Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • دفع ہو جاؤ،عمران کی رہائی کے مطالبے پر رچرڈ گرینیل کا پی ٹی آئی صارف کو جواب

    دفع ہو جاؤ،عمران کی رہائی کے مطالبے پر رچرڈ گرینیل کا پی ٹی آئی صارف کو جواب

    ٹرمپ کے نامزد ایلچی،امریکی ہم جنس پرست رچرڈ گرینیل، جو کہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی رہائی کے معاملے پر بار بار ٹوئٹس کر چکے ہیں، اب اس معاملے پر پریشانی کا شکار نظر آتے ہیں۔

    رچرڈ گرینیل نے ایک حالیہ ٹوئٹ میں ایک پاکستانی صارف پر غصہ نکالتے ہوئے جواب دیا، جس کے بعد اس صارف نے اپنی پوسٹ ڈیلیٹ کر دی۔رچرڈ گرینیل، جو کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں خصوصی مشنوں کے لیے صدارتی ایلچی مقرر کیے گئے تھے، عمران خان کی رہائی کے معاملے پر ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر متعدّد بار اپنی رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ ان کی ٹوئٹس میں عمران خان کے حامیوں کی جانب سے مسلسل عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا، جس نے انہیں پریشان کر دیا تھا۔

    حال ہی میں، رچرڈ گرینیل نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں کیلیفورنیا کے جنگلات میں ہونے والی آتشزدگی کا منظر دکھایا گیا تھا۔ اس ویڈیو کے ذریعے انہوں نے کیلیفورنیا کی ڈیموکریٹ حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ رچرڈ گرینیل نے اپنے پیغام میں لکھا کہ "ان کی پالیسیاں ہمیں جلا کر راکھ کر رہی ہیں” اور مزید کہا کہ "ان لوگوں کو ووٹ دینا بند کریں جو پانی کے انتظام اور جنگلات کی پالیسیوں میں عقل و فہم کا استعمال نہیں کرتے۔”

    imran

    رچرڈ گرینیل کی اس پوسٹ پر ایک پاکستانی صارف، محمد نواز خان نے کہا کہ "ٹھنڈ رکھیں، مگر ایک بار پھر ریلیز عمران خان کا ہیش ٹیگ استعمال کرنا نہ بھولیں۔” اس پیغام کا جواب دیتے ہوئے رچرڈ گرینیل نے غصے میں آ کر پاکستانی صارف سے کہا: "تم جنوبی کیلیفورنیا میں نہیں رہتے، اس لیے دفع ہو جاؤ۔”

    رچرڈ گرینیل کے اس سخت جواب کے بعد، عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرنے والے صارف نے اپنی پوسٹ فوراً ڈیلیٹ کر دی۔ اس واقعے نے اس بات کو واضح کیا کہ رچرڈ گرینیل اب اس معاملے پر زیادہ توجہ دینے سے گریز کر رہے ہیں۔

    ایلچی رچرڈ گرینل کے بیان پر خواجہ سعد کا ردعمل

    کسی ایک فرد کے بیانات پر تبصرہ نہیں کر سکتے،رچرڈ کے بیان پر دفترخارجہ کا ردعمل

    ٹرمپ کا نامزد ایلچی رچرڈ گرنیل کرپٹ غیر ملکی سیاستدان کیلئے کام کرتا رہا،انکشاف

    عمران خان کی رہائی کے حق میں ہوں،ٹرمپ کے نامزد خصوصی ایلچی رچرڈ گرینل

    عمران خان کی رہائی کے لئے ٹویٹ کرنے والا رچرڈ گرنیل کا اکاؤنٹ جعلی

    عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر

  • امریکی شہر مینہیٹن جتنی  خلائی چٹان زمین کے قریب سے گزرے گی

    امریکی شہر مینہیٹن جتنی خلائی چٹان زمین کے قریب سے گزرے گی

    12 جنوری بروز اتوار کو ایک ایسا نایاب واقعہ رونما ہوگا جو 10 سالوں میں صرف ایک بار ہوتا ہے، جس کا مشاہدہ گھر سے عام ستاروں کی دوربین یا لائیو اسٹریم میں کیا جاسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے مطابق ایک انتہائی بڑے پہاڑ جتنی خلائی چٹان زمین کے قریب سے گزرے گی، ایلنڈا نامی سیارچہ 4.2 کلومیٹر چوڑا ہے اور اس کی چوڑائی تقریباً امریکی شہر مینہیٹن جتنی ہے خلائی چٹان کو زمین کے قریب ترین فاصلے تک آنے میں کئی دہائیاں لگیں ہیں یہ فاصلہ دنیا سے 7.6 ملین میل کا، یعنی زمین اور چاند کے درمیان اوسط فاصلے سے تقریباً 32 گنا زیادہ ہے-

    ایلون مسک کے اقدامات امریکا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں،معروف سوانح نگار کا دعویٰ

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ممکن ہے کہ ایسے سیارچوں کو 2087 تک زمین کے قریب قریب نہیں دیکھا جاسکے گایہ بڑا سیارچہ زمین سے ٹکرانے کی صورت میں بڑے پیمانے پر جانداروں کی معدومیت کا باعث بن سکتا ہے، اس کا بڑا سائز اسے ستاروں کی دنیا میں دلچسپی رکھنے والوں کیلئے ایک دلچسپ آبجیکٹ بناتا ہے۔

    ایلون مسک کے اقدامات امریکا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں،معروف سوانح نگار کا دعویٰ

    اتوار کو ایلنڈا 9.4 کی شدت سے چمک پیدا کرے گایہ اتنا روشن نہیں ہے کہ اسے براہ راست آنکھ سے دیکھا جا سکے لیکن یہ اتنا روشن ہے کہ خلا کیلئے مخصوص دوربینوں کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے۔

    زرمبادلہ کے ذخائر میں 2.381 ارب ڈالر کا اضافہ

  • ایلون مسک کے اقدامات امریکا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں،معروف سوانح نگار  کا دعویٰ

    ایلون مسک کے اقدامات امریکا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں،معروف سوانح نگار کا دعویٰ

    ٹیسلا کے بانی ایلون مسک کی بائیوگرافی لکھنے والے سیتھ ابرامسن کا کہنا ہے کہ ایلون مسک کے اقدامات امریکا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں،شاید مسک اپنا ذہنی استحکام بھی کھو رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایلون مسک کا خلائی تحقیق، الیکٹرک کاروں، سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت جیسے اہم شعبوں میں کافی اثر و رسوخ ہے انہیں ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے تحت محکمہ برائے حکومتی کارکردگی (DOGE) کی قیادت کے لیے بھی منتخب کیا گیا ہے ایلون مسک کے سیتھ ابرامسن کے خیال میں ان اہم ترین سیکٹرز پر مسک کا کنٹرول اور حکومت میں ان کا کردار قومی استحکام کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

    سوانح نگار سیتھ ابرامسن جو ایلون مسک کے رویے کا دو سال سے مطالعہ کر رہے ہیں نے کہا کہ مسک کی دماغی صحت کے بارے میں فکر مند ہیں، ابرامسن نے ذکر کیا کہ مسک نے کھلے عام دماغی صحت کے مسائل سے نبردآزما ہونے، منشیات کے استعمال اور مغلوب ہونے کے بارے میں بھی بات کی ہے –

    زرمبادلہ کے ذخائر میں 2.381 ارب ڈالر کا اضافہ

    ابرامسن کا کہنا تھا کہ مسک شد ید بیمار پڑ سکتے ہیں میں حقیقی طور پر سوچتا ہوں کہ ایلون مسک کارویہ تشویشناک ہوتا جا رہا ہے اور وہ پاگل بھی ہوسکتے ہیں، کسی ایسے شخص کے طور پر جس نے دو سالوں سے اپنے آن لائن اعمال کا مطالعہ کیا ہے، اور یہ جانتے ہوئے کہ وہ کھلے عام دماغی صحت، منشیات کے استعمال، اور انتہائی تناؤ کے ساتھ جدوجہد میں مصروف ہیں۔

    لاس اینجلس:آتشزدگی کے باعث خالی گھروں میں لُوٹ مار اور چوریاں

    ایلون مسک کے بارے میں سیتھ ابرامسن کی وارننگز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بحث چھیڑ دی کچھ صارفین نے ابرامسن سے اتفاق کیا اور مسک کے غیر متوقع رویے کو تنقید کا نشانہ بنایا تاہم بعض صارفین مسک کے خیالات اور وژن کا دفاع کررہے ہیں-

    وزیراعلیٰ سندھ کی بیٹی کی شادی پر لی گئی بلاول بھٹو کی تصویر کے سوشل میڈیا پر چرچے

  • لاس اینجلس:آتشزدگی کے باعث خالی گھروں میں لُوٹ مار اور چوریاں

    لاس اینجلس:آتشزدگی کے باعث خالی گھروں میں لُوٹ مار اور چوریاں

    لاس اینجلس کے جنگلات میں لگی آگ کے باعث خالی کرائے گئے گھروں میں لوٹ مار اور چوریاں ہونے لگیں-

    باغی ٹی وی : لاس اینجلس میں خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں متعدد گھر تباہ ہوگئے اور نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی، ایک رپورٹ کے مطابق لاس اینجلس میں تقریباً 12 ہزار گھر راکھ کا ڈھیر بن چکے ہیں آگ کی شدت اتنی ہے کہ اس کو مکمل طور پر تاحال نہیں بجھایا جا سکا اس آگ کی لپیٹ میں عام امریکیوں سمیت ہالی ووڈ کی مشہور شخصیات کے گھروں کو بھی نقصان پہنچا-

    لاس اینجلس کاؤنٹی میں تقریباً ایک لاکھ 80 ہزار رہائشیوں کو آگ کےباعث انخلا پر مجبور ہونا پڑاان میں سےبہت سے افراد بس ضروری سامنا لے کر گھروں کو چھوڑ گئے۔ حالات کو دیکھتے ہوئے مزید 2 لاکھ رہائشیوں کو گھر چھوڑنے کے احکامات جاری کیے جا سکتے ہیں حکام نے ابھی تک 11 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، تاہم اس تعداد میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد کا اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے۔

    دنیا کا کوئی بھی پانی کا نظام لاس اینجلس آگ نہ بجھا سکا

    دوسری جانب لاس اینجلس کے جنگلات میں لگی آگ کے باعث خالی کرائے گئے گھروں میں لوٹ مار اور چوریاں ہونے لگیں۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق لاس اینجلس کاؤنٹی کے شیرف رابرٹ لونا نے تصدیق کی ہے کہ آگ کے باعث خالی کرائی گئی املاک میں لوٹ مار اور چوریوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے گھروں میں چوریاں اور لوٹ مار کرنے کے الزام میں 20 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

    تمیم اقبال اورایلکس ہیلز کے درمیان جھگڑے کیوجہ سامنے آگئی

    انشورنس انڈسٹری کو خدشہ ہے کہ لاس اینجلس کے جنگلات سے نکل کر مہنگے ترین رہائشی علاقوں کو خاکستر کرنے والی آتشزدگی امریکی تاریخ کی سب سے مہنگی آگ ثابت ہو سکتی ہے جس میں بیمہ شدہ نقصانات آٹھ بلین ڈالر سے زیادہ ہونے کی توقع ہےاس کی ایک وجہ یہ بتائی جا رہی ہےکہ لاس اینجلس میں امریکا کےمہنگے ترین گھر بنے ہوئے ہیں آگ کے نتیجے میں اپنے گھروں سے محروم ہونے والی مشہور شخصیات میں لیٹن میسٹر اور ایڈم بروڈی اور پیرس ہلٹن شامل ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ کی بیٹی کی شادی پر لی گئی بلاول بھٹو کی تصویر کے سوشل میڈیا پر چرچے

  • دنیا کا کوئی بھی پانی کا نظام لاس اینجلس آگ نہ بجھا سکا

    دنیا کا کوئی بھی پانی کا نظام لاس اینجلس آگ نہ بجھا سکا

    جمعہ کو جب جنوبی کیلیفورنیا میں آتشزدگی کے باعث تباہی کا سلسلہ جاری تھا اور حکام علاقے کے نقصانات کا جائزہ لے رہے تھے، ایک سوال گہرائی سے سامنے آیا،کیا اس سطح کی تباہی کو کسی طرح کم کیا جا سکتا تھا، یا کیا یہ بس آب و ہوا سے جڑے بحرانوں کے دور میں نیا معمول بن چکا ہے؟

    سی این این کی جانب سے کیے گئے جائزے اور درجن بھر ماہرین سے کیے گئے انٹرویوز کے مطابق اس کا جواب دونوں عوامل کا امتزاج معلوم ہوتا ہے۔لاس اینجلس کے شہر اور کاؤنٹی کے حکام نے ان آتشزدگیوں کو ایک "مکمل طوفان” کے طور پر بیان کیا، جس میں ہاریکین کی شدت کی ہوائیں (جو 100 میل فی گھنٹہ تک چل رہی تھیں) نے ان کے لیے ضروری ہوائی جہازوں کو استعمال کرنے میں رکاوٹ ڈالی، جو ابتدائی طور پر پانی اور آگ بجھانے والے مواد کی بوچھاڑ کر سکتے تھے۔ سی این این کے ساتھ انٹرویو کرنے والے ماہرین کا اتفاق تھا کہ ان ہواؤں، غیر موسمی خشک حالات اور ایک ہی جغرافیائی علاقے میں کئی آتشزدگیوں کے یکے بعد دیگرے ہونے کی وجہ سے وسیع تباہی کا سامنا کرنا ناگزیر تھا۔

    تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانوں نے کچھ ایسے اقدامات کیے ہوتے تو قدرتی آفات کے اثرات کو کم کیا جا سکتا تھا۔ نباتات کی انتظامی پالیسیوں کی کمی، پرانی انفراسٹرکچر اور گھروں کی حالت، اور منصوبہ بندی کا فقدان ان وجوہات میں شامل ہیں جنہوں نے ان آتشزدگیوں کو مزید بڑھاوا دیا۔ اب تک ان آتشزدگیوں نے 55 مربع میل سے زائد علاقے کو نقصان پہنچایا، ہزاروں عمارتوں کو تباہ کیا اور کم از کم 10 افراد کی جانیں لے لیں۔

    آتشزدگی سے لڑنے کے لیے سب سے اہم جزو پانی ہے، اور اس مسئلے پر تحقیق کی جا رہی ہے۔ آتش نشانی کے دوران، خاص طور پر جب ہوائیں تیز تھیں، ایک آتش نشانی کارکن نے ریڈیو پر اطلاع دی کہ "ہم نے زیادہ تر ہائیڈرنٹ کا دباؤ کھو دیا ہے۔” ماہرین کا کہنا ہے کہ چاہے ہائیڈرنٹس مکمل طور پر فعال بھی ہوں، پھر بھی ان آتشزدگیوں کی شدت کے مقابلے میں یہ کافی نہیں تھے۔کیل فورنیا کی ایک پبلک واٹر سپلائی کے بورڈ ممبر نے بتایا کہ بعض علاقوں میں پانی کے ذخائر بھی خالی ہو گئے تھے، اور جب بجلی کا نظام معطل ہوا تو پانی کو پمپ کرنے میں دشواری پیش آئی۔

    لاس اینجلس کے آتش نشانی کے چیف، کرسٹین کراؤلی نے اس بات پر زور دیا کہ محکمہ آتش نشانی کے لیے جو بجٹ کٹوتیاں کی گئیں، وہ اس وقت کی بڑی آفات کے مقابلے میں ان کے وسائل کی کمی کو مزید بڑھا چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کٹوتیوں نے محکمہ کی تیاری، تربیت اور بڑے پیمانے پر ایمرجنسی کی تیاری کی صلاحیت کو شدید متاثر کیا۔

    کیلیفورنیا میں آتشزدگیوں سے تحفظ کے لیے عمارتوں کے کوڈز ایک قومی ماڈل ہیں، لیکن یہ صرف ان عمارتوں پر لاگو ہوتے ہیں جو نئے قوانین کے تحت بنائی گئی ہیں۔ زیادہ تر عمارتیں جو اس ہفتے کی آتشزدگیوں میں متاثر ہوئیں، وہ پرانی تھیں اور ان پر یہ جدید حفاظتی قوانین لاگو نہیں تھے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آتشزدگی کے دوران ہواؤں کی شدت اور دیگر عوامل کی وجہ سے تباہی کو روکنا تقریباً ناممکن تھا۔ یونائیٹڈ اسٹیٹس جیولوجیکل سروے کے سینئر محقق، جان کیلی نے کہا کہ "جب ہوائیں اتنی تیز ہوں، تو جو کچھ بھی بچانے کی کوشش کی جائے، وہ ناکام ہو جاتا ہے۔”

    اب جب کہ آتشزدگی سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ آئندہ آتشزدگیوں کو کم کرنے کے لیے علاقوں کی دوبارہ تعمیر کے دوران حفاظتی تدابیر اختیار کی جائیں۔ خاص طور پر، پرانی عمارتوں کی مرمت اور نئے حفاظتی معیار کے مطابق ان کی تعمیر کو مزید فروغ دیا جائے۔لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا ان آتشزدگیوں کے شکار علاقوں کو دوبارہ تعمیر کرنا محفوظ ہو گا، یا کیا ان جگہوں پر بسنے والوں کو کم خطرے والے علاقوں میں منتقل ہونے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔

    لاس اینجلس میں آتشزدگی کی اس تباہ کن لہر نے ایک اور سبق دیا ہے، قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ہمیں نہ صرف فوری اقدامات کی ضرورت ہے، بلکہ طویل مدتی منصوبہ بندی بھی درکار ہے تاکہ مستقبل میں ہونے والی آفات کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

    لاس اینجلس میں جنگلاتی آگ سے متاثرہ افراد کے لیے روز باؤل سٹیڈیم کے قریب ایک بڑا امدادی مرکز قائم کیا گیا، جہاں متاثرین کو کھانے پینے کی اشیاء، کپڑے، اور صفائی کا سامان فراہم کیا گیا،امریکی شہر لاس اینجلس اور آس پاس کے علاقوں کے رہائشی جنگلوں میں لگی آگ سے اپنا گھر تباہ ہوتے ہوئے دیکھنے کے بعد شدید غم کا شکار ہیں۔ایل اے کاؤنٹی میں تقریبا ایک لاکھ اسی ہزار افراد کو علاقہ خالی کرنے کا کہا گیا ہے۔تاہم ہالی ووڈ ہلز ویسٹ کے علاقے سے لوگوں کے انخلا کا حکم واپس لے لیا گیا ہے کیونکہ وہاں آگ کم ہوتی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ جنگل کی آگ کی ‘رخ بدل رہی ہے’

    لاس اینجلس میں لگنے والی آگ کی پیشگوئی پہلے کر دی تھی،معروف ماہر نجومی کا دعویٰ

    لاس اینجلس میں آگ، امریکی سوئمر نے 10 اولمپک تمغے کھو دیے

    لاس اینجلس میں آگ ،اداکارہ نورا فتیحی کیسے نکلیں؟

    لاس اینجلس میں تاریخ کی بدترین آگ، 6 ہزار گھر تباہ

    امریکہ میں تباہ کن آگ،12 ہزار عمارتیں راکھ کا ڈھیر،ہزاروں افراد کی نقل مکانی

  • تمیم اقبال اورایلکس ہیلز کے درمیان جھگڑے کیوجہ سامنے آگئی

    تمیم اقبال اورایلکس ہیلز کے درمیان جھگڑے کیوجہ سامنے آگئی

    بنگلادیش کے تمیم اقبال اور انگلینڈ کے کرکٹر ایلکس ہیلز کے درمیان جھگڑا کیوں ہوا ،تفصیل سامنے آگئی۔

    باغی ٹی وی: غیرملکی میڈیا کے مطابق 9 جنوری کو دونوں کرکٹرز کا جھگڑا بنگلادیش پریمیئر لیگ کا ایک میچ ختم ہونے کے بعد ہوا اس حوا لے سے ایلکس ہیلز نے کہا ہے کہ تمیم اقبال بول رہے تھے کہ کیا میں منشیات کی وجہ سے لگنے والی پابندی پر شرمندہ ہوں، وہ پوچھ رہے تھے کہ کیا میں اب بھی منشیات لے رہا ہوں، تمیم اقبال بہت بدتمیزی کر رہے تھے یہ واقعی بہت شرم کی بات ہے کیونکہ اگر میدان میں کچھ ہوتا ہے تو اسے وہیں ختم ہونا چاہیے، گیم کے بعد ذاتیات پر حملے کرنا بہت برا عمل ہے۔

    اسرائیل کی یمن میں پاور اسٹیشن اور فوجی تنصیبات پر بمباری

    دوسری جانب تمیم اقبال نے کہا کہ ایلکس ہیلز نے ٹیم کے ایک کھلاڑی کو برا بھلا کہا جو کہ ٹی وی پر بھی دکھ رہا تھا، اگر آپ جشن کی ویڈیو دیکھیں تو ٹیم کے کھلاڑی جیت کے بعد دوسرے کھلاڑی کی طرف بھاگے لیکن ایلکس ہیلز میری طرف دیکھتے رہے اور میرا مذاق اڑاتے رہے۔

    لاس اینجلس میں لگنے والی آگ کی پیشگوئی پہلے کر دی تھی،معروف ماہر نجومی کا دعویٰ

    بنگلادیشی کھلاڑی نے کہا کہ ایلکس ہیلز نے جب میری ٹیم کے کھلاڑی کے ساتھ دوبارہ بدتمیزی کی تو مجھے اپنے ساتھی کے لیے کھڑا ہونا پڑا اور مجھے ایسا کرنے پر کوئی افسوس نہیں ہےمیں ایلکس ہیلز کی پابندی کے بارے میں نہیں جانتا تھا اور نہ ہی میں ان کو فالو کرتا ہوں لیکن میں جانتا ہوں کہ انگلینڈ میں ان کے خلاف بہت سے الزامات ہیں، اگر کوئی میرے یا میری ٹیم کے بارے میں کچھ کہے گا تو میں ہمیشہ کھڑا ہوں گا، اس سے قطع نظر کہ مجھے ٹی وی پر کس طرح پیش کیا جاتا ہے۔

    واضح رہے کہ ایلکس ہیلز پر 2019ء میں منشیات کے استعمال میں ملوث ہونے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ "بلیک باکس” میں‌چار منٹ قبل ریکارڈنگ رک گئی تھی،انکشاف

  • اسرائیل کی یمن میں پاور اسٹیشن اور فوجی تنصیبات پر بمباری

    اسرائیل کی یمن میں پاور اسٹیشن اور فوجی تنصیبات پر بمباری

    اسرائیل نے یمن میں حوثیوں کے زیرکنٹرول علاقوں میں پاور اسٹیشن اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیل نے یمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کے جواب میں جمعہ کے روز یمن میں حوثی اہداف کو نشانہ بنایاجن میں ایک پاور اسٹیشن اور ساحلی بندرگاہیں شامل تھیں جمعہ کو اسرائیلی فوج کے یمن میں حوثیوں کے زیرکنٹرول علاقوں میں کیے گئے حملوں میں حدیدہ، راس عیسیٰ بندرگاہوں، حزیاز پاور اسٹیشن اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایاگیا ، حملوں میں 1 شخص ہلاک اور 16 زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ حوثی اسرائیل کے خلاف کارروائیوں کی قیمت چکا رہے ہیں اور انہیں مزید بھاری قیمت اٹھانا پڑے گی، ادھر حماس نے یمن پر حملے کی مذمت کی۔

    لاس اینجلس میں لگنے والی آگ کی پیشگوئی پہلے کر دی تھی،معروف ماہر نجومی کا دعویٰ

    واضح رہے کہ اسرائیل کے تازہ ترین حملے اس وقت ہوئے جب فوج نے جمعرات کو یمن سے داغے جانے والے 2 ڈرونز کو مار گرایا،اکتوبر 2023 میں غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے یمنی باغی گروپ نے فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر اسرائیل پر درجنوں میزائل اور ڈرون فائر کیے۔

    گوجرہ: فائرنگ سے جرمنی پلٹ شخص سمیت دو نوجوان شدید زخمی

    دوسری جانب غزہ پر بھی اسرائیلی جارحیت جاری ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 22 فلسطینی شہید ہوگئے،اس کے علاوہ لبنان پر بھی اسرائیل نے ڈروان حملہ کیا جس میں 5 شہری شہید ہوئے۔

    ٹرمپ کی برطانوی شاہی خاندان سے محبت، امریکہ و برطانیہ کے تعلقات پر اثرات

  • لاس اینجلس میں لگنے والی آگ کی پیشگوئی پہلے کر دی تھی،معروف ماہر نجومی کا دعویٰ

    لاس اینجلس میں لگنے والی آگ کی پیشگوئی پہلے کر دی تھی،معروف ماہر نجومی کا دعویٰ

    لاس اینجلس:معروف ماہر نجومی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے لاس اینجلس میں لگنے والی آگ کی پیشگوئی پہلے ہی کردی تھی۔

    باغی ٹی وی : لاس اینجلس میں خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں متعدد گھر تباہ ہوگئے اور نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی، ایک رپورٹ کے مطابق لاس اینجلس میں تقریباً 12 ہزار گھر راکھ کا ڈھیر بن چکے ہیں آگ کی شدت اتنی ہے کہ اس کو مکمل طور پر تاحال نہیں بجھایا جا سکا اس آگ کی لپیٹ میں عام امریکیوں سمیت ہالی ووڈ کی مشہور شخصیات کے گھروں کو بھی نقصان پہنچا،حکام نے ابھی تک 11 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، تاہم اس تعداد میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد کا اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے۔

    امریکہ میں تباہ کن آگ،12 ہزار عمارتیں راکھ کا ڈھیر،ہزاروں افراد کی نقل مکانی

    ڈیلی اسٹار کے مطابق بھیانک آگ کے بارے میں معروف ماہر نجومی ایتھوس سالومی جنہیں موجودہ دور کا ’نوسٹراڈیمس‘ کہا جاتا ہے نے حیران کن طور پر دعویٰ کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے لاس اینجلس میں لگنے والی آگ کی پیشگوئی پہلے ہی کردی تھی۔

    ڈیلی اسٹار نے رپورٹ میں کہا کہ ایتھوس سالومی نے ایک اخبار کو انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ انہوں نے کئی بڑے واقعات کی پیش گوئی کی تھی، بشمول COVID-19، ملکہ برطانیہ کی موت، اور یوکرین پر روس کے حملے اب ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کیلیفورنیا کی ریاست لاس اینجلس میں بڑے پیمانے پر آگ لگنے کی پیش گوئی بھی کی تھی۔

    امریکہ، جنگلات میں آتشزدگی کی وجوہات کا انکشاف

    ڈیلی اسٹا رنے کہا کی برازیلین ماہرنجوم ایتھوس سالومی نے یہ پیشگوئی تقریباً ایک سال قبل کی تھی، لیکن انہوں نے ہمیں بتایا تھا کہ 2024 میں ایک بڑی آتشزدگی کا واقعہ پیش آئے گا اور ہم نے یہ خبر 25 دسمبر 2023 کو شائع کی تھی،قابل ذکر بات یہ ہے کہ میری پیشگوئی بالکل درست تھی، دسمبر 2023 میں میں نے کہا تھا کہ 2024 کے آغاز سے آگ لگنے کے واقعات میں بڑا اضافہ دیکھا جائے گا۔

    انہوں نے بتایا کہ میں نے خاص طور پر کیلیفورنیا کا ذکر کیا تھا، اس کا مطلب ہے کہ حالات تباہ کن نتائج کے ساتھ وہاں پیش آنے کے لیے تیار ہیں اگر میرے تصورات سچ ہوتے رہے تو مستقبل اور بھی مشکل ہو جائے گا 2025 کے لیے، میں نے معیشت اور ٹیکنالوجی سے متعلق اہم واقعات کی پیش گوئی بھی کر رکھی ہے جس میں انسانیت کا بڑا نقصان نظر آرہا ہے کیلیفورنیا کی حالیہ آگ موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں ایک انتباہ ہے اور بہتر آفات کی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

    ملالہ یوسف زئی کی پاکستان آمد

  • ٹرمپ کی برطانوی شاہی خاندان سے محبت، امریکہ و برطانیہ کے تعلقات پر اثرات

    ٹرمپ کی برطانوی شاہی خاندان سے محبت، امریکہ و برطانیہ کے تعلقات پر اثرات

    برطانوی شاہی خاندان نے تاریخ کے مختلف ادوار میں امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان "خصوصی تعلقات” کو زندہ رکھا گیا۔ اور اب جبکہ ایلون مسک، جو امریکہ کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریب اتحادی ہیں، برطانوی حکومت کے ساتھ تنازعات میں ہیں، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ برطانیہ اپنے قدیم سفارتی وسائل میں سے ایک یعنی شاہی خاندان کو مزید مؤثر طریقے سے استعمال کر سکتا ہے۔

    اس ہفتے، پرنس ایڈورڈ، ڈیوک آف ایڈنبرا نے امریکہ کا دورہ کیا تاکہ وہ سابق امریکی صدر جمی کارٹر کی تعزیت پیش کر سکیں، جو دسمبر میں سو سال کی عمر میں وفات پا گئے تھے۔ اس دوران، برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے لیے یہ اطمینان کا باعث ہو سکتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے آنے والے صدر کو شاہی خاندان سے خصوصی محبت ہے، خاص طور پر ملکہ الزبتھ دوم سے۔

    2019 میں، جب ٹرمپ نے برطانیہ کا آخری سرکاری دورہ کیا، تو انہوں نے شاہی خاندان کے ارکان کو بھرپور تعریفوں سے نوازا۔ ٹرمپ نے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا تھا، "میری ان سے بہت اچھی دوستی ہے، ہم ہنس رہے تھے اور مزے کر رہے تھے۔” اس دوران، وہ ملکہ الزبتھ سے بھی ملے تھے۔

    ٹرمپ شاہی خاندان کی شہرت اور اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ یہ خاندان روایتی معاشرتی اقتدار کی نمائندگی کرتا ہے، جیسا کہ شاہی تاریخ دان ایڈ اووینز نے بتایا۔ "وہ دنیا کے معروف ترین افراد میں سے ہیں اور ٹرمپ یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ وہ دنیا کے سب سے مشہور شخص ہیں۔”

    حالیہ دنوں میں، ٹرمپ نے برطانوی تخت کے وارث پرنس ولیم کی بھی تعریف کی، جن سے وہ دسمبر میں پیرس میں نوٹرے ڈیم کیتھیڈرل کی دوبارہ افتتاحی تقریب کے دوران ملے تھے۔ ٹرمپ نے کہا، "وہ بہت شاندار کام کر رہے ہیں،” اور انہیں "اچھا آدمی” قرار دیا۔

    ٹرمپ کے ولیم کے بارے میں یہ تعریفیں، جو شاید روایتی سفارتکاری کی سب سے زیادہ نمونہ نہ ہوں، ان لوگوں کے لیے خوشی کا باعث ہوں گی جو امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں، خاص طور پر جب کہ برطانوی لیبر پارٹی کے کچھ نمایاں افراد ٹرمپ کے آنے والے صدر بننے پر تنقید کر چکے ہیں۔ایڈ اووینز کے مطابق، "ٹرمپ اور کیئر اسٹارمر ہر بات پر ایک جیسے نہیں ہوں گے، یا کم از کم وہ ہر بات پر ایک جیسے نہیں دیکھیں گے، لیکن شاہی خاندان اس حقیقت سے کچھ حد تک پردہ ڈالنے کا کام کر سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کے برطانوی شاہی خاندان کے لیے احترام، اگر برطانیہ اس کا اسٹریٹجک استعمال کرے، تو یہ برطانیہ کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

    شاہی کمنٹری اور مصنف سیلی بیڈل اسمتھ نے اس بات سے اتفاق کیا کہ شاہی خاندان "ممکنہ طور پر ماحول کو نرم کرنے میں کردار ادا کر سکتا ہے، جو فی الحال کافی تناؤ کا شکار ہے۔”

    یہ "نرم طاقت” کا اثر نیا نہیں ہے۔ شاہی خاندان کی کئی نسلوں نے امریکہ اور برطانیہ کے درمیان رشتہ مضبوط رکھنے میں مدد کی ہے۔ مرحومہ ملکہ نے اپنے 70 سالہ دور میں 13 امریکی صدور کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھنے کی بھرپور کوشش کی تھی، جیسا کہ سیلی اسمتھ نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا۔ "یہ برطانوی خارجہ پالیسی کا ایک اہم حصہ تھا۔”

    تاہم، جدید دور میں یہ بات یقینی ہے کہ ٹرمپ اور شاہی خاندان کے اہم ارکان، جیسے پرنس ولیم اور بادشاہ چارلس سوم، ہر معاملے پر اتفاق نہیں کریں گے، خاص طور پر ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے۔ پرنس ولیم اور ان کے والد بادشاہ چارلس موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں آواز اٹھاتے رہے ہیں، جبکہ ٹرمپ نے توانائی کی پالیسی کے حوالے سے "ڈرل، بیبی، ڈرل” کے نعرے کے ساتھ مہم چلائی تھی اور حال ہی میں کہا تھا کہ وہ ایک ایسی پالیسی چاہتے ہیں جس میں ملک بھر میں پنکھے (ونڈ ملز) نہ بنائے جائیں۔

    اگرچہ یہ مختلف آراء شاہی خاندان کے اثر و رسوخ کو محدود نہیں کر سکتیں، ایڈ اووینز نے کہا کہ شاہی خاندان ان مسائل پر بات کرتے رہیں گے جن پر وہ یقین رکھتے ہیں، لیکن ان کے اثرات کی حد ہے۔ "مجھے نہیں لگتا کہ بادشاہ اپنی باتوں سے پیچھے ہٹیں گے، وہ موسمیاتی کارروائی کی اہمیت کو اجاگر کرتے رہیں گے،” انہوں نے کہا۔ "لیکن وہ یہ بات بہت نرمی سے کریں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کا امریکی سیاست میں کوئی خاص کردار نہیں ہے۔”

    اگرچہ برطانوی شاہی خاندان کا امریکہ کی سیاست میں کوئی رسمی کردار نہیں ہے، ان کی نرم طاقت امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات کے درمیان ممکنہ طور پر چیلنجز سے بھرے راستے کو ہموار کرنے میں مدد دے گی، اور یہ برطانوی حکومت کی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط رہیں۔

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ "بلیک باکس” میں‌چار منٹ قبل ریکارڈنگ رک گئی تھی،انکشاف

    امریکہ میں تباہ کن آگ،12 ہزار عمارتیں راکھ کا ڈھیر،ہزاروں افراد کی نقل مکانی

  • جنوبی کوریا طیارہ حادثہ "بلیک باکس”  میں‌چار منٹ قبل ریکارڈنگ رک گئی تھی،انکشاف

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ "بلیک باکس” میں‌چار منٹ قبل ریکارڈنگ رک گئی تھی،انکشاف

    جنوبی کوریا میں گزشتہ ماہ پیش آنے والے طیارہ حادثے کی تحقیقات کرنے والے حکام نے کہا ہے کہ حادثے کے شکار مسافر بردار طیارے کے فلائٹ ریکارڈرز اس وقت کام کرنا بند کر چکے تھے جب طیارہ موان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر رن وے پر زمین سے ٹکرا کر پھٹ گیا۔ اس حادثے میں 170 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

    جنوبی کوریا کے حکام، جو اس ملک کے گزشتہ تین دہائیوں میں سب سے مہلک ہوائی حادثے کی تحقیقات کر رہے ہیں، یہ امید کر رہے تھے کہ "بلیک باکسز” سے ملنے والی معلومات یہ وضاحت فراہم کریں گی کہ 29 دسمبر کو بنکاک سے روانہ ہونے والی جیجو ایئر کی پرواز 7C 2216 موان ایئرپورٹ پر زمین سے کس طرح ٹکرا گئی تھی اور آگ کی لپیٹ میں آ گئی تھی۔اس حادثے میں 179 مسافر اور عملے کے ارکان ہلاک ہوئے، جبکہ دو افراد زندہ بچ گئے تھے۔تاہم جنوبی کوریا کی وزارتِ نقل و حمل نے ہفتہ کے روز کہا کہ بوئنگ 737-800 کے کاک پٹ وائس ریکارڈر (CVR) اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر (FDR) تقریباً چار منٹ قبل کام کرنا بند کر چکے تھے۔

    وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ ڈیوائسز ریکارڈنگ کیوں روک چکے تھے اور وزارت اس بات کا تعین کرنے کے لیے کام کرے گی۔

    بیان میں مزید کہا گیا، "CVR اور FDR ڈیٹا حادثے کی تحقیقات کے لیے اہم ہیں، لیکن حادثے کی تحقیقات مختلف ڈیٹا کے تجزیے کے ذریعے کی جاتی ہیں، اس لیے ہم حادثے کے اصل سبب کی درست شناخت کے لیے اپنی بھرپور کوشش کریں گے۔”کاک پٹ وائس ریکارڈر کو ابتدائی طور پر مقامی سطح پر تجزیہ کیا گیا اور بعد میں اسے امریکہ بھیجا گیا تاکہ اس کا مزید جائزہ لیا جا سکے۔ وزارت نے بتایا کہ فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر، جو نقصان پہنچا ہوا تھا اور اس میں کنیکٹر غائب تھا، گزشتہ ہفتے تجزیے کے لیے امریکہ کے نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ بھیجا گیا، کیونکہ جنوبی کوریا کے حکام نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ اس ڈیوائس سے ڈیٹا نکالنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔

    یہ حادثہ 1997 کے بعد جنوبی کوریا کا سب سے مہلک فضائی حادثہ ہے، جب کورین ایئر لائنز کا بوئنگ 747 گوام کے جنگل میں گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں 228 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

    اب تک حادثے کی وجہ واضح نہیں ہو سکی ہے اور تحقیقات میں کئی ماہ لگنے کی توقع ہے۔حادثے کی ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ جب طیارہ ایمرجنسی لینڈنگ کر رہا تھا تو نہ پیچھے کا لینڈنگ گیئر نظر آ رہا تھا اور نہ ہی سامنے کا۔ایمرجنسی لینڈنگ سے پہلے پائلٹ نے میڈے کال کی اور "پرندے کا ٹکراؤ” اور "گھومنا” جیسے الفاظ استعمال کیے، حکام کا کہنا ہے کہ کنٹرول ٹاور نے پائلٹ کو علاقے میں پرندوں کی موجودگی سے آگاہ کیا تھا۔ فضائی ماہرین کے مطابق بہت سے ایئرپورٹس پر رن وے کے قریب اس طرح کی تعمیرات نہیں پائی جاتیں۔جنوبی کوریا کی پولیس نے گزشتہ ہفتے جیجو ایئر کے دفتر اور موان ایئرپورٹ کے آپریٹر پر چھاپے مارے تھے اور تحقیقات کے سلسلے میں یہ کارروائیاں کی تھیں،

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ، 181 میں سے دو افراد زندہ کیسے بچے

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ،ایئر پورٹ پر لواحقین کی آہ و بکا،141 لاشوں کی شناخت