Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • شادیوں کا شوقین،9 برسوں میں 20 شادیاں کرنیوالا گرفتار

    شادیوں کا شوقین،9 برسوں میں 20 شادیاں کرنیوالا گرفتار

    مہاراشٹر کی پولیس نے ایک 43 سالہ شخص کو گرفتار کیا ہے، جو خواتین کو شادی کے جھانسے میں مبتلا کرکے ان سے پیسے اور قیمتی سامان لوٹ لیتا تھا۔ ملزم کی شناخت فیروز نیاز شیخ کے طور پر ہوئی ہے، جو 2015 سے اب تک مختلف ریاستوں میں 20 سے زائد خواتین کو اپنا شکار بنا چکا تھا۔

    پالگھر ضلع کی پولیس کے مطابق، فیروز نیاز شیخ کا شوق شادیاں کرنا تھا، لیکن اس کی اولین ترجیح طلاق شدہ اور بیوہ خواتین تھیں۔ شیخ نے اپنی عمر 43 سال ہونے کے باوجود خود کو کبھی کنوارہ اور کبھی طلاق یافتہ ظاہر کرکے خواتین کو اپنی جال میں پھنسایا۔ اس نے میٹرومنئیل ویب سائٹس پر اشتہارات دئیے اور اس کے ذریعے خواتین سے ابتدائی رابطہ قائم کیا۔ بعد ازاں، وہ ان سے مسلسل رابطے میں رہتا اور انہیں اپنے جھانسے میں مبتلا کر لیتا۔پولیس کے مطابق، متاثرہ خواتین نے بتایا کہ فیروز کی باتوں میں ایسا سحر تھا کہ کوئی بھی خاتون اس سے بچ نہیں سکتی تھی۔ ایک مرتبہ جب وہ کسی خاتون سے بات کرتا تو وہ اس کے جال میں پھنس جاتی اور اپنا سب کچھ لٹا دیتی تھی۔ ملزم شادی کے بعد اپنی ذاتی مشکلات اور مالی پریشانیوں کا رونا روتا اور خواتین سے پیسے، زیورات اور قیمتی سامان لے لیتا تھا۔

    پولیس نے بتایا کہ ملزم کی گرفتاری نالا سوپارہ کی ایک خاتون کی شکایت کے بعد عمل میں آئی۔ اس خاتون کا کہنا تھا کہ شیخ نے ویب سائٹ پر دوستی کے بعد اسے شادی کی پیشکش کی، اور کچھ دن تک سب کچھ ٹھیک رہا۔ بعد ازاں، شیخ نے اس سے نقدی، ایک لیپ ٹاپ، اور دیگر قیمتی سامان لے لیا۔ اکتوبر اور نومبر میں اس خاتون سے مزید 6.5 لاکھ روپے لے لیے گئے۔ جب خاتون نے پولیس میں شکایت درج کرائی تو تفتیش کے دوران ملزم سے ایک لیپ ٹاپ، موبائل فون، ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز، چیک بک اور کچھ زیورات برآمد ہوئے۔

    پولیس کے سینئر انسپکٹر وجے سنگھ بھاگل کے مطابق، تفتیش سے یہ بات سامنے آئی کہ فیروز نیاز شیخ نے طلاق یافتہ اور بیواؤں کو نشانہ بنایا اور ان سے شادی کے بعد ان کا قیمتی سامان لوٹ لیا۔ اس نے مہاراشٹر کے علاوہ مدھیہ پردیش، اتر پردیش، دہلی اور گجرات سمیت ملک کے مختلف حصوں میں خواتین کو دھوکہ دیا۔پالگھر پولیس نے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور فیروز نیاز شیخ کی مزید وارداتوں کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس کے دیگر متاثرین کو تلاش کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ اس کے جرائم کا مکمل سراغ لگایا جا سکے۔

    پولیس نے خواتین کو متنبہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی شخص سے ملاقات کرنے سے پہلے اس کی مکمل تصدیق کرلیں اور کسی بھی غیر ضروری تعلقات میں نہ پھنسیں۔

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • لندن،قاضی فائز عیسیٰ کی گاڑی پر حملے کی تحقیقات بند

    لندن،قاضی فائز عیسیٰ کی گاڑی پر حملے کی تحقیقات بند

    لندن: لندن پولیس نے پاکستان کے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی گاڑی پر مبینہ حملے کے کیس کی تحقیقات بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حملے کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب قاضی فائز عیسیٰ مڈل ٹیمپل میں ہونے والی ایک تقریب میں شرکت کے لیے پہنچے تھے، جس دوران پی ٹی آئی کارکنوں نے احتجاج کیا تھا۔

    پاکستانی ہائی کمیشن نے اس حملے کے حوالے سے پولیس کو شکایت درج کرائی تھی اور دفتر خارجہ نے ہائی کمیشن کو ہدایت کی تھی کہ وہ واقعے کی فوٹیج کا جائزہ لے کر ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔ پاکستان ہائی کمیشن نے تمام دستیاب شواہد پولیس کے حوالے کیے تھے، لیکن پولیس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ چونکہ حملے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا اور کوئی اور نقصان بھی نہیں پہنچا، اس لیے وہ کسی پر فرد جرم عائد نہیں کر سکتی۔پولیس نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف مزید تحقیقات یا قانونی کارروائی کی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستانی حکومت نے 23 مبینہ ملزمان کے پاسپورٹ منسوخ کر دیے اور ان کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیے تاکہ ان افراد کو ملک سے باہر جانے سے روکا جا سکے۔

    یہ واقعہ مڈل ٹیمپل میں ایک بینچر تقریب کے دوران پیش آیا، جس میں پی ٹی آئی کے اہم رہنما اور کارکنوں نے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف نعرے بازی کی اور ان کی گاڑی پر حملہ کیا۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں، جن میں ملیکہ بخاری، ذلفی بخاری، اور اظہر مشوانی شامل تھے، نے اس احتجاجی مظاہرے میں خطاب کیا تھا۔

    لندن،قاضی فائز عیسیٰ پر حملہ کرنیوالوں کے نام پی سی ایل میں ڈال دیئے گئے

  • شامی باغیوں نے ایک اور اہم شہر حما پر بھی قبضہ کرلیا

    شامی باغیوں نے ایک اور اہم شہر حما پر بھی قبضہ کرلیا

    شام میں حکومتی فورسز کے ساتھ جاری لڑائی میں باغی جنگجوؤں نے ایک اور اہم شہر حما پر بھی قبضہ کرلیا ۔

    باغی ٹی وی : روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق شام کی فوج نے بتایا کہ شدید لڑائی کے بعد شہریوں کی حفاظت اور شہر میں لڑائی سے بچنے کے لیے شہر کے باہر مزید فوج تعینات کی جارہی ہے۔

    دوسری جانب باغیوں کا کہنا ہے کہ وہ جنوب میں حمص کی جانب پیش قدمی کی تیاری کر رہے ہیں، جو شام کے دارالحکومت دمشق کو شمال اور ساحلی علاقے سے جوڑنے کا اہم شہر ہے،شام کے باغیوں نے آن لائن پوسٹ میں پیغام دیا کہ آپ کا وقت آچکا ہے اور کہا کہ شہر کے باسی انقلاب کے لیے اٹھ کھڑے ہوگئے ہیں۔

    انسانی حقوق کی تنظیم شامی آبزرویٹری نے بھی باغیوں کی جانب سے حماہ شہر کےگورنرہاؤس پر قبضے کا دعویٰ کیا تھا شامی آبزرویٹری نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ حکومت مخالف باغیوں نے حماہ سینٹرل جیل سے تمام قیدیوں کورہا کردیا ہے، تاہم شام کی مسلح افواج نے باغیوں کے حماہ گورنریٹ پرقبضےکی تصدیق نہیں کی ہے۔

    خبررساں ایجنسی کے مطابق حماہ پر قبضے کے بعد باغی حمص شہر پر قبضہ کرسکتے ہیں جس کے نیتجے میں دارالحکومت دمشق کا ساحلی علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہوجائے گا جہاں روسی فوج کا بحری اور فضائی اڈہ موجود ہے۔

    واضح رہے کہ شامی باغیوں نے گزشتہ دنوں ملک کے دوسرے بڑے شہر حلب پر بھی قبضہ کرلیا تھا،حلب کے بعد حما جیسے اہم شہر سے قبضہ چلا جانا شام کے صدر بشارالاسد کے لیے بڑا دھچکا ہے اور باغیوں کی جنوب کی طرف تیزی سے پیش قدمی جاری رکھنے کے خدشات ہیں۔

  • تیسرا ٹی ٹوئنٹی:زمبابوے کی پاکستان کو شکست،   پاکستان نے سیریز 1-2 سے جیت لی

    تیسرا ٹی ٹوئنٹی:زمبابوے کی پاکستان کو شکست، پاکستان نے سیریز 1-2 سے جیت لی

    بلاوائیو :زمبابوے نے ٹی ٹوئنٹی سیریز کے تیسرے اور آخری میچ میں پاکستان کو 2 وکٹوں سے شکست دے دی-

    باغی ٹی وی : پاکستان نے میزبان ٹیم کے خلاف 1-2 سے سیریز اپنے نام کر لی،بلاوائیو میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیاپاکستان ٹیم نے مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 132 رنز بنائے، کپتان سلمان آغا 32، طیب طاہر 21 ، قاسم اکرم 20 رنز بناکر نمایاں رہے عثمان خان 5 ، صاحبزادہ فرحان 4 ، عمیر بن یوسف صفر پر آؤٹ ہوئے جبکہ عباس آفریدی نے 15 رنز بنائےعرفات منہاس 22 اور جہانداد خان 6 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے ، زمبا بو ے کی جانب سے بلیسنگ مزرابانی نے 2 جبکہ رائن برل، ویلنگٹن ماساکاڈزا، رچرڈ نگاروا اور ٹینوٹینڈا میپوسا نے 1، 1 وکٹ حاصل کی۔

    میزبان زمبابوے نے پاکستان کا 133 رنز کا ہدف آخری اوور میں 8 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کیا برائن بیننٹ 43، مارومانی 15، سکندر رضا 19 اور میئرز نے 13 رنز بنائے، آخری اوور میں ماپوسا 4 گیندوں پر 12 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے اور اپنی ٹیم کو پاکستان کے خلاف آخری ٹی ٹوئنٹی میں کامیابی دلوادی، پاکستان کی جانب سے عباس آفریدی نے 3، جہاندان خان نے2 ،سلمان علی اور سفیان نے ایک، ایک وکٹ لی۔

  • دنیا "تیسرے جوہری دور” میں داخل ہو چکی ہے،برطانوی فوج کے سربراہ

    دنیا "تیسرے جوہری دور” میں داخل ہو چکی ہے،برطانوی فوج کے سربراہ

    لندن: برطانیہ کے چیف آف دی ڈیفنس سٹاف ایڈمرل سر ٹونی ریڈاکن نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن تیسری عالمی جنگ میں "مغلوب” ہوں گے اور شکست کا سامنا کریں گے۔

    باغی ٹی وی : ڈیلی سٹار کے مطابق برطانیہ کے چیف آف دی ڈیفنس سٹاف ایڈمرل سر ٹونی ریڈاکن نے روسی انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز کانفرنس میں کہا کہ برطانیہ اور روس کے درمیان کسی بڑے تصادم کے امکانات "انتہائی کم” ہیں اور روس جانتا ہے کہ برطانیہ کا ردعمل روایتی یا جوہری، ہر لحاظ سے زبردست ہوگا۔

    برطانیہ کے فوجی سربراہ سر ٹونی نے یہ بھی کہا کہ دنیا "تیسرے جوہری دور” میں داخل ہو چکی ہے، جہاں ماسکو "غیر منطقی دھمکیاں” دے رہا ہے، چین اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کو بڑھا رہا ہے، ایران جوہری بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے، اور شمالی کوریا اپنے غیر متوقع میزائل پروگرام کو بہتر بنا رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ روس کی جانب سے برطانیہ پر کسی بڑے حملے یا جارحیت کے امکانات انتہائی کم ہیں، اور نیٹو کے لیے بھی یہی صورتحال ہے، روس جانتا ہے کہ ردعمل زبردست ہوگا، چاہے وہ روایتی ہو یا جوہری نیٹو کی حکمت عملی کام کر رہی ہے اور اسے مضبوط رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ روس کے خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔

    سر ٹونی کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب برطانوی وزیرِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ اگر برطانوی فوج کسی بڑے تنازع میں ملوث ہوئی تو چھ ماہ کے اندر شدید کمزوری کا شکار ہو سکتی ہے ایلسٹر کارنز نے کہا کہ اگر برطانوی فوج یوکرین پر روسی حملے جیسی شرح سے جانی نقصان اٹھائے، تو یہ چھ سے 12 ماہ کے اندر ختم ہو سکتی ہے۔

  • 57 سالہ خاتون طیارے میں چھپ کر نیویارک سے پیرس پہنچ گئی

    57 سالہ خاتون طیارے میں چھپ کر نیویارک سے پیرس پہنچ گئی

    پیرس،خاتون نیویارک سے طیارے میں چھپ کر سوار ہو کر پیرس پہنچ گئی،تاہم امریکی حکام کے مطابق خاتون کو واپس بھیجا جائے گا

    فرانس کے حکام نے خاتون کو منگل کے روز واپس بھیجنے کی کوشش کی تھی، لیکن چارلس ڈی گال ایئرپورٹ پر ایک حکام نے سی این این کو بتایا کہ ایئرلائن نے اسے واپس جانے والی پرواز میں سوار کرنے سے انکار کر دیا تھا۔یہ پہلی بار نہیں تھا کہ 57 سالہ روسی شہری اور امریکی گرین کارڈ ہولڈر کو امریکہ واپس بھیجنے کی کوشش کی گئی تھی۔

    پیرس میں ہفتے کے روز ایک ویڈیو میں خاتون کو پرواز کے روانہ ہونے سے پہلے ہنگامہ کرتے ہوئے دکھایا گیا، جس کے بعد اُسے نیو یارک جانے والی پرواز سے بھی اُتار دیا گیا تھا۔ اس ویڈیو میں ایک مسافر، گیری ٹریچلر نے بتایا کہ خاتون مسلسل غصے میں آ رہی تھیں اور ان کی آواز تیز ہوتی جا رہی تھی۔ آخرکار، تین افراد نے خاتون کو قابو کیا اور اُنہیں ہینڈ کفلز اور پیلے رنگ کی ٹوسٹ ٹائیز کے ساتھ باندھ دیا۔

    ڈیلٹا ایئرلائن نے اس معاملے پر کوئی واضح بیان نہیں دیا اور نہ ہی اس بات کی وضاحت کی کہ اُسے منگل کی پرواز سے اُتارنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا۔ تاہم ایئرلائن کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ "ڈیلٹا اس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہا ہے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ کیا ہوا تھا۔”

    ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن نے کہا کہ خاتون نے پرواز کے لئے سیکیورٹی چیکنگ سے بچ کر طیارے میں چھپنے کی کوشش کی۔ اُس نے بورڈنگ پاس چیک کرنے والے افسران کو دھوکہ دے دیا تھا۔ اگرچہ اس کے سامان کی اسکیننگ کی گئی تھی، لیکن وہ گیٹ پر شناختی تصدیق سے بچ نکلی۔ایک ذریعے کے مطابق، خاتون کا پرواز کے دوران اس لیے سراغ نہیں لگایا کیونکہ طیارہ مکمل طور پر بھرا نہیں تھا۔ کچھ مسافروں نے بتایا کہ خاتون نے باتھ رومز کے درمیان چھپ کر اپنے آپ کو پوشیدہ رکھا تھا۔

  • آسٹریلیا میں "قرطبہ ہومز” کے نام پر پاکستانی کا 200 ملین ڈالر کا فراڈ

    آسٹریلیا میں "قرطبہ ہومز” کے نام پر پاکستانی کا 200 ملین ڈالر کا فراڈ

    آسٹریلیا میں قرطبہ ہومز کے نام پر پاکستانی نے 100 سے زائد شہریوں سے فراڈ کر لیا

    قرطبہ ہومز،کے نام پر پاکستانی شہری نے آسٹریلیا میں شہریوں کو لوٹ لیا، متاثرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہزاروں ڈالر ادا کئے لیکن ہمارے ساتھ دھوکہ ہوا، 100 سے زئد شہری پاکستانی کے دھوکے کا شکار ہو گئے،شہریوں کو قرطبہ ہومز کا بتایا گیا اور انہیں کہا گیا کہ قرطبہ ہومز میں انویسمنٹ کریں جس پر شہریوں نے انویسمنٹ کی اور زندگی کی جمع بھر پونجی گنوا بیٹھے،آسٹریلوی شہریوں کے ساتھ 200 ملین ڈالرز کا فراڈ ہو گیا جس کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے،

    "قرطبہ ہومز” جو شریعت کے مطابق گھر خریدنے کی اسکیم فراہم کر رہی تھی، شہریوں سے دھوکہ کر چکی ہے، سینکڑوں خریدار لاکھوں ڈالر کے نقصان سے دوچار ہیں۔اسلامی قوانین کے مطابق قرضوں پر سود لینا منع ہے، اس لیے "قرطبہ ہومز” نے اس مسئلے کا حل نکالتے ہوئے ایک ایسا منصوبہ شروع کیا تھا جس کے تحت افراد آسان قسطوں میں زمین خرید سکتے تھے۔ اس اسکیم کے ذریعے سینکڑوں خاندانوں کو زمین خریدنے کا موقع ملا، جو شریعت کے مطابق سود کے بغیر تھا۔تاہم، اب اطلاعات کے مطابق کمپنی کے مالک فرار ہو چکے ہیں،جس کی وجہ سے شہریوں کے لاکھوں ڈوب چکے، ان میں سے کچھ خریداروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے قسطوں کی مد میں بڑی رقم ادا کی تھی، لیکن کمپنی نےان کی رقم واپس نہیں کی گئی۔

    قرطبہ ہومز کے دیوالیہ ہونے کے بعد، آسٹریلوی سیکیورٹیز اینڈ انویسٹمنٹس کمیشن نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ اس بات کا پتہ چل سکے کہ کمپنی کے بند ہونے کے پیچھے کیا وجوہات تھیں اور خریداروں کے حقوق کا تحفظ کس طرح کیا جا سکتا ہے۔خریداروں کے مطابق، کمپنی نے انہیں وعدہ کیا تھا کہ وہ شریعت کے مطابق زمین کی فروخت کی سہولت فراہم کریں گے، لیکن اب ان کے لئے اپنی سرمایہ کاری کو بچانے کی کوئی راہ نظر نہیں آ رہی۔

    یہ واقعہ ایک اور مثال ہے کہ کیسے مالیاتی اسکیموں اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کے ذریعے عوامی اعتماد کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ صارفین کی شکایات میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ انہیں مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئیں اور نہ ہی ان کے حقوق کا تحفظ کیا گیا۔اب تک کی تحقیقات کے مطابق تحقیقاتی ادارے یہ جاننے میں مصروف ہیں کہ آیا کمپنی نے قانونی اصولوں کی خلاف ورزی کی یا اس کے کاروبار میں کسی قسم کی بدعنوانی ہوئی ہے۔

    خریداروں کی بڑی تعداد اس وقت مالی بدحالی کا شکار ہے۔ کچھ خریداروں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی زندگی بھر کی بچت اس منصوبے میں لگائی تھی، اور اب وہ یہ نہیں سمجھ پا رہے کہ ان کی رقم کہاں گئی۔ایک متاثرہ خریدار نے کہا، "ہم نے جو رقم ادا کی تھی، وہ ہماری زندگی کا سرمایہ تھا، اور اب ہم کچھ نہیں کر پا رہے۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ یہ شریعت کے مطابق ہے، اور اب ہم اس پر بھروسہ کر کے برباد ہو گئے ہیں۔”

    آسٹریلین پولیس اور مالیاتی اداروں کی تحقیقات کے مطابق، اس گروپ نے شریعت کے مطابق مالیاتی منصوبوں کے ذریعے 200 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری جمع کی۔ تاہم، ان سرمایہ کاریوں کے پیچھے جو کاروباری منصوبے تھے، وہ محض ایک دھوکہ تھا اور ان کی حقیقت کچھ اور ہی تھی۔مقامی ذرائع نے بتایا کہ اس گروپ نے سرمایہ کاروں کو اسلامی مالیاتی اصولوں کے تحت "منافع” کا وعدہ کیا تھا، لیکن حقیقت میں اس نے ان پیسوں کا استعمال اپنے ذاتی مفادات کے لیے کیا۔ گروپ نے چند سرمایہ کاروں کو جعلی دستاویزات فراہم کیں اور بڑی رقم کے عوض انہیں شریعت کے مطابق "انویسٹمنٹ پلانز” میں شامل کرنے کا وعدہ کیا۔

    اس گروپ کے اہم افراد، حالیہ دنوں میں ملک چھوڑ کر لاہور فرار ہو گئے ہیں۔ اس گروپ کا تاثر تھا کہ ان کے کاروبار کا مقصد اسلامی تعلیمات کے مطابق لوگوں کو مالی فوائد پہنچانا ہے، مگر حقیقت میں ان کا مقصد صرف پیسہ جمع کرنا تھا۔

    آسٹریلیا میں پاکستانی کمیونٹی میں اس خبر نے ہلچل مچا دی ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس دھوکہ دہی سے نہ صرف ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے، بلکہ وہ اب شریعت کے مطابق مالیات کے کاروبار کے حوالے سے بھی محتاط ہو گئے ہیں۔آسٹریلیا میں مقیم ایک پاکستانی شہری نے بتایا، "یہ ایک بہت بڑا دھوکہ ہے اور ہمیں اپنے لوگوں کی جانب سے اس طرح کے فراڈ کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنے کاروبار کو قانونی طریقے سے چلانے کی ضرورت ہے تاکہ ہماری کمیونٹی کی ساکھ کو مزید نقصان نہ پہنچے۔”

  • بحریہ ٹاؤن اب دبئی میں

    بحریہ ٹاؤن اب دبئی میں

    پاکستان میں گزشتہ تین دہائیوں تک ایسی جدید اور عالمی معیار کی رہائشی سکیم کا فقدان تھا جو ترقی یافتہ ممالک کے رہائشی معیار کے ہم آہنگ ہو۔ پھر ملک کی معروف رئیل اسٹیٹ کمپنی کے مالک، ملک ریاض کی بدولت ایک نیا معاشرتی تصور ابھرا، جس نے نہ صرف مقامی پاکستانیوں کو جدید سہولتوں والی زندگی فراہم کی بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو اپنے وطن میں سرمایہ کاری کا ایک بہترین موقع بھی دیا۔ بحریہ ٹاؤن نہ صرف پاکستان کا سب سے بڑا اور واحد عالمی معیار کا منصوبہ تھا بلکہ پورے ایشیا میں اس جیسی سکیم کا کوئی دوسرا منصوبہ نہیں تھا۔

    ملک ریاض نے 14 جنوری 1997 کو بحریہ ٹاؤن کا آغاز کیا۔ اس سے پہلے پاکستان اور ایشیا میں کمیونٹی رہائش کا کوئی تصور نہیں تھا۔ ملک ریاض نے پہلی بار اس نوعیت کا رہائشی منصوبہ متعارف کرایا۔ آج تک بحریہ ٹاؤن میں 160,000 سے زائد ملازمین کام کر رہے ہیں، جو خود پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم اثاثہ ہیں۔

    بحریہ ٹاؤن اور ڈی ایچ اے وہ دو سب سے بڑے رہائشی منصوبے ہیں جن میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے سرمایہ کاری کی۔ ان منصوبوں کی کامیابی کا راز ان کی جدید سہولتوں اور ملک ریاض کے ساتھ ہونے والے اعتماد میں تھا۔

    سال 2023 تک، بحریہ ٹاؤن پاکستان کا سب سے مستحکم اور بہترین منصوبہ بن چکا ہے، اور ملک ریاض دبئی میں مقیم ہیں۔ یہ سوال اب پیدا ہو رہا ہے کہ ملک ریاض دبئی میں کیوں ہیں اور وہاں ایک سال سے زائد عرصہ گزار چکے ہیں؟ ذرائع کے مطابق ملک ریاض دبئی میں ایک وسیع رقبہ اراضی خریدچکے ہیں اور وہ دبئی میں بھی بحریہ ٹاؤن لانچ کرنے جا رہے ہیں،بحریہ ٹاؤن پاکستان کی سب سے بڑی رئیل اسٹیٹ کمپنی ہے اور اگر یہ دبئی منتقل ہوتا ہے تو یہ پاکستان کی معیشت اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے کے لیے ایک سنگین نقصان ثابت ہو سکتا ہے۔

    بحریہ ٹاؤن (پرائیویٹ) لمیٹڈ نے دبئی میں ایک بڑا بین الاقوامی منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے،بحریہ ٹاؤن پراپرٹیز اور دبئی ساؤتھ کے درمیان دبئی میں ایک معاہدے پر دستخط ہوئے جس کے تحت دبئی ساؤتھ کے گالف ڈسٹرکٹ میں ایک عظیم الشان تعمیراتی و کمرشل ڈسٹرکٹ تعمیر کیا جائے گا،یہ معاہدہ دبئی ایوی ایشن سٹی کارپوریشن اور دبئی ساؤتھ کے ایگزیکٹو چیئرمین خلیفہ الزفین اور بحریہ ٹاؤن کے سی ای او احمد علی ریاض ملک کے درمیان ہوا، اس موقع پر دبئی ساؤتھ پراپرٹیز کے سی ای او نبیل الکِندی، بحریہ ٹاؤن کے بانی اور چیئرمین ملک ریاض حسین اور دونوں اداروں کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

    دبئی ساؤتھ امارات کا سب سے بڑا ماسٹر پلانڈ شہری منصوبہ ہے، جو ملے جلے استعمال اور رہائشی کمیونٹیز پر مشتمل ہے، یہ علاقہ المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے منسلک ہے جہاں پر دنیا کے سب سے بڑے ائیر پورٹ کی تعمیر جاری ہے،بی ٹی پراپرٹیز کے اس وسیع وعریض عظیم الشان منصوبے میں ولاز، ٹاؤن ہاؤسز، اپارٹمنٹس، تعلیمی سہولیات، اسپتال، کمرشل اسپیس، مساجد، اور تفریحی مقامات شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ اس میں ہریالی، پانی کی نہریں، ایک مرکزی پارک، ڈانسنگ فاؤنٹینز، یادگار تعمیرات، کشادہ شاہراہیں اور دیگر پرکشش خصوصیات شامل ہوں گی، جو ایک مثالی پرسکون و جدید ترین زندگی فراہم کریں گی۔

    معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے دبئی ساؤتھ کے ایگریکیٹیو چئیرمین خلیفہ الزفین نے کہا، “ہم ایشیا کے ایک معتبر ترین ڈویلپر کے ساتھ اس معاہدے پر دستخط کرنے پر بہت خوش ہیں دبئی ساؤتھ مستقبل کا شہر بننے کے لیے تیار ہے، اور اس علاقے میں جائیدادوں کی بڑھتی ہوئی طلب اس کی بے پناہ صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔”

    بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض حسین نے معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب کے دوران کہا، “ دبئی کی تیز رفتار ترقی اور عالمی شہرت کے پیش نظر، یہ پراجیکٹ ہمارے بین الاقوامی توسیعی منصوبوں کے لیے ایک اہم مارکیٹ ہے۔ ہم دبئی ساؤتھ کے ساتھ مل کر ایک ایسا ماسٹر پروجیکٹ لانچ کرنے پر خوش ہیں جو جدید اور ترقی پسند کمیونٹی کے تصور کو زندہ حقیقت میں بدلے گا”

  • بٹ کوائن کی قدر ایک لاکھ ڈالرز سے تجاوز کر گئی

    بٹ کوائن کی قدر ایک لاکھ ڈالرز سے تجاوز کر گئی

    دنیا کی سب سے بڑی ڈیجیٹل کرنسی بٹ کوائن کی قدر نے تاریخ کا ایک نیا سنگ میل عبور کر لیا ہے اور اس کی قیمت پہلی بار ایک لاکھ ڈالرز (تقریباً 2 کروڑ 77 لاکھ پاکستانی روپے) سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس وقت بٹ کوائن کی قیمت ایک لاکھ 2 ہزار ڈالرز (2 کروڑ 85 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد) کے قریب ہے، جو اس کرنسی کی بے پناہ مقبولیت اور سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا غماز ہے۔

    سال 2024 کے آغاز سے اب تک بٹ کوائن کی قیمت میں 140 فیصد سے زیادہ کا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ امریکی صدارتی انتخابات کے بعد سے اس کرنسی کی قیمت میں تقریباً 48 فیصد کا مزید اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافے عالمی مالیاتی منڈیوں میں کرپٹو کرنسیوں کی اہمیت اور ان کے حوالے سے موجود سیاسی اثرات کی وجہ سے ہیں۔بٹ کوائن کی قیمت میں اضافے کی ایک اہم وجہ امریکی سیاست میں آنے والی تبدیلیاں بھی ہیں۔ حالیہ امریکی انتخابات میں دوبارہ صدر منتخب ہونے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے کرپٹو کرنسیوں کے حوالے سے نرم پالیسیوں کا اشارہ دیا ہے۔ ٹرمپ نے پال ایٹکنز کو سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (SEC) کا سربراہ مقرر کیا، جو کرپٹو کرنسیوں کے حوالے سے سخت پابندیوں کو نرم کرنے کے حامی ہیں۔ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ وہ موجودہ SEC کے چیئرمین، گیری گنسلر کو ہٹا کر کرپٹو کرنسیوں کے لیے ایک زیادہ سازگار ماحول پیدا کریں گے۔ ان کے اس اقدام سے بٹ کوائن سمیت دیگر کرپٹو کرنسیوں کی قدر میں مزید اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔

    4 دسمبر 2024 کو امریکی فیڈرل ریزرو کے سربراہ جیروم پاؤل نے بٹ کوائن کو سونے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ بٹ کوائن ایک "ورچوئل یا ڈیجیٹل سونا” ہے۔ انہوں نے ایک کانفرنس کے دوران بتایا کہ اگرچہ لوگ اسے ادائیگیوں کے لیے استعمال نہیں کرتے، مگر یہ سونا کے ساتھ موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ ان کے اس بیان نے بٹ کوائن کی قانونی حیثیت اور سرمایہ کاری کی اہمیت پر مزید روشنی ڈالی۔

    ماہرین کے مطابق، 2024 کے سیاسی اور اقتصادی حالات کی بنا پر بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کی قدر میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے کرپٹو کرنسیوں کے حق میں کی جانے والی پالیسیاں اور اقدامات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مستقبل میں ان کرنسیوں کو مرکزی مالیاتی دھارے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ جو کبھی بٹ کوائن کو فراڈ قرار دیتے تھے، اب اپنی انتخابی مہم کے دوران کرپٹو کرنسیوں کے پرجوش حامی بن چکے ہیں۔ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکہ کو "دنیا کا کرپٹو دارالحکومت” بنائیں گے، اور یہ بھی کہا کہ امریکی حکومت کرپٹو کرنسیوں کے لیے ایک نیشنل اسٹرٹیجک بٹ کوائن ریزرو قائم کرے گی۔اس کے علاوہ، ٹرمپ نے کرپٹو کرنسیوں کی ٹرانزیکشنز کو ٹیکس فری قرار دینے کا بھی امکان ظاہر کیا ہے، جو ان کرنسیوں کی مزید مقبولیت میں اضافے کا باعث بنے گا۔

    بٹ کوائن کا آغاز اور اس کی موجودہ حیثیت
    بٹ کوائن کو 2008 میں ایک گمنام فرد، ساتوشی ناکاamoto نے متعارف کرایا تھا، اور اس کا مقصد ایک ایسا مالیاتی نظام فراہم کرنا تھا جو حکومتی اور بینکوں کے کنٹرول سے آزاد ہو۔ آج بٹ کوائن نہ صرف دنیا بھر میں سرمایہ کاری کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے، بلکہ اس کی مقبولیت اور اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔دنیا کے مختلف ممالک میں بٹ کوائن کے حوالے سے قوانین میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں، اور کرپٹو کرنسیوں کے مستقبل کے بارے میں مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ تاہم، یہ واضح ہے کہ بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کا مستقبل روشن نظر آ رہا ہے اور ان کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

  • عالمی درجہ بندی،بھارتی انڈیگو بدترین ایئر لائنز میں شامل

    عالمی درجہ بندی،بھارتی انڈیگو بدترین ایئر لائنز میں شامل

    انڈیگو کو عالمی درجہ بندی میں دنیا کی سب سے کم کارکردگی والی ایئرلائنز میں شامل کیا گیاہے

    ایئرہیل انکارپوریشن، جو پروازوں میں خلل اور کھوئے ہوئے سامان کے حوالے سے مسافروں کے دعووں کو پراسیس کرکے معاوضہ فراہم کرتی ہے، نے اپنی سالانہ رپورٹ شائع کی ہے جس میں دنیا بھر کی ایئرلائنز کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ، جسے ایئرہیل اسکور 2024 کہا جاتا ہے، منگل کے روز شائع کی گئی اور یہ تعطیلات کے موسم کے لیے وقت پر سامنے آئی ہے۔

    ایئرہیل کی ایئرلائن رینکنگ کی حکمت عملی میں عالمی سطح پر کیے گئے صارفین کے دعووں کو مدنظر رکھا گیا ہے، ساتھ ہی ہر طیارے کی بروقت آمد و روانگی کی کارکردگی اور 54 سے زائد ممالک سے آنے والی رائے پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کھانے، آرام دہ سیٹوں اور عملے کی خدمت کے بارے میں مسافروں کے تاثرات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ایئرہیل کے سی ای او، ٹومز پویلشزین کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد ایئرلائنز کی کارکردگی کا ایک جامع جائزہ پیش کرنا ہے تاکہ ایئرلائنز مسافروں کی آراء کو سنجیدگی سے لیں۔اس سال کی رپورٹ میں جنوری سے اکتوبر تک کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا ہے۔

    دنیا کی سب سے کم کارکردگی والی ایئرلائن: انڈیگو
    ایئرہیل کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق، دنیا کی سب سے کم کارکردگی والی ایئرلائن کا اعزاز ٹونس ایئر (Tunisair) کو حاصل ہوا ہے جو 109 نمبر پر آئی ہے۔ اس کے بعد سب سے کم کارکردگی والی ایئرلائنز میں کئی قومی اور کم لاگت والی ایئرلائنز شامل ہیں، جن میں پولینڈ کی ایئرلائن بیز (Buzz)، بلغاریہ ایئر، ترکی کی پیگاسس ایئرلائنز اور ایئر ماریشس شامل ہیں۔انڈیگو، جو کہ بھارت کی ایک مشہور ایئرلائن ہے، 103 نمبر پر رہی ہے اور اس کی کارکردگی دنیا بھر کی ایئرلائنز کے درمیان سب سے کم 10 میں شامل ہے۔

    اگر صرف صارفین کی آراء کو مدنظر رکھا جائے، تو انڈیگو، ٹونس ایئر اور رایان ایئر (Ryanair) دنیا کی سب سے کم کارکردگی والی ایئرلائنز کے طور پر سامنے آئی ہیں۔

    دنیا کی سب سے بہترین ایئرلائن: برسلز ایئرلائنز
    جہاں تک دنیا کی بہترین ایئرلائن کا تعلق ہے، تو اس کا تاج برسلز ایئرلائنز نے اپنے سر سجا لیا ہے، برسلز ایئرلائنز نے 2018 سے مسلسل دوسرے نمبر پر رہنے والی قطر ایئر ویز کو پیچھے چھوڑا اور پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔اس کے علاوہ امریکی ایئرلائنز یونائیٹڈ ایئرلائنز اور امریکن ایئرلائنز بھی ٹاپ پانچ میں شامل ہیں، جو کہ امریکی مسافروں کے لیے حیرانی کا باعث ہو سکتی ہے کیونکہ اس سال ان ایئرلائنز میں متعدد پروازوں میں خلل آیا تھا۔

    2024 کی عالمی رینکنگ کی کچھ اہم معلومات:
    دنیا کی 10 بہترین ایئرلائنز
    برسلز ایئرلائنز
    قطر ایئر ویز
    یونائیٹڈ ایئرلائنز
    امریکن ایئرلائنز
    پلے (آئس لینڈ)
    آسٹریا ایئرلائنز
    ایل او ٹی پولش ایئرلائنز
    ایئر عربیہ
    ویڈرو
    ایئر سربیا

    دنیا کی 10 کم کارکردگی والی ایئرلائنز
    100. اسکائی ایکسپریس
    101. ایئر ماریشس
    102. ٹیروَم
    103. انڈیگو
    104. پیگاسس ایئرلائنز
    105. ایلز ایئرلائنز
    106. بلغاریہ ایئر
    107. نویل ایئر
    108. بیز
    109. ٹونس ایئر

    ایئرلائنز کی کارکردگی میں کمی اور بہتری
    ایئرہیل کی رپورٹ میں ایک اہم نکات یہ بھی ہیں کہ بعض ایئرلائنز کی کارکردگی میں اس سال بہتری آئی ہے، جیسے کہ برسلز ایئرلائنز اور ایئر ٹرانسٹ۔ اس کے برعکس، کچھ ایئرلائنز جیسے ڈیلٹا ایئرلائنز اور الاسکا ایئرلائنز کی کارکردگی میں کمی آئی ہے۔ڈیلٹا ایئرلائنز نے اس سال کی رینکنگ میں 11 سے 17 نمبر پر تنزلی دیکھی، جس کی وجہ اس کے دعووں کی پراسیسنگ سکور میں کمی اور جولائی میں ہونے والا ٹیکنالوجی کا بریک ڈاؤن تھا، جس کے نتیجے میں 3,000 سے زیادہ شکایات درج کی گئیں۔یہ رپورٹ ایئرلائنز کو اپنی خدمات میں بہتری لانے کے لیے ایک موقع فراہم کرتی ہے تاکہ وہ مسافروں کے تجربات کو بہتر بنا سکیں اور عالمی سطح پر اپنی پوزیشن کو مضبوط کر سکیں۔

    بلیو ورلڈ کی جانب سےپی آئی اے کی 10 ارب کی بولی کو مسترد کرنے کی سفارش منظور

    پی آئی اے کی نجکاری،سوا کھرب روپے سے زائد کی پیشکش آ گئی

    چندہ ڈالیں گے لیکن پی آئی اے خریدیں گے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    بشریٰ کا رونا اچھی حکمت عملی،گنڈا پور”نمونہ” پی آئی اے نہیں خرید رہے،عظمیٰ بخاری

    پی آئی اے کی بجائے اپنے فلیٹس بیچیں، شیخ رشید

    اسلام آباد ایئر پورٹ نواز شریف کے قریبی دوست کو دیا جا رہا، مبشر لقمان

    پی آئی اے نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟سعد نذیر کا کھرا سچ میں جواب

    پی آئی اے نجکاری،خیبر پختونخوا حکومت کی بولی کا حصہ بننے کی خواہش