Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • ایران نے ٹرمپ کے  جنگ بندی کے دعوے کو ایک بار پھر مسترد کردیا

    ایران نے ٹرمپ کے جنگ بندی کے دعوے کو ایک بار پھر مسترد کردیا

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ تہران نے جنگ بندی کی کوئی پیشکش نہیں کی اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیرِ غور ہے۔

    ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ’آئی آر آئی بی نیوز‘ کے مطابق وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران نے کسی بھی فریق کو جنگ بندی کی پیشکش نہیں کی، امریکا اور اسرائیل کو سزا اور ایران کو ہونے والے نقصانات کا مکمل معاوضہ نہ ملنے تک جنگ جاری رہے گی، میڈیا میں سامنے آنے والے مبینہ پانچ نکاتی پلان کی خبریں سچائی پر مبنی نہیں بلکہ قیاس آرائی ہیں۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایرانی عوام ابھی امریکا کے ساتھ مذاکرات یا سفارت کاری کے لیے تیار نہیں ہیں کیونکہ امریکا نے ماضی میں بھی مذاکرات کو اپنے مطالبات منوانے یا حملوں کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔

    مصر کے روزنامے ’المصری الیوم‘ کو دیے گئے انٹرویو اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای مکمل صحت مند ہیں اب کسی کو بھی امریکی سفارت کاری پر بھروسہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ طاقت کے استعمال سے پہلے دھیان بھٹکانے کے لیے مذاکرات کرتے ہیں۔

    ایران کی جانب سے یہ بیان صدر ٹرمپ کے اس دعوے کے ردعمل میں سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے نئے رہنما نے جنگ بندی کی پیشکش کی ہے، تاہم وہ جنگ بندی پر تب ہی غور کریں گے جب آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل جائے گااس شرط کے پورا نہ ہونے تک ایران پر امریکی حملے جاری رہیں گے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مرتبہ ایران کی جانب سے جنگ بندی کی پیشکش کے دعوے کرچکے ہیں تاہم ایرانی حکام مسلسل ان دعوؤں کو مسترد کرتے آئے ہیں۔

  • ایران کا اسرائیل کے ایئرپورٹ پر آواکس طیاروں پر حملے کا دعویٰ

    ایران کا اسرائیل کے ایئرپورٹ پر آواکس طیاروں پر حملے کا دعویٰ

    ایرانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کی فوج نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی عسکری تنصیبات، آواکس طیاروں اور ری فیولنگ جہازوں کے مقامات پر سو سے زائد میزائل اور ڈرونز داغے ہیں۔

    ایران کی اسلامی جمہوریہ کی فوج نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت اور امریکا کی جانب سے ایران پر کیے گئے فضائی حملوں، خصوصاً شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے بعد، ایرانی فوج نے صبح سے جوابی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

    ایرانی فوج کے مطابق ان کارروائیوں میں دشمن کے اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں اسرائیل کے تل ابیب، ایلات اور بنی براک میں فوجی مراکز، بن گوریون ایئرپورٹ پر موجود امریکی آواکس اور ری فیولنگ طیارے، میزائل اور ڈرون کی نگرانی کرنے والے ریڈار نظام، اور اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات میں ڈرون کے خلاف استعمال ہونے والے الیکٹرانک جنگی مراکز شامل ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ اس سے قبل بھی ایرانی فوج خطے میں امریکی اڈوں اور مقبوضہ علاقوں میں فوجی تنصیبات کو ڈرون حملوں کے ذریعے نشانہ بنا چکی ہے سیٹلائٹ نگرانی اور دستیاب معلومات کے مطابق ان حملوں سے متعلقہ مراکز کو شدید نقصان پہنچا، جس سے فوجی کارروائیوں، فضائی مدد اور میزائل و ڈرون کی نگرانی کی صلاحیت متاثر ہوئی۔

    ایرانی فوج نے مزید کہا کہ اس حملے میں دو ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے جدید ’آرش ٹو‘ ڈرون بھی استعمال کیے گئےایرانی فوج کے تمام اہلکار بے گناہ شہریوں کی ہلاکت کا بدلہ لینے اور دشمن کو اس کے اقدامات پر پچھتانے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

    ایران کی ہلالِ احمر نے ملک میں حالیہ حملوں کے بعد شہری انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان سے متعلق تازہ تفصیلات جاری کی ہیں۔ ہلالِ احمر کے مطابق حالیہ حملوں میں ایک لاکھ پندرہ ہزار سے زائد شہری یونٹس متاثر یا مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جن میں رہائشی عمارتیں، طبی مراکز، تعلیمی ادارے اور امدادی مراکز شامل ہیں، متاثرہ عمارتوں کا ایک بڑا حصہ تہران صوبے میں واقع ہے، جہاں حملوں کے باعث خاصا نقصان ہوا۔ ہلالِ احمر نے مزید بتایا کہ امدادی کارروائیوں کے دوران اب تک کم از کم ایک ہزار پانچ سو چھبیس افراد کو ملبے سے زندہ نکالا جا چکا ہے۔

    دریں اثنا، ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بھی دعویٰ کیا کہ حالیہ حملوں میں سو سے زائد بھاری میزائل اور حملہ آور ڈرون استعمال کیے گئے، جب کہ اس کے ساتھ کم از کم دو سو راکٹ بھی فائر کیے گئے۔ بیان کے مطابق یہ حملے ایران کی جانب سے کیے گئے، جن میں اس کے اتحادی گروہوں کی حمایت بھی شامل تھی۔

  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ عنقریب ختم کرنے کے بیان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی آگئی۔

    بدھ کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تین فی صد کمی کے بعد 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں تیل کی قیمتوں میں یہ کمی گزشتہ شب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بیان کے بعد واقع ہوئی ہےامریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا ’بہت جلد‘ ایران سے نکل جائے گا اور فوجی کارروائیاں دو یا تین ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہیں۔

    تاہم، برینٹ خام تیل کی قیمتیں ایران جنگ کے آغاز سے پہلے کے مقابلے میں اب بھی 39 فی صد زیادہ ہیں جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران نے عالمی تیل اور گیس کی سپلائی کے لیے استعمال کیے جانے والے ایک اہم راستے آبنائے ہرمز کو مؤثر طریقے سے بند کیا ہوا ہے عالمی تیل کی تجارت کا 20 فی صد آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔

  • یو اے ای کا ایران کے 5 میزائل، 35 ڈرون گرانے کا دعویٰ

    یو اے ای کا ایران کے 5 میزائل، 35 ڈرون گرانے کا دعویٰ

    متحدہ عرب مارات کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ فضائی دفاع نے آج 5 بلیسٹک میزائل اور 35 ڈرونز مار گرائے ہیں

    متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کی جانب سے فائر کیے گئے 5 بلیسٹک میزائل اور 35 ڈرونز مار گرائے ہیں، جس کے بعد اب تک گرائے گئے ایرانی میزائلوں کی تعداد بڑھ کر 438 اور ڈرونز کی تعداد دو ہزار 12 ہوگئی ہے۔

    اس سے قبل مقامی میڈیا نے بتایا تھا کہ متحدہ عرب امارات کے علاقے ال قووین میں میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک اور شہری جاں بحق ہوگیا ہے، اس کے علاوہ فجیرہ میں علی الصبح ناکارہ بنائے گئے ڈرون کا ملبہ لگنے سے بھی ایک شہری دم توڑ گیا تھا۔

    ایرانی خبر ایجنسی تسنیم کے مطابق ایران کی اسرائیل اور امریکا کے ساتھ جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات پر ڈرونز اور میزائل گرنے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہوگئے ہیں اور اسی دوران ایک ہزار 232 ایرانی شہر دبئی سے واپس ایران پہنچ گئے ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ دبئی سے اکثر ایرانی افغانستان اور آرمینہ کے راستے واپس آ رہے ہیں کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروزیں معطل ہیں جبکہ ایرانی حکومت نے متحدہ عرب امارات سے درخواست کی ہے کہ ان کے شہریوں کو بحری جہازوں کے ذریعے واپس بھیج دیا جائے۔

  • ٹرمپ نے ایران کے نئے رہنما کو سابقہ رہنماؤں کے مقابلے میں ذہین قرار دیا

    ٹرمپ نے ایران کے نئے رہنما کو سابقہ رہنماؤں کے مقابلے میں ذہین قرار دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے نئے رہنما نے امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے تاہم اس درخواست پر آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد ہی اس پر غور کیا جائے گا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’سوشل ٹروتھ‘ پر جاری پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے نئے رہنما نے حال ہی میں امریکا سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے انہوں نے ایران کے نئے رہنما کو سابقہ رہنماؤں کے مقابلے میں ذہین قرار دیا۔

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی درخواست پر اس وقت غور کیا جائے گا جب آبنائے ہرمز پر آزادانہ آمد ورفت بحال ہوجائے گی اس شرط کے پورا نہ ہونے تک ایران پر امریکی حملے جاری رہیں گے اور انہیں پتھر کے زمانے میں پہنچا دیں گے۔

    اس سے قبل برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے ٹیلیفونک گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران سے جلد نکل جائے گا اور ضرورت پڑنے پر صرف مخصوص اہداف پر حملے کرے گا انہوں نے نیٹو کے بارے میں بھی اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ امریکا کو نیٹو سے نکالنے پر غور کر رہے ہیں ایران کے معاملے میں دوست ممالک نے امریکا کی حمایت نہیں کی،ہم نے کبھی ان سے زیادہ کچھ نہیں مانگا، لیکن جب ہمیں ضرورت پڑی تو دو ستوں نے ساتھ نہیں دیا، ایران جنگ کے اختتام کے حتمی اوقات سے متعلق سوال پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں بالکل نہیں بتا سکتا مگر ہم جلد ہی نکل جائیں گے۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعرات کو پاکستانی وقت کے مطابق صبح 6 بجے قوم سے خطاب کریں گے، جس میں ایران جنگ کے حوالے سے اہم اعلانات متوقع ہیں۔

    واضح رہے کہ ایران جنگ کو ایک ماہ گزرنے کے باوجود امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھلوانے کی تمام کوششیں ناکام رہی ہیں امریکا کے اہم ترین اتحادی ممالک (نیٹو) نے بھی اس جنگ میں شامل ہونے سے صاف انکار کردیا ہے۔

  • سیکیورٹی باہر سے خریدی نہیں جاسکتی ہے، بیرونی فوجی بیسز استحکام نہیں لاتے،جواد ظریف

    سیکیورٹی باہر سے خریدی نہیں جاسکتی ہے، بیرونی فوجی بیسز استحکام نہیں لاتے،جواد ظریف

    ایران کے سابق وزیرخارجہ جواد ظریف نے خلیج میں اپنے پڑوسی عرب ممالک کو پیغام دیا ہے کہ سیکیورٹی باہر سے خریدی نہیں جاسکتی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے تجزیے میں ایران کے سابق وزیرخارجہ جواد ظریف نے کہا کہ جنوبی خلیج فارس میں ہمارے پڑوسیوں کو ایک یاد دہانی کہ سیکیورٹی باہر سے خریدی نہیں جاسکتی ہے، بیرونی فوجی بیسز استحکام نہیں لاتے بلکہ وہ جنگ کے لیے میدان ہموار کرتے ہیں،خلیج تعاون تنظیم کے اکثر ممالک نے گزشتہ 50 سال سے ایران کے خلاف سیکیورٹی کو فروخت کیا ہوا ہے۔

    جواد ظریف نے ماضی میں پیش آنے والے واقعات کا سن وار جائزہ بھی پیش کیا اور بتایا کہ 1980 سے 88 تک صدام حسین کی ایران کے خلاف جنگ پر فنڈز دیے، 1985 میں ایران کی علاقائی سیکیورٹی تجاویز مسترد کردی 1990 سے 1992 کے دوران صدام حسین کے کویت پر مداخلت کو ختم کرنے میں مدد کے بعد ایران پر کشیدگی کا انتخاب کیا، جو ایران کے خلاف ان کے مرکزی مالی معاونت کرنے والے تھے۔

    سابق ایرانی وزیرخارجہ نے مزید واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2001 سے آج تک سانپ کا سر کاٹنے کی حکمت عملی اپنائی گئی، 2015 میں ایران کے جارحیت مخالف معاہدے کو مسترد کردیا جبکہ ایران کے خلاف امریکی بیسز کے لیے ادائیگیاں کیں، 2015 سے آج تک انہوں نے جے او پی او اے کی مخالفت میں لابنگ کی اور ایرانی عوام پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کی حمایت کی، جس کے نتیجے میں عوام کی معاشی حالت متاثر ہوئی جبکہ ان کی ذاتی دولت میں اضافہ ہوا۔

    جواد ظریف نے حوالہ دیا کہ 2019 میں ہرمز امن معاہدہ مسترد کردیا گیا اور ایران پر پابندیوں کی حمایت کی گئی ہے جس سے ایران کے لیے آبنائے ہرمز مؤثر طور پر بند ہوجائےآج انہوں نے ایران کے خلاف ٹرمپ کی جنگ میں دیگر تمام اتحادیوں سے بڑھ کر مدد کے لیے جلدی کی جبکہ اس کے بدلے انہیں ذلیل کیا گیا اور اسرائیل کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا، ڈونلڈ ٹرمپ جلد ہی چلاجائے گا لیکن ایران یہاں ہمیشہ رہے گا، سیکیورٹی سب کو ملنی چاہیے۔

  • چیچن قیادت نے ایران امریکا  کشیدگی کو ’’مذہبی جنگ‘‘ قرار دیا

    چیچن قیادت نے ایران امریکا کشیدگی کو ’’مذہبی جنگ‘‘ قرار دیا

    چیچن فوجی یونٹس نے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران پر زمینی حملہ کیا تو وہ ایرانی افواج کی مدد کے لیے میدان میں اتریں گے۔

    ایرانی سرکاری ٹی وی پریس ٹی وی کے مطابق رمضان قدیروف کے وفادار چیچن فوجی دستوں نے ایران میں تعیناتی کے لیے اپنی تیاری کا اعلان کیا ہے، یہ دستے اس صورت میں مداخلت کریں گے جب امریکا ایران کے خلاف زمینی کارروائی شروع کرے گا، چیچن فورسز کا کہنا ہے کہ وہ جاری تنازع کو’’مذہبی جنگ‘‘ سمجھتے ہیں اور اگر براہ راست مداخلت ہوئی تو اسے “جہاد” تصور کریں گے، جسے انہوں نے ’’حق اور باطل کی جنگ‘‘ قرار دیا۔

    یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور حالیہ ہفتوں میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں میں اضافہ ہوا ہے امریکا زمینی کارروائی پر بھی غور کر رہا ہے، جبکہ جنگ کا آغاز 28 فروری کو اس وقت ہوا جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ جوہری مذاکرات جاری تھے، اسی دوران ایران کی قیادت اور دیگر اعلیٰ فوجی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا، جوابی کارروائی میں ایران نے ا سرا ئیلی فوجی ٹھکانوں اور خطے میں موجود امریکی اڈوں پر درجنوں میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

    دوسری جانب ایران کے اقوام متحدہ میں سفیر امیر سعید ایروانی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو لکھے گئے خط میں الزام عائد کیا ہے کہ یوکر ین بھی اس تنازع میں شامل ہےاور اس نے سینکڑوں ماہرین خطے میں بھیجے ہیں، چیچن فورسز، جنہیں ’’کدیروفسی‘‘ بھی کہا جاتا ہے،ماضی میں روس کے ساتھ یوکرین سمیت مختلف تنازعات میں شریک رہ چکی ہیں، اور اب ممکنہ طور پر ایران کے حق میں بھی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

  • چندی گڑھ میں بی جے پی دفتر میں بم دھماکہ

    چندی گڑھ میں بی جے پی دفتر میں بم دھماکہ

    چندی گڑھ میں بی جے پی دفتر میں بم دھماکہ ہوا ہے

    بھارتی میڈیا کے مطابق چندی گڑھ میں بھارتی جنتا پارٹی کے دفتر میں بم دھماکہ کے نتیجے میں دفتر مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے، سیکیورٹی حکام نے جائے حادثہ کو فوری طور پر سیل کر دیا – سیکوریٹی حکام نے میڈیا کو جانی نقصان کی تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا – واقعہ کے بعد چندی گڑھ میں افراتفری پھیل گئی – مقامی ذرائع کے مطابق دھماکہ درمیانی شدت کا تھا ، بی جے پی آفس دھماکہ کی ذمہ داری ابھی کسی گروپ نے قبول نہیں کی – سیکوریٹی حکامُ نے سکھ علیحدگی پسند گروپوں کے ملوث ہونے کے شبہات ظاہر کئے ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی پنجاب میں خالصتان نواز گروپس کے حملوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ، بھارتی حکام کی خالصتان تحریک کو تشدد سے کچلنے کی پالیسی ناکام ہو رہی ہے۔

  • پاکستان اور  افغانستان کےدرمیان سفارتی بات چیت کا آغاز،پشاور میں امن جرگہ

    پاکستان اور افغانستان کےدرمیان سفارتی بات چیت کا آغاز،پشاور میں امن جرگہ

    پاکستان اور افغانستان کےدرمیان سفارتی بات شروع ہوگئی ہے،

    پاکستان اورافغانستان کےدرمیان جونیئرسطح کی سفارتی بات چیت چین کے شہر ارمچی میں شروع ہوگئی،سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان افغانستان سےبات چیت کے لیے تیار ہے مگر دہشت گردی کےٹھکانوں کونشانہ بنانےکی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی،پاکستان نے وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکریٹری کو چین میں مذاکرات کے لیے مقرر کیا ہے۔

    دوسری جانب پشاور میں پاک افغان امن جرگہ، سیاسی و قبائلی رہنماؤں نےافغانستان پالیسی میں پارلیمان کو اختیار دینے کا مطالبہ کر دیا،پاک افغان امن جرگے کے دوران سیاسی مشران، علماء کرام اور قبائلی رہنماؤں نے کہا ہے کہ افغانستان سے متعلق تمام فیصلوں کا اختیار پارلیمان اور منتخب سیاسی نمائندوں کو دیا جائے تاکہ مسئلے کا واضح اور عملی حل نکالا جا سکے۔جرگے کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ اس وقت افغانستان کے بارے میں تمام پالیسیاں یک طرفہ طور پر بنائی جا رہی ہیں اور ان سے اس حوالے سے کوئی مشاورت نہیں کی جاتی، جو انتہائی تشویشناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ اختیار انہیں سونپ دیا جائے تو وہ مسئلے کے حل کے لیے عملی اقدامات کر سکتے ہیں۔بی بی سی پشتو کے معروف صحافی طاہر خان کے مطابق جرگے کے شرکاء نے واضح کیا کہ وہ اپنی کوششیں جاری رکھیں گے اور پاک افغان تعلقات میں پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے کام کریں گے۔ واضح رہے کہ یہ جرگہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں منعقد کیا گیا تھا۔

    پشاور میں پاک افغان کشیدگی ختم کرنے کے حوالےسے منعقدہ جرگہ کے اختتام پر جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ دونوں ممالک مسلمہ عالمی اصولوں کے مطابق اس بات پر اتفاق کریں کہ ان کی سرزمین نہ تو ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہوگی اور نہ ہی کسی ایسی سرگرمی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی،مزید کہا گیا کہ تمام اختلافات اور تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنا ہی اولین ترجیح ہونی چاہیے، کیونکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے،پائیدار امن کے لیے باہمی احترام اور افہام و تفہیم کو ناگزیر قرار دیا گیا،حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا کہ اعتماد سازی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں اور ان پر مؤثر عملدرآمد کو فروغ دیا جائے۔

  • نیٹو پر اعتماد،ایران جنگ میں کسی صورت شامل نہیں ہوں گے،برطانوی وزیراعظم

    نیٹو پر اعتماد،ایران جنگ میں کسی صورت شامل نہیں ہوں گے،برطانوی وزیراعظم

    لندن: برطانیہ کے وزیرِاعظم کیئر اسٹار مر نے عوام کو موجودہ عالمی صورتحال پر اعتماد دینے کی کوشش کی، تاہم مہنگائی سے نمٹنے کے لیے کسی نئی پالیسی یا ریلیف کا اعلان نہیں کیا۔

    برطانوی وزیرِاعظم نے اپنی پریس کانفرنس میں مستقبل میں برطانیہ اور یورپ کے تعلقات کے لیے واضح سمت تو دی، مگر عوام کو درپیش معاشی مشکلات کے حوالے سے کوئی نئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔برطانوی وزیرِاعظم نے آبنائے ہرمز کی بندش پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ آئندہ چند ہفتے مشکل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس اہم بحری راستے کو دوبارہ کھولنے کے لیے “اگلے مرحلے کی منصوبہ بندی” کر رہی ہے، تاہم یہ اقدام جنگ کے خاتمے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔انہوں نے واضح کیا کہ برطانیہ اس جنگ میں براہِ راست شامل نہیں ہوگا اور صورتحال کا دارومدارامریکہ اور اسرائیل کے فیصلوں پر ہے۔ ایران امریکا جنگ ہماری نہیں، اس میں کسی صورت شامل نہیں ہوں گے، ایران جنگ کے اثرات ہمارے مستقبل کو متاثر کریں گے اس لیے ہم برطانیہ کو اس جنگ میں گھسیٹنے کی اجازت نہیں دیں گے، ہم آنے والی نسلوں کو محفوظ ملک دینا چاہتے ہیں۔

    مہنگائی کے بڑھتے دباؤ کے باوجود وزیرِاعظم نے کسی نئی امدادی پیکج کا اعلان نہیں کیا۔ انہوں نے گزشتہ بجٹ میں کیے گئے اقدامات کا حوالہ دیا، جن میں کم از کم اجرت میں اضافہ، ادویات کی قیمتوں کو منجمد رکھنا اور توانائی کی قیمتوں پر حد مقرر کرنا شامل ہے۔یہ رویہ آسٹریلوی وزیراعظم کے حالیہ فیصلے کے برعکس ہے، جہاں ایندھن ٹیکس میں عارضی کمی کا اعلان کیا گیا تھا۔دلچسپ بات یہ رہی کہ وزیرِاعظم نے عوام کو اپنی روزمرہ عادات تبدیل کرنے کی کوئی ہدایت بھی نہیں دی، جبکہ دیگر ممالک میں شہریوں کو پبلک ٹرانسپورٹ کے زیادہ استعمال کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے صرف “پُرسکون اور واضح قیادت” کی ضرورت پر زور دیا۔

    کیئر اسٹارمر نے کہا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر یورپی یونین کے ساتھ قریبی تعلقات ضروری ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ برطانیہ کسی ایک کا انتخاب نہیں کرے گا۔انہوں نے کہا کہ دفاع، معیشت اور توانائی کے شعبوں میں یورپ کے ساتھ تعاون بڑھانا برطانیہ کے مفاد میں ہے اور اس سے امریکہ کے ساتھ تعلقات بھی مضبوط ہوں گے۔برطانوی وزیرِاعظم نے نیٹو کے حوالے سے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا کا سب سے مؤثر فوجی اتحاد ہے اور برطانیہ اس کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے، چاہے امریکی صدرکی جانب سے اس پر تنقید کیوں نہ کی جائے۔