Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • ہمارے نظام شمسی کے قریب پراسرار سُرنگ دریافت

    ہمارے نظام شمسی کے قریب پراسرار سُرنگ دریافت

    سائنسدانوں نے ہمارے نظام شمسی کے قریب پراسرار سُرنگ دریافت کی ہے-

    باغی ٹی وی : eROSITA نامی دوربین نے کائناتی سرنگ کا سراغ لگایا ہے، جو زمین کے مدار میں گھومتی رہتی ہے، یہ دوربین خلا سے آنے والے کمزور ترین ایکس ریز کو بھی پکڑ سکتی ہے،محقق مائیکل فریبرگ نے بتایا ہے کہ گیس کے حصار کے بارے میں ایروزیٹا دوربین نے اب تک کے آلات کے مقابلے میں زیادہ وضاحت سے بتایا ہے۔

    اسپیس ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق ماہرین نے بتایا ہے کہ ہمارے نظامِ شمسی کے نزدیک ایک انٹراسٹیلر ٹنل دریافت ہوئی ہے یعنی ایسی سرنگ جس سے گزر کر دوسری دنیاؤں تک پہنچنا ممکن ہوسکتا ہے۔

    معروف جریدے ایسٹرونومی اینڈ ایسٹرو فزکس میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ماہرین نے ایک کائناتی سرنگ دریافت کی ہے جو فلکیات کی اصطلاح میں لوکل ہاٹ ببل کی طرح ہے، ہمارے نظامِ شمسی کے گرد گرم گیس کا ایک بڑا ہالا ہے ماہرین کے خیال میں یہ کائناتی سرنگ ہمیں اپنی کہکشاں کے دوسرے ستاروں تک پہنچانے کا ذریعہ ثابت ہوسکتی ہے۔

    لوکل ہاٹ ببل باریک، گرم گیس کا ایسا علاقہ ہے جو ہمارے نظامِ شمسی کے گرد پایا جاتا ہے سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ ہالا ایک کروڑ 40 لاکھ سال قبل بنا ہوگا اور ایسا تب ہوا ہوگا جب بہت سے بڑے ستارے پھٹے ہوں گے اور اُن سے گیس خارج ہوئی ہوگی۔

    گیسوں کے اس بلبلے کے بارے میں سائنس دان ایک زمانے سے جانتے تھے مگر اب اس میں ایک کائناتی سرنگ کے امکان کا بھی پتا چلا ہے گیس کا یہ ہالا ہمیں ستاروں کے اُس جھرمٹ تک لے جاسکتا ہے جسے سینٹارس (Centaurus) کہا جاتا ہے۔

    طبعیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ جو کچھ بھی انسان سوچ سکتا ہے وہ ممکن ہے مگر مسئلہ وسائل اور موزونیت کا ہے ہیئت کے ماہرین اس خیال کے حامل رہے ہیں کہ انسان دوسرے سیاروں کا سفر بھی کرسکتا ہے اور وہاں آباد بھی ہوسکتا ہے سوال صرف ٹیکنالوجیز کی پیشرفت کا ہے۔

  • ایوان نمائندگان میں بھی ٹرمپ کی جماعت نے اکثریت حاصل کرلی

    ایوان نمائندگان میں بھی ٹرمپ کی جماعت نے اکثریت حاصل کرلی

    امریکی صدارتی الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ نے 300 سے زائد الیکٹورل ووٹس حاصل کرکے حکمراں جماعت کی امیدوار اور نائب صدر کملا ہیرس کو شکست دیدی اور ان کی جماعت نے اب سینیٹ کے بعد ایوان نمائندگان میں کامیابی حاصل کر لی-

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹرمپ کی جماعت ری پبلکن پارٹی کو کانگریس کے دونوں ایوانوں (سینیٹ اور ایوان نمائندگان) میں نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وژن کے فوری نفاذ کا مینڈیٹ مل گیاامریکی ریاستوں ایری زونا اور کیلی فورنیا میں ووٹوں کی سست گنتی کے باعث نتائج اب جاری کردیئے گئے جس سے ری پبلکن کے ایوان نمائندگان میں نمبرز پورے ہوگئے، ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت ری پبلکنز نے امریکا کے ایوانِ نمائندگان میں 435 میں سے 218 نشستیں حاصل کرلیں جو اکثریت حاصل کرنے کے لیے درکار نمبر ہے۔

    دوسری جانب حکمراں جماعت ڈیمو کریٹ ایوان نمائندگان کی 208 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی، ری پبلکن پارٹی سینیٹ کی 100 نشستوں میں سے 53 نشستیں جیت کر پہلے ہی ایوان بالا میں اکثریت حاصل کر چکی ہے۔

  • چھری سے قتل کی دھمکی دی گئی،خواجہ آصف نے پولیس کو رپورٹ کر دیا

    چھری سے قتل کی دھمکی دی گئی،خواجہ آصف نے پولیس کو رپورٹ کر دیا

    وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کو لندن ٹرین میں قتل کی دھمکی دینے، ہراساں کرنے اور ان کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے کا معاملہ ،وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی پاکستان ہائی کمیشن لندن آمد ہوئی ہے

    خواجہ محمد آصف نے پاکستان ہائی کمیشن میں مقامی پولیس کو ٹرین واقع کی رپورٹ درج کرادی،خواجہ محمد آصف نے پولیس کو ٹرین میں چھری سے قتل کی دھمکی اور ہراسگی واقع کی تفصیلات سے آگاہ کیا ،واقع کی تحقیقات لندن ٹرانسپورٹ پولیس کر رہی ہے۔وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بتایا کہ افسوسناک واقع 11 نومبر 2024 سہ پہر قریباً ساڑھے تین بجے الزبتھ لائن میں پیش آیا۔لندن میں نجی دورہ پر ہوں، اپنے ایک عزیز کے ہمراہ الزبتھ لائن کے ذریعے ریڈنگ جا رہا تھا۔ تین سے چار افراد پر مشتمل ایک خاندان کے افراد نے ٹرین میں ہراساں کیا، بلا اجازت ویڈیو بنائی، نازیبا الفاظ کا استعمال کیا اور چھری سے قتل کرنے کی دھمکی دی۔ واقع میں ملوث کسی فرد کو نہیں پہچانتا۔ لندن ٹرانسپورٹ پولیس سی سی ٹی وی ویڈیوز کی مدد سے متعلقہ ملزمان کا سراغ لگائے ،قتل کی دھمکیاں اور ہراساں کرنے کے ایسے مذموم واقعات برطانیہ میں مقیم 17لاکھ پاکستانی نثراد برطانوی شہریوں کے لیے بھی باعث شرم اور قابل افسوس ہیں۔

    واضح رہے کہ لندن میں وزیر دفاع خواجہ آصف کو گالیوں اور چاقو حملے کی دھمکیوں کی ویڈیو منظر عام پرآئی تھی،لندن گراؤنڈاسٹیشن پر نامعلوم شخص نے خواجہ آصف کا تعاقب کرتے ہوئے انہیں چاقو حملے کی دھمکی دی تھی،خواجہ آصف کے قریبی ذرائع نے واقعےکی تصدیق کی ہے،

    ویڈیو وائرل ہونے کے بعد وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا بیان بھی سامنے آیا ہے، خواجہ آصف کا کہنا ہےکہ وہاں کیمرا بھی لگا ہوا تھا، میں دھمکی دینےوالے کو نہیں پہچانتا، دھمکی دینے والے واقعےکو رپورٹ کرانے کا پراسیس چل رہا ہے

    علاوہ ازیں لندن میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ن لیگی قائد نواز شریف کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف مرد مجاہد ہیں جہاں کھڑے ہو جاتے ہیں پھر بیٹھتے نہیں، خواجہ آصٖف نے ہمیشہ ہرصورتحال کا جوانمردی سے مقابلہ کیا ہے، خواجہ آصٖف کو کالج کے زمانے سے جانتا ہوں، جن لوگوں نے خواجہ صاحب کے ساتھ یہ حرکت کی، ان کے نصیب میں یہی ہے، لوگوں کے پیچھے بھاگنا ، یہی ان کی ٹریننگ اور گرومنگ کی گئی ہے۔

    لندن میں موجود جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی خواجہ آصف کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کی مذمت کی ہے.

    لاہور بیورو کیخلاف بغاوت کی خبر کیسےباہر آئی؟ اکرم چوہدری سیخ پا،ذاتی کیفے میں اجلاس میں تلخی

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • فردوس عاشق اعوان امریکہ کے دورے پر،عشائیہ تقریب

    فردوس عاشق اعوان امریکہ کے دورے پر،عشائیہ تقریب

    سابقہ وفاقی وزیر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان امریکہ کے دورے پر ہیں

    فردوس عاشق اعوان کے اعزاز میں بروکلن نیو یارک میں عشائیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستانی امریکی کمیونٹی ، سماجی تنظیموں کے علاوہ میڈیا اور خواتین نے روائتی ڈھوک بجا کر استقبال کیا اور بھولوں کے گلدستے پیش کیے ۔ بروکلن نیو یارک میں ڈاکٹر فردوس عاشق کے اعزاز میں عشائہ تقریب صحافیوں کی عالمی تنظیم فورتھ پلر ، پاکستان ہاؤس اور سمال بزنس مائنورٹی ارکینائیزشن نے منعقد جس میں کمیونٹی کی ممتاز شخصیات ، تنظیموں کے علاوہ میڈیا نے شرکت کی

    تقریب میں فاروق مرزا نے تمام تنظیموں کے اراکین کا تعارف کروایا اور کہا کی بروکلن کونی آئی لینڈ پاکستانی ثقافت اور تہذیب کا مرکز ہے اور یہاں کے پاکستانی پاکستان زندہ آباد کا نعرہ لگاتے ہیں اور پاکستان کا وقار بلند کرتے ہیں ،تقریب میں ممتاز صحافی راجہ ابرہیم نے کہا کہ فردوس عاشق اعوان صحافیوں کے ساتھ ہمیشہ اچھا رویہ رکھتی تھیں اور عزت بھی کرتی تھیں۔ تقریب میں اورسیز فاؤنڈیشن کے سرپراہ ظہیر مہر، نیو یارک میئر کی معاون خصوصی عطیہ شہناز ، پاکستان ہائوس کے صدر علی ذئی ، ڈپٹی قونصل جنرل محمد عمر نے بھی خطاب کیا ۔ تقریب کی مہمان خصوصی محترمہ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام ہے اور ریاست کے رول کو بھی اہمیت دینی چاہیے ۔تقریب میں خواتین کی مختلف تنظیموں کی سربراہان نے بھی خطاب کیا ۔

    چندہ ڈالیں گے لیکن پی آئی اے خریدیں گے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    بشریٰ کا رونا اچھی حکمت عملی،گنڈا پور”نمونہ” پی آئی اے نہیں خرید رہے،عظمیٰ بخاری

    پی آئی اے کی بجائے اپنے فلیٹس بیچیں، شیخ رشید

    اسلام آباد ایئر پورٹ نواز شریف کے قریبی دوست کو دیا جا رہا، مبشر لقمان

    پی آئی اے نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟سعد نذیر کا کھرا سچ میں جواب

    پی آئی اے نجکاری،خیبر پختونخوا حکومت کی بولی کا حصہ بننے کی خواہش

  • اردو زبان کا عالمی دن، ریاض میں رنگا رنگ تقریب کا انعقاد

    اردو زبان کا عالمی دن، ریاض میں رنگا رنگ تقریب کا انعقاد

    ریاض (کامران اشرف) اردو زبان کا عالمی دن الف انٹرنیشنل اسکول ریاض میں شاندار اور یادگار طریقے سے منایا گیا۔ اس خصوصی تقریب میں طلباء نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا اور اردو زبان سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔

    تقریب میں طلباء نے رنگا رنگ پرفارمنس پیش کیں جنہوں نے شائقین کو محظوظ کیا۔ ہر ایک طالب علم کی پیش کش نے حاضرین کو مسحور کر دیا، اور تقریب میں موجود طلباء اور اساتذہ نے ان کی صلاحیتوں کی بھرپور داد دی۔ طلباء نے مختلف خاکے، تقاریر، اور نغمات پیش کیے جنہوں نے اردو زبان کی اہمیت اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کیا۔

    تقریب کے اختتام پر اسکول کی انتظامیہ اور اساتذہ نے طلباء کو ان کی شاندار کارکردگی پر مبارکباد پیش کی اور اردو زبان کی ترویج کے لئے اس قسم کی تقریبات کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا.

  • برطانیہ: مرکزی جامع مسجد ویکفیلڈ میں  مولانا فضل الرحمان کا مکمل خطاب

    برطانیہ: مرکزی جامع مسجد ویکفیلڈ میں مولانا فضل الرحمان کا مکمل خطاب

    نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اما بعد
    فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِــٴُـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ۔ صدق اللّٰہ العظیم

    حضرات علماء کرام، برطانیہ میں میرے ہم وطنوں، میرے بزرگوں، میرے دوستو اور بھائیو! کافی عرصہ ہوا جہاں میں تقریبا ہر سال برطانیہ آیا کرتا تھا کوئی سات آٹھ سال کے بعد آپ کے پاس حاضر ہو رہا ہوں۔یہاں کے احباب، یہاں کی جمیعت علماء اور بالخصوص برادر عزیز مولانا اسلام علی شاہ صاحب کی محبت ہے ان کا خلوص ہے کہ اپ حضرات کے ساتھ اج اس جامعہ مسجد میں ملاقات ہو رہی ہے اور مجھے اپ کی زیارت اور آپ کی ملاقات کا شرف حاصل ہو رہا ہے۔ یہ اللّٰہ تعالیٰ کا آپ پر اور ہم سب پر ایک بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمارا تعلق علمائے کرام کے ساتھ جوڑ دیا ہے اور ہمارے ملنے جلنے کا مرکز مساجد کو بنا دیا ہے اور دین کی رہنمائی حاصل کرنے کے لیے مدارس دینیہ کا جال بچھا دیا ہے۔ یہ ہماری اور آپ کی دنیا اور اخرت کو سنوارنے کے لیے ہے۔ اس میں خیر خواہی کے علاوہ اور کوئی تصور ہو ہی نہیں سکتا بس بات اتنی ہے کہ ہم اس کی قدر کر سکیں اس بات کو سمجھ سکیں یہ میرا اللّٰہ اس بات پر قادر تھا کہ ہمیں گمراہوں میں بٹھا دیتے، چوروں اور ڈاکوں کے گروہوں میں بٹھا دیتا، غلط راہ پر چلنے والوں کے گروہوں میں حصہ بنا دیتا، لیکن اس سے بچا کر اللّٰہ رب العزت نے اپنے پیارے بندوں کے ساتھ ہماری بیٹھک بنائی ہماری مجلس بنائی ہمارا تعلق بنایا اور ہم جس اسلام کی بات کرتے ہیں جو دین ہمارا رہنما ہے یہ وہ عظیم الشان دین ہے کہ جو ہماری مملکتی زندگی میں، ہماری قومی زندگی میں، ہماری ملی زندگی میں ہماری دو ضرورتوں کو پورا کرتا ہے ایک ہمارا انسانی حقوق اور دوسرا ہماری معیشت، ایک مملکت کے لیے ایک ایسا نظام کہ جو ہمارے انسانی حقوق کا محافظ ہو اور انسانی حقوق کا تعلق تین باتوں سے ہے انسان کی جان، انسان کا مال اور انسان کی عزت و آبرو، پوری دنیا میں چاہے مسلم ہو یا نان مسلم وہ جو اپنی قانون سازی کرتے ہیں تو یہ تین چیزیں ان کے نظر میں ہوتی ہیں۔ پوری قانون سازی ان تین چیزوں کے گرد گھومتی رہتی ہے انسانی حقوق ان کا تعین کرنا پھر انسان حق کا تحفظ کرنا پھر انسانی حق کی تلافی کرنا، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ساری زندگی توحید کا درس دیا۔ شرک کے خلاف لڑے یہاں تک کہ اگ میں جھونک دیے گئے بندے کا تعلق اپنے رب کے ساتھ قائم کرنے کے لیے تمام تکلیفیں برداشت کی، ہر امتحان سے گزرے اور ہر امتحان میں کامیاب ہوئے،
    وَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّؕ
    جب اس کے رب نے بہت سی باتوں پر ان کا امتحان لیا اور وہ اس پر پورے اترے۔ ہر منصب کے لیے پہلے انٹرویو ہوتا ہے ناں تو اللہ نے امتحان لیا اور ہر امتحان میں کامیاب ہوئے اس کے بعد اپ کو امامت کبریٰ کا منصب عطا کیا،
    قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًاؕ-
    پوری انسانیت کا تمہیں امام بنانے والا ہوں۔ توحید کی طرف دعوت یہ ایک سبق تھا، تمام تر مشکلات کو آپ نے عبور کیا لیکن اس کی انتہا ایک اجتماعی زندگی اور منظم اجتماعی زندگی جس میں اپ کو مملکت کا امام بنا دیا گیا، انسانیت کا امام بنا دیا گیا اور ذمہ داری تبدیل ہو گئی پہلے کچھ فرق تھا اضافہ ہو گیا اب امامت کبریٰ پر فائز ہونے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ترجیحات کو ذرا مطالعہ کیجئے، اب فرماتے ہیں،
    وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارْزُقْ اَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-قَالَ وَ مَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ
    اے اللّٰہ اس شہر کو اس ابادی کو امن نصیب فرما یہاں کے لوگوں کی جان مال اور عزت آبرو کی حفاظت فرما۔ ایسا نظام عطا فرما کہ جس نظام کے ذریعے سے انسانی حقوق محفوظ ہو جائے اور خوشحال معیشت کی دعا کی پھل فروٹ کی بات کی دال ساگ کی بات نہیں کی لیکن اپ نے فرمایا کہ یا اللّٰہ انہیں پھل فروٹ عطا فرما لیکن ان کے لیے جو ایمان لائے اللّٰہ پر اور یوم اخرت پر، تو اللہ تعالی نے فرمایا نہیں دنیا میں تو ان کو بھی دوں گا یعنی ایک اسلامی معاشرے میں بھی اسلامی مملکت کے اندر بھی مسلم نان مسلم کے حقوق کو برابر کر دیا۔ اگر وہ جنگ نہیں لڑتے امن سے رہتے ہیں پرامن برادرانہ زندگی گزارتے ہیں تو ان کی جان بھی ایسی ہی محفوظ جس طرح کے اپنی، ان کا مال بھی ایسا ہی محفوظ جس طرح اپنا مال اور ان کی عزت و آبرو بھی اسی طرح محفوظ جس طرح کہ اپنی، اب اس تصور کے بعد جس اللّٰہ نے ہمیں پیدا کیا تو حکم بھی اسی کا چلے گا، تخلیق کائنات بھی اپ نے کی ہے اور ان پر حکم بھی آپ کا چلے گا اور پھر سب سے اولین پیغام وہ اس کے امن کا ہے۔
    سوچنے کی بات ہے کہ وہ دین اسلام اور اس دین اسلام سے وابستہ مسلمان وہ کیسے کرہ ارض پر فساد کا سبب بن سکتا ہے۔ اسلام کے معنی دوسرے کو سلامتی دینا، ایمان کے معنی دوسرے کو امن دینا، جس دین کے ناموں کے اندر امن اور سلامتی کے معنی پنہاں ہوں اس حوالے سے الٹا تاثر قائم کرنا یہ پھر دین اسلام کے ساتھ بے انصافی ہے اور پھر یاد رکھے عام طور پر جب ہم آپس میں بیٹھتے ہیں جرگوں میں یا اس میں پھر دو فریق ہوتے ہیں تو ہمیشہ اقرار کرنے والا صلح کا ذریعہ بنتا ہے اور انکار کرنے والا جھگڑے کا سبب بنتا ہے اب مسلمان تو سب کو مانتا ہے، مسلمان حضرت عیسی علیہ السلام پر بھی ایمان لاتا ہے، مسلمان حضرت عیسی علیہ السلام پر اتاری گئی کتاب بائبل پر بھی ایمان لاتا ہے، مسلمان حضرت موسی علیہ السلام پر بھی ایمان لاتا ہے، اس کی تورات پر بھی ایمان لاتا ہے۔ جب ہم سب کو مانتے ہیں سب کی کتابوں کو مانتے ہیں ان کو اسمانی کتاب مانتے ہیں تو پھر مسلمان کبھی بھی فساد کا سبب نہیں بنتا، پھر جو ہمارا انکار کرتے ہیں وہ اپنے گریبان میں جان کر خود اپنے سے کچھ سوالات کریں کہ دنیا میں جو اس وقت شورش ہے بد امنی ہے اس کے اسباب کیا ہے۔ ہم بھی ان چیزوں کو تلاش کریں۔
    ہمارے علماء ایک بڑی خوبصورت بات کرتے ہیں فرماتے ہیں ایک یہ کہ انسان کو راستہ چاہیے اگر راستہ ہی نہیں تو جائے کدھر اور جب اس کو راستہ مل جاتا ہے تو پھر اس کو راستے پر چلنے کا اسلوب بھی چاہیے اس کا ڈھنگ بھی چاہیے اس کو اور اس راستے میں اگر کوئی رکاوٹ اتی ہے کہیں پتھریلی زمین اجاتی ہے کبھی جھاڑیاں اجاتی ہیں کبھی پانی اجاتا ہے تو اس مشکل مرحلے کو عبور کرنا یہ بھی تو راستے کے لوازمات ہے۔ تو ہمارے علماء فرماتے ہیں کہ راستہ تو شریعت ہے اور راستے پر چلنے کا اسلوب طریقت ہے اور راستے کے مشکل کو دور کرنا اور مشکل کا مقابلہ کرنا سیاست ہے۔ یہ تینوں موالید اسلام ہے، شریعت کو ہماری کتابوں میں تعلیم الاحکام سے تعبیر کیا جاتا ہے، طریقت کو ہماری کتابوں میں تہذیب الاخلاق سے تعبیر کیا جاتا ہے اور سیاست کو ہماری کتابوں میں تنظیم الاعمال سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جناب رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم نے خود اعلان کیا کہ میں اخری سیاست دان ہوں اور اس سے پہلے بنی اسرائیل کے اندر انبیاء اتے تھے اور وہ سیاست کرتے تھے یعنی مملکتی اور اجتماعی زندگی میں تدبیر و انتظام کیا کرتے تھے۔ چارہ گری کرتے تھے۔
    كانت بنو إسرائيل تسوسهم الانبياء كلما هلك نبي خلفه نبي، وإنه لا نبي بعدی
    بنی اسرائیل کے انبیاء سیاستدان تھے امور مملکت اس کا انتظام و انصرام ان کے ہاتھ میں ہوتا تھا ایک جاتا تھا تو دوسرا نبی اس کی جگہ لیتا تھا اب میں آخری پیغمبر ہوں اب یہ باگ ڈور میرے ہاتھ میں ہے۔
    ولا نبیا بعدی
    میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہوگا اور وسيكون خلفاء، میرے بعد خلفاء ہوں گے اور بڑی تعداد میں ہوں گے۔ میں اپنے علماء کرام سے بھی کبھی کبھی الجھتا ہوں کہ یہ جو اپ جلسوں میں کہتے ہیں کہ ختم نبوت جو ہے سیاست سے بالاتر ہے یہ امت کا متفقہ مسئلہ ہے اور اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے اب تو اس حدیث کے بارے میں ذرا سوچیں اپ کہاں کھڑے ہیں کہ جو وظیفہ انبیاء کرام کا تھا اور اس کے آخری کڑی خود جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے وہاں ہم نے اس کو خالصتاً دنیا داری کہہ دیا ہے۔ جھوٹ بولو، دھوکہ دو تاکہ منصب تک پہنچ سکو، اس میں کوئی کامیاب ہو گیا تو ہم کہتے ہیں یہ کامیاب سیاستدان ہے۔
    تو ہم نے شریعت کے ایک اصطلاح کو کیا معنی پہنا لیا ہے، کیا مفہوم پہنا دیا اس کو، بحیثیت مسلمان ہمیں اس پر غور کرنا چاہیے علمی لحاظ سے غور کرنا چاہیے۔ مسائل اتے ہیں اور دین اسلام کا جو اولین تقاضہ ہے جس پر آپ کی سماجی زندگی بھی اسی پہ کھڑی ہے آپ کی معاشی زندگی بھی اسی پہ کھڑی ہے، آپ کے معاشرت کا نظام بھی اسی کے اوپر کھڑا ہے وہ ہے آزادی، یہی وجہ ہے کہ اللّٰہ رب العزت نے شریعت کو ایک مشکل گزرگاہ سے تعبیر کیا ہے۔
    فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُ،
    جب جب انسان گھاٹی میں داخل ہو اور جانتے ہو گھاٹی کیا ہے گھاٹی کیا ہوتا ہے مشکل گزرگاہ کو کہتے ہیں، پہاڑوں کے اندر جو چھوٹے درے ہوتے ہیں جب اپ اس سے گزرتے ہیں تو پتھریلی زمین بھی ائے گی، پانی بھی ائے گا، جھاڑیاں بھی ائے گی، کانٹیں بھی ائیں گے۔ اب اس مشکل گزرگاہ میں داخل ہو جانا، شریعت کو قبول کر لینا، دین اسلام پر ایمان لے انا، اس کا جو اولین تقاضہ ہے خود رب العالمین نے فرمایا فَكُّ رَقَبَة، گردن چھڑانا، اب جس زمانے میں غلام رکھے جاتے تھے اس زمانے میں تو یہ بات سمجھ میں اتی تھی کہ غلام ازاد کردو۔ تمام مفسرین نے ان کو آزاد کرنے کے معنی سے تعبیر کیا ہے۔ لیکن یہ تو قرآن ہے اللّٰہ کا کلام ہے جتنا اللّٰہ عظیم ہے اس کا کلام اتنا ہی عظیم، اس کے معنی مفہوم میں بھی وہی وسعت ہوگی۔ ایک فرد کو آزاد کرنے کے ساتھ ساتھ پورے قوم کو آزاد کرانا یہ دین اسلام کا اولین ترجیح ہے، انسانیت کو آزاد کرانا یہ دین اسلام کا اولین تقاضہ ہے۔ آج آزادی کے حق کو پوری دنیا تسلیم کرتی ہے۔ نو آبادیاتی نظام کے بعد ہر ایک کہتا ہے انسان آزاد ہے۔ انسان کی آزادی کے تصور کو تو کوئی اختلاف نہیں، اس کو آزادی حاصل ہوگا، انسانی حق کو تو کوئی جھگڑا نہیں ہے یعنی حق کی تعریف کرنا، حق کی تفصیل بیان کرنا اس میں شائد فرق ہو، آزادی کے تصور پر کوئی اختلاف نہیں البتہ آزادی کی مفہوم پر بحث ہو سکتی ہے۔
    میرے دوست تھے آزاد خیال قسم کے، ابھی بھی حیات ہے مجھے کہنے لگے کہ آپ مولوی صاحبان سارا دن مسجد میں بیٹھ کے اللّٰہ کی بندگی اور اللّٰہ کی بندگی ہو اللّٰہ کی بندگی اور سوائے بندگی سکھانے کی کوئی اور کام تمہارا نہیں ہے لیکن جب سڑکوں پہ آتے ہو روڈوں پہ تو آزادی اور آزادی اور یہ عذاب ہے کہ مسجدوں میں اور حجروں میں تو آپ لوگوں کو غلامی اور بندگی پڑھا رہے ہوتے ہیں اور روڈوں کے اوپر پھر آزادی اور آزادی کی باتیں کرتے ہیں۔ میں نے کہا آپ شائد آزادی کا معنی سمجھے نہیں ائیے ہم اپنے خاندان میں آتے ہیں اور خاندان میں ا کر ہم اس کو پھر سمجھتے ہیں۔ جس طرح کائنات میں کائنات کا خالق ایک ہے۔ جس طرح ہر انسان کا باپ ایک ہوتا ہے۔ انسان کی جو ظاہری تخلیق ہے اس کا جو ظاہری ہے سبب ہے وہ باپ ہے۔ اب جب اس باپ کی اولاد اور وہ اولاد اپنے والد کی خدمت کرتا ہو، اس کی فرمانبرداری کرتا ہو، اس کی دکان پر بیٹھتا ہو، اس کی زمین پر محنت کرتا ہو، کیا ہمارے معاشرے میں اس بیٹے کو باپ کا نوکر کہا جاتا ہے، باپ کا مزدور کہا جاتا ہے، باپ کا مزارع کہا جاتا ہے، کبھی نہیں، اپنے جائیداد کا مالک کہا جاتا ہے لیکن اگر معاشی مجبوری ہو جائے پھر کسی طاقتور آدمی کے سامنے، کسی بڑے زمیندار کے، کسی بڑے کاروباری کے، کسی کارخانہ دار کے، ان کے سائے میں زندگی گزارنا تو جب آپ کسی طاقتور کے ساتھ اپنی ضرورتوں کی وجہ سے زندگی گزارتے ہیں تب آپ کو نوکر بھی کہا جائے گا، مزدور بھی کہا جائے گا، مزارع بھی کہا جائے گا لیکن اپنے والد کی اطاعت میں سب کچھ کرنا اس کو ہمارے معاشرے میں کبھی مزدور یا نوکر نہیں کہتے۔
    تو یہ شخص جو اپنے والد کا اطاعت گزار ہے، اس کا فرمانبردار ہے اسے ہمارے معاشرے میں نوکر اور مزدور نہیں کہا جاتا باپ کا، لیکن اگر وہ بوجہ مجبوری اپنی ضرورتوں کے تحت کسی کے گھر جا کر نوکری کرتا ہے، کسی کی زمین پر مزارع بنتا ہے، کسی کے کارخانہ میں کام کرتا ہے کسی کے دکان پہ بیٹھتا ہے تو اپ اس کی ملازم بھی کہتے ہیں، مزدور بھی کہتے ہیں، مزارع بھی کہتے ہیں۔
    اسی طریقے سے اگر ایک قوم اپنے خالق کائنات کی اطاعت میں زندگی گزارے اور اس کے قانون کی پیروی کرتی نظر ائے وہ قوم ازاد کہلائے گی۔ اور اگر ہم اللّٰہ کے علاوہ کسی دوسرے انسان کے بنائے ہوئے نظام کی پیروی کریں گے تو پھر ہمیں غلام کہا جائے گا۔ ہمیں اگر پاکستان میں چاہیے تو یہ نظام چاہیے اور یہ کوئی اسان کام نہیں ہے اور ہم نے اس کے لیے پُرامن راستے چنے۔ جمہوری راستہ، الیکشن کا راستہ، پارلیمنٹ کا راستہ، قانون سازی کا راستہ، کسی کو کنونس کرنے کا راستہ، طریقے سے اس کو اپنی بات پر آمادہ کرنا اور قائل کرنا، اور یہی دعوت کا تقاضا ہے کیونکہ یا تو آپ نے مقام عبدیت میں رہنا ہے یا مقام حکومت میں رہنا ہے۔ جب تک آپ مقام حکومت میں نہیں پہنچتے اور وسائل پر اپ کی گرفت نہیں اتی تب تک آپ مقام دعوت پر ہو تو دعوت والا جو ہے وہ پھر اپنا ہی مقام رکھتے ہیں وہ گالم گلوچ نہیں دیتا، لڑائی جھگڑا نہیں کرتا، مقام دعوت سے بالکل نیچے نہیں اترتا، جیسے کہ اللہ رب العزت نے کچھ لوگوں کو بھیجا،
    واضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِۘ-اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَ اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ،
    دو بندوں کو بھیجا پھر تیسرے کو بھیجا اور اس لیے تاکہ وہ اللہ کے دین کی طرف دعوت دے ان کو، لیکن انہوں نے جھٹلایا، پھر دھمکیاں تک دی پھر کہا یہ تمہاری وجہ سے نحوست ہے نعوذ باللہ،
    قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْۚ لَىٕنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔
    اب وہ منکر ہے یہ داعی ہے منکر گر رہا ہے، بد اخلاقی کی طرف جا رہا ہے، دھمکیوں کی طرف جا رہا ہے، مار کٹائی کی طرف جا رہا ہے، سنسار کرنے کی طرف جا رہا ہے اور وہاں ان سے کہا جاتا ہے،
    قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَاۙ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ۔
    کوئی اللہ نے کچھ نہیں کیا تم بھی ہماری طرح انسان ہو، کیا اللّٰہ اللّٰہ کی باتیں کرتے ہو، جھوٹ بولتے ہو، لیکن وہ کہتا ہے نہیں،
    قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ
    تمہارا اللّٰہ جانتا ہے ہم اسی کی طرف سے آئے ہیں۔ اللّٰہ کی دعوت دے رہے اپنے مقام سے نیچے نہیں اتر رہے، کوئی بد اخلاقی نہیں کر رہا، کوئی سختی نہیں، یہاں تک کہ وہ جو گاؤں والا نصرت کے لیے آتا ہے اس کو شہید کر دیتے ہیں اور جب اس کو قبر میں اتارا جاتا ہے اور اس کو کہا جاتا ہے قبر میں اتار کر اس کو کہا جا رہا ہے کہ جنت میں داخل ہو جاؤ، انسانیت کی طرف بلاؤ، اللّٰہ کے اپنے رب کے راستے کی طرف بلاؤ، حکمت اور دانائی جس کو مل گئی حکمت تو ایسی چیز ہے جس کو مل گئی بس خیر کثیر اسی کو مل گئی اور حکمت جو ہے جو مسئلہ اپ بیان کر رہے ہیں اس کے موقع محل کو سمجھنا، میں کس سے بات کر رہا ہوں، سننے والے کا مزاج کیا ہے، اس کی تربیت کہاں ہوئی ہے وہ نرم دل والے ہیں یا سخت دل والے ہیں، میری بات کو وہ قبول کرے گا نہیں کرے گا۔ اگر اپ سمجھتے ہیں کہ اج وہ قبول نہیں کرتا تو اس کو دوست بنا لو تاکہ مانوس ہو جائیں اپ کے ساتھ، اس قابل ہو جائے کہ اپ کی بات کو قبول کر سکے اور آپ کی گفتگو میں شائستگی ہو، ہاں دعوت دینے والا اور جس کو دعوت دی جا رہی ہے کہیں پر کوئی الجھ آگئی ان کے بیچ میں، اپس میں الجھ گئے تو اس مرحلے پر ا کر بھی اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ جھگڑے والا اور جدال والے ماحول کو بھی شائستگی کے ساتھ انجام دینا ہوگا، یعنی دعوت کے ذریعے تو دو ہیں ایک حکمت اور ایک حسن موعظت، جدال جھگڑا یہ نظریہ دعوت نہیں ہے لیکن اگر درپیش ہو جائے تو پھر اس جدال کو بھی اس طرح انجام تک پہنچاؤ کہ جو نتیجہ حکمت اور حسن موعظت کا ہے وہی نتیجہ و معال اپ کے جدال میں بھی ہو۔
    تو اختلاف اجاتا ہے مظاکرہ ہوتا ہے لیکن وقار کے ساتھ، گالیوں کے ساتھ نہیں، سیاست گالیوں سے نہیں ہوتی، عبادت گالیوں سے نہیں ہوگی، عقیدے کا بیان گالیوں سے نہیں ہوگا، گالیوں سے شدت آتی ہے وہ آپ کے لیے نرم نہیں ہوگا کہ آپ کو قبول کر سکے۔ قبول نہ کرنے کا نہ ہونے کا ثبوت بن سکتا ہے تو قبول کرنے کا نہیں بن سکتا۔
    تو اس انداز کے ساتھ ہم اختلاف رائے بھی کریں گے اور ہم انسان ہیں جو بات ہم کہہ رہے ہیں کیا واقعی ہم خود بھی اس معیار پر پورے اترتے ہیں، یقیناً ہم بھی قصور وار ہوں گے لیکن جہاں ہم قصور کرتے ہیں، سخت لہجہ استعمال کرتے ہیں جہاں اپنے مخالف کے خلاف جارحانہ انداز اختیار کرتے ہیں ہمیں داد بھی اسی پہ ملتی ہے۔
    تو یہ ساری چیزیں اس میدان کی اصلاح کی چیزیں ہیں۔ ہم نے اس بات کو سمجھنا ہے کہ انسانی حقوق کیا ہیں۔ ہم نے اس بات کو سمجھنا ہے کہ مملکتی اور قومی زندگی کا دارومدار معاشی ترقی پہ ہے۔ اس سے اگے اپ کے لیے اپنی نماز ہے اپ کا اپنا مسلک ہے جس طرح پڑھیں جہاں پڑھیں روزہ رکھیں جس طرح رکھے اپ کے اعمال ذاتی اعمال ہیں۔ لیکن مملکت اپ سے دو چیزیں مانگتا ہے ایک انسانی حقوق کا تحفظ اور ایک خوشحال معیشت، لوگوں کو روزگار دینا، لیکن جب اللّٰہ اپ پر ان دونوں چیزوں کا انعام کر دے پھر شکر گزار ہونا چاہیے نا شکری اللّٰہ کو قبول نہیں۔
    وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْیَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىٕنَّةً یَّاْتِیْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْ عِ وَ الْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ۔
    اللّٰہ تعالیٰ نے ایک ابادی کی مثال دی ہے کہ وہاں امن بھی تھا سکون بھی تھا۔ جب امن ہوگا سکون بھی ہوگا اطمینان بھی ہوگا۔ ہر طرف سے رزق کچ کچ کے آتا تھا ان کے پاس، خوشحال معیشت تھی وہاں، لیکن جب انہوں نے اللّٰہ کی ناشکری کی، کفران نعمت کیا، اللّٰہ کی عبادت سے انکار کر دیا، عیاشیوں کی طرف چلے گئے، اپنی مرضی کی زندگی گزارنا جس طرح حیوانات گزارتے ہیں اور اسی کو ازادی کہہ دیا اس نے، تو پھر اللّٰہ رب العزت نے ان کو مزہ چکھایا کن چیزوں کا، دو باتوں کا، ایک بھوک کا اور ایک بد امنی کا، اللّٰہ نے ان پر بھوک اور بد امنی مسلط کر دی اور یہ ایک ایمان والوں سے بات ہو رہی ہے اپ کہیں گے کہ بھئی کافر دنیا، کافر دنیا کی تو کمٹمنٹ بھی نہیں ہے نا، آپ نے تو اللہ کے ہاں بیعت کی ہوئی ہے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہا ہوا ہے کلمہ پڑھا ہوا ہے آپ نے، جو آپ کے ساتھ کمٹمنٹ کرتا ہے اس کے بارے میں اپ کا رویہ اور ہو سکتا ہے جس کی کوئی کمٹمنٹ نہیں ہوتی۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دنیا فنا ہونے والی چیز اور اخرت ہمیشہ رہنے والی چیز ہے۔ ترغیب اسی پہ ہے کہ اخرت کو مد نظر رکھ کر اسی پہ گزارا کرو۔ لیکن کیا یہ دنیا کی نعمتیں جو اللّٰہ نے پیدا کی ہیں اس کو لات مار دیں، یہ تو اللّٰہ تعالیٰ بھی نہیں کہتا، اللّٰہ رب العزت فرماتے ہیں لوگوں سے کہہ دو یہ جو میں نے اپنے بندوں کے لیے نعمتیں پیدا کی ہیں پاک رزق پیدا کی ہے کس نے تم پر حرام کیا ہے۔ کہہ دو یہ سب کچھ دنیا میں تمہارے لئے ہے لیکن مجھے نہ ماننے والا بھی دنیا میں شریک ہوگا اور قیامت کے دن خالصتاً آپ لوگوں کے لیے ہوگا۔ یہ جو نعمتیں دنیا میں ہے یہ ہمارے لیے ہی ہے۔ ایمان والوں کے لیے ہے لیکن اگر ایمان کا رشتہ ہی اللّٰہ سے ٹوٹ جاتا ہے، کمزور ہو جاتا ہے پھر تو پڑوسی ان پر قبضہ کریں گے نا، دنیا کی نعمتوں پر اگر اج دوسری دنیا کا قبضہ ہے تو گلا اپنے سے کرو ان سے کیوں کرتے ہو، کیوں معیشت ان کے قبضے میں ہے اور کیوں ہم ان سے بھیک مانگ رہے ہیں۔ یہ ملک ہم نے اس لیے تو حاصل نہیں کیا تھا۔ ہم نے تو اس لیے حاصل کیا تھا کہ ہم ازاد ہوں گے، ہماری معیشت بہتر ہوگی، ہمارے حقوق محفوظ ہوں گے لیکن سب سے زیادہ بدامنی کی شکایت بھی ہم کر رہے ہیں۔ سب سے زیادہ معاشی بدحالی کی شکایت بھی ہم کر رہے ہیں۔ اس ملک کے لیے فکر مند ہونا یہ ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنے وطن کے لیے فکرمند ہو، اس کی بہتری کے لیے کردار ادا کرے، اس کو پرامن بنانے کے لیے ہم کردار ادا کرے۔ وہاں کے انسانی حقوق کی حفاظت کے لیے ہم کردار ادا کرے۔ وہاں کے خوشحال معیشت کے لیے ہم کردار ادا کریں اور دین اسلام کے رہنمائی میں، ہم کہتے ہیں کہ سود حرام ہے لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی تو کہتے ہیں کہ جو لوگ سودی کاروبار کہتے ہیں وہ اللّٰہ سے جنگ کے لیے تیار رہے۔ اللّٰہ سے جنگ بھی تو ہے اسلام کے نام پر حاصل کیے ہوئے ملک میں ستتر سال ہو گئے ہم آج تک اللّٰہ کے ساتھ جنگ لڑ رہے ہیں اور پھر بھی ہم خوشحالی کی بات کرتے تھے۔ آبادی کی بات کرتے ہیں، امن کی بات کرتے ہیں۔ فلاں ذمہ دار ہے، اس کا قصور ہے، اس کا قصور ہے، اور وہ نااہل ہے یہ نااہل ہے اسی طرح گزر رہی ہے۔ لیکن اصل مرض کو ہم نے اج تک پکڑنے کی کوشش نہیں کی۔
    تو یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس کے لیے ایک منظم جدوجہد کی ضرورت ہے انفرادی کام نہیں ہے اس کے لیے منظم جدوجہد کی ضرورت ہے۔ آپ حضرات اگر عملاً شریک نہیں ہو سکتے یہاں دعا تو کر سکتے جو کام کر رہے ہیں ان کو اللہ توفیق دے، اللّٰہ تعالیٰ ان کے کام میں برکت عطا فرمائے، جو کام کر رہے ہیں اللہ ان کو کامیابی نصیب فرمائے۔
    تو اچھا ہوا آج کی اس مجلس سے کچھ فائدہ ہم نے اٹھا لیا ہے اور کچھ دل کی باتیں ایک دوسرے سے کہہ دی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ان کو قبول فرما لے اور ہر قسم کے ازمائشوں سے اللّٰہ تعالی ہمیں محفوظ فرمائے، جو خطائیں ہم نے کی ہیں اللہ اپ کو معاف فرما دے اور اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اپنے پردے میں رکھے اور رسوائی سے دنیا میں بھی محفوظ رکھے اور آخرت میں بھی محفوظ رکھے۔

    وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔*

  • 2024 کے بدترین پاس ورڈز کی فہرست جاری

    2024 کے بدترین پاس ورڈز کی فہرست جاری

    سائبر سکیورٹی ماہرین کی جانب سے 2024 کے مقبول ترین یا بدترین پاس ورڈز کی فہرست جاری کی گئی ہے-

    باغی ٹی وی: NordPass نامی کمپنی کی جانب سے یہ فہرست جاری کی گئی ہے ، اس کے لیے کمپنی کی جانب سے عوامی طور پر دستیاب 2.5 ٹی بی ڈیٹا میں موجود لیک پاس ورڈز کی فہرست کا تجزیہ کیا گیا،اس فہرست کے مطابق 123456 وہ پاس ورڈ ہے جو سب سے زیادہ مقبول ہےعرصے سے ہر سال ہی کسی نہ کسی کمپنی کی فہرست میں یہ مقبول ترین/ بدترین پاس ورڈ کا ‘اعزاز’ اپنے نام کررہا ہے۔

    درحقیقت یہ گزشتہ 6 سال کے دوران 5 ویں بار ہے جب یہ پاس ورڈ اس کمپنی کی فہرست میں ٹاپ پر رہا ہے، اسی طرح 123456789 دوسرے جبکہ 12345678 تیسرے نمبر پر رہا، چوتھے نمبر پر password رہا جبکہ qwerty123 کو 5 ویں نمبر پر رکھا گیا، qwerty1 اور 111111 کے حصے میں بالترتب چھٹا اور 7 واں نمبر آیا۔

    12345 کے حصے میں 8 واں نمبر آیا جبکہ secret اور 123123 بالترتیب 9 ویں اور 10 ویں نمبر پر رہے1234567890 کے حصے میں 11 واں نمبر آیا جس کے بعد 1234567 اور 000000 بالترتیب 12 ویں اور 13 ویں نمبر پر رہے، qwerty اور abc123 بالترتیب 14 ویں سے 15 ویں نمبر کے بدترین پاس ورڈز قرار پائے،password1، iloveyou، 11111111، dragon اور monkey کے حصے میں بالترتیب 16 ویں سے 20 واں نمبر آیا، ٹاپ 20 میں شامل 18 پاس ورڈز ایسے ہیں جن کو ہیک کرنے میں ایک سیکنڈ کا وقت درکار ہوتا ہے۔

  • بارش ہمارے کنٹرول میں نہیں ہے، ہم نے پوری جان لڑائی،محمد رضوان

    بارش ہمارے کنٹرول میں نہیں ہے، ہم نے پوری جان لڑائی،محمد رضوان

    برسبین: پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان محمد رضوان کا آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی میں شکست کے بعد کہنا ہے کہ بولرز نے پوری جان لڑا ئی ہے، ہماری ٹیم میں کمزوریاں ہیں، جب جیتتے بھی ہیں تب بھی اپنی غلطیوں کو دیکھتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : میچ کے بعد قومی ٹیم کے کپتا ن محمد رضوان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پورا میچ بڑا تیز تھا،میکسویل نے بڑی اچھی بیٹنگ کی، مجھے اپنے بولرزپر پورا اعتماد ہے، اس طرح کے میچ کسی چیز کی پیش گوئی نہیں کر سکتے ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ اس لیے کیا کہ آسٹریلیا کو کم سے کم رنز تک محدود کرنے کی کوشش کریں۔

    قومی ٹیم کے کپتان کاکہنا تھا کہ بولرز نے پوری جان لڑا ئی ہے، ہماری ٹیم میں کمزوریاں ہیں، جب جیتتے بھی ہیں تب بھی اپنی غلطیوں کو دیکھتے ہیں،بولرز نے ہمیشہ پرفارم کیا اور ساتھ میں بیٹرز نے بھی پرفارم کیا، بارش ہمارے کنٹرول میں نہیں ہے، ہم نے پوری جان لڑائی، میکسویل کی گیم ہی ایسی ہے چاہے ون ڈے ہو یا ٹی ٹوئنٹی میچ ،اس کی بیٹنگ نے میچ میں فرق ڈالا ،ابھی ہم اچھے کھلاڑی تلاش کر رہے ہیں اور بہترین پلیئنگ الیون تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب پاکستان سے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں جیت کے بعد آسٹریلوی کپتان جوش انگلس نے کہا ہے کہ ٹیم نے شاندار فتح حاصل کر کے مداحوں کے دل جیت لیے انہوں نے کھلاڑیوں کی کارکردگی کی تعریف کی اور کہا، "بہت ہی اچھی فتح رہی لڑکوں نے خود کو بہترین طریقے سے ثابت کیا۔ ون ڈے سیریز کے بعد جیت حاصل کرنا بہت خوشی کی بات ہے۔

    آسٹریلوی کپتان نے خاص طور پر بولرز کی تعریف کرتے ہوئے کہا، "بولرز نے شروع میں ہی وکٹیں حاصل کر کے بہترین کام کیا اور جو بھی حکمت عملی اپنائی، اسے کامیابی سے انجام دیا، یہ فتح کھلاڑیوں کی لگن اور محنت کا نتیجہ تھی اور اس جیت نے ٹیم کے حوصلے کو مزید بلند کر دیا ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان 3 ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کا پہلا میچ آج برسبین میں کھیلا گیا ۔ بارش سے متاثرہ میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو 29 رنز سے شکست دی، بارش کے باعث دونوں ٹیموں کے درمیان فی اننگز 7 اوورزکا کھیل ہوا، پاکستان نے ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ کیا تھا۔

    آسٹریلیا کی جانب سے گلین میکسویل 19 گیندوں پر 43 رنز کی شاندار اننگز کھیل کے آؤٹ ہوئے تھے، ان کی اننگز میں 5 چوکے اور 3 چھکے شامل تھے آسٹریلیا کی جانب سے دیئے گئے 94 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی ٹیم مقررہ 7 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 64 رنز ہی بنا سکی۔

  • لبنان،کیپٹن سمیت اسرائیل کے چھ فوجی ہلاک

    لبنان،کیپٹن سمیت اسرائیل کے چھ فوجی ہلاک

    لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جاری لڑائی میں گزشتہ روز مزید 6 اسرائیلی فوجی مارے گئے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ لبنانی سرحد پر حزب اللہ کے ساتھ لڑائی کے دوران ایک کیپٹن سمیت 6 فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے لبنانی سرحدی علاقوں میں اپنی کارروائیوں میں مزید توسیع کا اعلان کیا تھا، اور یہ اسرائیلی فوج کا پہلا بڑا جانی نقصان ہے۔اسرائیلی فوج کے مطابق، فوجی ایک سرحدی گاؤں میں واقع عمارت میں کارروائی کے دوران حزب اللہ کے جنگجوؤں کے ساتھ ہونے والی جھڑپ میں ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والے تمام فوجی گولانی بریگیڈ سے تعلق رکھتے تھے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق، لبنان میں اسرائیل کی زمینی کارروائی کے آغاز سے اب تک 47 اسرائیلی فوجی مارے جا چکے ہیں۔

    جنوبی لبنان میں اسرائیلی اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں، متعدد ہلاکتیں
    لبنان کے جنوبی علاقے بنت جبیل کے اطراف میں اسرائیلی فوج کے زمینی دستوں اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کے درمیان شدید لڑائیاں جاری ہیں۔ لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق یہ جھڑپیں ایترون گاؤں کے قریب اور عیناتا گاؤں کی سمت میں ہو رہی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔دوسری جانب، جنوبی لبنان کے حباریہ گاؤں میں اسرائیلی فضائی بمباری سے ایک کسان، یاسین عبداللہ ابو قیس، ہلاک ہوگئے ہیں۔ حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے اسرائیلی فوج کے 146ویں ڈویژن کے لیے شمال مشرقی نیٹیو حیشیارا سیٹلمنٹ اور نہاریا شہر کے مشرق میں ایک لاجسٹک بیس پر میزائل حملہ کیا ہے۔ حزب اللہ نے اسرائیل کے شمالی سرحدی پوسٹ، جَل العالَم اور شہر نہاریا پر بھی راکٹ حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

    اسی دوران اسرائیلی فوج نے بیروت کے مضافاتی علاقوں حریت حرک اور برج البراجنہ سے مقامی افراد کو نقل مکانی کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ بیروت کے علاقے شوفیحات، العَمروسیہ اور غوبیریہ سے بھی اسی طرح کے انخلاء کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد اسرائیلی ڈرون کا ایک حملہ بھی اس علاقے میں ہوا۔اسرائیلی فوج نے نگیو کے علاقے میں واقع غیر تسلیم شدہ گاؤں ام المسمیر پر دھاوا بول کر وہاں کی آخری عمارت، ایک مسجد، کو منہدم کر دیا، جس کی تصدیق فلسطینی نیوز ایجنسی وفا نے کی ہے۔

    دریں اثناء، اسرائیل کی آبادکاری کی وزیر اورریٹ اسٹروک نے ایک اسرائیلی اخبار "یدعوت احرونوت” سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ اسرائیل کو غزہ میں مزید زمینوں پر قبضہ کرنا چاہیے تاکہ حماس کو یہ سمجھا سکے کہ کچھ قیمتیں ایسی ہیں جو وہ ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی کی رپورٹ: اسرائیل کا جنگی رویہ نسل کشی کے مترادف
    اقوام متحدہ کی خصوصی کمیٹی کی ایک حالیہ رپورٹ میں اسرائیل کے جنگی رویے کو "نسل کشی کے مترادف” قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کی ناکہ بندی، انسانی امداد کی رکاوٹ، اور شہریوں و امدادی کارکنوں پر حملے کے ذریعے جان بوجھ کر موت، قحط اور سنگین زخمیوں کو پیدا کیا جا رہا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی فضائی بمباری اور جدید مصنوعی ذہانت کے استعمال نے خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کو جنم دیا ہے، جو اسرائیل کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے کہ وہ شہریوں اور جنگجوؤں کے درمیان فرق کرے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مناسب تدابیر اپنائے۔اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اسرائیل کے حملوں نے "ماحولیاتی تباہی” مچا دی ہے، جس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں گے۔

  • پلاسٹک کے ننھے ذرات بارشوں کے نظام پر اثر  انداز ہوتے ہیں،تحقیق

    پلاسٹک کے ننھے ذرات بارشوں کے نظام پر اثر انداز ہوتے ہیں،تحقیق

    امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات موسموں پر اثرانداز ہو رہے ہیں اور ان کے باعث بارش برسنے کا نظام بدل گیا ہے۔

    باغی ٹی وی:جرنل انوائرمنٹل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں شائع پین اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات سمندروں سے لے کر ہمارے جسموں میں ہر جگہ پائے جاتے ہیں اور یہ بادلوں کی ‘سیڈنگ’ کا کام بھی کرتے ہوئے آسمان میں برفانی کرسٹلز بننے میں مدد فراہم کر رہے ہیں لیبارٹری تجربات میں دیکھا گیا کہ کس طرح پلاسٹک کے ننھے ذرات بادلوں کے بننے کے عمل پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

    سائنسدانوں نے نے پلاسٹک کے ذرات کی 4 عام اقسام کو ان تجربات کے لیے استعمال کیا اور مشاہدہ کیا کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات گرم درجہ حرارت میں بننے والے برفانی کرسٹلز میں موجود تھے یا یوں کہہ لیں کہ ان ذرات نے برف بننے کے عمل کو زیادہ آسان کردیا، یہاں تک کہ زیادہ درجہ حرارت میں بھی ایسا ممکن ہوا۔

    محققین کے مطابق برفانی کرسٹلز بارش کے لیے ضروری ہوتے ہیں اور پلاسٹک کے ننھے ذرات کی مدد سے وہ زیادہ آسانی سے بننے لگے اس دریافت سے یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات کس طرح ہمارے ماحول پر اثرانداز ہو رہے ہیں یہ ذرا ت ممکنہ طور پر بارش برسنے کے عمل پر 2 متضاد طریقوں سے اثرات مرتب کرتے ہیں، یعنی کہیں یہ بارش برسنے کی مقدار میں کمی لاتے ہیں اور کہیں بہت زیادہ بارش برسنے کا باعث بنتے ہیں۔

    مثال کے طور پر ان ذرات سے آلودہ فضا میں بادلوں میں موجود پانی متعدد چھوٹے ذرات میں پھیل جاتا ہے جس سے بارش کم برسنے لگتی ہے مگر جب یہ ننھے ذرات مل کر بڑے ہوتے ہیں تو بارش کی شدت معمول سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔