Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • مقبوضہ کشمیر کے تین بڑے ایئرپورٹس کا آپریشنل کنٹرول بھارتی فوج کے حوالے

    مقبوضہ کشمیر کے تین بڑے ایئرپورٹس کا آپریشنل کنٹرول بھارتی فوج کے حوالے

    بھارتی ایئرفورس نے مقبوضہ کشمیر کے تین بڑے ایئرپورٹس کا آپریشنل کنٹرول خود سنبھال لیا

    تفصیلات کے مطابق بھارتی ایئرفورس نے مقبوضہ کشمیر کے تین بڑے ایئرپورٹس کا آپریشنل کنٹرول خود سنبھال لیا ہے۔ تینوں ایئرپورٹس کے توسیعی منصوبے کے لئے 77کروڑ روپے سے زائد مختص کر دئے گئے ان ایئرپورٹس میں سری نگر ایئرپورٹ، جموں ایئرپورٹ اور لیح ایئرپورٹ شامل ہیں۔ بھارتی اخبار کے مطابق بھارتی ہوابازی کی وزارت نے تینوں ایئرپورٹس کے توسیعی منصوبے کیلئے 495، 323اور 77کروڑ روپے مختص کر دیئے ہیں۔ ایئرپورٹس کی توسیع کا منصوبہ ستمبر 2022ء میں مکمل ہو گا۔

    اس منصوبے کے تحت سری نگر ایئرپورٹ پر 65ایکڑ اضافی زمین پر نیا ٹرمینل بنایا جائے گا۔ لیح ایئرپورٹ پر 11ایکڑ زمین پر بھی نیا ٹرمینل بنے گا۔ اخبار کے مطابق ان تینوں ایئرپورٹس کا آپریشنل کنٹرول بھارتی ایئرفورس کے پاس ہے۔ بھارتی ایئر فورس ایئر ٹریفک کنٹرول، لینڈنگ اور دوسرے امور کی نگرانی کر رہی ہے۔

  • یورپ کے انتباہ کے باوجود ترکی کا قبرص کے سامنے قدرتی گیس کی تلاش کا فیصلہ

    یورپ کے انتباہ کے باوجود ترکی کا قبرص کے سامنے قدرتی گیس کی تلاش کا فیصلہ

    ترکی قبرص کے سامنے متنازعہ سمندر میں تیل اور قدرتی گیس کی تلاش کا کام شروع کرنے کی تیاری میں ، خطے میں کشیدگی جنم لے سکتی،

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ترکی کے وزیر توانائی فتحی سونمیز کے اعلان کے مطابق ترکی کا دوسرا بحری جہاز آئندہ چند روز میں قبرص مقابل سمندر میں تیل اور قدرتی گیس کی تلاش کا کام شروع کر دے گا۔ مبصرین کے مطابق اس اقدام سے ترکی اور قبرص کے درمیان تعلقات کے تناؤ میں اضافہ ہو گا جو بحیرہ روم کے مشرق میں تیل اور قدرتی گیس کی قانونی فیلڈز کے حوالے سے اختلافات کے سبب بگاڑ کا شکار ہیں۔

    ترکی کا یہ ارادہ اس وقت سامنے آیا جب قبرص نے ترکی کو اس کے منع کیا ہے کہ متنازع سمندری زون میں قدرتی گیس کی تلاش کی کارروائیاں روک دی جائیں ،،، تا کہ یورپی یونین کے ممالک انقرہ کے خلاف اقدامات پر مجبور ہ ہو جائیں۔

    یورپی یونین کے ذمے داران کی جانب سے یہ دھمکیاں یونان اور قبرص کے دباؤ کے جواب میں سامنے آئیں۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ یورپی یونین کے رکن ممالک اس معاملے میں مداخلت کریں۔ گذشتہ ماہ ترکی کے بحری جہاز "فاتح” نے قبرص کے ساحلوں کے مقابل ڈرلنگ اور تلاش کی سرگرمیاں انجام دی تھیں۔ اس کے نتیجے میں قبرص کے حکام جہاز کے عملے کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے پر مجبور ہو گئے۔

    قابل ذکر بات یہ ہے کہ انقرہ جو قبرص کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں رکھتا، اُس کا دعوی ہے کہ قبرصی ساحلوں کے مقابل بعض سمندری علاقے ترکی کے یا ترک قبرصیوں کے زیر انتظام آتے ہیں۔ یہ علاقے خصوصی اقتصادی زون یعنی Exclusive Economic Zone (EEZ) کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ترک قبرصیوں نے جزیرہ قبرص کے شمال میں ایک علاحدہ ریاست بنا لی ہے۔ اس ریاست کو ترکی کے سوا کوئی تسلیم نہیں کرتا

    واضح رہے کہ 1913ء میں برطانوی نو آبادیاتی بننے والا قبرص 1960ء میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ 11 سال تک فسادات کے بعد 1964ء میں اقوام متحدہ کی امن فوج تعینات کی گئی جس کے بعد جزیرے کے یونان کے ساتھ الحاق کیا گیا جس پر ترکی نے 1974ء میں جزیرے پر حملہ کر دیا۔ اس کے نتیجے میں شمالی قبرص میں ترکوں کی حکومت قائم ہوگئی جسے ترک جمہوریۂ شمالی قبرص کہلاتی ہے تاہم اسے اقوام متحدہ تسلیم نہیں کرتی۔ شمالی قبرص اور قبرص ایک خط کے ذریعے منقسم ہیں جسے "خط سبز” کہا جاتا ہے۔ شمالی قبرص کو صرف ترکی کی حکومت تسلیم کرتی ہے۔ جمہوریہ قبرص یکم مئی 2004ء کو یورپی یونین کا رکن بنا۔

  • تیج بہادر مودی کی الیکشن میں کامیابی کے بعد گیا عدالت

    تیج بہادر مودی کی الیکشن میں کامیابی کے بعد گیا عدالت

    بھارتی وزیراعظم مودی کی آبائی حلقہ سے کامیابی کو عدالت میں چینلج کر دیا گیا

    کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر مودی کا مقابلہ کرنے پہنچا تیج بہادر سپریم کورٹ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وارانسی سیٹ سے الیکشن جیتنے پر بھارتی وزیراعظم مودی کی کامیابی کو الہ آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے، مودی کی کامیابی کو سی آر پی ایف کے سابق سپاہی تیج بہادر یادو نے چیلنج کیا ہے، تیج بہادر نے الیکشن کے خلاف درخواست جمع کروائی ہے.

    مودی کے مقابلے میں امیدوار تیج بہادر بارے الیکشن کمیشن کا بڑا فیصلہ

    واضح رہے کہ بھارت میں الیکشن کے نتائج کے 45دن کے اندر درخواست دائر کی جا سکتی ہے.

    تیج بہادرکی درخواست پر بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ، بڑی خبر آ گئی

    واضح رہے کہ بھارتی وزیر اعظم مودی کے مقابلے میں الیکشن لڑنے والے سابق فوجی اہلکار تیج بہادر کے کاغذات نامزدگی الیکشن کمیشن نے منسوخ کر دئیے تھے ، تیج بہادر نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو غلط قرار دیا تھا تیج بہادر نے مودی کے مقابلے میں الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا اس نے وارانسی سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے.

  • لبیا:جنرل حفتر کے بعض ٹھکانوں پر سرکاری فوج کا حملہ

    لبیا:جنرل حفتر کے بعض ٹھکانوں پر سرکاری فوج کا حملہ

    لیبیا :جنرل حفتر کے بعض ٹھکانوں پر سرکاری فوج نے حملہ کیا ہے

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق لیبیا میں عالمی تسلیم شدہ قومی مفاہمتی حکومت نے کہا ہے کہ دارالحکومت طرابلس کے جنوب میں ریٹائرڈ جنرل خلیفہ حفتر کی ملیشیا کے نئے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہےلیبیا :جنرل حفتر کے بعض ٹھکانوں پر سرکاری فوج کا حملہ
    لیبیا میں عالمی تسلیم شدہ قومی مفاہمتی حکومت نے کہا ہے کہ دارالحکومت طرابلس کے جنوب میں ریٹائرڈ جنرل خلیفہ حفتر کی ملیشیا کے نئے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ سرکاری فوج نے "برکان الغضب” نامی آپریشن شروع کر رکھا ہے جس کے ترجمان مصطفی الماجی نے بتایا ہے کہ طرابلس کے پرانے ہوائی اڈے سے ملحقہ الاحیا٫ البریہ ، السبیعہ اور الکزرمہ کے علاقوں میں یہ کاروائی کی گئی ہے ۔

    ریاٹائرڈ جنرل حفتر کی ملیشیا ٫ حکومت کے خلاف 4 اپریل سے دارالحکومت کی سرکوبی کےلیے آپریشن شروع کیے ہوئے ہے ۔

  • امریکا اور یورپ نے ایران کو بھیانک نتائج سے خبردار کر دیا

    امریکا اور یورپ نے ایران کو بھیانک نتائج سے خبردار کر دیا

    یورینیم کو افزودہ کرنےپر امریکا و یورپ نے ایران کو پھر سے خبر دار کیا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی سےجوہری ہتھیار بنا رہا ہے.

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق یورینیم کو افزودہ کرنےپر امریکا و یورپ نے ایران کو پھر سے خبر دار کیا ہے کہ وہ اس سےجوہری ہتھیار بنا رہاہے.اس سلسلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یورینیم کی افزودگی کی سطح بڑھانے سے متعلق ایرانی اعلان پر اپنے پہلے تبصرے میں ایک بار پھر یہ موقف دہرا چکے ہیں کہ تہران کے لیے ایٹمی ہتھیاروں کا حصول کبھی ممکن نہیں ہو گا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "ایران کو چاہیے کہ خبردار رہے ، وہ ایک ہی وجہ سے یورینیم افزودہ کر رہا ہے۔ میں یہ نہیں بتاؤں گا کہ وہ سبب کیا ہے مگر یہ اچھا نیں ہے، بہتر ہے کہ وہ خبردار رہیں”۔

    ادھر یورپ کی جانب برطانیہ نے زور دیا ہے کہ ایران کو ایٹمی طاقتوں کے کلب سے باہر رکھنے پر کام کرنا فرانس اور جرمنی کے لیے بھی اولین ترجیحات میں سے ہے۔ برطانیہ کے مطابق وہ اس بات کی تصدیق کے لیے کوششیں کر رہا ہے ایران 2015 میں طے پائے گئے جوہری معاہدے پر کاربند رہے۔

    ایران نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ وہ کسی بھی سطح پر اور کسی بھی مقدار میں یورینیم کی افزودگی کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ اسی طرح ایران کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ جوہری معاہدے میں مقررہ حد سے کہیں زیادہ تناسب کے ساتھ یورینیم افزودہ کرے گا۔
    خیال رہے ک کو ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا تھا کہ ان کا ملک چار روز کے بعد یورینیم کی افزودہ شدہ مقدار کو3 اعشاریہ 67 فی صد تک لےجانے کے لیے کام شروع کردے گا۔

    واضح رہے کہ قبل ازیں امریکہ نے ایران کی طرف سے امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی صورت میں‌ ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی بھی دھمکی دی تھی. ادھر ایران نے بھی امریکی دھمکیوں‌ پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کا طرز عمل بے وقوفانہ اور عقل سے عاری ہے. ایران کی طرف سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ اگر ان کی حدود کی خلاف وری کا سلسلہ بند نہ ہوا تو وہ مزید ڈرون گرانے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں.

  • پروفیشنل فٹ بالر لیونل میسی کو کیریئر میں دو ریڈ کارڈز مل گئے

    پروفیشنل فٹ بالر لیونل میسی کو کیریئر میں دو ریڈ کارڈز مل گئے

    ساؤ پاؤلو میں کھیلے جانے میچ میں ارجنٹائنا نے چلی کو 2-1 سے شکست دے کر کوپا امریکا فٹبال میں تیسری پوزیشن حاصل کرلی تاہم پروفیشنل فٹ بالر کو اپنے کیریئر میں دو ریڈ کارڈز مل گئے.

    میچ کے دوران سیکنڈ ٹائم میں لیونل میسی اور چلی کے کپتان گرے میڈیل کو ہاف ٹائم سے 8 منٹ قبل میدان بدر کردیاگیا، فاتح ٹیم کے لیے پہلے ہاف میں سرجیو اگیورو اور پاؤلو ڈیابیلا نے گول کیے، تاہم میچ میں دو پلیئرز کو ایک ساتھ ریڈ کارڈ دکھاکر میدان سے باہر بھیجا گیا۔

    دونوں پلیئرز کے درمیان گیند پر قبضے کیلیے جسمانی تکرار ہوئی، تاہم اس معاملے پر میڈیل کو ایک یلو کارڈ دکھایا جاسکتا تھا لیکن پیراگوئے سے تعلق رکھنے والے ریفری ماریو ڈیاز نے دونوں کپتانوں کو ریڈ کارڈ دکھادیے، ناکام سائیڈ کا خسارہ آرتو ویڈال نے کم کیا.

    لیونل میسی کو پروفیشنل فٹ بالر ہونے کے باوجود دو مرتبہ ریڈ کارڈ ملنے پر الزام کوپا امریکا میں ہونے والی کرپٹ پریکٹسز پر دائر کر دیا.

    میسی نے میڈلز لینے کے لیے اپنی ٹیم کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا اور جرنلسٹس سے بھی غصے میں بات کی. اس صورتحال پر میسی کی جانب سے ہونے والی تنقید پر ساؤتھ امریکن فٹبال حکام نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔

  • ہزارفلسطینیوں  کے لیے شاہ سلمان کا حچ پیکج

    ہزارفلسطینیوں کے لیے شاہ سلمان کا حچ پیکج

    شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی خصوصی ہدایت پر فلسطینیوں کے ساتھ فلسطینی شہداء اور اسیران کے ایک ہزارورثا کے حج کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان کے خصوصی حج پروگرام کے سیکرٹری جنرل اور وزیر مذہبی امور الشیخ ڈاکٹر عبدالطیف بن عبدالعزیز آل الشیخ نے بتایا کہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے سنہ 1440ھ کے موسم حج کے موقع پر ایک ہزار فلسطینی شہداء اسیران کے اہل خانہ کو فریضہ حج ادا کرانے کا اہتمام کا حکم دیا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ حسب روایت فلسطینی شہداء اور اسیران کے ایک ہزار اہل خانہ کے لیے حج کے موقع پر سرکاری اخراجات پر حج کا اہتمام کریں۔

    خادم الحرمین الشریفین کی طرف سے خصوصی حج اسکیم شروع کیے جانے کے بعد اب تک 17000 فلسطینی سعودی عرب کی میزبانی میں فریضہ حج ادا کر چکے ہیں۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی طرف سے حج امور کے عہدیداران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فلسطینی شہداء اور اسیران کے اہل خانہ کو ہر ممکن سہولت فراہم کریں۔ ان کے لیے بہترین رہائش، ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولیات مہیا کی جائیں۔ فریضہ حج کی ادائی کے ساتھ ساتھ روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا بھی خصوصی اہتمام کیا جائے۔

  • دنیا کے طاقت ور ترین ممالک کے پاسپورٹ کی فہرست جاری

    دنیا کے طاقت ور ترین ممالک کے پاسپورٹ کی فہرست جاری

    عالمی ادارے ہینلے کی جانب سے دنیا کے 108 ممالک کے پاسپورٹس کی درجہ بندی جاری کردی گئی جس کے مطابق جاپان کے ساتھ سنگاپور نے پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ پاکستان اپنی پوزیشن برقرار نہ رکھ سکا۔

    تفصیلات کے مطابق پاسپورٹ پر نظر رکھنے والے بین الاقوامی ادارے ہینلے نے سال 2019 کے پاسپورٹس کے حوالے سے نئی رینکنگ جاری کردی۔ ہینلے کی رپورٹ کے مطابق جاپان اور سنگاپور کے پاسپورٹ فہرست میں پہلی پوزیشن پر رہے جس کے شہری 189 ممالک اور شہروں کا ویزہ یا پھر ائیرپورٹ پر ہی حکام سے قیام کی اجازت لے سکتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق سنگا پور اور جنوبی کوریا، فن لینڈ اور جرمنی کے پاسپورٹ دوسرے نمبر پر رہے جن کے حامل شہری 187 ممالک کا بغیر کسی پابندی کے سفر کرسکتے ہیں۔ سال 2018 میں جنوبی کوریا کا پاسپورٹ تیسرے نمبر پر تھا جس کی پوزیشن بہتر ہوئی جبکہ رواں سال کے آغاز پر جاری ہونے والی رینکنگ میں جرمنی اور فن لینڈ چوتھے نمبر پر تھے، دونوں ممالک کے پاسپورٹس نے دو درجے ترقی حاصل کی۔

    گزشتہ برس کی طرح اس سال بھی سنگاپور اول نمبر پر براجمان ہے جب کہ جاپان بھی اس کے ہمراہ اول نمبر ہے، دونوں ممالک کیلیے 189 ممالک نے ویزہ فری کی پالیسی اپنائی ہے۔ جرمنی ایک درجہ تنزلی کے بعد فن لینڈ اور جنوبی کوریا کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

    اسی طرح ڈنمارک اور اٹلی تیسرا نمبر حاصل کرنے میں کامیاب رہے تو فرانس ، اسپین اور سویڈن چوتھے نمبر پر موجود ہیں۔ بھارت کا نمبر 86 واں ہے جب کہ پاکستان اس فہرست میں مزید نیچے چلا گیا اور اس سال 106 ویں نمبر پر ہے جس کے بعد بالترتیب شام، عراق اور افغانستان کا نمبر آتا ہے۔

    واضح رہے کہ اس رپورٹ میں دنیا بھر کے ممالک کے پاسپورٹس کو سفر کی آزادی کے لحاظ سے ترتیب دی گئی ہے، یعنی ان ممالک کا پاسپورٹ رکھنے والا شخص بغیر ویزہ لیے کتنے ممالک جاسکتا ہے

  • برطانوی سفیر نے  امریکی صدر کو نااہل، ناکارہ اور غیر محفوظ قرار دے دیا۔

    برطانوی سفیر نے امریکی صدر کو نااہل، ناکارہ اور غیر محفوظ قرار دے دیا۔

    امریکہ میں تعینات برطانوی سفیر کم ڈارک کی ای میلز لیک ہو گئیں۔ کم ڈارک نے امریکی صدر کو نااہل، ناکارہ اور غیر محفوظ قرار دے دیا۔

    تفصیلات کے مطابق غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق برطانوی سفیر کی ای میلز واشنگٹن سے لندن بھیجی گئیں جس میں برطانوی سفیر نے ٹرمپ کی قیادت میں وائٹ ہاؤس کو ناکارہ اور منقسم قرار دیا۔ ای میل میں کہا گیا کہ امریکی صدر دورہ برطانیہ کے دوران وہاں کی چکا چوند سے متاثر ہوئے۔

    برطانوی سفیر نے ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی کو غیر مربوط اور خلفشار کا شکار قرار دیا لیکن امریکی صدر کو مکمل طور پر نظر انداز نہ کرنے کا بھی مشورہ دیا۔ ای میل میں امریکی صدر کا کیریئر بے عزتی کے ساتھ ختم ہونے کی پیشگوئی بھی کی گئی۔

    کم ڈارک نے کہا کہ بریگزٹ کے بعد جب تجارتی تعلقات بہتر ہوں گے تو برطانیہ اور امریکہ کے درمیان آب و ہوا میں تبدیلی، میڈیا کی آزادی اور سزائے موت پر اختلافات سامنے آ سکتے ہیں۔

    ادھر وائٹ ہاؤس کی طرف سے لیک ہونے والی ای میلز پر کوئی ردعمل نہیں آیا. تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاملہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔