Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • نیپال میں زلزلے نے تباہی مچا دی،128 اموات

    نیپال میں زلزلے نے تباہی مچا دی،128 اموات

    نیپال میں زلزلے نے ہر طرف تباہی مچا دی،مکان ملیا میٹ ہو گئے، 128 افراد کی موت جبکہ ایک ہزار سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں.

    میڈیا رپورٹس کے مطابق زلزلہ گزشتہ شب آیا، بھارت میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے تھے تاہم بھارت میں کوئی نقصان نہیں ہوا البتہ نیپال میں زلزلے نے تباہی مچائی ہے، نیپال کے زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 6.4 ریکارڈ کی گئی۔زلزلے کا مرکز جاجرکوٹ کا دیہی علاقہ رامیندا تھا ،زلزلے سے جاجر کورٹ،روکم ویسٹ کے علاقوں میں تباہی ہوئی کئی مکانات گر گئے،نیپالی وزیراعظم آج زلزلہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے اور امدادی کاموں کا جائزہ لیں گے

    نیپال میں ایک ماہ میں تیسری بار زلزلہ آیا، پاکستان کے نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے نیپال میں زلزلے سے اموات اور تباہی پر گہرے دکھ اور افسوس کااظہار کیا ہے ۔انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا ہم اس قدرتی آفت سے متاثرہ افراد کیلئے دعا گو ہیں،وزیراعظم انوارلحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان اس مشکل وقت میں نیپال کے ساتھ ہے اور ہرطرح کی مدد کرنے کو تیار ہے

     افغانستان میں گزشتہ نو دنوں کے دوران تیسری بار زلزلہ

  • شہاب ثاقب بیچ کر راتوں رات امیرہونے والا شخص

    شہاب ثاقب بیچ کر راتوں رات امیرہونے والا شخص

    انڈونیشیا کے شہر کولانگ میں ایک گھر پر شہاب ثاقب کا ایک ٹکرا گر کر تباہ ہو گیا،جسے جوسوا ہوتاگلونگ نامی شخص شہاب ثاقب کا ٹکڑا بیچ کر کروڑ پتی بن گیا-

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق جوسوا ہوتاگلونگ نامی یہ خوش قسمت شخص باہر کام میں مشغول تھے، اسی اثناء میں شہاب ثاقب کا ایک قدیم ٹکڑا ان کے کمرے کے قریب واقع برآمدے سے ٹکرا گیاساڑھے چار سال ارب پرانے اس ٹکڑے کا وزن 2.1 کلو گرام ہے اور اس کی قیمت 1.4 ملین پاؤنڈ ہے۔

    اس ٹکڑے کی انتہائی نایاب سی ایم 1/2 کاربنسیس کونڈرائٹ(CM1/2 carbonaceous Chondrite) کے طور پر درجہ بندی کی گئی تھی،اس ٹکڑے کو بیچ کر راتوں رات امیر ہونے والے جوسوا ہوتاگلونگ کا کہنا ہے کہ وہ اس دولت کو اپنی کمیونٹی میں ایک چرچ کی تعمیر کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

    غزہ میں جاری جنگ کا ذمہ دار امریکا ہے،سربراہ حزب اللہ

    ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ سے ایک بیٹی چاہتے تھے اس شہاب ثاقب کو بھی انہوں نے ایک خوش قسمتی کی علامت سمجھا ہے شہاب ثاقب کے تین دیگر ٹکڑے بھی قریب ہی پائے گئے تھے، انڈیاناپولس میں ایک کلکٹر سے اس شہاب ثاقب کو خریدنے کے بعد اسے امریکہ بھیج دیا گیا۔

    چٹان کا کچھ حصہ خریدنے والے امریکہ سے تعلق رکھنے والے شہاب ثاقب کے ماہر جیرڈ کولنز کا کہنا ہے کہ ’میرا فون پاگل پیشکشوں سے جگمگا رہا تھا کہ میں جہاز پر چھلانگ لگا کر شہاب ثاقب خریدوں‘۔

    ہماری زمین کے اندر اربوں سال سے ایک سیارے کا کچھ حصہ موجود ہے،تحقیق

  • ہماری زمین کے اندر اربوں سال سے ایک سیارے کا کچھ حصہ موجود ہے،تحقیق

    ہماری زمین کے اندر اربوں سال سے ایک سیارے کا کچھ حصہ موجود ہے،تحقیق

    سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ ہماری زمین کے اندر اربوں سال سے ایک سیارے کا کچھ حصہ موجود ہے۔

    باغی ٹی وی : یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آئی، جس کے نتائج جرنل نیچر میں شائع ہوئے کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ انکشاف افریقا اور بحر الکاہل میں 1980 کی دہائی میں ملنے والے مادے کی جانچ پڑتال سے ہوا،یہ مادہ زمین کی پرت کے قریب ملا تھا اور محققین کے مطابق اس میں آئرن کی مقدار بہت زیادہ ہے اور زلزلے کی لہروں پر یہ مادہ مختلف انداز سے ردعمل ظاہر کرتا ہے۔

    محققین کے مطابق یہ ایک سیارے Theia کی باقیات ہیں جو اربوں سال قبل ہماری زمین سے ٹکرایا تھا انہوں نے مزید کہا کہ زمین کی ابتدا میں یہ سیارہ ٹکرایا اور اس ملبے سے ٹیکٹونک پلیٹس پر اثرات مرتب ہوئے اس کے ساتھ ساتھ دونوں سیاروں کے ٹکراؤ سے چاند بھی بنا۔

    گوادر میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑیوں پر دہشت گردوں کا حملہ،14 جوان شہید

    محققین کے خیال میں اربوں سال قبل Theia سورج کے گرد چکر لگاتا تھا مگر دیگر سیاروں کی کشش نے اسے اپنی جانب کھینچا تو وہ سیارہ بننے کے عمل سے گزرنے والی زمین سے ٹکرا گیا Theia کا حجم مریخ جتنا تھا اور جب دونوں سیاروں کا ٹکراؤ ہوا تو وہ اتنا طاقتور تھا کہ بہت زیادہ مقدار میں مادہ زمین کے اردگرد پھیل گیا، جو بعد میں ٹھنڈا ہوکر جمع ہوا اور چاند کی شکل اختیار کرگیا۔

    محققین نے تسلیم کیا کہ انہیں معلوم نہیں کہ آخر اس سیارے کی باقیات اب بھی زمین کی تہہ میں کیوں موجود ہیں اس حوالے سے وہ مزید تحقیق کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

    لاہور چڑیا گھر کو تین ماہ کے لیے بند کرنے کا فیصلہ

  • حماس کا اسرائیلی فوج پر حملہ، 6 ٹینکوں سمیت 9 فوجی گاڑیاں تباہ

    حماس کا اسرائیلی فوج پر حملہ، 6 ٹینکوں سمیت 9 فوجی گاڑیاں تباہ

    فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس نے اسرائیلی فوج پر بڑا حملہ کرتے ہوئے 6 ٹینکوں سمیت 9 فوجی گاڑیاں تباہ کردیں۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق حماس کے تازہ ترین حملے میں اسرائیلی افسر سمیت 19 ہلاکتیں ہوئیں ہیں، اس کے علاوہ مزاحمتی تنظیموں نے اسرائیلی فوج کی بٹالین کے ہیڈکوارٹر پر بھی دھاوا اور شیبا فارمز کے علاقے میں بٹالین پر ڈرون حملے سے جانی نقصان کا دعویٰ کیا ہے۔

    گزشتہ روز غزہ پر اسرائیلی بمباری کے جواب میں فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے لبنان سے اسرا ئیلی علاقے کریات شمونہ میں 12 راکٹ فائر کیےجس کی وجہ سے ہرطرف آگ ہی آگ لگ گئی،اس کے علاوہ لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل کی 19 فوجی چوکیوں پر حملے کیے گئے ۔

    غزہ میں جاری جنگ کا ذمہ دار امریکا ہے،سربراہ حزب اللہ

    دوسری جانب اسرائیل نے غزہ کے ہزاروں فلسطینیوں کے نوکریوں کے پرمٹ منسوخ کر دئیے،اسرائیلی میڈیا کے مطابق روزانہ 18 ہزار فلسطینی غزہ سے نوکری کرنے اسرائیل آتے تھے، 7 اکتوبر کو حملوں کے بعد اسرائیل میں موجود غزہ کے 3 ہزار محنت کش فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا،تاہم ان میں سے کئی کو رہا کرنے کا دعویٰ کیا گیا لیکن فلسطینیوں کے موبائل، رقم اور دیگر اشیا اسرائیلی حکام نے واپس نہیں کیں ،اب غزہ کے فلسطینیوں کے نوکریوں کے پرمٹ منسوخ کر دئیے گئے اور غزہ کے حکام سے مکمل طور پر رابطے بھی ختم کر دئیے-

    واضح رہے کہ غزہ میں اسرائیلی بربریت جاری ہےفلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی جارحیت سے مزید 166 فلسطینی شہید ہوئے، جس کے بعد 7 اکتوبر سے اب تک شہید ہونے والے افراد کی تعداد 9227 ہوگئی ہے۔

    اسرائیلی ترجمان نے غزہ میں نسل کشی تسلیم کر لی

  • غزہ میں جاری جنگ کا ذمہ دار امریکا ہے،سربراہ  حزب اللہ

    غزہ میں جاری جنگ کا ذمہ دار امریکا ہے،سربراہ حزب اللہ

    حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ ہم نہ جھکیں گے اور نہ کسی کے دباؤ میں آئیں گے، حزب اللہ 8 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں حماس کے اچانک حملے کے ایک دن بعد جنگ میں داخل ہوئی تھی غزہ میں جاری جنگ کا ذمہ دار امریکا ہے-

    باغی ٹی وی : لبنان کے دارلحکومت بیروت میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے بعد پہلی بار عوامی اجتماع سے خطاب میں حسن نصر اللہ کا کہنا تھاکہ لبنانی اور فلسطینی شہیدوں کے اہلخانہ کو رتبہ شہادت حاصل کرنے پرمبارکباد اور تعزیت پیش کرتے ہیں، شہدا کا رتبہ منفرد رتبہ ہوتا ہے، صرف مسلمان ہی اس رتبے کو سمجھ سکتا ہے۔

    حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ غزہ کے شہدا کو سلام پیش کرتا ہوں، اسرائیل کے حملوں میں ہزاروں شہری شہید ہوئے ہیں مسجد اقصیٰ کیلئے جاری جنگ کا دائرہ طویل ہوگیا ہے، مسجد اقصیٰ کیلئے جنگ میں مزید محاذ کھول دیئے ہیں ہم نہ جھکیں گے اور نہ کسی کے دباؤ میں آئیں گے، ہمیں شہدا کےاہل خانہ کےعزم اور ہمت پر فخر ہے۔

    اسرائیلی ترجمان نے غزہ میں نسل کشی تسلیم کر لی

    ان کا کہنا تھا کہ شہادت ہماری طاقت ہے جس پر ہمیں فخر ہے، اس بات پر بھی فخر ہے کہ عراقی اور یمنی براہ راست جنگ میں شامل ہوچکے ہیں دنیا بھر میں اسرائیل کی مذمت کی جارہی ہے، حماس کا حملہ فلسطین کے چھپے ہوئے دشمنوں کو سامنے لے آیا ہے۔

    طوفان اقصیٰ کی جنگ وسیع تر ہوکر مختلف محاذوں اور میدانوں تک پہنچ گئی، اسرائیل کےخلاف طوفان الاقصیٰ کی جنگ انسانی، اخلاقی اور دینی اعتبار سے جائز اور حق کی جنگ ہے، صہیونیوں کے خلاف جاری جنگ کی اخلاقی اور شرعی حیثیت پر ذرہ بھر بھی شبہ نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی اسرائیل کی قید میں ہیں، طوفان الاقصیٰ آپریشن صرف فلسطین اور فلسطینیوں کیلئے تھا، اس آپریشن نے بہت سی چیزوں کو بےنقاب کر دیا ہے، دنیا نے اسرائیلی مظالم پر مجرمانہ طور پر آنکھیں بند کرلی ہیں، امریکا اسرائیل کی پوری طرح سے مدد کر رہا ہے، اسرائیل کےخلاف جنگ حق کی جنگ ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر گرفتار

    سربراہ حزب اللہ کا کہنا تھا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسرائیل کی حماقت اور نااہلی کا عکاس ہے، کیونکہ وہ بچوں اور خواتین کو قتل کر رہا ہے انہوں نے اسرائیل کو ”کمزور“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پورے ایک مہینے تک وہ ایک بھی کامیابی حاصل نہیں کرسکا، اسرائیل مذاکرات کے ذریعے غزہ میں قید اپنے لوگوں کو واپس لا سکتا ہے۔

    حسن نصراللہ کا کہنا تھاکہ 7 اکتوبر واقعات کے محرکات پر روشنی ڈالنا اور حزب اللہ کا مؤقف واضح کرنا ضروی ہے، ہزاروں فلسطینی طویل عرصے سے اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں، 20 لاکھ فلسطینی 20 سال سے اسرائیلی محاصرے میں زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔

    ان کا کہنا تھاکہ طوفان الاقصیٰ فلسطینی مزاحمتی گروپ القسام بریگیڈز کا کامیاب کارنامہ ہے، حزب اللہ کو7 اکتوبر آپریشن سے متعلق کوئی پیشگی اطلاع نہیں تھی، 7 اکتوبر کے آپریشن کو انتہائی رازداری سے انجام دیا گیا، طوفان الاقصیٰ آپریشن فلسطینیوں کی جنگ ہے، اس کا علاقائی ممالک سے کوئی تعلق نہیں ایران کی حزب اللہ اور دیگرمزاحمتی گروپوں پرکوئی اجارہ داری نہیں، حزب اللہ کا اسرائیل کے خلا ف 7 اکتوبرکےآپریشن سےکوئی تعلق نہیں۔

    ایک ہفتے میں 12اشیا کی قیمتوں میں اضافہ اور 14 سستی ہوئیں،ادارہ شماریات

    ان کا کہنا تھاکہ طوفان الاقصیٰ آپریشن نے اسرائیل کو ہر سطح پر جھنجھوڑ کر رکھ دیا، اسرائیلی کارروائیاں اس کے مستقبل پر اثر انداز ہونے والے منفی اثرات کو ختم نہیں کرسکتیں، اس آپریشن نے اسرائیلی طاقت کی اصل حقیقت کھول کربیان کردی اور اسرائیل کا دفاعی نظام مکڑی کےجال سے زیادہ کمزور ثابت ہوا، اسرائیل کی بدترین ناکامی پر اسرائیلی عوام اور اسرائیل کے حامی تک کوشرمندگی ہوئی۔

    حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک فیصلہ کن جنگ ہے یہ پچھلی جنگوں کی طرح نہیں ہے۔ اس کے لیے ہر ایک کو ذمہ داری قبول کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ دو مقاصد ہیں پہلا غزہ میں جنگ کو روکنا اور دوسرا حماس کو اس جنگ میں فتح حاصل کرنا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ اپنی کارروائیوں میں روز بروز اضافہ کر رہی ہے اور اسرائیل کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ غزہ یا مقبوضہ مغربی کنارے کے بجائے لبنان کی سرحد کے قریب اپنی افواج رکھےحزب اللہ 8 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں حماس کے اچانک حملے کے ایک دن بعد جنگ میں داخل ہوئی تھی لبنان کی سرحد پر اسرائیلی افواج کے ساتھ روزانہ فائرنگ کا تبادلہ معمولی لگ سکتا ہے لیکن یہ بہت اہم ہے اور اسے 1948 کے بعد سے بے مثال قرار دیا ہے۔

    ذکا اشرف سے شاہد آفریدی کی ملاقات

    نصراللہ نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اب تک حزب اللہ کے 57 جنگجو شہید ہوچکے ہیں لبنانی محاذ پر مزید کشیدگی کا حقیقی امکان ہے، اس طرح کی پیش رفت کا انحصار غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر ہے، لبنانی محاذ پر تمام آپشنز کھلے ہیں، حزب اللہ تمام امکانات کے لیے تیار ہے۔

    خطے میں امریکی جنگی جہازوں کی تعیناتی سے متعلق بات کرتے ہوئے نصراللہ نے کہا کہ حزب اللہ خوفزدہ نہیں ہے، جو کوئی بھی علاقائی جنگ کو روکنا چاہتا ہے اسے غزہ کی پٹی پر جنگ فوری طور پر بند کرنی چاہیےدوسری طرف لبنان اسرائیل سرحد پر شدید لڑائی جاری ہے تقریر کے موقع پر حزب اللہ نے تین ہفتوں سے زائد عرصے کی لڑائی میں اب تک کا سب سے بڑا حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اسرائیلی فوج کے ٹھکانوں پر بیک وقت 19 حملے کیے اور پہلی بار دھماکہ خیز ڈرونز کا استعمال کیا۔

    خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایرانی حمایت یافتہ لبنان کی ایک طاقتور فوجی قوت حزب اللہ سرحد پر اسرائیلی افواج سے رابطے میں ہے، جہاں 2006 میں اسرائیل کے ساتھ جنگ لڑنے کے بعد سے اب تک اس کے 55 جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ جنگ کے آغاز کے بعد اپنی پہلی عوامی تقریر کرنے والے ہیں جبکہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن حالیہ ہفتوں میں ان کا تیسرا دورہ اسرائیل ہے۔

    گوادر میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑیوں پر دہشت گردوں کا حملہ،14 جوان شہید

    الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 7 اکتوبر سے اب تک غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 9,227 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ اسرائیل میں 1400 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  • افغانستان نے سیمی فائنل میں کوالیفائی کر لیا

    افغانستان نے سیمی فائنل میں کوالیفائی کر لیا

    لکھنؤ : افغانستان نےنیدرلینڈز کو 7وکٹوں سے شکست دیدی۔

    باغی ٹی وی: لکھنؤ میں کھیلے گئے میچ میں نیدرلینڈز کے کپتان اسکاٹ ایڈورڈز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، 180رنز کا ہدف افغانستان نے 31.3اوورز میں 3وکٹوں پر حاصل کر لیا،حشمت اللہ شاہدی56 اوررحمت شاہ52رنز بنا کر نمایاں رہے،عظمت اللہ عمرزئی31، ابراہیم زدران 20 اوررحمان اللہ گرباز نے 10رنز بنائے،رولوف وان ڈر مروے اور ثاقب ذوالفقار نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

    اس سے قبل نیدرلینڈز نے بیٹنگ کرتے ہوئے افغانستان کو جیت کیلئے 180رنز کاہدف دیا،سائبرانڈ اینجلبریچٹ58رنز بنا کر نمایاں رہے،میکس اوڈوڈ 42، کولن ایکرمین 29 اوررولوف وان ڈر مروے 11 رنز بنا کر آوٹ ہوئے۔

    ورلڈ کپ،نیدر لینڈ کاافغانستان کو جیت کیلئے 180 رنز کا ہدف

    آریان دت10،باس ڈی لیڈ اور ثاقب ذوالفقار 3،3رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے،افغانستان کے محمد نبی نے3وکٹیں حاصل کیں۔نور احمد نے2اور مجیب الرحمان نے ایک وکٹ حاصل کی،یہ افغانستان کی ورلڈ کپ میں مسلسل تیسری کامیابی ہے ، پوائنٹس ٹیبل پر نیوزی لینڈ، آسٹریلیا اور افغانستان کے 8، 8 پوائنٹس ہو چکے ہیں۔

    پوائنٹس ٹیبل پر بھارت 14 پوائنٹس کے ساتھ پہلے ہی سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرچکا ہے۔ جنوبی افریقا 12 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ 8 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے اور چوتھے نمبر پر موجود ہیں افغانستان 7 میچز میں 4 میں کامیابی کے بعد 8 پوائنٹس کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے جبکہ پاکستان کا چھٹا نمبر ہے۔

    ذکا اشرف سے شاہد آفریدی کی ملاقات

  • اسرائیلی ترجمان نے غزہ میں نسل کشی تسلیم کر لی

    اسرائیلی ترجمان نے غزہ میں نسل کشی تسلیم کر لی

    تل ابیب: اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کی ترجمان تل ہینرک نے پریس کانفرنس میں تسلیم کرلیا کہ غزہ میں شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں اسرائیلی وزیراعظم کی ترجمان نےکہا کہ غزہ میں سوائے سویلینز کےکسی اورکو نشانہ نہیں بنا رہے،تاہم فوراً ہی انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور گھبراہٹ میں کہا کہ نشانہ سویلینز نہیں دہشت گرد ہیں۔

    اسرائیلی وزیراعظم کی ترجمان کی تاویل اپنی جگہ لیکن حقیقت حال یہ ہے کہ غزہ میں وحشیانہ بمباری میں شہید ہونے والے 9 ہزار سے زائد فلسطینیوں میں نصف تعداد بچوں اور خواتین کی ہیں بچوں اور خواتین کی اتنی بڑی تعداد میں شہادتوں پر بچوں کی بہبود اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی شدید احتجاج کیا ہے۔

    اسرائیلی بمباری سے صحافی کی خاندان کے 11 افراد کے ہمراہ موت

    اسرائیلی ترجمان کی بے حسی اور لاعلمی کا سوشل میڈیا پر خوب مذاق اُڑایا جا رہا ہے۔ صارفین نے پوچھا کہ کیا اسرائیل بمباری میں جان سے جانے والے 3 ہزار 700 سے زائد بچوں کو بھی دہشتگرد سمجھتا ہے۔
    https://x.com/EekadFacts/status/1720021765936623977?s=20
    دوسری جانب حماس کے سینئر ترجمان اسامہ حمدان نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ وہ عام شہریوں پر حملہ نہیں کر رہے ہیں ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے انسانی حقوق کی تنظیموں نے نشاندہی کی ہے کہ حماس کے ہاتھوں اسرائیلی شہری مارے گئے ہیں آپ کو آباد کاروں اور عام شہریوں میں فرق کرنا ہوگا آباد کاروں نے فلسطینیوں پر حملہ کیا،ہمیں امید ہے کہ ایمنسٹی کے پاس بین الاقوامی عاجزی ہے کہ وہ ہمیں صرف فوجیوں پر حملہ کرنے کے لیے مزید ترقی یافتہ ہتھیار بھیجے-

    فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے 25 فنکاروں نے مل کر نیا ترانہ جاری کردیا

    یہ پوچھے جانے پر کہ کیا جنوبی اسرائیل میں شہریوں کو بھی آباد کار تصور کیا جاتا ہے، ہمدان نے کہا: "ہر کوئی جانتا ہے کہ وہاں بستیاں ہیں،ہم جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ نہیں بنا رہے ہیں۔ ہم نے آباد کاروں کو قبضے کا حصہ اور مسلح اسرائیلی فوج کا حصہ قرار دیا ہے۔ وہ عام شہری نہیں ہیں-

  • امریکہ میں  نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات میں اضافہ

    امریکہ میں نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات میں اضافہ

    امریکہ میں گزشتہ دو دہائی سے زائد کے عرصے میں پہلی بار 2022 کے دوران نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات میں اضافہ ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکہ میں امراض کی روک تھام و تدارک مراکز کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں 2022 کے دوران 20 ہزار 538 نوزائیدہ بچوں کی اموات ہوئیں جو کہ 2021 کی 19 ہزار 928 اموات کی نسبت 3 فیصد زائد ہےیہ پہلا سال ہے جس میں گزشتہ برس کی شرح اموات میں اضافہ ہوا۔

    اس میں 28 دن سے کم عمر میں نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات میں 3 فیصد جبکہ 28 سے 364 دن تک کی شرح اموات میں 4 فیصد اضافہ ہوا،زچگی کی پیچیدگیوں جیسے پریکلیمپسیا یا قبل ازوقت زچگی اور بیکٹیریل اسیپسس کی وجہ سے نوزائیدہ بچوں کی اموات میں بالترتیب 8 فیصد اور 14 فیصد اضافہ ہوا۔

    امریکی اکیڈمی برائے امراض اطفال کے صدر سینڈی ایل چھونگ نے بتایا کہ نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات میں اضافہ پریشان اور مایوس کن ہے۔ ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں وافر وسائل ہیں اس کے باوجود امریکہ میں نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات حیران کن حد تک زیادہ ہے۔

    سینڈی ایل چھونگ نے بتایا کہ اس کی کئی مختلف وجوہات ہیں غربت کا شکار خاندانوں کو غذائیت سے بھرپور خوراک اور سستی صحت کی دیکھ بھال تک رسائی سمیت بہت سی مشکلات کا سامنا ہے قابل رسائی صحت کی دیکھ بھال میں نسلی اور گروہی تعصب، قبل از پیدائش صحت خدمات ، بچوں کے پیدائشی وزن میں کمی اور بعض اوقات نوزائیدہ بچوں کی اموات اس کی ممکنہ وجوہات میں سے ایک ہیں۔

  • داغستان کے بین الاقوامی شہرت یافتہ عوامی شاعراور نثرنگار، رسول حمزہ تووچ حمزہ توف

    داغستان کے بین الاقوامی شہرت یافتہ عوامی شاعراور نثرنگار، رسول حمزہ تووچ حمزہ توف

    رسول حمزہ تووچ حمزہ توف روسی جمہوریہ داغستان کے بین الاقوامی شہرت یافتہ عوامی شاعراور نثرنگار ہیں۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    رسول حمزہ توف سوویت یونین کی جمہوریہ داغستان کے آوار گاؤں سدا میں مشہور شاعر حمزہ سداسا کے گھر 28 ستمبر 1923ء پیدا ہوئے رسول حمزہ توف نے اپنے پہلے اشعار گیارہ سال کی عمر میں لکھے ایک حیرت انگیز واقعے نے ان کی دل و دماغ کو جھنجھوڑ دیا تھا1934ء میں داغستان کے اس بلند پہاڑ ی گاؤں سدا میں جہاں وہ پیدا ہوئے تھے، تاریخ میں پہلی بار ایک ہوائی جہاز اترا تھا اور مشہور شاعر حمزہ سداسا کے بیٹے نے اس عجوبے کو دیکھ کر شاعری کے میدان میں پہلا قدم اٹھایا۔

    ہائی اسکول کی تعلیم، استادوں کی تربیت کا کالج، آوار زبان کا سفری تھیٹر، ریڈیو نامہ نگار یہ تھے مرحلے ان کی جوانی کے سوانح کے۔ صحت کی حالت ایسی تھی کہ انھوں نے فوجی خدمات انجام نہیں دیں لیکن جب داغستان کی سرحد ہی پر جنگ ہو رہی تھی تو شاعر کے شاعر بیٹے نے دشمن پر اپنی نظموں اور گیتوں کے وار کیے، سوویت فوج کی فتوحات سے خود وجدان حاصل کیا اور اپنے ہم وطنوں کو کانامے انجام دینے کا ہمت و حوصلہ عطا کیا۔

    جنگ کے بعد انہوں نے ماسکو میں ادبیات کے انسٹی ٹیوٹ موسوم بہ گورکی سے 1950ء میں اپنی تعلیم مکمل کی، یہیں بہت سے ادیبوں سے ان کی دوستی ہوئی، یہیں ان کی نظموں کے مجموعے یکے بعد دیگرے شائع ہوئے جنھیں سوویت یونین میں اور دنیا کے دوسرے ملکوں کے قارئین میں شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی۔

    ان کی شاعری وطن دوستانہ اور صدیوں پرانی عوامی دانش سے مملو ہے کردار کی جرات، لوگوں کے باہمی رشتوں میں دلی تعلق، بلند ترین انقلابی آدرشوں کی خاطر کارنامے انجام دینے پر آمادگی نے رسول حمزہ توف کی شاعری کو لوگوں کے لیے ضروری بنا دیا ہے رسول حمزہ توف داغستانی ادیبوں کی انجمن کے چیئرمیں رہ چکے ہیں اس کے علاوہ رسول حمزہ توف نے الیکزاندر پشکن، لیرمونتوف اور مایا کو فسکی کی تخلیقات آوار زبان میں ترجمہ کیں۔
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔۔
    مجموعہ نثر
    ۔۔۔۔۔۔
    میرا داغستان (1968ء)
    مجموعہ نظم
    ۔۔۔۔۔۔
    میری پیدائش کا سال
    نظمیں
    ۔۔۔۔۔۔
    ماں اور بیٹا
    نوکِ شمشیر
    سالگرہ
    نسخہ الفت
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)1952ء – سوویت ریاستی”اسٹالن انعام“
    ۔ (2)1963ء – لینن انعام
    ۔ (3)1974ء – ہیرو آف سوشلسٹ لیبر
    ۔ (4)2003ء – آرڈر آف سینٹ اینڈریو
    چیئرمین انجمن مصنفین داغستان
    ۔ (5)2014ء – رسول حمزہ توف انعام کا اجرا
    ۔ (6)داغستان کا عوامی شاعر
    ۔ (7)جواہر لال نہرو انعام، ہندستان
    ۔ (8)لیرمونتوف انعام
    ۔ (9)فردوسی انعام
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    رسول حمزہ توف 80 سال کی عمر میں 03 نومبر 2003ء میں ماسکو، روس میں وفات پا گئے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وکیپیڈیا سے ماخوذ
    تلاش و انتخاب : آغا نیاز مگسی

  • مردوں میں بانجھ پن کی شرح میں اضافے کی وجہ دریافت

    مردوں میں بانجھ پن کی شرح میں اضافے کی وجہ دریافت

    ماہرین نے مردوں میں بانجھ پن کی شرح میں اضافے کی ممکنہ وجہ دریافت کر لی ہے-

    باغی ٹی وی: دنیا میں ہر 6 میں سے ایک فرد بانجھ پن کا شکار ہے،عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے اپریل میں جاری ایک رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا تھا رپورٹ میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں 17.5 فیصد بالغ آبادی کو اپنی زندگی میں کسی وقت بانجھ پن کا سامنا ہوتا ہے،جس پر سائنسدان تحقیقات کر رہے ہیں سائنسدانوں کو یہ جاننے میں مشکلات کا سامنا ہو رہا تھا کہ آخر مردوں میں اسپرمز کی تعداد میں کمی اور بانجھ پن کی شرح مسلسل کیوں بڑھ رہی ہےاب ایک نئی تحقیق میں اس کاممکنہ جواب دیاگیاہےاور وہ ہے اسمار ٹ فونز کا زیادہ استعمال۔

    جرنل Fertility and Sterility میں شائع سوئٹزر لینڈ کی جنیوا یونیورسٹی کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ جو مرد اسمارٹ فونز کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، ان میں اسپرمز کی تعداد ان ڈیوائسز سے دور رہنے والوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہےاس تحقیق میں 18 سے 22 سال کی عمر کے 2886 مردوں کو شامل کیا گیا تھا اور ان کی صحت کا جائزہ 2005 سے 2018 تک لیا گیا۔

    راحت فتح علی خان اور ان کے پروموٹر نے امریکی عدالت میں 22 لاکھ ڈالر ..

    اس دوران ان سے یہ بھی معلوم کیا گیا کہ وہ روزانہ کتنے وقت تک موبائل فون استعمال کرتے ہیں جبکہ طرز زندگی اور صحت کی تفصیلات بھی جمع کی گئیں تحقیق کے دوران ان افراد کے اسپرمز کے معیار اور تعداد کا بھی جائزہ لیا گیا اور دیکھا گیا کہ موبائل کے استعمال سے اس میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں۔

    نتائج سے معلوم ہوا کہ روزانہ 20 یا اس سے زائد بار موبائل فون استعمال کرنے والے مردوں میں اسپرمز کی تعداد میں کمی کا خطرہ 21 فیصد زیادہ ہوتا ہے کپڑوں کے اندر موبائل فون رکھنے سے تولیدی صحت پر کوئی منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے اور اس حوالے لوگوں میں پائے جانے والا تاثر غلط ہےمحققین نے تسلیم کیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے تو ابھی یہ حتمی طور پر کہنا ممکن نہیں کہ اسمارٹ فونز کا استعمال اسپرمز کی تعداد میں کمی کا باعث بنتا ہے۔

    ورلڈ کپ،نیدر لینڈ کاافغانستان کو جیت کیلئے 180 رنز کا ہدف

    یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس حوالے سے ٹھوس ڈیٹا جمع کرنے کے لیے ایک کلینیکل ٹرائل کا آغاز کیا ہے اور اس کے لیے رضا کاروں کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں 2 اور 3 جی فون استعمال کرنے والوں کے اسپرمز کی تعداد میں کمی زیادہ نمایاں تھی، مگر 4 جی نیٹ ورکس پر منتقل ہونے پر یہ اثر کم ہونے لگا۔

    ان کا ماننا ہے کہ فون سگنل کو بھیجنے اور موصول کرنے کے لیے استعمال ہونے والی توانائی ممکنہ طور پر اسپرمز کے معیار اور تعداد پر اثر انداز ہوتی ہے جدید نیٹ ورکس میں توانائی کا استعمال کم ہوتا ہے جس کے باعث اسپرمز کی صحت کم متاثر ہوتی ہے، مگر اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

    سپریم کورٹ کا42سال بعد بھائی کو دو بہنوں کا جائیداد کا حق دینے کا حکم