم کی قلت کے باعث یہ بیکریاں بھی بند ہونے کے قریب ہیں۔

    حماس اور اسرائیل جنگ:یورپ میں اسلامو فوبیا کے واقعات میں اضافہ

    ڈبلیو ایچ او کے مطابق کھانے کی کمی سے بچوں کی نشوونما تھم جاتی ہے اور جسمانی وزن میں کمی آتی ہے جس سے متعدد جسمانی اور ذہنی مسائل کا خطرہ بڑھتا ہےحاملہ خواتین کو مناسب غذا تک رسائی حاصل نہ ہو تو اسقاط حمل، قبل از وقت پیدائش یا بچوں میں پیدائشی نقص جیسے خطرات بڑھتے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق طبی مراکز پر اسرائیلی بمباری سے سب سے زیادہ خواتین اور بچے متاثر ہو رہے ہیں ادویات اور دیگر طبی سامان کی قلت کے باعث حاملہ خواتین کو مشکلات کا سامنا ہے اور اکثر مقامات پر بچوں کی پیدائش کے لیے آپریشن anesthesia کے بغیر کیے جا رہے ہیں اوسطاً روزانہ 180 بچوں کی پیدائش ہو رہی ہے اور طبی سہولیات دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ماؤں اور نومولود بچوں کی ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں۔

    روس کا غزہ پر ایٹمی حملے سےمتعلق اسرائیلی وزیر کے بیان پرتحقیقات کا مطالبہ

    اقوام متحدہ کے پناہ گزین مراکز میں نظام تنفس کے امراض، ہیضہ اور چکن پاکس کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں ڈبلیو ایچ او نے اب تک اسرائیلی بمباری کے باعث بے گھر ہونے والے افراد میں 22 ہزار 500 نظام تنفس کے انفیکشن جبکہ 12 ہزار ہیضہ کے کیسز رپورٹ کیے ہیں سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث ڈاکٹر سرکے کو طبی آلات کی صفائی کے لیے استعمال کر رہے ہیں جبکہ سرجری کے لیے سوئی دھاگے کو استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

    غزہ کے سب سے بڑے شفا اسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ طبی نظام منہدم ہونے کے قریب ہے اور جراثیموں سے پاک ماحول میں علاج کرنا ممکن نہیں رہا غزہ کا واحد کینسر اسپتال ایندھن دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے بند ہو چکا ہے، شفا اور دیگر بڑے اسپتال بھی بند ہونے کے قریب ہیں مجموعی طور پر 7 اکتوبر سے اب تک غزہ کے 50 فیصد اسپتال جبکہ 62 فیصد طبی مراکز بمباری یا ایندھن ختم ہونے کی وجہ سے بند ہوچکے ہیں۔

    بابا وانگا کی سال 2024 کے حوالے سے 7 پیشگوئیاں

  • سعودی ریال اور اماراتی درہم سمیت دیگر کرنسیوں کی قدر میں اضافہ

    سعودی ریال اور اماراتی درہم سمیت دیگر کرنسیوں کی قدر میں اضافہ

    کاروباری ہفتے کے تیسرے روزسعودی ریال سمیت دیگر کرنسیوں کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے-

    باغی ٹی وی: میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی ریال 76.47 روپے، اماراتی درہم 78.11 روپے، قطری ریال 78.67 روپے، کویتی دینار 928.59 روپے اور بحرینی دینار 760.58 روپے کا رہا، انٹربینک میں آسٹریلین ڈالر 184 روپے 38 پیسے، کینیڈین ڈالر 208 روپے 17 پیسے اور برطانوی پاؤنڈ کی قدر 351 روپے 47 پیسے ریکارڈ کی گئی۔

    دوسری جانب تیسرے کاروباری روز کے دوران پاکستانی روپے کی قدر میں مزید کمی جبکہ انٹربینک میں امریکی ڈالر مزید مہنگاہوگیا اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعدادو شمار کے مطابق آج بدھ کے روز کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قیمت میں 51 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا،امریکی کرنسی ڈالر کی قیمت 286 روپے 39 پیسے سے بڑھ 286 روپے 90 پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔

    انٹربینک میں ڈالر مزید مہنگا،سونے کی قیمت میں بھی اضافہ

    گزشتہ روزسعودی ریال کی قیمت 76.34 روپے، اماراتی درہم 77.97 روپے، قطری ریال 78.65 روپے، کویتی دینار 927.43 روپے اور بحرینی دینار 759.48 روپے ریکارڈ کی گئی تھی ۔

    سعودی ریال سمیت دیگر کرنسیوں کی قیمت میں اضافہ

  • انگریزی کے  ممتاز شاعر و ادیب،جان ملٹن

    انگریزی کے ممتاز شاعر و ادیب،جان ملٹن

    جان ملٹن ، انگریزی کے ممتاز شاعر و ادیب

    جان ملٹن انگریزی کا ایک عظیم شاعر اور مصنف تھا جس کے کلام کو نہ صرف انگریزی ادب میں بلکہ دنیا کے ادب میں اہم مقام حاصل ہے۔ اس کی بعض نظمیں دنیا کے اعلٰی ترین ادب میں شمار کی جاتی ہیں۔ جان ملٹن کی شاعری کی عظمت پر سب کو اتفاق ہے لیکن اس کی نجی زندگی، اس کی سیاست اور اس کے مذہبی خیالات کے بارے میں اس کے نقادوں میں ہمیشہ سخت اختلاف رہا ہے۔

    ملٹن لندن میں پیدا ہوا اور سینٹ پال اسکول اور کرائسٹ کالج کیمبرج میں تعلیم حاصل کی۔ اس نے انگریزی اور لاطینی دونوں میں شاعری کی۔ شروع میں وہ چرچ میں داخل ہونا چاہتا تھا۔ بعد میں اس نے یہ ارادہ ترک کر دیا۔ اس لیے کہ برطانوی چرچ میں رسم پرستی بہت آ گئی تھی۔ آخر کار اس نے شاعری پر پوری توجہ صرف کرنے کا فیصلہ کیا اور کیمبرج میں تعلیم ختم کرنے کے بعد وہ اپنے باپ کی دیہی جائیداد پر رہنے لگا۔ یہاں اس نے کئی نظمیں لکھیں جن میں اس کی ایک نہایت عظیم نظم لسی ڈس (Lycidas) بھی ہے جو اس نے اپنے دوست ایڈورڈکنگ کی وفات پر لکھی تھی۔ ۱۶۳۸ میں اپنی ماں کے انتقال کے بعد وہ اٹلی گیا۔ وہاں سیر کے علاوہ کافی مطالعہ بھی کیا اور اہم شخصیتوں سے ملا۔ ان میں گیلیلیو بھی تھا۔ ایک سال بعد واپس آیا اور بڑے زور شور کے ساتھ چرچ میں اصلاح کی مہم میں لگ گیا۔ کئی رسالے لکھے۔ ۱۶۴۳ میں اس نے میری پاول کے ساتھ شادی کی جو ایک سال بعد اسے چھوڑ کر چلی گئی۔

    اسی سال ملٹن نے چار رسالے لکھنے شروع کیے جن پر طوفان کھڑا ہو گیا۔ ایک میں اس نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ اگر شوہر اور بیوی کی ایک دوسرے کے ساتھ نبھ نہ سکے تو طلاق لے لینا اخلاقاً جائز ہے۔ اس نے ایک اور رسالہ پریس کی آزادی پر لکھا جس کا عنوان "آریوپوگٹیکا” (Areopogitica) تھا۔ اسے اس کی نثری تصنیفات میں اہم مقام حاصل ہے۔ اس میں پارلیمنٹ کی پریس پر لگائی ہوئی سنسر شپ پر سخت تنقید کی گئی تھی۔ ایک اور رسالہ میں اس نے اس پر بحث کی ہے کہ رعایا اپنے نااہل بادشاہ کو تخت سے ہٹا سکتی ہے اور اسے موت کی سزا بھی دے سکتی ہے۔ اس کے نتیجہ کے طور پر اسے کرامول نے اپنی حکومت میں سکریٹری یا وزیر بنا لیا اور اسے بیرونی زبانوں کا محکمہ سپرد کیا گیا۔اسی زمانہ میں اس نے برطانوی عوام کی مدافعت میں کئی رسالے لکھے۔

    ملٹن کی آنکھیں بچپن سے بہت خراب تھیں جب اتنا سرکاری کام اس کے سر پر آ پڑا تو آنکھیں بالکل جواب دے گئیں اور وہ بالکل اندھا ہو گیا اور اپنے سکریٹری کی مدد سے کام چلانے لگا۔

    ۱۶۶۳ میں ملٹن نے ایلزبیتھ من شل سے شادی کر لی۔ وہ آخر تک کامن ویلتھ کی حمایت کرتا رہا اور جب شاہیت دوبارہ قائم (۱۶۶۰) ہو گئی تو وہ کچھ عرصہ کے لیے روپوش ہو گیا۔ اس کی بعض کتابیں جلا دی گئیں۔ عام معافی میں اسے بھی معاف کر دیا گیا اور اس کے بعد سے وہ خاموش زندگی گزارنے لگا۔

    وہ ایک زمانہ سے ایک شاہکار نظم لکھنا چاہتا تھا۔ چنانچہ اس نے ایک طویل نظم "بلینک ورس” میں لکھی جو ۱۶۶۷ میں مکمل ہوئی۔ یہ بارہ جلدوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس کا نام اس نے "جنت کی گمشدگی” (Paradise Lost) رکھا۔ ہم عصروں نے بے حد تعریف کی اور اس کے بعد سے یہ عظیم رزمیہ نظموں میں شمار ہونے لگی۔ اس میں حضرت آدم اور حضرت حوا کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ جب وہ باغ عدن میں تھے۔ اس کے ذریعہ اس نے اس دنیا میں پھیلی ہوئی برائیوں کی وجہ سمجھائی ہے۔ "جنت کی بازیافت” (Paradise Regained) اس کی ایک اور طویل بلینک ورس نظم ہے جو چار جلدوں میں ہے۔ اس میں اس نے یہ بتایا ہے کہ کس طرح حضرت عیسٰی حضرت آدم سے برتر تھے۔ کس طرح شیطان ان کو ترغیب دینے میں ناکام رہا۔ اسی کے ساتھ اس نے یونانی ٹریجڈی کے نمونہ پر ایک منظوم ڈرامہ بھی لکھا جس کا قصہ انجیل ہی سے لیا گیا تھا۔ ملٹن اگرچہ بنیادی طور پر پروٹسٹنٹ مذہب کا تھا لیکن بہت ساری چیزوں کے بارے میں اس کے اپنے ذاتی عقائد تھے جو اس نے اپنے ایک رسالہ میں تفصیل سے بیان کیے ہیں۔ یہ رسالہ اس کی زندگی میں شائع نہیں ہوا۔ اس کا سراغ بہت بعد میں لگا اور پھر یہ شائع ہوا۔