Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • 400 کتابوں کا مصنف،80 کروڑ کی جائیداد،پھر بھی آشرم میں زندگی بسر کرنے پر مجبور

    400 کتابوں کا مصنف،80 کروڑ کی جائیداد،پھر بھی آشرم میں زندگی بسر کرنے پر مجبور

    ذرا ایک بار سوچئے: ایک ایسا شخص جس کے پاس 80 کروڑ روپے کی بے پناہ دولت ہو، جس نے 400 سے زائد کتابیں لکھی ہوں، جو ایک بڑا بزنس مین ہو اور اس کی بیٹی سپریم کورٹ میں بڑی وکیل بن جائے، لیکن اس کے باوجود اُسے اپنا بڑھاپا کاشی کے کسی کوڑھ کے آشرم میں گزارنا پڑے۔ تو اس بوڑھے سے بڑھ کر بدنصیب کون ہو سکتا ہے؟ جس نے اپنی پوری زندگی اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے لیے گزار دی، انہیں اپنے پیروں پر کھڑا کیا، اور بدلے میں اُسے کیا ملا؟ کاشی کا کوڑھ کا آشرم۔

    یہ ایک ایسی دردناک کہانی ہے، جو بھارت کے نامور مصنف شری ناتھ کھنڈیلوال کی ہے۔ جنہیں لوگ ایس این کھنڈیلوال کے نام سے بھی جانتے ہیں۔ایس این کھنڈیلوال کا شمار ہندوستان کے مشہور مصنفین میں کیا جاتا ہے۔ انہوں نے سناتن دھرم سے متعلق بے شمار کتابیں لکھیں، اور اس فن میں مہارت حاصل کی۔ ان کی کتابیں نہ صرف ہندوستانی معاشرتی و مذہبی موضوعات پر گہرائی سے روشنی ڈالتی ہیں، بلکہ وہ ایک تاریخی ورثے کا حصہ بن چکی ہیں۔ایس این کھنڈیلوال غلام ہندوستان کے دور میں بنارس (اب وارانسی) میں پیدا ہوئے۔ ان کی تعلیم کا آغاز عام طور پر ہوا تھا، مگر دسویں جماعت میں وہ فیل ہوگئے۔ اس کے بعد انہوں نے تعلیم جاری نہیں رکھی اور کسی بھی رسمی ڈگری کے بغیر زندگی کی راہ اختیار کی۔ لیکن اس کمی کے باوجود ان کے اندر ایک گہرا علمی خزانہ چھپا ہوا تھا۔ صرف 15 سال کی عمر میں، انہوں نے اپنے گرو پدم وبھوشن گوپی ناتھ کی رہنمائی میں کتابیں لکھنا شروع کر دی تھیں۔ اور یہ سلسلہ بڑھاپے تک جاری رہا۔

    ایس این کھنڈیلوال نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ کتابیں لکھنے میں گزارا۔ ان کی کتابوں نے سناتن دھرم، ہندوستانی ثقافت، اور تاریخ پر روشنی ڈالی، جس کی وجہ سے وہ بہت جلد ادب کی دنیا میں ایک منفرد مقام بنانے میں کامیاب ہوئے۔ ان کے 400 سے زائد تصنیفات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ کس قدر محنت اور لگن سے کام کرتے تھے۔انہوں نے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلائی، انہیں بہترین تربیت دی اور خود بھی کاروباری دنیا میں کامیاب ہوئے، جس کے نتیجے میں انہوں نے 80 کروڑ روپے کی جائیداد بنائی۔ مگر اس کے باوجود جب ان کے بڑھاپے کا وقت آیا، تو وہ اپنے بچوں کی مدد کے بجائے ان کے بے رخی اور بے وفائی کا شکار ہوئے۔

    ایس این کھنڈیلوال نے اپنی زندگی کے اتنے سال اپنی اولاد کی خدمت میں گزارے، انہیں اپنی محنت سے کامیابی کی راہ دکھائی، لیکن بدلے میں انہیں جو ملا، وہ ایک دل دہلا دینے والی حقیقت ہے۔ بڑھاپے کی حالت میں جب انہیں سب سے زیادہ اپنے بچوں کی ضرورت تھی، ان کے بیٹے اور بیٹی نے ان کے ساتھ بے رحمی کا سلوک کیا۔ ان کے بیٹے نے انہیں گھر سے نکال دیا اور کہا کہ "اسے لے جاؤ اور کہیں پھینک دو، واپس مت لانا”۔یہ وہ لمحہ تھا جب ایس این کھنڈیلوال کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی تکلیف کا سامنا ہوا۔ وہ کہتے ہیں کہ "میرے گھر والوں کے بارے میں نہ پوچھو، میرا ایک خاندان تھا، اب نہیں ہے۔ اب وہ ماضی کی بات ہے، اب میں یہاں کاشی میں رہ رہا ہوں، سارناتھ کے کاشی لیپروسی آشرم میں اپنی زندگی گزار رہا ہوں۔”

    اب ایس این کھنڈیلوال کا بیشتر وقت کاشی کے ایک کوڑھ آشرم میں گزرتا ہے، جہاں ان کا علاج بھی کیا جاتا ہے۔ یہاں رہتے ہوئے بھی وہ اپنے مشن کو ترک نہیں کرتے اور اب بھی ایک اور کتاب لکھ رہے ہیں جو عنقریب شائع ہونے والی ہے۔ ان کی زندگی میں اس قدر تلخیاں آئی ہیں، کہ اب وہ اپنے بچوں کے نام لینے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ایک وقت ایسا بھی آیا جب مودی حکومت نے انہیں پدم ایوارڈ دینے کی پیشکش کی تھی۔ وزیر داخلہ نے خود ان سے فون کر کے ان کا نام اس ایوارڈ کے لیے تجویز کیا، لیکن ایس این کھنڈیلوال نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی زندگی میں جتنا دکھ اور تکلیف آئی ہے، وہ اس ایوارڈ سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔

    ایس این کھنڈیلوال کی کہانی نہ صرف ایک شخص کی کامیابی اور ناکامی کی داستان ہے، بلکہ یہ اس بات کا بھی غماز ہے کہ زندگی میں کبھی کبھار جو کچھ ہم امید کرتے ہیں، وہ ہمیں نہیں ملتا۔ ایک عظیم مصنف، جو اپنے علم، محنت اور عزم سے دنیا کو متاثر کرتا رہا، آخرکار اپنی اولاد کی بے وفائی اور نافرمانی کا شکار ہو گیا۔یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ دولت، شہرت، اور کامیابی کچھ بھی ہو، اصل حقیقت یہ ہے کہ انسانیت اور اخلاقیات کی قیمت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ ایس این کھنڈیلوال نے اپنی زندگی کی اس حقیقت کو نہ صرف جیا بلکہ اپنے کام کے ذریعے ہمیں بھی یہ سکھایا کہ انسان کو اپنے کردار اور عمل سے پہچانا جانا چاہیے، نہ کہ محض دولت اور شہرت سے۔

    امریکہ خود قاتل،پاکستانی کمپنیوں پر پابندی کی مذمت کرتے ہیں، حافظ نعیم

    حلال اور حرام کی تمیز تقریباً ختم ہو چکی،خواجہ آصف

  • ایک خاندان کے ہاں 65 سال بعد بیٹے کی پیدائش

    ایک خاندان کے ہاں 65 سال بعد بیٹے کی پیدائش

    لندن: ایک خاندان کے ہاں 65 سال بعد یا چوتھی نسل میں پہلے لڑکے کی پیدائش ہوئی تو انہوں نے لگ بھگ 3 دہائی پرانی ایک تصویر کو دوبارہ نئی شکل میں بنایا،یہ تصویر ایک مقامی روزنامے میں شائع ہوئی تھی جس میں ایک خاندان کی 5 نسلوں کو دکھایا گیا تھا۔

    برطانیہ کے قصبے Stowmarket سے تعلق رکھنے والی 27 سالہ شانتیل اسٹون کے ہاں گزشتہ دنوں بیٹے کی پیدائش ہوئی جب 1997 میں شانتیل اسٹون کی پیدائش ہوئی تھی تو ان کی نانی نے اپنے خاندان کی 4 نسلوں کے ساتھ نومولود بیٹی کی تصویر کھچوائی تھی، اب شانتیل اسٹون کے ہاں 26 نومبر کو بیٹے کی پیدائش ہوئی تو ان کی نانی نے ایک بار پھر ایسا کیا۔
    photo
    1997 کی تصویر میں شانتیل اسٹون اپنی والدہ ایمنڈا لی کی گود میں تھی جبکہ شانتیل اسٹون کی نانی لنزے اسٹون، پرنانی جوآن ایبرن اور سکڑ نانی ایڈتھ میننگ بھی اس تصویر میں موجود تھیں-

    آخری بار اس خاندان میں لڑکے کی پیدائش 1959 میں لنزے اسٹون کے بھائی کیون کی ہوئی تھی، لنزے اسٹون کے مطابق ‘مجھے یاد ہے کہ رپورٹر میرے نانا کے گھر 1997 میں آیا اور یہ تصویر کھینچی،ان کے مطابق اس زمانے میں ایمنڈا کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ اگلی بار لڑکا ہو جائے مگر پھر اس نے 3 مزید لڑکیوں کو جنم دیا۔
    uk
    اب نئی تصویر میں ایڈتھ میننگ کی جگہ 91 سالہ جوآن ایبرن نے لے لی ہے اور وہ اپنی والدہ کی جگہ اس خاندان کی سرپرست بن چکی ہیں جبکہ اس لڑکے کی سکڑ نانی ہیں،جوآن ایبرن کی 91 ویں سالگرہ کے موقع پر ان کا خاندان جمع ہوا تاکہ بچے کی پیدائش پر جشن منا سکے اور اس موقع پر نئی تصویر کھینچی گئی۔

    لنزے اسٹون کے مطابق یہ بہت خوبصورت موقع تھا انہوں نے کہا کہ میرا نواسا بہت خوبصورت ہے اور اپنے والدین کی طرح کافی متحرک نظر آتا ہے،اس نے وضاحت کی کہ اس کی بہن کو بھی ایک پوتے سے نوازا گیا ہے، یعنی تھیو بھی خاندان میں اکیلا لڑکا نہیں ہے۔

  • بھارتی لوک سبھا میں لڑائی،رکن پارلیمنٹ مکیش راجپوت زخمی،آئی سی یو داخل

    بھارتی لوک سبھا میں لڑائی،رکن پارلیمنٹ مکیش راجپوت زخمی،آئی سی یو داخل

    بھارتی سیاست میں ایک نیا تنازعہ اس وقت کھڑا ہوا جب بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے حوالے سے ایک متنازعہ بیان دیا، جس پر اپوزیشن جماعتوں میں شدید احتجاج دیکھنے کو ملا۔

    جمعرات کو پارلیمنٹ میں اس تنازعے پر ہنگامہ بڑھ گیا، اور اپوزیشن ارکان نے پارلیمنٹ کے "مکڑ دروازے” پر شدید احتجاج کیا۔ اس دوران کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی پر الزام ہے کہ انہوں نے دو بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ کو دھکیل دیا، جس کے نتیجے میں دونوں ارکان زخمی ہو گئے۔بی جے پی کے دو ارکان پارلیمنٹ، پرتھاپ سرنگی اور مکیش راجپوت، پارلیمنٹ کی عمارت کے قریب ہونے والے اس تصادم میں زخمی ہو گئے۔ مکیش راجپوت کو شدید چوٹیں آئیں اور انہیں دہلی کے رام منوہر لوہیا اسپتال میں آئی سی یو میں داخل کرایا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ اسپتال کے مطابق، پرتھاپ سرنگی کو بھی سر میں شدید چوٹ آئی تھی اور انہیں بھی اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔

    پرتھاپ سرنگی نے واقعہ کے بارے میں بتایا، "راہل گاندھی نے ایک ایم پی کو دھکیل دیا، اور وہ مجھ پر گر گیا جس سے میں گر گیا۔ میں سیڑھیوں کے قریب کھڑا تھا جب راہل گاندھی آیا اور اس ایم پی کو دھکیل دیا جس کے نتیجے میں وہ مجھ پر جا گرا۔”

    راہل گاندھی نے بی جے پی ارکان کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ کی عمارت کے داخلی دروازے کو روکنے کی کوشش کر رہے تھے اور انہیں دھکیلنے کی کوشش کی۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، "میں پارلیمنٹ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا اور بی جے پی کے ارکان مجھے روکنے، دھکیلنے اور دھمکانے کی کوشش کر رہے تھے۔” جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا مالیکار جن کھڑگے اور پریانکا گاندھی کو بھی دھکیل دیا گیا تھا، تو انہوں نے جواب دیا، "ایسا ہوا ہے، مگر ہمیں ان دھکیلنے کی حرکتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔”

    بی جے پی اور کانگریس کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات
    بی جے پی اور کانگریس دونوں ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں کہ مخالف فریق نے پارلیمنٹ میں تشویش پیدا کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔ بی جے پی ارکان کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی اور اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے داخلی راستے پر ان پر حملہ کیا، جبکہ اپوزیشن نے بی جے پی پر الزامات عائد کیے کہ وہ پارلیمنٹ میں امبیڈکر کے حوالے سے امیت شاہ کے بیانات کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    یہ تمام واقعات وزیر داخلہ امیت شاہ کے بی آر امبیڈکر سے متعلق ایک بیان کے بعد سامنے آئے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ "امبیڈکر اب فیشن بن چکے ہیں”۔ اس بیان پر اپوزیشن جماعتیں شدید ناراض ہو گئیں اور انہوں نے امیت شاہ سے معافی کی درخواست کی۔ اپوزیشن جماعتوں، خاص طور پر کانگریس اور انڈیا اتحاد کے ارکان نے امیت شاہ کے خلاف پارلیمنٹ میں احتجاج کیا اور ان کی استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔

    انڈیا اتحاد کے اراکین پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ میں بی آر امبیڈکر کے مجسمے کے سامنے احتجاج کیا اور "جے بھیم” اور "امیت شاہ معافی مانگو” کے نعرے لگائے۔ احتجاج کے دوران، کانگریس کے مالیکار جن کھڑگے، راہل گاندھی اور پریانکا گاندھی سمیت دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے نیلے رنگ کے کپڑے پہن کر احتجاج میں شرکت کی۔ یہ نیلا رنگ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر سے جڑا ہوا ہے، جو بھارت کے آئین کے معمار تھے۔دوسری طرف، بی جے پی کے اراکین نے بھی پارلیمنٹ میں مارچ کیا اور اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ وہ امبیڈکر کی توہین کر رہے ہیں۔ بی جے پی نے مطالبہ کیا کہ اپوزیشن پارٹیوں کو امبیڈکر کے حوالے سے اپنے رویے پر معافی مانگنی چاہیے۔

    اس ہنگامے کے بعد، لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں کی کارروائی کو معطل کر دیا گیا۔ اپوزیشن نے امیت شاہ سے معافی کا مطالبہ کیا اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کی بات کی۔ اس کے نتیجے میں پارلیمنٹ میں دونوں جانب سے شدید نعرے بازی کا سامنا رہا۔

    مکیش راجپوت، جو اس واقعہ کے دوران زخمی ہوئے، بی جے پی کے ایک نمایاں رکن پارلیمنٹ ہیں اور فی الحال اتر پردیش کے فریدآباد سے لوک سبھا کے ممبر ہیں۔ انہوں نے حالیہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں سماج وادی پارٹی کے امیدوار، نوال کشور شکیا کو شکست دی تھی۔ راجپوت نے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی ہے اور ان کی سیاسی سرگرمیاں خاصی فعال ہیں۔

    بھارتی لوک سبھا میں لڑائی،راہول گاندھی کیخلاف تھانے میں مقدمہ کی درخواست

    بھارت:بھکاریوں کو بھیک دینے والوں کیخلاف سخت قانونی کارروائی کا فیصلہ

  • ویتنام :  عملے سے بحث کے بعد  ایک شخص نے کیفے میں  آگ لگا دی،11 افراد ہلاک

    ویتنام : عملے سے بحث کے بعد ایک شخص نے کیفے میں آگ لگا دی،11 افراد ہلاک

    ہنوئی: ویتنام کے شہر ہنوئی میں بدھ کی رات تین منزلہ کیفے میں آگ لگنے سے گیارہ افراد ہلاک ہو گئے ، پولیس نے جان بوجھ کر آگ لگانے کے شبہ میں ایک 51 سالہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق گزشتہ رات ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں قائم ایک کیفے آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں اب تک 11 ہلاکتوں کی تصدیق ہوچکی ہے آتشزدگی کے واقعے میں 2 افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا جب کہ 7 افرد کو بحفاظت ریسکیو کیا گیا۔

    ویتنامی حکام کا بتانا ہے کہ انہوں نے کیفے سے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا ہے جس نے کیفے میں آگ لگانے کا اعتراف کیا ہے،گرفتار شخص نے پولیس کو دیئے گئے بیان میں کہا کہ کیفے کے اسٹاف سے ہونے والی بحث کے بعد پیٹرول کی مدد سے وہاں آگ لگائی۔

    سرکاری ٹیئن فونگ اخبار نے کہا کہ مشتبہ شخص کی عمر 50 سال سے زائد ہے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ دھماکے کی آواز سنائی دی ایک اور گواہ نے بتایا کہ آگ نے تمام راستے بند کر دیے تھے، پٹرول کی بو تیز تھی، آگ پر قابو پانے میں تقریباً 40 منٹ لگے-

  • بھارت:بھکاریوں کو بھیک دینے والوں  کیخلاف سخت قانونی کارروائی کا فیصلہ

    بھارت:بھکاریوں کو بھیک دینے والوں کیخلاف سخت قانونی کارروائی کا فیصلہ

    اندور: بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں نئے سال سےبھیک دینے والوں کے خلاف قانون نافذ کیا جائے گا، گداگری کے خلاف جاری مہم میں تو ہمیشہ بھکاریوں کے خلاف کارروائی کی جاتی رہی ہے، لیکن اب بھیک دینے والوں کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی جائے گی۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اِندور میں بھکاریوں کو پیسے دینے والوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس حوالے سے آگاہی مہم بھی چلائی جارہی ہےبھیک مانگنے کے خلاف آگاہی مہم اس ماہ کےآخر تک جاری رہے گی اور یکم جنوری سے بھیک دینے پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

    اِندور پولیس کا کہنا ہے کہ بھیک کے خلاف ہماری مہم اس ماہ کے آخر تک چلے گی اور یکم جنوری سے بھیک دینے والوں پر ایف آئی آر کاٹی جائےگی پولیس حکام نے لوگوں سے درخواست کی کہ بھکاریوں کو بھیک دے کر اس گناہ میں حصے دار نہ بنیں۔

    کلکٹر اندور، اشیش سنگھ نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ شہر میں پہلے ہی بھیک مانگنے پر پابندی تھی، لیکن اس کا اثر نہ ہونے کے برابر تھا حالانکہ بھکاریوں کے خلاف کارروائی کی گئی تھی، مگر ان کا طاقتور مافیا انہیں فوراً ضمانت دلوا لیتا تھا اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب بھیک دینے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق انتظامیہ نے گزشتہ کچھ ماہ میں بہت سے گینگ پکڑے ہیں جو لوگوں کو بھیک مانگنے پر مجبور کرتے ہیں، ضلعی انتظامیہ کے مطابق کئی بھیک مانگنے والے گروہ بھی سامنے آئے ہیں، جن کے خلاف دوبارہ آبادکاری کا عمل شروع کر دیاگیا ہے۔

    یاد رہے کہ وفاقی وزارتِ سماجی انصاف و انسانی حقوق نے اندور سمیت بھارت کے 10 شہروں میں بھکاریوں کو آزاد کرنے کے لیے ایک پائلٹ پروجیکٹ بھی شروع کیا ہے۔

  • ایران :خواتین کو ہراساں کرنیوالے شخص کو سزائے موت  دے دی گئی

    ایران :خواتین کو ہراساں کرنیوالے شخص کو سزائے موت دے دی گئی

    تہران: ایران میں خواتین کو ہراساں کرنے اور ان پر حملے کرنے والے شخص کو سزائے موت دے دی گئی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا مطابق دارالحکومت تہران میں 59 خواتین کو نوک دار آلے سے زخمی کرنے والے راستگوئی کندلاج کو ‘زمین پر فساد پھیلانے‘ کے جرم میں سزائے موت دی گئی متعدد خواتین کی جانب سے شکایت درج کروائی گئی تھی کہ موٹر سائیکل سوار ملزم کی جانب سے ان پر حملہ کیا گیا۔

    ایرانی عدلیہ کی نیوز ویب سائٹ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ خواتین پر حملہ کرنے اور تہران میں دہشت پھیلانے والے راستگوئی کندلاج کی سزائے موت پر عمل کردیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ ایران میں قتل، منشیات کی اسمگلنگ اور جنسی جرائم جیسے سنگین جرائم پر سزائے موت دی جاتی ہے۔

  • بھارتی لوک سبھا میں لڑائی،راہول گاندھی کیخلاف تھانے میں مقدمہ کی درخواست

    بھارتی لوک سبھا میں لڑائی،راہول گاندھی کیخلاف تھانے میں مقدمہ کی درخواست

    نئی دہلی: لوک سبھا میں اس وقت شدید ہنگامہ برپا ہو گیا جب بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ نے کانگریس کے رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کو پارلیمنٹ کے اندر داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔

    راہل گاندھی نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی کے ارکان نے نہ صرف انہیں روکنے کی کوشش کی بلکہ دھمکیاں بھی دیں۔ یہ تنازعہ اس وقت بڑھا جب راہل گاندھی اور دیگر اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ، جن میں کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے، پرینکا گاندھی اور دیگر خواتین ارکان شامل تھیں، پارلیمنٹ کے احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔راہل گاندھی نے اس واقعہ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’میں پارلیمنٹ میں اپنے آئینی حق کے تحت داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن بی جے پی کے ارکان نے مجھے دھکیلنا شروع کر دیا اور میرے ساتھ بدسلوکی کی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ حملہ غیر جمہوری ہے اور ہم اپنے حق کے لیے پارلیمنٹ میں جائیں گے، ہمیں دھکم پیل سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بی جے پی ہمیں روک نہیں سکتی۔ ‘‘ راہل گاندھی نے اس بات کا بھی دعویٰ کیا کہ یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا گیا تاکہ اپوزیشن کو پارلیمنٹ کی کارروائی سے باہر رکھا جا سکے۔ ’’یہ تمام کوششیں آئین کے خلاف ہیں اور بی جے پی اپنی تانا شاہی کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے،‘‘

    دوسری طرف، بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ پرتاب سنگھ سارنگی نے الزام عائد کیا کہ راہل گاندھی نے انہیں دھکیل کر سیڑھیوں سے گرایا جس کی وجہ سے ان کے سر پر چوٹ آئی۔ سارنگی نے کہا کہ ’’راہل گاندھی نے ایک رکن پارلیمنٹ کو دھکیل دیا، جس کے نتیجے میں وہ گر گئے اور زخمی ہو گئے۔‘‘ تاہم، راہل گاندھی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کسی کو دھکیلنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

    کانگریس نے اس معاملے پر بی جے پی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اس واقعے سے بی جے پی کے ارکان کی غنڈہ گردی سامنے آئی ہے۔ کانگریس نے اس واقعے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس میں صاف طور پر دکھایا گیا ہے کہ بی جے پی کے ارکان نے پارلیمنٹ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے اپوزیشن ارکان کو روکا اور دھکم پیل کی۔ کانگریس نے اس رویے کو ’’جمہوری قدروں کے خلاف‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی تانا شاہی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اپوزیشن پارٹیوں نے وزیر داخلہ امت شاہ کے ایک حالیہ بیان کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ امت شاہ نے بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی شخصیت اور ان کے کام کے بارے میں توہین آمیز تبصرے کیے ہیں، جس کے خلاف وہ احتجاج کر رہے ہیں۔

    آج لوک سبھا میں اپوزیشن کے اراکین، جن میں کانگریس کے رہنما راہل گاندھی بھی شامل تھے، وزیر داخلہ امت شاہ کے امبیڈکر پر دئیے گئے حالیہ بیان کے خلاف پارلیمنٹ میں شدید احتجاج کر رہے تھے۔ اپوزیشن نے امت شاہ سے معافی اور ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ اس دوران راہل گاندھی نیلی ٹی شرٹ پہنے ہوئے تھے، جبکہ پرینکا گاندھی نے بھی نیلی ساڑی زیب تن کی تھی، جو بابا صاحب امبیڈکر کے ساتھ اظہار یکجہتی کی علامت تھی۔لوک سبھا میں اپوزیشن رہنماؤں راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کی قیادت میں انڈیا بلاک کے اراکین نے پارلیمنٹ کے احاطے میں بابا صاحب امبیڈکر کی مورتی کے سامنے احتجاجی مارچ نکالا۔ پرینکا گاندھی نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی نے بابا صاحب کا مذاق اُڑایا ہے اور ان کی تصویر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی ہے، جو ان کے مطابق بابا صاحب کے وقار کی توہین ہے۔

    پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بھی شدید ہنگامہ دیکھنے کو ملا۔ اپوزیشن اراکین نے ’’جئے بھیم‘‘ کے نعرے لگائے اور لوک سبھا و راجیہ سبھا میں امبیڈکر کے خلاف بی جے پی کے بیانات پر احتجاج جاری رکھا۔ راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ نے اجلاس کے آغاز میں ایک رکن کو سالگرہ کی مبارکباد دی، تاہم اپوزیشن کا احتجاج مسلسل جاری رہا۔ دونوں ایوانوں کی کارروائی، جن میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا شامل ہیں، امت شاہ کے بیان پر شدید ہنگامے کی وجہ سے متعدد بار ملتوی کی گئی۔

    دوسری جانب بی جے پی نے بھی دہلی سنسد مارگ پر واقع پولیس اسٹیشن میں راہل گاندھی کے خلاف شکایت درج کرادی ہے۔ انوراگ ٹھاکر،بانسری سوراج تھانہ پہنچے تھے جہاں انہوں نے کانگریس کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔اب پولیس اس پورے معاملے کی تحقیقات کرے گی۔

    ڈی جی سپورٹس بورڈ کی تعیناتی اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو آپریشنل کرنے کی تیاریاں آخری مراحل

  • برطانوی نوجوان دبئی میں رومانوی تعلق پر گرفتار

    برطانوی نوجوان دبئی میں رومانوی تعلق پر گرفتار

    برطانوی نوجوان کو دبئی میں چھٹیوں کے دوران رومانوی تعلق پر گرفتار کر لیا گیا.

    برطانوی میڈیا کے مطابق ایک برطانوی نوجوان، مارکس فاکانا، کو دبئی میں نابالغ لڑکی کے ساتھ جنسی تعلق کے الزام میں ایک سال قید کی سزا سنا دی گئی، حالانکہ اسے ریپ کے الزام سے بری کر دیا گیا تھا۔مارکس کا کہنا ہے کہ اس کا 17 سالہ لڑکی کے ساتھ دبئی کے ہلٹن پام جمیرا ہوٹل میں تعلق قائم ہوا، لیکن لڑکی کی والدہ نے اس کے سامان میں برتھ کنٹرول گولیاں ملنے پر حکام کو رپورٹ کیا۔پولیس رپورٹ میں ابتدائی طور پر عربی میں "زبردستی ریپ” کا ذکر تھا، لیکن ہوٹل کے سی سی ٹی وی فوٹیج نے ثابت کیا کہ لڑکی اپنی مرضی سے مارکس کے کمرے میں گئی تھی۔دبئی کے قوانین کے مطابق، چونکہ لڑکی کی عمر 18 سال سے کم تھی، مارکس کو نابالغ کے ساتھ تعلق رکھنے کا مجرم قرار دیا گیا۔یہ واقعہ اگست کے آخر میں اس وقت پیش آیا جب لڑکی کی والدہ نے دبئی میں چھٹیاں گزارنے کے بعد برطانوی سفارت خانے کو شکایت درج کرائی۔ سفارت خانے نے معاملہ دبئی کے حکام کو بھیج دیا، جس کے بعد مارکس کو گرفتار کیا گیا۔مارکس نے عدالت میں بتایا کہ تعلق دونوں کی رضامندی سے ہوا تھا اور کسی قسم کی زبردستی شامل نہیں تھی۔ عدالت نے کیس کے دوران لڑکی کے والدین کو شامل نہیں کیا کیونکہ وہ ملک چھوڑ چکے تھے۔مارکس اس وقت ضمانت پر ہیں لیکن دبئی چھوڑنے کی اجازت نہیں اور ہر ماہ رہائش پر تقریباً 2,000 پاؤنڈ خرچ کر رہے ہیں۔

    وزیر اعظم کی انڈونیشیا کے صدرے ملاقات،

    روس نےکینسر ویکسین بنالی، شہریوں کو مفت دینےکا اعلان

    ڈالر مزید سستا ، اسٹاک مارکیٹ میں مندی

  • وزیر اعظم کی انڈونیشیا کے صدر سے ملاقات

    وزیر اعظم کی انڈونیشیا کے صدر سے ملاقات

    وزیر اعظم شہباز شریف نے انڈونیشیا کے صدر پرابووسوبیانتو سے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق شہباز شریف صدر پرابووسوبیانتو صدر کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان سیاسی، تجارتی اور اقتصادی امور میں تعاون کے فروغ پر بھی گفتگو کی گئی۔ کثیرالجہتی فورمز پر تعاون کے فروغ سے متعلق امو پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ جبکہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ دوطرفہ تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے قریبی رابطے میں رہنے پر بھی اتفاق ہوا۔شہباز شریف نے کہا کہ انڈونیشیا پاکستان کا قابل بھروسہ تجارتی شراکت دار ہے۔ اور انڈونیشیا پام آئل فراہم کرنے والے ملک کے طور پر بہترین مقام رکھتا ہے۔ پاکستان خوردنی تیل کی ضروریات پورا کرنے کے لیے انڈونیشیا سے برآمد کرتا ہے۔وزیر اعظم نے آسیان میں سیکٹورل پارٹنر کا درجہ حاصل کرنے پر انڈونیشیا کی حمایت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان انڈونیشیا کے تعاون اور حمایت سے آسیان کا مکمل ڈائیلاگ پارٹنر بنے گا۔شہباز شریف نے انڈونیشیا کے صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔ انڈونیشیا کے صدر نے قبول کر لی۔ انڈونیشیا کے صدر نے وزیر اعظم شہباز شریف کا فلسطین کے لیےغیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ پرابووسوبیانیو اور شہباز شریف نے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے جامع طریقہ کار اختیار کرنے پر زور بھی دیا۔

    80 ہزار کروڑ ٹکے کرپشن: حسینہ واجد اور انکے خاندان کیخلاف تحقیقات کا فیصلہ

    ڈالر مزید سستا ، اسٹاک مارکیٹ میں مندی

  • بھارتی پارلیمنٹ فری سٹائل ریسلنگ کا میدان بن گئی، راہول گاندھی کے ہاتھوں بی جے پی  وزیرزخمی

    بھارتی پارلیمنٹ فری سٹائل ریسلنگ کا میدان بن گئی، راہول گاندھی کے ہاتھوں بی جے پی وزیرزخمی

    جمعرات کو صبح سویرے بھارتی پارلیمنٹ کو اراکین نے ڈبلیو ڈبلیو ای رائل رمبل کا رنگ بنا دیا، جہاں ہنگامہ آرائی کے دوران حکومتی جماعت بھارتی جنتا پارٹی کے بزرگ کے رکن پارلیمنٹ زخمی ہوگئے۔

    بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ پرتاپ چندر سارنگی کے جمعرات کو زخمی ہونے کے بعد پارلیمنٹ میں کشیدگی پھیل گئی۔

    یہ ہنگامہ آرائی مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر پر کئے گئے تبصرے کے خلاف لئے گئے احتجاج کے درمیان ہوئی۔

    بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے دعویٰ کیا کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے ایک رکن اسمبلی کو دھکا دیا، جو پرتاپ چند سارنگی پر گر پڑا۔
    سارنگی نے کہا کہ ’میں سیڑھیوں کے پاس کھڑا تھا جب راہل گاندھی آئے اور ایک رکن اسمبلی کو دھکا دیا جو مجھ پر گر پڑا اور میں بھی گر پڑا‘۔

    اپنے دفاع میں راہول گاندھی نے کہا کہ وہ داخلی دروازے کے پاس کھڑے تھے جہاں بی جے پی ممبران اسمبلی ان کا راستہ روک رہے تھے۔

    خیال رہے کہ پارلیمنٹ میں امیت شاہ کے بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کے بارے میں کیے گئے تبصرے پر پورے ملک میں ہنگامہ برپا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں وزیر داخلہ امت شاہ سے لگاتار استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

    اس تنازعے میں تمل سپر اسٹار اور تملگا ویٹری کزگم (ٹی وی کے) کے سربراہ وجئے بھی کود پڑے ہیں۔

    دلت تنظیموں نے ملک کے کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے امیت شاہ کا پتلا پھونکا، جبکہ کچھ جگہوں پر کانگریس پارٹی کی طلبہ تنظیموں اور خود کانگریس کارکنوں نے احتجاج کرتے ہوئے امیت شاہ کے استعفے کا مطالبہ کیا۔

    یہ تنازع اتنا بڑا ہوگیا ہے کہ اب حکومت سے سنبھالے نہیں سنبھل رہا ہے۔ حالانکہ وزیر اعظم نریندرا مودی خود امیت شاہ کے دفاع میں اترے، لیکن دن بھر میں جیسے جیسے ان کے بیان کا ویڈیو وائرل ہوتا رہا امیت شاہ کے خلاف ناراضگی میں اضافہ ہوتا رہا۔

    اب عالم یہ ہے کہ بی جے پی اور حکومت کی جانب سے مسلسل صفائی پیش کی جارہی ہے اور دھیان بھٹکانے کے لئے کانگریس پر مسلسل حملے بھی کئے جارہے ہیں، لیکن یہ تنازعہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔