Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • ماسک نہ پہننے پر پولیس اہلکار نے طالب علم کو گولی مار دی

    ماسک نہ پہننے پر پولیس اہلکار نے طالب علم کو گولی مار دی

    کانگو کے درالحکومت کنشاسا میں ماسک نہ پہننے پر پولیس اہلکار نے طالب علم کو گولی مار دی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کنشاسا کی یونیورسٹی کا طالب علم یونیورسٹی اسائمنٹ کے لیے ویڈیو بنا رہا تھا کہ پولیس پہنچ گئی اور اسے ماسک پہننے کو کہا طالب علم ہنور شما نے پولیس اہلکار کو اپنے پاس موجود ماسک دکھایا اور فلم بندی کے دوران ماسک نہ پہننے کی وجہ بتائی۔

    لیکن پولیس اہلکار کو مقتول سے پیسے کی توقع تھی جو نہ ملنے پر طالب علم کو گولی مار کر قتل کر دیا اور طالب علم پر مزاحمت کرنے کا الزام لگا دیا۔

    مقتول ہنور شما یونیورسٹی آف کنشاسا کی فیکلٹی آف آرٹس کا طالب علم تھا عینی شاہدین نے مقتول کے بے گناہ ہونے کی گواہی دی۔

    کنشاسا پولیس کے سربراہ نے بتایا کہ گولی مارنے والا اہلکار واقعے کے بعد سے فرار ہے تاہم اس کی تلاش جاری ہے اور ملزم کو اس کے کیے کی سزا دی جائے گی جبکہ دو پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    واضح رہے کانگو میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ماسک پہننا لازمی ہے اور خلاف ورزی کرنے والے پر 10 ہزار تک کا جرمانہ عائد کرنے کا حکم ہے کانگو میں اب تک 47 ہزار سے زائد کورونا کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جبکہ اموات کی تعداد ایک ہزار 21 ہے۔

  • افغانستان کیا ہونے جا رہا ہے تحریر:  انعم شیخ

    افغانستان کیا ہونے جا رہا ہے تحریر: انعم شیخ

    افغانستان سے امریکی اور اتحادی افواج کے انخلاء کے بعد خطے کی صورتحال دن بدن گھمبیر ہوتی جا رہی ہے، زمینی حقائق دیکھیں تو طالبان نے ایک بڑے علاقے پر اپنا قبضہ جما لیا ہے جن میں کچھ ممالک کے ساتھ افغانستان کے سرحدی علاقے بھی شامل ہیں، طالبان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور ان کے زیر انتظام علاقہ کا اتنی تیزی سے پھیلاؤ جہاں پوری دنیا کو محو حیرت میں ڈالے ہوئے ہے اور لوگ امریکی و اتحادی افواج کی بیس سال افغانستان میں موجودگی پر سوال اٹھا رہے ہیں وہیں افغانستان میں موجود کٹھ پتلی حکومت اور اسکے حواری شدید اضطراب کا شکار ہیں ۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس وقت پوری دنیاکی نظریں افغانستان پر جمی ہوئی ہیں اور اس خطے میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات اس خطے کے دیگر ممالک روس، چین، پاکستان، ایران ، بھارت وغیرہ کے لیئے بھی بہت اہم ہیں ۔
    سب سے پہلے اگر افغانستان کی حالیہ حکومت کی بات کی جائے تو یہ بات سمجھ لینی چاہیئے کہ افغانستان میں موجود حالیہ حکومت جس میں اشرف غنی اور ان کی ٹیم شامل ہے کو افغانستان کے لوگوں کی بجائے امریکہ و بھارت کی سپورٹ حاصل رہی ہے، یہی وجہ تھی کہ ان لوگوں نے اپنے اقتدار کے دوران افغانستان کے اندرونی مسائل اور لوگوں کی فلاح کی بجائے اپنے اقتدار کو طول دینے اور امریکہ اور اتحادیوں کے ساتھ ساتھ بھارت کو افغانستان کی سرزمین سےہر طرح کے وسائل نکالنے میں ہر ممکن مدد کی جس کی وجہ سے افغانستان میں اس حکومت کی مقبولیت بہت کم ہے۔ اس حکومت نے افغان طالبان کی موجودگی سے انکار کرتے ہوئے ان کو افغانستان کے کسی بھی مسئلہ میں سٹیک ہولڈر ماننے سے انکار کرتے ہوئے کسی بھی قسم کے مذاکرات کی نفی کی تھی اور یہی وجہ ہے کہ اب طالبان کی جانب سے ابھر کر طاقتور طریقہ سے سامنے آنے پر افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت کے حلقوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے ، پہلے یہ لوگ اتحادی افواج کے انخلاء کے خلاف تھے اور اپنے ان منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیئےاشرف غنی اور انکی ٹیم نے امریکی دربار پر حاضری بھی دی تھی جو بے سود رہی اور حالات و واقعات بتاتے ہیں کہ انکل ٹام نے بھی ہاتھ اُٹھا لیئے ہیں۔
    افغانستان میں حالیہ واقعات کے بعد بھارت اس وقت سب سے ذیادہ پریشان ہے کیونکہ بھارت کی اربو ں ڈالر کی انویسٹمنٹ جو اس نے افغانستان میں اپنے پنجے گاڑنے کے لیئے کی، وہ داؤ پر لگی ہوئی ہے، بھارت کو طالبان کی پیش قدمی کے ساتھ مختلف شہروں اور علاقوں سے اپنے قونصل خانے بھی اٹھانے پڑ رہے ہیں اور ساتھ ساتھ بھارتی "اثاثے” جوافغانستان میں موجود تھے ان کو بھی ساتھ ساتھ باہر نکالنا پڑ رہا ہے، یاد رہے کہ بھارت نے افغانستان میں ترقی کے منصوبوں کی آڑ میں ایسے منصوبے شروع کر رکھے تھے جن کی وجہ سے بھارت بالواسطہ یا بلاواسطہ پاکستان میں بد امنی پھیلا رہا تھا۔
    اب اگر تھوڑا سا زوم آؤٹ کر کے دیکھا جائے تو اس وقت طالبان کے ساتھ افغانستان میں امن کے خواہشمند ممالک میں چین، روس، پاکستان، ترکی اور ایران وغیرہ شامل ہیں جبکہ دوسری جانب افغان کٹھ پتلی حکومت اور بھارت اس وقت ایک صفحہ پہ موجود ہیں اور امریکہ اور اتحادی افواج کوبھارت اور افغانستان قائل کرنے کی کوششیں ضرورکررہے ہیں کہ افغانستان میں کسی نہ کسی طریقے سے اپنی موجودگی رکھیں لیکن پچھلے بیس سال وہ ممالک اپنے اربوں ڈالر اس جنگ میں جھونکنے کے بعد فی الحال بالکل بھی اس موڈ میں نظر نہیں آ رہے کہ افغانستان میں مزید ”انویسٹمنٹ” کریں۔
    اب اگر مختصرا افغانستان کے مستقبل کی بات کی جائے تو ایسا نظر آ رہا ہے کہ طالبان کو کسی بھی قسم کی ذیادہ مشکلات کے بغیر پورے افغانستان کا کنٹرول مل جائے گا لیکن طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کے حالیہ انٹرویو دیکھیں جس میں وہ بارہا اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں کہ طالبان افغانستان میں سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے پر یقین رکھتے ہیں اور اس کام کے لیئے انہوں نے واحدشرط رکھی ہے کہ اشرٖ ف غنی مستعفی ہو اور اس کے بعد طالبان اورافغانستان کی سیاسی جماعتیں بیٹھ کر مستقبل کا لائحہ عمل طے کریں گے، یاد رہے کہ اشرف غنی کے استعفیٰ کا مطلب بھارت کے آخری مہروں میں سے ایک اور کی چھٹی ہے اور اشرف غنی کی کابینہ میں اس وقت بہت سے لوگ موجود ہیں جو بھارت سے ذیادہ بھارت کی زبان بو ل رہے ہے۔
    اگر بات کی جائے افغانستان حکومت اور بھارت کی تو وہ اس وقت پاکستان میں بد امنی کی سازشوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی طاقتوں سے رابطے کر کے اس بات کی یقین دہانی کروانا چاہ رہے ہیں کہ اشرف غنی اوراس کی کابینہ افغانستان کےپر امن مستقبل کا واحد حل ہے جو کہ بالکل غلط اور من گھڑی کہانی ہے۔
    یہاں اس بات کا تذکرہ ضرور بنتا ہے کہ افغاستان کے قومی سلامتی کے مشیر حمد اللہ محب نےلندن میں ایک ملاقات کی ہے، اس افغان عہدیدار کے بارے میں بتاتے چلیں کہ اس سے پاکستان اپنے سفاررتی تعلقات منقطع کر چکا ہے کیونکہ اس نے چند ماہ پہلے پاکستان کے بارے میں ایک غیر اخلاقی اور غیر سفارتی زبان کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو ایک ایسی جگہ سے تشبیہ دی تھی جہاں سے عموما شریف لوگوں کا گزر نہیں ہوتا۔ اس رویہ کے بعد پاکستان اس افغان عہدیدار سے سفارتی مراسم ختم کر چکا ہے۔ حمد اللہ محب نے پاکستان کے سزایافتہ وزیر اعظم جس کو اب عدلیہ اشتہاری بھی قرار دے چکی ہے سے لندن میں ملاقات کی ہے،اس ملاقات میں کیا بات ہوئی ہو گی؟ بھارتی ”اثاثے” مل بیٹھ کر کیا حاصل کرنا چاہ رہے ہیں؟ عمران خان کی قیادت اور پاکستانی قومی سلامتی کے اداروں کے مستقبل کے فیصلوں سے ملک دشمن عناصر کو کیا کیا تکالیف ہیں اور مستقبل قریب میں پاکستان کے خلاف کون کونسے نئے محاذ کھلنے والے ہیں ۔ ان تمام باتوں کا ذکر ابھی قبل از وقت سہی لیکن ایسا نظر آ رہا ہے کہ پاکستان کے خلاف کوئی نئی سازش بنی جا رہی ہے اور حالیہ ملاقاتیں اور بیانات بشمول افغان سفیر کی بیٹی کے اغواء کا ڈرامہ کسی بڑی سازش کا حصہ ہیں۔

  • آئی پی ایل کے بقیہ میچز  کہاں ہوں گے بی سی سی آئی نے اعلان کردیا

    آئی پی ایل کے بقیہ میچز کہاں ہوں گے بی سی سی آئی نے اعلان کردیا

    باغی ٹی وی :آئی پی ایل کے بقیہ میچز کہاں ہوں گے بی سی سی آئی نے اعلان کردیا

    بھارت کے کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ ویوو آئی پی ایل کے باقی ماندہ میچ متحدہ عرب امارات میں ہوں‌گے . دفاعی چیمپین ممبئی انڈینز کا مقابلہ پہلے میچ میں دبئی میں چنئی سپر کنگز سے ہوگا جب انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) 2021 کا آغاز 19 ستمبر کو ہوگا ، یہ بات بھارتی کرکٹ بورڈ نے اتوار کو ایک سرکاری ریلیز میں کہی۔ شارجہ 24 ستمبر کو اپنا پہلا میچ میزبانی کرے گا ، جس میں آر سی بی کا مقابلہ سی ایس کے سے ہوگا۔ لیگ مرحلے کا اختتام 8 اکتوبر کو ہوگا ، جس میں آر سی بی اور دہلی کیپیٹلز آخری میچ کھیلے گی۔ پہلا کوالیفائر 10 اکتوبر کو دبئی میں کھیلا جائے گا۔ بی سی سی آئی نے بتایا کہ ایلیمینیٹر اور کوالیفائر 2 بالترتیب 11 اور 13 اکتوبر کو شارجہ میں کھیلا جائے گا۔ دبئی 15 اکتوبر کو فائنل کی میزبانی کرے گا

  • کرن جوہر بگ باس کے اگلے سیزن کی میزبانی کریں گے ؟

    کرن جوہر بگ باس کے اگلے سیزن کی میزبانی کریں گے ؟

    بالی ووڈ کے معروف میزبان و ہدایتکار کرن جوہر بگ باس کے اگلے سیزن کی میزبانی کریں گے –

    باغی ٹی وی :بھارت کی اسٹریمنگ سروس وُ÷وٹ نے اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اپنے نئے آنے والے شو ’بگ باسOTT‘ کا پوسٹر شیئر کیا ہے جس پر کرن جوہر کی تصویر آویزاں ہے۔


    یہ پوسٹر شیئر کرتے ہوئے÷÷اسٹریمنگ سروس ووٹ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ فلمساز کرن جوہر رئیلٹی ٹیلی ویژن شو بگ باس کے آئندہ سیزن کی ڈیجیٹل اقساط کی میزبانی کریں گے۔

    شو ’بگ باسOTT‘ کا بھارت کی اسٹریمنگ سروس ووٹ پر 8 اگست کو پریمیئر ہوگا۔

    خیال رہے کہ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اداکار سلمان خان جو ایک دہائی سے بھارتی ٹی وی چینل پر اس شو کی میزبانی کر رہے ہیں-

    رپورٹ کے مطابق کرن جوہر نے سلمان خان کی جگہ نہیں لی ہے بلکہ وہ صرف اسٹریمنگ سروس ووٹ پر شو کی کچھ اقساط کی میزبانی کریں گے اور اس کے بعداداکار سلمان خان باقاعدہ طور پر نئے سیزن کے ٹیلی ویژن ورژن کی میزبانی کریں گے۔

  • طالبان کا خوف: افغان حکومت نے ملک میں 34 میں سے 31 صوبوں میں رات کا کرفیو نافذ کر دیا

    طالبان کا خوف: افغان حکومت نے ملک میں 34 میں سے 31 صوبوں میں رات کا کرفیو نافذ کر دیا

    کابل: افغانستان میں طالبان کی تیزی سے پیش قدمی کو روکنے کے لیے افغانستان میں 34 میں سے 31 صوبوں میں رات کا کرفیو نافذ کر دیا گیا۔

    باغی تی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغان وزارت داخلہ کے نائب ترجمان احمد ضیا ضیا کے مطابق کرفیو مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے سے صبح 4 بجے کے درمیان نافذ رہے گا۔

    واضح رہے کہ امریکی فوجیوں کے انخلا کے اعلان کے بعد طالبان نے کئی اہم علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے اور کئی صوبائی دارالحکومتوں کا محاصرہ کر رکھا ہے۔

    افغان وزارت داخلہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ تشدد پر قابو پانے اور طالبان کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لیے رات کا کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔ کابل، پنج شیر اور ننگرہار میں کرفیو نہیں لگایا گیا۔

  • سعودی وزارت اطلاعات نے اردو سامعین کیلئے سعودی ریڈیو سے تجرباتی بنیاد پر 24 گھنٹوں کی نشریات کا آغاز کر دیا

    سعودی وزارت اطلاعات نے اردو سامعین کیلئے سعودی ریڈیو سے تجرباتی بنیاد پر 24 گھنٹوں کی نشریات کا آغاز کر دیا

    جدہ: سعودی وزارت اطلاعات نے اردو سامعین کیلئے سعودی ریڈیو سے 24 گھنٹوں کی نشریات کا آغاز کردیا ہے جو وسط ستمبر تک تجرباتی بنیا پر جبکہ مملکت کے قومی دن 23 ستمبر کو باقاعدہ آغاز کردیا جائے گا –

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق نشریات میں اسلام اور قرآن و احادیث، تاریخی وعالمی حالات پہ مشتمل پروگرام پیش کئے جارہے ہیں، یہ بات ڈپٹی چیئرمینن سعودی براڈکاسٹنگ اتھارٹی فیصل الیافی نے پاکستان جرنلسٹس فورم کے وفد سے ملاقات میں بتائی انہوں نے کہا کہ عالمی نشریات ستمبر 1950 میں مکہ مکرمہ سے شروع کی گئی تھی جس میں اردو پروگرام 15 منٹ کےہوا کرتے تھے .

    فیصل الیافی نے کہا کہ میڈیا کی دنیا میں رونما ہونیوالی تبدیلیوں، چیلینجز کا مقابلہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے جسکے لئے سعودی اردو نشریات نے سوشل میڈیا، انسٹاگرام، فیس بک، یوٹیوب، ایف ایم، شارٹ ویو اور سیٹلائٹ، ٹوئٹر پہ بھی اپنی نشریات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے-

    فیصل الیافی نے کہا کہ ان تمام معاملات کی منظوری خادم حرمین شریفین شاہ سلمان،ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے دی ہے جسے عملی جامہ پہناتے ہوئے سعودی وزیراطلات کی نگرانی میں کئی اور زبانوں میں بھی نشریات کو عالمی سروس میں شامل کیاگیا ہے.

    پاکستانی صحافیوں کی آمد پر فیصل الیافی کے علاوہ ڈائرکٹر جنرل اوورسیز پروگرامز رویشد الصحافی اور اردو نشریات کے سربراہ ڈاکٹر محمد لئیق اللہ خان نے استقبال کیا-

    انہوں نے کہا کہ کسی بھی خبر یاواقعے کے ابلاغ کیلئے زبان کی بڑی اہمیت ہےانہوں نے پاکستان جرنلسٹ فورم کے اراکین پاک سعودی تعلقات کے فروغ اور سعودی وژن 2030، حج، عمرہ، معیشت، اور ترقی خوشحالی میں ابلاغی خدمات کو سراہا اور ہرممکن تعاون کی خواہش کا اظہاکیا.

    اس موقع پر وفد کے سربراہ چئیرمین پی جے ایف امیر محمد خان نےکہا کہ سعودی عرب سے پاکستان کی محبت، عقیدت اور مذہبی بنیادوں پہ قائم ہے اور نشریاتی پالیسی کی بھرپور حمایت کرتے ہیں انہوں نے فورم کی طرف سے ہرممکن تعاون کی یقینی بھی کروائی اس موقع پر فورم کے ممبران کےاس حوالے سے انٹرویو ریکارڈ کئے گیے –

  • ساؤتھ افریقہ، دریافت و سیاحتی مقامات عمران اے راجہ پارٹ ۲:

    ساؤتھ افریقہ، دریافت و سیاحتی مقامات عمران اے راجہ پارٹ ۲:

    کروگر نیشنل پارک میں کیمپنگ کے لیے بہت سے پرائیویٹ لاجز موجود ہیں مگر بہترین اور جدید سہولیات سے آراستہ آٹھ مقامات ہیں جہاں سے دل موہ لینے والے قدرتی نظاروں کے علاوہ جنت کے پرندوں سے بھی ملاقات ہوتی ہے۔
    ‏۱: Malelane
    مالےلان گیٹ ویسے تو کروگر کے دوسرے گیٹس کی طرح عام ہی رہا ہوگا مگر میرے لیے کچھ وجوہات کی بنا پر بہت خاص اور دل کے قریب ہے۔ ایک تو یہ میرا ہوم ٹاؤن رہا اور ساؤتھ افریقہ میں اینٹری کے بعد میری پہلی رہائش یہیں تھی۔ دوسرا اس گیٹ سے میں نے جب بھی اینٹری کی کچھ ہی دیر میں “شیر” ضرور دکھائی دیا اور یہ اتفاق تقریباً ہر بار ہوا۔ ضروری نہیں آپ کے ساتھ بھی ایسا ہو کیونکہ میرے ساتھ پیروں کی خاص دعا بھی ہو سکتی ہے۔
    جب صدر Paul Kruger نے 1898 میں پارک کی بنیاد رکھی تو 1902 میں Malelane Gate کی بنیاد رکھی گئی۔ مطلب یہ حصہ بالکل شروعات سے شکار سے محفوظ ہے اور یہاں آپ Corcodile River کے بہترین نظاروں کے علاوہ گینڈا، کُوڈُو، زرافہ، امپالہ، ہاتھی اور شیر کے علاوہ دریائی گھوڑے بھی دیکھ سکتے ہیں۔
    کروگر کے پہلے وارڈن کرنل جیمز ہیملٹن کا تعلق بھی یہیں سے تھا اور اسی گیٹ پر ان کی تقرری کی گئی۔ تقریباً ایک سو بیس سال پہلے یہاں شکاریوں کی بہتات کی وجہ سے جانور بہت کم ہوگئے اور ایک گیم ریزرو کی ضرورت محسوس کی گئی۔ آج اس علاقے میں جتنے بھی جانور نظر آتے ہیں اس میں بلاشبہ کرنل جیمز کی محنت کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔
    کروکوڈائل ریور Crocodile River سے خاص احتیاط کیجیے۔ بظاہر پرسکون دکھنے والا پانی آپ کو اپنے پاؤں اس میں رکھنے پر مجبور کرے گا مگر یہ دیوہیکل مگرمچھوں کا مسکن ہے۔ آپ کا شکار کر کے ان کا پیٹ تو شاید نا بھرے مگر بطور سٹارٹر مگرمچھ اعتراض نہیں کریں گے۔دریائی گھوڑا بھی کافی جگہ نظر آئے گا۔ اس کے قریب جانے سے بھی اجتناب کیجیے۔ بظاہر سست نظر آنے والا یہ جانور انتہائی خطرناک ہے اور اس کے جبڑے میں آپ کا آدھا جسم سما سکتا ہے۔
    کروگر میں دوران سفر گاڑی سے اترنے کی انتہائی سخت ممانعت ہے اور کسی بھی مشکل میں آپ نے ہیلپ لائن کو کال ملانا ہے۔ناصرف آپ اپنی جان خطرے میں ڈال سکتے ہیں بلکہ خلاف ورزی پر بھاری جرمانے کے علاوہ داخلے پر پابندی بھی لگ سکتی ہے۔
    ‏۲: Skukuza
    سکوکوزا سب سے بڑا کیمپ سائٹ ہے کروگر میں اور دوسری خاصیت یہاں پر پارک کے ہیڈکوارٹرز کا ہونا ہے۔ یہ گیٹ Sabie River کے پاس ہے۔ صابی قدرتی حسن سے مالا مال ہے اور آپ یہاں ایسے نظارے دیکھیں گے جو دنیا میں کم ہی نظیر رکھتے ہیں۔ یہاں ایک کمرشل ایئرپورٹ بھی موجود ہے جہاں آپ ملک کے مختلف حصوں سے نیشنل فلائٹس لے سکتے ہیں۔ اتنے حسین ایئرپورٹس آپ نے کم ہی دیکھ رکھے ہوں گے۔ 2018 میں فوربز میگزین نے اسے “دنیا کے خوبصورت ایئرپورٹ” کے اعزاز سے نوازا۔
    سکوکوزا گیٹ سے داخلہ پر وہاں کے خاص جانوروں میں شیر، لگڑبگا، موٹی دم والا بُش بےبی، وارتھوگ، سفید گینڈا اور چیتا ہیں۔ جبکہ پرندوں میں افریقن گرین پیجن، ہیمرکوپ، افریکن فِش اِیگل، کالی کوئل اور جامنی ٹوراکو شامل ہیں۔ اگر آپ پکی سڑک سے کچے پر اتریں (یہ بھی ڈرائیونگ کے راستے ہیں) بُش بکس اور نیالہ بھی ملیں گے۔ آپ کو لگے گا آپ ایک الگ ہی دُنیا میں گھوم رہے ہیں۔ قدرت کو اتنے قریب سے دیکھنے کا موقع آپ کو کم ہی ملتا ہے اور ہر گزرتا سال انہیں دیکھنے کے مواقع مزید معدوم کرتا جا رہا ہے۔
    سکوکوزا کے شمالی طرف جائیں تو آپ کو ہاتھی اور جنگلی بھینسے بھی ملیں گے جنہیں تنگ کرنے سے ہمیشہ گریز کریں۔ یہ حملہ کرتے ہوئے ایک سیکنڈ نہیں لگاتے اور ایک آدھ موقع پر گاڑی کو تھوڑا نقصان پہنچانے میں بھی کامیاب ہوئے۔
    اب ذکر ہو جائے Kruger کے سفر کی کریم “Sabie River Drive” کا ۔۔ یہ سکوکوزا کے مشرق کی طرف ہے اور شیر، چیتا، ہائناز دیکھنے کے بہترین مواقع یہیں میسر آتے ہیں۔ سابی دریا کے ساتھ آپ آہستہ ڈرائیو جاری رکھیے کیونکہ یہی پرائم لوکیشن ہے جہاں آپ کو تمام جانور نظر آئیں گے۔ آپ قسمت کی دھنی ہوں تو شیر اور چیتا کو براہ راست شکار کرتا بھی دیکھ سکتے ہیں۔ سابی دریا پر تمام جانور پانی پینے آتے ہیں اور شکار کرنے والے جانوروں کا داؤ بھی یہیں زیادہ چلتا ہے۔ آپ کا کیمرہ اور ویڈیو موڈ ہمہ وقت آن رہنا چاہیے ورنہ کئی نظارے صرف ذہن میں رھ جائیں گے پردہ سکرین پر نہیں۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی سانحہ ہوا جب چھ شیر ایک کُوڈو کا شکار کرنے لگے اور میرے کیمرہ نکال کر آن کرنے سے پہلے ہی اگلے ڈایننگ ٹیبل پر ضیافت کا اہتمام کر چکے تھے صرف چھری کانٹوں کا انتظار تھا۔
    یہاں Nkuhlu نامی جگہ پر رُک کر آپ اپنے کھانے پینے کا اہتمام بھی کر سکتے ہیں اور اس کی سائٹ بہترین Bird Watch کے علاوہ Sunset Dam کا بھی خوبصورت نظارہ دیتی ہے۔ بہتر ہے اپنے کھانے کا سامان ساتھ لے کر جائیے کیونکہ یہاں حلال فوڈ ملنا وہ بھی ہمارے ذائقے کے مطابق تھوڑا مشکل ہے۔
    کروگر میں چیتے کا زیادہ تر شکار امپالہ بنتے ہیں کیونکہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے مگر چیتا بُش بک، رِیڈ بک اور واٹربک کا شکار پسند کرتا ہے۔ امپالہ کی نسبت ان تینوں کی سپیڈ زرا کم اور شکار آسان ہے۔
    تقریباً تین سے چار گھنٹے پر محیط یہ سست رفتار ڈرائیو بلاشبہ آپ کی زندگی کی یادگار ترین ڈرائیو ہوگی۔
    (نوٹ: کروگر میں سپیڈ لمٹ کا خاص خیال رکھیے۔ نارمل رفتار 50km/h ہے مگر کئی جگہ اس سے بھی کم۔ سپیڈو کیمز جگہ جگہ لگے ہیں اور تیزرفتاری پر بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے)۔
    باقی گیٹس کی تفصیلات آئندہ کالم میں ان شاء اللہ
    (جاری ہے)
    Imran A Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He has been writing for different forums. His major areas of interest are Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • امریکی صدر جوبائیڈن شدید ترین دماغی عارضے میں مبتلا ہیں     وائٹ ہاوس کے سابق ڈاکٹر کا انکشاف

    امریکی صدر جوبائیڈن شدید ترین دماغی عارضے میں مبتلا ہیں وائٹ ہاوس کے سابق ڈاکٹر کا انکشاف

    امریکی صدر جوبائیڈن کی صحت کے حوالے سے انکشاف ہو اہے کہ وہ شدید ترین دماغی عارضے میں مبتلا ہیں جس کے باعث اہم باتیں بھول جاتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاوس کے سابق ڈاکٹر رونی جیکسن کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کی بیماری ٹھیک نہیں ہوگی بلکہ اس میں اضافہ ہوگا دوسری جانب جوبائیڈن کی بیماری کے بعد سے بعض حلقے جوبائیڈن سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کررہے ہیں۔

    وائٹ ہاوس کے سابق ڈاکٹر رونی جیکسن نے سی این این کے ایک ٹی وی انٹرویو میں انکشاف کیا کہ امریکی صدر کو صحت سے متعلق شدید قسم کی بیماری لاحق ہے اور یہ بیماری آنےوالے وقت میں بھی ٹھیک نہیں ہونے والی بلکہ اس میں اضافہ ہی ہو گا اور ان کی بیماری کو میڈیا اور عوام سے چھپایا جا رہا ہےوہ اس عہدے پر رہنے کے قابل نہیں اور انہیں فوری طور پر استعفیٰ دے دینا چاہیے۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر کی صحت کے حوالے سے خبریں ایسے وقت میں سامنے آئی ہی جب جوبائیڈن کئی بار میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اور تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپنی بات بھول گئے ، ایک بار تو امریکی صدر کو اپنی بات مکمل کرنے کیلئے جیب سے پرچی نکالنا پڑی۔

  • اسلامی معاشرہ اور نوجوان نسل تحریر: آمنہ فاطمہ

    اسلامی معاشرہ اور نوجوان نسل تحریر: آمنہ فاطمہ

    نوجوانی کی عمر انسان کی زندگی کا قوی ترین دور ہوتا ہے کسی بھی قوم و ملک کی کامیابی و ناکامی, فتح و شکست, ترقی و تنزلی اور عروج و زوال میں نوجوانوں کا اہم کردار ہوتا ہے
    اللّہ تعالیٰ کو جوانی میں کیا گیا عمدہ کام بشمول عبادات اتنی محبوب ہیں کہ جن کا اندازہ لگانا مشکل ہے اللّہ تعالیٰ نے اصحاب الکہف کے بارے میں فرمایا وہ چند نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے اور ہم نے انہیں مزید رہنمائی بخشی اور ہم نے ان کے دلوں کو اس وقت مضبوط کر دیا حب انہوں نے کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ: ہمارا رب تو وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ہم اس کے سوا کسی اور الہ کو نہیں پکاریں گے اگر ہم ایسا کریں تو یہ بعید از عقل بات ہوگی 148 ۔ یہ وہ نوجوان تھے جو وقت کے حاکموں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اللّہ کی وحدانیت پر ایمان لائے
    اسلام میں نوجوانوں کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور روز قیامت اسی جوانی کے بارے میں خصوصی سوال کیا جائے گا حضرت ابن مسعود سے روایت ہے کہ اللّہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: یعنی قیامت کے دن انسان کے قدم اپنی جگہ سے ہٹ نہ سکیں گے یہاں تک کہ اس سے پانچ باتوں کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے عمر کن کاموں میں گنوائی؟ جوانی کی توانائی کہاں صرف کی؟ مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ جو علم حاصل کیا اس پر کہاں تک عمل کیا؟
    دین اسلام کی سنہری تاریخ میں اسلام کی خدمت اور اشاعت میں نوجوانوں کا بڑا کردار ہے نوجوان صحابہ نےبڑے بڑے کارنامے انجام دیے دور شباب میں ہی حضرت على کرم اللہ وجہہ, حضرت معصب بن عمیر, حضرت خالد بن ولید, حضرت ابن عباس, اور دوسرے نوجوان صحابہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ساتھ دیا اور بے شمار غزوات میں اپنی بے مثال قربانیاں پیش کیں. اسی دور میں صلاح الدین ایوبی, طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم جیسے سالاروں نے اپنے کارناموں سے اسلامی تاریخ کو تابناک بنایا یہ ایسے نوجوان تھے جنہوں نے اپنی جوانی اور اپنی صلاحیتوں کو اللّہ کے دین پر قربان کیا
    اس کے بر عکس آج کا نوجوان بے راہ روی کا شکار ہے سستی شہرت حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہے آج کے نوجوانوں کی زندگی کا مقصد سوشل میڈیا پر اپنے آپ کو وائرل کر کے لائیکس, کمنٹس لینا اور فالورس بنانا رہ گیا ہے معاشرے میں اچھا گھر, گاڑی اور ملبوسات سے اسٹیٹس سمبل بننا چاہتا ہے خود پسندی اور خود نمائی نوجوانوں کی زندگیوں میں زہر گھول رہی ہے دیر رات تک چیٹنگ کرنا اور دن بارہ بجے تک سوئے رہنا مسلم نوجوانوں کا مشغلہ بن چکا ہے آج کے نوجوان کردار و اخلاق, شرم و حیا, ادب و احترام جیسی صفات سے محروم نظر آتا ہے آج دشمن اسلام ہر جانب سے مسلم نوجوانوں کے ایمان اور پہچان کو ختم کرنے کی کوشش کررہا ہے اکثر نوجوان اس سازش کا شکار بھی ہو رہے ہیں
    آج کے مسلم نوجوان کو چاہیے کہ اپنی زندگی کا اصل مقصد تلاش کریں اور اپنے آپ کو پہچانیں اور یہ پہچان اسے صرف اسی صورت حاصل ہو سکے گی جب وہ قرآن و سنت کے ساتھ اپنا تعلق جوڑیں گے
    وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا
    شباب جس کا ہے بے داغ, ضرب ہے کاری

    @AamnaBukhari

  • عاطف اسلم کی شہرت سے بھارتی گلوکار ابھیجیت بھٹاچاریہ بوکھلاہٹ کا شکار

    عاطف اسلم کی شہرت سے بھارتی گلوکار ابھیجیت بھٹاچاریہ بوکھلاہٹ کا شکار

    بھارتی گلوکار ابھیجیت بھٹاچاریہ عالمی شہرت یافتہ پاکستانی گلوکار عاطف اسلم کی گائیکی اور مقبولیت سے خوف کھانے لگے ہیں یہاں تک کہ انہوں نے اپنے کنٹینسٹنٹ کو عاطف اسلم کے گانے گانے سے منع کر دیا-

    باغی ٹی وی : ابھیجیت بھٹاچاریہ بھارت کے بڑے اور مشہور گلوکار ہیں ان کے گانوں کی وجہ سے بالی ووڈ کی کئی فلموں نے باکس آفس میں دھوم مچائی تاہم وہ اپنے بیانات کی وجہ سے کئی تنازعات کا شکار ہوگئے جس میں گلوکار عاطف اسلم کا تنازعہ بھی شامل ہے۔

    پاکستانی گلوکارعاطف اسلم کو ’وہ لمحے‘ گانے سے شہرت ملی اس گانے کو ناصرف پاکستان بلکہ بھارت سمیت کئی دیگر ممالک میں بھی کافی پسند کیا گیا۔ اس کے بعد عاطف اسلم نے ’عادت‘، ’تو جانے نہ‘ اور ’پہلی نظر میں‘ جیسے سپرہٹ گانے پیش کیے۔ بھارت میں جہاں عاطف اسلم کو پسند کیا جاتا ہے وہیں انہیں تنقید کا بھی سامنا ہے۔

    بھارتی میڈیا میں ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں سال 2008ء میں ایک سنگنگ ریئلٹی شو ’ایک سے بڑھ کر ایک‘ میں ابھیجیت نے جج کے فرائض انجام دیے۔ شو میں جب ایک کنٹیسٹنٹ نے عاطف اسلم کا گانا گایا تو بھارتی گلوکار بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ابھیجیت نے کنٹیسٹنٹ کو اس کی کارکردگی پر پورے نمبر دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے جس کا گانا گایا ہے انہیں میں صفر نمبر دیتا ہوں۔

    گلوکار ابھیجیت نے کہا کہ وہ گانا گانا نہیں ہوتا جس میں کسی سوفٹ ویئر کا استعمال کیا جائے، میں ایسے گانوں کو صفر نمبر دیتا ہوں مجھے نہیں پتا یہ کس گلوکار کا گانا ہے وہ شخص کبھی گلوکار کی فہرست میں شامل نہیں ہوسکتا جو اپنی آواز کو مشینوں کی مدد سے بہتر بنائے۔

    ابھیجیت بھٹاچاریہ نے کنٹیسٹنٹ سے کہا کہ مہربانی کر کے آئندہ کبھی ایسے بےسرے کا گانا مت گائیے گا۔