Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • پاکستان ہائی کمیشن سنگاپور میں پہلی پاکستانی مینگو فیسٹیول کا انعقاد

    پاکستان ہائی کمیشن سنگاپور میں پہلی پاکستانی مینگو فیسٹیول کا انعقاد

    سنگاپور میں پاکستان ہائی کمیشن کے زیر اہتمام پہلی بار پاکستانی مینگو فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد پاکستانی آموں کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ثقافت، روایات، مہمان نوازی اور زرعی مصنوعات کو اجاگر کرنا تھا۔

    پاکستانی مینگو فیسٹیول پاکستان اور سنگاپور کے درمیان سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل ہونے کی تقریبات کا حصہ تھا۔ سنگاپور کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور ذوالقرنین عبدالرحیم فیسٹیول کے مہمانِ خصوصی تھے۔فیسٹیول میں پاکستان کے معروف آموں کی اقسام چونسہ اور سنسیشن پیش کی گئیں۔ پاکستانی آموں کے بہترین ذائقے، خوشبو، ساخت اور معیار نے فیسٹیول میں شریک مہمانوں کو بے حد متاثر کیا۔پاکستانی ہائی کمشنر رابعہ شفیق نے پاکستانی آموں کے بے مثال ذائقے اور اعلیٰ معیار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مینگو فیسٹیول کا مقصد سنگاپور کے عوام کو پاکستان کی ثقافت، تنوع اور مہمان نوازی سے متعارف کرانا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی مینگو فیسٹیول پاکستان کی ثقافت، تجارت اور کھانوں کا خوبصورت امتزاج ہے، جبکہ ایسے پروگرام دونوں ممالک کے عوام کو مزید قریب لانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    فیسٹیول میں سنگاپور کے حکام، سفارت کاروں، کاروباری شخصیات، میڈیا نمائندگان اور پاکستانی و سنگاپوری کمیونٹی کے افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر پاکستانی آموں کے ذائقے اور معیار کے ساتھ ساتھ پاکستان کی زرعی پیداوار اور برآمدی صلاحیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔مینگوفیسٹیول کے ذریعے پاکستانی زرعی مصنوعات کو سنگاپور کی مارکیٹ میں متعارف کرانے کے امکانات نمایاں ہوئے جبکہ پاکستانی آموں کی سنگاپور کو برآمدات میں اضافے اور دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کو مزید فروغ دینے کے مواقع پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔تقریب میں پاکستان کے خوبصورت مناظر، سیاحتی مقامات اور ثقافتی ورثے پر مبنی مختصر فلم ’’سلام پاکستان‘‘ بھی پیش کی گئی، جس نے شرکاء کو پاکستان کی قدرتی خوبصورتی اور ثقافتی تنوع سے روشناس کرایا۔تقریب کے اختتام پر پاکستان اور سنگاپور کے درمیان سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل ہونے کی خوشی میں کیک بھی کاٹا گیا۔ پاکستانی مینگو فیسٹیول دونوں ممالک کے درمیان چھ دہائیوں پر محیط دوستی، تعاون اور شراکت داری کے جشن کا مظہر بن گیا۔

  • منی پور تباہی کے دہانے پر ، نسلی محاصرہ ، ریاستی بے حسی اور داخلی سلامتی کا ناکام نظام

    منی پور تباہی کے دہانے پر ، نسلی محاصرہ ، ریاستی بے حسی اور داخلی سلامتی کا ناکام نظام

    سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی شورش زدہ ریاست منی پور مسلسل نسلی تشدد کی آگ میں جل رہی ہے جبکہ نریندر مودی ”ترقی یافتہ بھارت“ اور شمال مشرقی ریاستوں میں تاریخی امن کے دعوے کرتے نہیں تھکتے۔

    خبررساں ادارے کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ منی پور میں 58,000 سے زائد افراد آج بھی خستہ حال امدادی کیمپوں میں بے گھر اور بے یقینی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ، ہزاروں مکانات تباہ ہو چکے ہیں ، جبکہ متاثرہ خاندانوں کی بحالی بدستور محض سرکاری وعدوں تک محدود ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ انصاف ایک مذاق بن چکا ہے ، کیونکہ 2023ء کے نسلی قتل و غارت سے متعلق 3,000 سے زائد مقدمات درج ہونے کے باوجود صرف معمولی تعداد میں چالان عدالتوں میں پیش کیے گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں نے کہاکہ بھارت کی مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے جوابدہی کو غیر ضروری بوجھ سمجھ کر نظرانداز کیا ، یہاں تک کہ سپریم کورٹ کو خصوصی عدالتوں کے قیام اور تحقیقات تیز کرنے کی ہدایات جاری کرنا پڑیں۔ ناگا اور کوکی برادریوں کے درمیان تازہ خونریزی نے ایک مرتبہ پھر حکومت کی مجرمانہ غفلت ، سیاسی بے حسی اور انتظامی ناکامی کو بے نقاب کر دیا ہے۔مئی 2026ء کے حملے میں تین کوکی زو چرچ رہنماؤں کی ہلاکت اور بعدازاں چھ ناگا شہریوں کے اغواء ، قتل اور ان کی لاشوں کو مسخ کیے جانے کے بعد ناگا گروہوں نے سخت اقتصادی ناکہ بندی نافذ کر دی۔ ناکہ بندی کے باعث کوکی علاقوں میں خوراک ، ایندھن اور دیگر بنیادی اشیائے ضروریہ کی ترسیل تقریباً ختم ہو گئی۔ چاول ، ایل پی جی اور روزمرّہ استعمال کی دیگر اشیاء کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوا، مگر حکومت عملی اقدامات کے بجائے خاموش تماشائی بنی رہی۔ جولائی کے آخری دنوں میں کوکی زو گروہوں نے جوابی اقدام کرتے ہوئے قومی شاہراہ پر جوابی ناکہ بندی نافذ کر دی۔ 2 اگست کو اوکھرول کی کوکی سول سوسائٹی تنظیم نے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کی رسد کی امتیازی بندش فوری ختم کی جائے ، بصورتِ دیگر 5 اگست سے مکمل ہڑتال کی جائے گی۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق مودی حکومت کا ردِعمل محض ایس او پیز کا جائزہ لینے اور پولیس کمانڈوز کی دوبارہ تعیناتی پر غور کرنے تک محدود رہا۔ یہی کھوکھلی کاغذی کارروائی ، رسمی اجلاس اور بے نتیجہ سرکاری بیانات 2023ء سے جاری اس بحران کی مستقل پہچان بن چکے ہیں۔ بھارتی فورسز اور دیگر ایجنسیاں کئی عسکریت پسندوں ، ایک اسلحہ فروش سمیت چند گرفتاریوں اور جولائی میں کئی عسکریت پسندوں کے ہتھیار ڈالنے کو بڑی کامیابی بنا کر پیش کرتی ہیں لیکن یہ نمائشی اقدامات تین برس کی ناکامیوں کو چھپا نہیں سکتے۔ آسام رائفلز پر وقفے وقفے سے ہونے والے حملے ، سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے اہلکاروں کا زخمی ہونا اور ایک مقامی رضاکار کی ہلاکت ثابت کرتی ہے کہ تشدد کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ جولائی کے آخری دنوں میں خود بھارتی فوج کے سربراہ نے منی پور کا دورہ کیا ، سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا، اہلکاروں سے ملاقات کی اور مزید چوکسی کی تلقین کی۔ یہ دورہ بھی ایک اور اعلیٰ سطحی نمائشی سرگرمی ، ایک اور رسمی جائزہ اور کھوکھلی ہدایات کا مجموعہ ثابت ہوا، جبکہ زمینی صورتحال میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آ سکی۔انڈیا پوسٹ کو سیکیورٹی خدشات کے باعث متعدد ڈاک کے راستے معطل کرنا پڑے ، جو ریاستی نظم و نسق کی سنگین ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔

    اُدھر چوراچندپور میں اچانک آنے والے سیلاب نے پہلے سے بے گھر اور مشکلات میں گھرے عوام کے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا۔ نیا وزیر اعلیٰ دورے کرتا ، اجلاس منعقد کرتا ، انسدادِ منشیات مہمات شروع کرتا اور امن کے دعوے دہراتا رہا ہے ، جبکہ کابینہ کی توسیع بدستور تعطل کا شکار اور مختلف برادریوں کو ملانے والی سڑکیں بند ہیں۔ یہ صورتحال محض انتظامی نااہلی نہیں بلکہ ایک ایسی حکومت کی دانستہ سیاسی ترجیحات کا نتیجہ ہے جو انسانی جانوں کے تحفظ پر سیاسی مفادات اور اقتدار کے حصول کو فوقیت دیتی ہے۔ صدر راج نافذ ہوا اور ختم بھی ہو گیا، مگر منی پور کے عوام کی حالت میں کوئی بنیادی تبدیلی نہ آ سکی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت دوبارہ قائم ہو گئی ، لیکن نسلی تقسیم ، عدم تحفظ اور انسانی مصائب بدستور برقرار رہیں۔ مختلف برادریاں آج بھی ایک دوسرے سے کٹی ہوئی ہیں ، شاہراہوں کو اقتصادی جنگ اور دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور بے گھر شہری ریاستی بے حسی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔ مودی کا بھارت دنیا کو جمہوریت ، امن اور اچھی حکمرانی کا درس دیتا پھرتا ہے ، لیکن اپنی ہی ایک ریاست کو نسلی محاصروں ، امدادی کیمپوں ، معاشی ناکہ بندیوں اور مسلسل خونریزی میں سڑنے کے لیے چھوڑ چکا ہے۔ منی پور محض امن و امان کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک ایسے حکومتی نظام کے خلاف اخلاقی فردِجرم ہے جو شمال مشرقی عوام کی خونریزی ، نقل مکانی اور دیگر مشکلات پر مسلسل آنکھیں بند کیے ہوئے ہے

  • 2025  میں بھارتی پیراملٹری ”سی آر پی ایف“ کے 59 اہلکاروں کی خودکشی

    2025 میں بھارتی پیراملٹری ”سی آر پی ایف“ کے 59 اہلکاروں کی خودکشی

    سال 2025ء کے دوران بھارتی پیراملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے کم از کم 59 اہلکاروں نے خودکشی کی جو گزشتہ پانچ برسوں میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔

    خبررساں ادارے کے مطابق ، 2021-2025 کی مدت کے سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ایسی اموات میں سے 77 فیصد سے زائد اس وقت ہوئیں جب اہلکار ڈیوٹی پر تھے۔ پانچ سال کے دوران خودکشی کے 262 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں سے 202 واقعات ڈیوٹی کے دوران پیش آئے جبکہ باقی اس وقت پیش آئے جب اہلکار چھٹی پر تھے۔اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 2025ء میں 59 سی آر پی ایف اہلکاروں نے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا، جبکہ 2024ء میں یہ تعداد 46 ، 2023ء میں 57 ، 2022ء میں 43 اور 2021ء میں 57 تھی۔رواں برس ”سی آر پی ایف “ حوالدار 56 سباش پرساد نے اڈیشہ کے سندر گڑھ ضلع میں واقعے اپنے کیمپ میں خود کو گولی مار کر خودکشی کی۔ ایک اور واقعے میں ، سی آر پی ایف اہلکار امریندر رے نے راجستھان کے کوٹا جنکشن ریلوے اسٹیشن پر خودکشی کی۔ اس کے علاؤہ سی آر پی ایف کی 80ویں بٹالین کے پردیپ کمار کلستے نے چھتیس گڑھ کے جگدل پور علاقے میں نئے بس اسٹینڈ کے قریب پھندا لگا کر خودکشی کی۔

    سی آر پی ایف کے افسران نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ خودکشی کے زیادہ تر واقعات ذاتی اور خاندانی مسائل سے جڑے ہوئے ہیں۔انہوںنے کہا کہ سی آر پی ایف اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد مقبوضہ جموں کشمیر اور شمال مشرقی ریاستوں میں تعینات ہے جہاں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہے

  • مودی دور میں بھارتی مسلمانوں کی وفاداری مشکوک،زندگیاں داؤ پر

    مودی دور میں بھارتی مسلمانوں کی وفاداری مشکوک،زندگیاں داؤ پر

    قائداعظم کا فرمان سچ ثابت ہوگیا : بھارت کے مسلمانوں کو بار بار اپنی وفاداری ثابت کرنا پڑ گئی

    مودی سرکار نے بھارت میں بسنےوالےمسلمانوں کی وفاداری کو مشکوک بنا کرکئی زندگیوں کو داو پرلگا دیا،ہندوانتہا پسندی کےغلبہ کیلئےقائم مودی حکومت نے اپنا اقتدارمضبوط کرنےکیلئے مسلمانوں پرزندگی تنگ کردی،ہندوتوا راج میں بھارتی مسلمانوں کاجینامحال، تعلیم جیسے بنیادی حق سے بھی محروم کیا جانے لگا،بھارتی جریدے نیشنل ہیرالڈ کے مطابق مسلمان طالبہ فرح ناز نے بتایا کہ؛جنترمنترمیں احتجاج کےدوران بھارتی پولیس نے تشدد کیا اورمسلمان ہونے کی وجہ سےکئی گھنٹے گاڑی میں بٹھا کر رکھا،پولیس نے کہا کہ تمہاری اور دوسرے مسلمان مظاہرین کی الگ لسٹ بنے گی کیونکہ تم غدار ہو ،بھارتی مسلمان طالبہ فرح ناز نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر بھی ہمیں غدار کہہ کر ٹارگٹ کیا جارہا ہے

    بھارت میں ریاستی سرپرستی میں مسلمانوں پر تشدد،مساجد کونقصان پہچانا اورانہیں نفرت کانشانہ بنانا معمول بن گیا ہے ،دو قومی نظریہ کی روشنی میں بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں کے حوالے سے قائداعظم کی پیش گوئی سچ ثابت ہو چکی ہے،

  • پہلے صحافی، پھر ایڈلٹ فلم انڈسٹری اور اب سینیٹر،کون ہے 33 سالہ امرانتا ہینک

    پہلے صحافی، پھر ایڈلٹ فلم انڈسٹری اور اب سینیٹر،کون ہے 33 سالہ امرانتا ہینک

    کولمبیا کی سیاست میں ایک ایسی شخصیت نے سینیٹ میں قدم رکھا ہے جس کا ماضی روایتی سیاست دانوں سے بالکل مختلف ہے۔ 33 سالہ ڈیزی الیجینڈرا اومانا اورٹیز، جو اپنے اسٹیج نام امرانتا ہینک کے حوالے سے زیادہ مشہور ہیں، نے حال ہی میں کولمبیا کی سینیٹر کی حیثیت سے حلف اٹھایا ہے۔

    امرانتا ہینک کی زندگی کا سفر صحافت سے شروع ہوا، اس کے بعد انہوں نے ایڈلٹ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں کام کیا اور اب وہ ملک کی قانون ساز اسمبلی کا حصہ بن چکی ہیں۔ ان کا سیاسی سفر اس وقت مزید توجہ کا مرکز بنا جب انہوں نے ایڈلٹ انٹرٹینمنٹ سے وابستہ افراد کے حقوق، قانونی تحفظ اور امتیازی سلوک کے خاتمے کو اپنے سیاسی ایجنڈے کا حصہ بنایا۔رپورٹ کے مطابق امرانتا ہینک نے مارچ 2026 میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی۔ وہ بائیں بازو کے سیاسی اتحاد ہسٹورک پیکٹ کے پلیٹ فارم سے سینیٹ میں پہنچیں۔ان کی کامیابی کے نتیجے میں انہیں کولمبیا کے نورٹے دے سانتاندیر خطے کی نمائندگی کا موقع ملا۔ رپورٹ کے مطابق ہسٹورک پیکٹ نے انتخابات میں 44 لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کیے اور سینیٹ میں 25 نشستیں حاصل کیں۔

    امرانتا ہینک کا پیشہ ورانہ سفر سیاست سے کافی مختلف رہا ہے۔ انہوں نے ابتدا میں صحافت کی، تاہم بعد میں ایڈلٹ فلم انڈسٹری سے وابستہ ہو گئیں۔ یہی ماضی آج بھی ان کی سیاسی زندگی میں سب سے زیادہ زیر بحث رہتا ہے۔امرانتا کا مؤقف ہے کہ کسی شخص کا ماضی اس کی سیاسی صلاحیت یا عوامی خدمت کی اہلیت کا حتمی پیمانہ نہیں ہونا چاہیے۔ وہ اپنے سابقہ پیشے کو اپنی موجودہ سیاسی ذمہ داریوں سے الگ دیکھتی ہیں۔امرانتا ہینک کا کہنا ہے کہ ایڈلٹ انڈسٹری میں کام کرنے والی خواتین اور دیگر افراد بھی ملکی معیشت میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے انہیں بنیادی حقوق، عزت اور قانونی تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔ان کے مطابق ایسے افراد کو محض ان کے پیشے کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس شعبے سے وابستہ افراد کے قانونی اور سماجی مسائل کو سیاسی بحث کا حصہ بنانے کی کوشش کی ہے۔

    سینیٹ میں پہنچنے کے بعد امرانتا ہینک کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ان کے ماضی کو بنیاد بنا کر کئی سوالات اٹھائے گئے کہ کیا ایڈلٹ انڈسٹری سے وابستہ رہنے والی کوئی خاتون عوامی عہدے کے لیے انتخاب لڑ سکتی ہے؟امرانتا نے تنقید کا جواب دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی خاتون ماضی میں ایڈلٹ انڈسٹری میں کام کر چکی ہو تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ عوامی نمائندہ بننے کے لیے نااہل ہو جاتی ہے؟ان کا کہنا ہے کہ کسی فرد کی پیشہ ورانہ تاریخ کو اس کی جمہوری اور سیاسی صلاحیتوں کا واحد پیمانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔امرانتا ہینک نے واضح کیا ہے کہ پارلیمنٹ میں ان کی سرگرمیاں صرف ایڈلٹ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری سے متعلق معاملات تک محدود نہیں رہیں گی۔وہ خواتین کے حقوق، ذہنی صحت اور جنسی استحصال جیسے اہم سماجی مسائل پر بھی کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ ان کا مقصد ایسے طبقات کے مسائل کو سیاسی سطح پر اجاگر کرنا ہے جنہیں عام طور پر معاشرے میں نظر انداز کیا جاتا ہے۔

    امرانتا ہینک کی سینیٹ میں آمد نے کولمبیا میں سیاست، ماضی کے پیشے، سماجی اقدار اور عوامی نمائندگی کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ان کا سیاسی سفر اس لحاظ سے بھی غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے کہ وہ صحافت سے ایڈلٹ انٹرٹینمنٹ اور پھر انتخابی سیاست تک پہنچی ہیں۔ اب ان کی توجہ اس بات پر ہے کہ ماضی کی وجہ سے ہونے والی تنقید کے بجائے پارلیمنٹ میں ان کی کارکردگی اور قانون سازی کو جانچا جائے۔کولمبیا کی سیاست میں اس سے قبل بھی ایڈلٹ انٹرٹینمنٹ سے وابستہ شخصیات کی سیاسی تقرریاں تنازع کا باعث بن چکی ہیں۔ سابق ایڈلٹ اداکار جوآن کارلوس فلورین کی وزارتِ برابری میں نائب وزیر کے طور پر تقرری بھی اسی نوعیت کی بحث کا سبب بنی تھی۔

  • شدید گرمی ، فٹنس انفلوئنسر کو ’’نیم برہنہ‘‘ لباس میں پرواز پر سوار ہونے سے روک دیا گیا

    شدید گرمی ، فٹنس انفلوئنسر کو ’’نیم برہنہ‘‘ لباس میں پرواز پر سوار ہونے سے روک دیا گیا

    جرمنی کی فٹنس انفلوئنسر ایڈا ایلیسا نے الزام عائد کیا ہے کہ لفتھانزا کے گیٹ ایجنٹ نے نامناسب لباس قرار دیتے ہوئے اسے پرواز میں سوار ہونے سے روک دیا، جبکہ ایئرلائن کا کہنا ہے کہ مسافروں کے لیے مناسب لباس پہننا ضروری ہے۔

    جرمنی سے تعلق رکھنے والی فٹنس انفلوئنسر اور سوشل میڈیا شخصیت ایڈا ایلیسا نے دعویٰ کیا ہے کہ یورپ میں جاری شدید گرمی کی لہر کے دوران وہ لفتھانزا کی پرواز میں سوار ہونے کے لیے ایئرپورٹ پہنچی تو گیٹ پر موجود عملے نے اس کے لباس پر اعتراض کرتے ہوئے اسے جہاز میں سوار ہونے سے روک دیا۔ایڈا ایلیسا کے مطابق وہ اس وقت سیاہ رنگ کی بائیکر شارٹس اور وی کٹ اسپورٹس برا پر مشتمل ایتھلیژر لباس پہنے ہوئے تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گیٹ ایجنٹ نے انہیں دیکھ کر کہا کہ وہ اس لباس میں جہاز پر سوار نہیں ہو سکتیں اور مبینہ طور پر انہیں ’’برہنہ‘‘ قرار دیا۔فٹنس انفلوئنسر نے سوشل میڈیا پر اپنے 6 لاکھ 41 ہزار سے زائد فالوورز کے ساتھ واقعے کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے عملے کے رویے پر شدید ناراضی کا اظہار کیا۔ ان کے بقول انہیں بتایا گیا کہ وہ عام لباس نہیں پہن رہیں اور انہیں فوری طور پر کوئی اضافی لباس پہننا ہوگا۔

    ایڈا ایلیسا کا کہنا ہے کہ عملے کی ہدایت پر انہوں نے ایک بڑی زِپ والی ہوڈی پہن لی، تاہم گیٹ ایجنٹ نے مبینہ طور پر انہیں اسے مکمل طور پر بند کرنے کا حکم دیا۔انفلوئنسر کے مطابق عملے کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ ان کی وجہ سے پرواز میں تاخیر ہو رہی ہے اور وہ دیگر مسافروں کی روانگی میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ ایڈا کا کہنا ہے کہ انہیں خاص طور پر عملے کے لہجے اور اندازِ گفتگو پر اعتراض تھا۔انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ شدید گرمی اور تقریباً 90 ڈگری فارن ہائیٹ کے قریب درجہ حرارت میں ان کا ہلکا لباس موسم کے لحاظ سے موزوں تھا۔ ان کے مطابق انہوں نے اس سے قبل کبھی نہیں سنا تھا کہ کسی ایئرلائن نے جہاز میں سوار ہونے کے لیے اس نوعیت کا ڈریس کوڈ نافذ کیا ہو۔

    دوسری جانب لفتھانزا نے مسافروں کے لباس سے متعلق اپنے قواعد کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسافروں کو ایسا لباس پہننا چاہیے جو ’’عوامی سفر کی نوعیت کے لیے مناسب‘‘ ہو اور مختلف پس منظر رکھنے والے دیگر مسافروں کی فلاح و بہبود میں خلل نہ ڈالے،ایئرلائن کے مطابق پرواز میں سوار ہونے والے مسافروں سے مناسب لباس کی توقع کی جاتی ہے اور نامناسب لباس کی صورت میں عملہ مداخلت کر سکتا ہے۔تاہم ایڈا ایلیسا کی شکایت پر لفتھانزا نے مبینہ طور پر اس بات پر بھی وضاحت دی کہ گیٹ ایجنٹ کی جانب سے ’’برہنہ‘‘ جیسے الفاظ کا استعمال ان کے مقررہ معیارات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ایئرلائن کا کہنا تھا کہ اس کے عملے کی جانب سے ایسے الفاظ استعمال کیے جانے کی توقع نہیں کی جاتی اور واقعے سے متعلق کسی بھی شکایت کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔لفتھانزا نے مزید کہا کہ اس نوعیت کے واقعات کا اندرونی طور پر جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ واقعے کے دوران کیا ہوا تھا۔

    ہوائی سفر میں مسافروں کے لباس سے متعلق قواعد کوئی نئی بات نہیں۔ مختلف ایئرلائنز عام طور پر مسافروں سے ایسا لباس پہننے کی توقع کرتی ہیں جو عوامی سفر کے لیے مناسب ہو۔ ماضی میں بھی مختصر ٹاپس، انتہائی مختصر لباس، بغیر جوتوں کے سفر یا دیگر نامناسب لباس پر مسافروں کو پرواز میں سوار ہونے سے روکے جانے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ماہرین کے مطابق لباس سے متعلق بعض پابندیاں صرف ظاہری یا اخلاقی پہلوؤں تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ ہنگامی حالات میں مسافروں کی حفاظت بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔

    فلائٹ اٹینڈنٹ باربرا باسیلیری کے مطابق انتہائی مختصر لباس ہنگامی انخلا کے دوران مسافروں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی ایویکیوایشن سلائیڈ سے نکلتے وقت جسم کا زیادہ حصہ کھلا ہونے کی صورت میں جلنے یا جلد پر خراشیں آنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

    واقعے کے بعد ایڈا ایلیسا نے سوشل میڈیا کا رخ کرتے ہوئے اپنا تجربہ شیئر کیا اور ایئرلائن سے وضاحت کا مطالبہ کیا۔ ان کی ویڈیو اور دعوے کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا صارفین کے درمیان بھی زیر بحث آ گیا۔ایڈا ایلیسا جرمنی کی فٹنس اور تفریحی دنیا سے وابستہ شخصیت ہیں اور مختلف ریئلٹی ٹی وی پروگرامز میں بھی نظر آ چکی ہیں۔ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مجموعی طور پر 10 لاکھ سے زائد فالوورز ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔واقعے میں بنیادی تنازع یہ ہے کہ آیا ان کا لباس ایئرلائن کے مقررہ قواعد کے مطابق نامناسب تھا یا نہیں، جبکہ دوسری جانب ایئرلائن کی جانب سے مبینہ طور پر ’’برہنہ‘‘ جیسے الفاظ کے استعمال سے متعلق شکایت کی بھی اندرونی طور پر جانچ کی جا رہی ہے۔

  • دورانِ پرواز سوئی خاتون کو مبینہ جنسی ہراسانی کا سامنا

    دورانِ پرواز سوئی خاتون کو مبینہ جنسی ہراسانی کا سامنا

    بنکاک: تھائی لینڈ سے تعلق رکھنے والی 33 سالہ خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ دبئی سے بنکاک جانے والی پرواز کے دوران وہ اپنی چار سالہ بیٹی کے ہمراہ سو رہی تھیں کہ ایک مسافر نے انہیں مبینہ طور پر جنسی طور پر ہراساں کیا۔

    خاتون، جن کی شناخت بیوٹ کے نام سے ہوئی ہے، کے مطابق وہ اٹلی کے شہر میلان سے واپسی پر دبئی سے بنکاک جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں سوار تھیں۔ مبینہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ اور ان کی کمسن بیٹی اپنی نشستوں پر سو رہی تھیں۔خاتون کا کہنا ہے کہ ایک مسافر نے مبینہ طور پر ان کے جسم کو نامناسب انداز میں چھوا اور ان کے پچھلے حصے کو دبایا، جبکہ وہ بیک وقت مبینہ طور پر خود کو بھی جنسی طور پر چھو رہا تھا۔ان کے مطابق مبینہ شخص نے فوراً اپنا ہاتھ پیچھے ہٹا لیا، اسے اپنی جیکٹ سے ڈھانپ لیا اور یوں ظاہر کیا جیسے وہ سامنے موجود انٹرٹینمنٹ اسکرین کو درست کر رہا ہو۔ خاتون نے بتایا کہ اس دوران وہ شخص بار بار ان کی جانب دیکھتا رہا۔خاتون کے مطابق انہوں نے طیارے میں صورتحال کو مزید کشیدہ بنانے یا اپنی چار سالہ بیٹی کے سامنے کوئی ناخوشگوار صورتحال پیدا ہونے سے بچنے کے لیے فوری طور پر شور نہیں مچایا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ طیارے کے بنکاک پہنچنے کے بعد عملے کو واقعے سے آگاہ کیا جائے گا۔بنکاک پہنچنے پر انہوں نے مبینہ واقعے کی اطلاع کیبن کریو کو دی، جس کے بعد فلائٹ اٹینڈنٹ نے متعلقہ مسافر سے پوچھ گچھ کی۔

    خاتون کے مطابق فلائٹ اٹینڈنٹ اور مسافر کے درمیان عربی زبان میں گفتگو ہو رہی تھی، اس لیے وہ گفتگو کا مکمل مفہوم نہیں سمجھ سکیں۔ تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ پہلے مسافر نے الزام سے انکار کیا، لیکن بعد میں مبینہ طور پر واقعہ تسلیم کرلیا۔خاتون کے بقول اس کے بعد مذکورہ شخص ان کے پاس آیا، رویا، گھٹنوں کے بل بیٹھ کر معافی مانگی اور وعدہ کیا کہ وہ دوبارہ ایسا نہیں کرے گا۔خاتون نے بتایا کہ مذکورہ شخص ایک ٹور گروپ کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔ ان کے مطابق گروپ کے تقریباً چار یا پانچ افراد نے مبینہ طور پر مداخلت کرتے ہوئے خاتون سے اس شخص کو معاف کرنے کی درخواست کی۔تاہم فلائٹ اٹینڈنٹ نے مبینہ طور پر واضح کیا کہ معاملہ سنجیدہ ہے اور اسے پولیس کے حوالے کیا جائے گا، جبکہ غیر متعلقہ افراد کو وہاں سے جانے کے لیے کہا گیا۔

    خاتون کے مطابق واقعے کے بعد ان کی چار سالہ بیٹی کو فوری طور پر وہاں سے دور لے جایا گیا تاکہ وہ اس صورتحال سے متاثر نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ کپتان نے بچی کو اپنے پاس لے لیا تاکہ وہ مبینہ واقعے اور اس کے بعد ہونے والی کارروائی نہ دیکھ سکے۔پرواز کے بنکاک پہنچنے کے بعد سیاحتی پولیس اور امیگریشن حکام نے مبینہ طور پر مسافر کو طیارے سے اتارا اور پولیس اسٹیشن منتقل کردیا۔

    واقعے کے بعد خاتون نے اپنی داستان سامنے لانے کا مقصد دیگر خواتین، خصوصاً تنہا سفر کرنے والی خواتین میں آگاہی پیدا کرنا قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ طویل پروازوں کے دوران مسافر اکثر سو رہے ہوتے ہیں اور ایسی صورتحال میں خواتین خود کو غیر محفوظ محسوس کر سکتی ہیں۔خاتون نے کہا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ اپنی کمسن بیٹی کے ساتھ سفر کر رہی تھیں، اس لیے وہ سوچ بھی نہیں سکتیں کہ تنہا سفر کرنے والی ایسی خاتون کے ساتھ کیا صورتحال پیش آسکتی ہے جو خوف یا شرمندگی کی وجہ سے آواز اٹھانے سے گریز کرے۔انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ اگر انہیں دورانِ سفر کوئی چیز نامناسب محسوس ہو تو وہ شرمندہ نہ ہوں بلکہ فوری طور پر طیارے کے عملے یا متعلقہ حکام سے مدد طلب کریں۔

    فلائی دبئی کے ترجمان نے واقعے کے حوالے سے مسافروں کی ذاتی معلومات یا جاری تحقیقات کی تفصیلات ظاہر کرنے سے گریز کیا۔ترجمان کا کہنا تھا کہ مسافروں اور عملے کی حفاظت ایئرلائن کی اولین ترجیح ہے

  • ایلون مسک دنیا کی سب سے بڑی عمارت بنانے کی تیاری میں

    ایلون مسک دنیا کی سب سے بڑی عمارت بنانے کی تیاری میں

    دنیا کے معروف کاروباری شخصیت اور ٹیکنالوجی کمپنیوں ٹیسلا اور سپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر صنعت میں ایک انتہائی بڑے منصوبے کا اعلان کیا ہے، جس کی تکمیل کے بعد یہ دنیا کی سب سے بڑی عمارت بن سکتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ٹیسلا اور سپیس ایکس مشترکہ طور پر امریکی ریاست ٹیکساس میں ’Terafab‘ کے نام سے ایک وسیع و عریض سیمی کنڈکٹر میگا فیکٹری تعمیر کر رہی ہیں۔ منصوبے کے پہلے مرحلے پر تقریباً 16.8 ارب ڈالر خرچ کیے جائیں گے، جبکہ تمام مراحل مکمل ہونے کی صورت میں مجموعی سرمایہ کاری 119 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔Terafab کا مکمل منصوبہ 10 کروڑ مربع فٹ سے زیادہ رقبے پر محیط ہوگا۔ اگر منصوبہ پیش کردہ خاکے کے مطابق مکمل ہوگیا تو یہ موجودہ عالمی ریکارڈ توڑتے ہوئے دنیا کی سب سے بڑی عمارت بن جائے گی۔موجودہ ریکارڈ چین کے شہر چینگدو میں واقع New Century Global Center کے پاس ہے، جس کا رقبہ تقریباً 1 کروڑ 89 لاکھ مربع فٹ بتایا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں Terafab کا متوقع رقبہ پانچ گنا سے بھی زیادہ ہوگا۔

    منصوبہ امریکی سطح پر موجود بڑی عمارتوں کے مقابلے میں بھی غیر معمولی طور پر وسیع ہوگا۔ مثال کے طور پر واشنگٹن میں قائم پینٹا گون تقریباً 66 لاکھ مربع فٹ، ایپل پارک تقریباً 28 لاکھ 20 ہزار مربع فٹ جبکہ مال آف امریکہ تقریباً 56 لاکھ مربع فٹ رقبے پر مشتمل ہے۔Terafab ٹیکساس کے Grimes County میں تعمیر کی جا رہی ہے، جو ہیوسٹن کے قریب واقع ہے۔ منصوبے کی ابتدائی تعمیر کا آغاز کردیا گیا ہے۔ایلون مسک نے منصوبے کے حوالے سے اسے زمین کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ قیمتی عمارت قرار دیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ عمارت انتہائی خوبصورت ہوگی، جبکہ ایک اور بیان میں انہوں نے اس منصوبے کے تصور کو ’’سائنس فکشن سٹی‘‘ سے تعبیر کیا۔منصوبے کے جاری کیے گئے خاکوں میں ایک انتہائی وسیع، پروں کی شکل جیسی عمارت دکھائی گئی ہے، جس کا ڈیزائن ٹیکنالوجی اور مستقبل کے جدید شہر کے امتزاج کی عکاسی کرتا ہے۔

    Terafab کا بنیادی مقصد جدید سیمی کنڈکٹر چپس کی بڑے پیمانے پر تیاری ہے۔ اسپیس ایکس کے مطابق اس کمپلیکس میں لاجک چپس، میموری، پیکیجنگ اور ٹیسٹنگ سمیت مختلف مراحل ایک ہی جگہ انجام دیے جائیں گے۔کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ٹیسلا اور سپیس ایکس کو مستقبل میں اتنی بڑی تعداد میں چپس درکار ہوں گی کہ موجودہ اور مستقبل کی عالمی پیداوار ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔Terafab کا ہدف سالانہ ایک ٹیرا واٹ سے زیادہ کمپیوٹ پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کرنا بتایا گیا ہے۔Terafab میں تیار ہونے والی چپس صرف عام کمپیوٹرز یا موبائل فونز کے لیے نہیں ہوں گی بلکہ انہیں ٹیسلا کے مستقبل کے مصنوعی ذہانت پر مبنی منصوبوں میں بھی استعمال کیا جائے گا۔ان میں ٹیسلا کے Optimus روبوٹس، خودکار Cybercab گاڑیوں اور دیگر جدید اے آئی نظام شامل ہیں۔ کچھ اعلیٰ طاقت والی چپس اس کے مستقبل کے خلائی ڈیٹا سینٹرز کو چلانے کے لیے بھی استعمال کی جائیں گی۔

    Terafab منصوبے سے مقامی سطح پر روزگار کے بھی بڑے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ کمپنیوں کے مطابق اس منصوبے سے کم از کم 3 ہزار نئی ملازمتیں پیدا ہوسکتی ہیں۔ایلون مسک نے مارچ میں پہلی مرتبہ اس منصوبے کے حوالے سے بات کی تھی، جب اس کی مجموعی سرمایہ کاری کا ابتدائی تخمینہ 25 ارب ڈالر بتایا گیا تھا۔بعد ازاں منصوبے کے پہلے مرحلے کی لاگت کو نظرثانی کرکے 16.8 ارب ڈالر کردیا گیا، تاہم تمام مجوزہ مراحل مکمل ہونے کی صورت میں مجموعی سرمایہ کاری 119 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

    اتنے بڑے صنعتی منصوبے کے ساتھ ماحولیاتی اور پانی کے استعمال سے متعلق خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔ Terafab کو Gibbons Creek Reservoir کے قریب تعمیر کیا جا رہا ہے۔ یہ ذخیرہ ایک ایسے کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے جو 2018 میں بند ہوگیا تھا۔ٹیکساس میں پہلے ہی ڈیٹا سینٹرز اور بڑے صنعتی منصوبوں کے پانی کے استعمال پر بحث جاری ہے۔ سپیس ایکس کا کہنا ہے کہ Terafab کے لیے مقامی زیرِ زمین پانی استعمال کرنے کے بجائے ذخیرۂ آب سے پانی حاصل کرنے کا منصوبہ ہے۔منصوبے کو جہاں سرمایہ کاری اور روزگار کے حوالے سے اہم قرار دیا جارہا ہے، وہیں Grimes County کے بعض رہائشیوں نے اس پر تحفظات بھی ظاہر کیے ہیں۔رپورٹ کے مطابق اعلان سے ایک روز قبل سیکڑوں مقامی افراد نے کاؤنٹی کے اجلاس میں شرکت کی اور منصوبے کے لیے دی جانے والی کروڑوں ڈالر کی ٹیکس مراعات اور معاہدوں کے طریقہ کار میں شفافیت سے متعلق سوالات اٹھائے۔ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ کے دفتر کی جانب سے سپیس ایکس کو اس منصوبے کے لیے 30 ملین ڈالر کی فنڈ گرانٹ بھی دی گئی ہے۔ منصوبہ ریاست کے ایک اور اقتصادی مراعاتی پروگرام کے لیے بھی اہل قرار دیا گیا ہے۔امریکی چِپ ساز کمپنی انٹیل نے بھی Terafab میں تعاون کی تصدیق کی ہے، تاہم کمپنی نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ منصوبے میں اس کا کردار کس نوعیت کا ہوگا۔

    اگر Terafab منصوبہ اعلان کردہ حجم اور صلاحیت کے مطابق مکمل ہوگیا تو یہ صرف دنیا کی سب سے بڑی عمارت کا ریکارڈ ہی نہیں توڑے گا بلکہ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، خودکار گاڑیوں اور خلائی ٹیکنالوجی کے لیے سیمی کنڈکٹرز کی تیاری میں بھی ایک غیر معمولی صنعتی مرکز بن سکتا ہے۔

  • مسلمان متحد ہوں‌تو بیرونی عناصرکے ہر چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جا سکتا ہے،عباس عراقچی

    مسلمان متحد ہوں‌تو بیرونی عناصرکے ہر چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جا سکتا ہے،عباس عراقچی

    ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کی طاقتور مسلح افواج نے دنیا کی مہنگی ترین فوجی طاقت کے سامنے اپنی تیاری، دفاعی صلاحیت اور قوت کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔

    سید عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات نے ثابت کردیا ہے کہ جب مسلمان ممالک متحد ہو کر کھڑے ہوں تو بیرونی عناصر کی جانب سے درپیش ہر چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے مسلم ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی طاقت اور وسائل پر انحصار بڑھائیں اور حقیقی برادرانہ تعلقات کو فروغ دیں۔انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ مسلم ممالک دوسروں پر انحصار کے بجائے اپنی اجتماعی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں اور باہمی اتحاد، یکجہتی اور تعاون کو مضبوط بنائیں۔ مسلم دنیا کا اتحاد نہ صرف خطے کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ بیرونی دباؤ کے مقابلے میں ایک مضبوط اجتماعی قوت بھی بن سکتا ہے۔

  • کمسن بچی کی عزت لوٹنے والا بھارتی باوردی فوجی شہریوں کے ہتھے چڑھ گیا،ہاتھ جوڑے مگر معافی نہ ملی

    کمسن بچی کی عزت لوٹنے والا بھارتی باوردی فوجی شہریوں کے ہتھے چڑھ گیا،ہاتھ جوڑے مگر معافی نہ ملی

    بھارتی ریاست آسام میں ایک بھارتی فوجی اہلکار نے اسکول کی طالبہ کے ساتھ جنسی زیادتی کی ہے جس کے بعد مقامی افراد نے بھارتی فوجی اہلکار کو پکڑ لیا اور اس پر تشدد کیا۔

    میڈیا اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات کے مطابق واقعہ آسام کے ایک علاقے میں پیش آیا، جہاں فوجی اہلکار نے ایک کم عمر اسکول طالبہ کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔واقعے کی اطلاع ملنے پر مقامی افراد مشتعل ہوگئے اور مبینہ طور پر اہلکار کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ شہریوں نے فوجی اہلکار کو تشدد کا نشانہ بنایا، کمسن طالبہ نے بھی فوجی اہلکار کو جوتوں سے مارا،بھارتی فوجی اہلکار ہاتھ جوڑتا رہا، دہائیاں دیتا رہا تاہم شہریوں نے اپنا غصہ نکالا ،بعد ازاں بھارتی فوجی اہلکار کو پولیس نے حراست میں لے لیا

    شہریوں کا کہنا تھا کہ فوجی تو ملک کے محافظ ہوتے ہیں لیکن بھارت میں فوج سے کمسن بچیاں ہی غیر محفوظ ہیں یہ ملک کا دفاع کریں گے، ایسے فوجی اہلکاروں کو جیلوں میں ڈالنا چاہئے اور بھرتی پر پابندی ہونے چاہئے،فوجی وردی کسی بھی شخص کو قانون سے بالاتر نہیں بنا سکتی اور کمسن بچیوں سمیت ہر شہری کے تحفظ کو یقینی بنانا ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے