Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • مذہب کو تقسیم کے بجائے اتحاد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے،بلاول بھٹو زرداری

    مذہب کو تقسیم کے بجائے اتحاد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے،بلاول بھٹو زرداری

    واشنگٹن: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مذہب کو تقسیم کے بجائے اتحاد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے-

    باغی ٹی وی : واشنگٹن میں منعقدہ نیشنل پریئر بریک فاسٹ میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے بتایا کہ اس تقریب میں دنیا بھر سے افراد شریک ہوئے جبکہ امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تقریب میں شرکت کی، یہ ایک بہترین موقع تھا جہاں بین المذاہب ہم آہنگی پر تبادلہ خیال کیا گیا،پاکستان اور امریکا کے عوامی سطح پر تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جانا چاہیے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے تقریب کی اختتامی نشست سے خطاب بھی کیا اور اس دوران انہوں نے زور دیا کہ مذہب کو تقسیم کے بجائے اتحاد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیےنیشنل پریئر بریک فاسٹ بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ایک عمدہ موقع ہے، جہاں انہیں امریکی کانگریس کے اراکین سے بھی ملاقات کا موقع ملا، وہ اب وزیر خارجہ نہیں رہے اس لیے یہ تمام ملاقاتیں ذاتی حیثیت میں کیں بلاول بھٹو زرداری نے اس موقع پر پاکستان اور امریکا کے درمیان عوامی سطح پر مزید روابط استوار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

    ملک کے مختلف علاقوں میں بارش و برفباری کی پیشگوئی

    نریندر مودی کا 12 تا 13 فروری دورہ امریکا طے،ٹرمپ سے ملاقات

    امریکہ:غیر قانونی بھارتیوں کو ملک بدر کرنے کا سلسلہ جاری

  • نریندر مودی کا 12 تا 13 فروری دورہ امریکا طے،ٹرمپ سے ملاقات

    نریندر مودی کا 12 تا 13 فروری دورہ امریکا طے،ٹرمپ سے ملاقات

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اگلے ہفتے دورہ امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔

    غیر ملکی خبررساں اداروں کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی 12 تا 13 فروری واشنگٹن کا دورہ کریں گے، یہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حلف اٹھانے کے بعد امریکا کا دورہ کرنے والے پہلے چند عالمی رہنماؤں میں سے ایک ہوں گے۔ رہنماؤں کے درمیان ’بہت قریبی تعلق‘ رہا ہے، حالانکہ ان کے تعلقات باوجود طویل عرصے سے امریکا-بھارت تجارتی معاہدے پر کوئی پیش رفت لانے میں ناکام رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ دورہ باہمی دلچسپی کے تمام شعبہ جات کے حوالے سے نئی انتظامیہ کے ساتھ قریبی تعلق کے لیے ایک اہم موقع ہوگا، مزید بتایا کہ نریندر مودی امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے۔

    واضح رہے کہ نریندر مودی اپنے ’دوست‘ ڈونلڈ ٹرمپ کو گزشتہ ماہ ان کے حلف برداری کے بعد سب سے پہلے مبارکباد دینے والوں میں شامل تھے، انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ نئی دہلی اور واشنگٹن مل کر کام کریں۔بھارتی وزیراعظم نے جنوری میں ٹوئٹ کیا تھاکہ میں ایک بار پھر ایک ساتھ مل کر کام کرنے، دونوں ملکوں کو فائدہ پہنچانے اور دنیا کے لیے ایک بہتر مستقبل کی تشکیل کا منتظر ہوں۔27 جنوری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا تھا، جس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلی بات چیت ہوئی تھی، ٹرمپ نے بھارت پر زور دیا تھا کہ وہ امریکی ہتھیاروں کی خریداری میں اضافہ کرے۔

    امریکہ:غیر قانونی بھارتیوں کو ملک بدر کرنے کا سلسلہ جاری

    ٹک ٹاک کا پاکستان کری ایٹر ایوارڈز 2024 کی نامزدگیوں کا اعلان

    محبت میں کراچی آنے والی امریکی خاتون اپنے وطن روانہ

    پنجاب بھر میں جلسے اور جلوسوں پر پابندی، دفعہ 144 نافذ

    اگلے سال شہر میں مزید300 اسکیمیں مکمل کریں گے، میئر کراچی

  • امریکہ:غیر قانونی بھارتیوں کو ملک بدر کرنے کا سلسلہ جاری

    امریکہ:غیر قانونی بھارتیوں کو ملک بدر کرنے کا سلسلہ جاری

    امریکہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے زیر حراست سات سو زائد بھارتی باشندوں کو آئندہ 48 گھنٹوں میں امریکہ بدر کردیا جائے گا۔

    ان غیر قانونی تارکین وطن بھارتی باشندوں کو تین امریکی فوجی طیاروں کے ذریعے بھارتی صوبہ پنجاب اور ہریانہ روانہ کیا جائے گا۔امریکی سرکاری ذرائع نے میڈیا کو بتایا ہے کہ یہ بھارتی باشندے میکسیکو کے راستے غیر قانونی طریقے سے امریکہ میں داخل ہوئے تھے اور گرفتاری کے بعد کئی ماہ سے سرکاری تحویلی مراکز میں قید تھے۔ذرائع نے انکشاف کیا انسانی اسمگلرز نے ان بھارتی باشندوں سے امریکہ میں داخلے کے لیے فی کس پاکستانی ایک کروڑ سے زائد وصول کئے تھے۔ ان زیر حراست 770 بھارتی باشندوں میں اکثریت بھارتی پنجاب اور ہریانہ سے تعلق رکھنے والے سکھ باشندوں کی ہے۔

    ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان بھارتی باشندوں کو فلوریڈا کے تحویلی مراکز سے ریاست ٹیکساس پہنچایا گیا ہے جہاں سے انہیں فوجی اہیرپورٹس سے تین امریکی فوجی طیاروں کے ذریعے بھارت روانہ کردیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق امریکہ سے فوجی طیارے کے ذریعے بھارت بھیجنے پر فی کس 7 ہزار 8 سو ڈالرز کے اخراجات وفاقی حکومت کو برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ذرائع کے مطابق رواں سال میں غیر قانونی تارکین وطن کو ان کے آبائی ملک بھیجنے پر 118 ملین ڈالرز کے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ غیر قانونی طور امریکہ میں داخلے کے جرم میں سرحدوں سے گرفتار کئے گئے بھارتی باشندوں کی تعداد 18 ہزار کے لگ بھگ ہے جو امریکی تحویلی مراکز میں ملک بدری کے منتظر ہیں۔ذرائع کے مطابق غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے والے یہ بھارتی باشندوں امریکہ میں سیاسی پناہ حاصل کرنا چاہتے تھے۔

    ٹک ٹاک کا پاکستان کری ایٹر ایوارڈز 2024 کی نامزدگیوں کا اعلان

    محبت میں کراچی آنے والی امریکی خاتون اپنے وطن روانہ

    پنجاب بھر میں جلسے اور جلوسوں پر پابندی، دفعہ 144 نافذ

    پاک بحریہ کی نویں کثیر القومی بحری مشق امن کا آغاز

  • ایلون مسک کو "خصوصی سرکاری ملازم” کا درجہ مل گیا

    ایلون مسک کو "خصوصی سرکاری ملازم” کا درجہ مل گیا

    رواں ہفتے کے آغاز پر امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کو ’خصوصی سرکاری ملازم‘ کا درجہ دیا ہے۔

    یہ عہدہ ایلون مسک کو وفاقی حکومت کے لیے کام کرنے کی اجازت دیتا ہے لیکن ممکنہ طور پر انھیں مفادات کے ٹکراؤ اور مالی معاملات ظاہر کرنے والے اُن قواعد سے مستثنیٰ رکھتا ہے جو امریکا کے عام سرکاری ملازمین پر لاگو ہوتے ہیں۔مسک الیکٹرک کار کمپنی ’ ٹیسلا‘ اور ایرو سپیس کمپنی ’سپیس ایکس‘ چلانے کے ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ کے مشیر بھی ہیں اور انھیں کفایت شعاری مہم یعنی ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی (Doge) کی قیادت سونپی گئی ہے۔ ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی ایک سرکاری ادارہ یا محکمہ نہیں بلکہ ایک ٹیم ہے جسے ٹرمپ نے غیر ضروری حکومتی اخراجات میں کٹوتی کے لیے وسیع اختیارات دیے ہیں۔

    اس کی قانونی حیثیت تو غیر واضح ہے ہی مگر اس کے ساتھ اس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کانگریس سے مشاورت کے بغیر یو ایس ایّڈ جیسی حکومتی ایجنسیاں بند کرنے کے اختیار کے متعلق بھی خاصا ابہام پایا جاتا ہے اور مسک اور ان کی ٹیم کو اس ضمن میں کئی عدالتی چیلنجز کا سامنا ہے۔سپیس ایکس کے سی ای او کی حیثیت سے مسک اربوں ڈالر مالیت کے پینٹاگون اور انٹیلیجنس کمیونٹی کے معاہدوں کی نگرانی بھی کرتے ہیں۔یاد رہے کہ امریکی قانون میں خصوصی سرکاری ملازمین کو زیادہ سے زیادہ 130 دن کے لیے مقرر کیا جاتا ہے لیکن صدر ٹرمپ نے ابھی یہ واضح نہیں کیا کہ مسک کا عہدہ کب تک برقرار رہے گا۔

    جب کسی فرد کو ’خصوصی سرکاری ملازم‘ کا درجہ دیا جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ حکومت کے لیے عارضی طور پر کام تو کرتے ہیں لیکن انھیں مکمل سرکاری ملازم نہیں سمجھا جاتا۔ یہ عہدہ عام طور پر ایسے افراد کو دیا جاتا ہے جو کسی خاص منصوبے کے لیے حکومت کو کنسلٹینسی وغیرہ فراہم کرتے ہیں۔ایلون مسک کے کیس میں ’خصوصی سرکاری ملازم‘ کا مطلب یہ ہے کہ وہ حکومت کے مختلف منصوبوں جیسے ’ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی‘ کی نگرانی کرتے رہیں گے مگر انھیں سرکاری ملازمین کی طرح سخت قوانین کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اس سے انھیں کام کرنے میں زیادہ آزادی تو ملے گی لیکن اس کے نتیجے میں شفافیت اور جوابدہی کے حوالے سے سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔

    ایک امریکی عہدیدار نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ٹرمپ مسک کے اقدامات پر قریبی نظر تو نہیں رکھ رہے لیکن انھیں اس سے متعلق باقاعدگی سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کو مسک کی سرگرمیوں کی ’تمام معلومات دی جا رہی ہیں۔‘صدر ٹرمپ کے سب سے اہم حامی سمجھے جانے والے مسک نے ان کی انتخابی مہم کو 11 کروڑ 90 لاکھ کا فنڈ دیا تھا۔ مسک صدارتی انتخاب پر اثرانداز ہونے والی ریاستوں میں لوگوں کو ووٹ دینے کے لیے گھروں سے باہر نکالنے کی کوشش کر رہے تھے اور اس دوران انھوں نے ہر روز 10 لاکھ ڈالر بھی تقسیم کیے۔

    پاک بحریہ کی نویں کثیر القومی بحری مشق امن کا آغاز

    پیٹرول، چینی، نمک مہنگا ٹماٹر، پیاز، مرغی سستی ہوئی، ہفتہ وار رپورٹ

    پولیو ورکر سے جھگڑا کرنے والے 3افراد گرفتار،مقدمہ درج

    پانی کی لائن ڈالنے پر لڑائی، فائرنگ سے2 افراد جاں بحق،3زخمی

  • بیٹے کی شادی پر گوتم اڈانی کاسماجی فلاح و بہبود کے لیے 10,000 کروڑ روپے کا عطیہ

    بیٹے کی شادی پر گوتم اڈانی کاسماجی فلاح و بہبود کے لیے 10,000 کروڑ روپے کا عطیہ

    معروف بھارتی صنعتکار اور اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے اپنے بیٹے جیت اڈانی کی شادی کے موقع پر شاندار مثال قائم کرتے ہوئے 10,000 کروڑ روپے سماجی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے لیے عطیہ کر دیے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق جیت اڈانی نے احمد آباد کے اڈانی شانتی گرام ٹاؤن شپ میں بیلویڈیر کلب میں دیوا سے شادی کی، جو ہیروں کے تاجر جیمین شاہ کی بیٹی ہیں۔ شادی کی تقریب روایتی گجراتی انداز میں منعقد کی گئی، جس میں صرف قریبی رشتہ داروں اور دوستوں نے شرکت کی۔ حیران کن طور پر اس تقریب میں سیاستدان، کاروباری شخصیات، سفارت کار، بیوروکریٹس، فلمی ستارے اور دیگر معروف شخصیات شامل نہیں تھے۔

    سادگی میں عظمت: گوتم اڈانی کا بڑا اعلان

    گزشتہ ماہ مَہا کمبھ میلے کے دوران، گوتم اڈانی نے اعلان کیا تھا کہ ان کے بیٹے کی شادی سادہ اور روایتی انداز میں ہوگی۔ اپنے وعدے پر قائم رہتے ہوئے، نہ صرف شادی کو پُرتکلف تقاریب سے پاک رکھا بلکہ ایک منفرد اقدام اٹھاتے ہوئے 10,000 کروڑ روپے مختلف سماجی منصوبوں کے لیے عطیہ کیے۔قریبی ذرائع کے مطابق، یہ عطیہ ان کے "سیوا سادھنا ہے، سیوا پراتھنا ہے اور سیوا پرماتما ہے” جیسے سماجی فلسفے کی عکاسی کرتا ہے۔

    تعلیم، صحت اور مہارت کی ترقی پر توجہ

    گوتم اڈانی کے اس خطیر عطیے کا بڑا حصہ صحت، تعلیم اور مہارت کی ترقی کے بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں پر خرچ ہوگا۔ ان منصوبوں کا مقصد معاشرے کے تمام طبقات کو عالمی معیار کے سستے اسپتالوں، میڈیکل کالجز، معیاری K-12 اسکولوں اور جدید تربیتی اکیڈمیوں تک رسائی فراہم کرنا ہے تاکہ روزگار کے بہتر مواقع میسر آسکیں۔

    ’منگل سیوا‘: خصوصی خواتین کے لیے نئی امید

    شادی سے محض دو دن قبل، گوتم اڈانی نے ‘منگل سیوا’ پروگرام کا اعلان کیا، جس کے تحت ہر سال 500 معذور شادی شدہ خواتین کو 10 لاکھ روپے کی مالی امداد دی جائے گی۔ جیت اڈانی نے 21 معذور خواتین اور ان کے شوہروں سے ملاقات کرکے اس منصوبے کا باضابطہ آغاز کیا۔

    گوتم اڈانی کا خصوصی پیغام

    اپنے بیٹے کی شادی کے موقع پر گوتم اڈانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا:”پرم پتا پرمیشور کے آشیرواد سے جیت اور دیوا آج شادی کے مقدس بندھن میں بندھ گئے۔ یہ شادی احمد آباد میں قریبی رشتہ داروں کے درمیان روایتی اور مقدس رسم و رواج کے ساتھ انجام پائی۔ یہ ایک چھوٹی اور نجی تقریب تھی، اس لیے ہم چاہتے ہوئے بھی تمام خیرخواہوں کو مدعو نہیں کر سکے۔”انہوں نے اپنی بہو دیوا کو "بیٹی دیوا” کہہ کر پکارا، جو ان کے خاندانی رشتے کی مضبوطی اور خواتین کے احترام کی علامت ہے۔

    بیٹے کی کامیابی اور خدمتِ خلق کی روایت

    جیت اڈانی اس وقت اڈانی ایئرپورٹس میں بطور ڈائریکٹر خدمات انجام دے رہے ہیں، جہاں وہ چھ بین الاقوامی ہوائی اڈوں کا انتظام سنبھالتے ہیں اور نوی ممبئی میں ساتویں ایئرپورٹ کی تعمیر کی نگرانی کر رہے ہیں۔ وہ یونیورسٹی آف پینسلوینیا کے اسکول آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز کے فارغ التحصیل ہیں۔

    "دولت کی نمائش نہیں، خدمت اولین”

    21 جنوری کو پریاگ راج میں کمبھ میلے کے دوران جب صحافیوں نے ان سے پوچھا کہ کیا جیت اڈانی کی شادی "مشاہیر کا کمبھ” ثابت ہوگی، تو گوتم اڈانی نے جواب دیا: "ہرگز نہیں۔ ہم عام لوگوں کی طرح ہیں۔ جیت یہاں ماں گنگا کی دعائیں لینے آیا تھا۔ اس کی شادی سادہ اور روایتی انداز میں ہوگی۔”گوتم اڈانی نے اپنے بیٹے کی شادی کے موقع پر "سیوا سب سے پہلے” کا جو عملی مظاہرہ کیا، وہ ایک مثال بن گیا۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ ذاتی خوشیوں کو معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر کے دولت کی اصل معنویت کو سمجھا جا سکتا ہے۔

    پانی کی لائن ڈالنے پر لڑائی، فائرنگ سے2 افراد جاں بحق،3زخمی

    سندھ میں بڑی پیشرفت، پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے بیک ڈور رابطے

    بوتل بند پانی فروخت کرنیوالے 28 برانڈز غیر محفوظ قرار

    سابق کھلاڑی تنقید کے ساتھ ساتھ سکھاتے بھی ہیں، محمد رضوان

    پانی کی لائن ڈالنے پر لڑائی، فائرنگ سے2 افراد جاں بحق،3زخمی

  • یو ایس ایڈ بحران: جنوبی افریقہ میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی حالت بدتر

    یو ایس ایڈ بحران: جنوبی افریقہ میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی حالت بدتر

    جوہانسبرگ کے اندرونی علاقے میں واقع ایک جنسی صحت کلینک کے باہر ایک عورت سیکیورٹی گارڈز کے پاس پہنچتی ہے۔ وہ حیرانی سے اطراف میں دیکھتی ہے، جب اسے بتایا جاتا ہے کہ کلینک بند ہے۔ وہ ہمیں بتاتی ہے کہ یہاں آنے کے صرف دو ماہ ہوئے ہیں تاکہ وہ اپنی معمول کی صحت کی دیکھ بھال حاصل کر سکے۔

    اب، اسے جنسی صحت کی اسکریننگ اور پری ایکسپوژر پروفلیکسیس (پریپ) کے لیے ایک اور محفوظ جگہ تلاش کرنی ہوگی – جو کہ ایچ آئی وی کے خلاف اس کا معمول کا دفاع ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے دور میں صدارت کا حلف اٹھانے کے دن، ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیا جس کے تحت غیر ملکی امداد کی فراہمی 90 دن کے لیے منجمد کر دی گئی۔یہ فیصلہ وفاقی ملازمین کی یونینوں کی جانب سے عدالت میں چیلنج کیا جا رہا ہے، جو اسے "غیر آئینی اور غیر قانونی” قرار دے رہی ہیں، اور اس کا کہنا ہے کہ اس نے "عالمی انسانی بحران” پیدا کر دیا ہے۔

    تاہم، اس حکم کے اثرات جنوبی افریقہ کے سب سے زیادہ غیر محفوظ افراد پر فوری طور پر پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔ ایک ایچ آئی وی مثبت جنسی کارکن کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں جب وہ یہ خبر سنتی ہے۔ شہر میں بہت سے جنسی کارکنوں کے لیے مفت جنسی صحت کے کلینک زندگی کا سہارا ہیں۔ایک ایچ آئی وی مثبت جنسی کارکن نے اسی بند کلینک سے اپنے مریض کی منتقلی کا خط دکھایا اور بتایاکہ وہ ابھی تک متبادل سہولت میں رجسٹر ہونے کا انتظار کر رہی ہے۔

    جنوبی افریقہ دنیا کی سب سے بدترین ایچ آئی وی/ایڈز وبا کا شکار ملک ہے۔ یہاں کم از کم 8.5 ملین لوگ ایچ آئی وی کے ساتھ زندہ ہیں – جو کہ دنیا بھر کے تمام کیسز کا چوتھائی ہیں۔جنوبی افریقہ میں اینٹی ریٹرو وائرل علاج تک مفت رسائی 2003 میں جارج ڈبلیو بش کی امریکی صدر ایمرجنسی پلان فار ایڈز ریلیف (PEPFAR) کے آغاز کے بعد حاصل ہوئی۔PEPFAR کو تاریخ کے سب سے کامیاب غیر ملکی امدادی پروگراموں میں شمار کیا جاتا ہے، اور جنوبی افریقہ اس کی سب سے بڑی وصول کنندہ ملک ہے۔ تاہم، اب اس پروگرام کو صدر ٹرمپ کے غیر ملکی امداد کی فراہمی کے حکم کی وجہ سے روک دیا گیا ہے، جس نے جنوبی افریقہ کی ایچ آئی وی وبا سے بچنے والوں اور ایڈز کے انکار کے دور میں زندہ بچ جانے والوں کو دوبارہ کمی اور خوف کے وقت میں دھکیل دیا ہے۔

    نیلی زولو، جو کہ سوویٹو میں ایچ آئی وی کے ساتھ زندہ ایک کارکن اور ماں ہیں، کہتی ہیں: "اس وقت کوئی دوا نہیں تھی۔ حکومت ہمیں چقندر اور لہسن لینے کو کہتی تھی۔ علاج فراہم کرنا حکومت کے لیے بہت مشکل تھا، لیکن ہم نے اس جنگ کو جیتنے کے لیے بہت محنت کی۔ اب، چیلنج یہ ہے کہ ہم دوبارہ اس جدوجہد کی طرف جا رہے ہیں۔”نیلی کا کہنا ہے کہ مفت علاج تک رسائی نے انہیں اور ان کے 21 سالہ بیٹے کو بچایا ہے، جنہیں 4 سال کی عمر میں ایچ آئی وی کا پتہ چلا تھا۔”یہ میری مدد کی تھی کیونکہ اگر مجھے علاج نہ ملتا، تو مجھے نہیں لگتا کہ میں زندہ ہوتی – میرے بیٹے کو بھی نہیں۔””میری تشویش حاملہ خواتین کے لیے ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ وہ وہی کچھ گزاریں جو میں نے گزارا تھا – وہ زندگی جو میں گزر رہی تھی۔ مجھے خوف ہے کہ ہم دوبارہ اسی بحران میں واپس جا سکتے ہیں۔”

    جنوبی افریقی شہری تنظیموں نے ایک مشترکہ کھلا خط لکھا ہے جس میں ان کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ امریکی غیر ملکی امداد کی منجمدی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے صحت کے بحران سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط جواب فراہم کرے۔خط میں کہا گیا ہے کہ ایچ آئی وی کے ساتھ جینے والے قریباً ایک ملین مریض براہ راست متاثر ہوئے ہیں اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے حالیہ استثنائی احکام نے "ایسی سرگرمیاں مستثنیٰ قرار دی ہیں جو غیر زندگی بچانے والی سرگرمیوں سے متعلق ہیں”۔جوہانسبرگ کے مرکزی کاروباری ضلع میں بند ہونے والے کلینک کی حالت اسی قسم کی ہے – یہ ویٹ واٹرز رینڈ یونیورسٹی نے تولیدی صحت کی تحقیق کے لیے تعمیر کیا تھا اور یہ کمزور اور پسماندہ کمیونٹیوں کی خدمت کرتا تھا۔

    ایک کارکن اور ہیلتھ کیئر ورکر جو ٹرانس جینڈر کلینک میں کام کرتی ہیں، کہتی ہیں کہ وہ اور ان کے جاننے والے سب خوفزدہ ہیں۔ "ہر طرف، لوگ یہی بات کر رہے ہیں۔ وہاں لوگ ہیں جو دائمی بیماریوں سے متاثر ہیں اور اب ان کا یقین نہیں رہا کیونکہ انہیں نہیں پتہ کہ وہ کہاں جائیں گے۔””لوگ پوچھتے ہیں – ‘یہاں کیوں نہیں جاؤ، وہاں کیوں نہیں جاؤ؟’ لوگ روتے ہیں – وہ مدد چاہتے ہیں۔”

    جنوبی افریقہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی/ایڈز کے تمام فنڈز کا صرف 17 فیصد PEPFAR سے آتا ہے لیکن اس کے اثرات صاف ظاہر ہیں۔پیر کو، وزیر صحت ڈاکٹر آرن موٹسوایلیڈی نے امریکی چارج ڈی افیئرز ڈانا براؤن کے ساتھ دو طرفہ صحت کے تعاون اور امریکی امداد کی نئی پالیسی پر بات چیت کی۔ ایک بیان میں کہا گیا: "وزارت اور سفارتخانے کے درمیان کمیونیکیشن کے چینلز کھلے ہیں اور ہم اپنے زندگی بچانے والے صحت کے شراکت داری پر بات کرتے رہیں گے۔””تفصیلات تک پہنچنے تک وزیر نے تمام افراد کو جو اینٹی ریٹرو وائرل (ARVs) دوا لے رہے ہیں، سے کہا کہ وہ اس زندگی بچانے والی دوا کو کسی صورت میں بند نہ کریں۔”یہ مطالبہ کرنا آسان ہے، لیکن اس پر عمل درآمد بہت مشکل ہے۔

    نیلی کہتی ہیں: "ادویات کی کمی پہلے ہی ہے – اگر آپ تین مہینے کا علاج مانگیں تو وہ آپ کو ایک یا دو ماہ کا دیتے ہیں، پھر آپ کو دوبارہ واپس جانا پڑتا ہے۔””اب، صورتحال اور بھی بدتر ہو گئی ہے کیونکہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ فنڈنگ بند کر دی گئی ہے۔”

    قذافی اسٹیڈیم کی تعمیر میں تمام کنٹریکٹرز نے معجزہ کر دکھایا۔محسن نقوی

    آئی ایم ایف جائزے میں تاخیر ہوئی تو پاکستان کی منفی ریٹنگ ہو سکتی،فچ

  • الاسکا میں بیئرنگ ایئر کی پرواز لاپتہ، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع

    الاسکا میں بیئرنگ ایئر کی پرواز لاپتہ، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع

    الاسکا میں بیئرنگ ایئر کی پرواز لاپتہ، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا

    الاسکا کے حکام، امریکی کوسٹ گارڈ اور امریکی فضائیہ نے ایک سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ بیئرنگ ایئر کی ایک پرواز کا پتہ لگایا جا سکے، جو کہ 10 افراد کو لے کر نارتن ساؤنڈ کے اوپر لاپتہ ہو گئی تھی۔ یہ پرواز یونالا کلیٹ اور نوم کے درمیان شمال مغربی الاسکا میں پرواز کر رہی تھی۔سرچ آپریشن خشکی اور سمندر دونوں جگہ جاری ہیں کیونکہ حکام کو خدشہ ہے کہ خراب موسم اور محدود دید کے باعث طیارہ اپنے راستے سے بھٹک کر نوم کے قریب حادثے کا شکار ہو سکتا ہے۔ لاپتہ طیارہ سیسنا 208 کیراؤون بتایا جا رہا ہے، جو ایک پائلٹ اور 9 مسافروں کی گنجائش رکھتا ہے۔

    بیئرنگ ایئر شمال مغربی الاسکا میں نوم ایئرپورٹ اور یونالا کلیٹ ایئرپورٹ کے درمیان کئی روزانہ پروازیں ہوتی ہیں۔ اس وقت سرچ اور ریسکیو ٹیمیں طیارے کی تلاش میں مصروف ہیں، تاکہ جلد از جلد لاپتہ طیارے کا پتہ چلایا جا سکے اور اگر ممکن ہو تو مسافروں کو بچایا جا سکے۔یہ واقعہ الاسکا کے قدرتی ماحول اور سخت موسمی حالات میں پرواز کرنے والی ایئر لائنز کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، جہاں موسم کی خرابی کے باعث پروازوں میں دشواری آ سکتی ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی معلومات کے لیے حکام سے رابطہ کریں جو سرچ آپریشن میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

    یہ طیارہ، جو ایک سیسنا 208 تھا، ایریئل سروے کی پرواز کے دوران رڈار سے غائب ہو گیا۔بیئرنگ ایئر کی پرواز نے ان علاقوں کے درمیان معمول کی سروے پرواز مکمل کرنے کی کوشش کی تھی کہ اچانک اس کا رابطہ رڈار سے منقطع ہو گیا۔ ابھی تک کسی قسم کا واضح سراغ نہیں مل سکا ہے۔گمشدہ طیارے کی تلاش کے لیے سخت موسمی حالات میں سرچ اور ریسکیو آپریشنز جاری ہیں۔ اس آپریشن میں الاسکا اسٹیٹ ٹروپرز، یو ایس کوسٹ گارڈ اور نیشنل گارڈ کے اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔موسمی حالات انتہائی مشکل ہیں، جن میں برفباری اور کم حدِ نظر کی صورتحال شامل ہیں، جو تلاش کی کارروائیوں کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ حکام کی طرف سے فوری طور پر تلاش کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں تاکہ اس حادثے میں موجود افراد کو جلد از جلد بچایا جا سکے۔

    اب تک کی رپورٹس کے مطابق، طیارہ غروب سے قبل رڈار سے غائب ہوا تھا، اور اس کے بعد سے کوئی رابطہ قائم نہیں ہو سکا ہے۔ ایئر لائن کے حکام اور متعلقہ ادارے مسلسل طیارے کی تلاش میں ہیں، جبکہ علاقائی باشندے اور اہلکار بھی امدادی کارروائیوں میں شریک ہیں۔

    مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے اور جیسے ہی مزید معلومات دستیاب ہوں گی، انہیں عوام کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔

  • امریکی صدر نے ایران پر مزید پابندیاں عائد کر دیں

    امریکی صدر نے ایران پر مزید پابندیاں عائد کر دیں

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر مزید پابندیاں عائد کر دی ہیں، جس کا مقصد ایران کے تیل کے نیٹ ورک کو نشانہ بنانا ہے۔

    عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، وائٹ ہاؤس میں اپنی واپسی کے بعد، یہ پابندیاں ایران کے خلاف لگائی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ان پابندیوں میں ایران میں پہلے سے پابندیوں کا شکار کمپنیوں، افراد، جہازوں اور فرموں کو نشانہ بنایا ہے۔امریکی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ ایران اپنی تیل کی آمدنی کو جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کے لئے استعمال کر رہا ہے، اور دہشت گرد گروپوں کی مدد کے لیے بھی تیل کی آمدنی کا استعمال کرتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ غیرقانونی سرگرمیوں کی فنڈنگ روکنے کے لیے مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

    نئی امریکی پابندیوں پر ایران کا ردعمل آ گیا
    ایران نے نئی امریکی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں غیر قانونی اور غیر منصفانہ قرار دے دیا،ایک بیان میں ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اقتصادی شراکت داروں کے ساتھ ایران کی قانونی تجارت کو روکنا غیر قانونی ہے،امریکا کا ایرانی قوم پر دباؤ ڈالنےکا فیصلہ ناصرف ناجائز، غیر قانونی اور خلاف ورزی پر مبنی اقدام ہے بلکہ غیر منصفانہ اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف بھی ہے،امریکی اقدام پر خبردار کرتے ہوئے ترجمان اسماعیل بقائی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح کے یک طرفہ اقدامات کے نتائج کا ذمے دار امریکا ہو گا۔

    امریکی پابندیوں پر ایرنی سپریم لیڈر کا ردعمل
    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات سے ایران کے مسائل حل نہیں ہوں گے,ایران نے ماضی میں رعایتیں دیں، امریکا نے معاہدہ توڑا, امریکا نے ہماری سلامتی کو خطرے میں ڈالا تو ہم ان کی سلامتی کو خطرے میں ڈالیں گے۔

    سپریم کورٹ،آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ میں ترامیم کیس پر اعتراضات کالعدم

  • امریکی صدر  نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کر دیں

    امریکی صدر نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کر دیں

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

    وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی فوجداری عدالت کے حکام، ملازمین اور ان کے اہلخانہ کے اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں اور ان پر سفری پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے کہا کہ عالمی فوجداری عدالت نے امریکا اور اسرائیل کو غیر منصفانہ طور پر نشانہ بنایا ہے اور اس نے دونوں ممالک کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی فوجداری عدالت نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف وارنٹ جاری کر کے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق، امریکی صدر نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے صدارتی حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس فیصلے کو ایک اہم اقدام سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے عالمی سطح پر امریکی پالیسی اور عالمی عدالت کے ساتھ تعلقات پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے اسرائیل کی بھرپور حمایت میں کئی اقدامات کیے ہیں اور اس فیصلے کے ذریعے انہوں نے عالمی فوجداری عدالت کی کارروائیوں پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی عدلیہ جو امریکا اور اسرائیل جیسے ممالک کے خلاف کارروائی کرے، اس کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

    امریکی پابندیوں پر عالمی فوجداری عدالت،اقوام متحدہ کا ردعمل
    اقوام متحدہ نے امریکا سے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے تو وہیں عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے امریکی پابندیوں کے خلاف تمام 125 ممبران ریاستوں کو متحد ہونے کی اپیل کردی ہے۔عالمی فوجداری عدالت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد پابندیوں کی مذمت بھی کی ہے۔
    میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی فوجداری عدالت نے انصاف کی فراہمی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے عملے کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔

    خیبرپختونخوا میں پولیس اور سرکاری اہلکاروں کی سیاسی اجتماع میں شرکت پر پابندی

  • اسرائیلی وزیراعظم کا سنہری پیجر کا ٹرمپ کو تحفہ

    اسرائیلی وزیراعظم کا سنہری پیجر کا ٹرمپ کو تحفہ

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے منگل کے روز واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک سنہری پیجر تحفے میں دیا۔ یہ خبر اسرائیلی سیاسی ذرائع نے سی این این کو دی۔

    یہ تحفہ لبنان میں اسرائیل کے ایک مہلک ستمبر آپریشن کی طرف اشارہ تھا، جس میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا حزب اللہ کے ارکان کے پیجرز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ 17 ستمبر کو ہزاروں دھماکوں نے حزب اللہ کے ارکان کو نشانہ بنایا، جنہوں نے اپنے پیجرز اور ایک دن بعد واکی ٹاکی کے ذریعے بات چیت کی تھی۔ان دھماکوں میں کم از کم 37 افراد ہلاک ہوئے، جن میں کچھ بچے بھی شامل تھے، اور تقریباً 3,000 افراد زخمی ہوئے، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے، جیسا کہ لبنانی صحت حکام نے بتایا۔

    جواب میں، ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ان دونوں کی ایک دستخط شدہ تصویر تحفے میں دی۔ تصویر پر ٹرمپ نے دستخط کیے، ” ایک عظیم رہنما!” جیسا کہ ان کے بیٹے یائر نیتن یاہو نے انسٹاگرام پر پوسٹ کی گئی تصویر میں دکھایا۔

    علاوہ ازیں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کو "قبضے” میں لینے کے منصوبے کی حمایت کی ہے، جب کہ اسرائیلی فوج کو فلسطینیوں کی بڑی تعداد کو علاقے سے نکلنے کے لیے منصوبے تیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ٹرمپ کے اس منصوبے پر شدید تنقید کی گئی ہے، جس میں مشرق وسطیٰ اور دیگر ممالک کے رہنماؤں نے اسے ناقابل عمل اور غیر قانونی قرار دیا ہے۔ تاہم، نیتن یاہو نے کہا کہ یہ منصوبہ، جس میں ٹرمپ نے غزہ کے رہائشیوں کو ہمسایہ ممالک میں بھیجنے اور "طویل مدتی ملکیت” لینے کا ذکر کیا، ایک "شاندار خیال” ہے۔

    نیتن یاہو نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "اس منصوبے کا اصل خیال یہ ہے کہ جو غزہ کے لوگ نکلنا چاہتے ہیں، انہیں نکلنے دیا جائے، اس میں کیا غلط ہے؟” انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ علاقے سے جائیں گے وہ واپس آ سکتے ہیں۔

    ٹرمپ نے اس منصوبے کا اعلان منگل کو وائٹ ہاؤس میں نیتن یاہو کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا، جس کے بعد حقوق کے گروپوں نے اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ یہ غزہ میں نسلی صفایا کرنے کے مترادف ہوگا۔امریکہ کے مغربی اتحادیوں نے غزہ سے لوگوں کو نکالنے کے خیال کو مسترد کیا، جب کہ مشرق وسطیٰ کے رہنماؤں، بشمول غزہ کے حکام نے فلسطینی ریاست کے حق میں اپنی پوزیشن کو دوبارہ مستحکم کیا۔ قطر کے وزارت خارجہ کے ترجمان مجید الانصاری نے کہا کہ عرب ممالک غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں، جبکہ اردن کے بادشاہ عبد اللہ نے برطانیہ اور امریکہ کا دورہ کیا اور ان کا ملک اس منصوبے کی سخت مخالفت کرتا ہے۔

    غزہ کی بیشتر زمین کو 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں کے بعد اسرائیلی بمباری میں تباہ کردیا گیا تھا۔یہ تجویز سوال اٹھاتی ہے کہ آیا فلسطینیوں کو زبردستی اپنے گھروں سے نکالنا ممکن ہوگا، اور یہ امریکی خارجہ پالیسی کے کئی دہائیوں پرانے موقف سے انحراف ہے، جس میں اسرائیل اور فلسطین کے لیے دو ریاستی حل کی حمایت کی گئی ہے۔وائٹ ہاؤس کے عہدیداروں نے اس منصوبے کے بیشتر نکات پر وضاحت دینے کی کوشش کی ہے، کیونکہ ناقدین نے اشارہ کیا ہے کہ ٹرمپ کا منصوبہ ایک بار پھر امریکی فوجیوں کو مشرق وسطیٰ میں جنگ کے مرکز میں لے آئے گا۔

    جمعرات کو، ٹرمپ نے اپنے "ٹروتھ سوشل” نیٹ ورک پر لکھا کہ غزہ "اسرائیل کے ساتھ جنگ کے اختتام پر امریکہ کو منتقل کر دیا جائے گا” اور اس میں کوئی امریکی فوجی نہیں ہوگا۔ انہوں نے اس منصوبے کے عملی اطلاق کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے جمعرات کو اسرائیلی فوج کو یہ منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی کہ وہ غزہ کے رہائشیوں کو "خود مختار طور پر نکلنے” کی اجازت دے سکیں۔