Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • اسپن بولدک کی بدلتی ہوئی صورتحال   تحریر: محمد اسعد لعل

    اسپن بولدک کی بدلتی ہوئی صورتحال تحریر: محمد اسعد لعل

    آج سے تقریباً بیس سال قبل افعانستان پر طالبان کی حکومت تھی۔11 ستمبر 2001 میں امریکہ میں ہونے والے حملہ کے بعد امریکہ کی قیادت میں غیر ملکی افواج افغانستان پر حملہ آور ہوتی ہیں اور طالبان کی حکومت کے خاتمے کا علان کیا جاتا ہے۔بیس سال تک افواج اور طالبان کے درمیان جنگ جاری رہتی ہے۔طالبان کی طاقت میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا گیا۔اب غیر ملکی افواج کے انخلا کے موقع پر طالبان نے پھر سے افغانستان کے بہت سے علاقوں پر قبضہ کر نا شروع کر دیا ہے۔ اب تک طالبان افغان فوج کی چوکیوں، قصبوں اوربڑے شہروں سے متصل دیہاتوں کو قبضے میں لے چکے ہیں۔
    چمن بارڈر کے پاس کے علاقوں میں پہلے افغان فوج تھی جبکہ حال ہی میں طالبان نے وہاں کا کنٹرول سمبھال لیا ہے۔ یہ علاقے افغان فوج کے لیے ایک مصیبت بن گےہیں۔ افغان حکومت دعویٰ کررہی ہے کہ یہ علاقےہمارے کنٹرول میں ہیں۔ دوسری جانب طالبان نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں انہوں نے ثابت کیا کہ یہ وہ جگہ ہے جو بادستور طالبان کے کنٹرول میں ہے ۔
    یہ تو ہے دونوں طرف کے بیانات لیکن وہاں کے لوکل میڈیا کے مطابق سپن بولدک( جو کہ پاکستان کی سرحد سے متصل علاقہ ہے) کے مین بازار میں گھمسان کی لڑائی ہو رہی ہے،گزشتہ دو دنوں سے وہاں جنگ کی سی کیفیت ہے۔ بہت بڑی تعداد میں دونوں طرف کے لوگ جان سے گئے اور بہت بڑی تعداد میں زخمی بھی ہوے ہیں ۔
    ایک اور بڑی دلچسپ صورت حال تب پیدا ہوئی جب افغان حکومت نے کہا کہ پاکستان کی فوج نے ہم سے کہا ہے کہ سپن بولدک کے وہ علاقے جو طالبان نے آپ سے چھینے ہیں اگر آپ نے ان علاقوں کو واپس طالبان سے چھین لینے کی کوشش کی تو پاکستان کی فضائیہ آپ پر حملہ کر دے گی۔جب کہ دوسری طرف افغانستان کی حکومت کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ یہ علاقہ جس پر طالبان نہ قبضہ کر لیا تھا افغان فوج نے طالبان سے آزاد کروا لیا ہے اور اب وہاں افغان حکومت کا کنٹرول ہے۔
    اگر اس بات کو مان لیا جائے کہ افغان حکومت نے وہ علاقہ طالبان سے واپس لے لیا ہے تواب سوچنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی آئیر فورس نے حملہ کیوں نہیں کیا اگر کیا ہے تو کہا کیا؟
    افغان حکومت کی دونوں باتوں میں سے کوئی ایک بات جھوٹ ہو سکتی ہے یا تو انہوں نے طالباں سے سپن بولدک کا علاقہ واپس لے لیا ہے یا پھر پاکستان نے حملہ کرنے کی دہمکی دی۔
    پاکستان نے تردید کرتے ہوئے واقعے کے بارے میں بتایا کہ افغانستان کی حکومت نے پاکستان سے رابطہ کیا اور یہ رابطہ فوج کی سطح پر ہوا کہ ہم طالبان پر ایک بڑا حملہ کریں گے اور یہ حملہ سپن بولدک میں کریں گے جو کہ پاکستان کی سرحدی علاقے کے بلکل قریب ہے۔پاکستان نے کہا کہ انہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن افغان حکومت نے کہا کہ وہ اس علاقے میں فضائی حملہ کریں گے اور پاکستان کو اس لیے پہلے بتا رہے ہیں کہ ممکنہ نقصان کا پاکستان کو پہلے سے علم ہو۔
    اس بات کے جواب میں پاکستان نے تحفظات کا اظہار کیا کہ یہ چمن بارڈر کا ایریا ہے یہاں ہماری املاک اور شہری بھی ہیں۔ اور اس ایریا میں ہمارے فوجی بھی ہیں ، ہم آپ سے توقع رکھتے ہیں کہ سرحد کی اس جانب کو مالی و جانی نقصان نہ ہو۔ آپ اپنی سرحد کے اندر جو بھی کریں ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن اگر سرحد کی اس طرف کوئی نقصان ہوا تو ہم اس کا جواب ضرور دیں گے۔
    یہ بات بلکل ٹھیک ہے کہ ان کی آپس کی لڑائی میں اگر ہمارے فوجی شہید ہو جائیں تو ہم ضرور جواب دیں گے اور جواب بھی کیوں نہ دیں اگر ہمارے شہری شہید ہو جائیں تواس کا مطلب کہ ہماری ریاست اپنے شہریوں کے تحفظ میں نا کام رہی۔ پاکستان کے تحفظات بلکل درست ہیں کیوں کہ افغان فوج پروفیشنل نہیں ہے۔کچھ دن پہلے افغان فوج طالبان کو مارنے اپنا ایک ہوائی مشن لے گئی اور اس گروپ کو مار دیا جو کہ افغان حکومت کی طرف سے شمالی اتحاد کے علاقے ہیں طالبان سے لڑ رہا تھا۔افغانستان کی ائیر فورس کو پتا ہی نہیں چلا کہ وہ کس کو مار رہے ہیں
    پاکستان نے دو ٹوک بات کی کہ ہم ایسی کوئی بھی چیز برداشت نہیں کریں گے کہ جس میں پاکستان کو زرہ بھر بھی نقصان پہنچے، یہ تھا پاکستان کا جواب ایک ذمہ دار ریاست کا جواب۔
    افغانستان نے اس بات کا پتنگر بنایا کہ پاکستان طالبان کے حق میں ہے،پاکستان طالبان کو بچا رہا ہے ۔ افغان حکومت کا جھوٹ اپنے ہی بیان سے ثابت ہو گیا،اگر تو آپ نے طالبان سے علاقہ واپس چھین لیا ہے تو آپ پاکستان سے فضائی حملے کی اجازات کیوں مانگ رہے ہیں اور اب افغان حکومت یہ کیوں کہ رہی ہے کہ پاکستان نہیں چاہتا کہ طالبان سے علاقے واپس لیے جائیں۔
    برحال موجودہ صورتحال کے مطابق اس وقت ایران ، تاجکستان،ترکمانستان،چین اور پاکستان کے بارڈر پر طالبان کا کنٹرول ہے۔ ازباکستان کے بارڈر کےکچھ علاقوں پر ابھی بھی افغان فوج کا کنٹرول ہے۔
    دوسری جانب چائینہ نے افغانستان کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا ہے۔اور اب اس صورتحال کو سمبھلنے کی ذمہ داری پاکستان،چائینہ،تاجکستان،ازبکستان،ایران اور ترکی پر ہے۔ خطے کے یہ ممالک مل کر اب افغانستان کی صورتحال کو بہتر کریں گے۔لیکن اس کے لیے سارے سٹیک ہولڈرز کو بیٹھنا ہو گا اور میرے مطابق اگلے تین دنوں میں یہ پاکستان میں بیٹھنے والے ہیں۔
    آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھیں۔ آمین
    پاکستان زندہ آباد
    @iamAsadLal
    twitter.com/iamAsadLal

  • انجلینا جولی اور بریڈ پٹ کے درمیان قانونی جنگ، عدالت نے  بریڈ پٹ کے حق میں فیصلہ سنانے والے جج کو ہٹادیا

    انجلینا جولی اور بریڈ پٹ کے درمیان قانونی جنگ، عدالت نے بریڈ پٹ کے حق میں فیصلہ سنانے والے جج کو ہٹادیا

    عالمی شہرت یافتہ ہالی ووڈ اداکارہ اور اقوام متحدہ کی خصوصی سفیر انجلینا جولی نے اپنے اور سابق شوہر بریڈ پٹ کے درمیان گود لیے بچوں کی حوالگی سے متعلق کیس کا بریڈ پٹ کے حق میں فیصلہ سنا یا گیا تھا جس پر اداکارہ نے جج کو تبدیل کرنے کی اپیل کی تھی-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق رواں سال مئی میں نجی جج جان اوڈرکرک نے انجلینا کے ساتھ بچوں کی مشترکہ کفالت کیلئے بریڈ پٹ کے حق میں فیصلہ سنایا تھا۔

    انجلینا جولی نے جج کے اس فیصلے کے خلاف کیلیفونیا کی ایک عدالت میں اپیل دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ جج نے ان کے بچوں کی تحویل کے سلسلے میں ہونے والی سماعت میں بچوں کو گواہی دینے کی اجازت نہیں دی۔

    جج جان اوڈرکرک نے اداکار بریڈ پٹ کو سابق جوڑے کے پانچ نابالغ بچوں 17 سالہ پیکس ، 16 سالہ زہرا، 14 سالہ شیلو، 13 سالہ نوکس اور ویوین کی مشترکہ تحویل دی تھی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق کیلیفورنیا کی ایک عدالت نے جولی کی طرف سے فیصلہ سنانے والے نجی جج کو اس کیس سے ہٹانے کی اپیل سے اتفاق کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا کہ جج اوڈرکرک نے بریڈ پٹ کے وکیلوں کے ساتھ اپنے کاروباری تعلقات کا انکشاف نہیں کیا تھا۔

    عدالت نے کہا کہ یہ ایک “اخلاقی خلاف ورزی” تھی جس سے “جج کی غیرجانبداری کی صلاحیت” پر شک پڑگیا ہےاس عدالتی فیصلے کے بعد نئے جج کے سامنے سابقہ جوڑے کے درمیان پانچ نابالغ بچوں کی تحویل اور کفالت سے متعلق قانونی جنگ دوبارہ شروع ہوسکتی ہے-

    دوسری جانب بریڈ پٹ کے ترجمان نے کہا کہ عدالت کا یہ فیصلہ تکنیکی مسئلے پر مبنی تھا جج اوڈرکرک نے حقائق کی بنیاد پر مئی میں بچوں کی تحویل کا فیصلہ سنایا تھا اور وہ تبدیل نہیں ہوگا۔

    واضح رہے کہ ہالی ووڈ فنکاروں انجلینا اور بریڈ پٹ نے 2018 میں اعلان کیا تھا کہ بچوں کی تحویل اورکفالت سے متعلق ان کے درمیان تصفیہ ہوگیا ہے تاہم بعد میں سابقہ جوڑے نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

    انجلینا جولی کی خواہش ہے کہ تمام بچے ان کے حوالے کردیے جائیں جبکہ بریڈپٹ کا مطالبہ ہے کہ بچوں کی پرورش مشترکہ طور پر ہونی چاہیے
    دونوں کی جانب سے گود لیے بچے غریب اور افریقی ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔

    انجلیناجولی کی جانب سے طلاق کی درخواست دائر کرنے سے قبل بریڈ پٹ کے خلاف بچوں سے ممکنہ بدسلوکی کی تحقیقات کی گئی تھیں تاہم بعد میں انھیں ان الزامات سے بری کردیا گیا تھا۔

    ہالی ووڈ اسٹارز نے 2004 میں ایکشن فلم مسٹر اور مسز اسمتھ کے سیٹ پر ملاقات کی تھی10 سال تک ساتھ رہنے کے بعد دونوں نے 2014 میں شادی کی تھی لیکن شادی کے دو سال بعد ستمبر 2016 اس جوڑے نے علیحدگی کا اعلان کیا تھا انجلینا جولی کی بریڈ پٹ سے یہ تیسری شادی تھی جبکہ بریڈ پٹ کی یہ دوسری شادی تھی۔

  • سعودی شہری نے سزائے موت پانے والے پاکستانی کی مدد کر کے انسانیت کی مثال قائم کر دی

    سعودی شہری نے سزائے موت پانے والے پاکستانی کی مدد کر کے انسانیت کی مثال قائم کر دی

    سعودی شہری نے سزائے موت پانے والے پاکستانی کی جگہ اللہ کی رضا کے لیے 2 لاکھ 70 ہزار ریال دیت میں دے کر اس کو سر قلم ہونے سے 2 دن پہلے بچا کر انسانیت کی نئی مثال قائم کر دی-

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق سزائے موت پانے والے پاکستانی شہری سے سعودی عرب میں ڈرائیونگ کرتے ہوئے ایک سعودی شہری ہلاک ہوگیا تھا اس کے بعد عدالت میں یہ ثابت ہونے پر کہ اس نے اس کو جان بوجھ کر گاڑی مار کر قتل کیا ہے اس پ عدالت نے پاکستانی کوسزائے موت سنائی تھی-

    جبکہ مرنے والے فریقین نے راضی نامہ کرنے کے لئے 2 لاکھ 70 ہزار ریال مانگے جس پر اس پاکستانی کی جگہ سعودی عرب کے مشہور شاعر فائز نے فی سبیل اللہ 2 لاکھ 70 ہزار مرنے والے سعودی شہری کے فرقین کو دیت میں دے کر پاکستانی کا سرقلم ہونے سے بچالیا-

    صرف یہی نہیں بلکہ سعودی عرب کے مشہور شاعر فائز نے 5 ہزار ریال پاکستانی کو نقد بھی دیئے-

    سعودی حکومت نے مسلمانوں کو بڑی خوشخبری سنا دی

  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میلا  تحریر: آفاق حسین خان

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میلا تحریر: آفاق حسین خان

    ٹی ٹوئنٹی کرکٹ آج کے دور کا سب سے زیادہ پسند کیا جانے والا طرز ہے- ٹی ٹونٹی کرکٹ کی شروعات سال دوہزارتین میں انگلش کاؤنٹی سے ہوئی اورآہستہ آہستہ پوری دنیا میں اس نئے طرز پرکرکٹ کھیلی جانے لگی- مختلف ممالک میں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ دیکھنے کا رجحان بڑھنے لگا- اوراگرپاکستان کی بات کی جائے تو یہاں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا آغاز سال دو هزار پانچ میں اے-بی-این امرو ٹی ٹوئنٹی کپ کے نام سے ہوا اور اس باہمی کھیل کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں منعقد کیا گیا جس میں ملک کے مختلف حصوں سے گیارہ ٹیموں نے حصہ لیا – شائقین کرکٹ نے بھرپور شرکت کرکے اس ٹورنامنٹ کو کامیاب کیا اور پاکستان میں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی مقبولیت روز بروز بڑھنے لگی جس کے بعد یہ سالانہ ڈومیسٹک کرکٹ ٹورنامنٹ بن گیا- پاکستان کے پہلے ٹی ٹوئنٹی کھیل کی فتح حاصل کرنے کا اعزاز فیصل آباد ٹیم کے حصے میں آیا جبکہ سیالکوٹ چھ ,لاہور تین , پشاور دو اور کراچی ایک بار چیمپیئن بنے-
    دنیا میں پہلا ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ ستمبرسال دو ہزار سات میں کھیلا گیا جس کی میزبانی ساؤتھ افریقہ نے کی, محض تیرہ دن کے اس ورلڈ کپ میں مختلف ممالک کی بارہ ٹیموں نے حصہ لیا – اب تک چھ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کھیلے جا چکے ہیں جبکہ سال دو ہزارنو کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی عمدہ کارکردگی کے باعث چیمپین شپ کا تاج پاکستان کے سر پر سجا جو ایک اعزاز کی بات ہے- حال ہی میں ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سال دوہزاربیس آسٹریلیا میں منعقد ہونا تھا اور بہت سے شائقین کرکٹ کوبڑی بے تابی سے اس کا انتظار تھا لیکن کرونا وائرس کے پیش نظراس ورلڈ کپ کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا- کرونا وائرس جیسی جان لیوا وبائی بیماری کے باعث تقریبا پوری دنیا لاک ڈاؤن کی طرف چلی گئی جس سے کرکٹ کے میدان بھی ویرانے کا منظرپیش کرنے لگے اوردوسرے کھیل بھی اس سے شدید متاثر ہوئے البتہ چند روز پہلے آئی سی سی نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سال دوہزاراکیس کے ٹیم گروپس کا اعلان کیا ورلڈ کپ کی میزبانی بی سی سی آئی کرے گی جس کے میچز یو اے ای اور عمان میں کھیلے جائیں گے- سترہ اکتوبر سے اس باہمی کھیل کا آغاز ہوگا اگر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ گروپ کی بات کی جائے تو اس کو دومختلف زُمرہ میں تقسیم کیا گیا ہے سپر بارہ میں آٹھ بڑی ٹیمیں رکھی گئی ہیں جس میں افغانستان کی ٹیم کا نام بھی شامل ہے جو ایک حیران کن اور قابل تعریف بات ہے "انتھک محنت ہمیشہ رنگ لاتی ہے” جبکہ راونڈ ایک میں بھی آٹھ چھوٹی ٹیمیں ہیں جس میں سری لنکن کرکٹ ٹیم کا نام سر فہرست ہے- نوے کی دہائی میں دنیا کی بہترین کرکٹ ٹیموں میں سری لنکن ٹیم کا شمار ہوتا تھا لیکن افسوس کے ساتھ آج کل خراب کارکردگی کے باعث مشکلات سے دوچارہے اورامید کی جاتی ہے کہ ورلڈ کپ سال دوهزارو کیس میں سری لنکن کرکٹ ٹیم بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی اور سپر بارہ میں بڑی ٹیموں کےمدمقابل ہوگی – راؤنڈ نمبرایک کودو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے, گروپ اے اور گروپ بی- گروپ اے میں چارچھوٹی ٹیمیں ہیں جس میں سے دو بہتر کارکردگی دکھانے والی ٹیموں کا سپربارہ کے لیے انتخاب کیا جائے گا جبکہ گروپ بی میں بھی جو دوٹیمیں بہترکارکردگی کا مظاہرہ کریگی وہ سوپر بارہ کے لیے کوالیفائی کر جائیں گی- پاکستان کو سپر بارہ کے گروپ نمبر دو میں رکھا گیا ہے اوراس کے ساتھ بھارت نیوزی لینڈ اور افغانستان کی ٹیمیں بھی شامل ہیں جبکہ سپر بارہ کے گروپ نمبرایک میں انگلینڈ, آسٹریلیا , ساؤتھ افریقہ اورویسٹ انڈیز شامل ہیں-
    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سال دوہزاراکیس شائقین کرکٹ کے لیے انبساط کی بات ہے اور امید کی جاتی ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ دوہزاراکیس سے کرکٹ میدانوں کی رونقیں دوباره بحال ہوں گی اورایک اچھی کرکٹ دیکھنے کو ملے گی- اور اس کے ساتھ یہ بھی امید کی جاتی ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سال دوہزاراکیس میں عمده کارکردگی دکھائے گی اور ایک با پھر فتح یاب هوکر پاکستان کا پرچم بلند کرے گی-

    Twitter: @AfaqHussainKhan

  • اورسيز پاکستانی اور  وزيراعظم عمران خان     تحرير : عٽمان چوہدری

    اورسيز پاکستانی اور وزيراعظم عمران خان تحرير : عٽمان چوہدری

    بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمیشہ سے اربوں ڈالر کی ترسیلات زر اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعہ ملکی معاشی ترقی کی سمت ایک اہم ستون رہے ہیں۔

    اگرچہ سابقہ ​​تمام حکومتوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ان کی شراکت کے لئے مختلف مراعات سے نوازنے کا وعدہ کیا تھا ..
    لیکن کسی نے بھی ان کے وعدوں کوتکميل تک نہیں پہنچایا جتنا وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی موجودہ حکومت کر رئ ہے۔

    کورونا وائرس وبائی بیماری کے پھیلاؤ کے بعد 500 سے زائد ملکی اور بین الاقوامی پروازوں پر متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک سے 304،000 پاکستانیوں کی کامیاب وطن واپسی اس کے غیر ملکی شہریوں کے لئے حکومت کی سنجیدگی ، عزم اور ترجیح کی عکاسی کرتی ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کے وزیر اعظم کے معاون خصوصی سید ذوالفقار بخاری پورے منصوبے کو کامیابی کے ساتھ منصوبہ بنانے اور اس پر عمل کرنے میں معاون تھے۔ یہ اس وقت کی سب سے بڑی وطن واپسی کا پروگرام تھا جو جنوبی ایشین ملک نے اپنی تاریخ میں چلایا تھا۔
    حال ہی میں شروع کیے گئے نئے وزیر خارجہ کے پورٹل کی بدولت ، متحدہ عرب امارات میں بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے مسائل کو جلد حل کر سکتے ہیں۔

    بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو شکایات ، مشورے اور آراء درج کرنے میں مدد کے لئے دبئی ، جدہ ، لندن ، نیویارک اور بارسلونا سمیت بیرون ملک مقیم پاکستان کے پانچ مشنوں میں پاکستان کا ’وزیر خارجہ کا پورٹل‘ ابتدائی طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔ اس نئے اقدام کی خاص بات یہ ہے کہ ان ممالک میں غیر ملکی شہری بھی پورٹل ڈاؤن لوڈ اور اندراج کرسکتے ہیں اگر ان ممالک میں غیر ملکی مشنوں سے نمٹنے میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہو تو وہ اپنے خدشات اور تجاویز کا اظہار کرسکتے ہیں۔ یہ پورٹل آہستہ آہستہ بیرون ملک مقیم تمام پاکستانی مشنوں میں متعارف کرایا جائے گا۔

    وزیر اعظم خان نے حکم ديا کہ کم مزدوری حاصل کرنے والے مزدوروں پر پہلے ہی بیرون ملک سخت کاروباری حالات کا بوجھ پڑا ھوتا ھے ، اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کو آسان بنائے اور انہیں اور ملک میں ان کے اہل خانہ کے لئے ضروری سہولیات اور مراعات فراہم کرے۔

    وزیر اعظم نے متنبہ کیا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ملکیت پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں جلد ہی صوبائی حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو متعلقہ ہدایات جاری کی جائیں گی۔

    اميد کرتے ہيں عمران خان صاحب ايسے ہی اورسيز پاکستانيو ں کے مسا ئل ترجيی بنيادوں پر حل کرتے رہے گے ۰

  • افغان حکومت کی90 فیصد علاقے پرطالبان کےقبضےکی تردید

    افغان حکومت کی90 فیصد علاقے پرطالبان کےقبضےکی تردید

    کابل: افغان حکومت کا کہنا ہے کہ 90 فیصد علاقے پر طالبان کے قبضے کا دعویٰ جھوٹا اور بے بنیاد ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ترجمان افغان وزارت دفاع کے نائب ترجمان فواد امان نے کہا ہے کہ ملک کے 90 فیصد علاقے پر طالبان کے قبضے کا دعویٰ جھوٹا اور بے بنیاد ہے جبکہ اب بھی افغانستان کے بیشتر علاقے ہمارے کنٹرول میں ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ملک کی سرحدوں پر افغان سیکیورٹی فورسز کا کنٹرول ہے اور طالبان کا دعویٰ پروپیگنڈا ہے دوسری جانب جھڑپوں کے دوران افغان فورسز نے مزید 152 طالبان مارنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    جبکہ پییٹاگون کے ترجمان جان کربی کا کہنا ہے کہ ملک کے تقریباً نصف یعنی 4 سو اضلاع طالبان کے قبضے میں ہیں جبکہ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان کی 90 فیصد سرحد پر طالبان کا کنٹرول ہے، جس میں تاجکستان، ترکمانستان، ازبکستان اور ایران کے ساتھ سرحدی علاقے شامل ہیں۔

    افغان سیکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں جبکہ امریکہ کی جانب سے بھی فضائی حملوں کے ذریعے افغان فورسز کی مدد کی جا رہی ہے تاہم امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان جان کربی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ وہ فضائی حملوں کے حوالے سے تفصیلات نہیں مہیا کر سکتے۔

  • سوشل میڈیا کا کردار  تحریر: سلمان الیاس

    سوشل میڈیا کا کردار تحریر: سلمان الیاس

    سعودی عرب میں آج کل ایک نیا ٹرینڈ چل پڑا ہے ۔

    کچھ دن پہلے ایک بہت ہی افسوس ناک واقعہ ہوا تھا ۔

    سعودی کے شھر ریاض میں کچھ شر پسند افغانیوں نے ایک نہتے پاکستانی اخونذادہ محمود پر انتہائی تشدد کے بعد انکی بے عزتی بھی کی تھی اور ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی تھی ۔
    جو کہ انتہائی قابلِ مذمت حرکت تھی ۔
    اور اس معاملے کو سوشل میڈیا پر اتنی غلط طرف پر موڑ دیا گیا ۔اور لوگوں کو اتنا غصہ دلایا گیا

    جو اُس کے جواب میں اس واقعے کے کچھ دن بعد ایک پبلک مقام وادی حنیفہ ریاض میں کچھ پاکستانیوں نے افغانیوں کو پکڑ کر مارنا شروع کردیا اور ویڈیو بھی بنائی جو کہ انتہائی افسوس ناک ہے ۔

    وہ کہتے ہیں ایک گندھا مچلی پورے تالاب کو گندھا کر دیتی ہے ۔

    وہاں کام کیا کسی نے اور یہاں شامت آئی کسی کی کیونکہ جن افغانیوں کو پاکستانیوں نے مارا – انکا اس معاملے سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔
    انہوں نے اپنا غصہ نکالنا تھا تو انہوں نے نکال دیا۔

    کل کو پھر پاکستانی اور پھر افغانی اس طرح اگر یہ رواج چل پڑا تو یہ بہت خطرناک ہوگا ۔

    اور سب سے دکھ کی بات یہ ہے ہمارے کچھ سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ اس معاملہ میں بہت ہی بھیانک کردار ادا کر رہی ہے ۔ جن میں افغانی اور پاکستانی دونوں شامل ہے۔
    جو لوگوں کو غصہ دلا رہے ہے ۔

    اور باقی جو سوشل میڈیا پر بڑے بڑے گروپس ہے ۔
    جو اچھا کردار ادا کرسکتے ہے

    اس معاملہ میں بلکل خاموش ہے جو کہ انتہائی افسوس ناک ہے ۔

    سوشل میڈیا ایک بہت بڑی طاقت ہے ۔ خدا کے لئے اس معاملےمیں اپنا کردار ادا کرکے پاکستانی سفارت خانے کو جگانے کی کوشش کرے ۔

    تاکہ یہ معاملہ یہی پر رک جائے اور کسی اور کے ساتھ ایسا واقعہ نہ ہوں۔

    میں سمجھتا ہوں ایمبیسی کو سوشل میڈیا پر پیغام جاری کرنا چاہئے ۔تاکہ لوگوں کو پتہ ہو ایمبیسی اس معاملہ میں سنجیدہ ہے ۔

    کیونکہ محمود والے واقعے کے بعد لوگ بہت غصے میں ہے –

    سعودی عرب کے قوانین بہت سخت ہے ۔اللہ نہ کرے کل کو باقی غریب لوگ کسی مصیبت میں نہ پڑ جائے ۔

    میں زاتی طور پر ایسے لوگوں کو جانتا ہو
    جو بیوی کا زیور یا اپنا زمین بیچ کر یہاں مزدوری کے لئے آئے ہے
    ایسا نہ ہو ان لوگوں پر بھی اثر پڑ جائے

    جو پاکستان ایمبیسی کے لئے پھر سنبھالنا بہت مشکل ہو جائیگا۔

    تو مہربانی کرکے ہوش کے ناخن لے اور اس معاملے کو ٹھنڈا کرنے اور سنجیدگی سے حل کرنے کی –
    ‏ @Salmanjani12

  • بھارت کا پیگاسس کے ذریعے 25 کشمیری رہنماؤں اور صحافیوں کی جاسوسی کا انکشاف

    بھارت کا پیگاسس کے ذریعے 25 کشمیری رہنماؤں اور صحافیوں کی جاسوسی کا انکشاف

    بھارت کی جانب سے اسرائیلی سافٹ ویئر پیگاسس کے ذریعے 25 کشمیری رہنماؤں اور صحافیوں کی جاسوسی کرانے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی:بھارتی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ مودی سرکار نے اسرائیلی سافٹ ویئر پیگاسس کے ذریعے ان 25 کشمیری رہنماؤں کی بھی جاسوسی کی جو دہلی کی سرکاری پالیسی کو تسلیم نہیں کرتے یہ عمل 2017ء سے 2019ء تک جاری رہا اور اس عمل میں بھارت کی ایک ایسی ایجنسی ملوث تھی جو اسرائیل کے این ایس او گروپ کی خدمات حاصل کرتی ہے۔

    بھارتی اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما سید علی شاہ گیلانی کے خاندان کے 4 افراد کے فونز کو ہدف بنایا گیا ان افراد میں سید علی گیلانی کے داماد، صحافی افتخار گیلانی اور ان کے سائنسدان بیٹے نسیم گیلانی بھی شامل تھے۔

    یہی نہیں بلکہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق کا فون بھی نشانے پر تھا اور ان کے ڈرائیور اور انسانی حقوق کے رہنما وقار بھٹی کے فون کو بھی ہدف بنایا گیا حریت پسند رہنما بلال لون اور ایس اے آر گیلانی کے فون کا بھی اسرائیلی سافٹ ویئر کے ذریعے تجزیہ کیا گیا۔

    مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی کے خاندان کے 2 افراد کے فونز کی بھی جاسوسی کی گئی یہ اقدام ایسے وقت کیا گیا جب محبوبہ مفتی مقبوضہ وادی کی وزیرِ اعلیٰ اور بی جے پی کی اتحادی تھیں۔

    ان کے علاوہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے متعدد دیگر سیاست دان ، انسانی حقوق کے کارکن ، صحافیوں اور کاروباری شخصیات بھی اس فہرست میں شامل ہیں جن کے فون کی پیگاسس کے ذریعے جاسوسی کی گئی۔

  • بھارت میں طوفانی بارشیں، دو روز میں 130 افراد ہلاک درجنوں لاپتہ

    بھارت میں طوفانی بارشیں، دو روز میں 130 افراد ہلاک درجنوں لاپتہ

    نئی دہلی: بھارت میں 2 روز میں طوفانی بارشوں کے باعث 130 افراد ہلاک متعدد زخمی ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست مہاشٹرا میں طوفانی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اور گزشتہ 48 گھنٹے کے دوران سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے 130 افراد ہلاک ہو گئے۔

    رپورٹس کے مطابق مہاشٹرا کے تالئے نامی گاؤں میں لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں 32 گھر آ گئے جبکہ33 افراد ہلاک اور 52 لاپتہ ہو گئے۔

    طوفانی بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے 84 ہزار سے افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ بھارتی نیوی، آرمی سمیت دیگر فورسز بھی ریسکیو کے کاموں میں مصروف ہے۔

    بھارتی نیوی نے اپنے ایک جاری بیان میں کہا کہ متاثرہ علاقے میں پھنسے ہوئے شہریوں کو ریسکیو کرنے کے لیے ہیلی کا پٹرز اور کشتیوں سمیت دیگر ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق ساحلی علاقے چپلون کا کم و بیش آدھا علاقہ سیلاب کی زد میں آگیا ہے یہاں تقریباََ 70 ہزار افراد مقیم ہیں۔

  • سعودی حکومت نے مسلمانوں کو بڑی خوشخبری سنا دی

    سعودی حکومت نے مسلمانوں کو بڑی خوشخبری سنا دی

    سعودی عرب کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ کل یعنی اتوار 25 جولائی سے عمرہ زائرین کو پرمٹ جاری کرنا شروع کردیئے جائیں گے۔

    باغی ٹی وی : سعودی عرب کے نائب وزیر حج و عمرہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ عمرہ پرمٹ اعتمرنا اور توکلنا موبائل ایپ کے ذریعے جاری کیے جائیں گے، سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی اور سعودی شہری عمرہ پرمٹ حاصل کر سکیں گے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ عمرہ کے پرمٹ صرف ان لوگوں کو جاری کیے جائیں گے جنہوں نے کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لگوا رکھی ہوگی۔

    عرب میڈیا کے مطابق نائب وزیر حج کا کہنا ہے کہ یومیہ 20 ہزار عمرہ زائرین کو اجازت نامے جاری کیے جائیں گے عمرہ زائرین کی تعداد میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا۔

    عمرہ زائرین کو 25 جولائی سے عمرے کی اجازت دی جائے گی سعودی نائب وزیر حج