امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں ہونے والے جوہری معاہدے سے بہتر قرار دیا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر یہ فیصلہ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا نیا معاہدہ واقعی 2015 کے جوہری معاہدے سے زیادہ مؤثر ثابت ہوگا یا نہیں۔
فرانس میں الیکٹرانک طور پر دستخط کیے گئے 14 نکاتی فریم ورک کے مطابق ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے اور حاصل نہ کرنے کا عہد کیا ہے، جبکہ امریکا نے پابندیوں کے خاتمے، 300 ارب ڈالر کے تعمیر نو فنڈ اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی پر اتفاق کیا ہے۔نئے معاہدے اور اوباما دور کے جوہری معاہدے میں سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ 2015 کے JCPOA میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تفصیلی اور واضح شرائط شامل تھیں۔ اس معاہدے کے تحت ایران کو 15 سال تک صرف 3.67 فیصد تک یورینیئم افزودہ کرنے کی اجازت دی گئی تھی، جو توانائی کے مقاصد کے لیے کافی سمجھی جاتی تھی، جبکہ ہتھیار بنانے کے لیے درکار 90 فیصد افزودگی سے بہت کم تھی۔
اس کے برعکس موجودہ مفاہمتی یادداشت میں جوہری پروگرام سے متعلق تفصیلی شرائط شامل نہیں کی گئیں اور اس معاملے کو آئندہ 60 روزہ مذاکراتی مرحلے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں کہ ایران کو یورینیئم افزودہ کرنے کی کتنی اجازت ہوگی یا سرے سے اجازت دی بھی جائے گی یا نہیں۔
معاہدے کے تحت امریکا نے ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے اور علاقائی شراکت داروں کے تعاون سے 300 ارب ڈالر کے اقتصادی و تعمیر نو پروگرام پر کام کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اوباما دور کے معاہدے میں پابندیوں میں نرمی ایران کی جانب سے جوہری شرائط پر عمل درآمد سے مشروط تھی، جبکہ نئے معاہدے میں پابندیوں کے خاتمے کا حتمی شیڈول آئندہ مذاکرات کے بعد طے کیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 300 ارب ڈالر کا مجوزہ فنڈ ایران کی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوسکتا ہے اور اسے بین الاقوامی اقتصادی تنہائی سے نکالنے میں مدد دے سکتا ہے۔ معاہدے میں ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق ان اثاثوں کا بڑا حصہ امریکا کے بجائے چین اور عراق جیسے ممالک میں موجود ہے، جس کے باعث ان کی واپسی مکمل طور پر واشنگٹن کے اختیار میں نہیں۔
نئے معاہدے کا ایک اہم پہلو آبنائے ہرمز سے متعلق ہے، جو عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کا اہم ترین راستہ سمجھا جاتا ہے۔ جنگ کے دوران اس راستے کی بندش سے عالمی توانائی منڈیوں میں شدید بحران پیدا ہوا تھا۔ معاہدے کے تحت امریکا بحری ناکہ بندی ختم کرے گا جبکہ ایران اور عمان مستقبل میں آبنائے ہرمز کے انتظامی امور پر مذاکرات کریں گے۔
علاقائی سلامتی کے حوالے سے بھی معاہدے میں کئی سوالات بدستور موجود ہیں۔ جس طرح اوباما دور کے معاہدے میں حماس،حزب اللہ اور حوثی گروہوں کا براہ راست ذکر نہیں تھا، اسی طرح نئے معاہدے میں بھی ان گروہوں سے متعلق کوئی واضح شرط شامل نہیں کی گئی۔ البتہ لبنان سمیت مختلف محاذوں پر فوجی کارروائیاں ختم کرنے کا ذکر ضرور موجود ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ مفاہمتی یادداشت فی الحال ایک ابتدائی فریم ورک کی حیثیت رکھتی ہے اور اس میں کئی اہم نکات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔ ان کے نزدیک موجودہ مرحلے پر یہ معاہدہ اوباما دور کے JCPOA سے زیادہ جامع یا مؤثر دکھائی نہیں دیتا، تاہم آئندہ 60 روز کے مذاکرات میں اگر تفصیلی شرائط طے پا جاتی ہیں تو اس کی نوعیت اور اثرات میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔