Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • سعودی عرب : ٹریفک حادثے میں ایک ہی خاندان کے سات افراد جاں بحق

    سعودی عرب : ٹریفک حادثے میں ایک ہی خاندان کے سات افراد جاں بحق

    ریاض:سعودی عرب میں ٹریفک حادثے میں ایک ہی خاندان کے سات افراد جاں بحق ہوگئے-

    باغی ٹی وی : خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سعودی خاندان جازان کے علاقے میں سفر کر رہا تھا کہ خریص الاحسا روڈ پر حادثے کا شکار ہوگیاجاں بحق افراد میں میاں بیوی اور ان کے پانچ بچے شامل ہیں حادثے میں انتقال کر جانے والے خاندان کے سربراہ کے بھائی احمد حدادی نے بتایا ان کے بھائی اپنے پانچوں بچوں اور اہلیہ کے ساتھ مشرقی ریجن جا رہے تھے کہ ان کی گاڑی دوسری کار سے ٹکرانے کے بعد الٹ گئی اور اس میں فوری طور پر آگ لگ گئی۔

    حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں خاندان کا سربراہ علی بن محمد الحدادی، اہلیہ عیش بنت احمد الحدادی، بیٹے محمد اور حسام اور تین بیٹیاں شامل تھیں جو موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔

    احمد حدادی نے بتایا کہ سفر پر جانے سے قبل بھائی سے ٹیلی فون پر رابطہ ہوا تھا اس وقت ایسی باتیں ان کے منہ سے نکلیں جن کا اندازہ اب ہوابھائی نے سفر پر جانے سے قبل خاندان کے تمام افراد سے بات کی تھی سب کی خیریت دریافت کی اور دعا کرنے کی درخواست کی، ایسا لگتا ہے کہ انہیں اپنے آخری لمحات کا پتہ چلا گیا تھا۔

  • زمین کی سطح کے نیچے ایندھن کے خزانے کی ایک بڑی مقدار پوشیدہ ہے،سائنسدان

    زمین کی سطح کے نیچے ایندھن کے خزانے کی ایک بڑی مقدار پوشیدہ ہے،سائنسدان

    سائنسدانوں کا خیال ہے کہ زمین کی سطح کے نیچے ہائیڈروجن کے خزانے کی ایک بڑی مقدار پوشیدہ ہے یہ ہائیڈروجن تیل اور گیس جیسے ایندھن کی جگہ لے کر 200 سال تک توانائی فراہم کر سکتا ہے یا مکمل طور پر ان کی ضرورت ختم کر سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی :تحقیق کے مطابق زیر زمین تیل کے ذخائر میں موجود تقریباً 26 گنا زیادہ ہائیڈروجن موجود ہے لیکن سائنسدان یہ بات جاننے سے قاصر ہیں کہ یہ ہائیڈروجن کس جگہ پر موجود ہےہائیڈروجن مستقبل کے لیے ایک امید افزا ایندھن ہے یہ وافر، ہلکا پھلکا ہے اور تیل اور گیس کی جگہ لے سکتا ہے دنیا بھر کی حکومتیں اس کی صلاحیت کو تلاش کر رہی ہیں۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہائیڈروجن کچھ صنعتوں میں درکار توانائی کا 30 فیصد تک فراہم کر سکتا ہےسال 2050 تک ہائیڈروجن کی عالمی طلب میں پانچ گنا یا اس سے زائد اضافہ متوقع ہے 2050 تک دنیا کی ہائیڈروجن کی ضرورت میں بہت زیادہ اضافہ متوقع ہے اگر ہم دستیاب ہائیڈروجن کی 2 فیصد بھی مقدار حاصل کر لیں، تو یہ تقریباً 200 سال تک دنیا کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہوگا۔

    سائنس دانوں کا خیال تھا کہ ہائیڈروجن زیر زمین زیادہ مقدار میں ذخیرہ نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ ایک چھوٹا مالیکیول ہے جو چٹانوں کی چھوٹی جگہوں سے آسانی سے نکل سکتا ہےلیکن نئی دریافتوں نے اس خیال کو تبدیل کیا جیسا کہ محققین کو البانیہ اور مغربی افریقہ میں کرومیم کی ایک کان میں زیر زمین ہائیڈروجن کی ایک بڑی مقدار ملی جس سے پتہ چلتا ہے کہ ہائیڈروجن کو واقعی زمین کی سطح کے نیچے کافی مقدار میں ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔

  • 2024 میں آؤٹ سورسنگ سروسز کے لیے 10 بہترین ممالک

    2024 میں آؤٹ سورسنگ سروسز کے لیے 10 بہترین ممالک

    آؤٹ سورسنگ کاروباروں کو دوسرے ممالک کی مہارت اور لاگت کے فوائد سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دیتی ہے، جس سے کارکردگی اور مسابقت میں اضافہ ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی: کیا آپ 2024 میں اپنی خدمات کو آؤٹ سورس کرنے پر غور کر رہے ہیں؟ تو مندرجہ ذیل ممالک اس کیلئے بہترین رہیں گے-آؤٹ سورسنگ دنیا بھر کے کاروباروں کے لیے گیم چینجر ثابت ہوئی ہے یہاں تین زبردست وجوہات ہیں کہ آپ کو 2024 میں آؤٹ سورسنگ پر کیوں غور کرنا چاہئے:

    بہتر لاگت کی کارکردگی

    آؤٹ سورسنگ آپ کو کم مزدوری کی لاگت والے ممالک کی طرف سے پیش کردہ لاگت کے فوائد کو استعمال کرنے دیتا ہے،یہ آپ کو اپنے وسائل کو بہتر بنانے اور اپنے بجٹ کو زیادہ مؤثر طریقے سے مختص کرنے کی اجازت دیتا ہے، بالآخر اعلی منافع اور ترقی کو آگے بڑھاتا ہے۔

    خصوصی مہارتوں اور ہنر تک رسائی
    آؤٹ سورسنگ عالمی سطح پر خصوصی مہارتوں اور ہنر کے وسیع دروازے کھولتی ہے۔ آپ مختلف شعبوں میں ایسے ماہرین تلاش کر سکتے ہیں جو مقامی طور پر خدمات حاصل کرنے کے مقابلے میں اکثر قیمت کے ایک حصے پر اعلیٰ معیار کا کام فراہم کر سکتے ہیں۔

    عالمی ہنر کو ملازمت دینے سے آپ کو مسابقتی برتری اور اعلیٰ درجے کے پیشہ ور افراد کے ساتھ تعاون کرنے کا موقع ملتا ہے جو آپ کے کاروبار میں قدر بڑھا سکتے ہیں۔

    بنیادی کاروباری کارروائیوں پر توجہ دیں:غیر بنیادی کاروباری افعال کو فارم کرنا آپ کو اپنی توجہ اور وسائل کو اپنی بنیادی صلاحیتوں کی طرف ری ڈائریکٹ کرنے میں مدد کرتا ہے۔ بیرونی ماہرین کو بار بار یا وقت طلب کام سونپ کر، آپ اپنے کاموں کو ہموار کر سکتے ہیں اور ایسے تزویراتی اقدامات پر توجہ مرکوز کر سکتے ہیں جو آپ کے کاروبار کو آگے بڑھاتے ہیں۔

    آؤٹ سورسنگ کے لیے بہترین ممالک کے انتخاب کے معیارات

    آؤٹ سورسنگ کے لیے بہترین ممالک کا انتخاب کرتے وقت، کامیاب شراکت کو یقینی بنانے کے لیے کچھ معیارات پر غور کرنا ضروری ہے۔

    معیاری انفراسٹرکچر

    مضبوط انفراسٹرکچر والے ممالک کی تلاش کریں آؤٹ سورسنگ کے لیے بہترین ممالک کے پاس قابل بھروسہ ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورک اور جدید سہولتیں ہیں جو بغیر کسی رکاوٹ کے مواصلات اور آپریشنز کو سپورٹ کرتی ہیں۔

    سیاسی اور معاشی استحکام

    طویل مدتی کامیاب آؤٹ سورسنگ تعلقات کے لیے سیاسی اور اقتصادی ماحول میں استحکام بہت ضروری ہے،سازگار کاروباری ماحول اور مستحکم حکمرانی والے ممالک کا انتخاب کریں۔

    ثقافتی مطابقت

    ثقافتی اختلافات کو سمجھنا اور ان کی تعریف کرنا موثر تعاون میں حصہ ڈال سکتا ہے ثقافتی مطابقت رکھنے والے ممالک کا انتخاب کریں جو آپ کی کاروباری اقدار اور طرز عمل سے اچھی طرح ہم آہنگ ہوں۔

    زبان کی مہارت

    آؤٹ سورسنگ کی کامیابی کے لیے موثر مواصلت ضروری ہے ہموار تعامل کو یقینی بنانے کے لیے انگریزی بولنے والے افرادی قوت یا کثیر لسانی ہنر کی دستیابی کے حامل ممالک پر غور کریں۔

    قانونی اور دانشورانہ املاک کا تحفظ

    اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ جس ملک کا انتخاب کرتے ہیں اس میں املاک دانش کے حقوق کے تحفظ اور معاہدوں کو نافذ کرنے کے لیے مضبوط قانونی فریم ورک موجود ہے یہ آپ کی حساس معلومات اور ملکیتی ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بناتا ہے۔

    آؤٹ سورسنگ خدمات کے لیے 10 بہترین ممالک

    2024 میں آؤٹ سورسنگ خدمات کے لیے بہترین ممالک ، یہ ممالک لاگت کے فوائد، ہنر مند افرادی قوت، سازگار کاروباری ماحول، اور قابل اعتماد انفراسٹرکچر کا مجموعہ پیش کرتے ہیں:

    1. فلپائن

    فلپائن آؤٹ سورسنگ سروسز، خاص طور پر کسٹمر سپورٹ اور بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ (BPO) کے لیے ایک بہترین انتخاب کے طور پر ابھرا ہے انگریزی بولنے والی بڑی آبادی اور کام کی مضبوط اخلاقیات کے ساتھ، فلپائنی پیشہ ور ثقافتی مطابقت کو برقرار رکھتے ہوئے اعلیٰ معیار کا کام فراہم کرتے ہیں۔

    2. ہندوستان

    ہندوستان طویل عرصے سے آؤٹ سورسنگ کا ایک مقبول مقام رہا ہے، جو مختلف ڈومینز جیسے کہ IT، کسٹمر سپورٹ، اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ میں ہنر مند پیشہ ور افراد کے وسیع پول کے لیے جانا جاتا ہے۔یہ ملک لاگت کے فوائد اور بین الاقوامی کاروباری طریقوں کی گہری تفہیم پیش کرتا ہے۔

    3. پولینڈ

    پولینڈ یورپ میں آؤٹ سورسنگ کے لیے ایک اہم مقام کے طور پر پہچان حاصل کر رہا ہے یہ ملک اعلیٰ تعلیم یافتہ افرادی قوت، سستی مزدوری کے اخراجات اور سازگار کاروباری ماحول کا حامل ہے، پولینڈ آئی ٹی آؤٹ سورسنگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، اور تحقیق و ترقی کے لیے ایک پرکشش انتخاب بن گیا ہے۔

    4. یوکرین

    یوکرین تیزی سے آؤٹ سورسنگ خدمات کے لیے ٹیک ہب بن رہا ہے یہ اپنے انتہائی ہنر مند آئی ٹی پروفیشنلز کے لیے مشہور ہے، جو مختلف شعبوں میں کام کرنے میں بھی ماہر ہیں، یوکرین کا اسٹریٹجک مقام اور مغربی کلائنٹس کے ساتھ ثقافتی مطابقت آؤٹ سورس کرنے کے خواہاں کاروباروں کے لیے بے مثال فوائد فراہم کرتی ہے۔

    5. چین

    چین آؤٹ سورسنگ لینڈ سکیپ میں خاص طور پر مینوفیکچرنگ اور پروڈکشن میں ایک نمایاں کھلاڑی ہے،اپنی وسیع مینوفیکچرنگ صلا حیتوں، سازگار مزدوری لاگت، اور قائم کردہ بنیادی ڈھانچے کے ساتھ، چین ایک اور قابل اعتماد آؤٹ سورسنگ منزل کے طور پر کام کرتا ہے۔

    6. ملائیشیا

    آئی ٹی اور کاروباری عمل کو آؤٹ سورس کرنے کے لیے ملائیشیا بھی بہترین ممالک میں شامل ہےتعلیم اور ٹیکنالوجی پر زور دینے کے ساتھ، ملائیشیا ایک ٹیلنٹ پول پیش کرتا ہے جو آئی ٹی سے لے کر کسٹمر سروس تک مختلف صنعتوں میں علم رکھتا ہے، کاروبار ملائیشیا کے سازگار کاروباری ماحول، جدید سہولیات اور معاون حکومتی پالیسیوں سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

    7. میکسیکو

    میکسیکو اپنی جغرافیائی قربت اور مشترکہ ٹائم زونز کی بدولت شمالی امریکہ کی کمپنیوں کے لیے ایک ترجیحی آؤٹ سورسنگ منزل کے طور پر ابھرا ہےملک ہنر مند دو لسانی پیشہ ور افراد اور لاگت کے فوائد پیش کرتا ہے، جو اسے کسٹمر سپورٹ اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے لیے ایک بہترین انتخاب بناتا ہے۔

    8. برازیل
    برازیل کا تیزی سے بڑھتا ہوا آئی ٹی سیکٹر اسے آؤٹ سورسنگ کی ایک اور پناہ گاہ بناتا ہے۔ اس خودمختار ریاست کے پاس سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ایپلی کیشن مینٹیننس، اور آئی ٹی سپورٹ پر توجہ کے ساتھ آئی ٹی کے ماہر ماہر ہیں۔

    9. ویتنام
    ویتنام نے آؤٹ سورسنگ انڈسٹری میں خاص طور پر آئی ٹی، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، اور بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ میں نمایاں ترقی دیکھی ہے۔یہ ملک ایک نوجوان اور ٹیک سیوی افرادی قوت، مسابقتی اخراجات اور معاون حکومت پیش کرتا ہے۔

    10. بلغاریہ
    مشرقی یورپ میں واقع بلغاریہ آئی ٹی اور سافٹ ویئر کی ترقی کے لیے ایک مثالی آؤٹ سورسنگ منزل کے طور پر توجہ حاصل کر رہا ہے۔ ملک ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ افرادی قوت اور سازگار کاروباری ماحول پیش کرتا ہے بڑی یورپی منڈیوں سے بلغاریہ کی قربت ان کاروباروں کے لیے ایک مثالی انتخاب پیش کرتی ہے جو لاگت سے موثر اور موثر آؤٹ سورسنگ حل تلاش کرتے ہیں۔

    اپنی ضروریات کو آؤٹ سورس کرنے کے لیے بہترین ممالک میں سے انتخاب کریں۔
    آؤٹ سورسنگ آپ کے کاروبار کے لیے ایک تبدیلی کا فیصلہ ہو سکتا ہے، جو آپ کو عالمی مہارت اور وسائل سے فائدہ اٹھانے، کارکردگی بڑھانے، اور ترقی کو آگے بڑھانے کے قابل بناتا ہے۔

  • شام میں ترکیے کا سفارت خانہ  12 سال بعد دوبارہ  فعال

    شام میں ترکیے کا سفارت خانہ 12 سال بعد دوبارہ فعال

    دمشق: شام میں ترکیے کا سفارت خانہ 12 سال بعد دوبارہ فعال ہو گیا۔

    باغی ٹی وی:غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شام کے دارالحکومت دمشق میں ہفتے کے روز ترکیے کے سفارتی مشن نے 12 سال کے وقفے کے بعد اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کیں اور ترکیے کا پرچم سفارتخانے پر لہرایا گیاسفارتی مشن شروع ہونے کے بعد ترکیے نے شام میں برہان کور اوغلو کو ناظم الامور مقرر کر دیا ہے۔

    واضح رہے کہ ترکیے نے سابق صدر بشارالاسد حکومت کے خلاف 2011 میں مظاہرے کرنے والوں پر بدترین کریک ڈاؤن کے خلاف 2012 میں شام میں اپنی سفارتی سرگرمیاں روک دی تھیں جبکہ بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد اب استنبول میں شامی قونصلیٹ جنرل نے بلا تعطل اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں،گزشتہ دنوں شام میں اپوزیشن فورسز کی جانب سے دارالحکومت دمشق پر کنٹرول اور شامی صدر بشار الاسد کے فرار کے بعد ترکیہ میں شامی قونصل خانے سے شامی پرچم اتار دیا تھا-

  • شام میں موجودہ تبدیلی اچانک نہیں ہوئی ،کئی سالوں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے،ابو محمد الجولانی

    شام میں موجودہ تبدیلی اچانک نہیں ہوئی ،کئی سالوں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے،ابو محمد الجولانی

    دمشق: شام میں اپوزیشن فورسز ہیئت تحریر الشام اور اتحادی گروپوں کے سربراہ احمد الشرع المعروف ابو محمد الجولانی نے کہا ہے کہ شام ہونے والی تبدیلی خطے میں ایران کے خطرناک منصوبے کے خلاف بڑی کامیابی ہے،جبکہ یہ تبدیلی اچانک نہیں ہوئی ،کئی سالوں کی منصو بہ بندی کا نتیجہ ہے-

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق احمد الشرع نے کہاکہ ایران کے منصوبے خطے کے عوام کیلئے تکلیف دہ ثابت ہوئے، ایرانی عوام سے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں،سابق صدر بشار الاسد نے منشیات کی پیداوار میں عالمی ریکارڈ قائم کیا، روس بشارالاسد کی گرتی ہوئی ساکھ سے بیزار ہونےلگا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ خط وکتابت کےذریعے روس کےساتھ معاملات طے کرنے کی کوشش کی ہےاور روس کو نئےسرے سے تعلقا ت قائم کرنےکا موقع فراہم کیا ہے،موجودہ تبدیلی اچانک نہیں ہوئی بلکہ کئی سالوں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے، شام کےعلاقوں اور شہرو ں پر اپوزیشن فورسز کے قبضوں کےدوران کوئی نقل مکانی دیکھنے میں نہیں آئی۔

    احمد الشرع نے کہا کہ اسرائیل ایران کے بہانے شام میں مداخلت کرتا آیا ہے، اب شام میں غیرملکی مداخلت کا کوئی وجود نہیں رہا، اسرائیل کیلئے غیرملکی مداخلت کا کوئی جواز باقی نہیں رہا اور اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کی کشیدگی نہیں چاہتے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ایرانی سپریم لیڈرآیت اللہ خامنہ ای نے دعویٰ کیا تھاکہ شام میں بشارالاسد حکومت کاخاتمہ امریکا، اسرائیل اور شام کے پڑوسی ملک کے منصوبےکا نتیجہ ہےشام میں باغی گروپوں کے مقاصد ایک دوسرے سے الگ ہیں ،شام کے ہر باغی گروپ کے اپنے علیحدہ مقاصد اور ایجنڈا ہے، وقت ثابت کرےگا کہ ان لوگوں کا کوئی بھی مقصد پورا نہيں ہوگا، اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکا علاقے میں اپنے قدم جمانا چاہتا ہے، فتنہ داعش کے دوران ایران کی شام میں موجودگی کا مقصد مقدس مقامات کا تحفظ تھا، ایران کی موجودگی کا مقصد امن قائم کرنے میں شامی حکومت کی مدد کرنا تھا۔

  • دنیا کے عمر رسیدہ پرندے نےتقریباً 74 سال کی عمر میں انڈا دیدیایا

    دنیا کے عمر رسیدہ پرندے نےتقریباً 74 سال کی عمر میں انڈا دیدیایا

    امریکی وائلڈ لائف حکام نے کہا ہے کہ دنیا کے عمر رسیدہ پرندے نے تقریباً 74 سال کی عمر میں انڈا دیا ہے۔

    باغی ٹی وی” امریکی میڈیا کے مطابق یو ایس فش اینڈ وائلڈ لائف سروس کے پیسفک ریجن نے کہا کہ وِزڈم نامی سمندری پرندہ لیسن الباٹراس امریکی ریاست ہوائی میں مڈ وے اٹول نیشنل وائلڈ لائف ریفیوج میں واپس آیا اور ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہ اس کا 60 واں انڈا ہو سکتا ہے۔

    وائلڈ لائف حکام نے بتایا کہ وزڈم اور اس کا ساتھی اکاکامائی 2006 سے انڈے دینے کے لیے بحرالکاہل میں اٹول کے مقام پر واپس آئے تھے لیسن الباٹروس سال میں ایک انڈا دیتی ہے انہوں نے بتایا کہ لیکن اکاکامائی کو کئی سالوں سے نہیں دیکھا گیا اور جب وہ گذشتہ ہفتے واپس آئی تو وہ ایک دوسرے پرندے کے ساتھ دیکھی گئی۔

    مڈ وے اٹول نیشنل وائلڈ لائف ریفیوج کے نگران جنگلی حیات کے ماہر جوناتھن پلسنر نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم پر امید ہیں کہ انڈے سے بچہ نکلے گا،الباٹروس پرندے تقریباً سات ماہ تک ایک انڈے پر بیٹھتے ہیں، بچے انڈوں سے نکلنے کے تقریباً پانچ سے چھ ماہ بعد سمندر کی طرف اڑ جاتے ہیں۔ وہ اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ سمندر کے اوپر پرواز کرتے ہوئے اور سکویڈ اور مچھلی کے انڈوں کو کھاتے ہوئے گزارتے ہیں،وزڈم نے پہلی بار 1956 میں انڈے دینے شروع کیے تھے اور اس نے اب تک 30 کے قریب چوزے بچے دیئے ہیں لیسن الباٹراس کی اوسط عمر 68 سال ہے۔

  • بھارتی میڈ یا کا نیا شوشہ، اداکارہ ریکھا کو ہم جنس پرست قرار دیدیا

    بھارتی میڈ یا کا نیا شوشہ، اداکارہ ریکھا کو ہم جنس پرست قرار دیدیا

    ممبئی: بھارتی میڈ یا نے اداکارہ ریکھا کو ‘ہم جنس پرست، قرار دے دیا ۔

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا رپورٹ ک مطابق اداکارہ کے امیتابھ بچن سے رومانوی تعلقات کے علاوہ نجی زندگی کے حوالے سے خبریں وائرل ہوئیں اس کے بعد ریکھا نے معروف کاروباری شخصیت مکیش اگوال سے شادی کی تاہم کچھ عرصے میں اُن کے شوہر نے خودکشی کرلی اُس کے بعد سے ریکھا نے شادی نہیں کی۔

    شوہر کی زندگی میں اداکارہ نے خاتون مینیجر فرزانہ کو اپنے ساتھ رکھا بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ دونوں کے درمیان بہت ’خاص تعلقات‘ ہیں،ریکھا کی منیجر فرزانہ اداکارہ کی زندگی میں ایک خاص مقام رکھتی ہیں فرزانہ کو اکثر ریکھا کے سائے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، وہ اس کے ساتھ رہتی ہیں،بالخصوص اداکارہ جب خاص حالت میں خاص مواقعوں پر مخصوص لباس میں زندگی کا لطف اٹھا رہی ہوتی ہیں تو مینیجر اُن کے ساتھ ہی ہوتی ہیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق فرزانہ کے والد پروڈکشن کنٹرولر تھے اور وہ خود ہدایت کار بننے کی خواہش مند بھی تھیں ایک سیٹ پر اُن کی ریکھا سے ملاقات ہوئی جس کے بعد اداکارہ نے اُن کی خدمات حاصل کی اور 30 سال سے زائد عرصہ ہونے کے باوجود فرزانہ آج بھی ریکھا کے ساتھ کام کررہی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ایک موقع پر فرزانہ کی والدہ بیمار ہوئیں تو وہ دن میں اُن کی تیمارداری کرتی مگر رات ریکھا کے ساتھ ہی گزارتی تھیں فرزانہ کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ریکھا سے بہت زیادہ متاثر ہیں اور اپنی زندگی کو اُن کے لیے وقف کرچکی ہیں۔

  • آئی فون اور  اینڈرائیڈ صارفین ٹیکسٹ میسجز  نہ بھیجیں،ایف بی آئی کاا نتباہ جاری

    آئی فون اور اینڈرائیڈ صارفین ٹیکسٹ میسجز نہ بھیجیں،ایف بی آئی کاا نتباہ جاری

    امریکی ایجنسی ایف بی آئی نے آئی فون اور اینڈرائیڈ صارفین کو ڈیوائسز سے میسیجز بھیجنے سے گریز کا مشورہ دیا ہے،ایف بی آئی کی یہ وارننگ سالٹ ٹائفون ہیکرز کے حملوں کے بڑھتے خدشات کے بعد سامنے آئی ہے ۔

    باغی ٹی وی : امریکی جریدے فوربز کی ایک رپورٹ کے مطابق ایف بی آئی نے سائبر خدشات کو بھانپتے ہوئےامریکیوں کو انتباہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہےکہ صارفین روایتی ٹیکسٹنگ کے بجائے انکرپٹڈ میسیجنگ ایپس مثلاً واٹس ایپ، سگنل یا فیس بک میسینجر کا استعمال کریں، خاص طور پر جب مختلف پلیٹ فارمز مثلاً آئی فون سے اینڈرائیڈ کے درمیان ٹیکسنگ ہورہی ہو۔

    ایف بی آئی نے کہا ہے کہ اینڈرائیڈ سے اینڈرائیڈ یا آئی فون سے آئی فون پر میسیجنگ محفوظ ہے لیکن ان دونوں ڈیوائسز کی ایک دو سرے کو بھیجی جانیوالی ٹیکسٹنگ محفوظ نہیں، ایسے میسیجز مکمل اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن سے محروم ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ میسیج ہیکرز کا آسان ہدف بن جاتے ہیں،انکرپشن کو ’ ذمہ داری کے ساتھ منظم‘ کیا جانا چاہیے جس کیلئے ایپل، گوگل اور میٹا کی کمپنیزکو عدالتی احکامات کے تحت صارف کے ڈیٹا تک رسائی فراہم کرنے کی اجازت دی جائے۔

    ڈائریکٹر ایف بی آئی نے دہشتگردوں اور ہیکرز کے خفیہ پلیٹ فارم کے استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے پرائیویسی اور پبلک سیفٹی کو بیلنس کرنے کیلئے درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالی،انہوں نے صارفین کو مشورہ دیا کہ وہ چوکنا رہتے ہوئے محفوظ پیغام رسانی کے ذرائع انکرپٹڈ میسیجنگ کو ترجیح دیں۔

  • دہلی میں فضائی آلودگی،بچے بیمار،شہری دہلی چھوڑنے لگے

    دہلی میں فضائی آلودگی،بچے بیمار،شہری دہلی چھوڑنے لگے

    بھارتی دارالحکومت دہلی میں فضائی آلودگی میں مسلسل اضافے کی وجہ سے والدین کو ایک مشکل فیصلہ درپیش ہے: یہاں رہنا یا کہیں اور جانا ہے

    45 سالہ امریتہ روشہ ان والدین میں شامل ہیں جو اپنے بچوں کے ساتھ دہلی چھوڑنے کا فیصلہ کر رہی ہیں۔ ان کے دونوں بچے — 4 سالہ ونا یا اور 9 سالہ ابھیراج — سانس کی تکالیف میں مبتلا ہیں اور انہیں دوا کی ضرورت ہے۔”ہمارے پاس دہلی چھوڑنے کے سوا کوئی اور آپشن نہیں تھا،” امریتہ نے سی این این کو بتایا، جب وہ دہلی کے جنوبی علاقے میں اپنے گھر میں آخری لمحوں کی پیکنگ کر رہی تھیں۔ وہ اپنے خاندان کے ساتھ عمان جا رہی ہیں، جہاں انکے شوہر شوہر ملازمت کی وجہ سےمقیم ہیں۔

    ہر سال، دہلی میں سردیوں کے آغاز کے ساتھ ایک دھند یا اسموگ کا غبار شہر کو گھیر لیتا ہے، جو دن کو رات میں تبدیل کر دیتا ہے اور لاکھوں افراد کی زندگیوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس آلودہ ہوا سے بچے، خاص طور پر وہ جو کمزور مدافعتی نظام کے حامل ہیں، سانس کی مشکلات میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔

    امریتہ اپنے بچوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرتی ہیں، وہ دہلی سے باہر جا کر آلودہ ہوا سے بچنے کی کوشش کرتی ہیں۔

    دہلی کے ایک غریب علاقے میں، مسکان اپنے بچوں کے نیبلائزر کے لئے دوائی کے آخری قطرے دیکھ کر پریشان ہیں۔ نیبلائزر ایک ایسا آلہ ہے جو مائع دوا کو دھواں کی صورت میں تبدیل کر کے ماسک یا ماؤتھ پیس کے ذریعے سانس میں لیا جاتا ہے۔مسکان کا کہنا ہے، "ہم اپنے بچوں کو دوا کا نصف حصہ دیتے ہیں کیونکہ ہمیں اور دوائی خریدنے کا پیسہ نہیں ہے۔” ان کے دونوں بچے، چاہت (3 سال) اور دیا (1 سال) بچپن سے ہی نیبلائزر پر ہیں، کیونکہ دونوں کی سانس لینے میں مشکلات پیدا ہو گئی تھیں۔مسکان نے یہ نیبلائزر 9 ڈالر میں خریدا تھا، جو اس نے سڑکوں پر کچرا اکٹھا کرنے اور محنت کر کے کمائے تھے۔ ان کے شوہر ایک دن کے مزدور ہیں۔”جب وہ کھانستے ہیں تو مجھے ڈر لگتا ہے کہ میرے بچے مر نہ جائیں۔ میں پریشان رہتی ہوں اور ہر وقت فکر میں ڈوبی رہتی ہوں کہ کہیں کچھ برا نہ ہو جائے،” مسکان نے کہا۔

    دہلی کے بچوں کی تکالیف سال بہ سال بڑھتی جا رہی ہیں۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ آتِشی نے کہا، "بچوں کو سانس لینے کے لئے سٹیرائڈز اور انہیلرز پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے… پورا شمالی بھارت ایک طبی ایمرجنسی کی حالت میں ہے۔”بھارتی سپریم کورٹ نے آلودگی کو کم کرنے کے لئے اقدامات کی نگرانی شروع کر دی ہے، جو عموماً گاڑیوں کے دھویں، فصلوں کی جلاوٹ اور تعمیراتی کام کی وجہ سے ہوتی ہے، ساتھ ہی موسم اور موسمی حالات بھی اس میں کردار ادا کرتے ہیں۔ان اقدامات میں گاڑیوں پر پابندی، تعمیراتی کام پر روک، اور سڑکوں پر پانی چھڑکنا شامل ہیں۔ حکام نے عوامی نقل و حمل میں اضافہ کیا ہے اور فصلوں کی جلاوٹ پر سخت کارروائی کی ہے۔

    رینبو چلڈرن ہسپتال میں پیڈیاٹرک انٹینسیو کیئر یونٹ کے ڈاکٹر منجندر سنگھ رندھاؤا نے کہا کہ اس سال وہ پہلی بار بچوں میں آسمہ کی بیماری کی علامات شدید حالت میں دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق، طویل مدت میں آلودگی سانس، مدافعتی نظام اور قلبی نظام پر سنگین اثرات مرتب کر سکتی ہے۔سی این این نے بھارتی حکومت سے اس پر تبصرے کے لیے رابطہ کیا ہے، لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا۔

    پچھلے ماہ دہلی کے کچھ حصوں میں فضائی آلودگی کی سطح 1,750 تک پہنچ گئی تھی، جو عالمی سطح پر صحت کے لئے انتہائی خطرناک مانی جاتی ہے۔ انڈیکس پر 300 سے زیادہ کی کوئی بھی سطح صحت کے لئے نقصان دہ سمجھی جاتی ہے۔اس دوران، PM 2.5 ذرات، جو ہوا میں انتہائی باریک ذرات ہوتے ہیں اور پھیپھڑوں میں گہرائی تک پہنچ سکتے ہیں، کی سطح عالمی ادارہ صحت کی مقرر کردہ حدوں سے 70 گنا تک تجاوز کر گئی تھی۔ ان ذرات کا سانس میں آنا بچوں میں دماغی صلاحیتوں پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

    کچھ والدین، جیسے دیپتی رامداس، اپنے بچوں کی صحت کو ترجیح دیتے ہوئے دہلی چھوڑ چکے ہیں۔ جب ان کے بیٹے رودرا کی پیدائش ہوئی، تو انھوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ دہلی چھوڑنا پڑے گا۔ لیکن جب رودرا کو جنوری 2022 میں پیڈیاٹرک انٹینسیو کیئر یونٹ میں داخل کرایا گیا، تو ڈاکٹروں نے کہا کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بیٹے کے پھیپھڑے بہتر طور پر ترقی کریں تو دہلی چھوڑنا ضروری ہے۔دیپتی نے اپنے خاندان کے ساتھ جنوبی بھارت کے ریاست کیرالہ کا رخ کیا۔ "یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا۔ مجھے اپنی پسندیدہ نوکری چھوڑنی پڑی اور میرا شوہر دہلی میں کام کے لئے رہ گیا، جس کی وجہ سے ہمارا رشتہ طویل فاصلے کا بن گیا۔”لیکن دیپتی کو سکون اس بات کا ہے کہ کیرالہ میں رودرا کو کبھی سانس لینے میں تکلیف نہیں ہوئی۔ وہ دسمبر کے پہلے ہفتے میں دہلی اپنے والد سے ملنے آئی تھیں، لیکن چند دنوں میں ہی رودرا کی حالت پھر خراب ہو گئی اور اسے نیبلائزر کی ضرورت پیش آئی۔”اسے اس حالت میں دیکھنا دل پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے،” دیپتی نے کہا۔

    دہلی میں فضائی آلودگی کا مسئلہ سال بہ سال سنگین تر ہوتا جا رہا ہے، اور اس کا اثر بچوں کی صحت پر براہ راست پڑ رہا ہے۔ جہاں ایک طرف امیر خاندان دہلی چھوڑنے کا آپشن رکھتے ہیں، وہیں غریب لوگ اس مسئلے کا سامنا کرتے ہیں اور اپنے بچوں کی صحت کے بارے میں مسلسل فکر مند رہتے ہیں۔

  • اسرائیل نے شام کے بلندترین پہاڑوں پر قبضہ کیوں کیا

    اسرائیل نے شام کے بلندترین پہاڑوں پر قبضہ کیوں کیا

    اسرائیل نے بشار الاسد کی حکومت کے گرنے کے چند گھنٹے بعد ہی شام کے تمام فوجی اثاثوں کو نشانہ بنانے کا آغاز کر دیا تھا، تاکہ وہ ان اثاثوں کو باغیوں کے ہاتھوں میں آنے سے بچا سکے۔

    اسرائیل کی فوج نے شام میں تقریباً 500 مقامات پر بمباری کی، شام کی بحریہ کو تباہ کیا اور اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے شام کی معروف سطح سے ہوا میں مار کرنے والی میزائلوں کا 90 فیصد حصہ تباہ کر دیا۔ لیکن اسرائیل کا سب سے اہم اور دیرپا اقدام شام کے بلند ترین پہاڑ، جبل حرمون کی چوٹی پر قبضہ کرنا ہو سکتا ہے، حالانکہ اسرائیلی حکام نے یہ موقف اپنایا ہے کہ اس کا قبضہ عارضی ہے۔ اسرائیلی دفاعی ماہر ایفرایم انبار، جو یروشلم انسٹیٹیوٹ فار اسٹرٹیجی اینڈ سیکیورٹی کے ڈائریکٹر ہیں، کا کہنا ہے کہ جبل حرمون علاقے کا سب سے بلند مقام ہے، جو لبنان، شام اور اسرائیل پر نظر رکھتا ہے۔ انبار نے کہا، "یہ اسٹریٹجک طور پر انتہائی اہم ہے۔ پہاڑوں کا کوئی متبادل نہیں ہوتا۔”

    جبل حرمون کی چوٹی شام میں واقع ہے اور یہ ایک بفر زون میں آتا تھا، جو اسرائیلی اور شامی افواج کے درمیان 50 سال تک تقسیم کا باعث رہا۔ تاہم، پچھلے اتوار تک یہ بفر زون غیر فوجی تھا اور اس کی نگرانی اقوام متحدہ کے امن فوجیوں کے ذریعے کی جاتی تھی، جو دنیا کی سب سے بلند مستقل نگرانی کے مقام پر تعینات تھے۔

    اسرائیلی وزیر دفاع، اسرائیل نے جمعہ کے روز فوج کو حکم دیا کہ وہ موسم سرما کی سختیوں کے لیے تیاری کریں۔ انہوں نے کہا، "شام کی صورت حال کے پیش نظر جبل حرمون کی چوٹی پر ہمارے کنٹرول کو برقرار رکھنا ہماری سیکیورٹی کے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے۔” اسرائیلی فوج جبل حرمون کی چوٹی سے آگے بھی پیش قدمی کر چکی ہے اور بقااسم تک پہنچ چکی ہے، جو دمشق سے تقریباً 25 کلومیٹر (15.5 میل) دور ہے، تاہم یہ دعویٰ وائس آف دی کیپیٹل، ایک شامی کارکن گروپ کی طرف سے کیا گیا ہے۔ سی این این نے اس دعویٰ کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس ہفتے اس بات کی تردید کی کہ اسرائیلی افواج "دمشق کی طرف بڑھ رہی ہیں۔”

    اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں گولان کی بلندیوں پر قبضہ کیا تھا، جو جبل حرمون کے جنوب مغرب میں واقع ہے اور تب سے اس پر قابض ہے۔ شام نے 1973 کی جنگ میں اس علاقے کو واپس لینے کی کوشش کی تھی، لیکن وہ ناکام ہو گیا۔ اسرائیل نے 1981 میں گولان کو اپنی سرزمین میں ضم کر لیا، حالانکہ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ قبضہ غیر قانونی ہے، لیکن ٹرمپ انتظامیہ کے دوران امریکہ نے گولان پر اسرائیل کے دعوے کو تسلیم کیا۔

    اسرائیل نے دہائیوں تک جبل حرمون کے نچلے ڈھلوانوں کو اپنے قبضے میں رکھا ہے اور یہاں ایک اسکی ریزورٹ بھی قائم کیا ہے، تاہم چوٹی ہمیشہ شام کے اختیار میں رہی تھی۔

    اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل شام کے داخلی معاملات میں مداخلت کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ "ہم اپنی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائیں گے۔”

    جبل حرمون کی چوٹی اسرائیل کے لیے ایک زبردست اثاثہ ہے۔ یہ 2814 میٹر (9232 فٹ) بلند ہے اور یہ نہ صرف اسرائیل یا شام کا سب سے بلند مقام ہے بلکہ لبنان کے ایک پہاڑ سے بھی اونچا ہے۔

    ایفرایم انبار نے 2011 میں ایک تحقیقی مقالہ شائع کیا تھا جس میں جبل حرمون کی کئی اہمیتوں پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ پہاڑ اسرائیل کو شام کی گہرائیوں میں الیکٹرانک نگرانی کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے، جو کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں اسرائیل کو بروقت خبردار کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ اس طرح کے جدید ٹیکنالوجی والے متبادل جیسے فضائی نگرانی کے آلات، پہاڑ پر نصب تنصیبات کی مانند مؤثر نہیں ہو سکتے کیونکہ ان میں بڑے اینٹینا نصب نہیں کیے جا سکتے اور یہ دشمن کی زمین سے مار کرنے والی میزائلوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

    اسرائیل کا موقف اور شام کی مستقبل کی صورتحال

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل شام کے نئے حکومت کے ساتھ تعاون کے لیے "ہاتھ بڑھا رہا ہے”۔ لیکن 7 اکتوبر کے بعد کے عالمی منظر نامے میں اسرائیل کے قومی سلامتی کے ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کسی بھی قسم کے خطرات کو نظرانداز نہیں کرے گا۔ریٹائرڈ بریگیڈیئر جنرل اسرائیل زیو نے کہا، "یہ زیادہ تر ہمارے لیے تسلی کی بات ہے۔ ہم نے دیگر ممالک میں دیکھا ہے کہ جب دہشت گرد تنظیمیں فوجی سازوسامان پر قابض ہو جاتی ہیں تو اس کے کیا نتائج نکلتے ہیں۔”نیتن یاہو نے کہا کہ جبل حرمون پر اسرائیل کا قبضہ عارضی ہے اور اسرائیل کبھی بھی جہادی گروپوں کو اس خلا کو پُر کرنے اور گولان کی بلندیوں پر اسرائیلی کمیونٹیز کو 7 اکتوبر جیسے حملوں کا سامنا کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں ایسا کوئی فوجی دستہ قائم ہونا ضروری ہے جو 1974 کے معاہدے پر عمل پیرا ہو اور جو سرحدی سیکیورٹی کو یقینی بنائے۔اب یہ سوال باقی ہے کہ اسرائیل کب اس علاقے سے پیچھے ہٹے گا۔ ایفرایم انبار کے مطابق، "یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے۔ فوج وہاں رہنا پسند کرے گی۔”

    سول نافرمانی تحریک مؤخر کریں، محمود اچکزئی کی پی ٹی آئی سے اپیل

    جون ایلیاء کی 93 ویں سالگرہ: اردو ادب کا بے مثال شاعر