Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • مصری صدر مرسی کی وفات پر ترکی قیادت کا اظہار تعزیت

    مصری صدر مرسی کی وفات پر ترکی قیادت کا اظہار تعزیت

    مصری معزول صدر محمد مرسی کی وفات کے بعد ترکی کی قیادت کی طرف سے تعزیت کے پیغامات جاری

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطاق مصر کے معزول صدر محمد مرسی کی قید و بند کے دوران عدالت میں وفات کے بعد قومی لیڈروں کی طرف سے تعزیت کے پیغامات جاری ہورہے ہیں.اس سلسلے میں ترک اسپیکرِ اسمبلی مصطفیٰ شن توپ نے سماجی رابطو ں کی ویب سائٹ کے ذریعے اپنے اعلان میں کہا ہے کہ "مرسی قانونی صف میں شامل ہونے کی بہادری کا مظاہرہ کرنے والے ایک عظیم لیڈر تھے۔ ان کو قید کیا گیا تھا لیکن آپ ان کوجیل میں بند کرنے والوں سے زیادہ آزاد تھے۔”

    ایوان ِ صدر کے محکمہ اطلاعات کے چیئرمین فخرالدین آلتون نے بھی سماجی میڈیا کے ذریعے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ”پوری دنیا کی نظروں کے سامنے خونی بغاوت کے ذریعے تختہ الٹائے جانے والے معزول صدر محمد مرسی عدالت کے کٹہرے میں اپنے خالق ِ حقیقی سےجا ملے۔ ”

    آک پارٹی کے ترجمان عمر چیلک نے بھی اس حوالے سے کہا ہے کہ مصر کے پہلے منتخب صدر مرسی غیر اخلاقی و غیر قانونی فوجی بغاوت کے بعد فوجی جتھے کے زیرِ اثر عدالتوں میں مقدمات بھگت رہے تھے ، میں مرسی کی مغفرت کا دعا گو ہوں۔

    انہوں نے مرسی کے جنازے کو ان کے اہل خانہ کے حوالے کیے بغیر دفن کیے جانے پر ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ خونی ہاتھوں کے ساتھ انسانی اقدار کی دھجیاں اڑانے والے ایک نعش سے بھی خوفزدہ ہیں۔

  • ایران کسی ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے کا ارادہ نہیں‌ رکھتا. ایرانی صدر حسن روحانی

    ایران کسی ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے کا ارادہ نہیں‌ رکھتا. ایرانی صدر حسن روحانی

    ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک کسی ریاست کے خلاف جنگ چھیڑنے کا ارادہ نہیں‌ رکھتا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق منگل کے دن سرکاری ٹی وی پر نشر کئے جانے والے اپنے خطاب میں انہوں نے کہاکہ جمعرات کے روز خلیجِ عُمان میں دو تیل بردار جہازوں پر حملے کے بعد سے ایران اور امریکہ کے درمیان تصادم کے حوالے سے اندیشے بڑھ گئے ہیں اور یہ کہ مذکورہ حملوں کے حوالہ سے واشنگٹن نے اس کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا ہے۔

    ادھر یورپی یونین میں خارجہ پالیسی کی رابطہ کار فیڈریکا موگرینی نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافے پر یورپی یونین کی تشویش کا اظہار کیا۔ ہم اس وقت حالات کو پرسکون بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ موگرینی کا مزید کہنا تھا کہ ابھی تک ایران نے ہماری توقعات کے مطابق جوہری معاہدے کی پاسداری کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی آئندہ رپورٹ کا انتظار ہے۔

    واضح رہے کہ خلیج عمان میں تیل بردار جہازوں پر حملوں‌کے بعد امریکہ اور برطانیہ نے ان حملوں‌ کا ذمہ دار واضح طور پر ایران کو ٹھہرایا ہے. ان حملوں‌ کے بعد ایران اور امریکہ میں کشیدگی بھی بڑھی ہے اوردونوں‌ طرف سے جارحانہ بیان بازی دیکھنے میں‌ آئی ہے.

  • امریکہ مشرق وسطیٰ میں مزید کتنی فوج تعینات کرے گا؟ اہم خبر آ گئی

    امریکہ مشرق وسطیٰ میں مزید کتنی فوج تعینات کرے گا؟ اہم خبر آ گئی

    امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں‌ مزید 1000 فوجی تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پینٹاگون کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق امریکی نائب وزیر دفاع پیٹرک شاناہن سے یہ بات منسوب کی گئی ہے کہ سینٹرل کمان کی درخواست پرعمل درآمد کرتے ہوئے مزید ایک ہزار فوجیوں کو مشرق وسطیٰ میں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ خطے میں فضائی، بری اور بحری خطرات سے نمٹنے میں مدد لی جا سکے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کےمطابق خلیج عمان میں‌ آبنائے ہرمز کے قریب تیل بردار جہازوں‌ پر کئے جانے والے حملوں‌ میں‌ امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے ایران کو ملوث‌ قرار دیا گیا ہے جبکہ سعودی عرب نے بین الاقوامی برادری سے خطہ کی آبی حدود کو محفوظ بنانے کا مطالبہ کیا ہے.

    رپورٹ کے مطابق امریکی جنرل پیٹرک کا کہنا ہے کہ ان کا ملک جنگ نہیں چاہتا۔ ان کا پہلا مقصد خطے میں امریکی مفادات اور وہاں پر کام کرنے والے امریکی شہریوں کی جان ومال کا تحفظ ہے۔ ہم خطے میں اپنے مفادات اور شہریوں کے تحفظ کے پیش نظر انٹیلی جنس اداروں کی مصدقہ معلومات کی روشنی میں سیکورٹی پلان تیار کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل مختلف امریکی عہدیداروں نے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں‌ مزید فوج بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے.

  • تیل بردار جہازوں‌ پرحملے، سعودی عرب کا عالمی برادری سے خطہ کی آبی گزرگاہیں محفوظ بنانے کا مطالبہ

    تیل بردار جہازوں‌ پرحملے، سعودی عرب کا عالمی برادری سے خطہ کی آبی گزرگاہیں محفوظ بنانے کا مطالبہ

    سعودی عرب کی کابینہ نے خلیج عمان میں تیل بردار جہازوں‌ پر حملوں کے بعد بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خطہ میں آبی گزر گاہوں‌ کو محفوظ بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی کابینہ نے توانائی کی مارکیٹ اور عالمی معیشت کو لاحق خطرات کے پیش نظر خطے میں آبی گذرگاہوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فیصلہ کن اقدام پر زور دیا ہے.

    خلیج عمان میں چند دن قبل دو تیل بردار جہازوں‌ کو میزائل حملوں‌ کو نشانہ بنایا گیا تھا. یہ حملے خلیج عمان میں آبنائے ہرمز کے نزدیک بین الاقوامی پانیوں میں‌ کئے گئے تھے جس پر ایک جہاز کے کچھ حصے میں‌ آگ بھڑک اٹھی تھی.

    خلیج عمان میں تیل بردار جہازوں‌ پر ہونےو الے حملوں کا ذمہ دار امریکہ اور برطانیہ نے ایران کو ٹھہرایا تھا جبکہ ایران نے اس الزام کی تردید کی تھی. واضح‌ رہے کہ گذشتہ ماہ بھی اسی علاقے میں چار تیل بردار بحری جہازوں پر حملہ کیا گیا تھا جن میں سے دو سعودی عرب کے تھے۔ ادھر سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کو لاحق خطرات سے نمٹنے کیلئے کسی بھی اقدام سے گریز نہیں‌ کریں‌ گے.

  • ’مجھے تم سے لیموں جتنی محبت ہے‘ مصر میں لیموں ناپید مگر لیموں کا ذکرہر زبان پر جاری

    ’مجھے تم سے لیموں جتنی محبت ہے‘ مصر میں لیموں ناپید مگر لیموں کا ذکرہر زبان پر جاری

    مصر میں لیموں کا استعمال بہت زیادہ ہے۔ لیموں سے اس قوم کی محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مصر میں نوجوان لڑکے، لڑکیوں سے کہا کرتے ہیں کہ ’مجھے تم سے لیموں جتنا پیار ہے۔‘مگر اب مصر میں غیر معمولی طور پر لیموں کا بحران پیدا ہوگیا ہے اور مقامی مارکیٹ میں لیموں کی قیمت آسمان سے باتیں کرنے لگی ہے۔لیموں کا ایک تھیلا جو عام طور پر 30، 40 پاؤنڈ میں فروخت ہوتا تھا، اب ایک سو پاؤنڈ میں ملنے لگا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک صارف نے لکھا ہے کہ لیموں کی قیمت کا سن کر لگا کہ میری جیب کو نچوڑا جا رہا ہے۔

    ٹوئٹر پر مصری صارفین نے لیموں کے بحران پر تبصرے کرتے ہوئے لطیفہ بازی شروع کی ہے۔ ایک صارف نے لیموں کے بحران سے تاجروں کی چاندی کا تاثر دینے کے لئے ایک تصویر شیئر کی ہے جس میں مقامی لباس میں ملبوس ایک تاجر مہنگا کتا لے کر جا رہا ہے۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ’لیموں کے تاجروں کا آج کل یہ حال ہے،‘

    مصری وزارت زراعت کے تحت کام کرنے والے ریسرچ سینٹر کے سربراہ محمد عبد السلام نے ٹوئٹر پر کہا کہ ’لیموں کے بحران پر قابو پانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس بحران کی وجہ خراب موسم تھا جس کی وجہ سے اچھی فصل نہ ہوسکی۔‘
    عبد العزیز نامی ایک صارف نے جوابی ٹویٹ میں کہا ’لیموں کے بحران کی وجہ خراب موسم نہیں بلکہ غیر ملکی کرنسی کمانے کے لئے بڑی مقدار میں لیموں کی برآمدات ہیں۔‘مصر میں یہ بات مشہور ہے کہ لیموں کا جوس اعصاب کو ٹھنڈا رکھتا ہے۔ اس تناظر میں تبصرہ کرتے ہوئے احمد نامی صارف نے لکھا ’لیموں اعصاب کو ٹھنڈا نہیں کرتا بلکہ رقم اعصاب کو ٹھنڈا رکھتی ہے، جس کے پاس اکاؤنٹ میں رقم ہو اسے کیا ٹینشن ہے۔‘

    ندی نامی ٹوئٹر ہینڈل سے ایک خاتون نے لکھا ہے کہ ’مصری قوم کو ایک سو والا لیموں مبارک ہو، بہت جلد ایک ہزار پاؤنڈ والے دال دلیہ بھی دستیاب ہوں گے، پھر کہنا اخوان حکومت کی جنت سے صدر سیسی کا لیموں بہتر ہے۔‘ایک منچلے نے پولیس کے تفتیشی افسر کی تصویر شیئر کی جو ملزم کی پٹائی کر رہا ہے۔ اس تصویر پر لکھا گیا ہے کہ ’سچ سچ بتاؤ، لیموں خریدنے کے لئے پیسے کہاں سے لائے تھے۔‘

  • متحدہ عرب امارات :دل کی بند شریانیں کھولنے کے لیے اماراتی طالبات کا روبوٹ

    متحدہ عرب امارات :دل کی بند شریانیں کھولنے کے لیے اماراتی طالبات کا روبوٹ

    متحدہ عرب امارات بھی سائنس کے میدان میں ترقی کرنے لگا. جامعہ خلیفہ برائے سائنس و ٹیکنالوجی کی پانچ طالبات نے دل کے آپریشن کو مزید آسان بنانے کےلیے روبوٹ تیار کیا ہے۔مقامی اخبارامارات ٹوڈے کے مطابق اس روبوٹ کی مدد سے دل کے حساس آپریشن میں غلطی کا امکان ختم ہو جائے گا جس سے آپریشن نہ صرف مزید محفوظ ہوگا بلکہ دورانیہ بھی کم ہوجائے گا۔پراجیکٹ کی تیاری میں شامل طالبات انوار الکثیری، سارہ آل علی، مریم بن کلیب، علیاءالزحمی اور شذی قرمان نے بتایاکہ وہ اپنی اس کامیابی پر بے انتہاءخوش ہیں۔

    طالبات کے مطابق ’روبوٹ کا ابتدائی تجربہ کامیاب رہا جو دنیا طب میں دل کے آپریشن کے لیے مزید سہولتیں پیدا کرنے کا باعث بنے گا۔ یہ ہارٹ سرجری میں جدت کی جانب اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔‘طالبات نے امارات ٹوڈے کو بتایا کہ دل کی بند شریانوں میں سٹنٹ ڈالنے کے لیے روبوٹ انتہائی مددگار ثابت ہو گا، یہ خود کار طریقے سے انسانی جسم کی اہم شریانوں میں گزر سکے گا۔ روبوٹ کے استعمال سے غلطیوں کا امکان کم ہی نہیں بلکہ ختم ہو جائے گا جبکہ اس سے سرجری کا دورانیہ بھی مزید کم ہوجائے گا۔طالبات کا کہنا تھا کہ روایتی طریقے سے انجیو پلاسٹی کے دوران سٹنٹ ڈالنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا، اور اس عمل میں ٹیوب کو شریان سے گزارتے وقت اس بات کا امکان ہوتا تھا کہ شریان کی دیوار متاثر ہو جائے گی، جبکہ متاثرہ مقام جہاں سٹنٹ ڈالنا ہوتا تھا اس کا تعین بھی کافی مشکل ہوتا تھا۔

    روبوٹ جو کہ مکمل طور پر خود کارانداز میں کام کرے گا اس سے شریان کے متاثر ہونے کا امکان ختم ہو جائے گا جبکہ متاثرہ مقام کا تعین بھی روبوٹ خود کار طریقے سے کرے گا۔دل کے آپریشن کو مزید آسان بنانے والا یہ روبوٹ تھری ڈی ٹیکنالوجی سے مزین ہے۔ اسے آسانی سے آپریٹ کیا جاسکے گا جبکہ اس کی ٹیوب کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ٹیوب انتہائی حساس اور لچکدار ہے جو آسانی سے شریان سے گزر کر دل کے حساس مقامات تک پہنچ سکتی ہے۔

  • اسرائیلی وزیراعظم کی اہلیہ سارہ نیتن پر ’سرکاری کھانے‘ کا جرم ثابت

    اسرائیلی وزیراعظم کی اہلیہ سارہ نیتن پر ’سرکاری کھانے‘ کا جرم ثابت

    یہودی وزیر اعظم کی اہلیہ سارہ نے سرکاری رقم سے کھانا کھانے کا اعتراف کرتے ہوئے جرمانہ اور ہرجانہ ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے .وزیر اعظم کی اہلیہ کواسرائیل کی ایک عدالت نے وزیراعظم نیتن یاہو کی اہلیہ کو کھانے کے لیے سرکاری فنڈ استعمال کرنے کا مجرم ٹھرایا ہے۔وزیراعظم کی اہلیہ سارہ نیتن یاہو کو دوسرے فرد کی غلطی سے فائدہ اٹھانے کا قصوار قرار دیا گیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کی اہلیہ نے ’پلی بارگین‘ کے تخت جرم قبول کی جس کے بعد عدالت نے انہیں صرف جرمانہ اور ہرجانہ ادا کرنے کی سزا دے دی۔ عدالت کی جانب سے ان کو ہدایت کی گئی کہ وہ جرمانے اور ہرجانے کی رقم ادا کریں۔

    سارہ نیتن یاہو کو پلی بارگین کے تحت دس ہزار شیکل (2800 ڈالرز) کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے، عدالت کی جانب سے ان کو کہا گیا ہے کہ ریاست کو 45000 شیکل (12،552 ڈالرز) واپس کریں۔اسرائیلی وزیراعظم کی 60 سالہ اہلیہ جرمانے کی رقم نو اقساط میں ادا کریں گی۔

    اسرائیلی اخبار ہارٹز کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو کی اہلیہ کے خلاف اس مقدمے کا چالان جون سنہ 2018 میں عدالت میں پیش کیا گیا۔ سارہ پر چالان میں الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے سرکاری فنڈ سے ایک لاکھ ڈالرز کی مالیت کا کھانا آرڈر کیا تھا اور اس حقیقت کو چھپایا تھا کہ ان کی رہائش گاہ پر کھانا پکانے کے لیے ایک ملازم ہے۔وزیراعظم بیورو کے سابق ڈپٹی چیف ایزرا سیڈوف نے بھی اپنا جرم تسلیم کیا ہے۔ایزرا سیڈوف کھانے کا آرڈر کرنے کے جرم میں شریک تھے۔ وہ دس ہزار شیکل جرمانہ ادا کریں گے۔ ایزرا کمیونٹی کے لیے 120 گھنٹوں کی رضا کارانہ خدمات بھی پیش کریں گے۔

  • یمن، سعودی عرب اور ایران میں تباہی مچانے کے بعد پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں تباہی

    یمن، سعودی عرب اور ایران میں تباہی مچانے کے بعد پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں تباہی

    کہیں ٹڈیوں کو شوق سے کھایا جاتا ہے تو کہیں ان ٹڈیوں سے خوف کھایا جاتا ہے. ٹڈیوں کے سفر کی کہانی بھی چند ماہ قبل شروع ہوئی جب یمن، سعودی عرب اور ایران میں تباہی مچانے کے بعد پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے کئی اضلاع ٹڈی دل کے حملوں کی لپیٹ میں ہیں۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت نے متنبہ کیا ہے کہ بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ٹڈی دل کے حملوں میں شدت آ سکتی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق معمول سے چھ سے سات ہفتے پہلے ہونے والی بارشوں کے نتیجے میں مئی میں جزائر عرب اور جنوب مشرقی ایشیا میں سازگار موسمی حالات ملنے پر ٹڈی دل کی افزائش میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا۔مشرقی یمن سے غول اور لشکر کی صورت میں سعودی عرب ، اردن، کویت، مصر اورسوڈان ہجرت کرنے والے ٹڈی دل نے بعد میں ایران، پاکستان اور انڈیا کے صحرائی علاقوں کا رخ کیا ہے اور پاکستانی سرحد سے ملحقہ ایرانی صوبہ سیستان و بلوچستان سمیت ایران کے جنوب مشرقی صوبوں میں فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

    ایران سے ٹڈی دل ہجرت کرکے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ساحلی وصحرائی علاقوں گوادر، کیچ ،پنجگور، خاران، واشک، چاغی اور نوشکی میں درختوں اور فصلوں پر حملہ آور ہوئے ہیں۔بلوچستان میں ٹڈی دل نے ان علاقوں کو متاثر کیا ہے جو گذشتہ ایک دہائی سے خشک سالی کا شکار تھے تاہم رواں سال اچھی بارشیں ہونے کی وجہ سے خشک سالی کے اثرات کم ہونے پر فصلیں اچھی آنے پر زمیندار خوش تھے مگر ٹڈی دل کے حملوں نے ان کے لیے نئی مشکلات کھڑی کردی ہیں۔ ٹڈی دل کے لشکر واشک کے علاقوں ناگ، گورگی، باغ سوپک اور حسین زئی پہنچ گئے ہیں مگر سرکاری سطح پر کوئی اقدامات نظر نہیں آرہے۔ زمینداروں کی ہزاروں ایکڑ پر پھیلی تیار فصلیں تباہ ہوئی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پلانٹ پروٹیکشن اور محکمہ زراعت کو بار بار درخواست دینے کے باوجود ہنگامی اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ 20 دن پہلے دو گاڑیاں سپرے کے لیے فراہم کی گئیں مگر ڈسٹرکٹ واشک رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے بڑے ضلعوں میں شمار ہوتا ہے۔ 43 ہزار مربع کلومیٹر پر مشتمل ضلع کو دو گاڑیوں سے کور نہیں کیا جا سکتا۔
    صغیر احمد نے 90 کی دہائی میں ٹڈی دل کا اس طرز کا حملہ دیکھا تھا۔ ان کے مطابق مکران، واشک، خاران اور چاغی سمیت بلوچستان کے بیشتر علاقے گذشتہ 12 سالوں سے خشک سالی کی لیپٹ میں تھے ۔ یہاں کی آبادی کی اکثریت کا ذریعہ آمدن زراعت اور گلہ بانی ہے۔ خشک سالی کے باعث زمیندار اور گلہ بانی سے وابستہ افراد نان شبینہ کے محتاج ہو گئے تھے۔

    پلانٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر فلک ناز کے مطابق پاکستان میں 1997 کے بعد پہلی مرتبہ ٹڈی دل نے اس شدت سے یلغار کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماہ رمضان سے قبل گوادر اور کیچ کے ایرانی سرحد سے ملحقہ علاقوں گوادر، پسنی، تربت، دشت کے علاوہ کراچی سے متصل ضلع لسبیلہ کے علاقے اوتھل اور بیلہ میں ٹڈی دل کی بڑی تعداد میں موجودگی کی رپورٹس ملیں جس پر ہم نے متاثرہ علاقوں میں ٹیمیں بھیجیں۔

    اہل پاکستان کے لیے دلچسپ خبر یہ بھی ہے کہ عرب ممالک میں ٹڈیوں کو شوق سے پکا کر کھایا جاتا ہے کیونکہ اس میں پروٹین، آئرن، کیلشیم، سوڈیم وغیرہ پایا جاتا ہےٹڈیاں کھانے کے شوقین انہیں ’خشکی کا جھینگا ‘کہتے ہیں۔

  • دنیا کی آبادی کے بڑھنے کی وجہ اوسط عمر میں اضافہ ہے :اقوام متحدہ

    دنیا کی آبادی کے بڑھنے کی وجہ اوسط عمر میں اضافہ ہے :اقوام متحدہ

    دنیا بھر کی موجودہ اور آنے والے سالون میں آبادی سے متعلق اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ سامنے آئی ہے. اس رپورٹ کے مطابق 2050 تک دنیا کی آبادی 9 ارب 70 کروڑ اور 2100 تک 11 ارب ہونے کا امکان ہے۔ افریقی ممالک کی آبادی دو گنا ہو رہی ہے۔ پیر کو اقوام متحدہ کے محکمہ اقتصادی اور سماجی امور کی جانب سے جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق 2050 میں دنیا کی آدھی سے زائد آبادی نو ممالک میں رہائش پذیر ہو گی۔ جن میں پاکستان، امریکہ، انڈونیشیا، انڈیا، مصر، نائجیریا، کانگو، ایتھوپیا اورتنزانیہ شامل ہیں۔ دنیا کے سب سے گنجان آبادی والے ملک چین میں آبادی کی شرح 2019 سے 2050 تک 2.2 فیصد تک گر جائے گی یعنی 31.4 ملین تک کم ہو جائے گی۔

    27 ممالک یا علاقے ایسے ہیں جہاں 2010 سے بچے پیدا کرنے کی صلاحیت میں کمی کے باعث آبادی میں کم سے کم ایک فیصد کمی آئی ہے ۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بیلارُس، ایسٹونیا، جرمنی،ہنگری، اٹلی، جاپان،روس،سربیا، اور یوکرین میں شرح اموات شرح پیدائش سے زیادہ ہے تاہم آبادی میں کمی کا یہ تناسب تارکین وطن کی آمد کے باعث پورا ہو جائے گا۔
    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1990 میں دنیا میں مجموعی طور پر بچے پیدا کرنے کی صلاحیت میں 3.2 سے 2.5 تک کمی آئی، اب توقع ہے کہ 2050 تک یہ شرح 2.2 تک آ جائے گی۔جبکہ غریب ممالک سمیت عمومی طور پر متوقع عمر دنیا بھر کی اوسط عمرسے سات سال کم ہو گئی ہے۔دنیا بھر میں 2050 تک متوقع عمر 77.1 سال ہو جائے گی جو کہ اس وقت 72.6 سال ہے۔ 1990 میں متوقع عمر 64.2 سال تھی۔

  • بھارت: دماغی وائرس سے100 سے زیادہ بچے ہلاک

    بھارت: دماغی وائرس سے100 سے زیادہ بچے ہلاک

    بھارتی ریاست بہار میں دماغی بیماری کے باعث ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی ہے۔
    بھارتی حکام کےمطابق دماغی بیماری کا تعلق لیچی کے پھل سے جڑے وائرس سے ہے جبکہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت ہلاکتوں کی اصل وجہ معلوم کرنے میں اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے اس بیماری کا ذمہ دار لیچی کے پھل کو ٹھہرا رہی ہےحالانکہ ایسا نہیں ہےبعض لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ حکومت کا مؤقف لیچی کے خلاف ایک منظم سازش ہے۔
    ریاست بہاررواں سال جون کے آغاز سے ’ایکیوٹ انسیفلائٹس سنڈروم‘ نامی وائرس کے پھیلاؤ کا مقابلہ کر رہی ہے۔ریاست کے شہرمظفرپورمیں واقع کرشنا میڈیکل کالج اور ہسپتال میں اب تک 85 بچوں کی موت واقع ہو چکی ہے جبکہ ایک نجی ہسپتال کے ریکارڈ کے مطابق 18 بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ وائرس مقامی طور پر ’چمکی بخار‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اور 2014 میں اس نے 150 لوگوں کی جان لی تھی

    چند سال پہلے امریکی محققین نے تصدیق کی تھی کہ دماغی بیماری کا تعلق کسی پھل میں موجود زہریلے مواد سے ہے، تاہم انہوں نے لیچی میں یہ زہر ہونے کی تصدیق نہیں کی تھی۔ محققین نے واضح کیا تھا کہ بیماری کی تہہ تک پہنچنے کے لیے مزید تحقیق کرنا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بیماری سے مرگی، دماغی حالت میں تبدیلی یا پھرموت واقع ہو سکتی ہے۔ یہ وائرس مقامی طور پر ’چمکی بخار‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اور 2014 میں اس نے 150 لوگوں کی جان لی تھی۔ چمکی بخار 1995 سے ہر سال موسم گرما میں ریاست بہار کے ایک ہی ضلع میں پھیلتا ہے، جو لیچی کے پیدا ہونے کا موسم بھی ہے۔یہ وائرس بنگلہ دیش اور ویتنام کے لیچی اگانے والے علاقوں میں بھی پایا گیا ہے۔

    انڈیا کی شمالی ریاست بہارکا شمار ملک کی غریب ترین ریاستوں میں ہوتا ہے۔ اس کی آبادی 10 کروڑ ہے اور اس وقت شدید گرمی کی لہر کی لپیٹ میں بھی ہے جس کی وجہ سے 78 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں سے بیشتر کی عمر 50 سال سے زیادہ ہے۔