Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • ڈرون حملوں کے دو دن بعد آرامکو نے تیل سپلائی بحال کر دی

    ڈرون حملوں کے دو دن بعد آرامکو نے تیل سپلائی بحال کر دی

    سعودی عرب کی پٹرولیم کمپنی آرامکو نے ڈرون حملے میں متاثر ہونے والی تیل پائپ لائن کی مرمت کے بعد تیل کی فراہمی بحال کر دی ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر ڈرون حملوں کے بعد آرامکو نے تیل کی سپلائی معطل کر دی تھی جس کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، اب آرامکو نے تیل کی سپلائی بحال کر دی ہے. آرامکو کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ مشرقی سعودی عرب سے مغربی ساحل میں ینبع بندرگاہ تیل کی سپلائی متاثر ہوئی تھی، جسے دو دن میں بحال کر دیا گیا ہے.

    ایران امریکا جنگ کا خطرہ، ایران اور چین کا دشمن ایک،خطے میں کیا ہونیوالا ہے

    واضح رہے کہ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ حوثی باغیوں نے تیل کی تنصیبات پر ڈرون حملے کئے تھے جس سے پائپ لائنز متاثر ہوئی تھیں.

  • ایران جلد مذاکرات کرے گا، ٹرمپ، بات چیت کی ضرورت نہیں، ایران

    ایران جلد مذاکرات کرے گا، ٹرمپ، بات چیت کی ضرورت نہیں، ایران

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران جلد امریکا کے سامنے جھک جائے گا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران پر جو پابندیاں لگائی ہیں اس کے بعد ایران جلد امریکہ سے مذاکرات کے لئے تیار ہو جائے گا.

    ایران امریکا جنگ کا خطرہ، ایران اور چین کا دشمن ایک،خطے میں کیا ہونیوالا ہے

    امریکی صدر کے مذاکرات کے بیان کے بعد ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے امریکا کے ساتھ مزاکرات کو مسترد کر دیا ہے.

  • ایران امریکا جنگ کا خطرہ، ایران اور چین کا دشمن ایک،خطے میں کیا ہونیوالا ہے، اہم خبر

    ایران امریکا جنگ کا خطرہ، ایران اور چین کا دشمن ایک،خطے میں کیا ہونیوالا ہے، اہم خبر

    سعودی عرب کی آئل تنصیبات پرمیزائل حملوں کا الزام امریکہ نے ایران پر لگا دیا دوسری جانب امریکہ نے چینی کمپنی پر پابندی لگا دی، چین اور ایران کا دشمن ایک ہے ،موجودہ حالات میں خطے میں جنگ کا خطرہ ہے ،اگر ایران اور چین دشمن کے خلاف ایک ہو جائیں تو دونوں کی اکانومی بڑھ سکتی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سعودی عرب کی آئل تنصیبات پر ہونے والے حملے کے بعد پیدا شدہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں دوبارہ سے امن کو خطرہ ہے اورجنگ کے شعلے نظر آ رہے ہیں یہ جنگ بھارت اور پاکستان کے درمیان نہیں ہو گی. مبشر لقمان نے مزید کہا کہ پانچ دن قبل دو سعودی آئل ٹینکرز تباہ ہوئے، بظاہر عام سی بات لگتی ہے لیکن یہ حادثہ نہیں .یہ یو اے ای کے بارڈر پر ہوااور کہا جاتا ہے کہ ان سعودی آئل ٹینکرز کو میزائل سے تباہ کیا گیا ہے ،اس واقعہ سے چند دن قبل امریکہ نے ایک خفیہ رپورٹ دی تھی کہ ایران اس خطے میں کوئی تخریبی کاروائی کر سکتا ہے. یعنی امریکہ نے اس طرح کے حملے کی پہلے خبر دی تھی، جسوقت امریکہ نے یہ خفیہ رپورٹ دی تھی اس وقت سارے لوگ سہم گئے تھے ،مبشر لقمان نے مزید کہا کہ امریکہ کی رپورٹ کے بعد سعودی آئل ٹینکرز پر حملے ہو گئے اور میزائل حملوں کی وجہ سے وہ ٹینکرزبری طرح تباہ ہوئے. حملے کے بعد امریکہ نے ایک سیٹلائٹ تصویر بھی حاصل کر لی ہے جس میں دکھایا گیا ہے بوٹ کے اوپر میزائل لوڈ کئے جا رہے ہیں کہا جا رہا ہے کہ یہ وہی میزائل ہیں جو آئل ٹینکرز کو لگے ہیں.اس کی فرانزک رپورٹ آنی باقی ہے .

    ایران کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ یہ سب کچھ ایران کے خلاف بین الاقوامی سازش اور بہت بڑی سازش ہے، ایران پر جنگ مسلط کرنے کے لیے امریکہ کے ایما پر ڈھونگ رچایا جا رہا ہے. اس سے قبل کہ اقوام متحدہ یا کوئی اور اس کے بارے بات کرے امریکہ نے خطے میں فورسز بھجوانا شروع کر دی ہیں، اس کے علاوہ ائیر کرافٹ کیریر بھی موو ہو رہا ہے .

    مبشر لقمان نے مزید کہا کہ سعودی آئل ٹینکرز ہیں، یو اے ای کی زمین ہے، ،پرشین گلف ہے، ایران کے میزائل ہیں یا الزام ہے ،امریکہ الزام لگا رہا ہے اور برطانیہ نے اس کی حمایت کر دی ہے .

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ یہاں پر ختم نہیں ہوتا ،امریکہ نے چائنہ کی بڑی کمپنی ہواوے کے اوپر کاری الزامات لگائے اور تجارت بند کر دی، کچھ ماہ قبل خبر آئی تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر نے کہا تھا کہ ہواوے کے موبائل سپائیز کے لیے استعمال ہو رہے ہیں. ان میں کیمرہ یا چپ کچھ ایسا ہے جوسگنل ٹرانسمیٹ کرتے ہیں. اس کے بعد ہواوے کی سیل ڈراپ ہونی چاہئے تھی ، ہواوے فائیو جی ٹیکنالوجی بہت کم قیمت پر دے رہا ہے اس لئے بہت ساری امریکی کمپنی کا انحصار اس پر ہے، آج اس پر پابندی لگی ہے اور چائنہ اسوقت سب سے بڑا دنیا کا کنزیومر ہے اس کو انرجی چاہئے، ایران کے اوپر تھریٹس ہیں اس کو تیل کی تجارت کرنے کے لئے مشکلات ہیں ،ایسی صورت میں ایران اور چائنہ اکٹھے ہو جاتے ہیں ،اسوقت دونوں ایران اور چائنہ کا دشمن ایک ہے. اگر ایران اور چائنہ تیل کی ترسیل کا کام شروع کر دیتے ہیں ایران کو زبردست ڈالر مل سکتے ہیں. اس کو امریکہ کیسے دیکھے گا،ایران کے اوپر جنگ فوری مسلط کر دی جائے گی یا انتظار کیا جائے گا .

    مبشر لقمان نے مزید کہا کہ اگر میزائل حملے کی فرانزک رپورٹ آ جاتی ہے اور اس میں ثابت ہو جاتا ہے کہ سعودی آئل ٹینکرز پر یہی میزائل لگے تھے تو پھر جنگ کا خطرہ ہے .

    واضح رہے کہ سعودی عرب کے تیل کی تنصیبات اور ترسیلی نظام پر دو حملے ہو چکے ہیں. 12 مئی کو متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ پر دو سعودی جہازوں پر حملہ کیا گیا تھا ،دوسرا حملہ بحیرہ احمر کی ‘یانبو پورٹ’ پر ڈرون طیاروں سے کیا گیا تھا . جس کے بعد پمپنگ اسٹیشنز میں آگ لگنے سے آرامکو نے متاثرہ پائپ لائن سے تیل کی سپلائی روک دی تھی .

  • کونسے دو مشہور پاکستانی ورلڈ کپ میں کمنٹری کریں گے

    کونسے دو مشہور پاکستانی ورلڈ کپ میں کمنٹری کریں گے

    آئی سی سی نے رواں ماہ شروع ہونے والے ورلڈ کپ کیلیے کمنٹیٹرز کے پینل کا اعلان کردیا جن میں پاکستانی وسیم اکرم اور رمیز راجہ بھی شامل ہیں۔انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے ورلڈ کپ کیلیے پاکستانی وسیم اکرم اور رمیز راجہ کو پینل میں شامل کرلیاہے ۔

    یہ بھی پڑھیں کس کو ملیں گے چار ملین ڈالر کھیلوں کی دنیا کی بڑی خبر

    ان کے ساتھ اس میگا ایونٹ کے دوران کمنٹری باکس سنبھالنے والوں میں ناصرحسین، ای ین بشپ، ساروگنگولی ، میلین جونز، کمارسنگاکارا، مائیکل ایتھرٹن، الیسن مچل، برینڈن میک کولم، گریم اسمتھ، شان پولاک، مائیکل سلیٹر، مارک نکولس، مائیکل ہولڈنگ، ایشا گوہا، پومی ایمبانگوا، سنجے منجریکر، ہرشا بھوگلے، سائمن ڈول، ای ین اسمتھ، اطہر علی خان اور ای ین وارڈ بھی شامل ہیں شامل ہیں۔

  • افغانستان قندھار میں طالبان نے BLA کا ہیڈ کوارٹر بارود سے اڑا دیا

    افغانستان کے صوبے قندھار میں افغان طالبان نے دہشت گرد تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا ہیڈ کوارٹر بارود کے دھماکے سے اڑا دیا ہے.

    یاد رہے بلوچستان لبریشن آرمی آزاد بلوچستان کے نعرے کے ساتھ پاکستان میں پاکستانی اور چینی فورسز پر متعدد حملوں میں ملوث ہے. اسی طرح یہ تنظیم غیر بلوچ اقوام کے بھی مزدوروں اور دیگر لوگوں پر بھی حملے کرتی رہی ہے. ایک ہفتہ قبل گوادر پرل کانٹینینٹل ہوٹل پر حملے کی زمہ داری بھی بی ایل اے نے قبول کی تھی.
    انکا ہیڈ کوارٹر جو کہ مبینہ طور پر افغانستان میں کام کر رہا تھا باغی ٹی وی کی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق افغان طالبان نے ایک زبردست حملے میں اسے اڑا دیا ہے. جس میں کئی ایجنٹس کی ہلاک اور زخمی ہونے کا خدشہ ہے.

  • کس کو ملیں گے چار ملین ڈالر کھیلوں کی دنیا کی بڑی خبر

    کس کو ملیں گے چار ملین ڈالر کھیلوں کی دنیا کی بڑی خبر

    (مانیٹرنگ سیل) انٹر نیشنل کرکٹ کونسل(ICC) نے انگلینڈ اینڈ ویلیز میں رواں ماہ کے آخر میں کھیلے شروع ہونے والے ورلڈ کپ2019ءکے لیے انعامی رقم کا اعلان کردیا ہے ۔ورلڈ کپ 2019 کے لیے مجموعی طور پر ایک کروڑ ڈالر(تقریبا 1.5ارب پاکستانی روپے) کی انعامی رقم رکھی گئی ہے جبکہ ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم 14جولائی کو 4ملین ڈالرز( تقریباً 57کروڑ57لاکھ20ہزار پاکستانی روپے) کی انعامی رقم جیتے گی،ایونٹ کی رنر اپ ٹیم2ملین ڈالرز(28کروڑ78لاکھ60ہزار پاکستانی روپے) کا چیک وصول کرے گی،سیمی فائنلز ہارنے والی دونوں ٹیموں کو 8لاکھ ڈالرز(11کروڑ51لاکھ44ہزار پاکستانی روپے) کی انعامی رقم ملے گی،لیگ مرحلے میں کامیاب ہونے والی تمام ٹیموں کو 1لاکھ ڈالرز(1کروڑ43لاکھ93ہزار پاکستانی روپے) دیئے جائیں گے جب کہ لیگ مرحلے میں میچ جیتنے والی ہر ٹیم کو 40ہزار ڈالرز(57لاکھ 57ہزار200پاکستانی روپے) کا چیک ملے گا ۔

  • صحافی، انتظامیہ کا آسان ہدف۔۔۔۔۔۔۔۔

    صحافی، انتظامیہ کا آسان ہدفصحافی معاشرے کی آنکھ ہوتا ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ قوموں کی تربیت کرنے، ان کی ترقی کا رخ متعین کرنے، حکومتیں بنانے اور گرانے میں قلم کا کردار سب سے زیادہ ہے لیکن آئے دن صحافیوں پر تشدد اور ہراسمنٹ کے واقعات نے صحافیوں میں خوف و ہراس پیدا کر رکھا ہے سرمایہ کاروں اور انتظامیہ کی جانب سےتیار کردہ صحافی یا وہ لوگ جنہوں نے اپنے مجرمانہ ریکارڈ کو چھپانے کے لیے صحافت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے وہ سچ لکھنے اور حقائق چھپانے کو مصلحت کا نام دے کر اپنا طرہ بلند رکھے ہوئے ہیں صحافیوں پر تشدد کے واقعات عموما سیاستدانوں، محکمہ صحت اور پولیس کے اہلکاروں کی جانب سے دیکھے گئے ہیں تشویش ناک عمل تو یہ ہے کہ پولیس کی جانب سے تشدد کے واقعات کی انکوائری پولیس ملازم ہی کرتا ہے ایسی صورت میں انصاف ملنا تو درکنار الٹا مدعی صحافی کو ہی مجرم ٹھہرا دیا جاتا ہے اور اس سارے عمل میں مندرجہ بالا مذکورہ اقسام کے صحافی مصلحت قرار دے کر ظالم کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں بس یہی وجہ ہے کہ صحافیوں پر تشدد اور ہراسمنٹ کے واقعات کو روکنے کے لیے جلد از جلد قانون سازی کے ضرورت ہے

    پاکستان پریس فاونڈیشن کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق سال 2002 سے 2019 تک صحافیوں پر تشدد کے 699 واقعات ریکارڈ کیئے گئے ہیں ان 17 سالوں میں 42 صحافیوں کو پولیس نے ہراست میں لے کر حبس بے جا میں رکھا، 22 صحافیوں کو اغواء کیا گیا ان تمام واقعات میں 185 صحافی زخمی ہوئے اور 73 صحافی پیشہ ورانہ امور انجام دیتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے

    صحافتی امور انجام دینے پر تشدد کا ایک واقعہ لیہ میں ڈان اخبار کے رپورٹر فرید اللہ چوہدری کے ساتھ بھی پیش آیا جو واضح کرتاہے کہ صحافیوں کو خود اپنے لئے انصاف کے حصول میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے فرید اللہ چوہدری نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ستمبر 2010 کے پہلے ہفتے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال لیہ میں نرسنگ سکول کی طلبات نے احتجاج کیا اور کوریج کے لیے میڈیا کو کال دی ہم پریس کلب سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پہنچے تو نرسنگ سکول کی پرنسپل وکٹوریہ نے میڈیا نمائندگان کو اندر جانے سے منع کر دیا اور ہمیں گیٹ پر روک لیا گیا اندر طلبات کا شور تھا اس لیے ہم وہیں موجود رہے تاکہ حالات کا جائزہ لے سکیں لگ بھگ دس منٹ گزرنے کے بعد ای ڈی او ہیلتھ لیہ ڈاکٹر مختار حسین شاہ ہنگامی طور پر وہاں پہنچے اور صحافیوں کو گیٹ پر ہی چھوڑ کر طلبات کے پاس چلے گئے تاکہ مسئلہ سنا جائے اورمذاکرات کیے جا سکیں۔نرسنگ سکول کی طلبات نے احتجاج کیا کہ ہم معاملہ میڈیا نمائندگان کی موجودگی میں ہی سنائیں گی ورنہ احتجاج جاری رہے گا حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجبورا ای ڈی او نے میڈیا نمائندگان کو اندر آنے کی اجازت دے دی۔ ہماری موجودگی میں نرسنگ سکول کی طلبات نے بتایا کہ فیئرویل پارٹی کے موقع پر ہماری پرنسپل وکٹوریہ نے ای ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر مختار حسین شاہ کی بیگم( جو کہ اسی سکول میں لیکچرار تھیں) کو کچھ قیمتی تحفے دیئے اور پارٹی ختم ہونے پر وہ بھاری رقم ہمارے وظیفے سے کٹوتیاں کر کے پوری کی جا رہی ہے جو کہ ہمیں نا منظور ہے

    فریداللہ چوہدری نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے مزید بتایا کہ ہم میڈیا نمائندگان نے نرسنگ سکول کی طلبات کے بیانات قلم بند کر لیے اور میں نے اگلے دن ڈان اخبار میں تمام سٹوری چھاپ دی جس کے بعد مجھے بذریعہ فون دھمکیاں ملیں کہ نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا اور کچھ دستوں سے پیغام ملا کہ ای ڈی او کی بیوی کا نام چھپنے کی وجہ سے وہ غصے میں ہے اس لیے محتاط رہیں میں نے معاملے کو زیادہ سنجیدہ نہیں لیا۔ تھوڑے ہی دنوں بعد ہمارے دوست عزیز عدیل علیل تھے تو ان کی تیمارداری کے لیے رات 8 بجکر 30 منٹ پر ہمراہ غلام مصطفی جونی ایڈووکیٹ اور عبدالستار علوی کے میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پہنچا تیمار داری کے بعد خبر کے فالو اپ کے حوالے سے ڈان اخبار کے ڈیسک سے کال آئی تو میرے ساتھیوں نے مجھے فون پر مصروف چھوڑ کر آگے آگے چلنا شروع کر دیا بجلی نہ ہونے کہ وجہ سے اندھیرا تھا۔ کچھ لوگ میرے قریب آئے اور مجھے پوچھا کہ کیا آپ کا نام فرید اللہ ہے میں نے جواب دیا کہ ‘جی’ تو انہوں نے مجھے پر ہلہ بول دیا اور یہی کہتے رہے کہ آج تمہیں رپورٹنگ سیکھاتے ہیں ہم آج تمہیں رپورٹر بناتے ہیں ان افراد کی تعداد 6 تھی ایک نے مجھ پر چھری سے وار کیا لیکن کپڑے کھلے ہونے کے وجہ سے چھری قمیض کےدائیں جیب پر لگی اور وہاں پھنس گئی شور شرابہ ہونے اورموٹر سائیکل گرنے پر میرے ساتھیوں سمیت سب لوگ متوجہ ہوئے اور ہماری طرف لپکے لیکن اتنی دیر میں حملہ آور بھاگنے میں کامیاب ہوچکے تھے

    فریداللہ چوہدری نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے مزید بتایا کہ ہم نے پولیس کو کال کی اور سامان پورا کیا تو پتہ چلا کہ فرنٹ والی جیب پھٹنے کی وجہ سے جیب میں موجود 13 ہزار روپے اور موبائل غائب ہے تلاش کرنے پر موبائل تو مل گیا لیکن پیسے نہ مل سکے اس سارے واقعے کا اندراج پولیس تھانہ سٹی لیہ میں مقدمہ نمبر623/10 زیر دفعات 379/506 اور 147/148 درج کر لیا گیا ہمارے اپنے نیٹ ورک کے ذریعے ہم حملہ آوروں کے نام تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے اور اس وقت کے صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب محمد یعقوب مرزا نے ملزمان نامزد کروا دیئے چونکہ ای ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر مختار حسین شاہ اس وقت کے ڈی سی او جاوید اقبال مرحوم کے قریبی دوست تھے اس لیے ڈی سی او کے توسط سے اس وقت کے ڈی پی او چوہدری محمد سلیم کو کہلوا کر بغیر انکوائری کےمیرا مقدمہ خارج کروا دیا گیا سارے معاملے کی سٹوری ڈان میں چھپی معاملہ گرم ہوا لیکن انتظامیہ کی ملی بھگت سے پردہ ڈال دیا گیا۔ وقت گزرتا رہا لگ بھگ 3 ماہ کے بعد علاقہ مجسٹریٹ نے خارج ہونے والے مقدمات کو دیکھتے ہوئے میرے مقدمے کا نوٹس لیا اور اپنی عدالت میں ہی اس معاملے کی سماعت کے لیے مجھے مدعو کر لیا پیش ہوکر میں نے بتایا کہ مقدمے کا اخراج میرے علم میں نہیں اور نہ ہی پولیس نے مجھے انکوائری کے لیے ایک سے زائد بار بلایا ہے اور یوں میرا مقدمہ دوبارہ کھول دیا گیا اور سماعت شروع ہوگئی

    فریداللہ چوہدری نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ابھی مقدمے کی انکوائری چل رہی تھی کہ نرسنگ سکول کی طلبہ نے ایک بار پھر احتجاج کی کال دے دی لیکن اس بار وہ صدر بازار لیہ میں دھرنا دینے کے لیے آئی تھیں انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ رات کو نرسنگ سکول کی پرنسپل وکٹوریہ نوجوان طلبات کو انتظامیہ کے بڑے آفیسرز اور سیاستدانوں کی کوٹھیوں اور رہائش گاہوں پر جانے کے لیے مجبور کرتی ہے ہمیں برے کام کی دعوت دی جاتی ہے ہمیں برائی سے بچایا جائے۔ یہ یقینا بہت پریشان کن اور حیران کن خبر تھی جس نے پورے پاکستان میں کھلبلی مچادی ہر انسان ادھر متوجہ تھا اس احتجاج میں اس وقت کے پاکستان پیپلز پارٹی کے منتخب ایم پی اے افتخار بابر خان کھتران ، وزیر زراعت پنجاب ملک احمد علی اولکھ، مسلم لیگ ن کے ایم پی اے مہر محمد اعجاز اچلانہ سمیت بڑی بڑی سیاسی شخصیات نے طلبات کا ساتھ دیا ای ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر مختار حسین شاہ فورا 3 ماہ کی چھٹیوں پر چلے گئے اور یہ دھرنا صدر بازار سے ختم ہو کر پریس کلب لیہ کے سامنے مسلسل 7 دن جاری رہا بلآخر انتظامیہ نے طلبات کے مطالبات مانے اور انہیں سکول واپس جانے کے لیے قائل کر لیا گیا البتہ یہ کیس وفاق محتسب کے پاس چلا گیا

    فریداللہ چوہدری نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے مزید بتایا کہ معاملے کو یہاں تک پہنچتے 2 سال لگ گئے اس دوران محکمہ ہیلتھ نے نئے صحافیوں کا ایک گروپ لانچ کیااخراجات کر کے انہیں مختلف اخبارات اور چینلز کی نمائندگی لے کر دی تاکہ محکمہ صحت کی کرپشن اور بے ضابطگیوں کے خلاف جو صحافی خبریں لگائے اس کی تردید بھی کی جاسکے اور متعلقہ صحافی کی ذات پر کیچڑ بھی اچھالا جا سکے۔ انہیں دنوں ای ڈی او ہیلتھ کے چھوٹے بھائی سید گلزار حسین شاہ نے ایل ایل بی مکمل کرنے کے بعد بار ایسوسی ایشن لیہ کو جوائن کر لیااور میرے گواہ وکیلوں کو ووٹ کے لالچ پر پیش ہونے سے قاصر کر دیا گیا مجھے معاشرتی دباو پر صلح کے لیے آمادہ کیا گیا۔ میرے گواہ منحرف ہونے کے بعد میں صلح پر مجبور ہوگیا اس لیے کمرہ عدالت میں ملزمان کی جانب سے معافی مانگنے پر انہیں معاف کردیا۔ معافی کے وقت علاقہ مجسٹریٹ مسلسل مجھے سوچنے کی مہلت لینے کا کہتے رہے اور بار بار کہا کہ مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچنے دو لیکن گواہوں کی انحراف کی وجہ سے میں مجبور تھا اس لیے معاف کر دینا ہی واحد حل بچتا تھا

    سباق صدر پریس کلب لیہ محمد یعقووب مرزا نے اس معاملے پر سماء سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صحافیوں پر تشدد اور ہراسمنٹ کے زیادہ تر واقعات انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے ہوتے ہیں اس وقت ہم گواہوں کے منحرف ہو جانے کی وجہ سے عدم پیروی کاشکار ہوگئے تھے نرسنگ سکول کی طلبات والا معاملہ قائمہ کمیٹی ویمن رائٹس کے پاس چلا گیا تھا سیکٹری کے طلب نہ ہونے پر انکوائری کمیٹی کی انچارج اے این پی کی ایم این اے نے ایڈیشنل سیکرٹری کو ڈانٹ پلائی تھی اور معاملہ وفاقی محتسب کو بھیج دیا گیا تھا کیونکہ کیس بیورو کریسی کے خلاف تھا اور پیروی طلبات نے کرنی تھی اس لیے کوئی خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کیپٹن (ر) رانا طاہرالرحمان نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فریداللہ چوہدری پر تشدد کا واقعہ مجھ سے پہلے کا ہے مجھے اس واقعے کے حالات و واقعات کے بارے میں علم نہیں ہے صحافیوں پر تشدد کے واقعات انتہائی افسوس ناک ہیں ایجنسیز کی رپورٹ کے مطابق ہمیں علم ہوتا ہے کہ اچھے اور برے صحافی کون کون ہیں آئندہ میٹنگ میں ایماندارصحافیوں کے ساتھ اچھے رویے کو زیر بحث لایا جائے گا فریداللہ چوہدری تربیت یافتہ اور منجھے ہوئے صحافی ہیں صحافیوں پر تشدد کے واقعات عموما عدم برداشت کا نتیجہ ہیں

    چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ لیہ ڈاکٹر امیر عبداللہ نے اس واقعے کی متعلق سوال پر سماء کو بتایا کہ جن دنوں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں فرید اللہ چوہدری کے ساتھ تشدد کا واقعہ پیش آیا تو ان دنوں میں میڈیکل آفیسر تھا اس لیے وہ واقعہ مکمل طور پر یاد ہے عموما لیہ کے ہسپتالوں میں صحافیوں پر تشدد کے واقعات پیش نہیں آتے یہ اس وقت اپنی نوعیت کا شاید پہلا واقعہ تھا جس پر سب حیران تھے ہماری پوری کوشش ہے اور تمام عملے کو ہدایت بھی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائےکہ ہسپتالوں میں تشدد کے واقعات پیش نہ آئیں بلکہ صحافیوں کے معاملات با احسن طریقے سنے جائیں اور ان سے متعلق شکایات متعلقہ پریس کلب کو بھیجی جائیں اگر وہاں مسائل حل نہ ہوں تو قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔

    صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب لیہ عبدالرحمان فریدی نے اس مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے سماء کو بتایا کہ صحافیوں پر تشدد اور ہراسمنٹ کے واقعات کے پیش نظر ہم اپنے صحافی بھائیوں کا بھرپور ساتھ دیتے ہیں ڈاکٹرز کی جانب سے ہمارے سینئر بزرگ صحافی عارف نعیم ہاشمی پر تشدد کے واقعے پر ڈپٹی کمیشنر اور محکمہ صحت کے آفیسران سمیت ڈاکٹرز نے بھی صحافیوں سے معافی مانگی تھی مختلف این جی اوز کے تحت صحافیوں کے لیے تربیتی ورکشاپس منعقد کرواتے رہتے ہیں انشااللہ جلد صحافیوں کی فیزیکل سیفٹی کے حوالے سے تربیتی نشست کا اہتمام کریں گے

    اسی نوعیت کا ایک واقعہ 5 اپریل 2019 کو تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال تونسہ میں نجی ٹی وی چینل کے نمائندے غضنفر ہاشمی کے ساتھ بھی پیش آیا غضنفر ہاشمی نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اجتماعی زیادتی کیس پر ڈاکٹرز میڈیکل رپورٹ کے لیے متاثرہ بچی کے لواحقین کو گزشتہ 14 گھنٹے سے ذلیل کر رہے تھے ہم متاثرین کی کال پر کوریج کرنے وہاں پہنچے تو ہمیں ڈاکٹرز کی جانب سے گالم گلوچ اور دھکم پیل کا سامنا کرنا پڑا جب یہ سارا معاملہ ڈپٹی کمیشنر کے نوٹس میں لایا گیا تو انہوں نے انکوائری کمیٹی بنا دی جس نے آج تک کوئی پیش رفت نہیں کی اور معاملہ سرد خانے کی نظر ہے۔ آئے دن صحافیوں کے ساتھ تشدد اور ہراسمنٹ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر جلد ازجلد قانون سازی کی ضرورت ہے پریس کلبز کے رہنماوں کو چاہیے کہ صحافیوں کی فیزیکل سیفٹی کے حوالے سے تربیتی نشستوں کا اہتمام کریں اور صحافیوں کو اطلاعات تک رسائی کے قانون (رائٹ ٹو انفارمیشن لاء) کو استعمال کرنے کی بھی تربیت دی جائے تاکہ قانون کا اطلاق موثر ہوسکے ہر شہر کے پریس کلب کے صدر کو چاہیے کہ صحافیوں پر مقدمات اور صحافیوں کی جانب سے مقدمات کا ریکارڈ مرتب کرنے کے لیے پولیس سٹیشنز حکام کے ساتھ میٹنگز کریں اور پریس کلب ممبر شپ کے لیے سکیورٹی اداروں سے سکیورٹی کلیئرنس لازمی قرار دی جائے تاکہ جرائم پیشہ عناصر کی بیخ کنی ہو سکے۔

  • مودی کی ریلی میں مودی پکوڑا بیچنے پر طلبا گرفتار

    مودی کی ریلی میں مودی پکوڑا بیچنے پر طلبا گرفتار

    بھارتی ریاست چندی گڑھ میں مودی کی ریلی میں انجینئرنگ، بی اے اور ایل ایل بی کے طلبا نے پکوڑے فروخت کرنے شروع کئے تو پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست چندی گڑھ میں بھارتی وزیر اعظم بی جے پی کے امیدوار کرن کھیر کی انتخابی مہم کے لئے ریلی میں پہنچے تو وہان طلباء نے ریلی کے مقام پر پکوڑے فروخت کرنا شروع کر دئے جس پر پولیس نے طلبا کو حراست میں لے لیا. طلباء کا کہنا تھا کہ ہم وزیر اعظم مودی کی ریلی میں پکوڑے فروخت کرنے آئے ہیں تا کہ وہ جان سکیں کہ پڑھے لکھے نوجوانوں کے لئے پکوڑا فروخت کرنا کتنا بڑا کام ہے. طلبا کا کہنا تھا کہ پکوڑا منصوبہ کے تحت مودی نے روزگار دینے کا اعلان کیا تھا آج ہم پکوڑوں سے مودی کا استقبال کرنے آئے تھے.

    واضح رہے کہ گزشتہ برس جنوری میں بھارتی وزیر اعظم مودی سے بے روزگاری پر ایک سوال ہوا تو مودی نے کہا تھا کہ لوگ پکوڑے بیچ کر ایک دن میں دو سو روپے کما لیتے ہیں ایسے لوگوں کو بے روزگار نہیں کہا جا سکتا.

  • پاکستانی ٹرک آرٹ کے سپین میں چرچے

    پاکستانی ٹرک آرٹ فنکاروں کا "پھول پتی” نامی ایک گروپ محبتوں اور امن کا پیغام لے کر آج کل سپین کے شہر میڈرڈ میں اپنے فن کا مظاہرہ کر رہا ہے ۔اس ثقافتی گروپ کے اعزازمیں سپین میں تعینات پاکستانی سفیر خیام اکبر نے اپنی رہائش گاہ "پاکستان ہائوس” پرایک تقریب کا بھی اہتمام کیا۔

    اس تقریب میں انڈیا،بنگلہ دیش، مصر ،پیرو، سویڈن، آسٹریا، آسٹریلیا، نائیجیریا، آزربائیجان ، قزاقستان سمیت قریبا 30 ممالک کے سفیروں ،سپینش فارن آفس کے عہدیداران اور اہم کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔دنیا کو پاکستان ٹرک آرٹ کے سحر میں مبتلا کرنے کے لئے پاکستانی سفارت خانے کی جانب سےٹرک آرٹ کے خوبصورت نقش ونگار سے سجی ایک مرسیڈیز کار کو بھی تقریب کی زینت بنایاگیا ۔

    مختلف ممالک کے سفرا اور گورے تو ٹرک آرٹ کے اتنے دیوانے ہوئے کہ انہوں نے خاص طور پر اس مرسیڈیز کار کے ساتھ تصاویر بنوائیں ۔ٹرک آرٹ سے منسلک فن کاروں نے تقریب میں موجود مہمانوں کے نام خوبصورت انداز میں تحریر کرکے انہیں بطور تحفہ پیش کئے۔

  • پاکستان حملہ کر دے گا، بھارتی فضائیہ کو کہاں لگا دیا گیا جان کر ہوں حیران

    پاکستان حملہ کر دے گا، بھارتی فضائیہ کو کہاں لگا دیا گیا جان کر ہوں حیران

    پاکستان کسی بھی وقت بھارت پر حملہ کر سکتا ہے، حملے سے بچاو کے لئے بھارت سرکار نے لائن آف کنٹرول کے قریب بھارتی ائیر فورس کے بیس بنانے کا فیصلہ کیا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کو خدشہ ہے کہ پاکستان کسی بھی وقت بھارت پر حملہ کر سکتا ہے، جس کی وجہ سے بھارت سرکار نے لائن آف کنٹرول پر فضائی یونٹ لانے کا فیصلہ کیا ہے. بھارتی ایئر فورس کے بیس کیمپ لائن آف کنٹرول پر بنائے جائیں گے اور اگر پاکستان نے فضائی حملہ کی کوشش کی تو اسے ناکام بنایا جائے گا.

    واضح رہے کہ پلوامہ حملہ کے بعد بھارت نے بالا کوٹ پر رات کے اندھیرے میں پے رول گرانے کے بعد ہنگامہ کھڑا کیا تھا جس کے اگلے روز پاکستان نے بھارت کے دو طیارے گرائے اور بھارتی پائلٹ ابھینندن کو گرفتار کر لیا تھا، جسے وزیر اعظم عمران خان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت رہا کیا تھا.