Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • سابق گرل فرینڈ کیخلاف سوشل میڈیا مہم پر 16 ماہ قید کی سزا

    سابق گرل فرینڈ کیخلاف سوشل میڈیا مہم پر 16 ماہ قید کی سزا

    برطانیہ کے متنازع ریئلٹی ٹی وی اسٹار اسٹیفن بیئر کو سابق گرل فرینڈ کے خلاف جاری پابندی کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرنے پر 16 ماہ قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ عدالت نے ان پر متاثرہ خاتون سے رابطے کی پابندی کا نیا حکم بھی جاری کیا ہے، جو غیر معینہ مدت تک نافذ رہے گا۔

    36 سالہ اسٹیفن بیئر کو 2016 میں Celebrity Big Brother جیتنے کے بعد شہرت ملی تھی، تاہم بعد ازاں وہ ایک جنسی ویڈیو کو متاثرہ خاتون کی اجازت کے بغیر ریکارڈ کرنے اور اسے آن لائن نشر کرنے کے مقدمے میں سزا یافتہ قرار پائے۔بیئر نے اپنی سابق گرل فرینڈ اسٹار جارجیا ہیریسن کے ساتھ نجی جنسی ویڈیو ان کی اجازت اور علم کے بغیر اپنے اونلی فینز اکاؤنٹ پر شیئر کی تھی۔اس جرم پر انہیں 2023 میں 21 ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی، جبکہ انہیں جنسی جرائم کے مرتکب افراد کے رجسٹر میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ جارجیا ہیریسن کے تحفظ کے لیے پانچ سالہ پابندی کا حکم بھی جاری کیا گیا تھا۔

    اسٹیفن بیئر نے گزشتہ سال مارچ سے جولائی کے دوران سوشل میڈیا پر جارجیا ہیریسن کے خلاف متعدد پوسٹس کیں، حالانکہ عدالتی حکم کے تحت انہیں ایسا کرنے سے واضح طور پر روکا گیا تھا۔استغاثہ کے مطابق بیئر نے فیس بک،انسٹا گرام،یوٹیوب،ٹک ٹاک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر جارجیا ہیریسن کے بارے میں توہین آمیز اور تضحیک آمیز تبصرے کیے، الزامات عائد کیے اور دیگر افراد کو بھی ان کے خلاف تبصرے کرنے کی ترغیب دی۔جارجیا ہیریسن نے پولیس کو اس حوالے سے اسکرین شاٹس اور اسکرین ریکارڈنگز فراہم کیں، جن میں بیئر کی جانب سے کی جانے والی مبینہ پوسٹس اور تبصرے موجود تھے۔

    جمعرات کو ہونے والی سماعت کے دوران اسٹیفن بیئر کو پابندی کے حکم کی خلاف ورزی پر 16 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔عدالتی فیصلے کے بعد بیئر کو فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا۔ انہیں رہائی سے قبل اپنی سزا کا کم از کم نصف حصہ جیل میں گزارنا ہوگا، جبکہ عدالت نے جارجیا ہیریسن سے رابطے پر غیر معینہ مدت کی نئی پابندی بھی عائد کردی ہے۔

    سزا سنائے جانے کے بعد جارجیا ہیریسن نے پولیس کی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ان کی شکایت کو اس وقت سنجیدگی سے لیا جب ان جیسے حالات سے گزرنے والی بہت سی خواتین کو اکثر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس نے اس معاملے کو محض ایک مشہور شخصیت سے متعلق تنازع سمجھنے کے بجائے ایک حقیقی شخص کے خلاف سنگین جرم کے طور پر دیکھا۔ہیریسن کے مطابق پولیس نے شواہد جمع کیے، کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا اور جب پابندی کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوئی تو کارروائی کی۔انہوں نے کہا کہ اگر ہر پولیس فورس اسی انداز میں ایسے مقدمات کو سنجیدگی سے لے تو ہزاروں خواتین خود کو زیادہ محفوظ محسوس کریں گی۔

    جارجیا ہیریسن نے اس مقدمے میں اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کا قانونی حق خود ترک کیا تھا۔ وہ ریئلٹی ٹی وی پروگرامز میں شرکت کے باعث برطانیہ میں معروف ہیں۔نجی ویڈیو ان کی اجازت کے بغیر آن لائن شیئر کیے جانے کے واقعے کے بعد انہوں نے خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد اور آن لائن جنسی استحصال کے خلاف بھرپور مہم بھی چلائی ہے۔یہ مقدمہ اس بات کی ایک نمایاں مثال بن گیا ہے کہ عدالتی پابندیوں کی خلاف ورزی، آن لائن ہراسانی اور کسی فرد کی نجی زندگی سے متعلق مواد کے غیر رضاکارانہ اجرا کو برطانوی قانون میں کس قدر سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔

  • لندن میں پبلک مقامات پر کھڑے ہو کر شراب نوشی محدود کرنے کی تجویز پر تنازع

    لندن میں پبلک مقامات پر کھڑے ہو کر شراب نوشی محدود کرنے کی تجویز پر تنازع

    لندن: برطانوی حکومت کے دفترِ وزیراعظم ڈاؤننگ اسٹریٹ نے ویسٹ منسٹر سٹی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ پب مالکان اور کاروباری افراد کے ساتھ مل کر کام کرے، جبکہ لندن میں پبز کے اندر کھڑے ہو کر شراب نوشی کو محدود کرنے کی مجوزہ پالیسی پر تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔

    ڈاؤننگ اسٹریٹ کے ترجمان نے کہا کہ لوگوں کا پبلک مقامات میں کھڑے ہو کر ایک دوسرے سے بات چیت کرنا "برطانوی زندگی کا حصہ” ہے اور اسے عوامی خلل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ترجمان کے مطابق پب اور نائٹ لائف کا شعبہ ہزاروں ملازمتیں فراہم کرتا ہے، اس لیے مقامی رہنماؤں کو صنعت کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے تاکہ پبز ترقی کرتے رہیں۔

    یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب ویسٹ منسٹر سٹی کونسل نے اپنی شراب لائسنسنگ پالیسی کا مسودہ عوامی مشاورت کے لیے جاری کیا۔ مسودے میں شراب فروخت کرنے والے مقامات پر بیٹھنے کی جگہ بڑھانے اور عمودی شراب نوشی کی حوصلہ شکنی کی تجویز دی گئی ہے۔مسودے میں کہا گیا ہے کہ ایسے مقامات پر زیادہ نشستیں فراہم کی جائیں جہاں لوگ بیٹھ کر شراب نوشی اور کھانا کھا سکیں، جبکہ کھلے بار ایریا میں زیادہ تعداد میں لوگوں کے کھڑے ہو کر شراب پینے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی جائے۔کونسل کے مسودے میں ویسٹ اینڈ کے مخصوص علاقے میں نئے پب، بار، فاسٹ فوڈ یا میوزک وینیو کے لائسنس کو معمول کے طور پر مسترد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس علاقے میں آکسفورڈ اسٹریٹ سے ٹریفلگر اسکوائر تک کا علاقہ، بشمول لیسٹر اسکوائر اور سوہو، شامل ہے۔تاہم ویسٹ منسٹر سٹی کونسل کے کنزرویٹو رہنما پال سوئڈل نے واضح کیا ہے کہ کھڑے ہو کر شراب پینے پر پابندی لگانے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پالیسی ابھی عوامی مشاورت کے مرحلے میں ہے اور عوام کی رائے لینے کا عمل اتوار کو ختم ہوگا۔ انہوں نے میڈیا پر دستاویز کی غلط یا مبہم تشریح کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ویسٹ منسٹر کے کسی پب میں کھڑے ہو کر شراب نوشی پر پابندی لگانے کا نہ کبھی منصوبہ تھا اور نہ ہے۔

    وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے کہا گیا کہ لندن کے میئر کو لائسنسنگ کے نئے اختیارات منتقل کیے جائیں گے تاکہ شہر کے پبز اور نائٹ لائف کو مزید معاونت فراہم کی جا سکے۔ ترجمان نے سوہو کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ جلد آخری آرڈر لینے اور رات 10 بجے لائٹس بند کرنے سے دنیا بھر میں مشہور نہیں ہوا۔برطانوی وزیراعظم نے اس سے قبل بھی پبز کو ملک کی سماجی زندگی اور ہائی اسٹریٹس کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے پبز، کلبز اور لائیو میوزک وینیوز کے لیے کاروباری شرحوں میں 20 فیصد کمی کے منصوبے کا بھی اعلان کیا گیا ہے، جس کا اطلاق اگلے سال اپریل سے متوقع ہے۔

    دوسری جانب کاروباری مالکان نے بھی مجوزہ پالیسی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ سوہو کے ایک وینیو مالک نے کہا کہ موجودہ بلند کرایوں اور کاروباری اخراجات کے باعث ان کا کاروبار ان صارفین پر بھی انحصار کرتا ہے جو پب میں کھڑے ہو کر مشروب نوش کرتے ہیں۔کنزرویٹو پارٹی کے ترجمان نے بھی کھڑے ہو کر ہاتھ میں مشروب لے کر پب کے اندر یا باہر موجود رہنے کو برطانوی روایت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویسٹ منسٹر سٹی کونسل کو رات کی معیشت اور مقامی رہائشیوں کے خدشات کے درمیان توازن قائم کرنا چاہیے۔

    لندن کے میئر صادق خان نے بھی ان تجاویز پر تنقید کی ہے، جس کے جواب میں ویسٹ منسٹر کونسل کے رہنما نے کہا کہ شہر کے عالمی شہرت یافتہ نائٹ لائف ڈسٹرکٹ کو چلانے کے لیے ضرورت سے زیادہ پابندیوں کی سوچ مناسب نہیں۔ ان کے مطابق انتظامیہ کی ترجیح معاشی ترقی اور ہاسپیٹیلٹی سیکٹر کی حمایت ہے، نہ کہ کاروبار کے لیے مزید مشکلات پیدا کرنا۔

  • تھائی لینڈ میں اسکول فائرنگ، 3 طلبہ اور 3 اساتذہ سمیت 6 افراد ہلاک، 15 زخمی

    تھائی لینڈ میں اسکول فائرنگ، 3 طلبہ اور 3 اساتذہ سمیت 6 افراد ہلاک، 15 زخمی

    تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک کے قریب ایک سیکنڈری اسکول میں طالب علم کی فائرنگ کے نتیجے میں 3 طلبہ اور 3 اساتذہ سمیت کم از کم 6 افراد ہلاک جبکہ 15 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

    فائرنگ کا واقعہ جمعہ کی صبح نونتھابوری صوبے کے ضلع بنگ کروئی میں واقع دیبسیرین نونتھابوری اسکول میں پیش آیا، جہاں تقریباً 3 ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ اسکول ایک مصروف شاہراہ کے قریب واقع ہے۔پولیس ترجمان لیفٹیننٹ جنرل تریرونگ فیوپھن کے مطابق مشتبہ حملہ آور بھی شدید زخمی ہوا ہے اور اس کی حالت تشویشناک ہے، ڈاکٹروں کی جانب سے اسے ہنگامی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔فائرنگ کے دوران اسکول میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ اندر موجود طلبہ نے اپنی جانیں بچانے کے لیے ڈیسکوں کے نیچے پناہ لی اور گولیوں کی آوازیں سن کر روتے رہے۔سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں طلبہ کو کلاس رومز میں زمین پر بیٹھے اور ایک دوسرے کے قریب سمٹے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ایک اور ویڈیو میں طلبہ کو اسکول سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا گیا، جہاں ایک اسٹاف رکن ان کے انخلا میں مدد کر رہا تھا۔

    ایک 18 سالہ طالب علم نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ابتدا میں اسے لگا کہ شاید پٹاخے چل رہے ہیں۔ اس کے مطابق فائرنگ کی آوازیں تیزی سے آنے لگیں اور مسلسل ’’بینگ، بینگ، بینگ‘‘ کی آوازیں سنائی دینے لگیں، پھر کچھ دیر خاموشی کے بعد دوبارہ فائرنگ شروع ہوگئی۔پولیس کے مطابق مشتبہ حملہ آور کے دادا اور دادی بھی اس گھر میں مردہ پائے گئے جہاں وہ ان کے ساتھ رہتا تھا۔ پولیس کا ابتدائی خیال ہے کہ دونوں کو اسکول میں فائرنگ سے قبل ہی قتل کیا گیا تھا۔پولیس ترجمان کے مطابق حملہ آور اپنے والدین کے بجائے دیگر بالغ رشتہ داروں کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔پولیس نے اسکول کے اندر سے ایک پستول اور متعدد گولیاں بھی برآمد کی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق اسلحہ خاندان کے ایک فرد کی ملکیت تھا تاہم ابھی یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ مشتبہ طالب علم نے اس تک رسائی کیسے حاصل کی۔

    فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں، ایمبولینسیں اور طبی عملہ اسکول پہنچ گیا۔ ایک ریسکیو اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ جائے وقوعہ پر پہنچنے کے وقت صورتحال ’’مکمل افراتفری‘‘ کا شکار تھی۔امدادی کارکنوں نے ایسے طلبہ کو فوری طبی امداد فراہم کی جنہیں کمر، سینے اور بازوؤں پر گولیاں لگی تھیں۔ زخمیوں کو اسٹریچرز کے ذریعے ایمبولینسوں تک منتقل کیا گیا اور مختلف اسپتالوں میں پہنچایا گیا۔تھائی لینڈ کے سینٹرل انویسٹی گیشن بیورو نے تصدیق کی ہے کہ صورتحال اب قابو میں ہے۔

    تھائی لینڈ میں شہریوں کے پاس اسلحے کی تعداد جنوب مشرقی ایشیا کے کئی دیگر ممالک کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں قائم سمال آرمز سروے کے 2017 کے اعداد و شمار کے مطابق تھائی شہریوں کے پاس ایک کروڑ 30 لاکھ سے زائد غیر فوجی ہتھیار موجود تھے، یعنی ہر 100 افراد کے لیے تقریباً 15 ہتھیار۔یونیورسٹی آف واشنگٹن کے انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ میٹرکس اینڈ ایویلیوایشن کے 2019 گلوبل برڈن آف ڈیزیز ڈیٹا کے مطابق فلپائن کے بعد تھائی لینڈ میں جنوب مشرقی ایشیا میں فائرنگ سے ہونے والی ہلاکتوں کی شرح نمایاں ہے۔

    تھائی لینڈ میں اسکولوں میں فائرنگ کے واقعات اس سے قبل بھی پیش آچکے ہیں۔ رواں سال فروری میں جنوبی تھائی لینڈ کے ہاٹ یائی ضلع میں ایک مسلح شخص کی اسکول میں فائرنگ سے ایک استاد ہلاک اور ایک طالب علم زخمی ہوا تھا۔اکتوبر 2022 میں تھائی لینڈ کے شمال مشرقی علاقے میں ایک ڈے کیئر سینٹر پر مسلح شخص کے حملے میں 36 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں 24 بچے شامل تھے۔ یہ واقعہ ملک میں اپنی نوعیت کے مہلک ترین واقعات میں شمار ہوتا ہے۔حکام نے موجودہ واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مشتبہ نے ہتھیار کیسے حاصل کیا، اس نے اپنے خاندان کے افراد کو کیوں نشانہ بنایا اور اسکول میں فائرنگ کے پیچھے اصل محرکات کیا تھے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب پہنچ گئے

    وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب پہنچ گئے

    ‎وزیراعظم محمد شہباز شریف دو روزہ سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے، جہاں جدہ ایئرپورٹ پر سعودی حکام اور پاکستان کے سفیر نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ وزیراعظم کے ہمراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت اعلیٰ سطح کا پاکستانی وفد بھی موجود ہے۔
    ‎دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف آج سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے اہم ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات، دوطرفہ تعاون، سرمایہ کاری کے فروغ، اقتصادی شراکت داری اور باہمی دلچسپی کے علاقائی و بین الاقوامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال متوقع ہے۔
    ‎سرکاری ذرائع کے مطابق دونوں رہنما تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، دفاعی تعاون اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر بھی گفتگو کریں گے۔ ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔
    ‎وزیراعظم اپنے دورے کے دوران عمرہ کی سعادت بھی حاصل کریں گے اور مدینہ منورہ جا کر مسجد نبوی ﷺ میں حاضری دیں گے۔
    ‎یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری اور علاقائی استحکام کے حوالے سے روابط میں مسلسل پیش رفت دیکھنے میں آ رہی ہے، جسے دونوں ممالک کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

  • ‎بھارت: اولڈ ایج ہوم میں والد کا انتقال، تینوں بیٹیاں آخری رسومات میں بھی نہ پہنچیں

    ‎بھارت: اولڈ ایج ہوم میں والد کا انتقال، تینوں بیٹیاں آخری رسومات میں بھی نہ پہنچیں

    ‎بھارتی ریاست ہریانہ کے ضلع سونی پت میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں سابق ٹیکسٹائل تاجر شیوچرن رام رتن گپتا اولڈ ایج ہوم میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، مگر ان کی تینوں بیٹیاں آخری دیدار اور آخری رسومات میں شرکت کے لیے بھی نہ پہنچ سکیں۔
    ‎بھارتی میڈیا کے مطابق شیوچرن گپتا اپنی اہلیہ مینا کے ساتھ تقریباً دو برس قبل اولڈ ایج ہوم منتقل ہوئے تھے۔ بعد ازاں ان کی اہلیہ انتقال کر گئیں جبکہ شیوچرن گپتا بیماری کے باعث وہیں مقیم رہے۔ اولڈ ایج ہوم انتظامیہ کے مطابق وہ منگل کی صبح تقریباً ساڑھے تین بجے انتقال کر گئے۔
    ‎انتظامیہ نے فوری طور پر ان کی تینوں بیٹیوں کو اطلاع دی اور سونی پت آ کر آخری رسومات میں شرکت کی درخواست کی، تاہم مختلف وجوہات بیان کرتے ہوئے کسی نے بھی آنے سے معذرت کر لی۔ بعد ازاں اولڈ ایج ہوم کے عملے اور مقامی شہریوں نے ان کی آخری رسومات ادا کیں، جبکہ بیٹیاں نیپال، اتر پردیش اور ممبئی سے ویڈیو کال کے ذریعے یہ مناظر دیکھتی رہیں۔
    ‎اولڈ ایج ہوم کے منتظم آنند کمار نے بتایا کہ مرحوم اکثر اپنے موبائل فون پر بیٹیوں سے رابطے میں رہتے تھے، لیکن بیماری بڑھنے کے بعد گفتگو کا سلسلہ کم ہو گیا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تقریباً 20 روز قبل اہل خانہ کو ان کی بگڑتی ہوئی صحت سے بھی آگاہ کیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود کوئی ملاقات کے لیے نہیں آیا۔
    ‎رپورٹ کے مطابق بڑی بیٹی، جو نیپال میں بطور ٹیچر خدمات انجام دے رہی ہیں، نے آخری رسومات کے اخراجات کے لیے آن لائن صرف 5 ہزار 100 بھارتی روپے بھیجے اور انتظامیہ سے تمام مذہبی رسومات مکمل کرنے کی درخواست کی۔ آخری رسومات کے بعد بیٹیوں نے ویڈیوز بھی بھجوانے کا کہا۔ ویڈیو کال کے دوران ایک بیٹی کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا گیا کہ "ابھی کتنا وقت لگے گا؟ ہمیں کھانا بھی کھانا ہے اور نہانا بھی ہے۔”
    ‎اولڈ ایج ہوم انتظامیہ نے بتایا کہ شیوچرن گپتا نے اپنی پوری زندگی بیٹیوں کی تعلیم، تربیت اور بہتر مستقبل کے لیے وقف کی۔ ان کی دو بیٹیاں تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ انتقال کے بعد مرحوم کی آنکھیں عطیہ کر دی گئیں، جن سے دو افراد کی بینائی بحال ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔

  • ‎حوثیوں کا یمن میں سعودی فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ

    ‎حوثیوں کا یمن میں سعودی فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ

    ‎یمن کے حوثی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے مارب اور حضرموت کے علاقوں میں سعودی فوجی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔ حوثی ترجمان کے مطابق حملوں میں سعودی اتحادی افواج کے فوجی کیمپ، اسلحہ کے گودام اور فوجی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
    ‎حوثیوں کے ترجمان نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں سعودی اتحادی افواج کے سینکڑوں اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ حملے منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے اور ان کا ہدف فوجی تنصیبات اور عسکری سازوسامان تھا۔
    ‎تاہم سعودی حکام نے اب تک حوثیوں کے ان دعوؤں کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی حملوں کے حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل جاری کیا ہے۔ آزاد ذرائع سے بھی ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
    ‎یاد رہے کہ یمن میں کئی برسوں سے جاری تنازع کے دوران حوثی گروپ متعدد بار سعودی عرب اور اتحادی افواج پر میزائل اور ڈرون حملوں کے دعوے کرتا رہا ہے، جبکہ سعودی حکام اکثر ایسے حملوں کو ناکام بنانے یا ان کی شدت کم ہونے کا مؤقف اختیار کرتے ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ان حملوں کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ خطے میں سیکیورٹی صورتحال اور یمن تنازع کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے، تاہم موجودہ مرحلے پر تمام دعوے آزادانہ طور پر تصدیق طلب ہیں۔

  • ‎ٹرمپ کا ایران سے معاہدے کی خواہش کا اظہار، کہا جنگ نہیں امن چاہتے ہیں

    ‎ٹرمپ کا ایران سے معاہدے کی خواہش کا اظہار، کہا جنگ نہیں امن چاہتے ہیں

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کی خواہش ہے کہ مزید خونریزی نہ ہو اور مسائل کا حل سفارت کاری کے ذریعے نکالا جائے۔
    ‎لاس ویگاس میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے اور ان کی اولین ترجیح جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے تنازع کا حل تلاش کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوگوں کو مرتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے، اسی لیے ایران کے ساتھ ایک قابل قبول معاہدے تک پہنچنے کے خواہاں ہیں۔
    ‎ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ایک انتہائی بڑے فوجی حملے کی تیاری مکمل کر لی تھی، جو گزشتہ ماہ کیے گئے حملوں سے بھی زیادہ شدید ہوتا۔ تاہم ان کے بقول ایرانی حکام نے رابطہ کر کے حملہ نہ کرنے کی درخواست کی اور مذاکرات جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی۔
    ‎امریکی صدر نے کہا کہ سفارتی کوششیں جاری ہیں اور انہیں امید ہے کہ آبنائے ہرمز بھی جلد عالمی بحری آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھول دی جائے گی، جس سے خطے میں کشیدگی میں کمی اور عالمی تجارت کو استحکام ملے گا۔
    ‎انہوں نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کسی بھی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے، تاہم قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
    ‎ٹرمپ نے ایران پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا مذاکرات میں احترام کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، لیکن ان کے مطابق ایران ماضی میں کئی مواقع پر اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹتا رہا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ جاری مذاکرات مثبت نتائج دیں گے اور خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہوگی۔

  • گوگل اسسٹنٹ کا سفر ختم، 4 ستمبر سے جیمنائی تمام اینڈرائیڈ ڈیوائسز پر دستیاب ہوگا

    گوگل اسسٹنٹ کا سفر ختم، 4 ستمبر سے جیمنائی تمام اینڈرائیڈ ڈیوائسز پر دستیاب ہوگا

    ‎ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے اپنے مقبول ورچوئل اسسٹنٹ گوگل اسسٹنٹ کو مستقل طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق 3 ستمبر 2026 گوگل اسسٹنٹ کی سروس کا آخری دن ہوگا، جبکہ 4 ستمبر سے اسے تمام اینڈرائیڈ ڈیوائسز سے ہٹا کر اس کی جگہ جدید مصنوعی ذہانت پر مبنی جیمنائی فراہم کیا جائے گا۔
    ‎گوگل اسسٹنٹ کئی برسوں سے اینڈرائیڈ اسمارٹ فونز، ٹیبلیٹس، اسمارٹ واچز اور دیگر وئیر ایبل ڈیوائسز میں صارفین کی آواز کے ذریعے مختلف کام انجام دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ اب کمپنی نے نئی اے آئی ٹیکنالوجی کو متعارف کراتے ہوئے اس سروس کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
    ‎گوگل کے مطابق جیمنائی ایک جدید ملٹی موڈل مصنوعی ذہانت کا اسسٹنٹ ہے، جو صرف عام وائس کمانڈز تک محدود نہیں بلکہ پیچیدہ سوالات کے جواب دینے، تحریر تیار کرنے، تصاویر کا تجزیہ کرنے، معلومات فراہم کرنے اور متعدد جدید کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    ‎صارفین جیمنائی کو ٹیکسٹ، آواز اور تصاویر کے ذریعے ہدایات دے سکیں گے۔ اس کے علاوہ اسے پہلے کی طرح "Hey Google” وائس کمانڈ کے ذریعے بھی فعال کیا جا سکے گا، جس سے نئے پلیٹ فارم پر منتقل ہونے والے صارفین کو زیادہ آسانی ہوگی۔
    ‎گوگل نے صارفین کو ای میل کے ذریعے بھی آگاہ کرنا شروع کر دیا ہے کہ 4 ستمبر 2026 سے گوگل اسسٹنٹ کی خدمات مکمل طور پر بند ہو جائیں گی۔ کمپنی نے مشورہ دیا ہے کہ صارفین بروقت جیمنائی پر منتقل ہو جائیں تاکہ انہیں کسی قسم کی سروس میں رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
    ‎واضح رہے کہ گوگل اسسٹنٹ پہلی بار مئی 2016 میں گوگل کی میسجنگ ایپ ایلو کے ساتھ متعارف کرایا گیا تھا۔ بعد ازاں اسے اینڈرائیڈ اور دیگر گوگل ڈیوائسز کا اہم حصہ بنا دیا گیا۔ اب تقریباً ایک دہائی بعد گوگل اپنی مصنوعی ذہانت کی نئی حکمت عملی کے تحت جیمنائی کو مرکزی اے آئی اسسٹنٹ کے طور پر متعارف کرا رہا ہے، جس سے صارفین کو زیادہ جدید اور بہتر تجربہ فراہم کرنے کی توقع ہے۔

  • 2030 تک سونا 10 ہزار ڈالر فی اونس تک جا سکتا ہے

    2030 تک سونا 10 ہزار ڈالر فی اونس تک جا سکتا ہے

    ‎عالمی سطح پر سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ جاری ہے، جبکہ مالیاتی ماہرین نے پیشگوئی کی ہے کہ اگر موجودہ عالمی معاشی اور جغرافیائی سیاسی رجحانات برقرار رہے تو 2030 تک سونے اور چاندی کی قیمتیں نئی تاریخی بلندیاں چھو سکتی ہیں۔
    ‎سونا طویل عرصے سے محفوظ سرمایہ کاری تصور کیا جاتا ہے، خاص طور پر ایسے ادوار میں جب عالمی معیشت غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو۔ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، تاہم حالیہ ہفتوں میں اس کی قیمت میں معمول کے اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے۔ چاندی کی قیمتیں بھی اضافے کے بعد اب کچھ حد تک نیچے آئی ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، عالمی معاشی خدشات اور سرمایہ کاروں کا محفوظ اثاثوں کی جانب بڑھتا رجحان سونے اور چاندی کی طلب میں اضافے کی اہم وجوہات ہیں۔ یہی عوامل مستقبل میں بھی ان قیمتی دھاتوں کی قیمتوں کو مزید اوپر لے جا سکتے ہیں۔
    ‎غیر ملکی مالیاتی ویب سائٹس سے وابستہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو سونے کی قیمت آئندہ برس ہی نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ سکتی ہے اور فی اونس قیمت 7 ہزار ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق 2030 کی ابتدائی دہائی تک سونے کی عالمی قیمت 10 ہزار ڈالر فی اونس جبکہ چاندی کی قیمت 300 ڈالر فی اونس سے زیادہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    ‎ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اگر امریکا کو مالیاتی دباؤ، خصوصاً سوشل سیکیورٹی فنڈ سے متعلق مسائل کا سامنا کرنا پڑا تو سونے اور چاندی کی قیمتیں موجودہ اندازوں سے بھی زیادہ بڑھ سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں قیمتی دھاتوں کی کان کنی سے وابستہ کمپنیوں کے حصص کی قدر میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
    ‎اس وقت عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت تقریباً 4,268 ڈالر فی اونس ہے جبکہ پاکستان میں فی تولہ سونا 4 لاکھ 49 ہزار 236 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ اگر مستقبل میں سونے کی عالمی قیمت 10 ہزار ڈالر فی اونس تک پہنچتی ہے تو موجودہ شرح مبادلہ کے مطابق پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت 10 لاکھ 52 ہزار روپے سے تجاوز کر سکتی ہے۔
    ‎تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ صرف مالیاتی تجزیوں اور موجودہ رجحانات پر مبنی پیشگوئیاں ہیں، جن کی کوئی حتمی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ عالمی سیاسی حالات، معاشی پالیسیوں اور مالیاتی منڈیوں میں آنے والی تبدیلیاں ان اندازوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔

  • سوشل میڈیا انفلوئنسرلائیو اسٹریمنگ کے دوران  قتل

    سوشل میڈیا انفلوئنسرلائیو اسٹریمنگ کے دوران قتل

    میکسیکو کے معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر سیزر گاسٹیلم کو ریاست سینالوا کے شہر کولیاکان میں لائیو اسٹریمنگ کے دوران گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔

    رپورٹس کے مطابق سیزر گاسٹیلم دو دوستوں کے ساتھ ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کے باہر ویڈیو بنا رہے تھے اور تینوں نے فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز جیسی نارنجی جیکٹس اور بیگ پہن رکھے تھےاسی دوران موٹرسائیکل پر سوار دو افراد وہاں پہنچے جن میں سے ایک نے قریب آکر سیزر پر فائرنگ کی، جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

    میکسیکو کے سیکیورٹی کابینہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ گاسٹیلم کی بعض سوشل میڈیا پوسٹس کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جن میں مبینہ طور پر ایک مجرمانہ گروہ کے دھڑے کا ذکر موجود تھا، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی مدد سے حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    ریاست سینالوا کا دارالحکومت کولیاکان منظم جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان جاری خونریز تصادم کے باعث سیکیورٹی کی صورتحال پہلے ہی انتہائی خراب ہےیہ قتل گزشتہ برس میکسیکن بیوٹی انفلوئنسر ویلیریا مارکیز کے قتل کی یاد بھی تازہ کرتا ہے، جنہیں بھی ٹک ٹاک پر لائیو ویڈیو کے دوران ان کے سیلون میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا بعد ازاں حکام نے ایک مبینہ کارٹیل رہنما کو گرفتار کیا، جسے اس قتل سمیت متعدد سنگین جرائم میں ملوث قرار دیا گیا۔

    سیزر گاسٹیلم کے قتل نے ایک بار پھر میکسیکو میں سوشل میڈیا شخصیات کی سیکیورٹی اور منظم جرائم کے بڑھتے ہوئے خطرات پر تشویش بڑھا دی ہے،سیزر گاسٹیلم کے ٹک ٹاک پر تقریباً 6 لاکھ فالوورز تھے اور وہ مزاحیہ ویڈیوز کی وجہ سے خاصی شہرت رکھتے تھے۔