Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • ایران کے ساتھ 60 روزہ معاہدے پر عملدرآمد شروع، آبنائے ہرمز کھلا رکھنے کی یقین دہانی: جے ڈی وینس

    ایران کے ساتھ 60 روزہ معاہدے پر عملدرآمد شروع، آبنائے ہرمز کھلا رکھنے کی یقین دہانی: جے ڈی وینس

    ‎واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت 60 روزہ عملدرآمد کا مرحلہ آج سے شروع ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران خطے میں دہشت گردی کی مالی معاونت نہ کرے اور معاہدے کی تمام شرائط پر عمل درآمد جاری رہے۔
    ‎میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کی بڑی فوجی صلاحیتیں ختم ہو چکی ہیں اور امریکا نے ایران کی متعدد بیلسٹک میزائل تنصیبات کو تباہ کیا ہے۔ ان کے مطابق اب ایران اپنی معیشت کی بحالی پر توجہ دینا چاہتا ہے اور اگر اس کا طرزِ عمل مثبت رہا تو اس کا فائدہ خود ایران کو ہوگا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں معمول پر آنا شروع ہو گئی ہیں اور گزشتہ ایک ہی رات میں 12 ملین بیرل سے زائد خام تیل اس اہم بحری گزرگاہ سے منتقل کیا گیا۔ ان کے بقول ایران نے اب تک کسی تجارتی جہاز کو نشانہ نہیں بنایا اور وہ مفاہمتی یادداشت میں شامل آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی شق پر عمل کر رہا ہے۔
    ‎امریکی نائب صدر نے مزید کہا کہ حتمی معاہدے میں اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ایران کے پاس ایسے میزائل نہ ہوں جو عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنا چاہے تو اس کے لیے اسے بھاری مالی وسائل درکار ہوں گے۔
    ‎جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ پابندیوں میں نرمی محدود نوعیت کی ہوگی اور امریکا ایران کے مالی لین دین اور معاہدے پر عملدرآمد کا مسلسل جائزہ لیتا رہے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی انتظامیہ کانگریس کی منظوری کے بغیر بھی بعض پابندیاں عارضی طور پر معطل کر سکتی ہے، تاہم ایران کو براہ راست کوئی مالی رقم فراہم نہیں کی جائے گی۔

  • 
آبنائے ہرمز کھلنے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان

    
آبنائے ہرمز کھلنے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان

    ‎لندن: صنعتی ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان عبوری معاہدے کے بعد جمعہ کو آبنائے ہرمز دوبارہ مکمل طور پر کھول دی جاتی ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی فراہمی میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
    ‎خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کی بحالی سے خلیجی ممالک کا وہ خام تیل بھی عالمی منڈی تک پہنچ سکے گا جو حالیہ کشیدگی کے باعث ٹینکروں میں رکا ہوا تھا۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اضافی سپلائی کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کے خام تیل کی قیمتوں میں کمی آنے کا امکان ہے۔
    ‎توانائی تجزیاتی ادارے کپلر (Kpler) کے مطابق آبنائے ہرمز کھلنے سے تقریباً 9 کروڑ 30 لاکھ بیرل غیر ایرانی خام تیل عالمی منڈی میں آ سکتا ہے، جو مختلف وجوہات کی بنا پر خلیج میں رکا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ اگر امریکا ایرانی خام تیل پر عائد پابندیوں میں مزید نرمی کرتا ہے تو ایران کا تقریباً 7 کروڑ 20 لاکھ بیرل خام تیل بھی عالمی منڈی میں شامل ہو سکتا ہے، جس سے سپلائی میں مزید اضافہ ہوگا۔
    ‎رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران خلیجی تیل پیدا کرنے والے ممالک نے متحدہ عرب امارات اور عمان کے ساحل کے قریب جہاز سے جہاز منتقلی (Ship-to-Ship Transfers) کے ذریعے برآمدات جاری رکھیں، جس کے باعث مشرق وسطیٰ کے خام تیل کی اسپاٹ قیمتوں پر پہلے ہی دباؤ دیکھنے میں آیا۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ ایشیائی ریفائنریوں نے جون سے اگست تک کے لیے بڑی مقدار میں خام تیل کی خریداری پہلے ہی مکمل کر لی ہے، جبکہ ریفائننگ مارجن میں کمزوری کے باعث مستقبل میں نئی خریداری کی رفتار نسبتاً محدود رہ سکتی ہے۔
    ‎اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مکمل طور پر بحال ہو جاتی ہے اور ایران سے متعلق پابندیوں میں مزید نرمی آتی ہے تو عالمی توانائی کی منڈی میں استحکام پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

  • 
انگلینڈ میں شدید گرمی، یوکے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کا ایمبر ہیلتھ الرٹ جاری

    
انگلینڈ میں شدید گرمی، یوکے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کا ایمبر ہیلتھ الرٹ جاری

    ‎لندن: یوکے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی نے انگلینڈ کے مختلف علاقوں میں شدید گرمی کے پیش نظر ایمبر ہیٹ ہیلتھ الرٹ جاری کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق درجہ حرارت میں اضافے کے باعث صحت کے نظام اور سماجی خدمات پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے، جبکہ بزرگ افراد اور پہلے سے مختلف بیماریوں میں مبتلا شہریوں کو خصوصی احتیاط کی ہدایت کی گئی ہے۔
    ‎برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایمبر ہیلتھ الرٹ کا اطلاق لندن، ساؤتھ ایسٹ، ساؤتھ ویسٹ اور ایسٹ آف انگلینڈ میں منگل کی شام 8 بجے تک برقرار رہے گا۔ اس دوران متعلقہ اداروں کو ممکنہ طبی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
    ‎دوسری جانب ویسٹ مڈلینڈز اور ایسٹ مڈلینڈز کے لیے اسی مدت تک یلو ہیٹ ہیلتھ وارننگ جاری کی گئی ہے، جہاں گرمی کی شدت نسبتاً کم ہونے کے باوجود حساس افراد کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
    ‎ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ شدید گرمی خصوصاً عمر رسیدہ افراد، دل، سانس اور دیگر دائمی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، زیادہ سے زیادہ پانی پئیں، ٹھنڈی جگہوں پر رہیں اور ضرورت پڑنے پر فوری طبی امداد حاصل کریں۔
    ‎موسمی پیشگوئی کے مطابق لندن میں پیر کے روز درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ منگل کو 32 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے، جس کے باعث گرمی کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے۔
    ‎برطانوی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور اپنے بزرگ عزیزوں، تنہا رہنے والے افراد اور صحت کے مسائل سے دوچار لوگوں کا خصوصی خیال رکھیں تاکہ شدید گرمی کے منفی اثرات سے محفوظ رہا جا سکے۔

  • 
اسرائیل جنوبی لبنان میں فوجی موجودگی برقرار رکھنے پر قائم

    
اسرائیل جنوبی لبنان میں فوجی موجودگی برقرار رکھنے پر قائم

    ‎تل ابیب: اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کے مؤقف کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر کسی قسم کی پسپائی اختیار کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
    ‎غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے قریبی ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی تعیناتی کے معاملے پر امریکا کے ساتھ سخت اور تفصیلی مذاکرات جاری ہیں۔
    ‎سینئر اسرائیلی عہدیدار کے مطابق اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی فوجی موجودگی کو قومی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتا ہے اور اس معاملے پر اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
    ‎رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت کا مؤقف ہے کہ سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر جنوبی لبنان میں فوجی موجودگی برقرار رکھنا ناگزیر ہے، جبکہ اس حوالے سے امریکا کے ساتھ مختلف سفارتی اور سیکیورٹی امور پر مسلسل رابطے جاری ہیں۔
    ‎دوسری جانب اس معاملے پر خطے کی صورتحال پر عالمی برادری بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ جنوبی لبنان میں فوجی موجودگی کا مسئلہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام سے جڑا ایک اہم معاملہ تصور کیا جاتا ہے۔
    ‎تاحال امریکا یا لبنان کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ مذاکرات کے نتائج پر علاقائی اور بین الاقوامی حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں۔

  • 
لبنان کو امداد نہیں بلکہ سرمایہ کاری درکار ہے، صدر جوزف عون

    
لبنان کو امداد نہیں بلکہ سرمایہ کاری درکار ہے، صدر جوزف عون

    ‎بیروت: لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ ملک کو صرف انسانی امداد کی نہیں بلکہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ معیشت کو مستحکم کیا جا سکے اور عوام کا ریاست پر اعتماد بحال ہو۔
    ‎صدر جوزف عون نے یہ بات قطر، فرانس اور برطانیہ کے وزارتی وفود سے ملاقات کے بعد جاری اپنے بیان میں کہی۔ انہوں نے زور دیا کہ لبنان کا استحکام نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ یورپ کے امن اور سلامتی کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ لبنان میں امن و امان کا قیام پورے خطے کے مفاد میں ہے، اس لیے بین الاقوامی برادری کو ملک کی اقتصادی بحالی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق مضبوط اور مستحکم لبنان خطے میں دیرپا امن کے لیے ناگزیر ہے۔
    ‎صدر عون نے قطر، فرانس اور برطانیہ کی جانب سے لبنان کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے نہ صرف انسانی بنیادوں پر مدد فراہم کی بلکہ لبنانی فوج اور سیکیورٹی اداروں کی معاونت بھی جاری رکھی، جس سے ملکی استحکام میں مدد ملی ہے۔
    ‎انہوں نے واضح کیا کہ لبنان اب صرف امدادی پیکجوں کا خواہاں نہیں بلکہ ایسی سرمایہ کاری چاہتا ہے جو روزگار کے مواقع پیدا کرے، معیشت کو مضبوط بنائے اور پائیدار ترقی کی بنیاد رکھے۔
    ‎جوزف عون کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ایک طرف عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا جائے اور دوسری جانب لبنانی عوام کا اپنے ریاستی اداروں پر اعتماد بھی مضبوط کیا جائے، تاکہ ملک معاشی اور سیاسی استحکام کی جانب بڑھ سکے۔

  • 
ٹرمپ کا ناقدین کو جواب، ایران پر میرا مؤقف سخت ہے

    
ٹرمپ کا ناقدین کو جواب، ایران پر میرا مؤقف سخت ہے

    ‎واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنی پالیسی پر تنقید کرنے والوں کو سخت جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایران کے معاملے پر نرم مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں، وہ یا تو حسد کا شکار ہیں، بدنیتی رکھتے ہیں یا پھر حقیقت سے لاعلم ہیں۔
    ‎میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ نے ایران کے معاملے پر ہمیشہ واضح اور مضبوط مؤقف اپنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کے بیانات زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتے۔
    ‎امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کی اقتصادی پالیسیوں کے مثبت نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی اسٹاک مارکیٹ ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ چکی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی تیزی سے کمی آ رہی ہے، جو معیشت کے لیے خوش آئند پیش رفت ہے۔
    ‎ٹرمپ نے اپنی حکومت کی خارجہ اور معاشی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے مفادات کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا اور ایران سمیت تمام اہم بین الاقوامی معاملات پر قومی مفاد کو ترجیح دی جائے گی۔
    ‎امریکی صدر کے حالیہ بیان کو ایران سے متعلق جاری سفارتی پیش رفت اور خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، جہاں مختلف ممالک کے درمیان مذاکرات اور سفارتی رابطے جاری ہیں۔

  • 
ایرانی وزیر خارجہ کا کویتی ہم منصب سے رابطہ، امریکا ایران معاہدے پر تبادلہ خیال

    
ایرانی وزیر خارجہ کا کویتی ہم منصب سے رابطہ، امریکا ایران معاہدے پر تبادلہ خیال

    ‎تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے کویتی ہم منصب شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے ٹیلیفون پر رابطہ کرکے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (MoU) اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
    ‎عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلیگرام پر جاری اپنے بیان میں بتایا کہ دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی گفتگو میں امریکا ایران معاہدے کے مختلف پہلوؤں اور مشرق وسطیٰ کی تازہ علاقائی پیش رفت پر بات چیت کی گئی۔
    ‎ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران کو امید ہے کہ یہ معاہدہ خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کا باعث بنے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خلیجی ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے اور تعمیری مذاکرات جاری رکھنا ضروری ہے تاکہ موجودہ غلط فہمیوں اور ابہامات کو دور کیا جا سکے۔
    ‎عباس عراقچی کے مطابق ایران خطے کے تمام ممالک کے ساتھ باہمی احترام، اعتماد اور تعاون کی بنیاد پر تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی مسائل کا پائیدار حل صرف سفارت کاری، مذاکرات اور مشترکہ تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
    ‎دونوں وزرائے خارجہ نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے رابطوں کو جاری رکھنے اور باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

  • متحدہ عرب امارات میں سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے کم از کم عمر 15 سال مقرر

    متحدہ عرب امارات میں سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے کم از کم عمر 15 سال مقرر

    متحدہ عرب امارات نے سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے کم از کم عمر 15 سال مقرر کر دی ہے،متحدہ عرب امارات (UAE) نے بچوں کی ڈیجیٹل حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے یہ تاریخی قدم اٹھایا ہے

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فیصلے کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کو ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے یا استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی 15 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی مکمل سہولیات تک رسائی بھی حاصل نہیں ہوگی، جبکہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو صارفین کی عمر کی تصدیق کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد بچوں کو آن لائن خطرات، نامناسب مواد، سائبر بُلنگ اور ڈیجیٹل لت سے محفوظ رکھنا ہے، جبکہ انٹرنیٹ کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینا بھی اس پالیسی کا اہم حصہ ہے متحدہ عرب امارات اس اقدام کے ذریعے بچوں کے ڈیجیٹل تحفظ کے حوالے سے خطے میں ایک نئی مثال قائم کرنے والا پہلا عرب ملک بن گیا ہے،جس کی خلاف ورزی کی صورت میں سخت سزائیں اور بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں-

    واضح رہے کہ اس سے قبل آسٹریلیا میں بھی 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔

  • یوکرین کا روس پر ڈرونز اور میزائل سے بڑا حملہ،  آئل ریفائنری  میں آگ لگ گئی

    یوکرین کا روس پر ڈرونز اور میزائل سے بڑا حملہ، آئل ریفائنری میں آگ لگ گئی

    یوکرین نے ڈرون حملوں کے ذریعے ماسکو کی ایک اہم آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا، جبکہ روس نے بھی یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت مختلف علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

    روسی وزارت دفاع کے مطابق گزشتہ رات یوکرین نے مختلف روسی علاقوں پر سینکڑوں ڈرونز کے ذریعے حملے کیے، وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ روسی فضائی دفاعی نظام نے 555 یوکرینی ڈرونز کو تباہ کیا، جن میں سے تقریباً 200 ڈرون ماسکو کی جانب بڑھ رہے تھے۔

    ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانن نے تصدیق کی کہ متعدد ڈرونز ماسکو کی ایک آئل ریفائنری تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے، جس کے باعث وہاں آگ بھڑک اٹھی،ایک شاپنگ سینٹر کو بھی معمولی نقصان پہنچا ہے یہ ایک ہفتے کے دوران ماسکو کی اس اہم آئل ریفائنری پر دوسرا حملہ ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ریفائنری روسی دارالحکومت کی ایندھن ضروریات کا بڑا حصہ پورا کرتی ہے اور اسے اسٹریٹجک اہمیت حاصل ہے۔

    ادھر ماسکو کے نواحی علاقوں میں بھی ڈرون حملوں کے باعث ایک رہائشی عمارت، صنعتی تنصیبات اور متعدد مکانات کو نقصان پہنچا حملوں کے بعد ماسکو کے مصروف ترین شیرمیتیوو ایئرپورٹ پر پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی گئیں اور مسافروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

    دوسری جانب یوکرین نے الزام لگایا ہے کہ روس نے کیف پر ایک بار پھر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا۔ یوکرینی حکام کے مطابق رات بھر میں 239 ڈرونز اور 7 بیلسٹک میزائل داغے گئے، جن میں سے بیشتر کو فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیا شمال مشرقی یوکرینی شہر سومی میں ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص ہلاک ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

    روس اور یوکرین کے درمیان چار سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ میں حالیہ حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امن مذاکرات کی کوششوں کے باوجود میدان جنگ میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

  • ایران جنگ میں گزشتہ ہفتے بمباری پر پوچھا کون اتنے بم گرا رہا؟جواب ملا یو اے ای،ٹرمپ کا انکشاف

    ایران جنگ میں گزشتہ ہفتے بمباری پر پوچھا کون اتنے بم گرا رہا؟جواب ملا یو اے ای،ٹرمپ کا انکشاف

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کے بارے میں ایک غیر معمولی دعویٰ کرتے ہوئے انہیں بہترین فائٹر قرار دیا-

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کے لیے "جنگجو” اور "ایک اچھا فائٹر” ہونے کے الفاظ استعمال کیے ٹرمپ نے اماراتی صدر کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ اپنے اتحادیوں کی حمایت میں کھڑے رہے ہیں۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ’محمد (امیر متحدہ عرب امارات) ایک ناقابلِ یقین جنگجو ہیں گزشتہ ہفتے وہ بمباری کر رہے تھے میں نے پوچھا کہ آخر اتنے بم کون گرا رہا ہے؟ تو جواب ملا کہ یہ یو اے ای ہے۔ وہ ایک اچھے فائٹر ہیں،ٹرمپ نے شیخ محمد بن زاید کو ایک قابلِ احترام، باصلاحیت اور بہترین وژن رکھنے والا رہنما قرار دیا، انہوں نے اماراتی صدر کو ایک ایسا "جنگجو” کہا جو خطے کے استحکام کے لیے ٹھوس اقدامات کرتا ہے-

    یہ غیر معمولی دعویٰ فرانس میں منعقد ہونے والے جی سیون (G7) سمٹ کے موقع پر ایک پریس بریفنگ کے دوران سامنے آیا، اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے مابین سٹریٹجک شراکت داری اور دفاعی تعلقات انتہائی مستحکم ہیں۔

    ٹرمپ کے اس بیان کے بعد مختلف حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہوگئی ہیں، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ امریکی صدر کا اشارہ کسی مخصوص فوجی کارروائی کی جانب تھا یا انہوں نے یہ بات علامتی انداز میں کہی دوسری جانب تاحال متحدہ عرب امارات کی حکومت کی جانب سے اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اسی طرح ایران کے خلاف کسی حالیہ اماراتی فضائی کارروائی کی بھی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اس بیان کی مزید وضاحت سامنے آتی ہے تو یہ مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی اور علاقائی اتحادوں کے بارے میں اہم سوالات کو جنم دے سکتی ہے۔