Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • اسرائیلی وزیراعظم کے وارنٹ جاری،عدالتی فیصلے کا احترام کرنا چاہیے، یورپی یونین

    اسرائیلی وزیراعظم کے وارنٹ جاری،عدالتی فیصلے کا احترام کرنا چاہیے، یورپی یونین

    یورپی یونین خارجہ پالیسی چیف جوزف بوریل نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری پر کہا ہے کہ عدالت کے فیصلے کا احترام کرنا چاہیے۔

    باغی ٹی وی: جوزف بوریل نے کہا کہ عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کا اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور سابق اسرائیلی وزیر دفاع یواف گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا فیصلہ سیاسی نہیں ہے عدالتی فیصلے کا نفاذ یورپی یونین کے تمام ممالک پر لازم ہے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم کے وارنٹ جاری ہونے پر فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے بھی اپنے بیان میں عالمی فوجداری عدالت کی فیصلے کاخیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت احتساب کا دائرہ اسرائیل کے تمام مجرم رہنماؤں تک بڑھائے۔

    نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری پر فرانس کی وزارت خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ فرانس کا ردعمل عدالت کےاصولوں کےمطابق ہوگا،جبکہ اردن کے وزیر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو اور گیلنٹ کی گرفتاری کے آئی سی سی کے فیصلے پر عمل اور اس کا احترام ہونا چاہیے، فلسطین کے لوگ انصاف کے حق دار ہیں۔

    دوسری جانب امریکا نے عالمی عدالت کی جانب سے اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور سابق وزیردفاع یوو گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے فیصلے کو مسترد کردیا ہے۔

    روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ عالمی عدالت کی جانب سے اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور سابق وزیردفاع یوو گیلنٹ کے جاری کیے گئے وارنٹ گرفتاری کو امریکا نے مسترد کردیا ہے امریکا بنیادی طور پر عالمی عدالت کے فیصلے کو مسترد کرتا ہے، جس میں اسرائیل کے اعلیٰ حکام کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں ہمیں گہری تشویش ہے کہ پروسیکیوٹر فوری طور پر وارنٹ گرفتاری چاہتے ہیں اور اس فیصلے کا باعث بننے والے عمل کی غلطیوں کو پیچیدہ کر رہے ہیں، امریکا اپنے شراکت داروں کے ساتھ اگلے لائحہ عمل کے حوالے سے تبادلہ خیال کر رہا ہے۔

    خیال رہے کہ عالمی فوجداری عدالت نے آج اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔

  • روس کا شمالی کوریا کے چڑیا گھر کے لیے 70 جانوروں کا تحفہ

    روس کا شمالی کوریا کے چڑیا گھر کے لیے 70 جانوروں کا تحفہ

    روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ کے چڑیا گھر کے لیے 70 جانوروں کا تحفہ بھیجا ہے۔ ان میں افریقی شیر، 2 بھورے ریچھ، 45 تیتر، بطخیں اور چند بڑی کلغی والے طوطے شامل ہیں۔

    باغی ٹی وی :عالمی میڈیا کے مطابق ماسکو کے چڑیا گھر سے منتقل کیے جانے والے اِن جانوروں کو صدر ولادیمیر پیوٹن کی طرف سے شمالی کوریا کے عوام کے لیے تحفہ قرار دیا جارہا ہے،قدرتی وسائل کے روسی وزیر الیگزینڈر کوزلوف جانوروں کی منتقلی کی نگرانی کی یہ جانور کارگو طیارے کے ساتھ پیانگ یانگ بھیجے گئے ان کے ساتھ چند ڈاکٹرز بھی پیانگ یانگ گئے۔

    کوزلوف کے دفتر نے بدھ کو اپنے سرکاری ٹیلیگرام چینل پر بتایا کہ پیوٹن کے وزیر ماحولیات الیگزینڈر کوزلوف ان جانوروں کو ایک کارگو طیارے میں شمالی کوریا کے دارالحکومت لائے،ماسکو سے جانوروں کی کھیپ میں دو یاک، پانچ کاکاٹو اور درجنوں تیتر کے ساتھ ساتھ مینڈارن بطخیں بھی شامل تھیں۔

    کوزلوف کا کہنا تھا کہ تاریخ کے ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ بین الریاستی تعلقات بہتر بنانے میں جانوروں کے تبادلے نے ہمیشہ اچھا کردار ادا کیا ہے۔

    یہ تحفہ امریکہ اور جنوبی کوریا کے اس انکشاف کے چند ہفتوں بعد آیا ہے جب شمالی کوریا نے یوکرین میں روس کے ساتھ مل کر لڑنے کے لیے ہزاروں فوجی بھیجے تھے،یوکرین جنگ میں شدت آجانے پر روس نے حملے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے ساتھ ہی ساتھ انہوں نے شمالی کوریا کے 10 ہزار فوجیوں کو یوکرین کے محاذوں پر تعینات کرنے کی منصوبہ سازی کی ہے-

    روس اور شمالی کوریا نے جون میں ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت وہ ایک دوسرے کے دفاع کے لیے تعاون کریں گے شمالی کوریا کا روس کو 10 ہزار فوجیوں کی خدمات فراہم کرنا اِسی سلسلے کی کڑی ہے۔

  • نیدر لینڈ  نیتن یاہو کے گرفتاری وارنٹ پرعمل کرنے کیلئے تیار

    نیدر لینڈ نیتن یاہو کے گرفتاری وارنٹ پرعمل کرنے کیلئے تیار

    نیدرلینڈز نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری پر عمل کرنےکاعندیہ دے دیا، نیدر لینڈز کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے جاری کردہ نیتن یاہو کے گرفتاری وارنٹ پرعمل کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق نیدرلینڈز کے وزیرخارجہ کیسپر ویلڈکیمپ نے عالمی عدالت کے فیصلے کا احترام کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو ہماری سرزمین پر پاؤں رکھتے ہیں تو انہیں گرفتار کرلیا جائے گا۔

    نیدرلینڈ کے نشریاتی ادارے این او ایس سے جاری بیان کے مطابق کیسپر ویلڈکیمپ نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ نیدرلینڈز عالمی عدا لت کے اس فیصلے کا احترام کرتا ہے جس میں اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا ہے اگر وہ ڈچ سرزمین پر پہنچتے ہیں تو وہ گرفتار ہوجائیں گے یہی اصول اسرائیل کے سابق وزیردفاع یووو گیلنٹ اور حماس کے رہنما محمد ضیاب ابراہیم پر لاگو ہوتا ہے جنہیں عالمی عدالت نے گرفتاری کے وارنٹ جاری کردیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ نیدرلینڈز کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ غیرضروری تعلقات ختم کردیئے جائیں گے کیونکہ اسرائیل کے اعلیٰ عہدیدارغزہ میں انسانیت کے خلاف جرم اور جنگی جرائم کے مرتکب ہوگئے ہیں نیدرلینڈ روم اسٹیٹیوٹ پر 100 فیصد عمل کرتا ہے جس کے تحت ہیگ میں عالمی عدالت کا قیام عمل میں آیا تھا اور اس کے قواعد و ضوابط بھی اسی کے مطابق وضع کی گئے تھے۔

    خیال رہے کہ عالمی فوجداری عدالت نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ہیں، اسرائیلی وزیر اعظم پر جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام ہے عالمی فوجداری عدالت نے جنگی جرائم کے ارتکاب کے الزام میں سابق اسرائیلی وزیر دفاع یواف گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے ہیں،عدالت نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے سربراہ محمد ضیف کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

    عالمی فوجداری عدالت کے چیف پراسیکیوٹر نے رواں سال مئی میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور دیگر کے جنگی جرائم کےارتکاب کے الزام میں وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے لیے درخواست دی تھی۔

  • سویڈن سگریٹ سے نجات پانے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا

    سویڈن سگریٹ سے نجات پانے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا

    اسٹاک ہوم: یورپی ملک سویڈن سگریٹ سے نجات پانے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا۔

    باغی ٹی وی: سویڈن کے محکمہ صحت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق یورپ کے پانچویں بڑےسوئیڈن نے 13 نومبر کو باضابطہ طور پر دنیا کا پہلا اسموک فری (سگریٹ سے پاک) ملک ہونے کا اعزاز حاصل کیا ملک میں پیدا ہونے والے 4 اعشاریہ 5 فیصد افراد سگریٹ نوشی کرتے ہیں جو کہ عالمی سطح پر طے شدہ بینچ مارک 5 فیصد سے کم ہے، یعنی اس تعداد سے کم سگریٹ نوشی کرنے وا لے ممالک اسموک فری کہلائیں گے،یورپ میں سگریٹ نوشی کرنے والوں کی تعداد 24 فیصد ہے جو کہ سوئیڈن کے مقابلے میں 5 گنا زیادہ ہے۔

    تمباکو نوشی کے نقصانات سے بچاؤ پر کام کرنے والے رضاکاروں کا کہنا ہے کہ سوئیڈن کی سگریٹ نوشی سے چھٹکارہ پانے کی کامیابی کا راز وہاں کی حکومت کی جانب سے سگریٹ کے محفوظ متبادل کی بہترین پالیسی ہے۔

    سویڈن کی متعدد پالیسیاں ہیں جنہوں نے اس کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا ہے، جن میں تمباکو ایکٹ: مارکیٹنگ، کفالت، اور آؤٹ ڈور اشتہارات پر پابندی شامل ہے، عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی: 2019 سے بارز، ریستوراں، کھیل کے میدانوں، بس اسٹاپوں اور ٹرین اسٹیشنوں پر سگریٹ نوشی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    تمباکو کی فروخت پر پابندیاں: سنگل سگریٹ اور چھوٹے پیک کی فروخت ممنوع ہے، اور وینڈنگ مشینوں کے ذریعے تمباکو کی مصنوعات کی فروخت پر پابندی ہے۔

    متبادل نیکوٹین مصنوعات کے بارے میں کھلا رویہ: سویڈن کی کامیابی کی وجہ متبادل نیکوٹین مصنوعات کے بارے میں اس کے کھلے رویے سے منسوب کی جا سکتی ہے۔

    سوئیڈن کو سگریٹ سے پاک کرنے والی تنظیم کے رہنما ڈیلن ہیومن کا کہنا ہے کہ سویڈن کا سگریٹ سے پاک ہونا پبلک ہیلتھ سیکٹر میں ایک بہت ہی بڑی پیشرفت ہے جو کہ سوئیڈن کی تمباکو کو کنٹرول سے متعلق مثبت پالیسیوں پر عمل درآمد کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا 1960 کی دہائی میں سوئیڈن کے آدھے سے زیادہ مرد سگریٹ نوشی کرتے تھے، حکومت نے نیکوٹین، ویپ اور تمباکو سے بنی دیگر اشیا کے استعمال کو روکنے اور عوام کی صحت کے لیے باقاعدہ اصول وضع کیے،سوئیڈن کا سگریٹ فری ہونے کا اعزاز حاصل کرنا پوری دنیا کے لیے امید کی ایک کرن اور ایک متاثر کن ثبوت ہے کہ قابل عمل اور روشن خیال سوچ پبلک ہیلتھ سیکٹر میں مفید نتائج برپا کر سکتی ہے اور انسانوں کی زندگیاں بچا سکتی ہے۔

  • عالمی فوجداری عدالت،اسرائیلی وزیراعظم کے وارنٹ جاری

    عالمی فوجداری عدالت،اسرائیلی وزیراعظم کے وارنٹ جاری

    عالمی فوجداری عدالت نے اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے

    بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی سی) نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف "انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم” کے الزامات میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے ہیں۔یہ اقدام غزہ کی جنگ کے حوالے سے قانونی کارروائی میں ڈرامائی پیش رفت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آئی سی سی کے 124 رکن ممالک پر یہ لازم ہوگا کہ وہ نیتن یاہو اور گیلنٹ کو اپنی سرزمین پر داخل ہونے کی صورت میں گرفتار کریں۔

    جمعرات کو عدالت نے اسرائیل کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ آئی سی سی کے دائرہ اختیار پر اسرائیلی اعتراضات ناقابل قبول ہیں۔ عدالت نے کہا کہ معقول شواہد موجود ہیں کہ نیتن یاہو اور گیلنٹ جنگی جرم کے طور پر جنگ میں بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے ذمہ دار ہیں۔آئی سی سی نے مزید کہا کہ ان دونوں نے جان بوجھ کر اور دانستہ طور پر غزہ کے شہریوں کو خوراک، پانی، ادویات، طبی سامان، ایندھن اور بجلی سے محروم رکھا۔

    نیتن یاہو نے اس سے قبل آئی سی سی کے پراسیکیوٹر کی گرفتاری کے وارنٹ کی درخواست کو "لغو اور جھوٹا” اور "حقیقت کا مسخ” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ آئی سی سی نے کسی اور جمہوری ملک کے ساتھ اس قدر "متعصبانہ رویہ” نہیں اپنایا اور یہ کہ اسرائیل قانون کی بالادستی پر قائم ہے۔

    عدالت نے حماس کے رہنما محمد ضیف کے خلاف بھی انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے الزامات میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے اگست میں غزہ پر ایک فضائی حملے کے دوران محمد ضیف کو ہلاک کر دیا تھا۔

    آئی سی سی کے پراسیکیوٹر کے مطابق، اسرائیلی حکومت اور اس کے رہنماؤں پر یہ الزامات ہیں کہ انہوں نے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں کی ہلاکت، غیر قانونی بستیوں کی تعمیر اور فلسطینی عوام کے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی میں براہِ راست کردار ادا کیا ہے۔ اس فیصلے پر عالمی برادری میں ملا جلا ردِعمل سامنے آیا ہے۔ کئی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے انصاف کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے، جبکہ اسرائیلی حکومت نے اس اقدام کو متعصبانہ اور سیاسی سازش قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

    عالمی فوجداری عدالت کے مطابق، ان وارنٹ گرفتاریوں کے تحت کسی بھی ملک کو نیتن یاہو اور گیلنٹ کو گرفتار کرکے عدالت کے سامنے پیش کرنا ہوگا، اگر وہ ان کے دائرہ اختیار میں آئیں۔ تاہم، اسرائیل آئی سی سی کا رکن نہیں ہے، جس کی وجہ سے ان وارنٹ پر عمل درآمد ایک چیلنج ہو سکتا ہے۔

  • امریکا میں کاروائی،اڈانی گروپ کا مؤقف بھی آ گیا

    امریکا میں کاروائی،اڈانی گروپ کا مؤقف بھی آ گیا

    اڈانی گروپ نے امریکی محکمہ انصاف اور یو ایس سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی جانب سے اڈانی گرین کے ڈائریکٹرز پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔

    اڈانی گروپ کے ترجمان کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ "امریکی محکمہ انصاف خود کہتا ہے کہ فرد جرم میں شامل الزامات محض دعوے ہیں اور ملزمان کو اس وقت تک بے قصور تصور کیا جاتا ہے جب تک ان کے خلاف جرم ثابت نہ ہو جائے۔”ترجمان نے مزید کہا کہ اڈانی گروپ تمام ممکنہ قانونی راستے اختیار کرے گا تاکہ ان بے بنیاد الزامات کا جواب دیا جا سکے۔ ادارہ ہمیشہ اعلیٰ گورننس، شفافیت اور قوانین کی پاسداری کے اصولوں پر عمل پیرا رہا ہے اور دنیا بھر میں جہاں بھی آپریشنز چل رہے ہیں، ان تمام دائرہ کاروں میں مکمل قانون کی پابندی کی جا رہی ہے۔اڈانی گروپ نے اپنے اسٹیک ہولڈرز، شراکت داروں اور ملازمین کو یقین دلایا کہ گروپ ایک قانون پسند ادارہ ہے اور تمام قوانین کی مکمل تعمیل کرتا ہے۔

    واضح رہےکہ بھارتی معروف بزنس ٹائیکون، امیر ترین شخصیت گوتم اڈانی، ان کے بھتیجے ساگر اڈانی اور دیگر پر امریکی پراسیکیوٹرز نے بھارتی سرکاری اہلکاروں کو رشوت دینے اور سرمایہ کاروں کو گمراہ کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ امریکی شہر بروکلین، نیویارک میں درج مقدمے میں اڈانی اور ان کے ساتھیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے بھارتی حکومت سے شمسی توانائی کے ٹھیکے حاصل کرنے کے لیے دو سو پچاس ملین ڈالر رشوت دی۔

    راہول گاندھی کا اڈانی کی فوری گرفتاری کا مطالبہ

  • گوگل کو بڑا دھچکا لگنے کا امکان،کروم کے خلاف امریکا کا بڑا اعلان

    گوگل کو بڑا دھچکا لگنے کا امکان،کروم کے خلاف امریکا کا بڑا اعلان

    امریکی محکمہ انصاف گوگل کو اپنے کروم انٹرنیٹ براؤزر کو فروخت کرنے پر مجبور کرنے کے لیے جج سے درخواست کرے گا، بلومبرگ نیوز کے مطابق، یہ اقدام ان افراد کی معلومات پر مبنی ہے جو اس منصوبے سے واقف ہیں۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ محکمہ انصاف جج سے درخواست کرے گا، جس نے اگست میں یہ فیصلہ دیا تھا کہ گوگل نے غیر قانونی طور پر سرچ مارکیٹ پر اجارہ داری قائم کی ہے، کہ وہ مصنوعی ذہانت اور اینڈرائیڈ اسمارٹ فون آپریٹنگ سسٹم سے متعلق اقدامات کا حکم دیں۔گوگل کروم براؤزر کے ذریعے صارفین کو انٹرنیٹ کے مواد اور اشتہارات کی فراہمی کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ براؤزر عام طور پر گوگل سرچ استعمال کرتا ہے، اشتہارات کے کاروبار کے لیے اہم معلومات جمع کرتا ہے، اور عالمی براؤزر مارکیٹ کا تقریباً دو تہائی حصہ رکھتا ہے۔محکمہ انصاف نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ گوگل کی ریگولیٹری امور کی نائب صدر لی-این ملهولینڈ نے ایک بیان میں کہا کہ محکمہ انصاف ایک "انتہائی ایجنڈا” کو آگے بڑھا رہا ہے جو اس کیس کے قانونی مسائل سے کہیں آگے ہے اور صارفین کو نقصان پہنچائے گا۔

    اس مقدمے میں ایپل سمیت اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ گوگل کے معاہدوں کا جائزہ لیا گیا، جہاں گوگل نے ڈیفالٹ سرچ انجن ہونے کے لیے ادائیگی کی تھی،اس انتظام نے گوگل کو صارف کے ڈیٹا تک نمایاں رسائی دی، جس سے اسے سرچ مارکیٹ پر غلبہ حاصل کرنے میں مدد ملی۔2020 میں گوگل نے امریکہ میں آن لائن سرچ کا 90 فیصد، اور موبائل آلات پر 95 فیصد کو کنٹرول حاصل کیا۔ حکومت اس بات کو بھی محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ گوگل کی مصنوعی ذہانت کس طرح ویب سائٹ کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کر سکتی ہے اور اینڈرائیڈ کو گوگل کی دیگر مصنوعات کے ساتھ بنڈل کرنے سے روک سکتی ہے،

    ٹیک انڈسٹری کے ایک گروپ کے سربراہ ایڈم کواسوچ نے حکومت کی تجاویز کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے تنقید کی ، یہ بات سامنے آئی کہ گوگل ایک اجارہ داری کے طور پر کام کرتا ہے، اور جج اب اس مسئلے کو حل کرنے کے طریقے پر غور کر رہے ہیں۔ ایک ممکنہ ضرورت گوگل کو حریفوں کے ساتھ اپنے سرچ ڈیٹا کا اشتراک کرنا ہو سکتی ہے،گوگل کی جانب سے اپیل کرنے کا امکان ہے۔ گوگل ممکنہ طور پر امریکی سپریم کورٹ تک پہنچ جائے۔

    کروم نہ صرف گوگل کی دیگر سروسز، جیسے کہ گوگل سرچ، جی میل اور گوگل ڈرائیو تک بنیادی رسائی پوائنٹس کے طور پر کام کرتا ہے، بلکہ یہ اشتہاری آمدنی کے طور پر استعمال کرنے کے لیے صارف کے ڈیٹا کی بھاری مقدار میں جاسوسی اور جمع بھی کرتا ہے،فی الحال، کروم کے پاس عالمی براؤزر مارکیٹ کا ایک بڑا حصہ ہے، تقریباً دو تہائی انٹرنیٹ صارفین اسے استعمال کرتے ہیں۔اس کے برعکس، اس کی حریف، سفاری، کل مارکیٹ شیئر کا صرف 18 فیصد رکھتی ہے

  • بھارتی بزنس ٹائیکون گوتم اڈانی پر امریکا میں فرد جرم عائد

    بھارتی بزنس ٹائیکون گوتم اڈانی پر امریکا میں فرد جرم عائد

    بھارتی معروف بزنس ٹائیکون، امیر ترین شخصیت گوتم اڈانی، ان کے بھتیجے ساگر اڈانی اور دیگر پر امریکی پراسیکیوٹرز نے بھارتی سرکاری اہلکاروں کو رشوت دینے اور سرمایہ کاروں کو گمراہ کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ امریکی شہر بروکلین، نیویارک میں درج مقدمے میں اڈانی اور ان کے ساتھیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے بھارتی حکومت سے شمسی توانائی کے ٹھیکے حاصل کرنے کے لیے دو سو پچاس ملین ڈالر رشوت دی۔

    امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ برائے مشرقی نیویارک کے دفتر میں ایک اہم کیس سامنے آیا جس میں بھارتی کاروباری گروپ سے تعلق رکھنے والی متعدد شخصیات پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔امریکی گرینڈ جیوری نے گوتم ایس اڈانی، ساگر آر اڈانی، وینیت ایس جین، رنجیت گپتا، سائریل کابانیز، سوربھ اگروال، دیپک ملہوترا، اور روپیش اگروال کے خلاف فرد جرم پیش کی ہے۔الزامات میں بھارتی حکومتی اہلکاروں کو رشوت دے کر قابل منافع شمسی توانائی کے معاہدے حاصل کرنا۔ امریکی سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو کمپنی کی انسداد رشوت پالیسیوں کے حوالے سے گمراہ کرنا۔امریکی حکومت کی تحقیقات کو متاثر کرنے کی کوشش شامل ہیں،الزامات امریکی قوانین کے مختلف دفعات سیکیورٹیز فراڈ،منی لانڈرنگ،تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنا،رشوت ستانی کے الزامات کے تحت عائد کیے گئے ہیں،

    یہ کیس بھارت میں ایک قابل تجدید توانائی کمپنی اور اس کی کینیڈین شراکت دار کے مبینہ غیر قانونی کاموں پر مبنی ہے، جس میں بھارتی حکومتی اہلکاروں سے شمسی توانائی کے بڑے معاہدے حاصل کرنے کے لیے رشوت دی گئی۔ مزید برآں، کمپنی نے اپنے مالی معاملات کے حوالے سے امریکی سرمایہ کاروں کو گمراہ کیا اور تحقیقات میں رکاوٹ ڈالی۔ اگر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو ملزمان کو بھاری مالی جرمانوں، جائداد ضبطی، اور طویل مدتی قید کا سامنا ہو سکتا ہے۔یہ کیس بھارت اور امریکہ کے درمیان کاروباری تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، خاص طور پر قابل تجدید توانائی کے شعبے میں۔

    امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق اڈانی گروپ نے 3 بلین ڈالر کے قرضے اور بانڈز حاصل کرنے کے لیے اپنی بدعنوانی کو چھپایا۔ کیس کی تفصیلات میں کہا گیا کہ ملزمان نے امریکی سرمایہ کاروں کو جھوٹے دعوؤں کے ذریعے راغب کیا اور رشوت کی ادائیگی کو پوشیدہ رکھا،نیویارک کے بروکلین میں پراسیکیوٹرز نے بدھ کے روز الزام عائد کیا کہ اڈانی اور دیگر ملزمان نے امریکی سرمایہ کاروں سے فنڈز اکٹھا کرنے کے منصوبے کے بارے میں جھوٹ بولا۔ پانچ نکاتی فرد جرم میں ساگر آر اڈانی، وینیت ایس جین اور دیگر افراد، جو امریکہ، سنگاپور اور ہندوستان میں مقیم ہیں، ایک آسٹریلوی شہری اور آندھرا پردیش کے ایک سرکاری اہلکار، جن کی عدالتی دستاویزات میں ’فارن آفیشل 1‘ کے طور پر شناخت کی گئی ہے، پر امریکی وفاقی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا ہے۔ایسٹ ڈسٹرکٹ آف نیویارک کے امریکی اٹارنی بریون پیس نے بیان میں کہا، ملزمان نے ہندوستانی سرکاری حکام کو رشوت دینے کے لیے ایک پیچیدہ منصوبہ تیار کیا تاکہ اربوں ڈالر کے معاہدے حاصل کیے جا سکیں۔

    بلومبرگ کے مطابق، امریکی حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے تھے کہ آیا اڈانی گروپ نے رشوت دی اور کمپنی کے ارب پتی بانی کے طرزِ عمل میں بھی بدعنوانی شامل تھی۔ ملزمان نے انصاف میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے الیکٹرانک شواہد مٹا دیے اور جسٹس ڈیپارٹمنٹ، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) اور ایف بی آئی کے نمائندوں سے جھوٹ بولا۔ ایس ای سی نے ایک علیحدہ دیوانی مقدمہ بھی دائر کیا۔پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ اڈانی خاندان اور اڈانی گرین انرجی کے سابق سی ای او وینیت جین نے قرضوں اور بانڈز کی شکل میں 3 بلین ڈالر سے زیادہ رقم اکٹھی کی، جبکہ اپنی بدعنوانی کو قرض دہندگان اور سرمایہ کاروں سے چھپایا۔فرد جرم کے مطابق، کچھ سازشی افراد نے نجی طور پر گوتم اڈانی کے لیے ’نومرو اونو‘ اور ’بِگ مین‘ جیسے کوڈ نام استعمال کیے، جبکہ ساگر اڈانی مبینہ طور پر اپنے موبائل فون کے ذریعے رشوت سے متعلق تفصیلات کا پتہ لگاتے رہے۔

    کیس اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ اور ایک دوسری کمپنی کے درمیان 12 گیگا واٹ شمسی توانائی ہندوستانی حکومت کو فروخت کرنے کے معاہدے کے گرد گھومتا ہے۔ امریکی فرد جرم کے مطابق، انہوں نے وال اسٹریٹ کے سرمایہ کاروں کو کئی ارب ڈالر کے اس منصوبے میں شامل کرنے کے لیے جھوٹے ریکارڈز بنائے، جبکہ بھارت میں حکومتی عہدیداروں کو 26 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی رشوت دی یا دینے کا منصوبہ بنایا۔اسی دوران، ایک دیگر دیوانی کارروائی میں امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے اڈانی اور دو دیگر ملزمان پر امریکی سیکیورٹیز قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔ ریگولیٹر مالی جرمانے اور دیگر پابندیوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ایس ای سی کے انفورسمنٹ ڈویژن کے قائم مقام ڈائریکٹر سنجے وادھوا نے اے پی کو بتایا کہ گوتم اور ساگر اڈانی پر الزام ہے کہ انہوں نے سرمایہ کاروں کو یہ یقین دلا کر اپنی کمپنی کے بانڈ خریدنے پر آمادہ کیا کہ نہ صرف اڈانی گرین کے پاس ایک مضبوط اینٹی برائبری کمپلائنس پروگرام موجود تھا بلکہ کمپنی کی اعلیٰ انتظامیہ نے کبھی رشوت دینے کا وعدہ نہیں کیا اور نہ کرے گی۔

    ایس ای سی نے گوتم اڈانی اور ساگر اڈانی کے خلاف مقدمہ اینٹی فراڈ قوانین کی خلاف ورزی پر دائر کیا ہے، جس میں مستقل پابندیاں، جرمانے، اور افسران و ڈائریکٹرز کے عہدوں پر پابندیاں شامل ہیں۔ اسی طرح، سائریل کبینیس کے خلاف مقدمہ FCPA کی خلاف ورزی پر دائر کیا گیا ہے۔اس مقدمے کی تحقیقات میں امریکی محکمہ انصاف، ایف بی آئی، اور دیگر اداروں کی مدد شامل ہے۔ مقدمات امریکی ریاست نیویارک کے مشرقی ڈسٹرکٹ کی عدالت میں دائر کیے گئے ہیں، جبکہ متعلقہ افراد پر کریمنل چارجز بھی عائد کیے گئے ہیں۔یہ مقدمہ اس بات کا ثبوت ہے کہ SEC اور امریکی حکام عالمی سطح پر کارپوریٹ شفافیت اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے سرگرم ہیں۔

  • یوکرین کا برطانوی اسٹارم شیڈو میزائل سے روس پر حملہ

    یوکرین کا برطانوی اسٹارم شیڈو میزائل سے روس پر حملہ

    یوکرین نے برطانوی فراہم کردہ اسٹارم شیڈو میزائلز روس کے اندر اہداف پر داغے ہیں،

    اگرچہ برطانیہ اور یوکرین نے ان طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کے روس میں استعمال کی تصدیق نہیں کی، لیکن برطانوی میڈیا میں ان کے استعمال کی وسیع پیمانے پر رپورٹیں گردش کر رہی ہیں۔ٹیلیگرام پر ایسی ویڈیوز پوسٹ کی گئی ہیں جن میں روس کے کورِسک علاقے میں ان میزائلوں کے ملبے کو دکھایا گیا ہے۔ کورِسک یوکرین کی سرحد سے متصل روس کا علاقہ ہے۔برطانیہ پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ برطانوی ٹینک، اینٹی ٹینک میزائلز اور دیگر فوجی سازوسامان یوکرین کی دفاعی حکمت عملی کے تحت روس کے اندر استعمال ہو سکتے ہیں۔تاہم، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے استعمال پر پابندیاں عائد تھیں۔

    یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب چند دن قبل امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی اسی قسم کی پالیسی تبدیلی کی اجازت دی تھی۔روس کی وزارت دفاع نے منگل کو بتایا کہ یوکرین نے امریکی فراہم کردہ آرمی ٹیکٹیکل میزائل سسٹمز (ATACMS) روس کے بریانسک علاقے میں داغے۔ایک روسی ریاستی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، وزارت دفاع نے کہا کہ ان میزائلوں سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    اسکائی نیوز کی سیکورٹی اور دفاعی ایڈیٹر ڈیبرہ ہینز نے کہا کہ اتحادی ممالک اس حکمت عملی کو مبہم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا:”یہ دیکھنا باقی ہے کہ برطانیہ یا یوکرین کی جانب سے اس کی باضابطہ تصدیق کی جاتی ہے یا نہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین کے پاس اسٹورم شیڈو میزائلوں کا ذخیرہ محدود ہے، اس لیے ان کا استعمال صرف ایک حد تک اثر ڈال سکتا ہے۔اسکائی نیوز کے عسکری تجزیہ کار شون بیل نے کہا کہ وہ حیران ہوں گے اگر یہ پہلا موقع ہو جب یوکرین نے ان میزائلوں کو روس کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا ہو۔انہوں نے کہا:”یہ میزائل روس کے لاجسٹک مراکز، ہیڈکوارٹرز، اور گولہ بارود کے ذخائر کو نشانہ بنانے میں بہت مؤثر ہیں، اور امکان ہے کہ پہلے بھی استعمال ہو چکے ہوں۔”

    میزائل کی تفصیلات
    یہ میزائل فرانسیسی افواج کے زیرِ استعمال بھی ہیں، جہاں انہیں SCALP کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ میزائل اینگلو-فرانسیسی اسلحہ ساز کمپنی MBDA نے تیار کیے ہیں۔یہ پیش رفت یوکرین اور روس کے درمیان تنازعے میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کے استعمال میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔

  • ایران کے وزیر خارجہ کی قطری ہم منصب سے ملاقات کی،دوطرفہ علاقائی امور پر تبادلہ خیال

    ایران کے وزیر خارجہ کی قطری ہم منصب سے ملاقات کی،دوطرفہ علاقائی امور پر تبادلہ خیال

    تہران:ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کے روز تہران میں اپنے قطری ہم منصب سے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی : سرکاری خبر رساں ایجنسی اِرنا کے مطابق عراقچی اور قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آلِ ثانی نے "دوطرفہ اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا”۔ ایجنسی نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    قطر نے امریکہ اور مصر کے ساتھ مل کر غزہ جنگ بندی کے لیے کئی مہینوں تک بے نتیجہ مذاکرات کی قیادت کی لیکن خلیجی ریاست نے اس ماہ کے شروع میں اپنی ثالثی کی کوششوں کو روک دینے کا اعلان کیا تھا۔

    یہ اعلان ان اطلاعات کے بعد کیا گیا جب قطر نے ایرانی حمایت یافتہ حماس کو خبردار کیا تھا کہ اس کے سیاسی بیورو کو مزید خوش آمدید نہیں کہا جائے گا۔ خلیجی ریاست نے 2012 سے امریکہ کی حمایت سے حماس کی میزبانی کی ہے۔

    قطر نے منگل کو کہا کہ حماس کے مذاکرات کار دوحہ میں نہیں تھے لیکن ان کا دفتر مستقل طور پر بند نہیں کیا گیا تھا۔