Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • بھارت کا پیگاسس کے ذریعے 25 کشمیری رہنماؤں اور صحافیوں کی جاسوسی کا انکشاف

    بھارت کا پیگاسس کے ذریعے 25 کشمیری رہنماؤں اور صحافیوں کی جاسوسی کا انکشاف

    بھارت کی جانب سے اسرائیلی سافٹ ویئر پیگاسس کے ذریعے 25 کشمیری رہنماؤں اور صحافیوں کی جاسوسی کرانے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی:بھارتی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ مودی سرکار نے اسرائیلی سافٹ ویئر پیگاسس کے ذریعے ان 25 کشمیری رہنماؤں کی بھی جاسوسی کی جو دہلی کی سرکاری پالیسی کو تسلیم نہیں کرتے یہ عمل 2017ء سے 2019ء تک جاری رہا اور اس عمل میں بھارت کی ایک ایسی ایجنسی ملوث تھی جو اسرائیل کے این ایس او گروپ کی خدمات حاصل کرتی ہے۔

    بھارتی اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما سید علی شاہ گیلانی کے خاندان کے 4 افراد کے فونز کو ہدف بنایا گیا ان افراد میں سید علی گیلانی کے داماد، صحافی افتخار گیلانی اور ان کے سائنسدان بیٹے نسیم گیلانی بھی شامل تھے۔

    یہی نہیں بلکہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق کا فون بھی نشانے پر تھا اور ان کے ڈرائیور اور انسانی حقوق کے رہنما وقار بھٹی کے فون کو بھی ہدف بنایا گیا حریت پسند رہنما بلال لون اور ایس اے آر گیلانی کے فون کا بھی اسرائیلی سافٹ ویئر کے ذریعے تجزیہ کیا گیا۔

    مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی کے خاندان کے 2 افراد کے فونز کی بھی جاسوسی کی گئی یہ اقدام ایسے وقت کیا گیا جب محبوبہ مفتی مقبوضہ وادی کی وزیرِ اعلیٰ اور بی جے پی کی اتحادی تھیں۔

    ان کے علاوہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے متعدد دیگر سیاست دان ، انسانی حقوق کے کارکن ، صحافیوں اور کاروباری شخصیات بھی اس فہرست میں شامل ہیں جن کے فون کی پیگاسس کے ذریعے جاسوسی کی گئی۔

  • بھارت میں طوفانی بارشیں، دو روز میں 130 افراد ہلاک درجنوں لاپتہ

    بھارت میں طوفانی بارشیں، دو روز میں 130 افراد ہلاک درجنوں لاپتہ

    نئی دہلی: بھارت میں 2 روز میں طوفانی بارشوں کے باعث 130 افراد ہلاک متعدد زخمی ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست مہاشٹرا میں طوفانی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اور گزشتہ 48 گھنٹے کے دوران سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے 130 افراد ہلاک ہو گئے۔

    رپورٹس کے مطابق مہاشٹرا کے تالئے نامی گاؤں میں لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں 32 گھر آ گئے جبکہ33 افراد ہلاک اور 52 لاپتہ ہو گئے۔

    طوفانی بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے 84 ہزار سے افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ بھارتی نیوی، آرمی سمیت دیگر فورسز بھی ریسکیو کے کاموں میں مصروف ہے۔

    بھارتی نیوی نے اپنے ایک جاری بیان میں کہا کہ متاثرہ علاقے میں پھنسے ہوئے شہریوں کو ریسکیو کرنے کے لیے ہیلی کا پٹرز اور کشتیوں سمیت دیگر ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق ساحلی علاقے چپلون کا کم و بیش آدھا علاقہ سیلاب کی زد میں آگیا ہے یہاں تقریباََ 70 ہزار افراد مقیم ہیں۔

  • سعودی حکومت نے مسلمانوں کو بڑی خوشخبری سنا دی

    سعودی حکومت نے مسلمانوں کو بڑی خوشخبری سنا دی

    سعودی عرب کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ کل یعنی اتوار 25 جولائی سے عمرہ زائرین کو پرمٹ جاری کرنا شروع کردیئے جائیں گے۔

    باغی ٹی وی : سعودی عرب کے نائب وزیر حج و عمرہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ عمرہ پرمٹ اعتمرنا اور توکلنا موبائل ایپ کے ذریعے جاری کیے جائیں گے، سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی اور سعودی شہری عمرہ پرمٹ حاصل کر سکیں گے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ عمرہ کے پرمٹ صرف ان لوگوں کو جاری کیے جائیں گے جنہوں نے کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لگوا رکھی ہوگی۔

    عرب میڈیا کے مطابق نائب وزیر حج کا کہنا ہے کہ یومیہ 20 ہزار عمرہ زائرین کو اجازت نامے جاری کیے جائیں گے عمرہ زائرین کی تعداد میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا۔

    عمرہ زائرین کو 25 جولائی سے عمرے کی اجازت دی جائے گی سعودی نائب وزیر حج

  • پاکستان اور سایبر جنگ  کی تیاری  تحریر: شہزاد احمد

    پاکستان اور سایبر جنگ کی تیاری تحریر: شہزاد احمد

    ہم اپنے بڑوں سے سنتے تھے کہ مستقبل میں جنگ بغیر بندوقوں کی ہوگی ہم اس بات کو سن کر ہم حیران ہوا کرتے تھے کہ بندوق کے بغیر بھی کوئی جنگ ہوتی ہے بھلا- جیسے ہی ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے اور دنیا ایڈوانس اور ہورہی ہے ایسے ہی بڑوں کی باتیں سچ ہونے لگ گئی ہے-
    ان بغیر بندوق کے جنگ میں سے ایک جنگ کا نام ہے سائبر کرائم دنیا کے ممالک میلوں دور فاصلے پر اپنے ہی سرزمین اپنے ہی گھر سے ایک دوسرے کے خلاف جنگ لڑ سکیں گے- اس جنگ میں نہ کسی بندوق کی ضرورت ہوگی نہ کسی جنگی جہاز کی ضرورت ہو گی اور نہ کسی ٹینک کا ضرورت ہوگا۔ بلکہ انٹرنیٹ کے ذریعے دوسرے کی سسٹم تباہ کر رہے ہوں گے- دنیا میں 2019 سے کرونا وائرس پھیلنے لگا ہے اور تب سے ہی اس جنگ کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہےـ
    دنیا کا تقریبا سارا نظام ہی انٹرنیٹ پر منحصر ہو چکا ہے- خواہ وہ کسی ملک کا الیکشن ہو تعلیمی نظام ہو معیشت ہو اکانومی ہو بزنس ہو تقریبا سب آن لائن ہو چکے ہیں-
    پاکستان میں بھی کورونا وائرس کی وجہ سے لگنے والے لگ ڈاؤن کے دوران ہزاروں سائبر اٹیکس ہوئے ہیں جن میں سے کچھ بزنس کے زوم سیشنز، پر تعلیم کے زوم سیشنز پر، گورنمنٹ ویب سائٹس، پر پرائیویٹ اداروں پر ہوئے ہیں-
    ان میں سے ایک یہ تھا جب پاکستان میں آن لائن تعلیم کا کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں تھا اور سٹوڈنٹس آن لائن امتحان لینے کا مطالبہ کر رہے تھے جبکہ کچھ انٹرنیٹ کی فراہمی کا مطالبہ کر رہے تھے اسی اثنا میں (ایچ ای سی) ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کا ویب سائٹ ہیک ہو گیا-
    ہمارا پڑوسی ملک بھارت آئی ٹی کے دوڑ میں ہم سے بہت آگے ہیں اور ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ خدانخواستہ وہ کبھی بھی ہمارے ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں-
    خصوصا ہمارے خطے میں موجودہ صورتحال کی وجہ سے پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر مرکوز ہے-
    کوئی ہمارا ساتھ چاہے گا تو کوئی ہمارا خلاف ہوگا، کسی کو ہماری ضرورت ہوگی، جبکہ کسی کو ہم چاہیں گے-
    جس طرح جنگ کے دوران پاکستان عوام پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی رہتی ہے کوئی امداد بھیج رہا ہوتا ہے تو کوئی اسلحہ لے کر باہر کی طرف جاتا ہے۔ اسی طرح پاکستانی عوام میں سائبر سیکیورٹی اور سائبر کرائم کے عوامل کا شعور ہونا چاہیے تاکہ مشکل وقت میں اپنی اور اپنے ملک کی دفاع کرسکیں۔
    پاکستان اندرونی اور بیرونی سائبر سیکیورٹی کے مسائل سے دوچار ہیں-
    پاکستانی حکومت کو غصہ، مذمت، جیل اور پھر رہائی جیسے فلسفوں سے نکل کر عملی اقدامات کرنے چاہیے۔
    موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق پاکستان سائبر کرائم کے قوانین میں ترامیم کی ضرورت ہے اس کو مزید سخت اور فعال کرنا چاہیے
    بدقسمتی سے پاکستان میں حکومتی سطح پر کوئی بھی سائبر سکیورٹی اویرنس پروگرام یا کمپین نہیں چلایا جا رہا ہے جو کہ بعد میں ہمارے لیے بہت خطرہ بن سکتا ہے جس طرح کوئی سیاسی جماعت یا حکومت اپنی الیکشن کمپین مقامی زبانوں، محلوں اور گھروں میں جاکر کرتا ہے اسی طرح سے ٹی وی اور سوشل میڈیا پر مقامی زبانوں میں سائبر سیکیورٹی اویرنس پروگرام چلانے چاہیے تاکہ پاکستانی عوام سائبر کرائم کے موجودہ چیلنجز سے نمٹنے اور اپنے ملک کی دفاع کے لئے مکمل تیار ہو۔ پاکستان زندہ باد
    (@imshehzadahmad)

  • سعودی عرب: پہلی بار مسجدالحرام کے اندر خواتین سیکیورٹی گارڈ تعینات

    سعودی عرب: پہلی بار مسجدالحرام کے اندر خواتین سیکیورٹی گارڈ تعینات

    سعودی عرب میں رواں سال اپریل کے بعد سے درجنوں خواتین فوجی سیکیورٹی خدمات کا حصہ بن چکی ہیں جو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں عازمین حج کی خدمات اور دیگر انتظامات کے لیے تعینات کی گئی ہیں۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اپنے مرحوم والد کے کیریئر سے متاثر ہوکر مونا نے سعودی خواتین فوج کے پہلے گروپ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا جہاں وہ حج اور دیگر ارکان حج کو محفوظ بنانے میں مدد فراہم کررہی ہیں۔

    مونا کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ملک کے ساتھ ساتھ اللہ کے مہمانوں (حجاج کرام) کی دل و جان سے خدمت کرے گی۔

    سعودی عرب میں رواں سال اپریل کے بعد سے درجنوں خواتین فوجی سیکیورٹی خدمات کا حصہ بن چکی ہیں جو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں عازمین حج کی خدمات اور دیگر انتظامات کے لیے تعینات کی گئی ہیں۔ جہاں اب سیکڑوں حاجی حج کے لیے جمع ہیں۔

    ایک فوجی خاکی وردی میں ملبوس، ہپ لمبی جیکٹ ، ڈھیلے پتلون، اپنے بالوں کو ڈھاکے اور سر پر سعودی ملٹری کے لوگو کے ساتھ مونا مکہ مکرمہ میں اپنی خدمت کے دوران پرجوش نظر آرہی ہے۔

    مونا نے کہا کہ ’’میں اپنے مرحوم والد کے سفر کو مکمل کرنے کے لئے اپنے قدیم ترین اور عظیم ترین مقام مکہ کی عظیم الشان مسجد میں کھڑی ہوں۔ نمازیوں کی خدمت کرنا ایک بہت ہی عمدہ اور معزز کام ہے‘‘۔

    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے قدامت پسند مسلم مملکت کو جدید بنانے اور اس کی ہمہ جہتی ترقی کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کیا ہےکئی نئے منصوبے بنائے ہیں اسی دوران ملک بھر میں سماجی اور معاشی اصلاحات کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔ ویژن 2030 کے ضمن میں خواتین کی فوج میں شرکت کو بھی اسی نقطہ نظر سے دیکھا جارہا ہے۔

    اس اصلاحی منصوبے کے تحت جسے ویژن 2030 کے نام سے جانا جاتا ہے، سعودی شہزادہ نے خواتین پر ڈرائیونگ پابندی ختم کردی۔ بالغ خواتین کو سرپرستوں کی اجازت کے بغیر سفر کرنے کی اجازت دی اور انہیں خاندانی معاملات پر زیادہ کنٹرول فراہم کیا۔ لیکن اصلاحاتی منصوبے کے ساتھ ہی حقوق نسواں کی کارکنوں سمیت اختلاف رائے کے خلاف کریک ڈاؤن بھی جاری ہے۔

    سعودی عرب نے اپنے دوسرے شہریوں اور باشندوں کو لگاتار دوسرے سال حج پر پابندی عائد کردی ہے جس کے باعث لاکھوں دوسرے عازمین حج کو کورون وائرس وبائی بیماری وجہ سے روکا گیا ہے۔

    ایک اور خاتون اہلکارثمر نے کہا کہ ان کے اہل خانہ نے نفسیات کی تعلیم کے بعد انہیں فوج میں شامل ہونے کی ترغیب دی ہے۔

    انہوں نے کہا یہ ہمارے لئے ایک بہت بڑا کارنامہ ہے اور سب سے زیادہ رحم کرنے والے ، دین ، ​​ملک اور خدا کے مہمانوں کی خدمت کرنا سب سے بڑا فخر ہے۔

  • فلاحی مقاصد کیلئے تیار کی گئی مہنگی ترین موم بتی ،قیمت کتنے لاکھ؟

    فلاحی مقاصد کیلئے تیار کی گئی مہنگی ترین موم بتی ،قیمت کتنے لاکھ؟

    دنیا کی سب سے مہنگی موم بتی فروخت کیلئے پیش کر دی گئی ہے جس کی قیمت 2021 برطانوی پاؤنڈ ہے جو قریباً چار لاکھ 40 ہزار روپے پاکستانی روپے بنتی ہے ۔

    باغی ٹی وی : فلیمنگ کریپ نامی کمپنی کی تیار کردہ موم بتی 30 گھنٹے تک مسلسل جل سکتی ہے ، سمیلز لائک کیپٹلزم نامی موم بتی جب جلتی ہے تو اس سے خالص چمڑے کے بتوے اور کرنسی نوٹوں کے جلنے کی بو آتی ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کا احساس دلاتی ہے ۔

    اس کو بنانے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ ہم اس سے حاصل ہونے والی تمام رقم بے گھر برطانوی لوگوں کی امداد پر خرچ کریں گے ، گویا یہ مہنگی ترین شے فلاحی مقصد کیلئے تیار کی گئی ہے ۔

    فلیمنگ کریپ کے مالک اولیوربور کا کہنا ہے کہ خوشبودار موم بتیوں کے بہت سے برانڈ ہیں جن کی قیمت ایک ہزار پونڈ تک ہوتی ہے تاہم اسے بیچنے والے اس ہوشربا قیمت کی کوئی وضاحت نہیں کرسکتے لیکن ہم اس رقم کو فلاحی کاموں میں استعمال کرتے ہیں۔

    اولیور نے کہا کہ تمام موم بتیاں ہاتھوں سے تیار کی جاتی ہیں جس کی تیاری میں جنون اور محبت نمایاں ہے۔ ’اس طرح ہم ایک معیاری شے تو دے ہی رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کی ہرممکن مدد بھی کررہے ہیں-

  • ترک حکومت نے جنگل میں پہلی لائبریری کھول دی

    ترک حکومت نے جنگل میں پہلی لائبریری کھول دی

    ترک حکومت کی جانب سے جنگل میں پہلی لائبریری کھول دی گئی۔

    باغی ٹی وی : ترکی اردو کے مطابق جنگلوں میں جن درختوں کی نشونما رک گئی تھی ان میں کتابوں کے فیکس بنا کر یہاں لائبریری کھولی گئی ہے حکومت کی جانب سے بنائی جانے والی اس لائبریری میں دو ہزار کے قریب کتابیں موجود ہیں –

    بچوں،نوجوانوں اور خواتین کی بڑی تعداد اس لائیبریری سے استفادہ حاصل کر رہی ہے ان کا کہنا ہے کہ اس طرح ہریالی کے درمیان بیٹھ کر کتابیں پڑھنے ک الگ ہی مزہ ہے۔

    ترکی لائبریریوں کو فروغ دینے کے لیے پہلے بھی کئی اقدامات کر چکا ہے ترکی میں اس سے قبل کچھ عرصہ پہلے پارک میں اوپن لائبریری کھولیں گئی تھی جسے لوگوں نے بہت پسند کیا تھا۔

  • پاکستان افغانستان کے سیاسی حل میں اپنا کردار نبھانے کے لیے پرعزم ہے      معید یوسف

    پاکستان افغانستان کے سیاسی حل میں اپنا کردار نبھانے کے لیے پرعزم ہے معید یوسف

    وزیرِ اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کے سیاسی حل میں اپنا کردار نبھانے کے لیے پرعزم ہے-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے سلسلہ وار ٹوئٹس میں مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے سیاسی حل میں اپنا کردار نبھانے کے لیے پرعزم ہے وزیر اعظم اسی سلسلے میں افغان صدر سے ملاقات پر راضی ہوئے۔


    معید یوسف نے کہا کہ بعض افغان عہدیداروں کے نفرت انگیز بیان تعلقات خراب کرنے کی کوشش ہے کابل میں کچھ توڑ پھوڑ کرنے والوں کے خلاف ورزی اور نفرت انگیز بیانات جو بدقسمتی سے ہمارے افغان بھائیوں اور بہنوں پران کے اعلی عہدیداروں کی حیثیت سے ان پر عائد کردیئے جاتے ہیں اور اپنی ناکامیوں سے توجہ مبذول کروانے کے لئے باہمی تعلقات کو خراب کرنے کی مستقل کوشش کر رہے ہیں۔

    معید یوسف نے کہا کہ یہ بیانات افغان حکومت کی اپنی ناکامیاں چھپانے کے لیے دیئے جا رہے ہیں احمقانہ بیانات سے افغانستان کو روز شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے افغانوں کو یقین دلایا جائے کہ ہر افغان شہری ان افراد کے ناپاک عزائم کو ناکام بنائیں-

    انہوں نے کہا کہ ہم مٹھی بھر نفرت انگیز کرداروں کو امن اور استحکام کے للئےتمام افغانیوں کی پاکستان کی حمایت پر اثر انداز نہیں ہونے دیں گے-

  • افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد زندگی کیسی ہو گی؟

    افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد زندگی کیسی ہو گی؟

    افغانستان میں جاری جنگ کے 20 سال گزرنے کے بعد امریکی اور نیٹو افواج اب ملک چھوڑ رہی ہیں لیکن ان کے جانے کے بعد سے طالبان نے ملک بھر کے مختلف حصوں پر دوبارہ قبضہ کرنا شروع کر دیا ہے اس حوالے سے بی بی سی اردو نے ایک رپورٹ جاری کی ہے-

    باغی ٹی وی : برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کے مطابق افغان طالبان نے 1996 میں افغانستان پر قبضہ کر لیا تھا اور اگلے پانچ برس تک ملک پر ان کی حکمرانی قائم رہی۔

    رپورٹ کے مطابق نائن الیون کے واقعے کے بعد امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا اور طالبان کو شکست دے دی اس کے بعد ملک میں جمہوری نظام کے تحت انتخابات ہوئے اور نیا آئین بنایا گیا لیکن طالبان شکست کے باوجود ختم نہ کیے جا سکے اور وہ مسلسل چھوٹے پیمانے پر جھڑپیں اور حملے کرتے رہے، جس نے افغان، امریکی اور نیٹو افواج کو مصروف رکھا۔

    لیکن اب جبکہ امریکی افواج ملک سے جا رہی ہیں تو طالبان نے دوبارہ اپنے پنجے گاڑنے شروع کر دیئے ہیں اور جگہ جگہ ‘شریعت’ کا نظام لاگو کرنا شروع کر دیا ہے۔

    اس حوالے سے بی بی سی افغان سروس نے ملک کے مختلف حصوں میں 19 جولائی تک کی صورتحال کی تصدیق کی تاکہ یہ جان سکیں کہ ملک کے کس کس حصے پر حکومت کا قبضہ ہے اور کہا پر طالبان کا۔

    تاہم رپورٹ کے مطابق امریکی اور ناٹو افواج کے جانے کے بعد طالبان تیزی سے ملک کے دیگر علاقوں پر قبضہ کر رہے ہیں البتہ چند علاقے ایسے ہیں جہاں پر اس وقت لڑائی جاری ہے اور طالبان کی وہاں کثیر تعداد میں موجودگی ہے۔

    لیکن زمینی صورتحال تیزی سے تبدیل بھی ہو رہی ہے اور ملک کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں تک رسائی ممکن نہیں ہے جس کے باعث خبروں کی تصدیق کرنا مشکل ہے۔

    تاہم یہ واضح ہے کہ طالبان کی پیشرفت تیزی سے جاری ہے اور اب اندازہ ہے کہ ملک کے ایک تہائی حصے پر ان کا کنٹرول ہے۔

    افغانستان میں جاری اس 20 سالہ جنگ کے نتیجے میں نہ صرف افغانستان میں بلکہ ان کے پڑوس میں پاکستان میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں جن میں جنگجو، عام شہری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شامل ہیں۔

    اس سال کے پہلے تین مہینوں میں شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد میں ‘واضح اضافہ’ ہوا ہے جس کے بارے میں اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ خود ساختہ دھماکہ خیز ڈیوائس (آئی ای ڈی) کا استعمال اور ٹارگٹڈ کلنگ ہے گذشتہ سال افغانستان میں ہونے والی ہلاکتوں میں سے 43 فیصد اموات خواتین اور بچوں کی تھیں۔

    برسوں سے جاری جنگ کے باعث لاکھوں کی تعداد میں لوگ وطن چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں اور جن میں سے بہتوں نے افغانستان کے پڑوسی ممالک میں پناہ لی ہے اور کئی دیگر ممالک میں منتقل ہونے اور پناہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ایک بڑی اکثریت بے گھر ہو چکی ہے اور ملک کے لاکھوں افراد غربت اور افلاس کی زندگی گزار رہے ہیں۔

    صرف گذشتہ برس چار لاکھ سے زیادہ لوگ افغانستان میں جاری جھڑپوں کی نتیجے میں اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ 2012 سے لے کر اب تک 50 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے ہیں اور دوبارہ اپنے گھر نہیں جا سکے ہیں۔

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق دنیا بھر میں بے گھر ہونے والوں میں تیسری سب سے بڑی تعداد افغانستان سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہے۔ کورونا وائرس کی وبا کے باعث افغانستان کے قومی وسائل پر مزید بوجھ بڑھا ہے اور ملک بھر میں لاک ڈاؤن لگائے جانے کے بعد لوگوں کے لیے ذریعہ معاش تک رسائی بھی مشکل ہوئی ہے۔

    اقوام متحدہ کے امدادی امور کے ادارے کے مطابق ملک بھر کی 30 فیصد آبادی اس وقت غذائی قلت کے بحران کا سامنا کر رہی ہے۔

    طالبان کے دور حکمرانی میں خواتین کے حقوق مکمل طور پر سلب کر لیے گئے تھے اور 1999 میں پورے ملک میں ایک بھی بچی سیکنڈری سکول میں داخل نہیں تھی جبکہ پرائمری سکولوں میں صرف نو ہزار بچیوں کی رجسٹریشن تھی۔

    طالبان کی حکومت جانے کے بعد اگلے دو برسوں میں بڑی تعداد میں بچیوں نے سکولوں میں داخلہ لیا اور 2003 میں یہ تعداد 24 لاکھ تک پہنچ گئی۔ اس وقت افغانستان میں قریباً 35 لاکھ طالبات سکول میں ہیں جبکہ ملک میں سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں میں طلبا میں سے ایک تہائی تعداد طالبات کی ہے۔

    تاہم یونیسف کے مطابق ابھی بھی ملک میں 37 لاکھ کے قریب بچے سکول نہیں جاتے اور اس میں سے 60 فیصد بچیاں ہیں، اور اس کی وجہ ملک میں جاری لڑائی اور خواتین اساتذہ کی اور وسائل کی کمی ہے۔

    طالبان کا اس بارے میں موقف ہے کہ وہ خواتین کی تعلیم کے خلاف نہیں ہیں لیکن انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق جن جن علاقوں میں طالبان کا قبضہ ہے وہاں بہت کم تعداد میں بچیوں کو سکول جانے کی اجازت ملتی ہے۔

    طالبان کی حکومت جانے کے بعد اگلی دو دہائیوں میں خواتین کا عوامی امور میں عمل دخل بڑھ گیا ہے اور اب وہ سیاسی عہدوں پر بھی فائز ہیں اور کاروباری سرگرمیوں میں بھی مصروف ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق 2019 تک ملک میں ایک ہزار خواتین کے اپنے کاروبار تھے۔

    افغانستان کا آئین کہتا ہے کہ پارلیمان کے ایوان زیریں میں کم از کم 27 فیصد خواتین ممبران ہونی چاہیے جس کے تحت پارلیمان کی 249 میں سے 69 فیصد نشستیں خواتین کی ہیں۔

    ملک بھر میں موبائل فونز اور انٹرنیٹ کے استعمال میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ آبادی کا 22 فیصد یعنی 86 لاکھ سے زیادہ افراد کے پاس جنوری 2021 تک انٹرنیٹ کی رسائی ممکن تھی اور لاکھوں کی تعداد میں افغان سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔

    موبائل فون کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور 68 فیصد آبادی کے پاس اپنے موبائل ہیں لیکن اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سروس کا معیار بہت اچھا نہیں ہے۔

    افغانستان میں ابھی بھی اکثریت بینک اکاؤنٹس کے بغیر ہے اور اعداد و شمار کے مطابق 80 فیصد سے زیادہ بالغ افراد کے پاس بینک اکاؤنٹس نہیں ہیں۔

    ورلڈ بینک کے مطابق اس کی وجہ ملکی حالات کے علاوہ سماجی اور مذہبی عقائد ہیں اور اس کے علاوہ لوگوں کا مالیاتی اداروں پر اعتماد نہیں ہے اور نہ ہی مالیاتی امور کے بارے میں آگاہی۔

    لیکن ورلڈ بینک کا یہ بھی اندازہ ہے کہ اس حوالے سے شروع کیے جانے والے نئے منصوبوں کے تحت اگلے پانچ برسوں میں افغانستان میں بینک اکاؤنٹس رکھنے والے بالغ افراد کی تعداد دگنی ہو سکتی ہے۔

    افغانستان دنیا میں پوست کی پیداوار کرنے والے بڑے ممالک میں سے ایک ہے اور برطانوی حکام کے مطابق برطانیہ میں پہنچنے والی 95 فیصد ہیروئن افغانستان سے آتی ہے۔

    اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق پوست کی کاشت گذشتہ 20 سالوں میں تیزی سے بڑھی ہے اور ملک کے 34 میں سے صرف 12 صوبے ایسے ہیں جہاں پوست کی کاشت نہیں ہوتی حالانکہ کسانوں کو بار بار ترغیب دی گئی ہے کہ وہ پوست کی فصل چھوڑ کر دیگر فصلوں پر توجہ دیں۔

    طالبان نے اپنے دور حکومت کے آخری سال میں ملک بھر میں پوست کی کاشت پر پابندی عائد کی تھی لیکن وہ بہت کم وقت تک قائم رہی کیونکہ پوست کی فصل ان کے لیے اور اس سے جڑے ہوئے افراد کے لیے لاکھوں کروڑں ڈالر کی آمدنی لاتی تھی-

    کہا جاتا ہے کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام اور نوکری کے دیگر ذرائع نہ ہونے کے باعث پوست کی کاشت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔

  • کرپشن کرنیوالے پولیس اہلکار کے گھر میں سونے کی ملمع کاری سے مزین ٹوائلٹ کا انکشاف

    کرپشن کرنیوالے پولیس اہلکار کے گھر میں سونے کی ملمع کاری سے مزین ٹوائلٹ کا انکشاف

    ماسکو : روس میں کرپشن کرنے والے پولیس اہلکار کے گھر میں سونے سے بنے ٹوائلٹ کا انکشاف ہوا ہے-

    باغی ٹی وی :بی بی سی اردو کے مطابق روس میں کرپشن کرنے والے پولیس اہلکاروں کے ایک گروہ کے خلاف تحقیقات کے دوران ایک محل نما بنگلے پر چھاپہ ماریا گیا تو وہاں سونے کی ملمع کاری سے مزین ٹوئلٹ اور دوسری چیزوں کا انکشاف ہوا۔

    روس کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے اپنے ویب سائٹ پر اس محل نما بنگلے کی ویڈیو جاری کی ، بنگلے کے اندرونی اور بیرونی منظر دکھائے گئے جبکہ کارروائی کے دوران سٹار وپل میں ٹریفک پولیس کے سربراہ کرنل الیکسی سیفونوو اور چھ دیگر افسران کو گرفتار کیا گیا۔

    تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق ٹریفک پولیس نے رشوت لے کر کاروباری اداروں کو جعلی پرمٹ دیئے تھے ، ان پرمٹ سے ان کاروباری اداروں کا مال چیکنگ کے بغیر جانے دیا جاتا تھا-

    جن افراد پر اس منظم جعل سازی کے الزامات لگائے گئے ہیں ان کی طرف سے ان الزامات پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔

    تحقیقاتی کمیٹی نے ٹریفک پولیس اہلکاروں کے گھر سمیت دیگر جگہوں پر چھاپے مارے جہاں سے انہیں بڑی مقدار میں نوٹ اور لگژری گاڑیاں ملیں ۔

    تحقیقاتی کمیٹی ایس کے روس کا ایک ریاستی ادارہ ہے جو امریکہ کے ادارے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کی خطوط پر بنایا گیا ہے۔

    ایس کے کا کہنا ہے کہ سیفونوو کے گینگ نے گذشتہ کئی برسوں میں ایک کروڑ نو لاکھ روبلز یا دو لاکھ پچپن ہزار ڈالر غیر قانونی طریقوں سے اکھٹے کیے۔ سیفونوو کو جن الزامات میں گرفتار کیا گیا وہ ثابت ہو جانے کی صورت میں انھیں 15 سال قید کی سزا بھی سنائی جا سکتی ہے

    جبکہ اسی سلسلے میں سیفونوو سے پہلے ٹریفک پولیس کے سربراہ الیگزینڈرا رزانوکن کو بھی گرفتار کیا گیا ہےالیگزینڈر خنسٹائن جو روس کے ایوان صدر کی ایک حامی جماعت یونائیٹڈ رشن پارٹی کے منتخب رکن ہیں ان کا کہنا ہے اس علاقے میں 35 سے زیادہ ٹریفک پولیس افسران کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔