Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • نواز شریف کی افغان سیکورٹی ایڈوائزر سے ملاقات تحریر: سید لعل بخاری

    نواز شریف کی افغان سیکورٹی ایڈوائزر سے ملاقات تحریر: سید لعل بخاری

    تہمت لگا کے ماں پہ جو دشمن سے داد لے
    ایسے سخن فروش کو مر جانا چاہئے
    پروین شاکر کا یہ شعر نواز شریف جیسے لوگوں کے لئے ہی ہے۔جو ایک ایسے شخص سے ملاقات کے لئے آمادہ ہو جاتے ہیں،جو تمام تر سفارتی،اخلاقی اور دنیاوی آداب کو ایک طرف رکھ کر ہمارے ملک پاکستان کو چکلہ قرار دے۔جو کچھ اس بد تہذیب افغان سیکورٹی ایڈوائزر حمداللہ محب نے کہا،چلیں وہ تو اسکے اندر کی غلاظت تھا۔مگر پاکستان کے تین دفعہ کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کو اس سے ملاقات کرتے وقت شرم کیوں نہ آئ۔کیا پاکستان دشمن شخص سے ملاقات پاکستان دشمنی نہیں ؟
    یہ سوال ہمیشہ نواز شریف کا پیچھا کرتا رہے گا۔کیا یہ بھی عمران دشمنی میں کیا گیا ہے۔مگر یہ عمران دشمنی میں کیسے ہو سکتا ہے؟
    اس نے تو ارض پاک کو گالی دی تھی۔وہ گالی ہم سب کے لئے تھی۔شائد وہ گالی نواز شریف جیسے لوگوں کے لئے نہ ہو،جن کا اوڑھنا بچھونا ان کی دولت ہوتی ہے،چاہے وہ جائز طریقے سے آۓ یا نا جائز طریقے سے۔
    یہ لوگ اقتدار کے پجاری ہیں۔اقتدار میں آنے کے لئے انہیں ملکی اقدار کی پرواہ نہیں ہوتی۔انہیں ہر حال میں اقتدار میں آنا ہوتا ہے،اس کے لئے چاہے مودی سے ہاتھ ملانا پڑے،چاہے خفیہ طریقے سےاسرائیل وفد بھیجنا پڑے یا پھر حمداللہ محب جیسے مکروہ شخص سے ملنا پڑے۔
    جس ملک نے ان جیسے لوگوں کو عزت دی،دولت دی،شُہرت دی۔اسی کے ساتھ دغابازیاں،؟
    کہاں کا دستور ہے؟
    ایسی احسان فراموشیوں کی مثال نہیں ملتی۔
    اس بندے حمداللہ محب کی ہرزہ سرائ پر وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے کہا تھا کہ آئندہ اس سے کوئ پاکستانی نہ تو ہاتھ ملاۓ گا اور نہ ہی ملاقات کرے گا۔
    میں بھول گیا کہ قریشی نے یہ بات پاکستانیوں کے لئے کی تھی جو شائد نواز شریف پر لاگو نہیں ہوتی۔کیونکہ وہ آجکل پاکستان کے قانون کو چکمہ دیکر بحیثیت مفرور اور اشتہاری کے لندن میں تشریف فرما ہیں۔انہیں نہ پاکستانی قانون کی پرواہ ہے اور نہ ہی پاکستان کی۔انہیں پاکستان اسی وقت پیارا لگتا ہے جب وہ وزارت عظمی کی کرسی پر براجمان ہوں۔
    پاکستان ایسے لوگوں کا مسکن اسی وقت ہوتا ہے،جب انہیں اس سے دولت آرہی ہوتی ہے۔اور وہ اقتدار کے مزے اُڑا رہے ہوتے ہیں۔
    پاکستان ان کے لئے پیسے بنانے کی مشین ہے۔
    دولت کے پجاریوں کا ملک ان کی دولت ہی ہوتی ہے۔
    ان کی زندگی کا محور اسی ہوس میں اندھا ہو کر آگے بڑھتے رہنا ہوتا ہے۔

    @lalbukhari

  • پردیس ایک میٹھی جیل   تحریر:محمد احسن گوندل

    پردیس ایک میٹھی جیل تحریر:محمد احسن گوندل

    میں لاہور ائیر پورٹ کے ویٹنگ ہال میں بیٹھا گھر والوں سے کال پر بات کرنے میں مصروف تھا ابھی فلائٹ میں کچھ وقت تھا۔
    میرے بلکل سامنے والی کرسی پر ایک اور شخص بھی کال پر بات کرنے میں مصروف تھا اور ساتھ ساتھ اپنے آنسو بھی صاف کر رہا تھا اس کی آواز مجھے صاف سنائی دے رہی تھی میں نے بات ختم کی اور کال بند کر دی۔
    وہ مسلسل یہی کہ رہا تھا بیٹی میں جلدی واپس آؤنگا بہت جلدی ۔ ادھر جاکر بہت سارے پیسے بھیجوں گا پھر تم جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ گی بس اب رونا بند کرو بیٹی میری فلائٹ کا ٹائم ہوگیا ہے یہ کہ کر کال بند کر دی حالانکہ فلائٹ میں ابھی ٹائم تھا۔ اسکی آنکھوں میں زاروں قطار آنسو تھے اور وہ بار بار ٹشو سے صاف کر رہا تھا
    کرونا کی وجہ سے زیادہ رش نہی تھا اس بار ویٹنگ ہال میں وہ موبائل میں بار بار دیکھے جا رہا تھا اور آنسو تھے اسکے کہ رکنے کا نام نہی لے رہے تھے تھوڑی دیر تک وہ ریلکس ہوا تو میں نے پوچھ لیا کہ کہاں جارہے ہیں آپ تو انہوں نے بتایا کہ جدہ جارہے ہیں وہ میں نے بھی جدہ ہی جانا تھا تو حال حوال کے بعد میں نے ان سے خیر خیریت اور رونے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ مجبوریاں ہیں ورنہ پردیس والا زہر کون کھائے اللہ سب کو اپنے دیس میں رزق عطاء فرمائے میں نے آمین کہا اور پھر وہ کہنے لگے میں تین سال بعد دو بیٹیوں کی شادی کے لیے تین مہینے کی چھٹی لیکر آیا تھا لیکن ابھی فلائٹ بند ہونے کے ڈر سے دو مہینے بعد ہی جارہا ہوں۔دو بیٹیوں کی شادی کر دی ہے اور ایک چھوٹی بیٹی ابھی بیمار ہے ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہے اسے اسی حال میں چھوڑ کر واپس جانا پڑ رہا ہے میری مصوم سی پھولوں جیسی بیٹی ہاسپٹل میں مجھے بلا رہی ہے میرا کلیجہ پھٹ رہا ہے دل کر رہا ہے ادھر سے ہی واپس چلا جاؤں لیکن مجبوریوں نے ایسا جکڑا ہے کہ نہ چاہتے ہوے بھی بھاری دل کے ساتھ واپس لوٹنا پڑ رہا ہے میرے نصیب میں اللہ نے شاید پردیس کی روزی ہی لکھی ہے ورنہ پھول جیسی بیمار بیٹھی چھوڑ کر کون جاسکتا ہے۔
    پردیس کے خواب بہت سہانے ہوتے ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ سوچیں ایسا تانا بانا بنتی ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے لیکن جب حقیقت سے
    واسطہ پڑتا ہے تو چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں۔ایک طرف محبتیں ہوتی ہیں تو دوسری طرف ان محبتوں سے جڑی مصلحتیں۔
    ایک پردیسی کچھ پیسے نہیں کما کر دیتا بلکہ آپنی دن رات کی محنت دیتا ہے ۔ خود پردیس میں ایک وقت کھانا کھاتا ہے تاکہ دیس میں بیٹھے بہن بھائی تین وقت کا کھانا کھا سکے ۔ ماں کی آواز سن کہ آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ ماں کے ہاتھ کہ کھانے کو ترستے رہتے ہیں۔ بہنوں کی شادیوں پہ لاکھوں پیسے تو بھیج دیتے ہیں مگر بہنوں کے چہروں کی خوشی نہیں دیکھ پاتے۔
    پردیس ایک میٹھی جیل ہے جب انسان ایک بار اس میں داخل ہو جاتا ہے پھر نہ مجبوریاں ختم ہوتی ہیں نہ ہی خواہشات یہاں تک کہ پردیس میں بندہ اپنی جوانی ختم کردیتا ہے اور یہ ایک کڑوا سچ ہے۔
    اللہ پاک سب پردیسیوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور رزق حلال اپنے وطن میں عطاء فرمائے آمین
    تحریر

    @ahsangondalsa

  • وزیر اعظم عمران خان – عالمی فورم پر اسلامو فوبیا بیداری کو اجاگر کرتے ہوئے تحریر: محمد ذیشان

    وزیر اعظم عمران خان – عالمی فورم پر اسلامو فوبیا بیداری کو اجاگر کرتے ہوئے تحریر: محمد ذیشان

    بہت سارے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ، پہلی بار بیرون ملک جاتے ہوئے ، ائیرپورٹ پر اہل خانہ کی طرف سے مشورہ دیا جاتا ہے: کبھی بھی اسلام کے بارے میں کسی بات میں ملوث نہ ہوں ، یہاں تک کہ اس کا دفاع یا وضاحت بھی نہ کریں ، چاہے کوئی کتنا بھی قیاس کرے اور فرض کرے اس کے بارے میں.
    تو ، کبھی بات نہیں کی جاتی، مفروضے غلط فہمیاں بن جاتے ہیں اور غلط فہمیاں شکوک و شبہات بن جاتی ہیں۔ شکوک فریبوں کا باعث بنتے ہیں ، اور پھر بھی ہم کبھی بات نہیں کرتے ہیں۔ وہم مستحکم عقائد کی طرف جاتا ہے اور عقائد اگلی نسلوں میں منتقل ہوجاتے ہیں جو پھر اپنے وراثت میں پائے جانے والے عقائد کی بنیاد پر فرض کرتے ہیں ، اس طرح شیطانی چکر جاری رہتا ہے… اور ہم پھر بھی بات نہیں کرتے!
    اسلامو فوبیا کی تباہی اس وقت ہوتی ہے جب ہم بات نہیں کرتے ہیں۔ اس سے قبل میں نے اسلامو فوبیا (اسلامو فوبیا: ایک پراسرار وبائی بیماری) کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ ایک نئی وبائی بیماری بنتی جارہی ہے۔ ہیضے سے زیادہ مبتلا اور ایڈز سے زیادہ مہلک۔
    کینسر سے زیادہ میٹاسٹک اور پولیو سے زیادہ کمزور۔ ایسی بیماری جس کی فوری تشخیص اور علاج کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر ، یہاں تک کہ ماں کے پیٹ میں موجود بچوں کو بھی ان کے عقائد کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا ، اور اس طرح ان کے ساتھ امتیازی سلوک اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔
    عدالتوں میں نہیں بلکہ بے گھر منشیات فروشوں کے ذریعہ سڑکوں پر مقدمہ چلایا گیا۔ مساجد میں گورے بالادستی کے ذریعہ مقدمہ چلایا گیا۔ سب سے زیادہ "استغاثہ” لوگوں نے سڑکوں پر مقدمہ چلایا۔ سڑکوں پر ہجوم کے ذریعہ قانونی کارروائی کی۔
    ایک ایسے وقت میں ، جو سورج کو مشرق سے مغرب تک سفر کرنے کے لئے درکار ہوتا ہے ، اس سے کم وقت میں ، اسلامو فوبیا مشرق سے مغرب تک کا سفر کرتا، اور اسی وجہ سے میں اسے "وبائی بیماری” کے نام سے پکارتا ہوں۔ مشرق میں ، 6 ماہ کی حاملہ خاتون پر سڈنی میں صرف اس کے لباس (اسکارف) کی وجہ سے حملہ کیا گیا۔
    یہاں تک کہ بے دردی سے مارنے پیٹنے کے بعد ، سب سے پہلا کام جو اس خاتون نے کیا وہ سکارف کو ایڈجسٹ کرنا تھا۔اس نام نہاد مفت جدید دنیا میں ،اپنے آپ کو پوری طرح ڈھانپنا، آدھے ننگے چلنے سے آسان ہے۔ دنیا رہنے کے لئے ایک خوفناک جگہ بن چکی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جب اس حملے کے بعد اس والدہ کا الٹراساؤنڈ سڈنی کے کسی اسپتال میں ہوتا تو ، 6 ماہ کا بچہ چیخ چیخ کر کہتا: ”میں پیدا بھی نہیں ہوا ہوں۔ میں دہشت گرد نہیں ہوں…! ”
    آسٹریلیا کو ایک شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جہاں پولین ہینسن جیسے سینیٹر "برقع” میں اسمبلی میں حجاب کا مذاق اڑانے آتے ہیں۔ جہاں نسل پرست بالادستی برینٹن ٹرانٹ کی قدر کی جاتی ہے۔ جہاں فریزر اننگ جیسے پارلیمنٹیرینز نفرت انگیز تبصرے کرتے ہیں۔
    مغرب میں ہونے والے دوسرے واقعہ میں ، کرسٹیشینند (ناروے) شہر میں "سائان” (ناروے میں اسلام پسندی روکیں) نامی ایک تنظیم کے ذریعہ اسلام مخالف مظاہرہ کیا گیا۔ پولیس نے مظاہرین کو قرآن مجید نہ جلانے کی انتباہ کے باوجود ، سی ای این کے رہنما "لارس تھرسن” (جو ماضی میں اسلام کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کی وجہ سے ایک ماہ قید کاٹ چکا تھا) کے نام پر اس مقدس کتاب کو جلا دیا۔ الیاس نامی ایک نوجوان مسلمان شخص نے اس پر حملہ کیا جس نے اسے روکنے کی کوشش کی اور دونوں کو گرفتار کرلیا گیا۔
    میں وزیر اعظم خان (مرحومہ محترمہ شوکت خانم) کی والدہ کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنے بیٹے کو اپنے مذہب کے بارے میں غلط فہمیوں کی وضاحت کرتے ہوئے ایسی سفارتی بلکہ تابعدارانہ حکمت عملی اپنانا کبھی نہیں سکھایا۔
    27 ستمبر 2019 کو ، یو این او ہیڈکوارٹر ، نیو یارک میں جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ، وزیر اعظم پاکستان مسٹر خان نے اس نئی وبا کے اسباب ، علامات ، تشخیص اور علاج کے بارے میں ایک فکری تقریر کی.
    وہ 30 منٹ میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے کسی عالم سے کم نہیں لگتا تھا جس کی وضاحت 30 سال میں کسی بھی مسلم عالمی رہنما نے نہیں کی تھی۔
    ہم سب کو اس معاملے پر آواز اٹھاتے رہنا چاہیے.
    Twitter : @Zeeshanvfp

  • طالبان کی حکومت میں خواتین کو کام کرنے کی اجازت کہاں تک ہو گی ، سہیل شاہین نے بتا دیا

    طالبان کی حکومت میں خواتین کو کام کرنے کی اجازت کہاں تک ہو گی ، سہیل شاہین نے بتا دیا

    طالبان کی حکومت میں خواتین کو کام کرنے کی اجازت کہاں تک ہو گی ، سہیل شاہین نے بتا دیا

    باغی ٹی وی : قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان میں نئی حکومت میں خواتین کوحجاب کےساتھ کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنےکی اجازت ہوگی ۔

    غیرملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا تھاکہ نئی حکومت میں خواتین کوسیاست میں حصہ لینےکی اجازت ہوگی اور خواتین کوگھر سے نکلنے کیلئے مرد سربراہ کی ضرورت نہیں ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ نئی حکومت میں خواتین کوحجاب کےساتھ کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنےکی اجازت ہوگی۔

    سہیل شاہین کا کہنا تھاکہ افغان صدراشرف غنی کا اقتدار میں رہنا طالبان کے سرینڈر کرنے میں رکاوٹ ہے، امن معاہدے کیلئے نئی حکومت کا قیام اورافغان صدرکا عہدہ چھوڑنا ضروری ہے۔

    ان کا کہنا تھاکہ کسی بھی جنگ بندی سے پہلے فریقین کیلئے قابل قبول نئی حکومت کیلئے معاہدہ ہونا چاہیے پھر جنگ نہیں ہوگی، طالبان اقتدار کی اجارہ داری پر یقین نہیں رکھتے۔

    سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ ماضی میں افغانستان میں اقتدار پر اجارہ داری قائم کرنے والی حکومتیں کامیاب نہیں ہوئیں لہٰذا طالبان اسی فارمولے کو دہرانا نہیں چاہتے ہیں۔

    طالبان ترجمان نے مذاکرات کو ایک اچھا آغاز قرار دیا تاہم انہوں نے کہا کہ حکومتیں بار بار جنگ بندی کا مطالبہ کرتی ہیں جبکہ اشرف غنی کا اقتدار میں رہنا طالبان کے سرینڈر کرنے کے مطالبے میں رکاوٹ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ مفاہمت نہیں چاہتے مگر وہ چاہتے ہیں کہ طالبان ہتھیار ڈال دیں، کسی بھی جنگ بندی سے پہلے ایک نئی حکومت کیلئے معاہدہ ہونا چاہیے جو ہمارے اور دوسرے افغانوں کیلئے قابل قبول ہو، پھر جنگ نہیں ہوگی۔

    سہیل شاہین کا کہنا تھاکہ کابل پرقبضے کا کوئی منصوبہ نہیں، طالبان نے صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کرنے سے خودکو روک لیا ہے، قابل قبول نئی حکومت بن جائے تو طالبان ہتھیارڈال دیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ غیرملکی میڈیا سمیت تمام صحافی مستقبل میں اپنا کام جاری رکھ سکتے ہیں۔

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں بھی طالبان نمائندوں اور افغان حکومتی وفد کے درمیان دوحا میں مذاکرات ہوئے تھے تاہم یہ مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکے۔

  • طالبان نے امریکی فوج کے مترجم کا سرقلم کردیا

    طالبان نے امریکی فوج کے مترجم کا سرقلم کردیا

    واشنگٹن :طالبان نے امریکی فوج کے مترجم کا سرقلم کردیا،اطلاعات کے مطابق افغان طالبان نے امریکی فوج کے لیے مترجم کا کام سرانجام دینے والے افغان شہری کا سرقلم کردیا۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق افغان شہری سہیل پردیس جو امریکی فوج کے مترجم کے طور پر کام کرتا تھا، عید کی چھٹیوں کے موقع پر اپنی بہن کو لینے گھر جارہا تھا کہ راستے میں طالبان نے گاڑی روک کر سر قلم کردیا۔

    مقامی افراد کے مطابق طالبان نے سہیل پردیس کی گاڑی کو روکا تاہم اس نے گاڑی کی رفتار تیز کردی جس پر طالبان نے گاڑی پر فائرنگ کی اس کے بعد سہیل کو گاڑی سے باہر نکال کر سر قلم کردیا۔

    دوسری جانب سہیل کے دوستوں کا کہنا ہے کہ اس کو طالبان کی جانب سے دھمکیاں مل رہی تھیں اور کہا جارہا تھا کہ تم امریکی جاسوس ہو، ہم تمہیں اور تمہاری فیملی کو جان سے ماردیں گے۔

    سہیل پردیسی کے قتل کے بعد امریکی فورسز کے لیے مترجم کا کام کرنے والے تمام افراد خوف کے سائے تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، انہیں خدشہ ہے کہ طالبان انہیں بھی جان سے ماردیں گے

  • 34 میں سے 31 صوبوں میں  رات کا کرفیو :افغانستان سے اہم خبرآگئی

    34 میں سے 31 صوبوں میں رات کا کرفیو :افغانستان سے اہم خبرآگئی

    کابل : 34 میں سے 31 صوبوں میں رات کا کرفیو :افغانستان سے اہم خبرآگئی ،اطلاعات کے مطابق افغان حکومت نے پرتشدد حالات اور طالبان کی سرگرمیوں پر قابو پانےکے لیے ملک کے 34 میں سے 31 صوبوں میں رات کا کرفیو نافذکردیا۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہےکہ تشدد میں کمی اور طالبان کی سرگرمیاں روکنےکے لیے 31 صوبوں میں رات کا کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔

    مقامی وقت کے مطابق کرفیو رات سے لےکر صبح تک رہے گا، اس دوران غیر ضروری طور پر باہر نکلنے پر پابندی ہوگی۔

    افغان وزارت داخلہ کے مطابق کابل،ننگرہار اور پنج شیر صوبے رات کےکرفیو سے مستثنٰی ہوں گے۔

    دوسری جانب افغان وزارت دفاع نے 24گھنٹوں میں 13صوبوں میں افغان فورسز کے آپریشن میں ،262طالبان جنگجوہلاک کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔

    دوسری طرف افغان طالبان کا کہنا ہے کہ افغان کٹھ پتلی حکومت جومرضی کرلے ، عوام کوکرفیوکے نام پرخوف زدہ کرلے لیکن اب عوام افغان طالبان کے ساتھ ہیں ، امریکہ زدہ کٹھ پتلی حکمرانوں کے ساتھ نہیں‌

  • وزیراعظم عمران خان کا دورہ ازبکستان بہادری    ‏تحریر :تنویر راجپوت کی مثال

    وزیراعظم عمران خان کا دورہ ازبکستان بہادری ‏تحریر :تنویر راجپوت کی مثال

    وزیراعظم عمران خان کے دورہ ازبکستان نے ویسے تو کئی بہادری کے جھنڈے گاڑے ساتھ ساتھ دنیا کو یہ باور کروایا کہ اب پاکستان اپنے پیروں پر کھڑا ہے اب پاکستان کی حکمرانی ایک ایسے محب وطن لیڈر کے ہاتھوں میں ہے جسے صرف خدا کے ڈر کے علاؤہ کسی کا ڈر نہیں ۔۔۔
    عمران خان نے ازبکستان میں اس بہادری اور جرت مندانہ طریقے سے پاکستان کا موقف دنیا کے سامنے رکھا جو پیچھلی کئی باریاں لینے والے زرداری اور نواز شریف نا کر سکے ۔۔

    نواز شریف اور زرداری نے قوم کو سوائے دھوکے میں رکھنے کے کچھ نہیں کیا ڈرون حملوں کی اجازت دے کر کئی سالوں تک عوام کے سامنے مذمتی چورن پیچا گیا ۔۔

    پیچھلے روز قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کے 60 منٹ سے زائد وقت کے خطاب نے ثابت کردیا کہ وہ واقعی اقبال کا سچا شاہین اور قائد اعظم کا بہادر سپاہی ہے اس مرد مجاہد کی تقریر بغیر کسی شور شرابے ،رکاوٹ کے جاری رہی پورا اعوان نعرہ تقبیر اللہ ہو اکبر کے نعروں سے گونج رہا تھا اور لہو گرما دینے والا منظر ان آنکھوں نے دیکھا۔۔
    وزیراعظم عمران خان کے خطاب سننے کے بعد اس مرد مجاہد کے لیے دل سے دعائیں نکلتی رہیں کہ اے میرے رب اس شخص کے ارادے بہت بڑے ہیں منزل صاف ہے لیکن راستہ بہت مشکل خان صاحب کے راستے میں آنے والی تمار رکاوٹیں دور عطا فرما اور وزیراعظم عمران خان کو تندرستی عطا فرما آمین

    دورہ ازبکستان میں وزیراعظم عمران خان کو شاندار گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا دورے میں معاشی تعاون اور باہمی دلچسپی کی امور بھی زیر بحث آئے اس کے علاوہ دو طرفہ تعاون کے مزید فروغ کیلئے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کے گئے وزیراعظم عمران خان پاک ازبک تجارتی فورم سے بھی خطاب کیا جسے سن کر با حیثیت ایک پاکستانی سینا فخر سے چوڑا ہوگیا ۔۔۔وزیراعظم عمران خان کے ہر بیرونی دورے میں کیے گئے خطاب میں وہ موقف پیش کیا جاتا رہا جو ہر ایک پاکستانی کے دل کی آواز ہے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھارتی صحافی کو دیے گئے بیان میں بھی دو ٹوک بات کی گئی جس میں بھارتی بھونڈے چہرے کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ کپتان نے بھاتی صحافی کو دھو کر رکھ دیا یہ وہ عمل تھا جو صرف وہ شخص کرسکتا ہے جسکی بیرون ملک جائدادیں نا ہوں جو ذاتی مفاد کو ملکی مفاد پر ترجیح نا دیتا ہو۔۔

    صرف عمران خان جیسا بہادر لیڈر ہی مسلم ملکوں کو متحد کر ان کے سربراہان کو ایک پیج پر لاسکتا ہے۔۔۔ انشاء اللہ

  • اسپن بولدک پرقبضےکے دروان کسی کوئی نقصان نہیں پہنچایا:پُرامن شہرمیں داخل ہوئے:طالبان

    اسپن بولدک پرقبضےکے دروان کسی کوئی نقصان نہیں پہنچایا:پُرامن شہرمیں داخل ہوئے:طالبان

    اسپن بولدک:اسپن بولدک پرقبضےکے دروان کسی کوئی نقصان نہیں پہنچایا:پُرامن شہرمیں داخل ہوئے:طالبان نے ہرقسم کے پراپیگنڈے کومسترد کردیا

    اس حوالے سے افغان طالبان کے ترجمان کی طرف سے وضاحت کی گئی ہے کہ کئی دنوں سے افغان عوام کے دشمن یہ افواہیں پھیلاتے آرہے ہیں کہ امارت اسلامیہ کے مجاہدین کے صوبہ قندھار کے ضلع اسپن بولدک پر قبضہ کرنے کے بعد ہتھیار ڈالے ہوئے لوگوں کو قتل اور گرفتار کرنا شروع کیا

    افغان طالبان کے ترجمان نے کہا کہ وہ ان تمام افواہوں اورپرپیگنڈوں کومسترد کرتے ہیں‌ مجاہدین نےاسپن بولدک پر قبضہ کرنے کے بعد ہتھیار ڈالنے والے تمام فوجیوں اور پولیس کے ساتھ اچھا سلوک کیا گیا اور وہاں کسی کو بھی نقصان نہیں پہنچا۔

    البتہ بولدک کے علاقے میں ذاتی دشمنی کی وجہ سے 4 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے اور ہم قصورواروں کو گرفتار کرنے اور کیس کی تحقیقات کے لئے کوشاں ہیں۔

    قاری محمد یوسف احمدی اسلامی امارت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ تمام میڈیا کودعوت دیتے ہیں کہ وہ آئیں اوردیکھیں کہ افغانستان میں خصوصا اسپن بولدک میں عوام کس طرح اپنے آپ کومحفوظ اورپرسکون سمجھ رہے ہیں‌

  • امت مسلمہ کی حالت زار  تحریر: تماضر خنساء

    امت مسلمہ کی حالت زار تحریر: تماضر خنساء

    آج امت زبوحالی کا شکار ہے ۔نبی آخر الزمان ص جس
    امت کو ایک تسبیح کے دانے میں پروگئے وہ ٹوٹ چکی ہے اور امت ٹکڑوں میں بٹ چکی ہے ۔جہاں نظر اٹھاؤ تو مسلمان مشکل میں ہیں ،کہیں کفار کی درپردہ چال بازیاں ہیں تو کہیں کفار کھلم کھلا غاصب ہے ۔یہ جنگ تو ازل سے ابد تک جاری رہے گی بدی اور نیکی کی جنگ کفار اور مسلمان کی جنگ!
    اللہ کے نبی نے تو ہمیں واضح بتادیا کہ امت تو ایک جسد واحد ہے کہ ایک عضو تکلیف میں ہو تو دوسرا
    عضو بھی سکون نہیں لے پاتا ۔

    حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا سب مسلمان ایک جسم واحد کی طرح ہیں۔ اگر اس کی آنکھ دُکھے تو اس کا سارا جسم دُکھ محسوس کرتا ہے اور اسی طرح اگر اس کے سر میں تکلیف ہو تو بھی سارا جسم تکلیف میں شریک ہوتا ہے۔ (صحیح مسلم)

    مگر یہ امت کیسی امت ہے کہ جسکا ایک عضو تکلیف میں ہے اور باقی سب خاموش تماشائ ہیں، ہر ایک مصلحت کے تحت خاموش ہے، مسلمان مسلمان کی تکلیف نہیں سمجھتا آخر یہ کیسی بے حسی ہے جو اس امت پہ طاری کردی گئ ہے ۔

    حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ ﷲ کے رسول صلی ﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان سے تعلق ایک مضبوط عمارت کا سا ہے اس کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط کرتا ہے۔ پھر آپؐ نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر دکھایا کہ مسلمانوں کو اس طرح باہم وابستہ اور پیوستہ ہونا چاہیے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

    لیکن آج یہ امت ٹکڑوں میں بٹ چکی ہے ،مسلمان اپنے مسلمان بھائ کا دشمن ہے، یہود و نصاری کو اپنا دوست سمجھتے ہیں
    ایک طرف امت کا دھڑکتا دل! فلسطین انبیائے کرام کی سرزمین ،وہی سرزمین جو واقعہ معراج کی شاہد ہے لہو لہان ہے، غاصب مسلط ہیں، مگر باقی دنیا کے مسلمان پھر بھی مست ہیں اس دنیا کی زندگی میں کھوئے پڑے ہیں ۔جانتے نہیں کہ یہ بے حسی اس امت کو اپاہج کرسکتی ہے اور اپاہج بھلا کسی سے اپنا حق بھی لے پایا ہے کبھی؟
    فلسطین سے نظر پھیر بھی لو توامت کا بازو کشمیرہے جہاں ،نہ جانے کتنے سالوں سے ظلم کا بازار گرم ہے کرفیو لگادیا جاتا ہے، ماؤں بیٹیوں کی عصمتیں تار تار کردی جاتی ہیں دن دھاڑے اس امت کے بیٹے چھین لیے جاتے ہیں، مگر ہم! ہم تو سکون سے ہیں تو ہمیں کیا غرض کہ فلسطین اور کشمیر کس کرب میں ہیں! ہمیں کیا غرض کہ ایغور کے مسلمانوں پہ کیا بیت رہی ہے! ہم تو بس اپنی زندگی میں مست ہیں فلسطین اور کشمیر کو منظر نامے سے ہٹا کر ہی دیکھ لیں تو مسلم ایٹمی قوت پاکستان ہے، جس سے ہر مسلم ملک کو امیدیں ہیں کہ کوئ محمد بن قاسم آئے گاکوئ عمر بن خطاب پیدا ہوگا مگر یہاں تو مراثی ہیں یا اداکار! جو اس زندگی کو فلم کی طرح جییے جارہے ہیں، طاقت ہوتے ہوئے بھی بے بس ہیں یہ کیسی بے بسی ہے جو ہمارے ہاتھ باندھے ہوئے ہے اور زبانیں خاموش ہیں!
    مان لو پھر کہ ایٹمی قوت پاکستان سے زیادہ بہتر وہ لہو لہو سرزمین فلسطین ہے جہاں ظلم کے خلاف مزاحمت ہے جہاں سچ اور حق کی آواز کڑے وقت میں بھی باطل کے سر پر تازیانہ بن کر پڑتی ہے ۔جہاں کم از کم لب تو بولنے کیلیے آزاد ہیں ۔۔۔ہم تو آزادی کے نام پر غلام بنالیے گئے ہیں ذات پات رنگ و نسل ماڈرنزم کے غلام! ہمیں آزادی کا بہلاوا دے کر قید کردیا گیا ہے ۔۔
    ایک ایٹمی قوت کے ہوتے بھی امت کسمپرسی کاشکار ہے ۔۔ آخر اس زبوحالی کی وجہ کیا ہے؟
    بس یہی کہ امت تفرقے میں بٹ گئ ہے، وہ رسی تو چھوٹ ہی گئ جس میں اس امت کی کامیابی کی ضمانت پوشیدہ تھی،

    وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ۚ

    اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو (القرآن)

    محمد مصطفی تو سکھا گئے کہ تفرقے میں نہ پڑنا ورنہ جھاگ کی طرح کی حیثیت میں رہ جاؤگے سمندر ہو کر بھی طوفان نہیں بن سکوگے .
    مگر ہم تفرقے میں بٹ گئے، امت بکھر گئ آج مسلمان تو ہیں مگر انکا وہ دبدہ نہیں رہا، کوئ شیعہ ہے تو کوئ سنی ،کوئ وہابی تو کوئ اہل حدیث ہے ،
    کہیں نسلی و علاقائ تعصب کی آگ ہے جس میں
    اپنا ہی اپنے کو دھکیل رہا ہے، ہر ایک خود کو دوسرے سے افضل سمجھتا ہے اور اس جنگ میں اپنوں کا ہی خون کیے جاتے ہیں.،جانتے نہیں کہ چاہے شیعہ ہو یا سنی، وہابی ہو یا دیوبندی کفار کیلیے سب مسلمان ہیں سب انکے دشمن ہیں۔جو چیز آج ہمیں اپنانی تھی وہ کفار آزماتے ہیں اور ہم ماڈرنزم اور مغرب کے پیچھے بھاگتے ہوئے ذہنی غلام ہیں۔
    ۔کسی کو انگریزی بولتا دیکھ کر مرعوب ہوجانے والے یہاں ایک عالم سے زیادہ عزت ایک مراثی کو دی جاتی ہے جہاں پڑھ لکھ کر آگے بڑھنے والا تو بے روزگار ہے مگر رشوت خور مزے میں ہے، جہاں ایماندار کو پاگل کہا جاتا ہے اور بے ایمان کو بولڈ سمجھا جاتا ہے ۔۔۔بے حیائ کی مانگ ہے اور حیادار کیلیے زندگی مشکل، ایسی غلامی کی زندگی جی رہے ہیں ہم!

    مگر یہ غلامی ہماری چنی ہوئ ہے ہم آزاد ہو کر بھی غلام ہیں تسلط آج بھی مغربی ذہنیت کو حاصل ہے! بٹی ہوئ امت آخر زوال کا شکار کیونکر نہ ہوگی ؟ ذرا سوچیے کہ آخر کب تک اس بے حسی کی چادر کو تھامے ہم خواب خرگوش کے مزے لیتے رہیں گے محض ایسی دنیا کیلیے جو فانی ہے!
    آخر روز آخرت ہم اپنے ہادی ص سے نظریں کیسے ملا پائیں گے ہمیں تو وہ امتی بننا تھا کہ جس امت کیلیے وہ ہستی روز محشر بھی شفاعت کی طلبگار ہوگی کہ یا ربی میری امت یا اللہ مری امت! اور ہم اس قابل بھی نہ ہونگے؟ آخر تفرقے کی اور مغربی غلامی کی اس جنگ سے ہم کب باہر آئیں گے؟
    ہمیں بے حسی کی اس چادر کو اتار پھینکنا ہوگا اور ایک امت بننا ہوگا جس پہ نبی آخر الزمان فخر کرسکیں
    وگرنہ ہماری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں!

    Twitter Handle:
    @timazer_K

  • کوروناوائرس کی موجودہ لہر سے کئی گنا مہلک پانچویں لہر جلد ہی ہانگ کانگ سمیت دنیا بھر میں ظاہر ہو گی  ماہرین نے خبردار کر دیا

    کوروناوائرس کی موجودہ لہر سے کئی گنا مہلک پانچویں لہر جلد ہی ہانگ کانگ سمیت دنیا بھر میں ظاہر ہو گی ماہرین نے خبردار کر دیا

    ڈیلٹا کی مختلف صورتیں بنیادی طور پر پی سی آر منفی ہوتی ہیں۔ فرد میں بنیادی طور پر غیر سنجیدہ یا ہلکی سا علامت ظاہر ہوتی ہے پھیپھڑوں میں تبدیلی آہستہ آہستہ واقع ہوتی ہے-

    باغی ٹی وی : جب زیادہ تر پھیپھڑوں پر اثر پڑتا ہے تو ، مریض دم توڑ جاتا ہے اور کچھ ہی گھنٹوں میں اس کی موت ہوجاتی ہے ہندوستان میں چینی کارکن ، نیپال کے راستے ہندوستان سے وطن واپس آئے۔ چونگینگ پہنچنے پر ، ابتدائی ٹیسٹ سارے منفی تھے۔ لیکن ڈاکٹر کو ابھی بھی شکوک و شبہات تھے ، لہذا اس نے ان کا سی ٹی اسکین کرایا۔

    ان کارکنوں کے پھیپھڑوں میں گھاؤ پائے گئے تھے اور انھوں نے ہندوستان کے ٹرپل ویرینٹ ہونے کی تصدیق کی ، جس سے یہ ثابت ہوا کہ ہندوستانی سپر مختلف حالت موجودہ ٹیسٹوں سے بچ سکتی ہے۔ زیادہ تر چوکیاں صرف عام ٹیسٹوں پر مبنی ہیں۔

    ہانگ کانگ اور بیشتر ممالک تارکین وطن کو سی ٹی اسکین کروانے پر مجبور نہیں کرتے ہیں ، اور نہ ہی ان کے پاس ایسا کرنے کے لئے کافی وقت اور وسائل ہیں۔ اگر اندازہ درست ہے تو ، یہ خیال کیا جاتا ہے کہ سپر وائرس پھیلنے کی پانچویں لہر جلد ہی ہانگ کانگ اور دنیا میں ظاہر ہوگی۔ سنگاپور کا پیغام: "وائرس واپس آگیا ہے۔” اس بار یہ وائرس زیادہ مہلک ہے۔

    متاثرہ افراد کو کھانسی نہیں ہوتی ہے یا بخار نہیں ہوتا ہے۔ "اس بار علامات مشترکہ درد ، کمزوری ، بھوک میں کمی” ہیں۔ اس کے نتیجے میں ، اموات کی شرح زیادہ ہے ، علامات ظاہر ہونے تک کا وقت کم ہوتا ہے ، اور بعض اوقات کوئی علامت نہیں ملتی ہے ، لہذا محتاط رہیں۔

    ہمارے ناسوفریینکس خطے میں تناؤ بندرگاہ نہیں رکھتا ہے ، لہذا اب کوئی پروڈروومل علامات نہیں ہیں جیسے بدبو یا ذائقہ ختم ہو جانا۔ یہ پھیپھڑوں پر براہ راست حملہ کرتا ہے بہت سے مریضوں میں جن کو بخار نہیں ہوتا ہے ، ایکسرے دکھاتے ہیں: سینے کا اعتدال پسند۔ ناک کی mucosal چھلنی ٹیسٹ اکثر COVID 19 منفی ظاہر کرتا ہے ، اور زیادہ سے زیادہ گلے کی ناک کی جانچ پڑتال کے نتائج ، (COVID19) کا مطلب یہ ہے کہ وائرس براہ راست پھیپھڑوں میں پھیلتا ہے ، جس سے وائرل نمونیہ سے شدید سانس کی تکلیف (ہائپوکسیا) ہوتی ہے۔

    اس کی وضاحت کرتی ہے کہ یہ اتنا زیادہ شدید اور مہلک کیوں ہو گیا ہے ، اور بخار شدید ہو گیا ہے۔ براہ کرم نوٹ کریں: "بھیڑ والی جگہوں سے پرہیز کریں ،” "معاشرتی فاصلہ رکھیں” ، "ماسک پہنیں” اور "اپنے ہاتھوں کو ہمیشہ ہاتھ سے صاف رکھنے والے صابن سے صاف کریں۔” یہ وبا آخری بیماری کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ مہلک ہوگی ، اور ہمیں زیادہ محتاط رہنا چاہئے اور "اسے کبھی بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔”