Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • اسرائیلی فوج کا حزب اللہ سربراہ حسن نصر اللہ کی بیروت حملے میں ہلاکت کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج کا حزب اللہ سربراہ حسن نصر اللہ کی بیروت حملے میں ہلاکت کا دعویٰ

    تل ابیب: اسرائیلی فوج نے حزب اللہ سربراہ حسن نصر اللہ کی بیروت حملے میں ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی:گزشتہ روز اسرائیل نے بیروت میں حزب اللہ کے ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا تھا جس میں لبنان کی مزاحمتی تنظیم کے سربراہ حسن نصر اللہ سمیت میزائل یونٹ کے سربراہ اور ان کے نائب کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا،حزب اللہ ذرائع نے اسرائیلی حملے میں حسن نصر اللہ کی شہادت کی تردید کرتے ہوئے ان کے صحت مند ہونے کا دعویٰ کیا تھا تاہم لبنان کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا تھا۔

    اب ایک بار پھر اسرائیل کی ڈیفنس فورس نے سوشل میڈیا پوسٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ حسن نصر اللہ اسرائیلی حملے میں مارے گئے ہیں تاہم اسرائیل کی جانب سے بھی اس حوالے سے کسی قسم کے ثبوت فراہم نہیں کیے گئے ہیں،اسرائیلی فوج نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ حزب اللہ کے سینئر رہنما علی کرکی بھی فضائی حملے میں مارے جا چکے ہیں۔

    پائیدار اور مضبوط ترقی کی جانب پیش قدمی اب بھی پاکستان کیلئے چیلنج ہے،آئی ایم …

    حسن نصراللہ اپنے پیشرو عباس الموسوی کے اسرائیلی گن شپ ہیلی کاپٹر سے قتل کے بعد 1992 میں صرف 32 سال کی عمر میں حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے تھے انہوں نے عراق کے شہر نجف میں تین سال تک سیاست اور قرآن کی تعلیم حاصل کی، یہیں ان کی ملاقات لبنانی امل ملیشیا کے رہنماسید عباس موسوی سے ہوئی، 1978 میں حسن نصراللہ کو عراق سے بے دخل کر دیا گیا۔

    ی ٹی آئی احتجاج: قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تو سختی سے نمٹیں …

    لبنان کے خانہ جنگی کی لپیٹ میں آنے کے بعد حسن نصراللہ نے امل تحریک میں شمولیت اختیار کر لی ، انھیں وادی بقاع میں امل ملیشیا کا سیاسی نمائندہ مقرر کیا گیا اسرائیلی فوج کے 1982 میں بیروت پر حملےکےبعد حسن نصراللہ، امل سے علیحدہ ہوکر حزب اللہ میں شامل ہوئےحسن نصراللہ کی قیادت میں حزب اللہ اسرائیل کی ایک اہم مخالف تنظیم کے طور پر ابھری، حسن نصر اللہ کا اصرار ہے کہ اسرائیل بدستور ایک حقیقی خطرہ ہے،حماس کے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کے بعد سے حزب اللہ لبنان، اسرائیل سرحد کے ساتھ تقریباً روزانہ اسرائیلی فوجیوں سے لڑتی رہی ہے۔

    پنجاب کے بیشتراضلاع میں تیز بارشیں،پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

  • لگتا ہے پاکستانی کرکٹرز نے دودھ پینا بند کردیا ہے،چاہت فتح علی خان

    لگتا ہے پاکستانی کرکٹرز نے دودھ پینا بند کردیا ہے،چاہت فتح علی خان

    لندن: سوشل میڈیا کی معروف شخصیت چاہت فتح علی خان نے قومی کرکٹرز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے لگتا ہے کرکٹرز نے دودھ پینا بند کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی : نجی ٹی وی چینل کے ساتھ گفتگو میں گلوکار چاہت فتح علی نے گفتگو میں قومی ٹیم کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہماری ٹیم ٹی20 ورلڈکپ میں امریکا سے ہار گئی اور اب بنگلادیش سے! مجھے لگتا ہے کرکٹرز نے دودھ پینا بند کردیا ہے،جب میں کرکٹ کھیلتا تھا تو دن میں 2 بار دودھ پیتا تھا، جس کی وجہ سے جسم ٹھیک رہتا ہے، میرا کرکٹر کو مشورہ ہے کہ دہی، پھل اور دودھ کا استعمال کریں۔

    گلوکار نے کہا کہ ہر ٹیم پر زوال ضرور آتا ہے، ایک وقت تھا بھارتی ٹیم میچ نہیں جیت پاتی تھی اور اب کہیں بھی جائے وہ بہت اچھی کرکٹ کھیلتی ہےپاکستان ٹیم کےساتھ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ کیا مورال کی کمی ہےیا اور کوئی وجہ ہے، کرکٹر جو بھی کریں خوشی سے کریں ، جیت مقدر بنے گی۔

    امریکا کے پاس چوائس ہے کہ وہ فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرے،روسی وزیر خارجہ

    واضح رہے کہ چاہت فتح علی خان کا اصل نام کاشف رانا ہے اور وہ پاکستان کے فرسٹ کلاس کرکٹر رہ چکے ہیں ملک کے سب سے بڑے ڈومیسٹک ٹورنامنٹ قائداعظم ٹرافی کے 1983 اور 1984 کے سیزن میں لاہور کی ٹیم کا حصہ تھے انہوں نے 2 فرسٹ کلاس میچ کھیلے جس میں انہوں نے 3 اننگز میں 16 رنز بنائے بعد ازاں وہ برطانیہ چلے گئےاور وہاں 12 سال تک کلب کرکٹ بھی کھیلی۔

    لبنان و فلسطین کا انتقام لینے کیلئے یمنی افواج کا امریکی بحریہ کے جہازوں …

  • لبنان و فلسطین کا انتقام لینے کیلئے یمنی افواج کا  امریکی بحریہ کے جہازوں پر بڑا حملہ

    لبنان و فلسطین کا انتقام لینے کیلئے یمنی افواج کا امریکی بحریہ کے جہازوں پر بڑا حملہ

    لبنان اور فلسطین پر جاری اسرائیلی بمباری کا انتقام لیتے ہوئے یمنی افواج نے بحیرہ احمر میں امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں پر بڑا حملہ کردیا۔

    باغی ٹی وی :یمنی افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحیٰ ساری نے کہا ہے کہ تازہ حملے میں 3 امریکی ڈسٹرائیر کو نشانہ بنایا گیا ہے جو اسرائیل کی مدد کیلئے مقبوضہ علاقوں کی جانب بڑھ رہے تھے حملے میں بحریہ، فضائیہ اور بری فوج نے حصہ لیا، 23 بیلسٹک اور ونگڈ میزائل داغے گئے اور ڈرونز سے بھی مدد لی گئی یہ حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک تل ابیب، غزہ پر حملے بند نہیں کرتا اور فلسطینیوں کو امداد نہیں پہنچائی جاتی۔

    دوسری جانب مزاحمتی فورسز کی جانب سے عراق سے بھی مقبوضہ علاقوں میں ایک اہم ہدف کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ادھر اسرائیل نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں حزب اللہ کے ہیڈ کوارٹر پر دو ہزار پاؤنڈز وزنی بم برسا دیے جس سے چھ عمارتیں تباہ ہوگئیں جبکہ حملے میں اہم کمانڈروں سمیت 8 افراد شہید اور 100 کے قریب زخمی ہوگئے، حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ حزب اللہ ایگزیکٹو کونسل کے سربراہ ہاشم صفی الدین محفوظ ہیں۔ لوگ دشمن کے پھیلائے ہوئے جھوٹ کے جال میں نہ پھنسیں۔ واضح رہے کہ ہاشم صفی الدین حزب اللہ چیف کے رشتہ دار ہیں۔

    لبنانی وزارتِ صحت نے ہلاکتوں کی حتمی تعداد تو نہیں بتائی تاہم اتنا ضرور بتایا کہ چند لاشیں نکالی گئی ہیں۔ حزب اللہ کے المنار ٹی وی نے بتایا کہ چار عمارتیں تباہ ہوئی ہیں اور کئی ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ اے پی نیوز کے مطابق یہ حملہ اس قدر شدید تھا کہ عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں اور شمالی بیروت میں 30 کلومیٹر کے فاصلے پر مکانات کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان نے دعوی کیا کہ اپریشن حزب اللہ کے ہیڈ کوارٹرز کے خلاف کیا گیا جو کئی ریائشی عمارتوں کے نیچے بنایا گیا تھا۔ حزب اللہ کے المنار ٹیلی ویژن نے بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں کم از کم چار ریائشی عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔

    اس حملے سے پہلے خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اسرائیل کسی بھی وقت جنوبی لبنان پر زمینی حملہ کرسکتا ہے۔ اسرائیلی فوج نے درجنوں ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور دیگر ساز و سامان لبنانی سرحد پر پہنچادیا ہے۔ فوج کو واضح احکامات بھی دیے جاچکے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی حصے میں حزب اللہ ملیشیا کے سینٹرل ہیڈ کوارٹرز پر بڑا حملہ کیا ہے۔ بیروت پر حملے کے تناظر میں اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو اپنا امریکا کا دورہ مختصر کرکے وطن واپس پہنچ رہے ہیں۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق حملے میں حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ کو نشانہ بنایا گیا ان کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، ادھر امریکا نے مشرق وسطی میں بگڑھی زمینی صورتحال کے بعد اسرائیلی حملے سے لاعلم ہونے کا دعویٰ کردیا جبکہ امریکی صدر نے مشرق وسطیٰ کو ’ضرورت کے مطابق‘ خود کو تیار رکھنے کی ہدایت جاری کردیں۔

    دوسری جانب ترجمان پینٹاگون سبرینا سنگھ نے کہا حزب اللہ کے ہیڈ کوارٹر پر حملے میں امریکا ملوث نہیں، اسرائیل نے حملے کی پیشگی اطلاع نہیں دی امریکی ڈیفنس سیکرٹری لائیڈ آسٹن نے اسرائیلی وزیردفاع سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے تاہم اسرائیل نے آپریشن سے متعلق مزید کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔

    قبل ازیں صدر بائیڈن نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ امریکہ کو (اسرائیلی) کارروائی کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا اور نہ ہی وہ اس میں شریک تھا۔ انہوں نے صحافیوں کے سوالات پر مزید کہا کہ ’ہم معلومات اکٹھی کر رہے ہیں، علاوہ ازیں امریکی صدر جوبائیڈن نے مشرق وسطٰی میں موجود امریکی افواج کو حکم دیا ہے کہ وہ ’ضرورت کے مطابق‘ خود کو تیار رکھیں۔

    وائٹ ہاؤس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ امریکی صدر نے پینٹاگون کو ہدایت کی ہے کہ وہ خطے میں ضروری امریکی فورس کی پوزیشن کا جائزہ لے اور اسے ضرورت کے مطابق ہم آہنگ کرے تاکہ ڈیٹرنس کو بڑھایا جائے، فورس کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور امریکی مقاصد کا مکمل احاطہ کیا جائے۔

  • امریکا کے پاس چوائس ہے کہ وہ فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرے،روسی وزیر خارجہ

    امریکا کے پاس چوائس ہے کہ وہ فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرے،روسی وزیر خارجہ

    نیو یارک: روس کے وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ ایک بار پھربڑی جنگ کے دہانے پر ہے اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو خطے میں بڑی جنگ پر اکسا رہے ہیں،امریکا کے پاس چوائس ہے کہ وہ فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرے-

    باغی ٹی وی: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب میں روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے کہا کہ اس سے پہلے کہ صورتحال مکمل طور پر قابو سے باہر ہوجائے، تشدد کو روکنا ہوگا کیونکہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو خطے میں بڑی جنگ پر اکسا رہے ہیں۔

    روس کے وزیرخارجہ نے لبنان پر اسرائیل کے اندھا دھند حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عام شہری ان حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل نے جو رستہ چنا ہے اس سے نہ تو اسرائیل میں نقل مکانی پرمجبور افراد شمالی علاقے میں واپس آسکیں گے اور نہ ہی لبنان اسرائیل سرحد پر سکیورٹی یقینی بنائی جاسکتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ امریکا کے پاس چوائس ہے کہ وہ فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرے یا ان کوششوں کو روکتا رہےسلامتی کونسل کے اراکین فلسطین اور اسرائیل کے عوام کے مفادات کو اپنے تنگ نظر سیاسی مفادات پر ترجیح دیں اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کریں،جلد تمام یرغمالی رہا کرائے جائیں اور بلا روک ٹوک انسانی امداد یقینی بنائی جائے۔

  • بیروت حملے سے امریکہ لاعلم ہے ،امریکی صدر جو بائیڈن کا بیان

    بیروت حملے سے امریکہ لاعلم ہے ،امریکی صدر جو بائیڈن کا بیان

    امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکا کو حالیہ بیروت حملے کا کوئی علم نہیں تھا اور اس میں کسی قسم کی شراکت نہیں تھی۔ اس بیان کے بعد، اسرائیلی طیاروں نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایک بڑے حملے کی خبر دی ہے، جس میں ایک ساتھ 10 میزائل داغے گئے۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں کا ہدف حزب اللّٰہ کے مرکزی کمانڈ ہیڈکوارٹرز تھے۔ حملے کے نتیجے میں 6 عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں، 2 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔عرب میڈیا کے مطابق، اسرائیل کا اصل ہدف حزب اللّٰہ کے سربراہ حسن نصر اللّٰہ تھے، لیکن حزب اللّٰہ کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ حسن نصر اللّٰہ محفوظ ہیں۔
    حملے کے بعد، اسرائیلی شہر تل ابیب میں سیکیورٹی الرٹ جاری کیا گیا ہے، اور فضائی دفاعی نظام کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، شہریوں کے لیے شیلٹرز بھی کھول دیے گئے ہیں۔ادھر، اقوام متحدہ نے بیروت حملے کو ایک بڑے خطرے کی گھنٹی قرار دیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے امریکا کے دورے کو مختصر کردیا ہے۔ لبنان میں ایرانی سفارتخانے نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملہ کشیدگی میں اضافے کا خطرناک کھیل ہے اور یہ قابل سزا جرم ہے۔ حماس نے بھی بیروت پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی ہے، جس نے خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے۔

  • اسرائیلی فوج کا لبنان کے بیروت میں حزب اللہ کے ہیڈکوارٹر پر حملہ

    اسرائیلی فوج کا لبنان کے بیروت میں حزب اللہ کے ہیڈکوارٹر پر حملہ

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں حزب اللہ کے ہیڈکوارٹر پر فضائی حملہ کیا ہے، جس کا مقصد حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کو نشانہ بنانا تھا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی فوج نے طاقتور میزائلوں کے ذریعے لبنان میں فضائی حملے کیے، خاص طور پر ایئرپورٹ روڈ پر ایک مخصوص عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔اسرائیلی فوج نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ فورسز نے حزب اللہ کے سینٹرل کمانڈ پر بمباری کی ہے اور ہمارا اصل ہدف حسن نصراللہ تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ حملہ گزشتہ پانچ روز کے دوران بیروت پر ہونے والی سب سے طاقتور بمباری میں شامل ہے، جس کے نتیجے میں جنوبی ٹاؤن میں چار عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔
    ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق، حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ اس حملے کے دوران محفوظ رہے ہیں، تاہم حزب اللہ کی جانب سے ان کے حوالے سے کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔ لبنانی شہری دفاع کے مطابق، حملے کے نتیجے میں تباہ شدہ عمارتوں سے دو افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں جبکہ 76 افراد زخمی ہوئے ہیں۔حزب اللہ ہیڈکوارٹر پر حملے کی منظوری اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب سے کچھ دیر قبل دی۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ اسرائیل نے غزہ کے بعد اپنی توجہ لبنان کی جانب مبذول کر لی ہے، جہاں حالیہ بمباری میں سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ، گزشتہ برس 7 اکتوبر کو فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کی جانب سے کیے گئے ایک آپریشن کے بعد اسرائیل کی غزہ پر بمباری جاری ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 41 ہزار سے زائد افراد، جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے، ہلاک ہو چکے ہیں۔

  • یوکرین جنگ میں شدت: کیف میں روس کے میزائل اور ڈرون حملے

    یوکرین جنگ میں شدت: کیف میں روس کے میزائل اور ڈرون حملے

    یوکرین کی جنگ میں ایک نئی شدت آ گئی ہے، جس کے تحت روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ یہ حملے کئی گھنٹوں تک جاری رہے، جن میں میزائل اور ڈرونز کے ذریعے شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ ان غیر معمولی حملوں میں خاص طور پر بجلی کے نظام کو ہدف بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں کیف کے بجلی فراہم کرنے والے نظام کی 70 فیصد صلاحیت تباہ ہو چکی ہے۔حملوں کے باعث کیف کے رہائشیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ خوراک کی اشیاء کی قلت اور پانی کی فراہمی میں مشکلات نے ان کی روزمرہ زندگی کو متاثر کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں، شہریوں کی زندگی میں بے چینی اور اضطراب بڑھتا جا رہا ہے۔روس نے اپنے حملوں کے لیے ڈرونز کا استعمال بڑھا دیا ہے۔ دور مار میزائلوں کے بجائے اب روسی فوج ڈرونز کے ذریعے اپنی طاقت کو موثر طور پر نافذ کر رہی ہے۔ یہ ایک نیا طریقہ ہے جس میں انہیں کسی بھی عمارت کو نشانہ بنانا زیادہ آسان لگتا ہے۔
    حالیہ اطلاعات کے مطابق، روسی فوج چین سے جدید لڑاکا ڈرونز کی ایک بڑی کھیپ تیار کروا رہی ہے، جو کہ جنگ کے حالات میں ایک اہم تبدیلی کا اشارہ دے سکتا ہے۔دوسری طرف، امریکی نائب صدر اور ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار کملا ہیرس نے ایسی امن تجاویز کی سخت مخالفت کی ہے جن میں یوکرین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے علاقوں سے دست بردار ہو جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی بھی سمجھوتہ یوکرین کی خودمختاری کے خلاف ہوگا۔ اس کے جواب میں، یوکرین کے صدر وولودومیر زیلنسکی نے بھی ایسی امن تجاویز کو مسترد کر دیا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یوکرین کی حکومت کسی بھی قسم کی انخلا کی بات چیت کے لیے تیار نہیں ہے۔یوکرین میں جاری یہ جھڑپیں نہ صرف ملکی حالات کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس کا اثر پڑ رہا ہے۔ روس کے حملوں میں شدت اور ڈرونز کے استعمال کی نئی حکمت عملی نے بین الاقوامی تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر دی ہے، جس کا اثر آنے والے دنوں میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔

  • پاکستان کا اقوام متحدہ میں نیتن یاہو کے خطاب کے دوران واک آؤٹ

    پاکستان کا اقوام متحدہ میں نیتن یاہو کے خطاب کے دوران واک آؤٹ

    نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خطاب کے دوران پاکستانی وفد نے احتجاجاً واک آؤٹ کر دیا۔ جیسے ہی نیتن یاہو اسٹیج پر آئے، پاکستان، ایران اور دیگر ممالک کے درجنوں سفارتکار جنرل اسمبلی ہال سے باہر نکل گئے۔ اجلاس کے دوران فلسطین کے حق میں اور اسرائیلی مخالف نعرے بلند ہوئے، جو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ مختلف ممالک نیتن یاہو کے آنے پر ناپسندیدگی کا اظہار کر رہے تھے۔ نیتن یاہو نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ نے یہاں کئی مقرروں کے جھوٹ سننے کا ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ ان کے ملک کے خلاف بڑے جھوٹ بولے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل امن چاہتا ہے اور ہمیشہ امن کا خواہاں رہا ہے۔
    انہوں نے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان دوستی کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک سانحہ نے اس عمل کو متاثر کیا اور ہولوکاسٹ کی یاد تازہ کی گئی۔ نیتن یاہو نے سیکیورٹی کونسل پر زور دیا کہ ایران پر پابندیاں لگائی جائیں اور ان کے نیوکلیئر پروگرام کو روکا جائے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ "اسرائیل ایران کو نیوکلیئر سے روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ "ہم نے حماس کے 90 فیصد راکٹس تباہ کر دیے ہیں اور ان کی ملٹری اہلیت کو ختم کر دیا ہے۔یہ واقعات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کے اقدامات کے خلاف شدید ردعمل موجود ہے، خاص طور پر فلسطینی عوام کے حقوق کے حوالے سے۔

  • وزیر اعظم شہباز شریف کا اقوام متحدہ میں جرات مندانہ خطاب: غزہ اور کشمیر کے مسائل پر سخت موقف

    وزیر اعظم شہباز شریف کا اقوام متحدہ میں جرات مندانہ خطاب: غزہ اور کشمیر کے مسائل پر سخت موقف

    نیویارک: وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 79 ویں سالانہ اجلاس کے چوتھے روز فلسطین کے مسئلے کو بھرپور انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب کا آغاز کلام پاک کی تلاوت سے کیا، جو کہ ایک روحانی اور معنوی آغاز تھا۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے غزہ اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہونے والے مظالم پر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی بھرپور کوشش کی۔ انہوں نے دنیا کو واضح پیغام دیا کہ غزہ ہو یا مقبوضہ کشمیر، کہیں بھی غیر انسانی سلوک اور مظالم قابل برداشت نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جاری جارحانہ حملوں اور کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو عالمی امن کے لیے سنگین خطرات قرار دیا۔

    غزہ میں اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت
    وزیر اعظم نے اپنے خطاب کا آغاز غزہ کی موجودہ صورتِ حال سے کیا، جہاں معصوم فلسطینیوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، "یہ محض لڑائی نہیں ہو رہی، بلکہ بے گناہ شہریوں کو منظم طریقے سے موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے۔” انہوں نے اسرائیلی حملوں میں خواتین اور بچوں کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماؤں کے سامنے اُن کے جگر گوشوں کو ملبے تلے دفن کیا جا رہا ہے، اور عالمی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔شہباز شریف نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ فلسطینی ریاست کو مکمل رکنیت دی جائے اور 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے، جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کے سامنے فلسطینیوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دو ریاستی حل کے بغیر مشرق وسطیٰ میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر: بھارتی مظالم اور عالمی خاموشی
    غزہ کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم پر بھی عالمی برادری کی خاموشی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے بھارتی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ "کشمیریوں کی اپنی زمین پر اُن کے حقوق چھینے جا رہے ہیں، اور غیر مقامی افراد کو یہاں آباد کیا جا رہا ہے،” وزیر اعظم نے کہا۔انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد نہ ہونے کو بھارتی قیادت کے حوصلوں کا سبب قرار دیا اور کہا کہ کشمیر کے لوگوں نے تمام تر مظالم کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے۔ شہباز شریف نے بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کو واپس لیا جانا ضروری ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔

    پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات کا سخت ردعمل
    وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں بھارت کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات کو بھی مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے اور پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگا کر کارروائی کا جواز پیدا کر رہا ہے۔ "اگر بھارت نے کسی بھی قسم کی جارحیت کی کوشش کی، تو پاکستان اس کا منہ توڑ جواب دے گا،” وزیر اعظم نے خبردار کیا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی طویل جدوجہد اور اس میں دی جانے والی قربانیوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار افراد کی قربانیاں دیں اور 150 ارب ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سخت سبق سیکھا ہے اور اب ملک معاشی بحالی کی طرف بڑھ رہا ہے۔

    موسمیاتی تبدیلی اور معاشی مسائل
    شہباز شریف نے اپنے خطاب میں پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ ملکوں میں شامل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی درجہ حرارت میں اضافے میں صرف ایک فیصد حصہ ڈال رہا ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کا سب سے زیادہ نقصان اُٹھا رہا ہے۔ "اس صدی میں ہمیں ماحولیاتی تبدیلیوں کے چیلنج کا سامنا ہے، اور دنیا کو اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا،”
    وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں مہنگائی کے حوالے سے مثبت پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر سنگل ڈیجٹ میں آ گئی ہے۔ انہوں نے ملک میں دہشت گردی کے مسئلے پر بھی بات کی اور کہا کہ پاکستان کو بیرونی امداد سے ہونے والی دہشت گردی کا سامنا ہے۔ "کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP)، بلوچستان لبریشن آرمی (BLA)، اور مجید بریگیڈ جیسے دہشت گرد گروپ افغانستان میں موجود ہیں،” انہوں نے افغان عبوری حکومت سے توقع ظاہر کی کہ وہ ان گروپوں کے خلاف کارروائی کرے گی۔

    عالمی برادری کی ذمہ داری اور پاکستانی موقف
    وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ جہاں بھی غیر آئینی اور غیر قانونی قبضہ کیا جاتا ہے، وہاں قتل و غارت کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کرائے اور بھارت کو 5 اگست 2019 کے اقدامات واپس لینے پر مجبور کرے۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب کے دوران غزہ اور کشمیر کے مسائل پر پوڈیم پر زور دے کر ہاتھ مارا، جس پر حاضرین نے تالیاں بجا کر ان کے موقف کی حمایت کی۔

  • اسرائیل کا لبنان، شام سرحد کے قریب فضائی حملہ،5 شامی فوجی ہلاک

    اسرائیل کا لبنان، شام سرحد کے قریب فضائی حملہ،5 شامی فوجی ہلاک

    اسرائیل نے لبنان، شام سرحد کے قریب فضائی حملہ کیا جس کے نتیجے میں 5 شامی فوجی ہلاک ہوگئے۔

    عرب میڈیا کی خبر کے مطابق شام سے ہونے والے ڈرون حملوں کے بعد کل رات اسرائیلی فوج نے شام لبنان بارڈر پر قائم شامی فوج کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 5 شامی فوجی ہلاک ہوئے اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے شام، لبنان بارڈر پر قائم انفرااسٹکچر پر حملہ کیا جس کے ذریعے حزب اللہ شام کے راستے لبنان میں اسحلہ منتقل کر رہی تھی۔

    واضح رہے کہ 2 روز قبل شام میں موجود مزاحمتی قوتوں نے ڈرون طیاروں سے شمالی اسرائیل کی ایلات بندرگاہ کو نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں 2 افراد زخمی ہوئے تھے۔

    دوسری جانب لبنان پر اسرائیلی حملے شروع ہونے کے بعد ہزاروں لوگ بے گھر ہیں جبکہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد شام کی طرف ہجرت کررہی ہے اقوام متحدہ کی پناہ گزیں ایجنسی کے مطابق گزشتہ 3 دنوں میں 30 ہزار سے زائد شہری جن کی اکثریت کا تعلق شام سے تھا وہ لبنان سے شام ہجرت گرگئے جب کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران لبنان میں 90 ہزار سے زائد لوگ بے گھر ہوگئے ہیں۔

    ادھر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے عالمی برادری کی جانب سے غزہ اور لبنان میں جنگ بندی کے مطالبے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی نہیں ہو گی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر جمع ہونے والے متعدد سیکڑوں ممالک کے سربراہوں کی جانب سے اسرائیل سے جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

    گزشتہ روز اسرائیل کو اپنی بربریت جاری رکھنے کے لیے مزید 8.7 ارب ڈالر کی امداد دینے والے امریکا نے بھی نیتن یاہو سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کہا تھا نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ وہ پوری قوت اور طاقت کے ساتھ حزب اور حماس کے خاتمے کے لیے لبنان اور غزہ پر حملے جاری رکھیں گے، اور یرغمالیوں کی رہائی تک جنگ جاری رہے گی۔