Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • سلمان خان کی وجہ سے بالی ووڈ کیرئیر میں زیادہ جدوجہد نہیں کرنی پڑی    ہمیش ریشمیا

    سلمان خان کی وجہ سے بالی ووڈ کیرئیر میں زیادہ جدوجہد نہیں کرنی پڑی ہمیش ریشمیا

    بالی ووڈ کے معروف کمپوزر، اداکار اور رئیلٹی شو جج ہمیش ریشمیا کا کہنا ہے کہ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان اور ان کے خاندان کی وجہ سے انہیں بالی ووڈ کیریئر میں آسانی رہی-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ہمیش ریشمیا نے اس حوالے سے ایک انٹر ویو میں کہا تھا کہ بالی ووڈ میں صورتحال اپنے حق میں کرنے کے لیے آپ کو کسی ایک کیمپ سے جڑنا یا تعلق رکھنا ہوتا ہے، اس سے آپ باآسانی وہاں آگے بڑھ سکتے ہیں۔

    اس سلسلے میں انہوں نے سلمان خان اور ان کے خاندان کی مدد کو سراہا اور کہا کہ ان کی مدد کی وجہ سے انھیں زیادہ جدوجہد نہیں کرنا پڑی۔

    انھوں نے پہلی کامیابی اس وقت حاصل کی جب 1998 میں دو گیت ’پیار کیا تو ڈرنا کیا‘ کے لیے کمپوز کیے ہمیش نے سلمان خان کے ساتھ کافی پروجیکٹس کیے جن میں تیرے نام، میں نے پیار کیوں کیا اور باڈی گارڈ شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ ہمیش کو سلمان خان نے ہی بالی ووڈ میں بطور کمپوزر متعارف کروایا تھا۔

  • شوہر راج کندرا کے بعد اہلیہ شلپا شیٹھی بھی پولیس کے ریڈار پرآ گئیں

    شوہر راج کندرا کے بعد اہلیہ شلپا شیٹھی بھی پولیس کے ریڈار پرآ گئیں

    شوہر راج کندرا کی گرفتاری کے بعد اداکارہ شلپا شیٹی بھی فحش فلموں سے متعلق کیس میں ریڈار پر آگئیں۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق شوہر راج کندرا کی گرفتاری کے بعد اداکارہ شلپا شیٹی بھی فحش فلموں سے متعلق کیس میں ریڈار پر آگئیں۔
    شلپا شیٹی سے بھی اس کیس میں پوچھ گچھ ہوئی ہے۔

    خیال رہے کہ چند روز قبل شلپا شیٹی کے شوہر راج کندرا کو ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے گرفتار کیا تھا راج کندرا پر الزام تھا کہ وہ فحش فلمیں پروڈیوس کرتے اور انھیں انٹرنیٹ پر فروخت کے لیے پیش بھی کرتے ہیں۔

    راجستھان رائل کے شریک مالک کے خلاف جہاں ایک جانب تحقیقات جاری ہے، وہیں اب ان کی اہلیہ شلپا شیٹھی بھی تحقیقاتی اداروں کے ریڈار پر آگئیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق شلپا شیٹی نے اس معاملے میں اپنا بیان ریکارڈ کروانے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا اور اب ان کے خلاف کرائم برانچ کی جانب سے پوچھ گچھ کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔

    کرائم برانچ یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ کیا شلپا شیٹی پہلے سے اس پورے معاملے کے بارے میں جانتی تھیں یا نہیں جس کا الزام ان کے شوہر پر ہے۔

    اس کے علاوہ شلپا شیٹی سے ان کی جائیداد اور ان کے بینک اکاؤنٹس کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی گئیں جس کا مقصد یہ جاننا تھا کہ یہ جائیداد اور پیسہ ان کے پاس کہاں سے آیا ہے یا پھر شلپا بھی اس پورے کام میں ملوث رہی ہیں۔

  • فحش فلموں کا الزام : شلپا شیٹھی نے خاموشی توڑ دی ، شوہر راج کندرا کے حق میں سامنے آ گئیں

    فحش فلموں کا الزام : شلپا شیٹھی نے خاموشی توڑ دی ، شوہر راج کندرا کے حق میں سامنے آ گئیں

    بالی ووڈاداکارہ شلپا شیٹھی کے شوہر راج کندرکو فحش فلمیں بنانے اور انہیں مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کرنے کے الزامات کے تحت حراست میں لیا تھااور اب انہیں عدالت نے 27 جولائی تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر رکھا ہے ۔

    باغی ٹی وی : ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق شلپا شیٹھی کے قریبی ذرائع کا کہناہے کہ اداکارہ نے راج کندرا کی ایپلی کیشن ” ہاٹ شاٹس “ کے ساتھ تعلق سے انکار کر دیاہے اور ان کے مطابق ’ جنسی خواہشات کو ابھارنے والے مواد ‘ اور فحش فلموں میں فرق ہو تاہے ۔

    ذرائع کا کہناتھا کہ اداکارہ شلپا شیٹھی نے اپنے شوہر کو سپورٹ کرتے ہوئے کہا کہ راج کندرا فحش فلمیں بنانے میں ملوث نہیں ہیں ۔

    واضح رہے کہ پولیس نے اداکارہ شلپا شیٹھی کے گھر پر چھاپہ مار کارروائی کے دوران ایک ہارڈ ڈسک اور کمپیوٹر تحویل میں لیا تھا ، جس میں سے 70 سے زائد فحش فلمیں برآمد ہوئی تھیں اداکارہ سے پوچھا گیا کہ انہوں نے کندرا کی ’ ویان انڈسٹریز ‘ سے استعفیٰ کیوں دیا تھا ۔پ

    پولیس نے اب تک فحش فلموں کے معاملے میں 11 افراد کو حراست میں لے رکھا ہے جبکہ راج کندرا کے بارے میں کہا جارہاہے کہ وہ سازش کا اہم کردار ہے اور پولیس کے پاس اس حوالے سے واضح ثبوت موجود ہیں ۔

  • سعودیہ عرب نئی جوہری طاقت؟ . تحریر : محمد محسن خان

    سعودیہ عرب نئی جوہری طاقت؟ . تحریر : محمد محسن خان

    ‎حالیہ رپورٹس کے مطابق سعودیہ عرب نے اپنی معیشت کو تنوع بخش بنانے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، صنعتی سہولیات کی مقامی پیداواراورمعیار زندگی کو بہتر بنانے کے لئے اپنا جوہری توانائی پروگرام قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ سعودی توانائی کی منتقلی تیل کی قیمتوں کے حالیہ بحران کے بعد سے ، تیل کی گھریلو طلب میں اضافے، وبائی امراض کی وجہ سے مارکیٹ میں ہنگامہ آرائی کے بعد تیل کی آمدنی پربادشاہی کے انحصارکو کم کرنے کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ہم سعودی وژن 2030 میں ترقی پانے والی ریاض کی توانائی کی منتقلی اورعلاقائی اور بین الاقوامی جیو پولیٹیکل بساط پر اس کے ممکنہ اثرات کو دیکھتے ہیں کہ ایٹمی توانائی سعودی خارجہ پالیسی کی تائید کیسے کرسکتی ہے کیونکہ بین الاقوامی طاقتیں روس اورچین سعودی حکومت کے قریب آرہے ہیں سعودیہ عرب روایتی طورپرامریکہ کے زیراثررہا ہے۔ اس کے علاوہ خیال کیا جا رہا ہے کہ سعودی جوہری توانائی پروگرام کے ضمن میں امکان ہے کہ ریاض جوہری ہتھیاروں کی قومی پیداوارکو آگے بڑھانے کے لئے اپنی جوہری سہولیات کا استعمال کرے گا۔

    ‎بدلتے حالات میں سعودی بادشاہت کو اپنی توانائی کی پیداوارکو متنوع بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ تیل کی قیمت اوربحران کے بعد سے تیل کی پیداوار اوربرآمدات پر بھاری انحصاراس کی کمزوری ظاہرکرتا ہے۔ لہذا سعودی ویژن 2030 کی ترجمانی ریاض کے قومی سماجی و اقتصادی مسائل پر ردعمل اور ملک کو ایک جدید لاجسٹک مرکز میں تبدیل کرنے کے مواقع کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔ یہ جزوی طورپردرست ہے کیونکہ سعودی وژن 2030 حکمت عملی ہے جس میں بادشاہت کی توانائی اورمعاشی منتقلی اور تیل کی گھریلو مانگ کو روکنے کی کوشش کی حمایت کی جانی چاہئے، جو سعودی تیل کی برآمدات کو زبردست حد تک محدود کردے گی۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ تیل کی قومی طلب سعودی آمدنی کو کم کردے گی ، وژن 2030 ریاض کی ملکی معیشت کو ترقی دینے اور اب بھی ملکی ترقی کی حمایت کرنے کی حکمت عملی ہے۔ توانائی کی منتقلی میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری خاص طورپرایٹمی شعبے میں۔ جیسا کہ پہلے ذکرکیا گیا ہے ریاض کو ایٹمی بجلی گھروں اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہئے تاکہ جوہری ایندھن کے پورے سائیکل کی مدد کی جاسکے۔ تیل کے حالیہ بحران اور وبائی امراض نے سعودی معیشت کو بے حد متاثر کیا ہے ، اور یہ خطرہ ہے کہ ریاض اپنے توانائی کی منتقلی کے پروگرام اور سعودی ویژن 2030 کے اہداف کو برداشت نہیں کر سکے گا۔ بین الاقوامی میدان اپنے جیو پولیٹیکل مضمرات کی وجہ سے سعودی جوہری ریس کی مستقل نگرانی کر رہا ہے۔امریکہ کا خیال ہے کہ چین ، روس ، اور پاکستان (اور جنوبی کوریا) ریاض کے جوہری پروگرام میں براہ راست مددگار ہو سکتے ہیں کیوں کہ وہ جانکاری ، نئی ٹیکنالوجیز اور سرمایہ کاری مہیا کرسکتے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل، ایران، امریکہ اپنے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کو قائم کرنے اورملک کو دیگر جوہری طاقتوں کی سطح تک پہنچانے کی سعودی کوشش پر متعدد قیاس آرائوں کی وجہ سے ریاض کے جوہری پروگرام کے بارے میں تشویش میں ہیں۔ نیز ، ریاض کو جوہری فراہمی میں پاکستان کے کردار اورکشمیر کے بارے میں اسلام آباد نئی دہلی کے محاذ آرائی پرغور کرنے پر ہندوستان بھی سعودی جوہری پروگرام پر مضطرب ہے۔ ایک طرف سعودی عرب توانائی کی منتقلی کی حمایت کام کے نئے مواقع پیدا کرنے سعودی صنعتی پیداوارکو مقامی بنانے اور تیل کی آمدنی پر سعودی انحصار کم کرنے کے لئے جوہری بجلی گھروں کی تعمیرمیں فروغ اور سرمایہ کاری کررہا ہے۔ دوسری طرف ، کیا سعودی عرب قومی جوہری پروگرام کو مکمل کرنے کے اپنے مشن کو پورا کرے گا ، علاقائی جغرافیائی سیاسی توازن میں تغیر پذیر ہوگا۔چونکہ حالیہ سعودی امریکہ تعلقات میں خاشوگی کے معاملے سے کشیدگی ہوئی ہے ، لہذا واشنگٹن ریاض پر اپنی گرفت کھو سکتا ہے اور وہ سعودی جوہری پروگرام پر قابو پانے / اس کے برعکس کرنے سے قاصر ہے۔ اسی کے ساتھ ہی دوسرے جغرافیائی سیاسی طاقتیں (چین، روس) سعودی عرب کے قریب آ رہے ہیں اور توانائی کے شعبے میں ان کا تعاون مارکیٹ اوربین الاقوامی میدان کو بہت زیادہ متاثر کرسکتا ہے۔ سعودی وژن 2030 ریاض کی معاشی ترقی کو بہتر بنانے کی کوشش ہے اور جغرافیائی سیاسی فائدہ اٹھانے کے ل کہ سعودی عرب کو امریکی کنٹرول پر کم انحصار کرنا اور ایک بااثر کلیدی علاقائی اور بین الاقوامی طاقت بننا ہے توانائی کے شعبے میں ان کے تعاون سے مارکیٹ اور بین الاقوامی میدان میں بہت زیادہ اثر پڑ سکتا ہے۔ سعودی وژن 2030 ریاض کی معاشی ترقی کو بہتر بنانے اور سعودی عرب کو امریکی کنٹرول پر کم انحصار کرنے اور ایک بااثر کلیدی علاقائی اور بین الاقوامی اداکار بننے کی جغرافیائی سیاسی فائدہ اٹھانے کی ایک کوشش ہے.

    MMKUK1

  • مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے آپسی مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے     پاکستان مسلم لیگ ن متحدہ عرب امارات

    مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے آپسی مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے پاکستان مسلم لیگ ن متحدہ عرب امارات

    پاکستان مسلم لیگ ن متحدہ عرب امارات کے جنرل سیکرٹری چودھری ظفر اقبال اور چیف آرگنائزر عبدالمجید مغل کا کہنا ہے کہ آپسی مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کیے جاسکتے ہیں جبکہ مشاورت کے ذریعے مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا گیا کہ اس مقصد کے لیے فریق ثانی سے مذاکرات کے لیے ایک پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو مذاکرات کے ذریعے آپس میں مل بیٹھ کر آپسی اختلافات اور مسائل حل کریں گے۔

    دبئی کے ایک ہوٹل میں اس پریس کانفرنس کا انعقاد چودھری ظفر اقبال جنرل سیکرٹری پی ایم ایل این یو اے ای نے کیا تھا اس اجلاس میں چیف آرگنائزر عبدالمجید مغل اور دیگر عہدیداران عامر سہیل گھمن، حاجی محمد نواز، راجہ جمیل بنگیال، چودھری صغیر احمد، عارف عامر منہاس، چودھری عبدالرزاق، عقیل ظفر، وقاص گھمن، شوکت بٹ اور راجہ ابوبکر کے علاوہ دیگر عہدیداران و کارکنان بھی شامل تھے۔

    اس موقع پر تمام شرکائے تقریب نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کا واضح اعلان کیا کہ ہم سب اپنے قائدین چودھری ظفر اقبال اور عبدالمجید مغل کے ساتھ ہیں اور ان کے ہر فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔

    شرکاء نے کہا کہ پارٹی ارکان میں ردوبدل کا کام فرد واحد کے فیصلوں کی بجائے مشاورت سے ہونا چاہیے تاکہ ہر کارکن کو اس کا حق مل سکے۔

    فریق ثانی سے مذاکرات کے لیے چودھری محمد نواز، راجہ جمیل بنگیال، چودھری صغیر احمد، چودھری عبدالغفار اور شہزاد بٹ پر مشتمل پانچ رکنی کمیٹی کا اعلان کیا ہے جو تمام معاملات کو مذاکرات کے ذریعے مل جل کر حل کرے گی تاکہ پی ایم ایل این امارات کے اندرونی اختلافات ختم ہوں اور پی ایم ایل این ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہوکر ملک و قوم کے لیے کام کرسکے۔

  • طالبان نے امریکی فوج کے مترجم افغان شہری کا سرقلم کردیا

    طالبان نے امریکی فوج کے مترجم افغان شہری کا سرقلم کردیا

    کابل: امریکی میڈیا کے مطابق طالبان نے امریکی فوج کے لیے مترجم کا کام سرانجام دینے والے افغان شہری کا سرقلم کردیا ہے ۔

    باغی ٹی وی : امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق یہ واقعہ 12 مئی کو پیش آیا، افغان شہری سہیل پردیس جو امریکی فوج کے مترجم کے طور پر کام کرتا تھا، عید کی چھٹیوں کے موقع پر اپنی بہن کو لینے گھر جارہا تھا کہ راستے میں طالبان نے گاڑی روک کر سر قلم کردیا۔

    امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ مقامی افراد کے مطابق طالبان نے سہیل پردیس کی گاڑی کو روکا تاہم اس نے گاڑی کی رفتار تیز کردی جس پر طالبان نے گاڑی پر فائرنگ کی اس کے بعد سہیل کو گاڑی سے باہر نکال کر سر قلم کردیا۔

    دوسری جانب سہیل کے دوستوں کا کہنا ہے کہ اس کو طالبان کی جانب سے دھمکیاں مل رہی تھیں اور کہا جارہا تھا کہ تم امریکی جاسوس ہو، ہم تمہیں اور تمہاری فیملی کو جان سے ماردیں گے۔

    سی این این کے مطابق سہیل پردیسی کے قتل کے بعد امریکی فورسز کے لیے مترجم کا کام کرنے والے تمام افراد خوف کے سائے تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، انہیں خدشہ ہے کہ طالبان انہیں بھی جان سے ماردیں گے۔

  • نا اہل اور کمزور پاکستانی عدالتیں نظریاتی لحاظ سے آزاد ہیں لیکن حقیقت میں حکومت کے زیر اثر ہیں   امریکا

    نا اہل اور کمزور پاکستانی عدالتیں نظریاتی لحاظ سے آزاد ہیں لیکن حقیقت میں حکومت کے زیر اثر ہیں امریکا

    امریکی محکمہ خارجہ کا پاکستانی عدلیہ کے بارے میں کہنا ہے کہ نظریاتی لحاظ سے دیکھا جائے تو ملک کا عدالتی نظام آزادانہ کام کرتا ہے لیکن حقیقت یکسر مختلف ہے پاکستان کی عدالتوں کی اہلیت، شفافیت اور قابل بھروسہ ہونے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : روزنامہ جنگ میں شائع کردہ رپورٹ کے مطابق انویسٹمنٹ کلائمٹ اسٹیٹمنٹ پاکستان 2021 نامی اپنی تازہ ترین رپورٹ میں امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی عدلیہ حکومت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے زیر اثر ہے، ماتحت عدلیہ پر ایگزیکٹو برانچ کا اثر اور اس میں اہلیت اور شفافیت کا فقدان ہے، ماتحت عدالتوں میں کئی غیر حل شدہ مقدمات کا ہجوم موجود ہے۔

    حال ہی میں جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نظریاتی لحاظ سے عدالتیں آزاد ہیں لیکن حقیقت مختلف ہے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کا عدالتوں پر نمایاں اثر ہے، نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کے عدالتی نظام کی شفافیت، اہلیت اور قابلیت پر بھروسہ کرنا شکوک و شبہات سے پُر ہے تاہم، توہین عدالت کی کارروائی کے ڈر کی وجہ سے کاروبار اور عمومی طور پر عوام عدالتی نظام کی کمزوری پر انگلی نہیں اٹھا پاتے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا کنٹریکٹ ایکٹ 1872 وہ مرکزی قانون ہے جو پاکستان میں معاہدوں کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، ایسے حالات میں، کچھ برطانوی قانونی فیصلے ایسے بھی ہیں جن کا عدالتی کارروائیوں میں حوالہ دیا جاتا ہےپاکستان کا ضابطہ قانون اور اقتصادی پالیسی غیر ملکی سرمایہ کاری کے خلاف امتیازی رویہ نہیں رکھتا لیکن نا اہل اور کمزور عدلیہ کی وجہ سے معاہدوں کا نفاذ مسائل پیدا کر دیتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل کی 2020 کی کرپشن کے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 180 ممالک کی فہرست میں پاکستان 124 ویں نمبر پر ہے اور چونکہ سزاؤں پر عملدرآمد اور احتساب کا فقدان ہے لہٰذا کرپشن کے مسائل بدستور موجود ہیں اور ساتھ ہی میرٹ کی بنیاد پر ترقیاں بھی نہیں دی جاتیں جبکہ تنخواہیں نسبتاً کم ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ضابطہ قانون کے تحت رشوت ایک جرم ہے جس کی سزا مقرر ہے لیکن اس کے باوجود حکومت میں ہر سطح پر رشوت کا چلن موجود ہے اگرچہ اعلیٰ عدالتوں کو اچھی ساکھ کا حامل سمجھا جاتا ہے لیکن نچلی عدالتیں کرپٹ، نا اہل اور امیر، مذہبی، سیاسی اور اسٹیبلشمنٹ کی شخصیات کے دباؤ میں آجاتی ہیں، عدالتی تقرریوں میں سیاسی مداخلت کی وجہ سے عدالتی نظام پر حکومت کا اثر رسوخ بڑھ جاتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، نیب کی فنڈنگ بھی کم ہے اور ادارے میں پیشہ ورانہ قابلیت بھی نہیں اور پاکستان میں اپوزیشن جماعتیں ادارے کو سیاسی لحاظ سے متعصب سمجھتی ہیں۔ نیب کی کارروائیوں کی وجہ سے کاروباری شعبہ بھی متاثر ہوا ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقامی عدالتیں حکومت کیخلاف غیر ملکی ثالثی فیصلوں کو مانتی ہیں اور نہ ہی ان پر عمل کراتی ہیں، کسی بھی مقامی ادارے کیخلاف جاری ہونے والے عالمی فیصلے کیخلاف بھی مقامی عدالتوں سے پہلے اجازت لینا پڑتی ہے، غیر ملکی سرمایہ کاروں کیخلاف ماورائے عدالت کارروائی کی کوئی مثال موجود نہیں، مسائل اور تنازعات طے کرنے کیلئے پاکستان میں متبادل نظام (آلٹرنیٹیو ڈسپیوٹ ریزولیوشن میکنزم) موجود ہے جس کے ذریعے دو فریقین کے درمیان مسائل حل کیے جاتے ہیں، پاکستان کے آربیٹریشن ایکٹ (ثالثی کا قانون) تجارتی تنازعات میں ثالثی کے حوالے سے رہنمائی فراہم کرتا ہے لیکن عموماً کیسز حل ہونے میں برسوں کا وقت لگ جاتا ہے، ایسے خطرات کو دور کرنے کیلئے غیر ملکی سرمایہ کار کنٹریکٹ کی شقوں کا سہارا لیتے ہیں جس میں بین الاقوامی ثالثی کا ذکر موجود ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے عدالتی نظام میں خصوصی ٹریبونلز کا بھی ذکر موجود ہے جس کا مطلب آلٹرنیٹیو ڈسپیوٹ ریزولیوشن ہے، اسپیشل ٹریبونلز ٹیکس، بینکنگ، لیبر اور آئی پی آر کے تنازعات طے کرنے میں معاونت کرتے ہیں تاہم، غیر ملکی سرمایہ کار اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ شفاف، واضح اور بروقت انداز سے سرمایہ کاری کے تنازعات حل نہیں کیے جاتے۔

    دوسری جانب پاکستانی حکام نے امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ملک میں عدلیہ مکمل آزاد شفاف ہے، فیصلے بروقت کیے جاتے ہیں، پاکستان کے عدالتی نظام کی اہلیت اور قابلیت قابل بھروسہ ہے۔

  • جن کی حیا فرشتے بھی کرتے تھے…تحریر:خنیس الرحمٰن

    جن کی حیا فرشتے بھی کرتے تھے…تحریر:خنیس الرحمٰن

    مکہ کا ایک جاہ و حشمت کا مالک ,شیریں کلام, شرم وحیا کا پیکر اور مالدار نوجوان تھا. نہ اس نے کبھی گیت گایا تھا نہ کبھی اس کی تمنا کی تھی, ایک دن اپنے دوست یار صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے ملے.آپ نے دین کی دعوت پیش کی فوری لبیک کہا اور سابقین اولین کی فہرست میں داخل ہوگئے. یہ تھے تیسرے خلیفہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ, اسلام قبول کرتے ہیں اللہ نے بڑے بڑے انعامات سے نوازنا شروع کردیا. میرے نبی پیارے حبیبﷺ داماد بنا لیا. اپنی لاڈلی رقیہ کو سیدنا عثمان کے عقد میں سونپ دیا. اور نبیﷺ بھی کیسے سسر ثابت ہوتے ہیں, ایک دن اپنی بیٹی کو ملنے بیٹی کی طرف گئے کیا دیکھتے ہیں بیٹی اپنے شوہر سیدنا عثمان رضی اللہ کا سر دھلا رہی ہے تو آپ سے یہ نظر دیکھ کر رہا نا گیا اور بیٹی سے فرمانے لگے بیٹی ابو عبداللہ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو,یقینا وہ میرے صحابی ہیں,اخلاق میں مجھ سے سب سے زیادہ مشابہ ہیں. سیدہ رقیہ جب اس دنیا سے رخصت ہوگئیں تو آپ نے اپنی دوسری بیٹی سیدہ ام کلثوم بھی عثمان رضی اللہ کے عقد میں دے دی. آپ کو اس نسبت سے ذوالنورین کہا جانے لگا. میرے حبیب نے فرمایا کہ میری سو بیٹیاں بھی ہوتیں تو یکے بعد دیگرے عثمان رضی اللہ کے نکاح میں دیتا رہتا.
    ہجرت کا وقت آیا تو آقا علیہ السلام کے حکم پر اپنی زوجہ محترمہ کو ساتھ لے کر حبشہ کی طرف ہجرت کرلی اور اللہ نے قرآن اتار دیا فرمایا وَالَّـذِيْنَ هَاجَرُوْا فِى اللّـٰهِ مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُـبَوِّئَنَّـهُـمْ فِى الـدُّنْيَا حَسَنَةً ۖ وَلَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَـرُ ۚ لَوْ كَانُـوْا يَعْلَمُوْنَ (41)اور جنہوں نے اللہ کے واسطے گھر چھوڑا اس کے بعد جبکہ ان پر ظلم کیا گیا تھا تو البتہ ہم انہیں دنیا میں اچھی جگہ دیں گے، اور آخرت کا ثواب تو بہت ہی بڑا ہے، کاش یہ لوگ سمجھ جاتے.
    حضرت عثمان رضی اللہ شرم و حیا کے پیکر تھے. امام مسلمؒ اور امام بخاری ؒ نے ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آتے تو حضور اکرمﷺ اپنا لباس درست فرمالیتے اور فرماتے تھے کہ میں اس (عثمان غنی) سے کس طرح حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں .
    بیعت رضوان کا موقع آیا. نبی ﷺ نے پیارے صحابی کو سفیر بنا کر مکہ بھیج دیا. دوسری طرف خبر مشہور ہوگئی کہ سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ شہید کر دیئے گئے.نبی ﷺ نے فرمایا کہ کون ہے جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا بدلہ لینے کیلئے میرے ہاتھ پر بیعت کریگا، اس وقت تقریباً چودہ سو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے خون کا بدلہ لینے کیلئے حضور اکرمﷺ کے ہاتھ مبارک پر ’’موت کی بیعت‘‘ کی اس موقعہ پر نبیﷺ نے اپنا ایک ہاتھ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ قرار دیتے ہوئے دوسرے ہاتھ پر رکھ کر فرمایا کہ یہ ’’بیعت‘‘ عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے ہے اس بیعت کا نام بیعت رضوان اور ’’بیعت شجرہ‘‘ ہے۔ یہاں بھی میرے رب ان نفوس قدسیہ کا تذکرہ قرآن میں کردیا جنہوں نے اس بیعت میں حصہ لیا. تبوک کے باری آئی نبی ﷺ موت جہاد کے لیے فنڈ کا اعلان کردیا کہ کون خوش نصیب ہے جو جہاد کے راستے میں اپنا مال پیش کرے گا. اس موقع پر سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ایک ہزار اونٹ ، ستر گھوڑے اور ایک ہزار اشرفیاں جنگ تبوک کیلئے اللہ کے راستہ میں دیں حضور اقدس ؐ منبر مبارک سے نیچے تشریف لائے اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی سخاوت سے اس قدر خوش تھے کہ آپ ﷺ اپنے دست مبارک سے اشرفیوں کو الٹ پلٹ کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ ’’ماضّر عثمان ما عمل بعد ہذا الیوم‘‘ آج کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ کا کوئی کام اس کو نقصان نہیں پہنچائے گا.
    پیارے حبیبﷺ اپنے اس عظیم صحابی کے لئے بہت دعائیں فرمایا کرتے تھے. راتوں کو جاگ دعا میں فرمایا کرتے تھے ! اے اللہ میں عثمان رضی اللہ عنہ سے راضی ہوں تو بھی راضی ہو جا۔کبھی اپنے صحابی سے فرماتے اے عثمان اللہ تعالیٰ نے تیرے تمام گناہ معاف کر دیئے ہیں جو تجھ سے ہوچکے یا قیامت تک ہونگے۔
    نبی ﷺ اس دنیا سے چلے گئے, ابو بکر رضی اللہ کا دور آیا وہ بھی چلے گئے پھر عمر فاروق رضی اللہ کا دور آیا آپ کو شہید کردیا گیا. مجلس شوریٰ نے نام پیش کئے سیدنا عثمان کے نام قرعہ نکل آیا شرم و حیا کا پیکر میرے نبی ﷺ کا داماد آج خلافت منصبی پر فائز ہوچکا تھا. بہت سی فتوحات کی, اسلامی بیڑا پہلا ترتیب دیا, بہت سی اصلاحات کیں. آخری ایام تھے ظالم یہودی النسل عبداللہ بن سبا آپ کے خلاف متحرک ہوگیا. آپ کی کردار کشی کی. آپ کے خلاف صحابہ کو بھڑکایا.ذوالحجہ کے مہینہ میں اکثر صحابہ کرام حج کی ادائیگی کیلئے مکہ شریف چلے گئے تھے۔ سازشیوں کو موقع مل گیا اور آپؓ کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔ کئی دنوں تک آپ رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے اہل خانہ کو بھوکا پیاسا رکھا گیا۔ ساتھیوں نے مقابلے کی اجازت مانگی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اپنے نبی کے شہر کو خون سے رنگین نہیں کرنا چاہتا.میرے نبی ﷺ کی بھی اپنے صحابی سے خواب میں ملاقات ہوئی فرمایا «يا عثمان، أفطر عندنا»
    ’’عثمان! افطاری ہمارے ساتھ کرنا‘‘..
    12 ذوالحجہ کے دن میرے حبیب کے پیارے صحابی سیدنا عثمان کو خوارج نے گھر میں گھس کر حالت روزہ میں عین اس وقت شہید کردیا جب آپ قرآن مجید کی تلاوت فرما رہے تھے. باتیں تو بہت ہیں لکھنے بیٹھیں تو قلم ہی رک نا پائے .اختصار کے ساتھ اپنے قلم کا حق ادا کرنا ضروری سمجھتا تھا. اللہ ہمیں جنتوں میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ملوا دے آمین

  • امریکی صدرکا افغان ہم منصب اشرف غنی کےساتھ ٹیلیفونک رابطہ،کیا یقین دہانی کرائی؟

    امریکی صدرکا افغان ہم منصب اشرف غنی کےساتھ ٹیلیفونک رابطہ،کیا یقین دہانی کرائی؟

    امریکی صدر جوبائیڈن اور افغان ہم منصب اشرف غنی کے درمیا ن ٹیلی فونک رابطے میں امریکی صدر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ امریکہ افغانستان کی سفارتی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد جاری رکھے گا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن اور افغان صدر اشرف غنی کے درمیان ہونے والے ٹیلی فونک رابطے میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ طالبان کی حالیہ جارحیت ان کے اس دعوے کے بالکل برعکس ہے کہ وہ لڑائی کو مذاکرات کے ذریعے ختم کرنا چاہتے ہیں۔

    وائٹ ہاﺅس کے مطابق جوبائیڈن نے افغان ہم منصب کو بتا یا ہے کہ امریکہ افغان مسئلے کے سیاسی اور پائیدار حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا ۔

    علاوہ ازیں امریکی صدر نے افغانستان کی صورت حال کے پیش نظر پناہ گزینوں کی غیر متوقع طور پر فوری ضروریات پوری کرنے کے لیے جمعے کو 10 کروڑ ڈالر کی منظوری بھی دے دی ہے۔

    امریکی صدر کا نقل مکانی کرنے والے افغانیوں کے لئے امداد کا اعلان

    وائٹ ہاؤس سی جاری بیان کے مطابق مذکورہ رقم کی ادائیگی پناہ گزینوں سے متعلق امریکی ایمرجنسی فنڈ سےکی جائےگی جبکہ امداد سے پناہ گزینوں کی غیر متوقع ضروریات، تنازعات کا شکار افراد اور دیگر افراد کو لاحق خطرات سےنمٹنے میں مدد ملے گی۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اس فنڈ سے ان 20 ہزار افغان مترجمین کی مدد بھی کی جائے گی جو امریکی فوج کے لیے خدمات انجام دے رہے تھے اور اب انہوں نے امریکی امیگریشن کے لیے درخواستیں دے رکھی ہیں۔

    امریکا کا افغان مترجموں کو پناہ دینے کا اہم فیصلہ سامنے آ گیا

  • عنوان: ویزوں کے چکر میں دھوکے بازی تحریر: محمداحمد

    عنوان: ویزوں کے چکر میں دھوکے بازی تحریر: محمداحمد

    پاکستان میں لوگوں کا وطیرہ بن گیا ہے کہ دھوکے بازی کرکے لوگوں سے لوٹ مار کر رہے ہیں ہر انسان غلط نہیں ہوتا لیکن جو لوگ نیک نیتی کے ساتھ کسی دوسرے کی مدد کرتے ہیں ان کی ذات کیلئے بھی سوال پیدا ہوجاتے ہیں خداراہ ان مجبور کی مدد نہیں کرسکتے تو ٹھگی بازی کرکے کتنے پیسے کما لیں گے ویسے ہی وہ خرچ ہو جائیں گے اللہ پاک کی لاٹھی بے آواز ہے ہمیشہ اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے

    لیکن پاکستان میں لوگ منہ مانگی رقم وصول کرتے ہیں جبکہ دبئی، ابوظبی ، مسقط، عمان میں کفیل ویزہ فری دیتے ہیں سب کےلئے یہی مشورہ ہے کہ وہ کمپنی کے through ویزہ لیں اس کے بہت فائدے ہیں

    ویزے کا ٹوٹل خرچ کمپنی کا ہوتا ہے جس میں میڈیکل، ویزہ پیسٹنگ وغیرہ فری ہوتا ہے اس کے علاوہ دو سال بعد ویزہ بھی فری ہوتا ہے اِسی طرح جتنی دیر بھی باہر کے ممالک میں رہیں گے تمام واجبات کمپنی کے ہوتے ہیں یہی فائدہ کمپنی کے ویزے کا ہوتا ہے کہ کام کی پریشانی نہیں ہوتی واجبات ملتے رہتے ہیں

    جبکہ جو لوگ آزاد جاتے ہیں ان کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑھتا ہے کام ڈھونڈنے کی پریشانی ، رہائش کی پریشانی اس کے علاوہ اگر کسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں تو واجبات نا ملنے کی پریشانی ۔

    ہمیشہ ایک بات کا خیال رکھیں کہ کسی ایجنٹ سے ویزہ نا لیں صرف رجسٹرڈ ایجنسی سے ویزہ لیں جہاں نا تو پیسے ڈوبنے کا ڈر ہوتا ہے نا فراڈ کا ۔ اسی لئے اُن بےبس والدین پر تھوڑا سا رحم کریں تاکہ جو لوگ پیسوں کو اپنا وطیرہ بنا کر لوگوں کو لوٹ رہے ہیں اگر اللہ پاک نے آپ کو اہلیت دی ہے تو خدا ترسی کرکے بے لوث ہوکے مدد کر کے دیکھیں بڑی خوشی ملے گی اجر اللہ پاک نے دینا ہے اُس کی لاٹھی بے آواز ہے

    @JingoAlpha