Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • بھارت میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے اختیارات فوج کے سپرد

    بھارت میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے اختیارات فوج کے سپرد

    بھارتی وزارت دفاع نے فوج سے متعلق سوشل میڈیا پر غیر قانونی مواد کے بارے میں نوٹس جاری کرنے کا اختیار اب فوج کے سپرد کردیا ہے

    اس مقصد کیلئے وزارت دفاع نے ایک اعلیٰ فوجی افسر، ایڈیشنل ڈائریکٹوریٹ جنرل اسٹریٹجک کمیونیکیشن کو "نوڈل آفیسر” کے طور پر مقرر کر دیاہے،یہ افسر آئی ٹی ایکٹ کے سیکشن 79(3)(b) کے تحت بھارتی فوج سے متعلق غیر قانونی مواد کے بارے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ہٹانے کی درخواستوں سمیت نوٹس بھیج سکتا ہے،وزارت دفاع کے اندرونی ذرائع کے مطابق،”اس نوٹیفکیشن سے پہلے، بھارتی فوج غیر قانونی مواد کو ہٹانے یا بلاک کرنے کیلئے الیکٹرانکس اور آئی ٹی کی وزارت پر انحصار کرتی تھی ،اس نوٹیفکیشن کے ساتھ، اے ڈی جی (اسٹریٹجک کمیونیکیشن) اب کیسز کی شناخت کر سکتے ہیں اور بھارتی فوج سے متعلق غیر قانونی مواد کے بارے میں میڈیا پلیٹ فارمز کو براہ راست نوٹس بھیج سکتے ہیں

    ذرائع کے مطابق،”اس کے بعد یہ ثالثوں پر منحصر ہوگا کہ وہ اس مواد کو کیسے ہینڈل کریں” اس طرح کے مواد کے اثرات فوری ہوتے ہیں، اور الیکٹرانکس اور آئی ٹی کی وزارت کے استعمال میں زیادہ وقت لگتا ہے۔بھارتی ذرائع نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ:”اگر پاکستان میں قائم اکاؤنٹ غلط معلومات پھیلا رہا ہے، تو ہمیں اس قابل ہونے کی ضرورت ہے کہ ہم براہ راست ثالثوں کو نوٹس بھیج سکیں”ذرائع نے مزید کہا کہ قومی سلامتی کے مسائل کے لیے جو فوج کے امیج کو متاثر کرتے ہیں، اب کمپنیوں کو الرٹ کرنے کا ایک براہ راست طریقہ موجود ہے،آئی ٹی ایکٹ کا سیکشن 79 ان شرائط کا خاکہ پیش کرتا ہے جن کے تحت ثالث فریق ثالث کے مواد کی ذمہ داری سے تحفظ کا دعویٰ کر سکتے ہیں

    سیکشن 79(3)(b) کے مطابق،” یہ تحفظ لاگو نہیں ہوتا ہے اگر ثالث حکومت یا اس کی ایجنسی کی طرف سے مطلع کیے جانے کے بعد رسائی کو ہٹاتایا بلاک نہیں کرتا ہے،24 اکتوبر کے نوٹیفکیشن کے بعد سے سوشل میڈیا کمپنیوں کو کوئی نیا ٹیک ڈاؤن نوٹس جاری نہیں کیا گیا ہے،فروری میں، وزارت اطلاعات و نشریات نے بھارتی فوج کے خلاف الزامات کے بارے میں دی کاروان کی ایک خبر کو ہٹانے کا حکم دیا،قانونی ماہرین نے نوٹ کیا ہے کہ،”سیکشن 79(3)(b) اس بارے میں ابہام پیدا کرتا ہے کہ کون ٹیک ڈاؤن نوٹس جاری کر سکتا ہے اور ایسا کرنے کی وجوہات کے ساتھ ساتھ اس طرح کی کارروائیوں کو چیلنج کرنے کے امکانات بھی موجود ہیں”یہ سیکشن مختلف وزارتوں، محکموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آئی ٹی ایکٹ کے دیگر سیکشنز کے مقابلے میں کم حد کے ساتھ ٹیک ڈاؤن نوٹس جاری کرنے کا وسیع تر اختیار فراہم کرتا ہے۔

    قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حقائق اس بات کی غمازی کرتےہیں کہ کسی بھی ملک کی فوج کو جب اپنا امیج خطرے میں نظر آتا ہے تو وہ قانون سازی کرتے ہیں،یہ تمام حقائق مغربی ممالک کیلئے بھی مثال ہیں جو بھارت کو جمہوریت کا چیمپئن قرار دیتے ہیں کہ وہاں پر بھی فوج کو تحفظ دینے کیلئے قدغن لگائی جا رہی ہے،

    عوام کو سوشل میڈیا کے ذریعے ریاست کیخلاف اکسانے والا گرفتار

    غیر اخلاقی ویڈیوشیئر کرنے پر دانیہ شاہ کا شوہر حکیم شہزاد گرفتار

    ٹک ٹاکر مناہل ملک کی انتہائی نازیبا،جسمانی تعلق،بوس و کنارکی ویڈیو وائرل

    سوشل میڈیا پروپیگنڈہ،افواہیں پھیلانے والوں کے گرد گھیرا تنگ،اہم منظوری

    سوشل میڈیا لائیکس اور ڈسلائیکس کیلئے اداروں سے کھیلا جا رہا ہے،چیف جسٹس

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

  • بھارتی فضائیہ میں تیجس مارک1 اے طیاروں کی شمولیت  مزید تاخیر کا شکار

    بھارتی فضائیہ میں تیجس مارک1 اے طیاروں کی شمولیت مزید تاخیر کا شکار

    بھارتی فضائیہ میں تیجس مارک1 اے طیاروں کی شمولیت  مزید تاخیر کا شکار ہو گئی ہے

    مودی سرکار کے تیسرے دوراقتدار میں بھی بھارت کی خطے میں بالادستی کی خواہش برقرارہے ،بھارت کو ہوائی محاذ پربالادستی میں مشکلات کا سامنا ہے اور اس کی وجہ تیجس مارک 1 اے طیاروں کے ایجنوں کی فراہمی میں تاخیرہے،امریکی کمپنی جنرل الیکٹرک سے انجن کی فراہمی میں تاخیر کی بدولت بھارتی فضائیہ کو تیجس مارک 1 اےطیاروں کے لیے 2025 کے وسط تک انتظار کرنا ہوگا،

    بھارتی جریدے کی رپورٹ کے مطابق،”جنرل الیکٹرک ایئر سپیس کمپنی نے F4-4-IN20 انجنوں کی فراہمی ملتوی کر دی ہے” یہ انجن بھارت کو 2025ء تک ملنے تھے مگر اب یہ دو سال بعد دستیاب ہونگے،جنرل الیکٹرک کمپنی کا اس حوالے سے موقف ہے کہ:”کمپنی کو سپلائی چین کی مشکلات کا سامنا ہے بالخصوص شراکت دار جنوبی کوریا کے ساتھ کچھ مالی مسائل کا بھی سامنا ہے جس سے انجن کے اہم پرزوں کی دستیابی متاثر ہے،بھارت کو تیجس مارک 1اے طیاروں کی فراہمی میں تاخیر کی تصدیق اس وقت ہوئی جب بھارتی وزیراعظم اور وزیردفاع نے یہ مسئلہ حالیہ دورہ امریکا میں اٹھایا،تاہم ہندوستانی فضائیہ نے LCA Mk1A پروگرام کی سست پیش رفت پر عدم اطمینان کا اظہار کیا،ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ کی جانب سے 2024-25کے مالی سال میں صرف دو سے تین تیجس مارک1 اےجیٹ طیارے فراہم کرنے کی توقع ہے،بھارت اور جنرل الکٹرک کے درمیان جو معاہدہ فروری 2021ء میں طے پایا تھا اس کے مطابق 16 طیارے ملنے تھے،بھارتی حکومت کی یہ خواہش بھی ہے کہ جنرل الیکٹرک مقامی طور پر انجن کی تیاری کیلئے اسے ٹیکنالوجی منتقل کرے ،یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ;تاخیر کی وجہ سے بھارت ایئروناٹکس لمیٹڈ جنرل الکٹرک کے ساتھ اپنے معاہدے میں جرمانے کی شقیں لگا سکتا ہے

    روس کیخلاف جنگ میں مدد،امریکہ نے بھارتی کمپنیوں،شہریوں پر لگائی پابندی

    مودی نے بھارتی فوج کی وردی پہن کر فوجی جوانوں کے ہمراہ منائی دیوالی

    اکھنور ،بھارتی فوج کا تربیت یافتہ کتا”فینٹم”مقابلے میں ہلاک

    بھارتی ایئر لائنز کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں،ہیکرزکا وی پی این کا استعمال

    ایک ہی دن میں انڈیا کے درجنوں مسافر طیاروں کو بم کی دھمکیاں موصول

    امریکن ایئر لائنز پھر بحران کا شکار،ملازمین نوکریوں سے فارغ

    کوکین سمگل کرنے کا جرم،امریکن ایئر لائن کے سابق مکینک کو سزا

    جہاز میں بم ہے،پرچی ملنے کے بعد ہنگامی لینڈنگ

    بم کی دھمکی ملنے کے بعد بھارتی ایئر لائن کا رخ موڑ دیا گیا

  • اسپین،طوفان سے 200 ہلاکتیں،2 ہزار سے زائد لاپتہ،ہر طرف تباہی

    اسپین،طوفان سے 200 ہلاکتیں،2 ہزار سے زائد لاپتہ،ہر طرف تباہی

    سپین کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں تین روز پہلے ہونے والی طوفانی بارشوں سے جانی و مالی نقصان ہوا ہے ، ان طوفانی بارشوں کی وجہ سے202 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد ابھی تک لا پتہ ہیں ۔

    سپین میں ان طوفانی بارشوں سےکئی علاقے زیرِ آب، سڑکیں، موٹروے، ریلوے کی پٹڑیاں تباہی کا شکار ہو چکی ہیں،خصوصاً مشرقی شہر بالینسیا کے مضافاتی علاقے شدید تباہی کا شکار ہوئے ہیں،سپین کی افواج کی ایمرجنسی یونٹ اور دیگر امدادی اداروں کے ہزاروں اہلکار امدادی کارروائیوں میں مسلسل مصروف ہیں۔سپین کے شہر والینسیا میں حالیہ مہلک طوفان کے نتیجے میں تقریباً 2,000 افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔ یہ طوفان، جسے مقامی زبان میں "مونسترو طوفان” کا نام دیا گیا ہے، شہر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید نقصانات کا باعث بنا ہے۔جزیرہ بھر میں طوفان کی پیشگوئی کے پیش نظر لاک ڈاؤن کا آغاز ہو چکا ہے۔مقامی افراد اور سیاحوں کو اندر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، کیونکہ شہر طوفان کی شدت کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو رہا ہے۔ ہسپانیہ کی قومی موسمیاتی سروس نے خبردار کیا ہے کہ شدید موسم کے نظام کی وجہ سے بڑے سیلاب کا خطرہ ہے۔

    اب تک ہسپانیہ بھر میں 200 سے زائد افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ حکام کو خدشہ ہے کہ یہ تعداد آنے والے گھنٹوں اور دنوں میں تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔پالما میں شہر کی مرکزی سڑکوں کو ریڈ ٹیپ سے بند کیا گیا ہے، اور سڑکیں تقریباً سنسان نظر آ رہی ہیں۔ عوامی پارک، باغات اور قبرستان اتوار تک بند رہیں گے، جبکہ بے گھر افراد کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے نکالا جا رہا ہے۔پالما کے پہلے نائب میئر، خاویر بونٹ نے کہا کہ لوگوں کو صرف اسی صورت میں اپنے گھروں سے نکلنے کی اجازت ہے جب یہ "بہت ضروری” ہو۔ انہوں نے مزید کہا: "ہم ریڈ الرٹ پر نہیں ہیں، لیکن آبادی کو مزید خطرات سے بچانے کے لیے آگاہ کرنا ضروری ہے۔”

    پالما میں حکام نے شدید موسمی انتباہات جاری کیے ہیں جو آج صبح 10 بجے سے نافذ ہو چکے ہیں اور یہ پورے ہفتے کے آخر تک جاری رہیں گے۔ اس دوران کئی عوامی مقامات بند رہیں گے۔اسی دوران، والنسیا میں بچاؤ کی ٹیمیں پھنسے ہوئے گاڑیوں اور متاثرہ عمارتوں میں لاشوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ مقامی رہائشی اپنی برباد شدہ گھروں سے جو کچھ بچا سکتے ہیں، بچانے کی کوشش کر رہے ہیں،منگل کے روز آنے والے خوفناک طوفانی سیلابوں نے کم از کم 205 جانیں لے لی ہیں، جن میں سے 155 ہلاکتیں مشرقی والنسیا کے علاقے میں ہوئی ہیں۔آج کوسٹا ڈی لا لوز کے تفریحی مقام آئسلا کریسٹینا میں ایک خوفناک پانی کی مہیب لہریں ساحل پر آئی ہیں۔ اس موسمی مظہر نے چھوٹی کشتیوں کو ہوا میں پھینک دیا اور درختوں کو اکھاڑ دیا۔

    برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے آج کہا کہ برطانیہ "ہسپانیہ کے ساتھ ہے”، انہوں نے اپنے ہسپانوی ہم منصب پیڈرو سانچیز سے رابطہ کرکے تعزیت پیش کی۔سر کیئر نے کہا: "میری دعائیں ان لوگوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنی جانیں گنوائیں، ان کے خاندانوں کے ساتھ اور تمام متاثرہ افراد کے ساتھ جو ہسپانیہ میں شدید سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ برطانیہ اس مشکل وقت میں ہسپانیہ کے ساتھ ہے۔”

    جمعہ کی رات آنے والے اس طوفان نے زوردار ہواؤں اور شدید بارشوں کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ شہر کی سڑکیں زیر آب آ گئیں، اور کئی عمارتیں منہدم ہو گئیں۔ مقامی حکام نے بتایا کہ لاپتہ افراد میں زیادہ تر لوگ وہ ہیں جو طوفان کے دوران اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات کی تلاش میں نکلے تھے۔ریسکیو ٹیمیں اور امدادی ادارے تیزی سے متاثرہ علاقوں میں پہنچ رہے ہیں۔ حکام نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی معلومات فراہم کریں تاکہ لاپتہ افراد کی تلاش میں مدد مل سکے۔ ریسکیو عملے نے بتایا کہ متعدد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، مگر نقصانات کی شدت کے باعث مزید مدد کی ضرورت ہے۔سپین کی حکومت نے طوفان کے بعد ایمرجنسی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے متاثرہ علاقوں میں امداد کی فراہمی کے لئے ہنگامی فنڈز کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ حکومت ہر ممکن مدد فراہم کرے گی تاکہ نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے۔

    پی آئی اے نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟سعد نذیر کا کھرا سچ میں جواب

    پی آئی اے نجکاری،خیبر پختونخوا حکومت کی بولی کا حصہ بننے کی خواہش

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

  • حساس معلومات لیک ہونے کی تحقیقات: نیتن یاہو کے دفتر کے کئی مشتبہ افراد گرفتار

    حساس معلومات لیک ہونے کی تحقیقات: نیتن یاہو کے دفتر کے کئی مشتبہ افراد گرفتار

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر سے حساس معلومات کے لیک ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے نتیجے میں متعلقہ تحقیقات کے دوران متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس واقعے نے ملک میں سلامتی کے معاملات اور حکومتی شفافیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، مجسٹریٹ عدالت کے جج مناحم مزراہی نے اس معاملے کی تحقیقات کے بارے میں اہم معلومات فراہم کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی سیکیورٹی ایجنسیز، بشمول شن بیٹ، اسرائیلی پولیس، اور فوج نے مشترکہ طور پر تحقیقات کا "اوپن فیز” شروع کیا ہے۔ اس مرحلے میں، قومی سلامتی کی خلاف ورزی کے حوالے سے ایک اہم راز کی افشاء کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔جج نے تصدیق کی ہے کہ اس تحقیقات کے دوران متعدد مشتبہ افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔
    تاہم، عدالت نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ آیا ان میں نیتن یاہو کے معاونین بھی شامل ہیں۔ یہ بات اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ اگر وزیراعظم کے قریبی افراد اس معاملے میں ملوث پائے گئے تو اس سے حکومت کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر نے ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ حساس معلومات لیک ہونے کی تحقیقات میں ان کے دفتر کے کسی بھی رکن کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ اس وضاحت نے کچھ حد تک عوام کی تشویش کو کم کرنے کی کوشش کی، لیکن میڈیا کے مطابق، عدالت نے تحقیقات پر جزوی پابندی ہٹا دی ہے، جس کے باعث مزید تفصیلات آنے کی توقع ہے۔اس واقعے نے اسرائیلی عوام میں بے چینی پیدا کر دی ہے، اور یہ سوالات اٹھائے ہیں کہ کیا حکومتی ادارے واقعی عوامی سلامتی کو ترجیح دے رہے ہیں یا نہیں۔ ایسے میں جب ملک کئی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، یہ تحقیقات اس بات کا تعین کریں گی کہ آیا حکومتی شفافیت برقرار رہ سکتی ہے یا نہیں۔

  • مجھے”امپورٹنٹ مال” کیوں کہا؟ خاتون بھڑک اٹھی،مقدمہ درج

    مجھے”امپورٹنٹ مال” کیوں کہا؟ خاتون بھڑک اٹھی،مقدمہ درج

    خاتون کو "امپورٹنٹ مال” کہنے پر خاتون بھڑک اٹھیں، مقدمہ درج کروا دیا

    ممبئی کی ممبادیوی سیٹ سے شیو سینا کی امیدوار شائنا این سی نے شیو سینا (یو بی ٹی) کے رکن پارلیمنٹ اروند ساونت کے خلاف مقدمہ درج کروایا ہے،ارود ساونت نے شیو سینا کی امیدوار کے لیے "امپورٹنٹ مال” کا لفظ استعمال کیا تھا جس پر شائنا بھڑک اٹھیں اور بولیں "میں کوئی چیز نہیں، میں ایک عورت ہوں۔ ادھو ٹھاکرے خاموش ہیں، نانا پٹولے خاموش ہیں، لیکن ممبئی کی خواتین خاموش نہیں رہیں گی۔”

    ناگپاڑا پولیس اسٹیشن میں اندراج مقدمہ کے بعد شائنا کا کہنا تھا کہ "یہ ایف آئی آر سیکشن 79 اور سیکشن 356 (2) کے تحت درج کی گئی ہے۔ انہوں نے غلط الفاظ استعمال کیے ہیں۔ میں یہاں ایک کارکن کے طور پر کام کرنے آئی ہوں۔ اگر آپ میری عوامی خدمات یا سیاسی سرگرمیوں کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں، لیکن مجھے ‘امپورٹنٹ مال’ نہیں کہہ سکتے۔ قانون کو اپنا کام کرنے دیجئے، میں نے جو کرنا تھا وہ کر لیا ہے۔” "ہم سب جانتے ہیں کہ یہ مہاونا ش اگھاڑی خواتین کی عزت نہیں کرتی۔ آج لکشمی پوجن کا دن ہے، اور اروند ساونت کیا کہتے ہیں کہ آپ ‘امپورٹنٹ مال’ ہیں؟ مال کا مطلب ہے چیز۔ میں 20 سال سے عوامی زندگی میں ہوں، میں ایک عورت ہوں، لیکن گالی گلوچ کے خلاف قانون اپنا کام کرے گا۔”

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    اسٹیل مل کی نجکاری نہیں، چلائیں گے، شرجیل میمن

  • روس کیخلاف جنگ میں مدد،امریکہ نے بھارتی کمپنیوں،شہریوں پر لگائی پابندی

    روس کیخلاف جنگ میں مدد،امریکہ نے بھارتی کمپنیوں،شہریوں پر لگائی پابندی

    امریکہ نے روس کے خلاف جنگ میں مدد دینے پر 19 بھارتی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں

    امریکہ نے بھارت کی 19 نجی کمپنیوں اور دو بھارتی شہریوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ یہ اقدام یوکرین میں روس کی جنگی کوششوں میں مدد دینے کے الزام میں اٹھایا گیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے اس بات کی تصدیق کی ,اس سے قبل بھی بھارتی کمپنیوں کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، لیکن اس بار کا اقدام خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے۔یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں، خاص طور پر ایک بھارتی شہری کے حوالے سے ایک سازش کے الزام میں جو سکھ علیحدگی پسند رہنما پنن کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کی گئی تھی۔ امریکہ نے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں بھارت کی تحقیقات سے "معنی خیز جوابدہی” تک مطمئن نہیں ہوگا۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے اپنی پریس ریلیز میں کہا، "امریکہ آج تقریباً 400 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کر رہا ہے تاکہ روس کی غیر قانونی جنگ میں اس کی مدد کو روک سکے۔” اس کے تحت 120 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جبکہ خزانہ کے محکمے نے 270 سے زیادہ افراد اور اداروں پرپابندی عائد کی ہے،امریکہ کی جانب سے یہ اقدام چین، ملائیشیا، تھائی لینڈ، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ ساتھ بھارت میں بھی مختلف کمپنیوں کو نشانہ بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے، جنہوں نے روس کو اہم سامان فراہم کیا ہے۔

    بھارتی کمپنیوں جنہوں نے روس کی جنگ میں مدد کی اور ان پر پابندی لگائی گئی ان میں اسینڈ ایوی ایشن انڈیا پرائیویٹ، ماسک ٹرانس، ٹی ایس ایم ڈی گلوبل پرائیویٹ لمیٹڈ، اور فیوٹریوو و دیگر شامل ہیں،امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں اس کے عزم کا حصہ ہیں کہ وہ روس کی فوجی بیس کو کمزور کرنے اور جنگ کی مالی معاونت کے لیے بین الاقوامی مالیاتی نظام کا استحصال کرنے سے روکیں۔ امریکہ کا الزام ہے کہ اسینڈ ایوی ایشن نے مارچ 2023 سے مارچ 2024 کے دوران روسی کمپنیوں کو 700 سے زائد شپمنٹس بھیجی ہیں، جن میں 200000 ڈالر سے زیادہ مالیت کی اہم ترین اشیاء (کامن ہائی پرائیرٹی لسٹ یا سی ایچ پی ایل آئٹمز) شامل تھیں۔ماسک ٹرانس کمپنی پر الزام ہے کہ اس نے جون 2023 سے اپریل 2024 کے دوران روس کو 300000 ڈالر سے زائد مالیت کی سی ایچ پی ایل اشیاء فراہم کی ہیں۔

    یہ پہلا موقع نہیں جب امریکا نے بھارتی کمپنیوں پر پابندی عائد کی ہے، اس سے پہلے نومبر 2022 میں ایس آئی 2 مائیکرو سسٹمز پر بھی پابندی لگائی گئی تھی، اس کمپنی پر الزام تھا کہ یہ روسی ملٹری کو امریکی نژاد انٹیگریٹڈ سرکٹ فراہم کر رہی تھی، جو جنگ میں استعمال ہو سکتے تھے۔

    امریکا کی ان پابندیوں کا مقصد روس پر معاشی دباؤ ڈالنا ہے تاکہ اسے یوکرین پر حملہ روکنے پر مجبور کیا جا سکے، امریکا کے مطابق یہ اقدامات بین الاقوامی امن کی پاسداری اور عالمی قوانین کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں،ان پابندیوں کے تحت ان کمپنیوں کا امریکی منڈی میں داخلہ، مالی وسائل تک رسائی اور دیگر تجارتی سرگرمیاں محدود کر دی گئی ہیں،امریکا کا کہنا ہے کہ جو بھی عالمی ادارہ روسی جنگ میں شامل ہوگا یا اس کی مدد کرے گا، اسے ایسی ہی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا،متعدد امریکی صدور نے روس پر پابندیاں سخت کی ہیں، جس کے نتیجے میں ماسکو نے بھارت، چین اور عالمی جنوبی ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو بڑھایا ہے۔ جب روس نے 2022 میں یوکرین پر حملہ کیا، تو صدر جو بائیڈن نے کہا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کی قیادت کرے گا تاکہ روس کے خلاف ایک اقتصادی جنگ شروع کی جا سکے، جس سے ماسکو کی معیشت متاثر ہو اور کریملن کی جنگی مشین رک جائے۔خزانہ کے شعبے کا دعویٰ ہے کہ حالیہ پابندیاں ماسکو کی معیشت پر اثرانداز ہونے والی اقتصادی جنگ کا نتیجہ ہیں۔

    مودی نے بھارتی فوج کی وردی پہن کر فوجی جوانوں کے ہمراہ منائی دیوالی

    اکھنور ،بھارتی فوج کا تربیت یافتہ کتا”فینٹم”مقابلے میں ہلاک

    بھارتی ایئر لائنز کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں،ہیکرزکا وی پی این کا استعمال

    ایک ہی دن میں انڈیا کے درجنوں مسافر طیاروں کو بم کی دھمکیاں موصول

    امریکن ایئر لائنز پھر بحران کا شکار،ملازمین نوکریوں سے فارغ

    کوکین سمگل کرنے کا جرم،امریکن ایئر لائن کے سابق مکینک کو سزا

    جہاز میں بم ہے،پرچی ملنے کے بعد ہنگامی لینڈنگ

    بم کی دھمکی ملنے کے بعد بھارتی ایئر لائن کا رخ موڑ دیا گیا

  • وینکوور مال میں فائرنگ، ایک شخص ہلاک، دو زخمی

    وینکوور مال میں فائرنگ، ایک شخص ہلاک، دو زخمی

    وینکوور مال کے فوڈ کورٹ میں فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور دو دیگر زخمی ہوگئے۔ وینکوور پولیس کے مطابق، مشتبہ شخص کوابھی تک گرفتار نہیں کیا جا سکا

    جمعرات کی شام تقریباً 7:30 بجے مال میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی کہ اسی دوران دوسری منزل پر فائرنگ ہوئی۔ ہزاروں افراد بھاگ کر پارکنگ لاٹ میں پہنچ گئے، جبکہ کچھ افراد نے محفوظ جگہوں پر پناہ لی۔وینکوور پولیس کی ترجمان نے بتایا کہ مشتبہ شخص نے فوڈ کورٹ میں ایک شخص کو گولی ماری، اور پھر مزید فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو دیگر افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ہے، مگر ان کی حالت کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ملی۔

    کیپ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ مال میں کوئی خطرہ نہیں ہے اور اہلکار مال کو منظم طریقے سے کلیئر کر رہے ہیں، تفتیشی افسران نے مشتبہ شخص کی شناخت کے لیے مال کے اندر کی ویڈیوز کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔کیپ نے مشتبہ شخص کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔ وینکوور پولیس کا میجر کرائمز یونٹ اس تفتیش کی قیادت کر رہا ہے،

    نیٹالیہ براؤن، جو مال میں بند ہونے سے تقریباً آدھا گھنٹہ پہلے کام کر رہی تھیں، نے کہا: "ہم کام ختم کرنے والے تھے۔ اچانک ایک زور دار آواز سنائی دی۔ مجھے معلوم تھا کہ یہ گولیوں کی آواز ہے، سات سے آٹھ گولیاں،آواز سن کر لوگ بھاگنے لگے۔”براؤن اور ان کے ساتھیوں نے لوگوں کو دکان کے اندر لانے کی کوشش کی اور پھر شام 7:30 بجے کے بعد دروازے بند کر کے انہیں محفوظ کر لیا۔ وہ تقریباً 9 بجے تک اندر رہے جب پولیس نے ان سے رابطہ کیا۔

    وینکوور پولیس نے کہا: "جو لوگ مال کے اندر پناہ لیے ہوئے ہیں، وہ کسی بھی کھلے دروازے سے باہر نکل سکتے ہیں۔ اس تفتیش کے بارے میں کسی بھی معلومات کے لیے وینکوور پولیس کے ٹپ لائن پر کال کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔”وینکوور پولیس نے لوگوں سے اس علاقے سے دور رہنے کی درخواست کی ہے۔ اس واقعے کے بعد، ایک نوجوان رائن ٹوملن نے بتایا کہ وہ دوستوں کے ساتھ باؤلنگ کھیل رہا تھا جب اسے باہر سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں۔ "ہم نے پہلی بار باؤلنگ کی اور پھر ہمیں شور سنا کہ ‘شوٹنگ، شوٹنگ! فعال شوٹر!’”

  • 107 سالہ چینی خاتون  کے سر پر سینگ  نکل آیا

    107 سالہ چینی خاتون کے سر پر سینگ نکل آیا

    چین کے صوبے گوانگ ڈونگ سے تعلق رکھنے والی 107 سالہ خاتون اپنے سر پر 10 سینٹی میٹر لمبے سینگ کی بدولت مشہور ہوگئی ہیں۔ یہ غیر معمولی خاتون، جنہیں مقامی سطح پر "چِن” کہا جاتا ہے، اپنی طویل عمر اور منفرد سینگ کی وجہ سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بن چکی ہیں۔ چِن کی صحت حیرت انگیز طور پر بہترین ہے۔ وہ اچھی خوراک کھاتی ہیں اور تھکن یا ناامیدی کا کوئی شائبہ بھی نہیں دکھاتی ہیں۔ چِن خود بھی اپنی اچھی صحت پر شکر گزار ہیں اور زندگی سے بھرپور لطف اٹھا رہی ہیں۔ مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ یہ سینگ ان کی طویل زندگی کا راز ہے اور اسے ایک خاص اعزاز سمجھا جاتا ہے۔طبی ماہرین ایسے سینگ پر نظر رکھنے کی تاکید کرتے ہیں، کیونکہ اس نوعیت کی نشوونما سے سنگین مسائل، بشمول کینسر کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، چِن اس حوالے سے بے فکر ہیں اور اپنی اس منفرد خصوصیت کو خوش دلی سے قبول کرتی ہیں۔ ان کی مثبت سوچ اور خوش مزاجی نے انہیں مقامی سطح پر شہرت بخشی ہے۔

  • اسرائیلی وزیراعظم  کی بیٹے کی شادی سیکیورٹی خدشات کے باعث مؤخر کرنے پر غور

    اسرائیلی وزیراعظم کی بیٹے کی شادی سیکیورٹی خدشات کے باعث مؤخر کرنے پر غور

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے بیٹے ایوینز نیتن یاہو کی شادی کی تقریب کو سیکیورٹی خدشات کے باعث مؤخر کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ یہ تقریب 26 نومبر کو تل ابیب کے ایک فارم ہاؤس میں منعقد ہونے والی تھی، لیکن حالیہ حالات نے وزیراعظم کو اس معاملے پر دوبارہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق، نیتن یاہو نے اپنے قریبی ساتھیوں سے کہا ہے کہ مقررہ دن پر شادی کی تقریب کے انعقاد سے شرکاء کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ یہ بات خاص طور پر اہم ہے کہ 19 اکتوبر کو لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللّٰہ نے نیتن یاہو کی نجی رہائش گاہ پر ڈرون حملہ کیا تھا، جس کا نشانہ براہ راست اسرائیلی وزیراعظم کے بیڈروم کی کھڑکی بنی۔ خوش قسمتی سے، نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ اس وقت گھر میں موجود نہیں تھے، لیکن اس واقعے نے ان کی سیکیورٹی کو ایک بڑا سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔

    حالیہ دنوں میں، اسرائیل کی کابینہ کے اجلاس بھی سیکیورٹی خدشات کے باعث ایک متبادل مقام پر منتقل کیے گئے تھے۔ اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ آئندہ حکومت کے اجلاس اب وزیراعظم کے دفتر، یروشلم یا تل ابیب میں کیریا ملٹری ہیڈ کوارٹرز میں منعقد نہیں ہوں گے۔ اس کے بجائے، نئے پروٹوکول کے تحت وزراء کو اب ایک محفوظ زیر زمین مقام پر جمع ہونے کی اجازت ہوگی، جہاں صرف وزراء کی شرکت ممکن ہوگی۔حیرت انگیز طور پر، اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اس رپورٹ پر ابھی تک کوئی ردعمل نہیں دیا ہے، جس سے اس معاملے کی حساسیت اور اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر، نیتن یاہو کی بیٹے کی شادی کے بارے میں مزید معلومات سامنے آنا باقی ہے، اور یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ تقریب اپنے طے شدہ وقت پر منعقد ہو گی یا اسے مؤخر کیا جائے گا۔اس واقعے نے اسرائیل کی موجودہ سیکیورٹی صورت حال اور وزیراعظم کے خاندان کی ذاتی زندگی کے درمیان کشیدگی کو عیاں کر دیا ہے۔ نیتن یاہو کے لئے یہ ایک چیلنج ہے کہ وہ اپنے خاندان کے اہم لمحات کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ قومی سیکیورٹی کے مسائل کا بھی خیال رکھیں۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کی  امیر قطر سے  ملاقات انتہائی نتیجہ خیز قرار

    وزیراعظم شہباز شریف کی امیر قطر سے ملاقات انتہائی نتیجہ خیز قرار

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے حال ہی میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کی، جسے دونوں رہنماؤں نے انتہائی نتیجہ خیز قرار دیا۔ اس ملاقات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا تھا۔سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ اس ملاقات میں نئے مواقع اور راہوں پر تبادلہ خیال کیا گیا، جس سے دونوں ممالک کی ترقی کے لیے مثبت نتائج متوقع ہیں۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ فلسطین اور مشرق وسطیٰ کی علاقائی صورتحال پر بھی امیر قطر کے ساتھ بات چیت ہوئی، جو کہ اس وقت عالمی سیاسی منظرنامے میں ایک اہم موضوع ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اس ملاقات کے دوران قطر میوزیم کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے ثقافتی تبادلے کی اہمیت پر زور دیا۔ اس دورے کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاک قطر تعلقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا اور مشترکہ اقتصادی اہداف کے حصول کے لیے تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ملاقات میں وفود کی سطح پر بھی مذاکرات کیے گئے، جن میں مختلف شعبوں میں ممکنہ شراکت داری کے مواقع کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے متفقہ اقدامات کی ضرورت ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا، "میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کی جانب سے دی گئی گرم استقبال سے گہرا متاثر ہوا ہوں۔ پاکستان قطر کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات کی بڑی قدر کرتا ہے! اس دورے کے ذریعے ہم پاک قطر تعلقات کو مزید قوت دے رہے ہیں۔ میں جلد ہی امیر قطر کی پاکستان آمد کا منتظر ہوں!اس ملاقات کا پس منظر دیکھیں تو یہ دونوں ممالک کے درمیان موجود دوستانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، جو کہ مستقبل میں مزید ترقی کی امید دلاتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی یہ دورہ یقینی طور پر دونوں ممالک کے لیے نئے اقتصادی اور ثقافتی مواقع کا دروازہ کھولے گا۔