Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • راکھی ساونت نے مفتی قوی کی شادی کی پیشکش قبول کرلی

    راکھی ساونت نے مفتی قوی کی شادی کی پیشکش قبول کرلی

    راکھی ساونت نے مفتی قوی کی شادی کی پیشکش قبول کرلی –

    باغی ٹی وی : مفتی قوی نے ایک حالیہ پوڈ کاسٹ میں گفتگو کے دوران بھارتی اداکارہ راکھی ساونت کے اسلام قبول کرنے کی تعریف کی اور انہیں شادی کی پیشکش کی تھی جس پر اب راکھی کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے-

    راکھی ساونت نے بھی مفتی قوی کی شادی کی پیشکش کو قبول کرتے ہوئے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ ’میں تو کسی مولانا سے شادی کیلئے مر رہی ہوں، قوی صاحب آپ کے نام میں ہی قوی آتا ہے میرے لئے ’کویتا‘ لکھیے‘۔

    واضح رہے کہ پوڈکاسٹ میں مفتی قوی سے راکھی ساونت سے ممکنہ شادی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے مشروط آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی والدہ اجازت دیں گی تو وہ اس رشتے کے لیے تیار ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک والدہ کی اجازت لینا ضروری ہےڈاکٹر ذاکر نائیک سمیت دیگر علمائے کرام کی تحقیق کے مطابق ہندو مذہب کی مقدس کتاب الہامی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے راکھی ساونت اہلِ کتاب کے زمرے میں آتی ہیں اور ان سے نکاح جائز ہے۔

    سی آئی اے سب انسپکٹر کی گاڑی پر فائرنگ،سب انسپکٹر سمیت دو افراد جاں بحق ایک زخمی

    مفتی قوی نے کہا تھا کہ وہ اپنے نکاحوں کی تعداد اور تفصیلات اب خفیہ رکھیں گے، تاہم اپنی پہلی شادی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ انہوں نے برصغیر کے ایک بڑے سیاسی، علمی اور ادبی گھرانے کی ایک خاتون سے نکاح کیا تھا،اور یہ خاندان اتنا ہی معتبر تھا جیسے مولانا ابوالکلام آزاد، قائداعظم محمد علی جناح، گاندھی جی اور جواہر لعل نہرو کے خاندان،تاہم ان کی اہلیہ کے انتقال کے باعث یہ رشتہ ختم ہو گیا، لیکن وہ آج بھی اپنی مرحومہ اہلیہ کو عزت و احترام سے یاد کرتے ہیں، مفتی قوی کے مطابق، جب بھی وہ قبرستان سے گزرتے ہیں، تو وہ اپنی مرحومہ بیوی کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔

    امریکا کی فنڈنگ رُکنے سے جنوبی ایشیا میں لاکھوں خواتین متاثر ہوں گی،اقوام متحدہ

  • پاکستان کا چین سے پولیس کے لیے جدید ٹیکنالوجی و آلات لینے کا فیصلہ

    پاکستان کا چین سے پولیس کے لیے جدید ٹیکنالوجی و آلات لینے کا فیصلہ

    بیجنگ: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے چین سے پولیس کیلئے جدید ٹیکنالوجی و آلات لیں گے۔

    باغی ٹی وی : محسن نقوی نے دورہ چین کے موقع پر چینی ہم منصب سے ملاقات کی، جس میں انٹیلی جنس شیئرنگ کو مزید بہتر کیے جانے پر اتفاق کیا گیا اس کے علاوہ پیرا ملٹری فورسز کے لیے بارڈرز کو محفوظ کرنےکیلئے تعاون سمیت پولیس اور پیرا ملٹری فورسزکی جدید ٹیکنالوجی سے متعلق بھی گفتگو کی گئی۔

    اس موقع پر محسن نقوی کا کہنا تھا چین سے پولیس کے لیے جدید ٹیکنالوجی و آلات لیں گے، ملاقات میں نیشنل پولیس اکیڈمی کے ساتھ تعاون پر بات چیت ہوئی ہے اوربیجنگ پولیس اور اسلام آباد پولیس میں تعاون بڑھانےکا فیصلہ بھی کیا گیا ہے جبکہ ملاقات میں وزیر داخلہ نے جنوری میں جوائنٹ ورکنگ گروپ کی میٹنگ پر اطمینان کا اظہار بھی کیا۔

    عمران خان کا افغان قیادت کیلئے خصوصی پیغام

    واضح رہے وفاقی وزیرداخلہ اور چینی ہم منصب کے درمیان ملاقات 2 گھنٹے طویل رہی، وزیر داخلہ محسن نقوی نے چینی ہم منصب کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔

    یومِ یکجہتی کشمیر آج بھرپور انداز سے منایا جا رہا ہے

  • امریکا کی  فنڈنگ رُکنے سے جنوبی ایشیا میں لاکھوں خواتین متاثر ہوں گی،اقوام متحدہ

    امریکا کی فنڈنگ رُکنے سے جنوبی ایشیا میں لاکھوں خواتین متاثر ہوں گی،اقوام متحدہ

    جنیوا: اقوام متحدہ کے مطابق امریکا کی امدادی فنڈنگ رُکنے سے جنوبی ایشیا میں لاکھوں خواتین متاثر ہوں گی۔

    باغی ٹی وی : یو این پاپولیشن فنڈ کے ایشیا پیسیفک ریجنل ڈائریکٹر نے جینیوا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں فلاحی، امدادی کاموں کے لیے اقوام متحدہ کا سب سے بڑا ڈونر امریکا ہےانہوں نے خبردار کیا کہ امریکی فنڈنگ رُکنے سے پاکستان، افغانستان، بنگلادیش میں یو این پاپولیشن فنڈ کی خدمات رُک جائیں گی جس سے لاکھوں خواتین اور لڑکیوں کو جان لیوا خطرات لاحق ہوں گے، امریکی فنڈنگ رُکنے سے افغانستان میں 1200سے زائد حاملہ خواتین کی جان جاسکتی ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نےعہدہ سنبھالتے ہی امریکا کی تمام غیر ملکی امداد کو 90 روز کے لیے روک دیا ہے پاکستان، افغانستان اور بنگلادیش کے لیے رواں برس 30 کروڑ80لاکھ ڈالر سے زیادہ رقم درکار ہے امریکا کے تمام سفارتی اور قونصل مشنز کو محکمہ خارجہ کی جانب سے حکم نامہ جاری کیا گیا تھا جس میں ان سے کہا گیا کہ تمام امدادی پروگرام فوری طورپر معطل کردیں اور اس ضمن میں تمام کام بند کردیے جائیں۔

    ٹرمپ کا غزہ کی پٹی پر طویل عرصے تک قبضہ کرنے کا اعلان

    اسماعیلی فرقے کے سربراہ آغا خان انتقال کر گئے

    پاک، سعودیہ کے درمیان منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کیخلاف تعاون کی منظوری

  • ٹرمپ کا غزہ کی پٹی پر طویل عرصے تک قبضہ کرنے کا اعلان

    ٹرمپ کا غزہ کی پٹی پر طویل عرصے تک قبضہ کرنے کا اعلان

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کی پٹی پر طویل عرصے تک قبضہ کرنے کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی : صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ امریکا غزہ کی پٹی پر قبضہ کر لے گا، ہم اس کے مالک ہوں گے جس کا مقصد اس علاقے میں استحکام لانا اور ہزاروں ملازمتیں پیدا کرنا ہے۔

    امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں غزہ میں طویل المدتی ملکیت کی پوزیشن دیکھتا ہوں، ہم غزہ کو ترقی دیں گےعلاقے کے لوگوں کے لیے ملازمتیں دیں گے ، شہریوں کو بسائیں گےفلسطینیوں کے لیے منصوبے کے تحت اردن اور مصر کے رہنما جگہ فراہم کریں گے، مشرق وسطیٰ کے دیگر رہنماؤں سےبات ہوئی، انہیں فلسطینیوں کو غزہ سے منتقل کرنے کا آئیڈیا پسند آیا۔

    پاک، سعودیہ کے درمیان منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کیخلاف تعاون کی منظوری

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اپنے منصوبے کے بعد غزہ میں دنیا بھر کے لوگوں کو آباد ہوتے دیکھتا ہوں میں اسرائیل، غزہ اور سعودیہ کا دورہ کروں گا، سعودی عرب بہت مددگار ثابت ہوگا ہمیں امید ہے کہ جنگ بندی برقرار رہے گی بہت سے ممالک جلد ہی ابراہام معاہد ے میں شامل ہوں گے۔

    ٹرمپ نے بتایا کہ نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات میں ہم نے حماس کے خاتمے کو یقینی بنانے کے طریقے پر تبادلہ خیال کیاغزہ کو دوبارہ تعمیر کرنے اور اس پر قبضہ کرنے کا عمل انہی لوگوں کے ذریعے نہیں ہونا چاہیے میں ایران کے ساتھ ڈیل کرنا پسند کروں گااگر لگا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہیں تو یہ ان کی بدقسمتی کا باعث ہوگا۔

    اسماعیلی فرقے کے سربراہ آغا خان انتقال کر گئے

    دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا منصوبہ، جس کے تحت امریکا فلسطینی علاقے غزہ پٹی کا کنٹرول سنبھالے گا، تاریخ بدل سکتا ہے ٹرمپ غزہ کا مختلف مستقبل دیکھتے ہیں، یہ قابلِ توجہ ہے اور تاریخ بدل سکتا ہےمیں اور ڈونلڈ ٹرمپ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ایران کبھی ایٹمی ہتھیار تیار نہ کرے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر سعودی وزرت خارجہ کا مؤقف سامنے آگیا۔

    سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل سے تعلقات قائم نہیں کیے جائیں گے سعودی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر سعودی عرب اسرائیل سے تعلقات قائم نہیں کرے گا، فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق سعودی عرب کا مؤقف مضبوط اور غیر متز لزل ہے۔

    امریکا کی فنڈنگ رُکنے سے جنوبی ایشیا میں لاکھوں خواتین متاثر ہوں گی،اقوام متحدہ

    وزارت خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب کے ولی عہد سلطنت کے مؤقف کی کھلے اور دوٹوک انداز سے تصدیق کرتے ہیں، سعودی عرب کے مؤقف کی کسی بھی حالات میں کسی تشریح کی اجازت نہیں،فلسطینیوں سے متعلق سعودی عرب کے مؤقف پر گفت وشنید کی ہی نہیں جاسکتی۔

    دوسری جانب فلسطینی شہریوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ پر قبضہ کرنے کے اعلان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ بھی ہوجائے، ہم کسی صورت غزہ چھوڑ کر کسی اور مقام پر منتقل نہیں ہوں گے۔

    اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق زیادہ تر فلسطینیوں کی طرح غزہ کے جنوبی شہر رفح کے رہائشی حاتم عزام نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا جس میں انہوں نے کہا کہ غزہ کے رہائشیوں کو مصر یا اردن منتقل ہو جانا چاہیے۔

    یومِ یکجہتی کشمیر آج بھرپور انداز سے منایا جا رہا ہے

    34 سالہ شہری نے ٹرمپ کے گزشتہ ہفتے غزہ میں صفائی سے متعلق اپنے منصوبے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے استعمال کیے گئے الفاظ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہ ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ غزہ کچرے کا ڈھیر ہے، ایسا بالکل نہیں ہے امریکی صدر کو فریب کا شکار کہتے ہوئے شہری نے کہا کہ ٹرمپ مصر اور اردن کو تارکین وطن لینے پر ایسے مجبور کرنا چاہتے ہیں گویا کہ یہ ملک ان کے ذاتی فارم ہیں۔

    رفح کے ایک اور 30 سالہ رہائشی ایحاب احمد نے افسوس کا اظہار کیا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو "اب بھی فلسطینی عوام اور ان کے اپنی زمین سے انسیت کو نہیں سمجھتے، ہم اس سرزمین پر رہیں گے، چاہے کچھ بھی ہو، چاہے ہمیں خیموں اور سڑکوں پر ہی رہنا پڑے، ہم اپنی زمین سے جڑے رہیں گے۔

    کمال گرائمر سکول لاہور برانچ میں سالانہ نتائج اور تقسیم انعامات کی شاندار تقریب

    ایحاب احمد نے اے ایف پی کو بتایا کہ فلسطینیوں نے برطانیہ کے مینڈیٹ کے بعد 1948 کی جنگ سے سبق سیکھا جب اسرائیل کے قیام کے وقت لاکھوں فلسطینیوں کو گھروں سے محروم کیا گیا اور انہیں واپس جانے کی اجازت نہیں دی گئی، دنیا کو اس پیغام کو سمجھنا چاہیے کہ اس بار ہم اس طرح سے کہیں نہیں جائیں گے جیسا کہ 1948 میں ہوا تھا۔

    مصر اور اردن دونوں نے ٹرمپ کے خیال کو سختی سے مسترد کر دیا ہے اور ان ممالک کے علاوہ غزہ اور دیگر ہمسایہ ممالک نے بھی اسے ماننے سے انکار کیا ہےٹرمپ اور نیتن یاہو کو فلسطینی عوام اور غزہ کے لوگوں کے حوالے سے حقائق کو سمجھنا چاہیے، یہ وہ لوگ ہیں جن اپنی سرزمین میں گہری جڑیں ہیں، یہ کہیں نہیں جائیں گے۔

    بانی پی ٹی آئی این آراوچاہتے ہیں،خواجہ آصف

    آسٹریلیا کے وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ پر کنٹرول کے اعلان پر شدید حیرت اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آسٹریلوی وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے فلسطین کے دو ریاستی حل کی حمایت کا عزم کرتے ہوئے کہا کہ غزہ پر قبضے کے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان سے دھچکا لگا ہے۔

    آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ ایسی کسی مہم جوئی کی حمایت نہیں کریں گے جو دو ریاستی حل کے منافی ہو وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ آسٹریلیا مشرق وسطیٰ میں دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے اور خطے میں استحکام کے لیے یہی واحد راستہ ہے۔

    اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو فلسطینیوں کی نسل کشی قرار دیدیا۔

    اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گوتیرس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ پر قبضے اور فلسطینیوں کو دوسرے ممالک میں بسانے کے منصوبے پر کڑی تنقید کی ہے، انتونیو گوتریس نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہ فلسطین کا کوئی بھی حل وہاں کے عوام کی شمولیت کے بغیر ناقابل عمل اور بے سود رہے گا اگر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے پر عمل کیا جاتا ہے تو اس سے فلسطینی ریاست کا قیام ہمیشہ کے لیے کھٹائی میں پڑ جائے گا۔

  • پاک، سعودیہ کے درمیان منی لانڈرنگ اور دہشتگردی  کیخلاف تعاون کی منظوری

    پاک، سعودیہ کے درمیان منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کیخلاف تعاون کی منظوری

    ریاض: سعودی کابینہ نے پاکستان کے ساتھ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف تحقیقات کے تبادلے کی منظوری دے دی ہے۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف امور پر غور کیا گیا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سعودی عرب کا ڈائریکٹریٹ آف فنانشل انویسٹی گیشن (DFI) پاکستان کے فنا نشل مانیٹرنگ یونٹ (FMU) کے ساتھ مل کر منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت اور دیگر مالی جرائم کی تحقیقات میں تعا ون کرے گا۔

    اس حوالے سے دونوں ممالک کے متعلقہ ادارے ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کریں گے، جس کے تحت معلومات کے تبادلے، مشکوک مالی سرگرمیوں کی نگرانی اور دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔

    اسماعیلی فرقے کے سربراہ آغا خان انتقال کر گئے
    سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے خلاف تعاون کی اجازت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک بین الاقوامی سطح پر مالیاتی شفافیت اور غیر قانونی مالی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، اس معاہدے سے نہ صرف مالیاتی نگرانی کا نظام مزید مضبوط ہوگا بلکہ دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

    یومِ یکجہتی کشمیر آج بھرپور انداز سے منایا جا رہا ہے

    سعودی عرب اور پاکستان انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے عالمی معیارات پر عمل کرنے کے لیے پرعزم ہیں اس تعاون سے پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کی گائیڈ لائنز پر عمل درآمد میں مدد ملے گی، جبکہ سعودی عرب اپنے مالیاتی نظام کو مزید مستحکم کرنے کے لیے عالمی اداروں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرے گا۔

    امریکی کے اغوا میں ملوث ایرانی انٹیلی جنس افسران کےپوسٹر جاری

    ماہرین کے مطابق، اس معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور مالیاتی شفافیت میں اضافہ ہوگا، جبکہ غیر قانونی مالی سرگرمیوں کو محدود کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

  • اسماعیلی فرقے کے  سربراہ آغا خان انتقال کر گئے

    اسماعیلی فرقے کے سربراہ آغا خان انتقال کر گئے

    روحانی پیشوا، انسان دوست اور دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک آغا خان 88 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

    باغی ٹی وی :برطانوی شہری آغا خان اسلام کے اسماعیلی فرقے کے مذہبی سربراہ تھے جس کے پیراکاروں کی تعداد تقریباً 15 ملین ہے،پرنس کریم آغا خان 13 دسمبر 1936 میں پیدا ہوئے جنھیں شاہ کریم الحسینی (پرنس کریم الحسینی) یا آغا خان چہارم بھی کہا جاتا تھا، اسماعیلی مسلمانوں کے سب سے بڑے گروہ نزاریہ اسماعیلیہ (آغا خانیوں) کے اننچاسویں امام تھے-

    گوگل پر جاری تفصیلات کے مطابق آغا خان 13 دسمبر 1936ء کو سوئستان کے شہر جنیوا میں پیدا ہوئے 1957ء میں آغا خان سوم کی رحلت کے بعد پرنس کریم آغا خان کو امام بنایا گیا شیعوں کا دوسرا بڑا فرقہ اسماعیلیہ ہے اسماعیلیہ کی سب سے بڑی شاخ نزاریہ ہے جو تقریباً دو تہائی اسماعیلیوں پر مشتمل ہے۔

    یومِ یکجہتی کشمیر آج بھرپور انداز سے منایا جا رہا ہے

    اسماعیلیوں کا دوسرا بڑا گروہ بوہرہ جماعت ہے، جن میں امامت کی بجائے داعی مطلق کا سلسلہ ہےاور وہ آغا خان کو امام نہیں مانتے، آغا خان چہارم نزاریہ اسماعیلیوں کے اننچاسویں امام تھے اور آغا خان شاہ کریم الحسینی کے پیروکاروں کا عقیدہ ہے کہ آغا خان چہارم کو شریعت کی تعبیر و توضیح کے وہ تمام اختیارات حاصل ہیں، جو ان کے پیش روؤں کو حاصل تھے ان کی ہدایت حرفِ آخر سمجھی جاتی ہے اور اسماعیلی خواتین و حضرات بے چون و چرا خود کو اس پر عمل کرنے کا مکلف سمجھتے تھے۔

    وہ دورانِ تعلیم ہی جانشین بن گئے تھے اور اسی زمانے میں امامت کی اہم ذمہ داری انھیں سونپ دی گئی تھی، تاہم سنہ 1958ء میں انھوں نے اپنے سلسلہ تعلیم کا دوبارہ آغاز کیا اور بی، اے کیا، اس دوران میں انھوں نے تحقیقی مقالات بھی لکھے۔

    امریکی کے اغوا میں ملوث ایرانی انٹیلی جنس افسران کےپوسٹر جاری

    انھوں نے اکتوبر 1969ء میں سلیمہ نامی عورت سے شادی کی تھی، جس سے تین بچے (1) زہرہ آغا خان، (2) رحیم آغا خان، (3) حسین آغا خان پیدا ہوئے، مگر 25 سال کے بعد اسے طلاق دے دی اس کے بعد 1998ء میں بیگم انارہ کے ساتھ دوسری شادی کی تھی، جن سے ایک بیٹا علی محمد آغا خان پیدا ہوا مگر پھر چند سال بعد بیگم انارہ کو بھی طلاق دے دی۔

    شہزادہ کریم آغا خان دنیا بھر کے لوگوں کی مالی، معاشی، علمی اور آبادیاتی مد میں مدد کے لیے ہمہ وقت کمر بستہ رہے۔ ان کا تعمیر کردہ ادارہ آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کے نام سے مشہور ہے اور بیک وقت کئی ذیلی اداروں کی سرپرستی کرتا ہے۔ شہزادہ کریم آغا خان کو بین الاقوامی زبانوں میں عبور حاصل تھا۔ وہ انگریزی، فرانسیسی اور اطالوی زبانیں روانی سے بولتے تھے، مگر عربی اور اردو اٹک اٹک کر بولتے تھے،ان کے مشغلے گھوڑ دوڑ اور اسکیٹنگ، فٹ بال، ٹینس اور کشتی رانی ہیں، ایک قول کے مطابق وہ کسی زمانے میں ایران کی نمائندگی کرتے ہوئے اسکیٹنگ کے اولمپک چمپین بھی بنے تھے۔

    کیپیٹل فسادات سے متعلق تحقیقات کرنے والے 5 ہزار ملازمین مشکل میں

    وزیراعظم شہباز شریف نے اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا پرنس کریم آغا خان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا-

    اپنے پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہم پرنس کریم آغا خان کے انتقال پر اسماعیلی برادری کے غم میں شریک ہیں۔ پرنس کریم آغا خان کی بصیرت اور سخاوت کی لازوال میراث نسلوں تک جاری رہے گی، پرنس کریم آغا خان کی انسانیت کے لیے خدمات بے شمار ہیں۔ وہ ایسے رہنما تھے جن کی زندگی دنیا بھر میں کمیونٹی کے ساتھ ساتھ پوری انسانیت کے لیے وقف تھی، انہوں نے غربت کے خاتمے اور صحت و تعلیم سمیت کئی شعبوں میں اپنی انتھک کوششوں سے ناقابل فراموش اقدام کیے ہیں۔

    قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے اسماعیلی کمیونٹی کے روحانی پیشوا پرنس کریم آغا خان کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وفات کا سن کر دل بہت افسردہ ہے۔ پرنس کریم آغا خان انسانیت سے محبت کرنے والے انسان تھے۔ ان کی تعلیم اور صحت کے شعبے میں خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔

    انہوں نے کہا کہ پرنس کریم آغا خان نے پسماندہ اور متوسط درجے کے طبقات کے لیے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ انہوں نے امن اور برداشت کا درس دیا۔ انسانیت کی خدمت کے لیے ان کی کاوشیں لائق تحسین ہیں ۔ پاکستانی قوم پرنس کریم آغا خان کی وفات پر غمزدہ ہے ۔ اللہ تعالی سوگواران کو یہ غم برداشت کرنے کا حوصلہ اورعطا فرمائے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اسماعیلی کمیونٹی کے 49ویں امام پرنس کریم آغا خان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پرنس کریم آغا خان نے اپنی جماعت اور کمیونٹی کی تعلیم و تربیت میں بھرپور کردار ادا کیاپرنس کریم آغا خان نے اپنی جماعت اور کمیونٹی کے ذریعے صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں بھرپور خدمات سرانجام دیں۔ سندھ حکومت اور صوبے کے عوام پرنس کریم آغا خان کے انتقال پر جماعت کے غم میں برابر کی شریک ہے۔

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے اسماعیل کمیونٹی کے روحانی پیشوا پرنس کریم آغا خان کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوگوار خاندان اور اسماعیل کمیونٹی سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا ہے۔محسن نقوی نے کہا کہ پرنس کریم آغا خان کی سماجی شعبوں کے لیے خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ پرنس کریم آغا خان نے پاکستان میں تعلیم و صحت کے شعبوں میں نمایاں کام کیا۔ پرنس کریم آغا خان کے انتقال سے دنیا انسانیت کی ہمدرد شخصیت سے محروم ہوگئی ہے۔

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے پرنس کریم آغا خان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک عظیم مدبر اور انسانیت کے خدمت گار تھے،جنہوں نے دنیا بھر میں فلاح و بہبود کی بے شمار خدمات انجام دیں پرنس کریم آغا خان کی سماجی خدمات، انسانیت سے محبت اور تعلیم و فلاح و بہبود کے لیے کی گئی کاوشیں ناقابل فراموش ہیں، دکھ کی اس گھڑی میں پیپلز پارٹی اور حکومت سندھ اسماعیلی کمیونٹی اور ان کے چاہنے والوں کے ساتھ برابر کی شریک ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم پرنس کریم آغا خان کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل دے۔

  • معروف امریکی گالفر ٹائیگر ووڈز کی والدہ کی وفات

    معروف امریکی گالفر ٹائیگر ووڈز کی والدہ کی وفات

    ٹائیگر ووڈز، گولف کی دنیا کے سب سے بڑے ستارے، نے منگل کے روز اپنی والدہ کلٹیدہ ووڈز کے انتقال کا اعلان کیا۔

    15 بار میجر چیمپئن بننے والے ٹائیگر ووڈز نے اس بات کی تصدیق کی کہ والدہ کا انتقال ہو گیا ہے، لیکن انہوں نے ان کی وفات کی وجہ کا ذکر نہیں کیا۔ٹائیگر ووڈز نے اپنی والدہ کے بارے میں ایک پیغام میں کہا: "میری والدہ قدرتی طاقت کی مالک تھیں، ان کی روح بے حد جاذب تھی۔ وہ ہمیشہ ہنستی مسکراتی رہتی تھیں اور کڑھائی کرنے میں ماہر تھیں۔”ٹائیگر ووڈز نے مزید لکھا، "وہ میری سب سے بڑی حامی اور سپورٹر تھیں، اگر ان کا ساتھ نہ ہوتا تو میری ذاتی کامیابیاں ممکن نہ ہو پاتیں۔ وہ بہت سوں کی پسندیدہ تھیں، خاص طور پر ان کے دو پوتے سام اور چارلی۔”ٹائیگر ووڈز نے اپنے مداحوں کا شکریہ ادا کیا اور درخواست کی کہ اس مشکل وقت میں ان کے اور ان کے خاندان کی پرائیویسی کا احترام کیا جائے۔ٹائیگر ووڈز نے اپنے پیغام کو ختم کرتے ہوئے کہا: "میں تم سے محبت کرتا ہوں، ماں۔”

    کلٹیدہ ووڈز، جو تھائی لینڈ سے تعلق رکھتی تھیں، ہمیشہ اپنے بیٹے کے ساتھ نظر آتی تھیں۔ گزشتہ ماہ بھی جب ٹائیگر ووڈز نے ٹومارو گالف لیگ کے میچ میں حصہ لیا تو کلٹیدہ ووڈز کو فلوریڈا کے سوفی سینٹر میں ٹائیگر کی کامیابی پر مسکراتی ہوئی اور تالیاں بجاتی ہوئی دکھایا گیا۔انہوں نے اپنے بیٹے کا ساتھ اس وقت بھی دیا جب ٹائیگر نے 2010 میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اپنی بے وفائیوں کا اعتراف کیا تھا۔ اس وقت کلٹیدہ ووڈز نے فرنٹ رو میں بیٹھ کر اپنے بیٹے کی حمایت کی اور ٹائیگر نے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے عمل "ناقابل قبول” تھے۔

    ٹائیگر ووڈز نے اپنی والدہ کے بارے میں ایک دلچسپ بات بھی شیئر کی کہ وہ وہی شخص تھیں جنہوں نے انہیں گالف ٹورنامنٹس کے آخری دنوں میں سرخ اور سیاہ لباس پہننے کی ترغیب دی تھی۔ ٹائیگر نے اپنے ایک شو "دی ٹوناٹ شو” میں بتایا کہ "میری ماں کا خیال تھا کہ سرخ رنگ میرا طاقتور رنگ ہے، اور جب میں سرخ پہنتا تھا تو گالف ٹورنامنٹس جیتتا تھا۔”ٹائیگر کے والد ارل ووڈز کا انتقال 2006 میں ہوا تھا۔

  • امریکی کے اغوا میں ملوث ایرانی انٹیلی جنس افسران کےپوسٹر جاری

    امریکی کے اغوا میں ملوث ایرانی انٹیلی جنس افسران کےپوسٹر جاری

    ایف بی آئی نے ایک سابق امریکی ایجنٹ رابرٹ لیونسن کے اغوا میں ملوث ایرانی انٹیلی جنس افسران کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے "پوسٹر” جاری کر دیے ہیں۔

    امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے منگل کو دو ایرانی انٹیلی جنس افسران کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے پوسٹرز جاری کیے ہیں جن پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے سابق ایف بی آئی ایجنٹ رابرٹ لیونسن کی گمشدگی میں ملوث ہونے کا عمل کیا۔امریکہ نے پہلے ہی محمد باقری اور احمد خزائی کو لیونسن کی گمشدگی اور ممکنہ موت کے کیس میں پہچانا تھا اور ان پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ منگل کے روز اس نئے اعلان سے امریکہ کے حکام کی طرف سے اس کیس کے حل کرنے کے عزم کا اظہار ہوا ہے۔ امریکی حکومت نے کہا ہے کہ لیونسن کو مارچ 2007 میں ایران میں اغوا کیا گیا تھا۔ایف بی آئی نے اپنے اعلان میں کہا ہے کہ باقری اور خزائی ایرانی وزارتِ انٹیلی جنس اور سیکیورٹی کے افسران کے طور پر "باب” کے اغوا، حراست، اور ممکنہ موت میں ملوث تھے۔

    ایف بی آئی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ لیونسن کی "مقام، بازیابی اور واپسی” کے لیے معلومات فراہم کرنے پر 5 ملین ڈالر تک کا انعام دینے کی پیشکش کر رہا ہے۔ امریکی محکمۂ خارجہ بھی ایسی معلومات پر 20 ملین ڈالر تک کا انعام پیش کر رہا ہے۔ایف بی آئی کے واشنگٹن فیلڈ آفس کے انسداد دہشت گردی ڈویژن کے خصوصی ایجنٹ سنجے ورمانی نے کہا: "ہمارا وسیع تحقیقاتی عمل نئی راہوں اور انٹیلی جنس کی نشاندہی کر رہا ہے، اور ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہر ایرانی اہلکار جو اس اغوا میں ملوث ہے، اس کا محاسبہ ہو۔”

    لیونسن کے خاندان نے 2020 میں کہا تھا کہ انہیں امریکی حکام سے معلومات ملنے کے بعد یقین ہو گیا تھا کہ وہ مر چکے ہیں، اور یہ بات کورونا وائرس کی وبا کے آغاز سے پہلے کی ہے۔ سابق ایف بی آئی ایجنٹ مارچ 2007 میں ایران کے جزیرے کیش گئے تھے، اور اس کے بعد ان کا کوئی پتہ نہیں چلا۔ایرانی حکام نے طویل عرصے تک یہ دعویٰ کیا تھا کہ لیونسن کبھی ایران میں نہیں تھے اور اس کے کوئی ثبوت نہیں ہیں۔ تاہم، نومبر 2019 میں ایک اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے کہا تھا کہ ایران کی عدلیہ نے تسلیم کیا تھا کہ لیونسن کے لیے تہران کی عوامی پراسیکیوشن اور انقلابی عدالت میں "ایک جاری کیس” موجود ہے۔

    30 سالہ ماڈل کیمرے کے سامنے اچانک برہنہ

    امریکا میں گرفتار تارکین وطن افراد کی گوانتانامو بے منتقلی شروع

  • 30 سالہ ماڈل کیمرے کے سامنے اچانک برہنہ

    30 سالہ ماڈل کیمرے کے سامنے اچانک برہنہ

    دنیا میں جہاں نیکڈ ڈریس کا رجحان اپنی حدود کو چھو رہا ہے، وہیں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آیا کبھی کسی نے اسے حد سے زیادہ بڑھا دیا؟

    یہ 2024 کے سب سے بڑے ریڈ کارپٹ رجحانات میں سے ایک بن چکا ہے، جو ایوارڈز کی تقریبات، میٹ گالا اور دیگر اہم مواقع پر چھایا رہا ہے۔ نیکڈ ڈریس نے مشہور شخصیات جیسے ایل فیننگ، کم کارڈیشین، ڈویا کیٹ اور چارلیز تھیرو سمیت ہر کسی کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ گزشتہ سال کے ویینٹی فئر اوسکرز افٹر پارٹی میں دیکھاگیا کہ کس طرح نیکڈ ڈریس میں ننگے پن کو خوبصورتی اور چالاکی سے دکھایا جا سکتا ہے۔

    اس سال کے گریمی ایوارڈز میں، ایک نیکڈ ڈریس نے سب کی توجہ حاصل کی۔ زیادہ تر مہمانوں نے سانحہ لاس اینجلس کی جنگلات کی آگ کے متاثرین کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے سادہ لباس اپنایا، مگر بایانکا سینسوری نے ایک مختلف راستہ اپنایا۔ سینسوری، جو آسٹریلیش ماڈل ہیں اور کینی ویسٹ کی اہلیہ ہیں، گریمی ایوارڈز میں ایک لمبی پٹہ دار کوٹ پہنے پہنچی۔ لیکن جیسے ہی وہ تصاویر کے لیے رکی، اس نے اپنے کوٹ کو اتار کر ایک نیکڈ ڈریس ظاہر کیا، تصاویر کے لیے رکنے کے چند سیکنڈوں کے اندر، 30 سالہ سینسوری نے اپنا کوٹ گرا دیا تاکہ شفاف میش سے بنا ایک بمشکل بغیر آستین والا منی لباس ظاہر ہو سکے جس نے تصور میں بھی کچھ نہیں چھوڑا۔

    نیکڈ ڈریس کی تاریخ اور ثقافت
    نیکڈ ڈریس ہمیشہ سے ہی فیشن کا ایک متنازعہ موضوع رہا ہے۔ یہ ایسی ملبوسات ہیں جو اکثر جسم کے برہنہ ہونے کا تاثر دیتی ہیں، لیکن اکثر ان میں پوشیدہ طریقے سے بدن کی نمائش کی جاتی ہے۔ جیسا کہ جین پال گوٹیئر نے 1990 کی دہائی میں اپنے "ٹرمپ لوئیل” پیٹرنز کے ذریعے برہنہ جسم کی تصاویر چھپائی تھیں، اس رجحان نے فیشن کی دنیا میں تہلکہ مچایا۔ نیکڈ ڈریس کا مقصد عموماً مکمل برہنہ ہونے کے بجائے جسم کی مخصوص حصوں کو مختلف طریقوں سے ڈھانپنا ہوتا ہے۔

    naked
    سینسوری کے لباس پر کئی سوالات اٹھے ہیں، خاص طور پر کیا اس نے کیلیفورنیا کے نمائش کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے؟ کیلیفورنیا کے قوانین کے مطابق اگر کسی شخص کا جسم کسی کو توہین یا پریشانی کا سبب بنے، تو وہ غیر قانونی ہوسکتا ہے۔ تاہم، لاس اینجلس پولیس نے اس معاملے پر کوئی تفتیش نہیں کی اور نہ ہی انہیں کسی شکایت کا علم ہوا۔

    کیا یہ فیشن ہے یا محض جسم کا دکھاوا؟
    کینی ویسٹ نے اپنے انسٹاگرام پوسٹ میں سینسوری کے لباس کو "کسٹم کٹور” کہا، مگر اس لباس میں کوئی مخصوص فنکارانہ عنصر یا دلچسپ ڈیزائن نہیں تھا۔ سینسوری کی ننگی نمائش اس سوال کو جنم دیتی ہے: کیا یہ فیشن ہے یا صرف جسم کا دکھاوا؟ ایک طرف جہاں اس نے نیکڈ ڈریس کے رجحان کو اگلے مرحلے پر پہنچایا ہے، وہیں اس نے جو کچھ دکھایا وہ ایک محض جسم کی نمائش کی مانند نظر آیا۔جب نیکڈ ڈریس کا رجحان سرک رہا تھا، سینسوری نے اس کا حد سے زیادہ استعمال کیا اور اس بات کو واضح کیا کہ فیشن اور ننگی نمائش کے درمیان کا فرق بہت ہی باریک ہے۔ اس واقعہ نے فیشن کی دنیا میں ایک نیا سوال کھڑا کیا ہے،جب نیکڈ ڈریس صرف جسم کی نمائش بن جائے، تو کیا یہ فیشن رہ جاتا ہے؟

  • کیپیٹل فسادات سے متعلق تحقیقات کرنے والے 5 ہزار ملازمین مشکل میں

    کیپیٹل فسادات سے متعلق تحقیقات کرنے والے 5 ہزار ملازمین مشکل میں

    ایف بی آئی نے 6 جنوری 2021 کے امریکی کیپیٹل فسادات سے متعلق تحقیقات کرنے والے 5,000 ملازمین کے نام ٹرمپ انتظامیہ کے محکمہ انصاف کو فراہم کردیے ہیں، اس حوالے سے ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں جو اس معاملے سے واقف افراد نے بتائی ہیں۔

    محکمہ انصاف کی جانب سے یہ مطالبہ کرنے کے بعد ایف بی آئی کے ملازمین میں تشویش پائی جارہی ہے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ یہ نام ٹرمپ انتظامیہ کے ذریعہ ملازمین کی برطرفی کے لیے استعمال ہوسکتے ہیں۔ ایف بی آئی کے ایجنٹس اور تجزیہ کاروں کے ناموں کی فہرست جمع کرانے کے لیے محکمہ انصاف نے جمعہ کو ایک میمو جاری کیا تھا، جس میں ایمل بووے، جو نائب اٹارنی جنرل ہیں، نے کہا تھا کہ ناموں کی فہرست منگل دوپہر تک فراہم کی جائے۔ اس میمو میں ان تمام ملازمین کا ذکر کیا گیا تھا جو 6 جنوری کے واقعات سے متعلق کیسز پر کام کررہے تھے۔

    ایف بی آئی کے ملازمین نے اس درخواست کو آئین اور پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ایک مقدمہ دائر کیا ہے جس میں کہا گیا کہ یہ درخواست بظاہر ایف بی آئی کے اہلکاروں کو دباؤ میں لانے کی کوشش ہے۔ اس مقدمے میں ایف بی آئی کے کئی گمنام ملازمین نے شکایت کی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات ان کی ذاتی معلومات کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں اور ان کے کام کے حوالے سے سیاسی انتقامی کارروائیوں کو فروغ دے سکتے ہیں۔مقدمے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایف بی آئی کے ملازمین کو اس سوالنامے کے ذریعے ان کے کردار کی تفصیلات فراہم کرنے پر مجبور کیا گیا ہے، جس میں یہ پوچھا گیا تھا کہ آیا انہوں نے گرفتاریاں کیں، جینیئل جوری تحقیقات میں حصہ لیا یا مقدمات میں گواہی دی۔

    دوسری جانب، ایف بی آئی کے نیو یارک دفتر کے اعلیٰ افسر جیمز ڈینی ہی نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ اپنے دفاتر کے دفاع کے لیے تیار ہیں اور ان کے حقوق کی حفاظت کریں گے۔

    یہ معاملہ ایک بڑے تنازعے میں تبدیل ہو گیا ہے، جس میں ایف بی آئی کے ملازمین کی برطرفیوں اور ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ان کے خلاف سیاسی انتقامی کارروائیوں کے بارے میں شدید تحفظات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ ان تمام اقدامات کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں۔

    کشمیریوں کا غیرمتزلزل عزم پوری قوم کیلئے عزم و حوصلے کی علامت ہے،آئی ایس پی آر

    پیپلز پارٹی ہر فورم پر کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھے گی،بلاول