Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • بھارتی پارلیمنٹ میں گھسنے والے بھگت سنگھ کے پیروکار نکلے،جسمانی ریمانڈ منظور

    بھارتی پارلیمنٹ میں گھسنے والے بھگت سنگھ کے پیروکار نکلے،جسمانی ریمانڈ منظور

    بھارتی پارلیمنٹ میں گزشتہ روز دو افراد کے گھسنے کے واقعہ پر آج لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن جماعتوں نے ہنگامہ آرائی کی جس پر ایوانوں‌کی کاروائی ملتوی کر دی گئی،ملزمان کو سات روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا

    بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں ناقص سکیورٹی کے معاملے پر زبردست ہنگامہ آرائی کی، لوک سبھا میں ارکان پارلیمنٹ نے نعرے بازی کرتے ہوئے ہنگامہ کیا،جس کی وجہ سے اسپیکر اوم برلا کو ایوان کی کارروائی ملتوی کرنی پڑی،ایوان کی کاروائی شرو ع ہوئی تو اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کھڑے ہو گئے اور ایوان کی سیکورٹی کو لے کر حکومت کے خلاف نعرے بازی کی، اراکین سپیکر کی کرسی کے سامنےبھی آ گئے جس پر سپیکر نے اجلاس ملتوی کر دیا

    راجیہ سبھا میں بھی اپوزیشن اراکین نے ہنگامہ آرائی کی اور وزیر داخلہ سے وضاحت طلب کی، کانگریس، ترنمول کانگریس، آر جے ڈی، جے ڈی یو، اے اے پی سمیت کئی اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان پارلیمنٹ سیکورٹی کے مسئلہ پر بحث کے دوران نعرے لگاتے رہے،ہنگامہ آرائی کی وجہ سے ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ڈیرک اوبرائن کو اسپیکر نے فوری طور پر ایوان سے نکلنے کا حکم دیا تھاجس کے بعد اپوزیشن ارکان اسمبلی اسپیکر کی نشست کے بالکل سامنے کنویں میں آگئے اور نعرے بازی شروع کردی.

    دوسری جانب لوک سبھا میں سیکورٹی میں غفلت برتنے والے عملے کے آٹھ افراد کو معطل کر دیا گیا ہے، ابتدائی تحقیقات میں آٹھ اراکین سیکورٹی کوتاہی کے ذمہ دار قرار پائے،

    لوک سبھا کے اندر اور باہر سے گرفتار چاروں ملزمان کو آج پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پیش کیا گیا، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، پولیس نے ملزمان کے 15 روز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تا ہم عدالت نے سات دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا،پراسکیوشن نے چاروں ملزمان پر دہشت گردی کا الزام عائد کیا ہے،

    گزشتہ روز لوک سبھا کے اندر سے دو اور باہرسے دو افراد کوگرفتار کیا گیا تھا، ان سے تحقیقات جاری ہیں، تا ہم اس واقعہ میں دو اور ملزم بھی ہیں جو انکے ساتھ تھے،ایک میاں بیوی گھر سے ملزمان کے ساتھ رابطے میں تھے ،میاں کو گرفتار کر لیا گیا تا ہم خاتون ابھی تک گرفتار نہیں ہو سکی،پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق ساگر شرما لکھنو کا رہائشی ہے، ڈی منورنج کرناٹک سے ہے، پارلیمنٹ کے باہر سے گرفتار خاتون نیلم حصار کی رہائشی ہے،امول شندےلاتور کا رہائشی ہے،ساگر اور ڈی منورنجن نے وزیٹر پاس بی جےپی رکن اسمبلی پرتاپ سہما کے نام پر لئے تھے،پولیس کے مطابق سب ملزمان نے آن لائن میٹنگ کی اور پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی کا منصوبہ بنایا،اب تک ملزمان کے کسی دہشت گرد گروپ سے تعلق کے کوئی شواہد نہیں ملے،

    پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاج کرنیوالی نیلم کون؟
    نیلم کی عمر 42 سال ہے اور وہ استاد ہے، سول سروسز بھی پڑھ رہی ہے،نیلم ہریانہ کے ضلع جنڈ ضلع کے گاؤں گھسو خورد کی رہائشی ہے، اور وہ پچھلے چھ ماہ سے حصار میں مقیم تھی، وہ سول سروس امتحان کی تیاری کر رہی ہے،نیلم کے گاؤں اور حصار میں جہاں وہ مقیم تھی ،قریبی افراد کا کہنا ہے کہ نیلم کو سیاست سے دلچسپی تھی تاہم پارلیمنٹ کے باہر احتجاج سمجھ سے بالاتر ہے، نیلم کے چھوٹے بھائی رام نواس کا کہنا ہے کہ ہمیں تو معلوم ہی نہیں تھا کہ نیلم دہلی گئی ہے،وہ پیر کو گھر آئی تھی اور منگل کو واپس چلی گئی، ہم نے سمجھا حصار گئی لیکن وہ ہمیں بتائے بغیر ہی دہلی پہنچ گئی،نیلم نے کسان تحریک کے احتجاج میں بھی شرکت کی تھی، میرے ایک بڑے بھائی ہیں اور والدین ہیں، والدحلوائی ہیں جبکہ بھائی دودھ کا کام کرتے ہیں.

    indian

    ساگر کے والد بڑھئی، بیٹا جھگڑالو نہیں ہے،والدہ
    پارلیمنٹ کی وزیٹر گیلری میں چھلانگ لگانے والے دو افراد میں سے ساگر لکھنو کا رہائشی ہے، ساگر کا خاندان عالم باغ کے علاقے رام نگر میں ایک کرائے کے گھر میں رہتا ہے،لکھنو پولیس تحقیقات کے لئے ساگر کے گھر گئی، ساگر کی ماں رانی شرما نے پولیس کو بتایا کہ ساگر کہہ کر نکلا تھاکہ وہ احتجاج کرے گا، ساگر کی چھوٹی بہن کا کہنا تھا کہ بھائی چار دن قبل دہلی گیا تھا تا ہم کچھ بتایا نہیں تھا، وہ دو ماہ گھر رہا ہے اور دو ماہ قبل بنگلورو سے واپس آیا تھا،ساگر کا خاندان 15 برسوں سے لکھنو میں رہ رہا ہے، ساگر کے والد روشن لال بڑھئی ہیں،ساگر کی ماں کے مطابق ان کےبیٹے نے کبھی کسی سے لڑائی جھگڑا نہیں کیا،ساگر کی ایک ہی بہن ہے ،ساگر کی والدہ کا کہنا تھا کہ ساگر بہت سادہ ہے پتہ نہیں دہلی کیسے پہنچا،ہم نہیں جانتے،ساگر کے دہلی پہنچنے پر ساگر کے پڑوسی بھی حیران تھے

    indian

    بیٹے نے غلط کیا تو پھانسی دے دیں، والد ڈی منورنجن
    ڈی منورنجن کرناٹک کے میسور کارہائشی ہے، منورنجن نے 2016 میں انجینئرنگ میں بیچلر مکمل کیا،اس کے بعد اس نے دہلی اور بنگلور کی کچھ کمپنیوں میں ملازمت بھی کی تا ہم اب وہ خاندان کے ساتھ کھیتی باڑی کا کام کر رہا تھا،منورنجن کے والد دیوراجے گوڑا کا کہنا ہے کہ اگر میرےبیٹے نے غلط کیا تو بے شک اسے پھانسی دے دیں ، پارلیمنٹ ہماری ہے جس کو بنانے میں گاندھی اور نہرو جیسے رہنماؤں نے محنت کی تھی، تاہم منورنجن کے والد کا یہ بھی کہنا تھا کہ انکا بیٹا سچا اور ایماندار ہے،اس کی خواہش تھی کہ وہ معاشرے کےلئے اچھے کام کرے، دوسروں کے کام آئے،

    بھارتی فوج میں بھرتی کا کہہ کر امول شندے پارلیمنٹ پہنچ گیا
    امول شندے جس کی عمر 25 برس ہے اور وہ مہاراشٹر کے جری گاؤں کا باسی ہے،امول شندے نےگریجویشن تک تعلیم حاصل کر رکھی ہے، اس نے بھارتی فوج اور پولیس میں بھرتی کے لئے امتحان کی تیاری بھی کی ہے،امول کے والدین اور دو بھائی ہیں، جو مزدوری کرتے ہیں، امول اپنے گھر بتا کر نکلا تھا کہ وہ فوج میں بھرتی ہونے کے لئے جا رہا ہے، وہ پہلے بھی نوکری کی تلاش کے لئے کئی بار گھر سے جا چکا تھا اس لئے گھر والوں کو کسی قسم کا شک نہیں ہوا،

    وکی شرما کے گھر ہوئی تھی ساری منصوبہ بندی
    لوک سبھا کے اندر اور باہر احتجاج کرنیوالے ساگر، منورنجن،نیلم اور امول شندے دہلی جانے سے قبل گروگرام میں مقیم رہے،للت جا بھی انکے ہمراہ تھا، یہ گروگرام کے سیکٹر سات میں‌وکی کے گھر وہاں ٹھہرے تھے ،وکی شرما کا تعلق حصار سے ہے، نیلم بھی گزشتہ چھ ماہ سے حصار میں ہی رہ رہی تھی،دہلی پولیس کے مطابق وکی شرما اور انکی اہلیہ کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے،لوک سبھا کے اندر اور باہر احتجاج کرنیوالے وکی شرما کے دوست ہیں،ملزمان جب احتجاج کے لئے گئے تو انکے موبائل ہو سکتا ہے یہاں وکی کے گھر چھوڑ کر گئے ہیں، اور یہیں منصوبہ بندی کی گئی ہو،پولیس اس ضمن میں تحقیقات کر رہی ہے.

    بے روزگاری،منی پور تشددجیسے واقعات سے پریشان تھے،ملزمان کا بیان
    ملزمان دہلی پولیس کی تحویل میں ہیں، ملزمان نے پولیس کو بیان میں کہا کہ وہ بھارت میں بے روزگاری،کسانوں کے مسائل،منی پورتشدد جیسے واقعات سے پریشان تھے اور احتجاج ریکارڈ کروانا چاہتے تھے،ایوان میں جان بوجھ کر رنگین دھویں کا استعمال کیا جو زہریلا نہیں تھا، صرف اراکین کی توجہ مبذول کروانی تھی کہ وہ مسائل پر بات کریں،ویسے ہماری بات کوئی نہیں سنتا اس لئے یہ طریقہ اپنایا اور سوچا کہ حکومت کو پیغام دیا جائے کہ مسائل حل کریں، تاہم تحقیقاتی ادارے یہ جاننے کی کوشش میں ہیں کہ انکے پیچھے کسی کا ہاتھ تو نہیں تھا،

    دہلی پولیس کے ایک سینئر افسر کا کہنا ہے کہ گرفتار پانچوں ملزمان فیس بک پر بھگت سنگھ نامی ایک گروپ کا حصہ تھے، اور سب ملزمان تقریبا ایک سال سے آپس میں رابطے میں تھے.

    کسی اپوزیشن رکن نے پاس دیئے ہوتے تو غدار قرار پاتا،رکن کانگریس
    لوک سبھا میں احتجاج کرنیوالے اور گیس پھینکنے والے افراد کو پکڑنے والے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گرجیت سنگھ اوجلا کا کہنا ہے کہ اگر کوئی مسلمان یا سِکھ ہوتا تو نہ جانے کیا ہو جات؟ اس لیے یہی کہوں گا کہ ایسے لوگوں کو ذات اور مذہب سے ہٹ کر دیکھیں یہ ملک سب کا ہے،نئی پارلیمنٹ میں سیکورٹی کے حوالہ سے خامیاں ہیں، جنہیں دور کر نے کی ضرورت ہے، سیکورٹی کے معاملے پر ہم سب متحد ہیں،انہوں نے بی جے پی کے رکن جس کے پاس لے کر ملزمان پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے تھے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اگر کسی اپوزیشن کے رکن نے انکو پاس دلائے ہوتے تو اب تک غدار قرار دیا جا چکا ہوتا،مجھے نہیں لگتا کہ جان بوجھ کو رکن پارلیمنٹ نے پاس دئے، غلطی بھی ہو سکتی، ہم بھی پاس بنواتے ہیں، تاہم واقعہ کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئے،انہوں نے ملزمان کو پکڑنے کے حوالہ سے بتایا کہ ایک ملزم کو میں نے اکیلے پکڑا،اس نے اچانک سے کچھ نکالا ، بعد میں دھواں پھیلا تو پتہ چلا کہ وہ اسموک بم تھا، اسکے پاس کچھ خطرناک بھی ہو سکتا تھا،سیکورٹی کے حوالہ سے چوکس رہنا ہو گا،

    پارلیمنٹ ہاؤس واقعہ کا مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے، پولیس کے مطابق سنسد مارگ پولیس اسٹیشن میں دفعہ 120B (مجرمانہ سازش)، 452 (بغیر اجازت کے داخلہ)، 153 (فساد برپا کرنے کے ارادے سے جان بوجھ کر اکسانا)، 186 (سرکاری ملازم کو کام کرنے سے روکنا) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تعزیرات ہند کی دفعہ 16 اور 18 کے تحت بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے.

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھارتی پارلیمنٹ میں سیکیورٹی کی ناقص صورتحال،لوک سبھا سیشن کے دوران 2 افراد عمارت میں گھس آئے تھے،بھارتی پارلیمان لوک سبھا کے اندر 2 افراد نے گیلری سے نیچے چھلانگ لگا کر مبینہ طور پر گیس خارج کرنے والی چیزیں پھینک دیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق اندر گھسنے والے افراد کے پاس اسموک بم بھی تھے، بھگدڑ مچنے کے باعث اجلاس ملتوی کر دیا گیا تھا،

    واضح رہے کہ 13 دسمبر 2001 کو بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تھا جس میں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے، بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر لگایا تھا،تاہم بھارت کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا تھا،تاہم بعد میں بھارت کے وزارت داخلہ کے سابق افسر انڈر سیکرٹری آر وی ایس مانی نے عدالتی بیان میں کہا تھا کہ بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ کے پیچھے خود بھارتی حکومت کا ہاتھ تھا تاکہ دہشت گردی کے خلاف سخت قوانین پارلیمان سے منظور کروائے جا سکیں.

    مودی کے گجرات میں کرونا کے بہانے مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی

    لاہور کے علاقے سے کٹی ہوئی دو ٹانگیں کچرا کنڈی سے برآمد

    فیس بک نے ٹرمپ کی الیکشن مہم کے اشتہارات ہٹا دئیے

    ہم نسل پرستی کے خلاف سیاہ فام برادری کے ساتھ ہیں، فیس بک کے مالک نے قانونی معاونت کیلئے دس ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کر دیا

    تشدد کو کم کرنے کیلئے فیس بک نے اپنی پالیسی ریوو کرنے کا اعلان کر دیا

    فیس بک کے ذریعے دو بھارتیوں نے چند روپوں کے عوض دیں آئی ایس آئی کو بھارتی فوج کی حساس معلومات، بھارتی میڈیا کا دعویٰ

    فیس بک، گوگل، ٹویٹر ڈس انفارمیشن کے خلاف کیے گئے اقدامات کی ماہانہ رپورٹ دیا کریں، یورپی یونین کا مطالبہ

    ٹرمپ کی ٹویٹ پر فیکٹ چیک لگانے پر یورپی یونین نے ٹویٹر کی حمایت کر دی

    بی جے پی بھارت میں فیس بک اور واٹس اپ کو کنٹرول کر کے نفرت پھیلا رہی ہے، راہول گاندھی

  • سعودی ولی عہد  سے امریکی قومی سلامتی کے مشیر کی ملاقات

    سعودی ولی عہد سے امریکی قومی سلامتی کے مشیر کی ملاقات

    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے امریکی قومی سلامتی کے مشیر کی ملاقات ہوئی ہے

    امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ملاقات سعودی عرب میں ہوئی،ملاقات میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان پائیدار امن کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بات چیت کی گئی،سعودی ولی عہد اور امریکی قومی سلامتی کے مشیر کی ملاقات کے حوالہ سے وائٹ ہاؤس نے بیان جاری کیا ہے،جس میں کہا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور جیک سلیوان کے درمیان غزہ میں انسانی اقدامات اور فلسطین میں اہم امداد کی ترسیل میں اضافے پر بھی گفتگو کی گئی

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر اسرائیل کا بھی دورہ کریں گے جہاں وہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سمیت اسرائیل کی وار کیبنٹ کے ارکان سے بھی ملاقات کریں گے، وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی کا کہنا ہے کہ جیک سلیوان اپنے دورہ اسرائیل کے دوران غزہ میں حماس کے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے مزید حملوں کی ضرورت پر بھی بات کریں گے

    دوسری جانب شمالی غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے اسکول میں گھس کر وہاں پناہ لیے ہوئے شیرخوار بچوں اور عورتوں سمیت بے گناہ فلسطینیوں کے قتل عام کا انکشاف ہوا ہے،الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ کے اسکول شادیہ ابو غزالہ میں گھس کر وہاں پناہ لینے والے فلسطینی مردوں کو چُن چُن کر پکڑا اور الگ کمروں میں لے جا کر فائرنگ کر کے مار ڈالا،عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فوج نے اسکول کے کمروں میں داخل ہو کر وہاں موجود خواتین اور چھوٹے بچوں پر بھی فائرنگ کی، شیر خوار بچوں کو بھی فائرنگ کر کے قتل کیا.

  • یو این میں غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرار داد بھاری اکثریت سے منظور

    یو این میں غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرار داد بھاری اکثریت سے منظور

    جنیوا: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرار داد بھاری اکثریت سے منظور کرلی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : "عرب میڈیا” کے مطابق عالمی ادارے کی جنرل اسمبلی کے 193 رکن ممالک میں سے 153 ممالک نے قرارداد کے حق میں جبکہ 10 ممالک نے مخالفت میں ووٹ دیا، 23 ممالک ووٹنگ کے عمل سے غیر حاضر رہے، قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دینے والے ممالک میں امریکا اور اسرائیل سمیت دیگر شامل ہیں یہ تعداد ان 140 ممالک سے زیادہ ہے جنہوں نے یوکرین پر حملے کرنے کی وجہ سے روس کی مذمتی قراردادوں کی حمایت کی تھی۔

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یہ ووٹنگ عالمی امن و سلامتی کی ذمہ دار سلامتی کونسل کی بار بار ناکامی کے بعد ہوئی ہےاسرائیل کے سب سے طاقتور اتحادی اور سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان میں سے ایک، امریکہ نے جمعہ کو فائر بندی کے مسودے کو روکنے کے لیے ویٹو کا استعمال کیا تھاسلامتی کونسل کو کوئی بیان جاری کرنے میں اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع شروع ہونے کے بعد ایک ماہ سے زیادہ وقت لگا اس نے نومبر کے وسط میں اس تنازع میں انسانی بنیادوں پر ’تعطل‘ کے لیے چار متن مسترد کیے۔

    فلسطینی مندوب ریاض منصور نے قرارداد کی منظوری کو تاریخی دن قرار دیا، مذکورہ قرارداد میں امداد کی رسائی اور یرغمال افراد کو غیرمشروط طور پر رہا کرنےکا مطالبہ کیا گیا،اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر منیر اکرم نے غزہ میں جنگ بندی فوری ممکن بنانے پر زور دیا، انہوں نے کہا کہ اسرائیل کوذمہ دار نہ ٹھہرایا گیا تو اسے جنگ جاری رکھنے کا جواز مل جائےگااسرائیل کا مقصد فلسطین کے پورے تصورکو مٹانا ہے، اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔

    اقوام متحدہ میں مصر کے سفیر اسامہ محمود عبدالخالق محمود نے جنرل اسمبلی میں ووٹنگ سے قبل اسرائیل کو سفارتی تحفظ فراہم کرنے کی واشنگٹن کی کوششوں کے بارے میں کہا کہ یہ افسوسناک کوششیں دوہرے معیار کی ایک گھناؤنی علامت ہیں۔

    صدر جنرل اسمبلی اقوام متحدہ ڈینس فرانسز نے کہا کہ انسانی زندگیاں بچانا سب کی ترجیح ہونی چاہیے، ہمیں جنگ کے بنیادی اصولوں اور اقدار سے انحراف نہیں کرنا چاہیے دنیا اس وقت غزہ میں انسانی زندگیوں کےخاتمے کا مشاہدہ کررہی ہے، اسرائیل مسلسل عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوئٹریس نے غزہ کی پٹی میں امن عامہ کی مکمل تباہی کے بارے میں خبردار کیا ہے بہت سے ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے گذشتہ جمعے کو سلامتی کونسل کی ناکامی کی مذمت کی تھی اور سیکرٹری جنرل نے اتوار کو کونسل کے اختیارات اور ساکھ کو ’کمزور‘ قرار دیا تھا۔

    ووٹنگ سے قبل اقوام متحدہ میں اسرائیل کے نمائندے گیلاد ایردان نے اس قرارداد کو ’منافقانہ قرارداد‘ قرار دیا کہا کہ اس میں حماس کے انسانیت کے خلاف جرائم کی مذمت نہیں کی گئی بلکہ اس میں حماس کا بھی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے دو ماہ سے زائد عرصے کے بعد بھی فلسطین پر اسرائیل کے فضائی اور زمینی حملوں کا سلسلہ جاری ہے حماس کے 7 اکتوبر اسرائیل پر حملے میں تقریباً 1200 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سے اسرائیل کی بمباری میں 18,400 سے زائد فلسطینی شہید کئے جا چکے ہیں۔

    دوسری جانب "العربیہ” کےمطابق اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ کی وجہ سے مزید شہری بے گھر ہوں گے اور وسیع پیمانے پر مزید نقل مکانیوں کو خدشہ ہو گا ، اس وقت دنیا میں 114 ملین شہری بے گھر ہو کر در بدر ہیں ان میں سے 40 ملین لوگ درجنوں جنگوں کی وجہ سے بے گھر ہوئے ہیں، ایک بڑی تعداد یوکرین اور سوڈان کے شہریوں کی ہے ۔

    پناہ گزینوں کے شعبے کے سربراہ فلیپو گرینڈی نے ہر چار سال بعد جنیوا میں ہونے والی تقریب میں کہا کہ اس وقت غزہ میں بھی بڑی تباہی جاری ہے لیکن ابھی تک سلامتی کونسل جنگ بندی کروانے میں ناکام ہے ہم دیکھ رہے ہیں ابھی مزید ہلاکتیں ہوں گی اور مزید شہریوں کو نقل مکانی کرنا پڑے گا اس لیے بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ ان بحران میں پھنسے فلسطینیوں کو نہ بلائے، عالمی برادری کو چاہیے کہ اوہ غزہ پر اپنی پوری توجہ رکھے ، اس سے اپنی نظریں نہ ہٹائے انہوں نے نقل مکانی کرنے ، بے گھر اور مصائب میں مبتلا ہونے والے کروڑوں لوگوں کے لیے فنڈنگ کے بارے میں غیر یقینی صورت حال پر تشویش ظاہر کی۔

  • امریکی صدر  کا اسرائیلی وزیراعظم کو اپنی کابینہ کے سخت گیر ارکان کو تبدیل کرنے کا مشورہ

    امریکی صدر کا اسرائیلی وزیراعظم کو اپنی کابینہ کے سخت گیر ارکان کو تبدیل کرنے کا مشورہ

    واشنگٹن: امریکی صدر جوبائیڈن نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو اپنی کابینہ کے سخت گیر ارکان کو تبدیل کرنے کا مشورہ بھی دیدیا جو بلاامتیاز بمباری جیسے انتہائی قدم اُٹھانے پر زور دیتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اسرائیل کو امریکا اور یورپی یونین کی حمایت حاصل ہے لیکن غزہ میں بچوں، خواتین اور نہتے شہریوں پر مسلسل بمباری سے وہ اپنی بین الااقوامی حمایت کھو رہا ہے انتخابی مہم کے لیے فنڈز جمع کرنے کی ایک تقریب سے خطاب میں جو بائیڈن نے اسرائیل کے اس مؤقف کی تائید کی کہ جنگ بندی سے حماس مضبوط ہوگی تاہم امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم کو صرف جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کی تاکید کی، امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو اپنی کابینہ کے سخت گیر ارکان کو تبدیل کرنے کا مشورہ بھی دیدیا جو بلاامتیاز بمباری جیسے انتہائی قدم اُٹھانے پر زور دیتے ہیں۔

    بھارت کو بڑا دھچکا، امریکی صدر کا یوم جمہوریہ کی تقریب میں شرکت سے انکار

    دوسری جانب فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی جنگ کے آج 68 ویں روز روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی کی صورتحال خوفناک ہے اور اسرائیل تمام رہائشی محلوں کو زمین بوس کررہا ہے،اسرائیل کا ماننا ہے کہ اسے حماس کو کسی بھی طریقے سے ختم کرنے کا پورا حق حاصل ہے،ہم اس وقت دیکھ سکتے ہیں کہ اس طرح کے راستے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔پوری پوری بستیوں کو زمین بوس اور ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کیا جا رہا ہے 18000 سے زیادہ شہری پہلے ہی مارے جا چکے ہیں اور یہ تعداد ہر روز بڑھ رہی ہے۔ان میں سے دو تہائی خواتین اور بچے ہیں اور غزہ کی صورت حال خوفناک حد تک تباہ کن ہوچکی ہے-

    غزہ میں زمینی آپریشن میں مزید 4 افسران سمیت7 اسرائیلی فوجی ہلاک

    اس کے علاوہ انہوں نے مزید کہا کہ مغرب فلسطینی ریاست کے قیام کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ اگر ہم ان پوزیشنوں سے جائزہ لیں جو مغرب اس وقت لے رہا ہے تو وہ فلسطینی ریاست کے قیام کا کوئی ارادہ نہیں دکھتاہماری معلومات کے مطابق مغرب اور اسرائیلی بھی موجودہ اسرائیلی قیادت غزہ کو مغربی کنارے کے ساتھ ملانا نہیں چاہتے موجودہ حالات میں فلسطینی ریاست کا قیام زیادہ ناگزیر ہوچکا ہے-

    علاوہ ازیں آسٹریلیا، کینیڈا اور نیوزی لینڈ نے بھی غزہ میں اسرائیلی بمباری میں معصوم شہریوں کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پائیدار جنگ بندی کی مطالبہ کیا، تینوں ممالک کے رہنماؤں نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ حماس کو شکست دینے کا مطلب فلسطینی معصوم شہریوں کو مسلسل تکلیف میں رکھنا نہیں ہونا چاہیے، فلسطینی عوام کے لیے کوئی محفوظ جگہ نہیں۔

    القسام بریگیڈز نے اسرائیلی فوج پر حملوں کی نئی ویڈیو جاری کردی

  • رواں سال بھی برطانیہ میں نوزائیدہ بچوں کے ناموں میں "محمد” سرفہرست

    رواں سال بھی برطانیہ میں نوزائیدہ بچوں کے ناموں میں "محمد” سرفہرست

    لندن: برطانیہ میں رواں سال نوزائیدہ بچوں کے نام رکھنے میں سب سے مقبول نام "محمد” رہا ہے-

    باغی ٹی وی :گزشتہ کئی برسوں سے برطانیہ میں محمد نام مقبولیت میں سرفہرست رہا ہے اور زیادہ تر والدین اپنے بچوں کے ناموں کے ساتھ محمد لگانا لازمی سمجھتے ہیں ،بے بی سینٹر کے شائع کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق، اسلامی نام محمد نے اس سال برطانیہ میں لڑکوں کے ناموں میں ایک بار پھر سرفہرست مقام حاصل کر لیا ہے۔

    برطانوی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سال کیے گئے سروے کے مطابق بھی برطانیہ میں مسلمان گھرانوں میں نوزائیدہ بچوں کا نام محمد رکھنے کا رحجان کسی بھی دوسرے نام کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے،ویب سائٹ نے 2023 کے لیے لڑکیوں اور لڑکوں دونوں کے لیے سرفہرست 100 ناموں کی فہرست دی، جس میں محمد ملک کا سب سے مشہور نام ہے، جس کی درجہ بندی یہ کئی سالوں سے برقرار ہے ہر 100 میں سے 24 بچوں کے نام کے ساتھ محمد لگایا گیا جب کہ دیگر ناموں میں علی، احمد، عبداللہ، موسیٰ، عمر اور حمزہ شامل ہیں۔

    سعودی تیل کمپنی آرامکو کی پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری

    جبکہ سروے کے مطابق لڑکیوں کے لیے سب سے زیادہ نام فاطمہ، مریم، عائشہ اور زہرہ رکھے گئے،اس سال لیلیٰ نام بھی والدین میں کافی مقبول رہا۔

    جہلم کے ایک مزدور گھرانے میں پیدا ہونیوالے تنویر سپرا

  • دوران اجلاس بھارتی پارلیمنٹ میں دو افراد گھس گئے

    دوران اجلاس بھارتی پارلیمنٹ میں دو افراد گھس گئے

    بھارتی پارلیمنٹ میں سیکیورٹی کی ناقص صورتحال،لوک سبھا سیشن کے دوران 2 افراد عمارت میں گھس آئے،

    بھارتی پارلیمان لوک سبھا کے اندر 2 افراد نے گیلری سے نیچے چھلانگ لگا کر مبینہ طور پر گیس خارج کرنے والی چیزیں پھینک دیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق اندر گھسنے والے افراد کے پاس اسموک بم بھی تھے، بھگدڑ مچنے کے باعث اجلاس ملتوی کر دیا گیا، پارلیمنٹ ارکان نے سیکیورٹی کی ناقص صورتحال پر سوال اٹھا دیے،

    بھارتی پارلیمان لوک سبھا میں اجلاس جاری تھا جب دو افراد جو وزیٹر گیلری میں موجود تھے نے چھلانگ لگائی، جس کے بعد اجلاس میں افرا تفری مچ گئی،دونوں افراد نے وزیٹر گیلری سے چھلانگ لگائی، تاہم سیکورٹی اداروں نے کاروائی کرتے ہوئے دونوں افراد کو گرفتار کر لیا، پارلیمنٹ میں گھسنے والے دونوں افراد وزیٹر گیلری سے ہوتے ہوئے اراکین اسمبلی کی کرسیوں تک پہنچ گئے تھے،انہوں نے اس دوران کسی سپرے کا بھی استعمال کیا اور نعرے بھی لگائے، اس مبینہ حملے کے بعد لوک سبھا کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا

    لوک سبھا کے اجلاس میں موجود کانگریس کے رہنما ادھیر رنجن چوھدری کا کہنا تھا کہ دو افراد گیلری سے کودے اور کوئی چیز پھینکی جس سے گیس نکل رہی تھی، انکو اراکین اسمبلی نے پکڑا اور سیکورٹی اہلکاروں کے حوالے کیا، ایوان کی کاروائی دو بجے تک ملتوی کر دی گئی ہے، کانگریس رہنما کا کہنا تھا کہ یہ سیکورٹی کی خلاف ورزی ہے، آج ہی ہم نے ان لوگوں کی برسی منائی جنہوں نے 2001 میں پارلیمنٹ حملہ میں اپنی جانیں دی تھیں

    میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریبا ایک بج کر دو منٹ پر دو افراد پارلیمنٹ میں گھسے تو پکڑ و پکڑو کی آوازیں آئیں،ان میں سے ایک کی شناخت ساگر کے طور پرہوئی ہے،دونوں افراد میسور سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ پرتاپ کے نام پر سیکورٹی پاس لے کر وزیٹر گیلری میں پہنچے تھے، دونوں افراد نے اپنے جوتوں میں گیس والے بم چھپا رکھے تھے جو انہوں نے ایوان میں پھینکے، جس سے ایوان میں دھواں دھواں ہو گیا،

    بھارتی پارلیمنٹ میں گھسنے والوں کی شناخت ہو گئی،ایوان کے باہر سے بھی خاتون سمیت دو افراد گرفتار
    لوک سبھا کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے واقعہ کے بارے میں اراکین کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں پیش آنے والے واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، دہلی پولیس کی بھی ہدایات دی گئی ہیں،ایوان میں جو دھواں تھا وہ زہریلا نہیں بلکہ عام دھواں تھا، اسلئے خطے کی کوئی بات نہیں ہے ،ہم نے حملہ آوروں کو پکڑ لیا ہے، ایک کا نام ساگر اور دوسرے کا نام منورنجن ہے،ان دو افراد کے ساتھ دو اور افراد کو بھی پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر سے گرفتار کیا گیا ہے جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے، پولیس کے مطابق 42 سالہ نیلم اور 25 سالہ امول شندے کو گرفتار کیا گیا ہے جو ان ملزمان کے ساتھی ہیں جنہوں نے ایوان میں دھواں چھوڑا تھا

    اراکین اسمبلی نے واقعہ پر شدید احتجاج کیا اور ناقص سیکورٹی پر سوال اٹھائے، رکن اسمبلی دانش علی کا کہنا تھا کہ پارلیمان کی سیکورٹی میں کوتاہی ایک سنگین معاملہ ہے،سماج وادی پارٹی کے ایم پی ایس ٹی حسن کا کہنا تھا کہ آج جو ہوا المیہ ہے، اسی طرح سیکورٹی میں کوتاہی برتی گئی تو کل کوئی اپنے جوتے میں بم لے کر بھی آسکتا ہے،بی جے پی کی رکن ستیہ پال سنگھ کا کہنا تھا کہ جب ہم ان افراد کو پکڑنے گئےتو انہوں نے گیس کا چھڑکاؤ کیا، تحقیقات ہونی چاہئے کہ وہ کون تھے اور گیس کیسے اندر لے کر پہنچے، مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی بننی چاہئے،

    لوک سبھا کی سیکورٹی میں سنگین غفلت،کوتاہی پر سپیکر نے تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے مکمل رپورٹ طلب کی ہے، اور سیکورٹی مزید سخت کرنے کا حکم دیتے ہوئے وزیٹر گیلری کے پاسز پر بھی پابندی لگا دی ہے،سپیکر لوک سبھا نے آج شام پارلیمانی جماعتوں کا ایک اجلاس بھی طلب کیا ہے جس میں پارلیمان کی سیکورٹی بارے مزید مشاورت کی جائے گی،

    واضح رہے کہ 13 دسمبر 2001 کو بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تھا جس میں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے، بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر لگایا تھا،تاہم بھارت کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا تھا،تاہم بعد میں بھارت کے وزارت داخلہ کے سابق افسر انڈر سیکرٹری آر وی ایس مانی نے عدالتی بیان میں کہا تھا کہ بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ کے پیچھے خود بھارتی حکومت کا ہاتھ تھا تاکہ دہشت گردی کے خلاف سخت قوانین پارلیمان سے منظور کروائے جا سکیں.

    مودی کے گجرات میں کرونا کے بہانے مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی

    لاہور کے علاقے سے کٹی ہوئی دو ٹانگیں کچرا کنڈی سے برآمد

    فیس بک نے ٹرمپ کی الیکشن مہم کے اشتہارات ہٹا دئیے

    ہم نسل پرستی کے خلاف سیاہ فام برادری کے ساتھ ہیں، فیس بک کے مالک نے قانونی معاونت کیلئے دس ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کر دیا

    تشدد کو کم کرنے کیلئے فیس بک نے اپنی پالیسی ریوو کرنے کا اعلان کر دیا

    فیس بک کے ذریعے دو بھارتیوں نے چند روپوں کے عوض دیں آئی ایس آئی کو بھارتی فوج کی حساس معلومات، بھارتی میڈیا کا دعویٰ

    فیس بک، گوگل، ٹویٹر ڈس انفارمیشن کے خلاف کیے گئے اقدامات کی ماہانہ رپورٹ دیا کریں، یورپی یونین کا مطالبہ

    ٹرمپ کی ٹویٹ پر فیکٹ چیک لگانے پر یورپی یونین نے ٹویٹر کی حمایت کر دی

    بی جے پی بھارت میں فیس بک اور واٹس اپ کو کنٹرول کر کے نفرت پھیلا رہی ہے، راہول گاندھی

  • بھارت کو بڑا دھچکا، امریکی صدر کا یوم جمہوریہ کی تقریب میں شرکت سے انکار

    بھارت کو بڑا دھچکا، امریکی صدر کا یوم جمہوریہ کی تقریب میں شرکت سے انکار

    امریکی صدر جوبائیڈن نے جنوری میں بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر بھارت کے دورے سے انکار کر دیا ہے

    امریکی شہری گرپتونت سنگھ کو قتل کرنے کی بھارتی سازش بے نقاب ہونے کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے بھارت کا ہائی پروفائل دورہ منسوخ کردیا ہے،امریکی صدر کو بھارتی یوم جمہوریہ کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی ، بھارتی وزیراعظم مودی نے امریکی صدر کو دعوت دی تھی، تا ہم اب میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے بھارتی دورے کا دعوت نامہ مسترد کردیا ہے

    بھارتی میڈیا کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عہدیدار کا کہنا تھا کہ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اگلے ماہ بھارت نہیں آئیں گے جس کی وجہ سے بھارتی فریق نئی دہلی کی میزبانی میں ہونے والی کواڈ سمٹ کے لیے نئی تاریخ کا تعین کرے گا،وہیں بھارتی یوم جمہوریہ کی تقریبات میں مہمان خصوصی کے طور پر بھارت کو کسی اور عالمی لیڈر کی تلاش کرنی پڑے گی.

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے سکھ رہنماکے قتل کی سازش کو بے نقاب کیا تھا،کینیڈا بھی سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجرکے قتل سے متعلق بھارت سے تحقیقات کا مطالبہ کررہا ہے۔ برطانوی اخبار نے انکشاف کیا تھا کہ بھارت سکھ گرپتونت سنگھ پنوں کو امریکا میں قتل کرنا چاہتا تھا جس کے بعد امریکی انٹیلی جنس نے اس سازش کو ناکام بنادیا تھا اور بھارت کو بھی خبردار کیا تھا۔

    سکھ یاتریوں کی بھارت میں ہی مودی کے خلاف نعرے بازی

    بھارتی ہٹ دھرمی، ایک بار پھرپاکستان آنیوالے سکھ یاتریوں کوروک دیا گیا

    خالصتانی ہوں،حکومت مودی کے دباؤ کا شکارہے، گوپال سنگھ چاولہ کی باغی ٹی وی سے گفتگو

    سکھ برادی کا خالصتان بارے ریفرنڈم 2020، وینا ملک نے بڑا اعلان کر دیا

    آسٹریلوی حکومت نے میلبرن میں خالصتان ریفرنڈم رکوانے سے انکار کردیا۔

    الصتان کے حامی علیحدگی پسند گروپ سکھس فار جسٹس (SFJ) نے میلبورن آسٹریلیا میں خالصتان ریفرنڈم مہم کا آغاز کیا ج

    انٹرپول نے خالصتان کے رہنما کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی بھارت کی درخواست مسترد کردی

    ٹورنٹو:کینیڈا میں خالصتان ریفرنڈم کے حوالے سے تاریخ رقم ، خالصتان ریفرنڈم میں ایک لاکھ 10 ہزار سکھوں نے ووٹ کاسٹ کی

  • ‘بائیکاٹ زارا’، فلسطینیوں کا مذاق اڑانے پر انٹرنیشنل فیشن برانڈ پر شدید تنقید

    ‘بائیکاٹ زارا’، فلسطینیوں کا مذاق اڑانے پر انٹرنیشنل فیشن برانڈ پر شدید تنقید

    غزہ میں حملے روکنے کے لیے بین الاقوامی دباؤ کے باوجود اسرائیل کی خون ریزی جاری ہے، ایسے میں معروف ہسپانوی فیشن برانڈ زارا (zara) نے تازہ ترین تشہیری مہم ’دی جیکٹ‘ سے سوشل میڈیا پرایک نئے تنازع کا آغاز کردیا۔

    باغی ٹی وی: زارا کی تشہیری مہم میں امریکی اداکارہ کرسٹین میک مینامی کو اپنے ارد گرد کفن میں ملبوس پُتلوں کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے اس مہم نے غزہ جنگ کی یاد دلانے والی متنازع تصاویر کی وجہ سے عوامی غم و غصے کو جنم دیا اور سوشل میڈیا پر اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے زارا کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا گیا اس شوٹ میں مبینہ طور پر مسلمانوں کے کفن دفن کی طرح سفید کپڑے میں لپٹی ہوئی چھوٹی لاشوں کو دکھایا گیا ہے، اس کے علاوہ اس فوٹو شوٹ میں فلسطینیوں کی بے بسی کی صورتحال کو دکھایا گیا ہے۔

    اس میں ملبے کا ڈھیر، گمشدہ اعضاء کے مجسمے وغیرہ دکھائے گئے جس نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ کھڑا کردیا ہے، لوگ اسے دیکھ کر شدید غم و غصے کا اظہار کررہے ہیں، تاہم اس کے بعد سے برانڈ نے بظاہر اس تصویر کو حذف کردیا ہے جس میں ایک ماڈل کو اپنے کندھوں پر ایک لاش نما پتلا اٹھائے ہوئے دکھایا گیا تھا، سفید کپڑے میں لپٹی ہوئی لاش، جس طرح فلسطینی ماؤں کو کفن میں لپیٹ کر دفن کرنے سے پہلے اپنے مردہ بچوں کو گلے لگاتے دکھایا گیا تھا۔

     

    اس تشہیری مہم کو معصوم فلسطینیوں پرمظالم اور ان کی نسل کشی کیلئے استعمال کیے جانے پر فیشن برانڈ کو شدید تنقید کا سامنا ہے صار فین کے مطابق یہ اقدام فلسطینیوں پر مظالم سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم برانڈ کی جانب سے اس حوالے سے تردید یا تصدیق نہیں کی گئی،صارفین نے زارا کی اس تشہیری مہم کو غزہ کے لوگوں کے مصائب سے منافع خوری قراردیتے ہوئے تبصروں میں کڑی تنقید کی۔
    https://x.com/aMrazing/status/1733772813411192863?s=20
    الیگزینڈر نامی صارف نے اس فوٹو شوٹ کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ‘میں انتہائی حیران ہوں کہ فلسطین میں لوگوں کی نسل کشی کو یہ لوگ اپنی مہم کے لیے استعمال کر رہے ہیں؟ میں کبھی بھی زارا سے کچھ نہیں خریدوں گا، یہ ظالمانہ، سنگدل اور بری بات ہے، 20 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکتوں کا مذاق اڑانے والی مہم جوئی؟
    https://x.com/weird_mystery_/status/1733841217836990632?s=20
    اقرا نامی صارف نے کہا کہ یہ مہم انسانیت کے خلاف ہے اتنا بڑا برانڈ پبلسٹی اسٹنٹ کے لیے ایسا کیسے کرسکتا ہے، یہ انسانیت کے خلاف ہے-
    https://x.com/jibrankhan78634/status/1733697312814477341?s=20
    جبران خان نے اسے ’قابل نفرت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ زارا فلسطینیوں کی ہلاکتوں کا مذاق اڑا رہا ہے اور بے گناہ شہریوں کے خلاف اسرائیلی نسل کشی کو فروغ دے رہا ہے۔
    https://x.com/KufiyyaPS/status/1733853507164254488?s=20
    غزہ سے تعلق رکھنے والی مریم نے بھی اس طرح کی مہم دیکھ کر شدید حیرت کا اظہارکیا،کہا کہ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اپنی پوری زندگی میں ایسا کچھ دیکھوں گی، آپ جتنا چاہیں لالچی ہو سکتے ہیں لیکن اپنے منافع کے لیے نسل کشی کا فائدہ نہ اٹھائیں-

    جہاں صارفین نے مذمت کی وہیں اداکارہ اشنا شاہ سمیت بھارتی اداکارہ گوہر خان اور متعدد سوشل میڈیا صارفین نے مشہور انٹرنیشنل فیشن برانڈ ‘زارا’ کو اس کے غیر حساس فوٹو شوٹ پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے،ہر معاملے میں آواز اٹھانے والی اشنا شاہ نے زارا کے حالیہ فوٹو شوٹ پر ردعمل دیتے ہوئے سوال کیا کہ ان افراد کو جن کے پاس زارا برانڈ کے کپڑے ہیں، کیا انہیں تمام کپڑے پھینک دینے چاہئیں؟
    https://x.com/ushnashah/status/1733732835658232308?s=20
    اداکارہ کی جانب سے برانڈ کی حالیہ مہم کی مذمت کی گئی اور سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر ٹوئٹ کی،اشنا شاہ نے لکھا ‘کیا ہمیں زارا کے پہلے سے موجود کپڑے پھینک دینے چاہئیں یا نئے نہیں خریدنے چاہئیں؟’چونکہ ان کے کپڑوں پر ان کے برانڈ کا نام نہیں ہوتا، تو میرا نہیں خیال ان کے جو کپڑے ہمارے پاس پہلے سے موجود ہیں انہیں پھینک دینا چاہیے،’ظاہر ہے، ان کے برانڈ سے دوبارہ کپڑے قطعاً نہیں خریدوں گی’۔

    اداکارہ مشی خان نے بھی زارا برانڈ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے کپڑے دوبارہ تاحیات نا خریدنے کا عہد کیا،اس کے علاوہ اس فوٹو شوٹ پر بھارتی اداکارہ گوہر خان جو کہ گزشتہ کئی روز سے فلسطین کے لیے آواز اٹھا رہی ہیں، انہوں نے بھی ردعمل دیا اور زارا کے مصدقہ انسٹاگرام اکاؤنٹ پر تصاویر کے نیچے کمنٹ کیا،گوہر نے لکھا ‘آپ کو شرم آنی چاہیے’، ساتھ ہی اداکارہ نے ‘فری فلسطین’ کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا،علاوہ ازیں پاکستانی ماڈل و اداکارہ رحمت اجمل نے بھی اس کیمپین کو بدترین، اور پاگل پن قرار دیا۔

  • خانہ کعبہ کی  اصلاح و مرمت کا آغاز ،اطراف میں چار دیواری کھڑی کر دی گئی

    خانہ کعبہ کی اصلاح و مرمت کا آغاز ،اطراف میں چار دیواری کھڑی کر دی گئی

    مکہ: خانہ کعبہ کی معمول کی دیکھ بھال، اصلاح و مرمت کا آغاز کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق سعودی حکومت کے منتخب کردہ اداروں کی سربراہی میں مقررہ پروگرام کے تحت دیکھ بھال اور اصلاح و مرمت کے لیے خانہ کعبہ کے اطراف چار دیواری کھڑی کر دی گئی ہےسعودی وزارتِ خزانہ کے ماتحت منصوبہ جات کے ادارے نے متعلقہ سرکاری اداروں کے تعاون سے اپنی نگرانی میں خانہ کعبہ کی دیکھ بھال اور اصلاح و مرمت کا کام شروع کیا ہے۔
    https://x.com/theholymosques/status/1733890025907961875?s=20
    سعودی وزارتِ خزانہ کے ماتحت منصوبہ جات کا ادارہ گزشتہ 7 برس سے مسجد الحرام اور مسجدِ نبوی ﷺ کی توسیع کے منصوبوں کی نگرانی کر رہا ہے،ادارے نے مسجد الحرام میں توسیع کا سب سے بڑا منصوبہ مطاف میں توسیع، مسجد نبوی ﷺ اور اس کے صحنوں میں تیسری سعودی توسیع کا منصوبہ اپنی نگرانی میں نافذ کرایااسی ادارے نے 2019 میں خانہ کعبہ سے متعلقہ امور کی اصلاح و مرمت کرائی تھی۔

    ایران کی آئل ریفائنری میں آگ لگ گئی

    القسام بریگیڈز نے اسرائیلی فوج پر حملوں کی نئی ویڈیو جاری کردی

    غزہ کی صورت حال پر سلامتی کونسل کے ناکام ہونے پر افسوس ہے،انتونیو گوئتریس

  • غزہ میں زمینی آپریشن میں مزید 4  افسران سمیت7 اسرائیلی فوجی ہلاک

    غزہ میں زمینی آپریشن میں مزید 4 افسران سمیت7 اسرائیلی فوجی ہلاک

    مقبوضہ فلسطین کے علاقے غزہ میں زمینی آپریشن میں مزید 4 افسران سمیت7 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے-

    باغی ٹی وی: اسرائیل نے 27 اکتوبر کو غزہ میں زمینی آپریشن شروع کیا تھا اور اب تک اسے مجاہدین کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہےزمینی آپریشن میں اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،اسرائیلی افواج نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں غزہ میں 4 افسران سمیت 7 فوجی مارے گئے ہیں جس کے بعد زمینی آپریشن میں ہلاک اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 104 ہوگئی، زخمی فوجیوں میں سے 133 کی حالت تشویشناک ہے۔

    دوسری جانب مزاحمتی تنظیم حماس نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ کے اندرونی علاقوں میں داخل ہونے والی اسرائیلی فوج سے دو بدو لڑائی جاری ہے اور اسرائیل کے فیلڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو مارٹر گولوں، دھماکا خیز آلات سے نشانہ بنایا ہے اسرائیلی فوج کی 44 گاڑیاں تباہ اور 40 اسرائیلی فوجیوں کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

    قبل ازیں فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابوعبیدہ نےکہا تھا کہ اسرائیل طاقت سے اپنا کوئی یرغمالی رہا نہیں کراسکتا،فوجی طاقت سے اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہیں کرایا جا سکتا۔

    ایک بیان میں القسام بریگیڈز کے ترجمان ابوعبیدہ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی جنگی کابینہ مذاکرات کیے بغیر اپنے یرغمالیوں کو رہا نہیں کراسکتی، اسرائیلی یرغمالی کی ہلاکت طاقت کے زور پر رہا کرانےکی کوشش کا نتیجہ ہے،گزشتہ 10 روز میں غزہ میں ہمارے لوگوں نے 180 سے زائد اسرائیلی فوجی گاڑیوں کو تباہ کیا ہے، جھڑپوں میں اسرائیلی فوجیوں کا بڑا جانی نقصان ہوا ہے، اسرائیلی جارحیت کے خلاف ہماری مزاحمت جاری رہےگی انہوں نے عرب اور اسلامی ممالک کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ غزہ کے لوگوں کی حمایت اور جنگ بندی کے لیے احتجاج جاری رکھیں۔