Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • امریکہ، جنگلات میں آتشزدگی کی وجوہات کا انکشاف

    امریکہ، جنگلات میں آتشزدگی کی وجوہات کا انکشاف

    امریکی ریاست کیلی فورنیا میں حالیہ ایام میں جنگلات میں لگنے والی تباہ کن آگ کی وجوہات سامنے آ گئی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق جنگل میں ہونے والی آتشزدگی کی سب سے اہم وجہ بجلی کی تاروں کا گرنا ہو سکتی ہے، جس کے ساتھ ساتھ وہاں پہلے سے موجود خشک ایندھن نے آگ کو تیز تر پھیلنے کا موقع دیا۔کیلی فورنیا میں آگ کی شدت میں اضافے کا ایک اور اہم عنصر ’’سانتا اینا ونڈز‘‘ کا چلنا ہے۔ یہ خشک اور گرم ہوائیں جو عام طور پر خزاں کے موسم میں چلتی ہیں، اس بار سرمائی مہینوں میں بھی چلیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ہواؤں کا وقت تبدیل ہو چکا ہے اور اب یہ شمال مشرق سے آ کر کیلی فورنیا کی سرزمین کو خشک اور گرم بنا دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں شدید خشک سالی کا سامنا ہوتا ہے۔ سانتا اینا ونڈز کی رفتار میں اضافے کے ساتھ ساتھ یہ ہوائیں اب 150 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار سے چلنے لگیں ہیں، جس سے نہ صرف زمین خشک ہو گئی ہے بلکہ آتشزدگی کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔

    ایک اور اہم وجہ جس نے آگ کو تیزی سے پھیلنے میں مدد دی، وہ جنگل میں ایندھن کی بڑی مقدار تھی۔ گزشتہ دو موسموں میں ہونے والی نمی کی وجہ سے بڑی تعداد میں خود رو پودے اگ آئے تھے جو بعد میں شدید گرمی میں خشک ہو گئے، اور ان پودوں کی خشک حالت نے آگ کو بڑھاوا دیا۔ اس کے ساتھ ہی جنگلات میں بجلی کی لائنوں کی موجودگی نے بھی آگ لگنے کی رفتار کو تیز کیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمِ سرما میں جنگلات میں لگنے والی آگ زیادہ تباہ کن ثابت ہوتی ہے کیونکہ اس موسم میں آگ تیزی سے پھیلتی ہے۔ اس بار اس آگ کا پھیلاؤ غیر معمولی تھا کیونکہ عام طور پر اس وقت کے دوران کیلی فورنیا میں جنگلات میں آتشزدگی کے واقعات کم ہوتے ہیں، مگر ان تمام عوامل کے جمع ہونے کے سبب جنگلوں میں آگ لگ گئی اور اس نے شہری علاقوں تک پہنچنا شروع کر دیا۔کیلی فورنیا میں جنگلات کی آتشزدگی کی شدت گزشتہ چار دہائیوں کے دوران سب سے زیادہ ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق 2001 کے بعد سے جنگلات میں آتشزدگی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اب تک تقریباً 60 ہزار چھوٹے بڑے آتشزدگی کے واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

    فائر سائنٹسٹ جون کیلے کا کہنا ہے کہ جنگلات کی آتشزدگی میں انسانوں کے پیدا کردہ عوامل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات نے ماحولیاتی تبدیلیوں کو جنم دیا ہے اور کیلی فورنیا میں بڑھتی ہوئی آبادی کا سامنا ہے جس کا براہ راست اثر آتشزدگی کے واقعات پر پڑ رہا ہے۔جون کیلے کا کہنا ہے کہ جب آبادی بڑھتی ہے تو بجلی کی فراہمی بڑھانے کے لئے مزید بجلی کی لائنوں کی ضرورت پڑتی ہے، اور یہ لائنیں جنگلات میں آگ لگنے کے امکانات کو بڑھاتی ہیں۔ مائیک فلینیگن، ایک ماہر محقق کا کہنا ہے کہ تیز ہواؤں کے سبب گرنے والی بجلی کی لائنیں جنگلات میں آگ بھڑکانے کا سبب بن سکتی ہیں۔ 2016 اور 2017 میں کیلی فورنیا میں اسی طرح کی صورتحال پیدا ہوئی تھی جب بجلی کی لائنوں کی وجہ سے تباہ کن جنگلات کی آتشزدگی ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں پیسیفک گیس اینڈ الیکٹرک کمپنی کو 30 ارب ڈالر کا ہرجانہ ادا کرنا پڑا تھا اور کمپنی دیوالیہ ہو گئی تھی۔یہ واقعات ایک بار پھر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جنگلات کی آتشزدگی کا مسئلہ محض قدرتی نہیں، بلکہ انسانی عوامل بھی اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    مریم نواز کی جعلی تصویر وائرل کرنے والا گرفتار

    بنی گالہ منتقلی خواہش،حقیقتا ایسا کچھ نہیں،خواجہ آصف

    9مئی کے 8 مقدمات میں عمران خان کی درخواست ضمانت دائر

  • بھارت کی کٹھ پتلی حسینہ واجد کے ویزے میں توسیع

    بھارت کی کٹھ پتلی حسینہ واجد کے ویزے میں توسیع

    بھارت کی کٹھ پتلی حسینہ واجد کے ویزے میں توسیع کر دی گئی

    بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے 7 جنوری کو شیخ حسینہ کا جبری گمشدگیوں اور ہلاکتوں میں ملوث ہونے کے باعث پاسپورٹ منسوخ کر دیا،بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے معصوم شہریوں کی نسل کشی میں ملوث ہونے پر حسینہ واجد کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے ،دوسری جانب بھارت نے سزا کے ڈر سے کٹھ پتلی حسینہ واجد کے ویزہ میں توسیع کر دی ،بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے بھارت کی جانب سے شیخ حسینہ کے ویزا میں توسیع سے متعلق میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاسپورٹ منسوخ ہونے کے بعد ویزے کا معاملہ ختم ہوجاتا ہے،

    1971سے لے کر شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹنے تک بنگلہ دیش میں بھارتی مداخلت جاری رہی ،بنگلہ دیش میں عوامی نقلاب کے نتیجے میں مودی کی کٹھ پتلی حسینہ واجد بھارت فرار ہوئی تھی،بھارت فرار ہونے کے بعد بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی ظالمانہ پالیسیوں اور سیاست کا مکمل طور پر اختتام ہوا ،شیخ حسینہ پر قتل، کرپشن اور متعدد بدعنوانی کے 31 مقدمات ہیں ، ان مقدمات میں قتل کے 26 جبکہ نسل کشی کے 4 مقدمات شامل ہیں،شیخ حسینہ کی غداری اور مسلم دشمنی کی واضح مثالیں موجود ہیں ،2014 میں شیخ حسینہ نے اپوزیشن پارٹی کے لیڈر کو محض جماعت اسلامی کا حصہ ہونے پر نظر بند کر دیا ،شیخ حسینہ نے اپنے دور اقتدار میں جماعت اسلامی کے متعدد رہنماؤں کو جھوٹے اور من گھڑت دہشتگردی کے مقدمات میں پھانسیاں دیں

    پاکستان کی نفرت میں اور مودی کے سائے تلے شیخ حسینہ نے اپنی ہی عوام پر ظلم کا بازار گرم کر رکھا تھا،حسینہ واجد کے ویزہ میں توسیع کر کے مودی سرکار آج بھی بنگلہ دیشی عوام کو انصاف کے حصصول سے محروم کر رہی ہے

  • چیمپئنز ٹرافی سے قبل بڑے کھلاڑی انجریز کا شکار

    چیمپئنز ٹرافی سے قبل بڑے کھلاڑی انجریز کا شکار

    پاکستان میں 19 فروری سے شروع ہونے والی چیمپئنز ٹرافی سے قبل کئی نامور کھلاڑی انجریز کا شکار ہیں اور ان کی میگا ایونٹ میں شمولیت غیریقینی کی صورتحال سے دوچار ہے۔جیسے جیسے آئی سی سی کا بڑا ایونٹ قریب آتا جارہا ہے کہ ٹیموں کی تیاریاں مکمل ہوتی جارہی ہیں اور شائقین کا جوش و خروش میں بڑھتا جارہا ہے۔

    آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنزاور جوش ہیزل ووڈ‘پاکستان کے صائم ایوب، بھارت کے جسپریت بمراہ،سری لنکاکے سومیا سرکاراور جنوبی افریقہ کی تیز رفتار جوڑی جیرالڈ کوٹزی اور لونگی نگیڈی شامل ہے۔پیٹ کمنز کی انجری کے سبب ان کی چیمپئنز ٹرافی کے اسکواڈ میں شمولیت پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔جارج بیلی نے بتایا ہے کہ پیٹ کمنز پیرنٹل چھٹیوں پر ہے تاہم انہوں نے حتمی طور پر نہیں بتایا کہ کمنز چیمپئنز ٹرافی کے لیے اسکواڈ کا حصہ ہوں گے یا نہیں۔چیف سلیکٹر کے مطابق پیٹ کمنز کے تخنے میں تھوڑا سا زخم ہے اس لیے مجھے لگتا ہے کہ اگلے ہفتے یا اس کے بعد اس کا اسکین ہوگا اور ہمیں اس کے بارے میں معلومات مل سکیں گی۔سری لنکا کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں اسٹیون اسمتھ پیٹ کمنز کی غیر موجودگی میں ٹیم کی قیادت کریں گے۔تیز گیند باز جوش ہیزل ووڈ کو بھارت سیریز کے دوران پنڈلی کی انجری کے بعد چیمپئنز ٹرافی پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے سری لنکا کے خلاف سیریز کے لیے آرام دیا گیا ہے۔

    جنوبی افریقہ کے خلاف کیپ ٹاو?ن ٹیسٹ میں فیلڈنگ کے دوران ٹخنے کی انجری کا شکار ہونے کے بعد چھ ہفتوں کے لیے کرکٹ سے دور ہونے والے پاکستان کے ہونہار نوجوان اوپنر بلے باز صائم ایوب علاج کے لیے لندن میں موجود ہیں۔ ان کا پہلا چیک اپ ہو چکا ہے ۔صائم ایوب اسسٹنٹ کوچ اظہر محمود کے ہمراہ ہارلے اسٹریٹ کلینک پہنچ گئے ہیں، جہاں گزشتہ روز کنسلٹنٹ ٹراما اینڈ آرتھوپیڈک پاؤں اور ٹخنوں کے سرجن جیاسیلان نے انکا چیک اپ کیا تھا۔

    بھارت کے فاسٹ بولر جسپریت بمراہ اب بھی کمر کی انجری سے صحت یاب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے آسٹریلیا کے خلاف پانچویں اور آخری ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں بولنگ نہیں کی تھی۔بائیں ہاتھ کے کلائی اسپنر کلدیپ یادیو کمر کی انجری کے بعد مکمل فٹنس حاصل کرنے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔سومیا سرکار انگلی کی انجری سے صحت یاب ہو رہے ہیں۔ ان کی چیمپئنز ٹرافی میں شمولیت کے حوالے سے بنگلادیشی ٹیم پرٴْامید ہے۔جنوبی افریقہ کی تیز رفتار جوڑی جیرالڈ کوٹزی اور لونگی نگیڈی بھی کمر کی انجری سے چھٹکارا پانے کے لیے بحالی کے مراحل میں ہیں۔

  • عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں

    عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں

    روس اور ایران پر مزید پابندیوں کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ کروڈ کے سودے 2.23 ڈالر یعنی 2.9 کے اضافے کے ساتھ 79.15 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے جو تین ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ کے سودے 2.19 ڈالر یعنی 2.96 کے اضافے کے ساتھ 76.11 ڈالر تک پہنچ گئے۔سیکسو بینک میں کموڈٹی اسٹریٹجی کے سربراہ اولے ہینسن نے کہا کہ آج کئی عوامل کارفرما ہیں، طویل مدتی طور پر مارکیٹ اضافی پابندیوں کے امکانات پر مرکوز ہے۔ مختصر مدت میں، امریکہ بھر میں موسم بہت سرد ہے، جس کی وجہ سے ایندھن کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔امریکی صدر منتخب ڈونلڈ ٹرمپ کی 20 جنوری کو حلف برداری سے قبل، ایران اور روس پر سخت پابندیوں کے نتیجے میں ممکنہ فراہمی کی رکاوٹوں کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں جب کہ تیل کے ذخائر کم ہیں۔

    ٹیلی کام سیکٹر میں بہتری، پراجیکٹ کیبل 2 افریقا کا آغاز

    سولرپینل کی آڑ میں سینکڑوں ارب کی منی لانڈرنگ بے نقاب

    سولرپینل کی آڑ میں سینکڑوں ارب کی منی لانڈرنگ بے نقاب

  • ہَش منی کیس: ڈونلڈ ٹرمپ سزا سے بچ گئے ، جرم  برقرار

    ہَش منی کیس: ڈونلڈ ٹرمپ سزا سے بچ گئے ، جرم برقرار

    امریکی عدالت نے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ’ہَش منی کیس‘ کا فیصلہ سنا دیا ہے، جس میں وہ سزا سے بچ گئے ہیں، تاہم ان کا جرم برقرار رکھا گیا ہے۔

    غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیویارک کی فوجداری عدالت نے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ’ہَش منی کیس‘ کی سماعت کی۔عدالت نے پیسے دے کر چھپانے کا جرم ڈونلڈ ٹرمپ کے ریکارڈ میں شامل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہاکہ ڈونلڈ ٹرمپ کو قید نہیں کیا جائےگا، نہ ہی ان پر کوئی جرمانہ کیا جائےگا۔اس عدالتی فیصلے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ امریکی تاریخ کے پہلے صدر ہوں گے جو مجرمانہ ریکارڈ کے ساتھ صدارت کا منصب سنبھالیں گے۔یاد رہے کہ مئی 2024 میں امریکا کی عدالت نے فحش فلموں کی اداکارہ کو رقم دینے سے متعلق کیس میں ٹرمپ پر عائد الزامات کو درست قرار دیا تھا، اور انہیں مجرم قرار دیا گیا تھا۔

    وزیراعظم سے مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل کی ملاقات

    پاکستان پیٹرولیم کا گیس کی پیداوار شروع کرنے کا اعلان

    لنڈی کوتل: پولیس کی کارروائی، غیر قانونی اسلحہ برآمد، دو ملزمان گرفتار

  • آٹھ گھنٹے گھر پر بیٹھ کر گزاریں گے تو آپ کی بیوی بھاگ جائے گی۔اڈانی

    آٹھ گھنٹے گھر پر بیٹھ کر گزاریں گے تو آپ کی بیوی بھاگ جائے گی۔اڈانی

    انفوسس کے چیئرمین نارائن مورتی کی طرف سے ہفتے میں 70 گھنٹے کام کرنے کے بیان نے انٹرنیٹ پر ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے۔ ان کے اس بیان پر مختلف طبقوں کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ نارائن مورتی کا کہنا تھا کہ اگر ہم اپنے ملازمین سے زیادہ محنت کرانے کا سوچتے ہیں تو ہمیں اس کی نوعیت کو سمجھنا ہوگا اور اس کی وجہ سے کام کے اوقات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

    ان کے اس بیان کے بعد لارسن اینڈ ٹوبرو کے چیئرمین ایس این سبرامنیم نے ایک متنازعہ بیان دیا جس میں انہوں نے اپنے ملازمین سے ہفتے میں 90 گھنٹے کام کرنے کی اپیل کی۔ سبرامنیم نے یہ تک کہا کہ اگر انہیں اتوار کو بھی کام کرانے کا موقع ملے تو وہ اس پر خوش ہوں گے کیونکہ وہ خود اتوار کو بھی کام کرتے ہیں۔ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر مزید بحث کا باعث بنا اور لوگوں نے ان کی باتوں کو مختلف طریقوں سے زیرِ بحث لایا۔

    سبرامنیم کا کہنا تھا کہ ’’اگر آپ گھر پر بیٹھ کر کام نہ کر رہے ہیں تو آپ کیا کر رہے ہیں؟ آپ اپنی بیوی کو کب تک گھوریں گے؟‘‘ اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ملازمین کی فلاح و بہبود اور کام و زندگی کے توازن پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

    اسی دوران، اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے بھی ورک لائف بیلنس کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ایک انٹرویو کے دوران گوتم اڈانی نے کہا کہ ’’ورک لائف بیلنس تب محسوس ہوتا ہے جب انسان اپنی پسند کا کام کرتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’جب آپ یہ حقیقت قبول کر لیتے ہیں کہ آپ فانی ہیں تو زندگی آسان ہو جاتی ہے۔‘‘گوتم اڈانی نے خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ورک لائف بیلنس کو نہ تو میرے اوپر تھوپنا چاہیے اور نہ ہی میری پسند کو کسی دوسرے پر تھوپنا چاہیے ۔‘‘ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر کوئی شخص چار گھنٹے اپنے گھر والوں کے ساتھ گزارتا ہے اور اس میں خوش رہتا ہے، تو وہ اس کا ورک لائف بیلنس ہے، چاہے کسی اور کا توازن مختلف ہو۔‘‘. یا کوئی دوسرا شخص آٹھ گھنٹے گزار کر لطف اندوز ہوتا ہے، تو یہ اس کا توازن ہے، اس کے باوجودکہ اگر آپ آٹھ گھنٹے گھر پر بیٹھ کر گزاریں گے تو آپ کی بیوی بھاگ جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’کام اور زندگی کا توازن اس وقت ہوتا ہے جب آپ وہ کام کرتے ہیں جو آپ پسند کرتے ہیں۔ ہمارا کوئی اور مقصد نہیں ہے سواۓ اس کے کہ ہم اپنے پیاروں کے ساتھ خوش رہیں۔‘‘ گوتم اڈانی نے اس بات پر زور دیا کہ ’’ہماری دنیا یا تو خاندان ہے یا کام، اس کے سوا کچھ نہیں ہے۔‘‘

    ان بیانات نے ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پر ورک لائف بیلنس اور محنت کے اوقات پر بحث کو شدت دے دی ہے، جہاں مختلف لوگ اس بات پر متفق یا غیر متفق نظر آ رہے ہیں کہ کیا واقعی اتنے زیادہ کام کے اوقات کار درست ہیں یا یہ ملازمین کی صحت اور فلاح کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔

    محمد آصف نے سارک اسنوکر چیمپئن شپ جیت لی،صدر،وزیراعظم کی مبارکباد

    اسپین جانے والی پناہ گزین کشتی پر بچی کی پیدائش

    2025 کے لیے دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹ،پاکستان کا کونسا نمبر؟

  • محمد آصف نے  سارک اسنوکر چیمپئن شپ جیت لی،صدر،وزیراعظم کی مبارکباد

    محمد آصف نے سارک اسنوکر چیمپئن شپ جیت لی،صدر،وزیراعظم کی مبارکباد

    پاکستان کے معروف اسنوکر کھلاڑی محمد آصف نے سری لنکا کے شہر کولمبو میں ہونے والی تیسری سارک اسنوکر چیمپئن شپ 2025ء کا فائنل جیت کر ایک اور سنگ میل عبور کر لیا۔ محمد آصف نے فائنل میں سری لنکا کے کھلاڑی طلحہ عشرت کو شکست دے کر اپنے کیریئر کا آٹھواں ٹائٹل اپنے نام کیا۔

    کولمبو کے مورس اسنوکر کلب میں کھیلے گئے اس ایونٹ کے فائنل میں محمد آصف نے اپنی بے مثال مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے طلحہ عشرت کے خلاف میچ بغیر کسی فریم کو ڈراپ کیے پانچ-صفر سے کامیابی حاصل کی۔ آصف نے فائنل کے پانچوں فریم میں برتری بناتے ہوئے اسنوکر کے میدان میں اپنی بالادستی کو ثابت کیا۔آصف کی کامیابی کا اسکور کچھ اس طرح رہا: 3-99، 46-73، 46-85، 38-109، 6-109، اور 0-74۔ اس شاندار جیت نے نہ صرف ان کی مہارت کو اجاگر کیا بلکہ عالمی سطح پر ان کے اسنوکر کے کھیل کو ایک نیا مقام دیا۔

    یہ محمد آصف کا تیسرا سارک اسنوکر چیمپئن شپ ٹائٹل تھا اور ان کے کیریئر کا آٹھواں ٹائٹل بھی تھا۔ محمد آصف نے اس سے قبل 2019 اور 2012 میں بھی ورلڈ چیمپئن شپ جیتی تھی، اور وہ پاکستان کے واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے تین مختلف سالوں میں ورلڈ چیمپئن شپ جیتی ہے۔ اس سارک چیمپئن شپ میں ان کی کامیابی ایک اور اعزاز ہے۔

    محمد آصف کی یہ کامیابی پاکستان کے لئے ایک بڑی خوشخبری ہے کیونکہ وہ اس ایونٹ میں چیمپئن بننے والے دوسرے پاکستانی کھلاڑی ہیں۔ اس سے قبل، 2019 میں پہلی سارک اسنوکر چیمپئن شپ اسجد اقبال نے جیتی تھی۔

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے محمد آصف کو تیسری سارک اسنوکر چیمپئن شپ جیتنے پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ محمد آصف نے فائنل سمیت پورے ایونٹ میں بہترین کھیل پیش کیا اور اسنوکر کے کھیل میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ صدر نے محمد آصف کی مستقبل میں بھی کامیابی کی دعا کی۔

    پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی محمد آصف کو اس کامیابی پر مبارکباد دی۔ وزیراعظم نے کہا کہ محمد آصف نے اس چیمپئن شپ جیت کر پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کیا ہے اور قوم کو ان پر فخر ہے۔ وزیراعظم نے محمد آصف کے مستقبل کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کی کامیابیاں ملک کے لئے باعث فخر ہیں۔

    محمد آصف کی تیسری سارک اسنوکر چیمپئن شپ میں کامیابی نہ صرف ان کے اسنوکر کی مہارت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ یہ پاکستان کے اسنوکر کھیل میں ایک بڑی کامیابی ہے۔ ان کی یہ جیت نہ صرف پاکستان کے اسنوکر کے لیے باعث فخر ہے بلکہ دنیا بھر میں اس کھیل کے چاہنے والوں کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گی۔

    لاس اینجلس میں آگ، امریکی سوئمر نے 10 اولمپک تمغے کھو دیے

    نائیجیریا کا سب سے بڑا شہر موسم سرما کی پارٹی کی منزل

  • لاس اینجلس میں آگ،  امریکی سوئمر  نے   10 اولمپک تمغے کھو دیے

    لاس اینجلس میں آگ، امریکی سوئمر نے 10 اولمپک تمغے کھو دیے

    امریکی سوئمر گیری ہال جونیئر، جو اپنے سوئمنگ کیریئر میں 10 اولمپک تمغے اور چھ عالمی چیمپئن شپ تمغے جیت چکے ہیں، نے بتایا کہ انہیں یقین ہے کہ وہ سب جنگلات کی آگ میں کھو چکے ہیں ،ہال نے کہا، "میں نے سوچا تھا کہ میرے پاس مزید وقت ہے۔” "میں نے پہاڑ کے اوپر سے آگ کی لگی ہوئی دھوئیں کی علامت دیکھی اور مجھے فوراً سمجھ آگیا کہ مجھے وہاں سے نکلنا ہوگا۔ میں نے اپنی گاڑی کے پچھلے حصے کو کھولا اور ایک پینٹنگ اور ایک اور چیز ڈال لی۔””میرے تمغے بیڈروم کی ایک الماری میں تھے، جو 70 فٹ دور تھے، اور میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ میں انہیں لے آؤں۔ جب میں نے پہاڑ کے اوپر سے پہلی دھوئیں کی لہر دیکھی، تو میرے پاس تین منٹ سے بھی کم کا وقت تھا، جب تک کہ آگ میرے قریب نہ پہنچ گئی۔”ہال نے مزید کہا، "جب میں واپس دوڑ کر آیا، تو آسمان سے گرم راکھ برس رہی تھی۔ مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ میں نے اپنے ارد گرد گھروں کی چھتوں پر راکھ گرتی دیکھی اور پھر میں نے فیصلہ کیا: اب جانے کا وقت ہے۔”

    ہال، جو اپنی تیز رفتاری اور شو مین شپ کے لیے معروف ہیں، نے 1996، 2000 اور 2004 اولمپکس میں امریکہ کی نمائندگی کی۔ انہوں نے 10 اولمپک تمغے جیتے، جن میں پانچ سونے کے تمغے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، انہوں نے تین سونے اور تین چاندی کے عالمی چیمپئن شپ تمغے بھی جیتے۔

    فائر فائٹرز جمعہ کو مزید ہواؤں کا سامنا کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، کیونکہ لاس اینجلس میں ایک ہوائی طوفان نے آگ اور راکھ کو ایک وسیع علاقے میں پھیلایا، جس سے آگ پر قابو پانا مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔ موسمیات کی ماہر ایلسن چینچار نے جمعہ کی صبح کہا کہ "آج جب دن کی شروعات ہو گی، تو ہوائیں شمالی سمت سے آئیں گی، لیکن دن کے دوران یہ سمت بدل سکتی ہیں۔”چینچار نے بتایا کہ "کبھی یہ مشرق سے آتی ہیں اور کبھی مغرب سے، جو فائر فائٹرز کے لیے تشویش کا باعث ہے۔” انہوں نے توقع کی کہ ہفتہ کو ہواؤں میں "بہت بڑی بہتری” آئے گی، جس سے فائر کریو کو راحت ملے گی، کیونکہ تیز ہوائیں کئی بار ان طیاروں کو زمین پر اتارنے پر مجبور کر چکی ہیں جو آگ پر پانی ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    جان میر پروجیکٹ کے فاریسٹ اینڈ فائر ماہر چڈ ہینسن نے بتایا کہ لاس اینجلس میں آگ بجھانے کے لیے موجود "فائر ہائیڈرنٹس” کا انفراسٹرکچر اتنا مضبوط نہیں ہے کہ وہ سینکڑوں گھروں کو ایک ہی وقت میں شعلوں میں گھرا ہوا دیکھ سکے۔ہینسن نے مزید کہا، "یہ کمیونٹی کی حفاظت کے مسائل ہیں، نہ کہ جنگلات کی آگ پر قابو پانے کے مسائل۔”

    کیلیفورنیا کی جنگلات کی آگ کی وجہ سے نیواڈا اور دیگر مغربی ریاستوں کو ایندھن کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔ پائپ لائن آپریٹر کِنڈر مورگن انکارپوریٹڈ نے کہا ہے کہ اس کی دو بڑی پائپ لائنیں – SFPP ویسٹ اور CALNEV سسٹمز – بدھ سے بند ہیں۔لیکن نیواڈا کے کلارک کاؤنٹی نے جمعرات کی شام کو کہا کہ پٹرول کی فراہمی کے لیے حل تلاش کر لیا گیا ہے اور جمعہ تک ایندھن کی فراہمی دوبارہ شروع ہو جائے گی۔کلارک کاؤنٹی نے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ پٹرول خریدنے کے لیے گھبراہٹ کا شکار نہ ہوں۔ لاس ویگاس نے پہلے ہی اپنی ایندھن کی فراہمی میں ممکنہ خلل کے بارے میں خبردار کیا تھا اور رہائشیوں سے کہا تھا کہ وہ ضرورت سے زیادہ گاڑیوں کا استعمال نہ کریں۔

    2025 کے لیے دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹ،پاکستان کا کونسا نمبر؟

    اسپین جانے والی پناہ گزین کشتی پر بچی کی پیدائش

    نائیجیریا کا سب سے بڑا شہر موسم سرما کی پارٹی کی منزل

    او آئی سی سیکرٹری جنرل پاکستان پہنچ گئے

  • 2025 کے لیے دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹ،پاکستان کا کونسا نمبر؟

    2025 کے لیے دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹ،پاکستان کا کونسا نمبر؟

    دنیا کا سب سے طاقتور پاسپورٹ، جو دنیا بھر میں سفر کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے سب سے زیادہ پسندیدہ قرار دیا گیا ہے، 2025 میں سنگاپور کے پاس ہے۔ سنگاپور اپنے پاسپورٹ کو دوبارہ سر فہرست رکھنے میں کامیاب ہوا ہے اور اب اس کے شہریوں کو 227 مقامات میں سے 195 پر ویزا کے بغیر داخلے کی سہولت حاصل ہے، جو کہ دنیا کے کسی بھی ملک کے شہریوں سے زیادہ ہے۔

    جاپان دوسرے نمبر پر ہے اور اس کے پاسپورٹ کے حامل افراد کو 193 مقامات پر ویزا فری داخلے کی اجازت ہے۔ جاپان نے چین کے ساتھ ویزا فری معاہدہ دوبارہ بحال کیا ہے، جس سے اس کی پوزیشن میں بہتری آئی ہے۔ چین کے ساتھ یہ معاہدہ کووِڈ-19 کی بندشوں کے بعد پہلی بار بحال ہوا ہے۔یورپی یونین کے رکن ممالک جیسے فرانس، جرمنی، اٹلی، اسپین، فن لینڈ اور جنوبی کوریا مشترکہ طور پر تیسری پوزیشن پر ہیں، جہاں کے پاسپورٹ ہولڈرز کو 192 مقامات پر ویزا فری داخلہ حاصل ہے۔چوتھی پوزیشن یورپی یونین کے سات ممالک کے پاس ہے جن کے پاسپورٹ ہولڈرز کو 191 مقامات تک ویزا فری رسائی حاصل ہے۔ ان ممالک میں آسٹریا، ڈنمارک، آئرلینڈ، لکسمبرگ، نیدرلینڈز، ناروے اور سویڈن شامل ہیں۔پانچویں پوزیشن پر بیلجیم، نیوزی لینڈ، پرتگال، سوئٹزرلینڈ اور برطانیہ ہیں، جن کے پاسپورٹ ہولڈرز کو 190 مقامات پر ویزا فری رسائی حاصل ہے۔

    جہاں دنیا کے سب سے طاقتور پاسپورٹس کے حامل ممالک کی فہرست نے دنیا بھر میں لوگوں کی توجہ حاصل کی، وہیں افغانستان 106ویں نمبر پر ہے، جہاں کے پاسپورٹ ہولڈرز کو صرف 26 مقامات تک ویزا فری رسائی حاصل ہے۔ اس کے علاوہ شام اور عراق کے پاسپورٹس بھی اس فہرست میں کمزور پوزیشن پر ہیں۔

    ہینلے اینڈ پارٹنرز کے چیئرمین کرسچن ایچ کیلن نے کہا کہ شہریوں کے حقوق اور ان کی نقل مکانی کی سہولت پر نئے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے غور و فکر کی ضرورت ہے، کیونکہ قدرتی آفات اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے لوگ اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

    یو اے ای نے 2015 سے اب تک 72 نئے ممالک کے لیے ویزا فری رسائی حاصل کی ہے، جس کے نتیجے میں اس کا پاسپورٹ 32 درجے اوپر چلا گیا ہے اور اب یہ 10ویں نمبر پر ہے۔چین نے بھی اس فہرست میں بہتری دیکھی ہے اور 2015 میں 94ویں نمبر سے بڑھتے ہوئے اب 2025 میں 60ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے۔

    گلوبل پاسپورٹ پاور رینک 2025
    سنگاپور (195 مقامات)
    جاپان (193 مقامات)
    فرانس، جرمنی، اٹلی، اسپین، فن لینڈ، جنوبی کوریا (192 مقامات)
    آسٹریا، ڈنمارک، آئرلینڈ، لکسمبرگ، نیدرلینڈز، سویڈن، ناروے (191 مقامات)
    بیلجیم، نیوزی لینڈ، پرتگال، سوئٹزرلینڈ، برطانیہ (190 مقامات)
    یونان، آسٹریلیا (189 مقامات)
    کینیڈا، پولینڈ، مالٹا (188 مقامات)
    ہنگری، چیکیا (187 مقامات)
    ایسٹونیا، امریکہ (186 مقامات)
    لتھونیا، لیٹویا، سلووینیا، متحدہ عرب امارات (185 مقامات)

    ہینلے اینڈ پارٹنرز کی جانب سے جنوری سے جون 2025 کے لیے جاری کی گئی عالمی پاسپورٹس کی طاقت کی فہرست کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ کو دنیا کے 33 ممالک میں ویزا فری رسائی حاصل ہے۔ اس فہرست میں ویزا فری رسائی کو تین مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں "حقیقی ویزا فری سفر”، "ویزہ آن ارائیول” اور "الیکٹرونک ٹریول اتھارٹی” (ای ٹی اے) شامل ہیں۔

    حقیقی ویزا فری سفر: اس میں وہ ممالک شامل ہیں جہاں پاکستانی شہریوں کو کسی قسم کا ویزا یا پیشگی انتظام کی ضرورت نہیں ہوتی۔
    ویزہ آن ارائیول: ان ممالک میں پاکستانی شہریوں کو ان کے پہنچنے پر ویزا دیا جاتا ہے۔
    الیکٹرونک ٹریول اتھارٹی (ای ٹی اے): ان ممالک میں پاکستانی شہریوں کو الیکٹرانک طریقے سے ویزا یا اجازت حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔

    پاکستانی پاسپورٹ کو جن 12 ممالک میں ویزا فری رسائی حاصل ہے، ان میں شامل ہیں
    بارباڈوس: یہ کیریبئین جزائر کا ایک ملک ہے جہاں پاکستانی شہری بغیر ویزے کے قیام کر سکتے ہیں۔
    جزائر کک: جنوبی بحرالکاہل کا یہ ملک بھی پاکستانی شہریوں کو ویزا فری رسائی فراہم کرتا ہے۔
    ڈومینیکا: کیریبئین جزائر کا ایک چھوٹا ملک ہے، جہاں پاکستانی شہری بغیر ویزے کے قیام کر سکتے ہیں۔
    ہیٹی: ایک اور کیریبئین جزیرہ نما ملک ہے، جہاں پاکستانیوں کو ویزا فری رسائی حاصل ہے۔
    مڈغاسکر: افریقہ کا چوتھا سب سے بڑا جزیرہ اور دنیا کا مشہور سیاحتی مقام، یہاں بھی پاکستانی شہری بغیر ویزے کے جا سکتے ہیں۔
    مائیکرو نیشیا: بحر الکاہل میں واقع یہ ملک پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا فری ہے۔
    مانٹسریٹ: یہ برطانیہ کے زیر انتظام جزائر ہیں، جہاں پاکستانیوں کو ویزا فری رسائی حاصل ہے۔
    نیووے: جنوبی بحرالکاہل کے جزائر پر مشتمل یہ ملک بھی پاکستانیوں کو ویزا فری رسائی فراہم کرتا ہے۔
    روانڈا: یہ افریقی ملک پاکستانی شہریوں کو ویزا فری رسائی کی سہولت دیتا ہے۔
    سانٹ ونسنٹ اینڈ دی گرینیڈائنز: یہ کیریبئین کا ایک چھوٹا سا ملک ہے، جہاں پاکستانی بغیر ویزے کے قیام کر سکتے ہیں۔
    ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو: کیریبئین کے اس ملک میں بھی پاکستانیوں کے لیے ویزا فری رسائی ممکن ہے۔
    وانواتو: یہ آسٹریلیا کے قریب واقع جزائر پر مشتمل ملک ہے، جہاں پاکستانی شہری بغیر ویزے کے قیام کر سکتے ہیں۔

    گرچہ پاکستانی پاسپورٹ کو ویزا فری رسائی حاصل ہے، مگر اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ ان ممالک میں جانے کے لیے پاسپورٹ کی درست حالت اور مدتِ معیاد کا خیال رکھنا لازمی ہے۔ اس کے علاوہ، بعض ممالک میں دیگر ضروریات بھی ہو سکتی ہیں جیسے کہ صحت کی حالت، مالی حیثیت یا پرواز کی بکنگ،پاکستانیوں کے لیے یہ ایک مثبت ترقی ہے کہ عالمی سطح پر ان کے پاسپورٹ کو ویزا فری رسائی حاصل ہے، جو بین الاقوامی سفر کے مواقع کو مزید وسیع کرتا ہے۔

    اسپین جانے والی پناہ گزین کشتی پر بچی کی پیدائش

    نائیجیریا کا سب سے بڑا شہر موسم سرما کی پارٹی کی منزل

    دہلی ایئر پورٹ پر شہری گرفتار، سامان سے مگرمچھ کی کھوپڑی برآمد

    مرکزی مسلم لیگ کا یونین کونسلز کی سطح پر رکنیت سازی کیمپ لگانے کا فیصلہ

  • اسپین جانے والی پناہ گزین کشتی پر بچی کی پیدائش

    اسپین جانے والی پناہ گزین کشتی پر بچی کی پیدائش

    ایک بچی کی پیدائش پیر کے روز سمندر میں اسپین جانے والے پناہ گزینوں کی کشتی پر ہوئی۔

    اسپین کی میری ٹائم ریسکیو سروس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کشتی افریقہ سے اسپین کے جزیرہ "لانساروتے” کی طرف جا رہی تھی۔ بچی کی پیدائش کی خبر ریسکیو اہلکاروں نے دی، جو کشتی پر سوار 60 افراد کو بچانے کے لئے پہنچے تھے۔ ان میں 14 خواتین اور 4 بچے شامل تھے، اور ریسکیو ٹیم نے بتایا کہ انہیں اس بات کا یقین تھا کہ بچی کی والدہ نے صرف 15 منٹ قبل بچے کو جنم دیا تھا۔

    ریسکیو کشتی کے کپتان، ڈومنگو ٹروجیلو، نے اسپین کی ٹی وی چینل کو بتایا کہ یہ ان کے لئے ایک "خوبصورت” اور "بہت جذباتی” تجربہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا جب انہیں پناہ گزین کشتیوں پر بچہ پیدا ہوتا دیکھنے کا موقع ملا تھا۔ 2020 میں بھی انہوں نے ایک بچے کا نال کا رسہ کاٹا تھا جو اسی طرح کی پناہ گزینی کی کوشش کے دوران پیدا ہوا تھا۔

    کینری جزائر، جو اسپین کے شمال مغربی افریقہ کے ساحل پر واقع سات جزائر پر مشتمل ایک آرکی پیلاگو ہے، 2024 میں غیر قانونی پناہ گزینی کی شرح میں 17% اضافے کا سامنا کر چکا ہے۔ اسپین کی وزارت داخلہ کے مطابق یہ پناہ گزین بنیادی طور پر مالی، سینیگال اور مراکش سے آتے ہیں۔ یورپی یونین کی بارڈر ایجنسی فرونٹیکس کے مطابق اس اضافے کی وجہ مغربی افریقہ کے علاقوں میں سیکیورٹی اور انسانی صورتحال کی خرابی ہے، جس کی وجہ سے یہ راستہ یورپ کی نئی پناہ گزینی فرنٹ لائن بن چکا ہے۔

    یہ اٹلانٹک راستہ دنیا کا سب سے زیادہ مہلک پناہ گزینی راستہ ہے،ایک غیر سرکاری تنظیم نے اپنی حالیہ رپورٹ میں بتایا کہ 2024 کے پہلے پانچ مہینوں میں 10,457 پناہ گزین سمندر کے راستے اسپین پہنچنے کی کوشش کرتے ہوئے ہلاک یا لاپتہ ہو گئے، جن میں سے 9,757 افراد اٹلانٹک راستے پر مارے گئے۔

    صحافی سلی ہیڈن نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا، "یورپ کی سرحدوں پر بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ مغربی افریقہ کے لوگ عموماً اٹلانٹک راستے پر جانے سے ڈرتے تھے کیونکہ انہیں اس راستے میں لاپتہ ہونے یا پانی کی کمی کی وجہ سے مرنے کا خوف ہوتا تھا، مگر اب یہ راستہ بہت خطرناک ہونے کے باوجود، بہت سے افراد کی زندگی کی حالتوں کو بہتر بنانے کے لیے انہیں یہ خطرہ مول لینا پڑتا ہے۔

    اسپین کی وزارت داخلہ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 2024 میں تقریباً 64,000 غیر قانونی پناہ گزین اسپین پہنچے، جن میں سے 73 فیصد (46,843) کینری جزائر کے راستے آئے۔کینری جزائر پر پناہ گزینوں کے دباؤ نے اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں سیاسی کشیدگی پیدا کر دی ہے۔ اکتوبر میں، حزب اختلاف کی جماعت "پارٹیڈو پاپولر” نے حکومت کے ساتھ پناہ گزینوں کے بحران کے حوالے سے مذاکرات کو اس بنیاد پر منقطع کر دیا تھا کہ حکومت اس معاملے کو درست طریقے سے نہیں سنبھال رہی۔

    اسپین نے پناہ گزینوں کے لئے ایک ہنگامی وصولی مرکز قائم کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور رکھا ہے، جو میڈرڈ کے ایک ایئرپورٹ کے قریب ہوگا۔ گزشتہ جمعرات کو کینری جزائر کے قریب دو مزید پناہ گزین کشتیوں کو بچایا گیا، جن میں سے ایک کشتی پر 84 افراد سوار تھے اور دوسری کشتی میں "60 سب صحارا افریقی” افراد شامل تھے۔

    نائیجیریا کا سب سے بڑا شہر موسم سرما کی پارٹی کی منزل

    شادی میں شراب اور میوزک کی چھٹی،21 ہزار انعام پائیں