Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • حریم شاہ نے  برطانوی سیاست میں قدم رکھ دیا ؟

    حریم شاہ نے برطانوی سیاست میں قدم رکھ دیا ؟

    لندن:پاکستانی ٹک ٹاکر حریم شاہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے برطانوی سیاست میں قدم رکھ دیا ہے-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے حریم شاہ کا کہنا تھا کہ میں نے باضابطہ انداز میں برطانیہ کی سیاست میں قدم رکھ دیا ہے اور حال ہی میں ہوئے الیکشن میں لبرل ڈیموکریٹس کیلئے مہم بھی چلائی ہے،میں نے برطانیہ میں لبرل ڈیموکریٹس کیلئے کام کا آغاز کیا ہے، اس کیلئے میں لبرل ڈیموکریٹس کی مشکور ہوں جنہوں نے مجھے اس قابل سمجھا اور اپنی پارٹی کا حصہ بنایا، میری کوشش ہوگی کہ میں لبرل ڈیموکریٹس کی توقعات پر پورا اتروں اور اس ملک میں رہتے ہوئے اپنا بہتر کردار ادا کر سکوں۔

    حریم شاہ کا کہنا تھا کہ درحقیقت میں پاکستانی ہوں اور پاکستانی ہونے کی حیثیت کے ساتھ برطانوی پارلیمنٹ میں بیٹھ کر ان کی سیاسی جماعت کیلئے کچھ کرنا میرے لیے ایک بڑی کامیابی ہے، اس پارٹی میں میرے کچھ دیگر دوست بھی کام کر رہے ہیں اس کے علاوہ اس پارٹی کیلئے بہت سے پاکستانی بھی کام کر رہے ہیں۔

    خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے معروف ٹک ٹاکر کا کہنا تھا کہ میں برطانیہ میں ایل ایل بی میں اپنی پڑھائی جاری رکھے ہوئے ہوں،میں پاکستان سے ماسٹرز کرچکی ہوں اور حافظ قرآن بھی ہوں، اب میں برطانیہ سے ایل ایل بی کر رہی ہوں اور اس کیلئے میری تمام فیسز برطانوی حکومت ادا کرتی ہے، اس کے ساتھ رہائش، جم کے اخراجات حتیٰ کہ کالج کیلئے ٹرانسپورٹ کا خرچہ بھی برطانوی حکومت ادا کرتی ہے۔

    قبل ازیں ایک اور انٹر ویو میں بات کرتے ہوئے حریم شاہ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر نہیں بن سکی جب آپ پی ایچ ڈی کرلیتے ہیں تو آپ کے نام سے ڈاکٹر لگ جاتا ہے اور کوشش کروں گی پی ایچ ڈی کروں، آکسفورڈ یونیورسٹی جانے کا بڑا شوق ہے عمران خان نہیں چاہتے وہ چانسلر بنیں، آکسفورڈ یونیورسٹی نے خود ان کو چانسلر کیلئے منتخب کیا ہے، عمران خان کی شہرت ہی اتنی ہی ہے، عمران خان آکسفورڈ سے بڑا نام ہے، آکسفورڈ سے بڑے بڑے رہنماؤں نے پڑھا ہے، آکسفورڈ سے بینظیر بھٹو اور عمران خان نے پڑھا ہے، یہ دونوں پاکستان کے بہادر لیڈر ہیں۔

  • جے ایف 17 لڑاکا طیارے   آذربائیجان کے فوجی بیڑے میں شامل

    جے ایف 17 لڑاکا طیارے آذربائیجان کے فوجی بیڑے میں شامل

    پاکستان اور چین کے اشتراک سے بنائے گئے جے ایف 17 لڑاکا طیارے آذربائیجان کے فوجی بیڑے میں شامل کرلیے گئے

    آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے باکو میں حیدر علیوف ایئرپورٹ پر پاکستانی فوجی حکام کے ہمراہ جے ایف سیونٹین سی لڑاکا طیارے کی مہارت کا مشاہدہ کیا،جےایف 17سی طیارے پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس اور چینگڈو ایئرکرافٹ کارپوریشن کے اشتراک سے بنائے گئے ہیں.

    JF-17C (بلاک III) جیٹ طیارے ہلکے وزن والے، ملٹی رول والے طیارے ہیں جو دن ہو یا رات تمام موسمی حالات میں آپریشن کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔بریفنگ کے دوران، صدر الہام علیوف کو طیارے کی تکنیکی خصوصیات اور آپریشنل صلاحیتوں کے بارے میں بتایا گیا، جو ہوا سے ہوا اور زمین سے زمین پر مضبوط جنگی صلاحیتوں اور درمیانی اور کم اونچائی پر اعلیٰ صلاحیت کا حامل ہے۔

    اس موقع پر آذر بائیجان کے وزیر دفاع حسنوف کا کہنا تھا کہ ان جدید جیٹ طیاروں کا اضافہ آذربائیجان کی فضائیہ کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کی نشاندہی کرتا ہے۔ "ہماری فوج میں JF-17C کے انضمام کے ساتھ، آذربائیجان کی دفاعی اور جارحانہ صلاحیتوں میں اضافہ ہو گا،” ۔

    JF-17C طیاروں کا حصول پاکستان اور چین کے ساتھ آذربائیجان کے دفاعی تعاون میں ایک اور سنگ میل ہے۔آذربائیجان کی فوجی جدیدیت اور اس کے ہتھیاروں کی توسیع صدر الہام علیوف کی قیادت میں اہم ترجیحات ہیں۔آذربائیجان اپنی مسلح افواج کی جنگی تیاریوں اور تکنیکی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، فوجی ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

    پاکستان کے ساتھ آذربائیجان کے اسٹریٹجک تعلقات
    آذربائیجان اور پاکستان کے درمیان برسوں سے مضبوط سفارتی اور دفاعی تعلقات رہے ہیں، دونوں ممالک بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر باہمی تعاون کی پیشکش کرتے ہیں۔ جولائی 2023 میں آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کے پاکستان کے سرکاری دورے نے اس شراکت داری کو مزید مستحکم کیا، جس سے فوجی تعاون میں اضافے کی راہ ہموار ہوئی۔

  • کشمیر میں امن کی بحالی کے لیے بامعنی مذاکرات کی ضرورت ہے، میر واعظ عمر فاروق

    کشمیر میں امن کی بحالی کے لیے بامعنی مذاکرات کی ضرورت ہے، میر واعظ عمر فاروق

    سری نگر: حریت رہنما نے تنازع کشمیر کے حتمی حل کے لیے بھارت اور پاکستان کے درمیان بامعنی مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کشمیر میڈیا سروس کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مذاکرات ناگزیر ہیں، اور اس کی عدم موجودگی میں صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔میر واعظ نے مزید کہا کہ پاک بھارت کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے جنگ کا راستہ نہیں، بلکہ بات چیت اور باہمی افہام و تفہیم ہی اصل حل ہیں۔ ان کے مطابق، بھارتی حکومت کی جانب سے امن کے دعوے کرنے کے باوجود، عام لوگ خوف کی وجہ سے خاموش ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ظلم و جبر، غیر قانونی گرفتاریوں، اور میڈیا پر پابندیوں کے ظالمانہ اقدامات نے لوگوں کے اندر خوف پیدا کر دیا ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنی آواز بلند کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کشمیر میں امن اور استحکام کی بحالی کے لیے مؤثر اور نتیجہ خیز مذاکرات کی ضرورت ہے۔

  • اسرائیل کی فضائی اور ممکنہ زمینی کارروائیاں: جنوبی لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی

    اسرائیل کی فضائی اور ممکنہ زمینی کارروائیاں: جنوبی لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی

    اسرائیل کے آرمی چیف ہرزی ہلیوی نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے جنوبی لبنان میں فضائی حملوں کی شدت نے زمینی کارروائیوں کے لیے راہ ہموار کر دی ہے، اور اسرائیلی فوج کسی بھی وقت زمینی حملے شروع کر سکتی ہے۔ حالیہ دنوں میں اسرائیلی فضائی کارروائیوں نے حزب اللہ کے خلاف کامیاب نتائج دیے ہیں، جس سے اسرائیلی بری فوج کے لیے آگے بڑھنے کا عمل آسان ہو گیا ہے۔جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں اب تک 569 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں 50 سے زائد معصوم بچے بھی شامل ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد 1900 سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ حملے شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں اور ان میں اسرائیلی فضائیہ نے حزب اللہ کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق، اب تک حزب اللہ کے 1600 سے زائد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
    اسرائیل کے آرمی چیف نے کہا کہ فضائی حملے دراصل زمینی کارروائی کی تیاریوں کا ایک حصہ ہیں، جس کا مقصد حزب اللہ کی فوجی قوت کو کمزور کرنا ہے تاکہ زمینی کارروائی کے دوران اسرائیلی فوج کو زیادہ مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ہرزی ہلیوی نے کہا کہ "ہم نے جنوبی لبنان کو دن بھر نشانہ بنایا ہے اور اب حزب اللہ کی حملہ کرنے کی صلاحیت برائے نام رہ گئی ہے۔اسرائیلی فضائی حملوں کے جواب میں حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے 200 سے زائد راکٹ داغے ہیں۔ یہ راکٹ اسرائیل کے مختلف شہروں میں گرے ہیں، جس میں چند راکٹ تل ابیب تک پہنچے ہیں۔ اسرائیلی حکومت نے ان راکٹ حملوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے متعدد حصوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم حملوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔
    حزب اللہ نے ایک بڑا دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنانے کے لیے ایک میزائل داغا تھا۔ تاہم، اسرائیلی فوج نے اس میزائل کو تباہ کر دیا ہے اور اس حملے کو ناکام بنا دیا ہے۔ یہ دعویٰ اس جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ حزب اللہ کی جانب سے اسرائیلی اداروں کو براہ راست نشانہ بنانے کی کوششوں کا اشارہ مل رہا ہے۔اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری کشیدگی تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے، اور اب زمینی جنگ کے امکانات بھی مزید قوی ہوتے جا رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج کی زمینی کارروائی کے لیے کی جانے والی تیاریاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ آنے والے دنوں میں جنوبی لبنان میں مزید خونریزی ہو سکتی ہے۔

  • آئی ایم ایف کا  پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کی منظوری

    آئی ایم ایف کا پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کی منظوری

    واشنگٹن: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے قرض کی منظوری دی ہے۔ یہ فیصلہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں پاکستان کے لیے مالی معاونت کے نئے پیکیج کی تفصیلات پر غور کیا گیا۔گورنر اسٹیٹ بینک، جمیل احمد، نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اگر یہ قرض کی منظوری عمل میں آئی تو پاکستان کو پہلی قسط کے طور پر ایک ارب یا ایک ارب 10 کروڑ ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔ اس قرض کی مدد سے پاکستان کو معاشی چیلنجز سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔
    وزیر اعظم شہباز شریف نے نیویارک میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کو کامیابی سے پورا کیا ہے اور ملک کے معاشی اشاریے بتدریج بہتر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پیکیج پاکستان کی معیشت کے استحکام کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
    ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے رواں مالی سال کے دوران پاکستانی معیشت کی بہتری کی نوید سنائی ہے۔ اے ڈی بی نے کہا کہ مہنگائی کی شرح 15 فیصد تک گر سکتی ہے، جبکہ شرح نمو بھی 2.8 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی ہے۔ اس کے علاوہ، کچھ دن پہلے عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے بھی پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو اپ گریڈ کیا ہے، جو ملک کی معاشی صورتحال کے حوالے سے ایک مثبت علامت ہے۔آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر کمیونی کیشن، جولیا کوزک، نے حالیہ نیوز کانفرنس میں بتایا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف سطح کا معاہدہ جولائی میں طے پایا تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے گزشتہ سال 9 ماہ کا اسٹینڈ بائے معاہدہ کامیابی سے مکمل کیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی حکام معیشت کی بحالی کے لیے پختہ عزم رکھتے ہیں۔
    عالمی مالیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ 37 ماہ کے قرض پروگرام کی شرائط پر عملدرآمد جاری ہے۔ آئی ایم ایف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستانی حکام تسلیم کرتے ہیں کہ معیشت کو کامیابی سے مستحکم کرنے اور پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنے کے لیے نئے ای ایف ایف کا مستقل نفاذ ضروری ہے۔ اس طرح روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور زندگی کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی، جو کہ اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہے۔پاکستان کی حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان یہ تعاون ایک امید افزا اقدام ہے، جو کہ ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے اور معاشی چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔

  • ڈونلڈ ٹرمپ کو  ایران کی طرف سے قتل کیے جانے کا خطرہ ہے،امریکی انٹیلی جنس

    ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کی طرف سے قتل کیے جانے کا خطرہ ہے،امریکی انٹیلی جنس

    واشنگٹن: امریکی انٹیلی جنس ادارے نے قتل کی ایرانی سازش سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آگاہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی: امریکی میڈیا کے مطابق امریکی صدارتی الیکشن میں ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے ترجمان نے بتایا کہ ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس نے سابق صدر کو اطلاع دی کہ ان کو ایران کی طرف سے قتل کیے جانے کا خطرہ ہے جس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے قتل کی اس کوشش کا مقصد امریکا انتخابات پر اثر انداز ہونا اور ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔

    ایران نے امریکی سیکیورٹی ادارے کے اس الزام پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم ماضی میں امریکی امور میں مداخلت کے حوالے سے امریکی دعوؤں کی تردید کرتا آیا ہے۔

    واضح رہے کہ امریکا میں 5 نومبر کو صدارتی الیکشن ہوں گے اور اس سے قبل ہی انتخابی مہم کے دوران 2 بار ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا ہے جس میں سے ایک میں وہ زخمی بھی ہوئے جب گولی ان کے کان کو چھو کر گزری تھی۔

  • کنول کے پتوں سے توانائی پیدا کرنے کا تجربہ کامیاب

    کنول کے پتوں سے توانائی پیدا کرنے کا تجربہ کامیاب

    بیجنگ: چینی سائنسدانوں نے کنول کے پتوں سے توانائی پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

    باغی ٹی وی: چینی سائنسدانوں نے توانائی پیدا کرنے والا ایک ایسا جنریٹر بنایا ہے جو بجلی پیدا کرنے کے لیے پودوں کو استعمال کرتا ہے،ٹیم نے کہا کہ اس کا لیف ٹرانسپائریشن جنریٹر، جس کا انھوں نے کنول کے پتوں سے مظاہرہ کیا، چھوٹے الیکٹرانک آلات کو طاقت دینے کے قابل ہے اور اسے پلانٹ سے چلنے والے بجلی کے نیٹ ورکس کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    ٹیم نے جریدے نیچر واٹر میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں لکھا کہ یہ مطالعہ نہ صرف پتوں کے بے مثال ہائیڈروولٹک اثر کو بے نقاب کرتا ہے بلکہ سبز توانائی کی ٹیکنالوجیز کو آگے بڑھانے کے لیے ایک نیا تناظر بھی فراہم کرتا ہے۔

    ہائیڈرو والٹک توانائی کے حصول کے لیے ٹھوس سطح پر پانی کی حرکت پر انحصار کیا جاتا ہے، مگر اس کے لیے مسلسل پانی کی سپلائی کی ضرورت ہوتی ہےمگر تحقیق میں بتایاگیا کہ پودوں کے پتوں سے قدرتی طور پر خارج ہونے والے بخارات میں بہت زیادہ توانائی چھپی ہوتی ہے مگر اب تک اس پر زیادہ کام نہیں کیا گیا،اس عمل میں پودے کی جڑوں سے اوپری سرے تک پانی حرکت کرتا ہے اور پتوں یا پھولوں سے بخارات کی شکل میں خارج ہو جاتا ہے۔

    پاکستان میں زیر استعمال موبائل لبنان واقع کی طرح پھٹ سکتے؟قائمہ کمیٹی

    اسی عمل کو دیکھتے ہوئے چینی سائنسدانوں نے ایک پروٹوٹائپ ڈیوائس تیار کی ہے جو اس عمل سے بجلی بنانے میں کامیاب رہی۔
    ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے مگر پتوں کے ذریعے بجلی کا حصول ٹیکنالوجی کے ذریعے بڑے پیمانے پر ممکن ہوسکتا ہے، یہ ماحول دوست توانائی ہوگی جس کے لیے زیادہ خرچہ بھی نہیں کرنا پڑے گا،جنریٹر جیسی پروٹوٹائپ ڈیوائس کو کسی بھی جگہ جیسے فارم میں استعمال کیا جاسکے گا اور زیادہ بڑے اسٹرکچر کی ضرورت نہیں ہوگی۔

    ہزار سال پرانے بیج سے بائبل کے درخت کی پیدائش

    سائنسدانوں کے مطابق پودے مسلسل اپنے اردگرد کے ماحول کے ساتھ پانی خارج کرتے ہیں تو اس جنریٹر کے ذریعے دن بھر بجلی کی تیاری ممکن ہوسکے گی، خاص طور پر ان مقامات پر جہاں دن بھر سورج کی روشنی موجود ہوتی ہے ابھی ایک پتے سے حاصل ہونے والی بجلی بہت کم ہے مگر تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ متعدد پودوں اور پتوں کو ایک دوسرے سے منسلک کیا جاسکتا ہے جس سے زیادہ بجلی کا حصول ممکن ہو جاتا ہےسائنسدانوں کی تیار کردہ ڈیوائس کی ابتدائی آزمائش جاری ہے اور وہ مختلف طریقوں کو جانچ کر اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانا چاہتے ہیں۔

  • ہزار سال پرانے بیج سے بائبل کے درخت کی پیدائش

    ہزار سال پرانے بیج سے بائبل کے درخت کی پیدائش

    سائنسدانوں نے ایک ہزار سال سے زائد قدیم بیج زندہ کر دیا ہے جو اب ایک درخت میں تبدیل ہو گیا ہے-

    باغی ٹی وی: یہ بیج 1980 کی دہائی میں یہودا صحرا میں ایک کھدائی کے دوران ملا تھا اور اس کا تخمینہ 993 عیسوی سے 1202 عیسوی کے درمیان کا ہے ،اس نایاب درخت کی اونچائی 10 فٹ ہے اسے بڑھنے میں 14 سال لگےاور اسے ”شبا“ کا نام دیا گیا ہے جو بائبل کی ایک مشہور ملکہ کے نام پر ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ بیج بائبل میں ذکر کردہ درختوں کی ایک نسل سے تعلق رکھتا ہے جو آج کے اسرائیل، فلسطین اور اردن میں پائے جاتے تھے یہ درخت ”تسوری“ (یعنی بالسم) کا ماخذ ہو سکتا ہے جو بائبل میں ذکر کردہ ایک ریزن ہے جسے طبی خواص کے لیے جانا جاتا ہے ”شبا“ کی خوشبو نہیں ہے مگر اس کے پتوں میں ایسی کیمیائی خصوصیات پائی گئی ہیں جو سوزش اور کینسر کے خلاف مؤثر ہو سکتی ہیں۔

    سائنسدانوں نے درخت کے پتوں کا کیمیائی تجزیہ کیا جس سے یہ معلوم ہوا کہ اس میں موجود مرکبات اینٹی آکسیڈنٹ اور جلد کو ہموار کرنے کی خاصیات رکھتے ہیں شبا درخت کی پرجاتی کے بارے میں سائنسدانوں کو مکمل طور پر یقین نہیں ہے کیونکہ اس نے اب تک پھول یا تولیدی مواد نہیں دیا ہے۔ وہ امید کرتے ہیں کہ اگر موجودہ دور میں کوئی Commiphora کی قسم موجود ہے تو وہ بھی دریافت کی جا سکتی ہےلیہ درخت بائبل میں ذکر کردہ دوسری اہم مرکبات جیسے کہ میری اور فرانکی سینس سے بھی منسلک ہے جو حضرت عیسیٰ کے دور سے جڑی ہوئی ہیں۔

    یہ بیج بحیرہ مردار-جورڈن رفٹ ویلی کے اندر واقع ایک غار میں دریافت کیا گیا تھا، یہ علاقہ سوڈانی اور سوڈانو-زمبیزیائی علاقوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 14.5% نباتات کی میزبانی کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہ ماحولیاتی زون اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ Commiphora کی نسل، جس سے ممکنہ طور پر بیج تعلق رکھتا ہے، افریقہ سے ہجرت کر کے خطے کی منفرد آب و ہوا کے مطابق ہو سکتا ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ”شبا“ کی تحقیق سے ہمیں بائبل کے قدیم معالجے کے راز جاننے کا موقع ملے گا اور ممکنہ طور پر دیگر قدیم درختوں کو زندہ کرنے کے لیے نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔

  • مریخ پر مکڑیوں جیسی عجیب و غریب شکلیں دریافت

    مریخ پر مکڑیوں جیسی عجیب و غریب شکلیں دریافت

    امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے سائنس دانوں نے مریخ پر مکڑیوں جیسی عجیب و غریب شکلیں دریافت کی ہیں-

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق یہ کوئی حقیقی مکڑیاں نہیں بلکہ کچھ ارضیاتی خصوصیات ہیں مریخ کے شمالی نصف کرہ میں پائی گئی ہیں، ناسا کے روورز اور دیگر سیٹلائٹ ٹیکنالوجی نے ان زمینی اشکال کا پتا لگایامکڑی نما یہ شکلیں سیارے کی سطح پر کھدی ہوئی نظر آتی ہیں اور ایک کلومیٹر سے زیادہ رقبے میں پھیلی ہوئی ہیں،ان اشکال کا قریب سے معائنہ کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ دراصل مکڑیاں نہیں بلکہ وقت کے ساتھ بننے والی دراڑیں اور شکلیں ہیں۔

    سائنسدانوں کو معلوم نہیں ہے کہ ان کی وجہ کیا ہے، لیکن حال ہی میں کچھ نظریات سامنے آئے ہیں،فی الحال سب سے مشہور نظریہ یہ ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ آئس کے ماحول کے ساتھ تعامل پر پیدا ہونے والے ردعمل کے باعث یہ ابھری ہوئی خصوصیات پیدا ہوئیں،سائنس دانوں نے زمین پر سیارہ مریخ کو دوبارہ بنا کر اس نظریے کو جانچا انہوں نے پیچیدہ مشینری کے ساتھ مریخ کے درجہ حرارت اور ماحول کا دباؤ بنانے کے لیے مل کر کام کیا۔

  • گلوکارہ نیہا ککڑ سے طلاق کی خبریں،روہن پریت سنگھ  نے خاموشی توڑ دی

    گلوکارہ نیہا ککڑ سے طلاق کی خبریں،روہن پریت سنگھ نے خاموشی توڑ دی

    ممبئی: بالی وڈ گلوکار روہن پریت سنگھ نے اہلیہ اور نامور گلوکارہ نیہا ککڑ کے ساتھ طلاق کی افواہوں پر خاموشی توڑ دی۔

    باغی ٹی وی : حال ہی میں گلوکار روہن پریت سنگھ نے ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے نیہا ککڑ سے طلاق کی افواہوں کے حوالے سے بتایا کہ ‘افواہیں تو افواہیں ہیں، وہ سچ تھوڑی ہیں، وہ تو بس بنی بنائی باتیں ہیں، کل کچھ اور تو پرسوں کوئی کچھ بولے گا، ان سے آپ اپنے ذاتی رشتے پر کوئی فرق نہیں پڑنے دیں۔’

    روہن پریت سنگھ نے کہا کہ لوگوں کا کام ہے، اگر انہیں مزہ آرہا ہے تو انہیں کرنے دو، ہماری زندگی ہے اسے ہم اپنے حساب سے گزارتے ہیں،ذاتی اور پروفیشنل زندگی الگ ہونی چاہیے، بات اس کی ہوتی ہے جو کامیاب ہو، تو باتیں ہوتی رہنی چاہئیں تاکہ پتا چلے آپ ترقی کررہے ہیں۔’

    واضح رہے گلوکار جوڑی روہن پریت سنگھ اور نیہا ککڑ نے 2020 میں شادی کی تھی، دونوں کے درمیان طلاق سے قبل بچے کی پیدائش کی خبریں سامنے آئی تھیں جس کی بعد میں تردید ہو گئی تھی۔

    ہم ایک جاہل قوم ہیں،اداکارہ امر خان نے ایسا کیوں کہا؟

    حزب اللہ کا موساد ہیڈ کوارٹر پر حملہ،اسرائیل نے تصدیق کر دی

    ایف بی آر کا نان فائلرزکی کیٹیگری ختم کرنے کا فیصلہ