Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • ٹی 20 ورلڈ کپ: آئندہ برس پاک بھارت میچ نیویارک میں کرایا جائے گا

    دبئی: آئندہ برس ہونے والے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاک بھارت میچ نیویارک میں کرایا جائے گا-

    باغی ٹی وی: برطانوی اخبار کے مطابق پاک بھارت میچ سے متعلق اتفاق آئی سی سی اور آر گنائزنگ کمیٹی کے درمیان ہوا ہے،دبئی میں آئی سی سی اجلاس میں شیڈول کو حتمی شکل دیئے جانے کا امکان ہے، ایزن ہاور اسٹیڈیم نیویارک سے 25 کلومیٹر دور لانگ آئی لینڈ میں ہے پاک بھارت میچ کے لیے اسٹیڈیم میں 34 ہزار شائقین موجود ہوں گے۔

    ذرائع کے مطابق امریکی شہر فلوریڈا اور ٹیکساس بھی ورلڈ کپ مقابلوں کے میز بان ہوں گے جبکہ ٹی 20 ورلڈ کپ فائنل کی میزبانی بارباڈوس کرے گا،جبکہ آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ 2024 کے مشترکہ میزبان امریکا اور ویسٹ انڈیز ہیں۔

    دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ( پی سی بی) نے چیمپئنز ٹرافی 2025 کی میزبانی کا معاہدہ سائن کرلیا ہے ، پی سی بی اور آئی سی سی کے درمیان "ہوسٹنگ رائٹس ایگریگیمنٹ” پر دستخط دبئی میں ہوئے، معاہدے پر دستخط ذکا اشرف اور آئی سی سی کے کونسل جنرل جوناتھن ہال نے کیے،پاکستان کرکٹ بورڈ چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی پر حکومت کو پہلے ہی آگاہ کرچکا ہے-

    قبل ازیں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے حالیہ ملاقات میں پی سی بی کو بھرپور حکومتی تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی،یاد رہے کہ آئی سی سی کی جانب سے چیمپئنز ٹرافی 2025 کی میزبانی پاکستان کو سونپی گئی ہے۔

  • کینیڈا  کا  پناہ گزینوں کو شہریت دینے کا فیصلہ

    کینیڈا کا پناہ گزینوں کو شہریت دینے کا فیصلہ

    ٹورنٹو: کینیڈا نے لاکھوں غیر قانونی امیگرنٹس کو شہریت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: کینیڈا کے وفاقی وزیر امیگریشن مارک ملر نے اعلان کیا کہ کینیڈا میں قانونی دستاویزات کے بغیر رہنے والے افراد کو مستقل رہائشی کارڈ جاری کیا جائے گا اور اس طرح وہ قانونی حیثیت حاصل کر لیں گے، اس فیصلے سے لاکھوں پناہ گزینوں کو فائدہ پہنچے گا، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کے ورک پرمٹ یا بین الاقوامی طلبہ کے ویزوں کی میعاد ختم ہو چکی ہے۔

    مارک ملر نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ بعض تعلیمی ادارے ”پپی ملز“ کے طور پر کام کر رہے ہیں، انہوں نے سسٹم کے اندر دھوکہ دہی اور بدسلوکی سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا یہاں پپی ملز کی اصطلاح ڈگریوں کے بے دریغ جاری کیے جانے اور اداروں میں سہولت سے زیادہ طالب علموں کی موجودگی کیلئے استعمال کی گئی ہے،صوبوں میں، پپی ملز کی طرح ڈپلومہ ہولڈرز موجود ہیں جو صرف ڈپلومہ حاصل کر رہے ہیں اور یہ طالب علم کیلئے جائز تجربہ نہیں ہے۔

    مارک ملر نے بین الاقوامی طلبا کو ممکنہ خطرات اور استحصال سے بچانے کے لیے حکومت کے عزم پر زور دیا،تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر صوبے کارروائی کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو وفاقی حکومت مداخلت کے لیے تیار ہے، بہت ہو چکا، اگر صوبے اور علاقے یہ نہیں کر سکتے تو ہم ان کے لیے کریں گے۔

    وزیرِ امیگریشن کے مطابق غیر قانونی قیام پذیر امیگرنٹس کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ کینیڈا میں 2025 تک پانچ لاکھ افراد کو امیگریشن دینے کے منصوبے کا حصہ ہے، حکومت کینیڈا کے نئے فیصلے کی تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔

    کینیڈین حکومت نے بین الاقوامی طلباء کے لیے 20 گھنٹے کام کی حد پر لگائی گئی پابندی پر عارضی امتناع کی مدت بڑھا دی ہے، طلبا اب 30 اپریل 2024 تک کیمپس سے باہر ہفتے میں 20 گھنٹے سے زیادہ کام کرنے کے اہل ہیں کینیڈا کی نئی اسٹوڈنٹ ویزا پالیسی میں متوقع طلبا کے لیے مالی ضرورت کو بڑھا کر 20,635 ڈالرز کر دیا جائے گا، جو کہ دیرینہ10,000 ڈالرز کی حد سے دوگنی ہے،علاوہ ازیں اب 18 ماہ کا مزید ورک پرمٹ حاصل کرنے کا اصول جنوری سے ختم کر دیا گیا ہے۔

    حکومت اس حوالے سے آئندہ موسمِ بہار میں باضابطہ تجویز کابینہ میں رکھے گی کینیڈا کی حکومت اگلے تین سال میں پناہ گزینوں کی مدد سے متعلق پروگرام کے تحت ایسے 51 ہزار 615 پناہ گزینوں کا خیر مقدم کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے جنہیں تحفظ کی اشد ضرورت ہے ان میں مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے ارکان، مشکل اور خطرناک حالات سے دوچار خواتین اور لڑکیاں، انسانی اسمگلنگ اور اذیت کا شکار ہونے والے افراد، روہنگیا پناہ گزین اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن شامل ہیں۔

  • کویت کے امیر شیخ نواف ا لاحمد الصباح وفات پاگئے

    کویت کے امیر شیخ نواف ا لاحمد الصباح وفات پاگئے

    کویت کے امیر شیخ نواف ا لاحمد الصباح وفات پاگئے،نواف الاحمد الصباح کی عمر 86برس تھی،

    کویت کے سرکاری میڈیا کی جانب سے امیر کویت شیخ نواف الاحمد الصباح کی وفات کی تصدیق کی گئی ہے، وہ علیل تھے اور ایک ماہ سے زیر علاج تھے، گزشتہ ماہ انہیں علاج کے لئے ہسپتال داخل کروایا گیا تھا تا ہم اسکے بعد انکی بیماری کے حوالہ سے کسی کو کچھ نہیں بتایا گیا،

    کویت کے سرکاری میڈیا کے مطابق امیر کویت شیخ نواف الاحمد الصباح نے مارچ 2021 میں بھی ایک غیر واضح بیماری کے علاج کی غرض سے امریکا کا دورہ کیا تھا،شیخ نواف الاحمد الصباح 2020 میں شیخ صباح الاحمد الصباح کی وفات کے بعد کویت کے امیر بنے تھے، امیر بننے سے پہلے شیخ نواف الاحمد الصباح کویت کے وزیر داخلہ اور وزیر دفاع بھی رہ چکے تھے

    سرکاری ویب سائٹ کے مطابق امیر کویت شیخ نواف 25 جون، 1937 کو کویت شہر میں متھانہ کمپلیکس کے مقام فراز الشویخ میں پیدا ہوئے تھے، وہ کویت کے دسویں حکمران شیخ احمد الجابر المبارک الصباح کے چھٹے بیٹے ہیں جو 1921 سے 1950 تک کویت کے امیر رہے.

    نگراں وزیراعظم کا امیر کویت کی وفات پر اظہار افسوس
    نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے امیر کویت شیخ نواف الاحمد الجابر الصباح کی وفات پر اظہار افسوس کیا ہے، نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ امیر کویت کی وفات کا سن کر دلی طور پر افسردہ ہوں،پاکستان غم کی اس گھڑی میں کویت کے شاہی خاندان اور کویتی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے، اللہ شیخ نواف الاحمد الجابر الصباح کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے،پاک کویت تعلقات کی مضبوطی پر شیخ نواف الاحمد الجابر الصباح کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،

  • دبئی میں ورلڈ ریڈیو کمیونیکیشن کانفرنس،وزیرکی غلفت،پاکستان کو شرمندگی کا سامنا

    دبئی میں ورلڈ ریڈیو کمیونیکیشن کانفرنس،وزیرکی غلفت،پاکستان کو شرمندگی کا سامنا

    پاکستانی حکام کی غفلت ، دبئی میں دنیا کے سامنے رسوائی اٹھانا پڑ گئی، وفد کانفرنس میں تو پہنچ گیا مگر خط نہ لے کر گیا، واجبات کی بھی عدم ادائیگی کی وجہ سے پاکستانی وفد کو ذلت اٹھانا پڑی، دبئی میں کانفرنس میں پاکستانی وفدنے صرف "سامعین” کی حد تک شرکت کی، نہ بولنے کا موقع ملا، نہ ڈائس پر بنے سٹیج پر پاکستانی پرچم لگایا گیا،وزیر آئی ٹی کی مبینہ غفلت،نااہلی کی وجہ سے پاکستان کو نہ صرف کانفرنس میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا بلکہ کانفرنس میں جانے کے اخراجات ،وہ بھی قومی خزانے سے ضیاع ہوا،

    دبئی میں انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین، ورلڈریڈیو کمیونیکیشن کانفرنس کا آغاز 20 نومبر سے ہوا تھا جو 15 دسمبر تک جاری رہی، کانفرنس میں پاکستان نے بھی شرکت کی تا ہم پاکستان کو دوران کانفرنس شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا، کانفرنس میں شرکت کے لئے پاکستان کے وزیر آئی ٹی نے وفد کو ایک خط دینا تھا ، وفد نے شرکت سے قبل وزیر آئی ٹی کو خط دیا تا ہم وہ خط ان کی میز پر ہی پڑا ر ہ گیا، خط پر دستخط نہ ہو سکے جس کی وجہ سے کانفرنس کے آخری روز کانفرنس میں شریک ممالک کے پرچم سٹیج پر لگائے گئے تاہم پاکستان کا پرچم نہیں لگایا گیا، پاکستان نے واجبات کی ادائیگی بھی نہیں کی تھی ، کانفرنس میں شریک پاکستانی وفد کانفرنس کے دوران تماشائی کا کردار ادا کرتے رہے،
    pakistani

    دبئی میں ہونے والی کانفرنس میں آخری روز شریک تمام ممالک کو بین الاقوامی دستاویز پر دستخط کرنے اور وصول کرنے کے لئے ڈائس پر بلایا گیا تا ہم پاکستان کو ڈائس پر نہیں بلایا گیا،پاکستانی مندوبین دیگر ممالک کے مندوبین کو ڈائس پر جاتا دیکھتے رہے،تاہم انہیں نہیں بلایا گیا ،اس کانفرنس میں پاکستان کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اسکی میڈیا میں کوئی خبر سامنے نہیں آئی ،حالانکہ یہ کانفرنس دنیا میں ٹیلی کام کے لئے اہم ترین کانفرنس تھی، آئی ٹی یو بھی دنیا کی اہم ترین اور پرانی تنظیم ہے ،پاکستان ماضی میں اس تنظیم کی کانفرنسز میں شریک ہو چکا ہے،یہ کانفرنس چار ہفتے جاری رہتی ہے اور دنیا میں ٹیلی کام تبدیلیوں پر بات چیت کی جاتی ہے .
    it

    رواں برس دبئی میں ہونیوالی کانفرنس چار ہفتے جاری رہی، ان چار ہفتوں میں ایک بار بھی پاکستانی وفد کے موجود ہونے کے باوجود پاکستانی پرچم ڈائس پر نمایاں نہیں کیا گیا بلکہ واجبات ادا نہ ہونے کی وجہ سے پہلے روز پاکستان کا نام سکرین پر "ڈیفالٹر” کے طور پر دکھایا گیا،اگر واجبات ادا نہ کئے ہوں تا کانفرنس میں شرکت کی جاسکتی ہے لیکن اس میں نہ تو گفتگو کا موقع دیا جاتا ہے اور نہ ہی ووٹنگ کا،کانفرنس کے لئے پاکستانی وفد نے خاص طور پر سپارکو سے پاکستان کے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے بہترین کام کیا گیا تا ہم حکومت کی غفلت کی وجہ سے پاکستانی مندوب کو شرمندگی اٹھانا پڑی،حکومت نے سرکاری خط کے ساتھ وفد کو نہیں بھیجا تھا،جسے "اسناد” کہاجاتا ہے،پاکستانی وفد نے وزیر آئی ٹی کو کئی بار یاددہانی کروائی کہ خط پر دستخط کر دیں تا ہم انہوں نے ایک ماہ تک خط پاس رکھا اور جب کانفرنس اپنے اختتام کو پہنچ رہی تھی ،تیس منٹ قبل وزیر آئی ٹی نے خط پر دستخط کئے،چار ہفتے تک خط پر دستخط نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کا جھنڈا کانفرنس میں نہیں لگایا گیا،

    عالمی ریڈیو کمیونیکیشن کانفرنسز ہر تین سے چار سال بعد منعقد کی جاتی ہیں، عالمی ریڈیو کمیونیکیشن کانفرنسوں کے ایجنڈے کا عمومی دائرہ کار چار سے چھ سال پہلے قائم کیا جاتا ہے، جس کا حتمی ایجنڈا ITU کونسل نے کانفرنس سے دو سال پہلے، رکن ممالک کی اکثریت کی رضامندی سے طے کیا تھا.

    دبئی میں انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین، ورلڈریڈیو کمیونیکیشن کانفرنس کے اختتام پر جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ عالمی ریڈیو کمیونیکیشن کانفرنس سپیکٹرم شیئرنگ اور تکنیکی جدت طرازی کو سپورٹ کرنے کے لیے ITU ریڈیو ریگولیشنز پر نظر ثانی کرتی ہے۔اپ ڈیٹ شدہ معاہدہ براڈ بینڈ کنیکٹیویٹی، زندگی کی حفاظت، خلا اور زمین کے مشاہدے کے لیے نیا سپیکٹرم مختص کرتا ہے۔انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے رکن ممالک نے دبئی میں عالمی ریڈیو کمیونیکیشن کانفرنس 2023 (WRC-23) کے اختتام پر، زمین اور خلا دونوں پر ریڈیو فریکوئنسی سپیکٹرم کے استعمال کو کنٹرول کرنے والے عالمی معاہدے پر نظرثانی پر اتفاق کیا۔ریڈیو ریگولیشنز کو اپ ڈیٹ کرنے کا معاہدہ تکنیکی جدت، عالمی رابطے کو گہرا کرنے، خلا پر مبنی ریڈیو وسائل تک رسائی اور ان کے مساوی استعمال کو بڑھانے اور سمندر، ہوا اور زمین پر حفاظت کو بڑھانے کے لیے نئے سپیکٹرم وسائل کی نشاندہی کرتا ہے۔

    آئی ٹی یو کے سیکرٹری جنرل ڈورین بوگڈن مارٹن نے کہا، "WRC-23 دنیا کو سب کے لیے زیادہ مربوط، پائیدار، مساوی اور جامع ڈیجیٹل مستقبل کی طرف ایک ٹھوس راستے پر ڈالتا ہے۔ ریڈیو سروسز عالمگیر رابطے اور پائیدار ڈیجیٹل تبدیلی کے حصول کے لیے آئی ٹی یو کے جاری کام کی رفتار پر استوار ہیں۔”کل 151 رکن ممالک نے WRC-23 فائنل ایکٹس پر دستخط کیے ہیں،

    انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین ، اقوام متحدہ کی معلومات اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز کے لیے خصوصی ایجنسی ہے، جو 193 رکن ممالک اور 900 سے زیادہ کمپنیوں، یونیورسٹیوں، اور بین الاقوامی اور علاقائی تنظیموں کے ساتھ مل کر ICTs میں جدت طرازی کرتی ہے۔ یہ 150 سال پہلے قائم کی گئی،

    نوٹ، اس خبر پر وزیر آئی ٹی اگر موقف دینا چاہیں گے تو اسے باغی ٹی وی پر من و عن شائع کیا جائے گا

  • اسرائیل نے غزہ میں تین یرغمالیوں کو مارنے کا اعتراف کر لیا

    اسرائیل نے غزہ میں تین یرغمالیوں کو مارنے کا اعتراف کر لیا

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے لے کر اب تک اسرائیل کے غزہ پر حملے جاری ہیں، سات روزہ جنگ بندی ہوئی تا ہم اس کے بعد اسرائیل نے دوبارہ حملے شروع کر دیئے، حماس نے سات اکتوبر کو کئی اسرائیلی شہریوں کو یرغمال بنایا تھا، اب اسرائیلی فوج نے غزہ میں تین یرغمالیوں کو خود ہی مارنے کا اعتراف کیا ہے

    حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کو غزہ میں رکھا ہوا ہے، کئی یرغمالی جنگ بندی کے دوران رہا ہوئے تا ہم کئی اب بھی حماس کے قبضے میں ہیں، اسرائیلی فوج نے غزہ میں تین یرغمالیوں کو گولیاں مار دیں اور پھر اعتراف کیا کہ غلطی سے خطرہ سمجھ کر گولیاں ماریں،جس سے یرغمالیوں کی موت ہو گئی

    اسرائیلی فوج سے جاری بیان کے مطابق شجائیہ میں اسرائیلی فوج نے تین اسرائیلی یرغمالیوں کو خطرہ سمجھا اور گولی مار دی،واقعہ کے بعد اسرائیلی فوج نے تحقیقات شروع کر دی ہیں تا ہم اس سے ہمیں یہ سبق ملا ہے کہ ہمیں یرغمالیوں کو بچانے کے لئے مزید محتاط ہو نا ہو گا، اس ضمن میں غزہ میں تمام اسرائیلی فوجیوں کو الرٹ کر دیا گیا ہے.اسرائیلی فوج کی گولیوں سے ہلاک دو یرغمالیوں کی شناخت اسرائیلی فوج نے ظاہر کر دی ہے، جبکہ تیسرے کے بارے میں کہا گیا ہے کہ خاندان کے کہنے پر شناخت ظاہر نہیں کی جا رہی،مرنیوالے دو یرغمالیوں میں یوتم ہیم اور سیمر الطلالقہ شامل ہیں، جنہیں حماس نے سات اکتوبر کو یرغمال بنایا تھا.

    دوسری جانب اسرائیلی حملے میں الجزیرہ ٹی وی کے سینئر رپورٹر وائل الدحدوح زخمی ہوگئے ہیں،اسرائیل نے خان یونس میں حیفا سکول کی تباہی کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے قریب بمباری کی، جس سے صحافی وائل الدحدوح زخمی ہو گئے،انکے ہاتھ اور کمر پر زخم آئے،وائل الدحدوح کی اہلیہ، بیٹا اور بیٹی 25 اکتوبر کو اسرائیلی فوج کی بمباری میں شہید ہو چکے ہیں،

    اسرائیل اورحماس کے درمیان 7 اکتوبر کو جنگ شروع ہوئی تھی،اسرائیلی حملوں میں 18 ہزار سے زائد فلسطینی شہری شہید ہوچکے ہیں جبکہ 50 ہزار سے زائد زخمی ہیں،اسرائیل اور حماس کے مابین قطر کی کوششوں سے سات روزہ عارضی جنگ بندی ہوئی تھی تا ہم سات دنوں کے بعد دوبارہ جنگ شروع ہو گئی،اس جنگ بندی کے دوران دونوں اطراد سے قیدیوں کی رہائی ہوئی تھی،اب بھی جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں تا ہم اب اسرائیل نے موساد کے ڈائریکٹر ڈیوڈ بارنیا کا قطرکا طے شدہ دورہ منسوخ کردیا ہے

    موساد کے ڈائریکٹر نے دوحہ کا سفر کرنا تھا مگر اب اسرائیلی حکومت نے انہیں منع کر دیا وہ دوحہ نہیں جا رہے، جنگ بندی کے لئے پہلے بھی کوشش قطر میں ہوئی تھی جس کے نتیجے میں یرغمالی رہا ہوئے تھے،قبل ازیں 13 دسمبر کو اسرائیلی چینل نے رپورٹ میں کہا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی قیادت میں اسرائیلی جنگی کابینہ نے دورہ منسوخ کردیا اورسینئراسرائیلی افسران بات چیت پھر سے شروع کرنے کے لئے قطر نہیں جائیں گے۔ سی این این کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم دفتر کا ماننا ہے کہ غزہ میں 135 یرغمالی بچے ہیں، جن میں سے 115 زندہ ہیں۔ سی این این نے کئی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اسرائیل، امریکہ اور قطر نے بات چیت شروع کرنے کے طریقوں پرغوروخوض جاری رکھا ہواہے

    اسرائیلی یرغمالیوں کے خاندان موساد چیف کے قطر کا دورہ منسوخ ہونے پر سراپا احتجاج ہیں اور اسرائیلی حکومت سے جواب طلبی کر رہے ہیں، خاندانوں کا کہنا ہے کہ ہم تنگ آ چکے ہیں، ہمارے پیاروں کو واپس لایا جائے،حکومت بے حسی ختم کرے،

  • غزہ جنگ:اسرائیل کی 2023 کے لیےمزید ضمنی بجٹ کی منظوری

    غزہ جنگ:اسرائیل کی 2023 کے لیےمزید ضمنی بجٹ کی منظوری

    اسرائیل کی پارلیمنٹ نے قومی بجٹ میں مزید 25.9 بلین شیکل (7 بلین ڈالر) کا اضافہ کرنے کی منظوری دی ہے-

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق جمعرات کو اسرائیلی پارلیمنٹ نے قومی بجٹ میں 7 بلین ڈالر کی منظوری دی تاکہ غزہ جنگ کے اخراجات کو پورا کیا جا سکے جیسا کہ فوجی ارکانِ محفوظہ کے لیے معاوضہ اور اندرونی طور پر بے گھر ہونے والوں کے لیے ہنگامی رہائش –

    کنیسیٹ کے ایک ترجمان نے کہا کہ 2023 کے بجٹ کو بڑھا کر 510 بلین شیکل ($ 139 بلین) کر دینے والی اس ترمیم کی توثیق 59 قانون سازوں نے حق میں ووٹ دے کر کی جبکہ 45 نے مخالفت کی اسرائیل نے مئی میں 2024 کے بجٹ کے ساتھ 2023 کا اصل بجٹ پاس کیا۔

    مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی مسجد کی بے حرمتی

    دوسری جانب غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی جنگ کے دوران فلسطینی مزاحمت کاروں کی طرف سے سات اکتوبرکے بعد اسرائیلی فوج کوایک دن میں دوسرا بڑا جانی نقصان پہنچایا ہےاسرائیلی عسکری، سیاسی اورعوامی حلقوں میں اس حملے پر بحث جاری ہے جس میں ایک درجن کے قریب اسرائیلی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

    ایک اسرائیلی اخبار کے مطابق اسرائیلی فوج میں گولانی بریگیڈ کو "تکلیف دہ دھچکے” کا نشانہ بنایا گیا جب وہ منگل کے روز غزہ کی پٹی کے مشرق میں واقع الشجاعیہ محلے میں "القسام” بریگیڈ کی گوریلا کارروائی کا شکار ہو ابتدائی طور پر اس حملے میں نو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف کیا گیا جب کہ متعدد زخمی ہوئے۔ یہ جھڑپ اڑھائی گھنٹے تک جاری ہی۔

    بغیر اجازت انٹرویو شہریوں کی پرائیویسی میں دخل اندازی ہے،لاہور ہائیکورٹ

    اخباری نے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گولانی بریگیڈ کے کمانڈر کرنل یائر بلے نے اس واقعے کے بعد اپنے سپاہیوں سے خطاب کیا اور کہا کہ "حملہ تکلیف دہ تھا ہم نے اچھے دوستوں، جنگجوؤں اور لیڈروں کو کھو دیا‘‘۔

  • مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج  کی مسجد کی بے حرمتی

    مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی مسجد کی بے حرمتی

    فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں صیہونی فوج نے محاصرے کے دوران جنین کیمپ میں مسجد کی بے حُرمتی کی۔

    باغی ٹی وی : غزہ کے ساتھ فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی فوج کی اشتعال انگیز کارروائیاں جاری ہیں،سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں اسرائیلی فوجی جوتوں سمیت مسجد میں گُھس گئے، مسجد میں اپنی عبادات کیں، اپنے مذہبی تہوار کے گیت بھی مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے نشر کیے۔
    https://x.com/TurkiyeUrdu_/status/1735249416452198889?s=20
    https://x.com/TurkiyeUrdu_/status/1735280995539009643?s=20
    اسرائیلی میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد اسرائیلی فوج نے فوجیوں کو ڈیوٹی سے ہٹا دیا ہے۔
    https://x.com/TurkiyeUrdu_/status/1735309335302176895?s=20
    دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن کے اسٹاف نے وہائٹ ہاؤس کے باہر غزة میں جنگ بندی کے لئے احتجاجی مظاہرہ کیا اور امریکی صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو جنگ بندی پر مجبور کرے اور غزہ کے معصوم عوام پر بمباری بند کرے،، فلسطینیوں کی نسل کشی کا سلسلہ روکا جائے،، انسانی امداد کو غزہ کے متاثرین تک پہنچایا جائے-
    https://x.com/TurkiyeUrdu_/status/1734875301006495988?s=20
    فلسطینی وزارت تعلیم کے مطابق 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی جارہیت میں غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں 3 ہزار 714 طالب شہید ہوئے ہیں جب کہ 5 ہزار 700 طالب علم زخمی بھی ہوئے ہیں غزہ میں شہید طالب علموں کی تعداد 3 ہزار 679 اور مقبوضہ مغربی کنارے میں 35 طالب علم اسرائیلی جارحیت کا شکار ہوئے ہیں،7 اکتوبر کے بعد سے اسرائیلی کارروائیوں میں غزہ میں 209 اساتذہ اور اسکول انتظامیہ کے عہدیدار بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ 619 زخمی ہوئے مقبوضہ مغربی کنارے میں دو اساتذہ زخمی ہوئے جب کہ 65 کو گرفتار کیا گیا۔
    https://x.com/TurkiyeUrdu_/status/1734582481230139715?s=20
    https://x.com/TurkiyeUrdu_/status/1735215074619597012?s=20
    ادھر خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ ریم السلیم کا کہنا ہےکہ غزہ میں اسرائیلی بمباری میں شہید خواتین اور بچوں کی تعداد حالیہ تنازعات میں سب سے زیادہ ہے، غزہ میں شہید فلسطینیوں میں 70 فیصد سے زیادہ خواتین اور بچے ہیں غزہ میں مصائب اور ہولناکیوں کی ناقابل بیان سطح کو بیان کرنےکے لیے الفاظ ختم ہو چکے ہیں، اس جہنم میں فلسطینی عورت یا بچہ ہونے کا مطلب ہےکہ انسانیت، حفاظت یا کسی خاص تحفظ کو چھین لیا جائے۔
    https://x.com/TurkiyeUrdu_/status/1734954161177755720?s=20
    اسرائیلی فوج کی بربریت سے غزہ میں انسان، حیوان، شجر اور حجر کوئی بھی محفوظ نہیں محلے ملبے کا ڈھیر بنانے کے بعد قبرستانوں کو بھی نہیں بخشا جا رہا قابض فوج نے کئی مقامات پر ٹینکوں اور بلڈوزروں کی مدد سے قبریں بھی رونڈ ڈالیں اور بربریت کی نئی تاریخ رقم کی ہے صہیونی فوج نے الزیتون کالونی میں قبرستان اکھاڑ پھینکے قبروں سے لاشیں نکال پھینکیں اورقبروں کا نام ونشان بھی مٹا دیا –
    https://x.com/TurkiyeUrdu_/status/1735259581339844680?s=20
    اسرائیلی بلڈوزر نے غزہ شہر کے شمال میں جبالیہ کے علاقے میں قبروں کواکھاڑ پھینکا ٹینکوں نے جبالیہ میں الفلوجہ محلے میں قبروں کے پتھروں کو روندنے اور کچلنے کے بعد تباہ کر دیا، اسرائیلی ٹینکوں نے سینکڑوں قبروں کو بلڈوز کر کے ان کے اندر موجود قبروں کو کچرے کے ڈھیروں کے ساتھ ساتھ ان سے مردہ افراد کی لاشیں نکال دیں۔

  • 11 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود سپر نووا کی باقیات کی تصاویر جاری

    11 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود سپر نووا کی باقیات کی تصاویر جاری

    واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے زمین سے 11 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود سپر نووا کی باقیات کی تصاویر جاری کر دیں۔

    باغی ٹی وی:ناسا کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر میں زمین سے 11 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود کیسیوپیا اے (کیس اے) نامی ستارے کے اندر دھول کے خول کو دیکھا جاسکتا ہے جبکہ ٹیلی اسکوپ میں نصب نیئر انفرا ریڈ کیمرا (این آئی آر کیم) نے کیس اے کے باقیات کو عکس بند کیا ہے،تصویر میں کیس اے کی باقیات میں موجود جامنی رنگ کی شے کو واضح دیکھا جا سکتا ہے جو دراصل آئیونائزڈ گیس کی جانب اشارہ کرتی ہے۔
    https://x.com/NASAWebb/status/1734020677311639828?s=20
    ناسا کے مطابق ، ماہرین فلکیات اب کیس اے مطالعہ میں ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ اپریل 2023 میں، Webb’s MIRI (Mid-Infrared Instrument) نے اس باب کا آغاز کیا، جس میں سپرنووا کے باقیات کے اندرونی خول کے اندر نئی اور غیر متوقع خصوصیات کا انکشاف ہوا۔ ان میں سے بہت سی خصوصیات نئی این آئی آر کیم تصویر میں پوشیدہ ہیں، اور ماہرین فلکیات اس کی وجہ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
    nasa
    پرڈو یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈینی مِلیوسیولجوک کا ناسا کی پریس ریلیز میں کہنا تھا کہ کیس اے تقریباً 340 سال قبل دھماکے سے پھٹا جس کے بعد اس کی جگہ شیشے کی باریک کرچیوں جیسی دھاریاں رہ گئی اتنے برس تک کیس اے پر مطالعہ کرنے کے بعد اب معلومات کا حاصل ہونا ناقابلِ یقین ہے یہ معلومات سائنس دانوں کو یہ جاننے میں مدد دے گی کہ یہ ستارہ پھٹا کیسے۔
    nasa
    پرنسٹن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ٹی ٹیمِ نے پریس ریلیز میں کہا کہ کیس اے کی پہلی تصاویر اپریل میں جاری کی گئی تھیں جن میں ایسی تفصیلات سامنے آئیں جن تک سائنس دانوں کو پہلے رسائی نہیں تھی تصویر میں موجود سفید رنگ سِنکروٹرون شعاعوں سے پیدا ہونے والی روشنی ہے، جو مقناطیسی فیلڈ لائنز کے گرد انتہائی تیزی سے گھومتے ہوئے سفر کرنے والے چارجڈ ذرات کے سبب خارج ہو رہی ہے۔

  • دل اپنا اور پریت پرائی

    دل اپنا اور پریت پرائی

    دل اپنا اور پریت پرائی
    کس نے ہے یہ ریت بنائی

    شیلیندر

    ہندوستان کے نامور فلمی نغمہ نگار شنکر داس کیسری لال المعروف شیلیندر 30؍اگست 1923ء کو پنجاب کے شہر راولپنڈی (پاکستان) میں پیدا ہوئے، انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ممبئی میں انڈین ریلویز میں نوکری سے کیا تھاملازمت کے سلسلے میں وہ اکثر سفر میں بھی رہتے تھے۔

    اس کے باوجو وہ اپنا زیادہ تر وقت نظمیں لکھنے میں ہی گزارتے تھے جس کی وجہ سے ان کے افسران ان سے ناراض رہتے تھےانہوں نے بالی وڈ میں دو دہائی تک تقریباً 170 فلموں میں زندگی کے ہر فلسفہ اور ہر رنگ پر بے شمار نغمے لکھے جو آج بھی دنیا بھر میں شوق سےسنے جاتے ہیں ان کےنغموں کی کشش، دھیما پن اور لوچ ایسا تھا جس کی کیفیت سننے والے ہی بیان کرسکتے ہیں، انہوں نے اپنے نغموں کے ذریعے زندگی کے ہر پہلو کو اجاگر کیا ہے،شیلیندر 14؍دسمبر 1966ء کو بمبئی میں انتقال کر گئے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔

    دل اپنا اور پریت پرائی
    کس نے ہے یہ ریت بنائی
    آندھی میں اِک دیپ جلایا
    اور پانی میں آگ لگائی

    ہے درد ایسا کہ سہنا ہے مشکل
    دنیا والوں سے کہنا ہے مشکل
    گِھر کے آیا ہے طوفان ایسا
    بچ کے ساحل پہ رہنا ہے مشکل

    دل کو سمبھالا نہ دامن بچایا
    پھیلی جب آگ تب ہوش آیا
    غم کے مارے پکاریں کسے ہم
    ہم سے بچھڑا ہمارا ہی سایہ

    دل اپنا اور پریت پرائی
    کس نے ہے یہ ریت بنائی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کھویا کھویا چاند
    کھلا آسمان
    آنکھوں میں ساری رات جائے گی
    تم کو بھی کیسے نیند آئے گی

    کھویا کھویا چاند.

    مستی بھری ہوا جو چلی
    کھل کھل گئی یہ دل کی کلی
    من کی گلی میں ہے کھلبلی
    کہ ان کو تو بلاؤ

    کھویا کھویا چاند.

    تارے چلے نظارے چلے
    سنگ سنگ مرے وہ سارے چلے
    چاروں طرف اشارے چلے
    کسی کے تو ہوجاؤ

    کھویا کھویا چاند.
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایسے میں کس کو
    کون منائے ؟

    دن ڈھل جائے ہائے
    رات نہ جائے
    تُو تو نہ آئے تیری
    یاد ستائے

    پیار میں جن کے
    سب جگ چھوڑا
    اور ہُوئے بدنام
    اُن کے ہی ھاتھوں
    حال ہوا یہ
    بیٹھے ہیں دل کو تھام
    اپنے کبھی تھے
    اب ہیں پرائے

    دن ڈھل جائے ہائے

    ایسی ہی رِم جِھم
    ایسی پُھواریں
    ایسی ہی تھی برسات۔۔۔۔
    خود سے جُدا اور
    جگ سے پرائے
    ہم دونوں تھے ساتھ۔۔۔۔
    پھر سو وہ ساون
    اب کیوں نہ آئے

    دن ڈھل جائے ہائے

    دِل کے میرے
    پاس ہو اتنے
    پِھر بھی ہو کتنی دور
    تم مجھ سے
    میں
    دِل سے پریشاں
    دونوں ہیں مجبور۔۔۔۔
    ایسے میں کس کو
    کون منائے

    دن ڈھل جائے ہائے

    دن ڈھل جائے ہائے
    رات نہ جائے
    تُو تو نہ آئے تیری
    یاد ستائے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وکیپیڈیا سے ماخوذ

  • پریگنینسی میں خواتین کو متلی اور الٹی کیوں آتی ہے؟تحقیق

    پریگنینسی میں خواتین کو متلی اور الٹی کیوں آتی ہے؟تحقیق

    تمام حاملہ خواتین میں سے تقریباً نصف سے دو تہائی کو کسی حد تک خاص طور پر پہلی سہ ماہی میں مارننگ سکنس کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی علامات میں متلی اور الٹی شامل ہیں-

    باغی ٹی وی : اس مسئلے کے لیے طبی زبان میں مارننگ سکنس (sickness) کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے، کیونکہ یہ بیماری دن کے اوائل میں بدترین ہوتی ہے، لیکن یہ دن یا رات کے کسی بھی وقت حملہ کر سکتی ہے مگر اب تک یہ معلوم نہیں تھا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے،اب پہلی بار اس کی ممکنہ وجہ دریافت کی گئی ہے جس سے اس کے علاج میں مدد مل سکے گی۔

    زیادہ تر خواتین کے لیے، مارننگ سکنس حمل کے چوتھے ہفتے کے آس پاس شروع ہوتی ہے اور 12 سے 14 ہفتوں تک ٹھیک ہو جاتی ہے۔ تاہم، 5 میں سے 1 عورت اپنی دوسری سہ ماہی میں اس بیماری کو برداشت کرتی ہے، اور چند خواتین کو اپنی حمل کی پوری مدت تک متلی اور الٹی کا سامنا کرنا پڑتا ہے زیادہ تر معاملات میں، مارننگ سکنس عورت یا پیدا ہونے والے بچے کو نقصان نہیں پہنچاتی ہے۔ تاہم، شدید مارننگ سکنس جس میں وزن میں کمی اور پانی کی کمی شامل ہے، فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔

    امریکا کی سدرن کیلیفورنیا یونیورسٹی کی اس تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ ایک مخصوص ہارمون حاملہ خواتین میں متلی اور الٹیوں کی شکایت بڑھانے کا باعث بنتا ہے، 80 فیصد حاملہ خواتین کو قے اور متلی جیسے اثرات کا سامنا ہوتا ہے اور کچھ میں اس کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے جس کے باعث اسپتال کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

    مارننگ سکنس کی علامات میں متلی، بھوک میں کمی،قے،نفسیاتی اثرات، جیسے ڈپریشن اور اضطراب شامل ہیں،اس نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ جی ڈی ایف 15 نامی ہارمون کی سطح حمل کی پہلی سہ ماہی کے دوران نمایاں حد تک بڑھ جاتی ہے،تحقیق میں قے اور متلی جیسی علامات کو اس ہارمون کی سطح میں اضافے سے منسلک کیا گیا ہے۔

    یہ ہارمون دماغ کے ایک بہت چھوٹے حصے پر کام کرتا ہے اور متلی اور تکلیف کی نشاندہی کرتا ہے جو خواتین میں قے کا سبب بنتا ہے، حاملہ خواتین جو جی ڈی ایف 15 کے لیے زیادہ حساس ہیں وہ دن میں 50 بار متلی اور قے کا تجربہ کرسکتی ہیں۔

    انگلینڈ کی کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر سٹیفن او راہیلی کا کہنا ہے کہ ماں اس ہارمون کے بارے میں جتنی زیادہ حساس ہو گی، وہ اتنی ہی زیادہ بیمار ہو سکتی ہے،یہ جاننے سے ہمیں ایک اشارہ ملتا ہے کہ ہم اسے ہونے سے کیسے روک سکتے ہیں۔

    خیال کیا جاتا ہے کہ 100 میں سے ایک یا کبھی کبھار تین حاملہ خواتین ایچ جی سے متاثر ہوتی ہیں، ایک ایسی بیماری جو جنین کی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ بہت سی خواتین جو اس کا شکار ہوتی ہیں انھیں پانی کی کمی سے بچنے کے لیے فلیوئڈز کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔

    تحقیق کےمطابق اس ہارمون کی سطح میں کمی یا اس کےافعال کو بلاک کرنے سے مارننگ سکنس کی روک تھام بھی کی جا سکتی ہے ،محققین نے بتایا کہ زیادہ تر حاملہ خواتین کو مارننگ سکنس کا سامنا ہوتا ہے جو خوشگوار تو نہیں ہوتا مگر کچھ خواتین میں اس کی شدت بدترین ہوتی ہے، ہم اب جان چکے ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔

    ہارمونز کی اعلی سطح، بشمول ایسٹروجن، بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ، خاص طور پر کم بلڈ پریشر، کاربوہائیڈریٹ کی میٹابولزم میں تبدیلی، بہت زیادہ جسمانی اور کیمیائی تبدیلیاں جو حمل کو متحرک کرتی ہیں،کچھ خواتین کو خدشہ ہے کہ الٹی کی کارروائی سے ان کے پیدا ہونے والے بچے کو خطرہ ہو سکتا ہے الٹی اور ریچنگ پیٹ کے پٹھوں میں دباؤ ڈال سکتی ہے اور مقامی طور پر درد اور درد کا سبب بن سکتی ہے، لیکن الٹی کی جسمانی میکانکس بچے کو نقصان نہیں پہنچائیں گی۔

    متعدد مطالعات سے پتہ چلا ہے کہ اعتدال پسند صبح کی بیماری اسقاط حمل کے کم خطرے سے وابستہ ہے تاہم، طویل الٹی (جو پانی کی کمی اور وزن میں کمی کا باعث بنتی ہے) آپ کے بچے کو مناسب غذائیت سے محروم کر سکتی ہے اور آپ کے بچے کا پیدائش کے وقت کم وزن ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے-

    جرنل نیچر میں شائع تحقیق میں محققین کے مطابق جب ماں کے پیٹ میں بچے کی نشوونما ہوتی ہے تو ایک ہارمون کی سطح بڑھتی ہے، ماں کا جسم اس ہارمون کا عادی نہیں ہوتاخاتون کا جسم اس ہارمون کے حوالے سے جتنا زیادہ حساس ہوگا، مارننگ سکنس کی شدت اتنی زیادہ ہوگی۔

    تحقیق کے دوران مادہ چوہوں میں اس ہارمون کی سطح میں کمی لانے سے مارننگ سکنس کی روک تھام کا تجربہ کامیاب رہا تھا،اب تحقیقی ٹیم کی جانب سے اس طریقہ کار کو خواتین میں آزمایا جائے گا تاکہ معلوم ہوسکے کہ یہ طریقہ کار مارننگ سکنس کی روک تھام کے لیے کس حد تک مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

    اگرچہ پہلے سامنے آنے والی طبی تحقیقات سے ہم یہ تو جاننے میں کامیاب ہوئے تھے کہ حمل کے دوران اس کیفیت یا بیماری کو جی ڈی ایف 15 سے منسلک کیا جاسکتا ہے، لیکن اب یہ معلوم ہو پایا ہے کہ ہم اس کے بارے اب تک بہت سی چیزوں سے نا واقف تھے۔

    نیچر نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس نئی تحقیق میں کیمبرج یونیورسٹی، سکاٹ لینڈ، امریکہ اور سری لنکا کے سائنسدانوں نے حصہ لیا، جس سےمعلوم ہوا کہ حمل کےدوران خاتون کی بیماری کا تعلق بچہ دانی میں بننے والے ہارمون کی مقدار سےہےجتنے زیادہ ہار مو ن پیدا ہوں گے اتنی زیادہ بیماری کی علامات ظاہر ہوں گیں۔

    تحقیق میں انہوں نے کیمبرج کے روزی میٹرنٹی ہاسپٹل میں خواتین کا مطالعہ کیا اور پایا کہ جن خواتین میں جینیاتی قسم ایچ جی کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے ان میں ہارمون کی سطح کم ہوتی ہے جبکہ خون کی خرابی بیٹا تھیلیسیمیا میں مبتلا خواتین جو حمل سے قبل جی ڈی ایف 15 کی بہت زیادہ سطح کا سبب بنتی ہیں، ان میں ہارمون کی سطح کم ہوتی ہے۔ انھیں بہت کم متلی یا قے کا سامنا کرنا پڑا۔

    یونیورسٹی آف کیمبرج میڈیکل ریسرچ کونسل میں میٹابولک ڈیزیز یونٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر او راہیلی نے وضاحت کی کہ ہارمون کو ماں کے دماغ میں اس کے انتہائی مخصوص ریسیپٹر تک رسائی سے روکنا بالآخر اس عارضے کے علاج کے لیے ایک مؤثر اور محفوظ طریقہ کی بنیاد بنے گا۔