Baaghi TV

Category: برطانیہ

  • ملکہ الزبتھ کی میت لیجانے والے طیارے کی ٹریکنگ کا نیا ریکارڈ

    ملکہ الزبتھ کی میت لیجانے والے طیارے کی ٹریکنگ کا نیا ریکارڈ

    لندن: برطانیہ کی آنجہانی ملکہ الزبتھ دوم کی میت لے جانے والے رائل ائیر فورس کے خصوصی طیارے کی ٹریکنگ نے نیا ریکارڈ قائم کردیا۔

    باغی ٹی وی: غیرملکی میڈیا کے مطابق اسکاٹ لینڈ کے دارالحکومت ایڈن برگ سے ملکہ برطانیہ کی میت لندن لانے والے رائل ائیرفورس کے طیارے کی ایک گھنٹے اور 12 منٹ کی پرواز کو 50 لاکھ سے زائد افراد نے ٹریک کیا۔

    ملکہ الزبتھ کا انتہائی خفیہ خط جو 2085 میں کھولاجائے گا، کس کے نام ہے پیغام؟

    طیاروں کی پرواز کا ریکارڈ رکھنے والی ویب سائٹس کے مطابق 2 لاکھ 96 ہزار سے زائد افراد نے طیارے کو یو ٹیوب جبکہ تقریبا 48 لاکھ نے فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹس اور ایپ پر ملکہ الزبتھ دوم کی میت لے جانے والے طیارے کی ٹریکنگ کی۔

    خصوصی طیارے کے نارتھولٹ پر لینڈ کرنے کے بعد ملکہ الزبتھ کی میت کو بکنگھم پیلس پہنچا دیا گیا ہے کنگھم پیلس پہنچنے پر ملکہ کے بچوں اور پوتے پوتیوں نے تابوت کا استقبال کیا۔

    بکنگھم پیلس کے اطراف ہزاروں افراد ملکہ کے تابوت کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے۔ شہریوں نے تابوت پر پھول نچھاور کر کے ملکہ سے عقیدت کا اظہار کیا۔

    ملکہ الزبتھ دوم کے آخری دیدار کے لیے عوام کا جم غفیر اُمڈ آیا

    ملکہ کے تابوت والی گاڑی جہاں جہاں سےگزری اس کے اطراف ٹریفک رک گئی۔ ایڈنبرا ایئرپورٹ پر تابوت کو رائل رجمنٹ آف اسکاٹ لینڈ نے گارڈ آف آنر بھی پیش کیا۔

    ملکہ الزبتھ کے تابوت کو آج بکنگھم پیلس سے ویسٹ منسٹر ہال لے جایا جائے گا۔غیرملکی میڈیا کے مطابق ملکہ کے تابوت کا دیدار شام پانج بجے سے کیا جاسکے گا ۔ دیدار کیلئے لوگوں نے ابھی سے قطاریں لگانا شروع کردی ہیں، تابوت کو 4 روز تک یہیں رکھا جائے گا۔

    برطانیہ پر سب سے طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والی ملکہ الزبتھ دوم چند روزقبل 96 برس کی عمر میں انتقال کرگئی تھیں ملکہ الزبتھ کی آخری رسومات 19 ستمبر کو دن گیارہ بجے ہوں گی جس کے دوران شرکا ونڈزر کاسل تک ایک جلوس کی شکل میں پیدل جائیں گے ملکہ کو ونڈزر میں کنگ جارج ششم میموریل چیپل میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

    ملکہ الزبتھ کا تابوت بکنگھم پیلس پہنچ گیا

  • ملکہ الزبتھ کا تابوت بکنگھم پیلس پہنچ گیا

    ملکہ الزبتھ کا تابوت بکنگھم پیلس پہنچ گیا

    آنجہانی ملکہ الزبتھ کا تابوت بکنگھم پیلس پہنچ گیا آج ویسٹ منسٹر لے جایا جائے گا جہاں ملکہ کے تابوت کا دیدار کیا جاسکے گا-

    باغی ٹی وی :”روئٹرز” کے مطابق ملکہ کے تابوت کو خصوصی طیارے میں ایڈنبرا سے لندن لایا گیا پھر بکنگھم پیلس پہنچا دیا گیا بکنگھم پیلس پہنچنے پر ملکہ کے بچوں اور پوتے پوتیوں نے تابوت کا استقبال کیا۔

    ملکہ الزبتھ دوم کے آخری دیدار کے لیے عوام کا جم غفیر اُمڈ آیا

    بکنگھم پیلس کے اطراف ہزاروں افراد ملکہ کے تابوت کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے۔ شہریوں نے تابوت پر پھول نچھاور کر کے ملکہ سے عقیدت کا اظہار کیا۔

    ملکہ کے تابوت والی گاڑی جہاں جہاں سےگزری اس کے اطراف ٹریفک رک گئی۔ ایڈنبرا ایئرپورٹ پر تابوت کو رائل رجمنٹ آف اسکاٹ لینڈ نے گارڈ آف آنر بھی پیش کیا۔

    محل کے ایک ترجمان نے بتایا کہ کنگ چارلس، جو گزشتہ ہفتے اپنی والدہ کی موت پربادشاہت کی کرسی پر براجمان ہوئے نے، اپنے تین بہن بھائیوں، دو بیٹوں ولیم اور ہیری اور شاہی خاندان کے دیگر سینئر ارکان کے ساتھ تابوت وصول کیا-

    ملکہ الزبتھ کی طرف سے عمرے کا دعویٰ کرنے والا شخص گرفتار

    ملکہ الزبتھ کے تابوت کو آج بکنگھم پیلس سے ویسٹ منسٹر ہال لے جایا جائے گا۔غیرملکی میڈیا کے مطابق ملکہ کے تابوت کا دیدار شام پانج بجے سے کیا جاسکے گا ۔ دیدار کیلئے لوگوں نے ابھی سے قطاریں لگانا شروع کردی ہیں، تابوت کو 4 روز تک یہیں رکھا جائے گا۔

    ملکہ الزبتھ کی آخری رسومات 19 ستمبر کو دن گیارہ بجے ہوں گی جس کے دوران شرکا ونڈزر کاسل تک ایک جلوس کی شکل میں پیدل جائیں گے ملکہ کو ونڈزر میں کنگ جارج ششم میموریل چیپل میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

    ملکہ الزبتھ کا انتہائی خفیہ خط جو 2085 میں کھولاجائے گا، کس کے نام ہے پیغام؟

  • ملکہ الزبتھ کا انتہائی خفیہ خط جو 2085 میں کھولاجائے گا، کس کے نام ہے پیغام؟

    ملکہ الزبتھ کا انتہائی خفیہ خط جو 2085 میں کھولاجائے گا، کس کے نام ہے پیغام؟

    ملکہ الزبتھ دوم نے آسٹریلیا کے سڈنی کے رہائشیوں کو ایک انتہائی خفیہ خط لکھا، اور اسے سال 2085 تک نہیں کھولا جائے گا۔

    باغی ٹی وی: حال ہی میں فوت ہونے والی برطانوی ملکہ الزبتھ دوم کے حوالے سے ایک دلچسپ معاملہ کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے کہ ملکہ کا ایک خفیہ پیغام ہے جسے 63 برس بعد کھولا جائے گا۔ ملکہ نے یہ پیغام آسٹریلوی شہر سڈنی کے شہریوں کے نام لکھا تھا۔ یہ خط شہر کی ایک مشہور عبارت میں چھپا کر رکھا گیا ہے۔

    سرکاری تدفین سے قبل عوام کو ملکہ الزبتھ کے آخری دیدار کی اجازت

    ملکہ نے یہ خط نومبر 1986 میں اس عمارت کی تزئین وآرائش کے بعد لکھا تھا، یہ سڈنی کے بزنس ڈسٹرکٹ میں ملکہ وکٹوریہ بلڈنگ ہے جو اصل میں 1898 میں تعمیر کی گئی تھی اور ملکہ کی عظیم دادی وکٹوریہ کے نام پررکھی گئی ہے،یہ سڈنی کی سب سے مشہورعمارتوں میں سےایک ہے، جو شہر کے مرکز میں واقع ہے۔

    ملکہ کے عملے کو بھی معلوم نہیں کہ اس خط میں کیا ہے یہ خط شیشے کے ایک کیس میں رکھا گیا ہے۔ اس کیس سے صرف ملکہ کی ہدایات نظر آتی ہیں اس خط کو نہ کھولنے کی سخت ہدایات کی گئی ہیں۔

    ملکہ کی جانب سے ان ہدایات میں لکھا ہے یہ خط آسٹریلوی شہر سڈنی کے میئر کیلئے ہے۔ براہ کرم اسے 2085 میں اپنے انتخابات کے مناسب کسی دن کھولئے گا اور سڈنی کے شہریوں کو میرا پیغام پہنچائیے گا۔

    ملکہ الزبتھ دوم کی وفات پر پاکستان میں یوم سوگ،قومی پرچم سرنگوں رہا

    ملکہ کے خط کے مندرجات واضح نہیں ہیں، لیکن یہ ممکنہ طور پر سڈنی کے رہائشیوں کا شکریہ ادا کرے گا کہ انہوں نے تاریخی عمارت کو بچانے اور اس کی تزئین و آرائش کرنے کے لیے، جب اسے پارکنگ کے لیے تقریباً مسمار کر دیا گیا تھا۔

    1986 میں، ملائیشیا کی ایک کمپنی نے عمارت پر 99 سال کی لیز پر دستخط کیے، ان کا معاہدہ 2085 تک لے لیا – اسی سال ملکہ کی خط و کتابت کو کھولا اور عام کیا جانا ہے۔

    آسٹریلیا ایک دولت مشترکہ ملک ہے، اور ملکہ الزبتھ دوم نے 70 سال تک ملک کی سربراہ مملکت کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اس نے اپنے دور حکومت میں آسٹریلیا کے 16 دورے کیے، آخری دورہ 2011 میں کیا تھا ملکہ 8 ستمبر کو 96 برس کی عمر میں رحلت کر گئیں اور ان آخری رسومات 19 ستمبر کو لندن میں ادا کی جائے گی۔

    ملکہ برطانیہ کی وفات کے بعد برطانیہ سے کوہ نور کی واپسی کا مطالبہ

  • ملکہ الزبتھ دوم کی وفات پر پاکستان میں یوم سوگ،قومی پرچم سرنگوں رہا

    ملکہ الزبتھ دوم کی وفات پر پاکستان میں یوم سوگ،قومی پرچم سرنگوں رہا

    آنجہانی ملکہ الزبتھ دوم کی وفات پر پاکستان میں یوم سوگ منایا گیا، اہم سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہا اور آنجہانی ملکہ کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ملکہ برطانیہ کی وفات پر یوم سوگ منانے کی منظوری دی تھی، اور پیر کا دن پاکستان میں یوم سوگ کے طور پر منایا گیا۔

    وزارت خارجہ نے وزیر اعظم کو ملکہ برطانیہ کی وفات پر سرکاری سطح پر یوم سوگ منانے کی تجویز دی تھی۔ وزیراعظم نے وزارت خارجہ کی تجویز کی منظوری دیتے ہوئے کابینہ ڈویژن کو متعلقہ انتظامات کرنے کی ہدایت کی تھی۔وزیر اعطم کی ہدایت پر سوگ کے موقع پر تمام اہم سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رکھا گیا۔

    آنجہانی ملکہ الزبتھ دوم کی دہائیوں پر محیط زندگی پاکستان کے ساتھ شاندار تعلقات پر محیط تھی وہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کی داعی تھیں۔آنجہانی ملکہ نے 1997 میں پاکستان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا تھا۔ پاکستان کے ساتھ نیک خواہشات کی وجہ سے پاکستانی قوم بھی انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھی اور ان کی وفات پر افسردہ ہے۔ 70سال تک برطانیہ پر حکمرانی کرنے والی ملکہ الزبتھ دوم 96 برس کی عمر میں جمعرات کو بیلمورل میں انتقال کر گئیں.

    الزبتھ1952 میں ملکہ بنیں اور اپنے دور میں انھوں نے بڑے پیمانے پر سماجی تبدیلی دیکھی۔ان کی موت کے بعد ان کے سب سے بڑے بیٹے اور ویلز کے سابق شہزادے چارلس برطانیہ کے نئے بادشاہ اور دولتِ مشترکہ میں شامل 14ممالک کے سربراہ بن گئے ہیں۔ بادشاہ چارلس نے باضابطہ طور پر برطانیہ کے نئے بادشاہ کا منصب سنبھال لیا ہے اور ملکہ کنسورٹ کمیلا پارکر بھی ان کے ہمراہ تھیں ۔

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ، وزیر اعظم محمد شہبازشریف ، چیئرمین سینیت اور اسپیکر قومی اسمبلی نے ان کی وفات پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کے انتقال پر برطانوی شاہی خاندان، حکومت اور عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کیا جمعرات کو ملکہ الزبتھ کی وفات کے موقع پر ایوان صدر کے میڈیا ونگ سے جاری تعزیتی بیان میں صدر مملکت نے کہا کہ ملکہ برطانیہ کے انتقال سے ایک بہت بڑا خلا پیدا ہوا ہے جسے آنے والے وقتوں میں پر کرنا مشکل ہے ، وہ بہت چھوٹی عمر میں تخت نشین ہوئیں لیکن انہوں نے پختگی، کردار اور اعلی ترین عزم کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے وہ دنیا میں طویل ترین حکمرانی کرنے والے حکمرانوں میں شامل ہوئیں۔

    صدر عارف علوی نے کہا کہ ملکہ الزبتھ دوم کی ولولہ انگیز قائدانہ خوبیوں نے انہیں عظیم اور مہربان حکمران کے مرتبے تک پہنچایا جسے عالمی تاریخ میں سنہری الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے مرحومہ کے لئے دعا کی اور کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں ان کے احساسات شاہی خاندان کے افراد اور برطانیہ کے لوگوں کے ساتھ ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ملکہ الزبتھ دوم کے انتقال پر برطانوی شاہی خاندان ، حکومت اور عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

    اپنے ایک ٹویٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ ملکہ الزبتھ دوئم کے انتقال پر انہیں گہرا دکھ اور افسوس ہوا ہے۔ پاکستان ان کی وفات کے سوگ میں برطانیہ اور دولت مشترکہ کے دیگر ممالک کے ساتھ شریک ہے۔ برطانیہ کے شاہی خاندان ، عوام اور برطانوی حکومت سے دلی تعزیت کرتے ہیں۔ سپیکرقومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے برطانوی ہائی کمیشن کا دورہکیا اور برطانوی ہائی کمشنر سے ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کے انتقال پراظہارافسوس کیا اور تعزیتی کتاب میں ملکہ کی زندگی سے وابستہ اہم پہلوں پر اپنے تاثرات قلم بند کیے۔ سپیکرنے کہا کہ ملکہ برطانیہ کے انتقال پر شاہی خاندان اور عوام سے اظہارہمدردیکرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکہ کی دہائیوں پر محیط زندگی پاکستان کے ساتھ شاندار تعلقات پر مبنی تھی.

  • ملکہ الزبتھ دوم کے اصولوں پر عمل پیرا رہوں گا، شاہ چارلس سوم

    ملکہ الزبتھ دوم کے اصولوں پر عمل پیرا رہوں گا، شاہ چارلس سوم

    برطانیہ کے شاہ چارلس سوم نے پارلیمنٹ سے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ وہ ملکہ الزبتھ کی قائم کردہ مثال کی پیروی کرنے کا عزم کرتے ہیں۔ جو جمہوریت کے زندہ رہنے اور سانس لینے کا ذریعہ ہے۔

    شاہ چارلس نے کہا کہ ملکہ برطانیہ نے اپنے ملک اور لوگوں کی خدمت کرنے اور آئینی حکومت کے زریں اصولوں کو برقرار رکھنے کا عہد کیا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کی آئینی حکومت سے وابستگی کے اصولوں پر عمل پیرا رہیں گے۔

    علاوہ ازیں نیوزی لینڈ نے ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کے انتقال پر 26 ستمبر کو عام تعطیل کا اعلان کر دیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم جیسنڈا آرڈرن ملکہ برطانیہ کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے 14ستمبر کو لندن جائیں گی۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کا تابوت ایڈنبرا میں موجود ہے، عوام کو آج سینٹ جائلز کیتھیڈرل میں ملکہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کا موقع ملے گا۔

  • برطانیہ کی جانب سے پاکستان کی جاسوسی،امریکی سی آئی اے اہلکار کا انکشاف

    برطانیہ کی جانب سے پاکستان کی جاسوسی،امریکی سی آئی اے اہلکار کا انکشاف

    امریکہ کی طرف سے ساری دنیا میں لاکھوں لوگوں اور پیغام رسانی کی جاسوسی کے خفیہ پروگرام کا انکشاف کرنے والے سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن نے کہا ہے کہ برطانیہ نے پاکستان کے علم میں لائے بغیر بڑے پیمانے پر جاسوسی کی.

    بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں ایڈورڈ سنوڈن نے کہا کہ ان کو افسوس رہے گا کہ انہوں نے جاسوسی کے اس پروگرام کا انکشاف پہلے کیوں نہیں کیا؟ ،حسین عسکری اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ایڈورڈ سنوڈن سے انٹرویو طے کرنے میں تین ماہ لگے.

    انٹرویو کیلئے ہمیں ایک خفیہ زبان کے ذریعے ماسکو بلایا گیا.جہاں ایڈورڈ سنوڈن کو خود ہمارے ہوٹل (قیام گاہ) آنا تھا.جو کچھ انہوں نے کیا اس کی وضاحت کرتے ہوئے ایڈورڈ سنوڈن کا کہنا تھا کہ میں نے دیکھا کہ لوگوں کو بتائے بغیر کسی جرم کے بغیر ہی لوگوں کی پیغام رسانی کی مستقل نگرانی کی جارہی ہے،اور یہ سب لوگوں کی مرضی کے بغیر ہو رہا ہے.

    برطانوی سراغ رساں ادارے ( جی سی ایچ کیو) کی طرف سے لوگوں کے سمارٹ فونز کی جاسوسی پر بھی ایڈورڈ سنوڈن نے تشویش کا اظہار کیا.انہوں نے بتایا کہ اس صلاحیت کو کمپیوٹر نیٹ ورک ایکسپلائیٹیشن کہا جاتا ہے.

    سی آئی اے کے سابق اہلکار نے جی سی ایچ کیو کے تحت چلنے والے خفیہ پروگرام کے بارے میں بھی بتایا،ان کا کہنا تھا اس کو کارٹون کردار( سمرفس) کا نام دیا گیا ہے.انہوں نے بتایا کہ ڈریم سمرس کے ذریعے وہ جب چاہیں آپ کا موبائل فون بند (آف)یا کھول (آن)سکتے ہیں .

    نوزی سمرف کے بارے میں سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن نے بتایا کہ فون کے مائیک کو کنٹرول کرتا ہے،اور کسی بھی جیب میں پڑے فون کے مائیک کوآن کر کے ارد گرد کی آوازیں یا گفتگو سنی جا سکتی ہے اور ٹریکر سمرف پروگرام کے ذریعے آپ کے فون کی مدد سے آپ کی نقل وحرکت کی بالکل درست نشاندہی کی جاسکتی ہے.

    ایڈورڈ سنوڈن نے یہ بھی بتایا کہ کس طرح سے جی سی ایچ کیو نے پاکستان میں بڑے پیمانے پر مواصلاتی معلومات حاصل کیں.جس کا مقصد غالبا دہشت گردوں کی نشاندہی اور ان کا پیچھا کرنا تھا،اس برطانوی سرکاری ادارے نے پاکستان میں ایک امریکی کمپنی سیسکو کے ڈیجیٹل جنکشن باکس تک رسائی حاصل کی ، یہ پاکستان میں فون کی سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے سرورز کو ان کی اجازت کے بغیرکنٹرول کرتے ہیں.

    انہوں نے مذید بتایا کہ بظاہر یہ جاسوسی برطانوی حکومت کی اجازت سے کی گئی،تاہم جی سی ایچ کیو نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا. بس اتنا کہا کہ ان کے تمام کام قانون کے دائرہ میں رہ کر کئے جاتے ہیں.

    امریکی اور برطانوی حکومتیں ایڈ ورڈ سنوڈن کو غدار سمجھتی ہیں،جس نے ان کے اعتماد کو دھوکا دیا،بی بی سی کے نمائیندہ کو سوال کے جواب میں سنوڈن کا کہنا تھا کہ میں غدار نہیں ہوں ،میں نے کس سے غداری کی ہے؟،ان کا کہنا تھا کہ یہ دلیل بھی دی جاسکتی ہے کہ میں نے امریکیوں کو بچانے کیلئے حکومت سے غداری کی.

    ایڈ ورڈ سنوڈن اب ماسکو میں ہی رہیں گے یا کھبی امریکہ جا کر اہنے خلاف مقدمہ کا سامنا کرے گا ،یا کو کچھ انہوں نے کیا س پر جیل جائیں گے،ایک سوال کے جواب میں ایڈ ورڈ سنوڈن نے کہا کہ مجھے یہ افسوس ضرور ہے کہ میں نے یہ انکشاف پہلے کیوں نہیں کیا؟ ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے فیصلے پر مطمئن ہوں اور اس کیلئے میں نے قیمت بھی ادا کی ہے.انہوں نے کہا کل جب میں اس دنیا میں نہیں ہوں گا تو میں خود کو خوش نصیب سمجھوں گا.

  • ملکہ برطانیہ کی وفات کے بعد برطانیہ سے کوہ نور کی واپسی کا مطالبہ

    ملکہ برطانیہ کی وفات کے بعد برطانیہ سے کوہ نور کی واپسی کا مطالبہ

    لندن: ستر برس تک دنیا کے بیشتر ممالک پر حکمرانی کرنے والی ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم کے انتقال کے بعد برطانیہ سے کوہ نور ہیرا بھارت کو واپس لوٹانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے جو ملکہ برطانیہ کے تاج میں جڑا ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز سےسوشل میڈیا پر کوہ نورٹاپ ٹرینڈ کررہا ہے،جس میں صارفین کی جانب سے کوہ نور سمیت متعدد قیمتی اشیاء ایسی ہیں جنہیں برطانیہ نےنوآبادیاتی دور میں اپنے زیر تسلط ممالک سے چھینی یا لوٹی تھیں،جن میں کوہ نور ،ٹیپو سلطان کی انگوٹھی،روزیٹا،افریقہ کا عظیم ستارہ اور ایلگن ماربلز شامل ہیں-

    دنیا کے ارب پتی افراد کی فہرست جاری،ایلون مسک 219 ارب ڈالر کے ساتھ پہلے نمبر پر


    کوہ نور

    کوہِ نور دنیا کا مشہور ترین ہیروں میں سے ایک ہے جو اس وقت تاج برطانیہ کی زینت ہے۔ کوہ نور کا مطلب ہے روشنی کا پہاڑ۔ ہیرے کا وزن 105 قیراط (21.6 گرام) ہے۔

    https://twitter.com/Behera6swarna/status/1568973348142456833?s=20&t=zGA53_Q5F_zceH6GFhlyBw


    https://twitter.com/Behera6swarna/status/1569037506913660928?s=20&t=zGA53_Q5F_zceH6GFhlyBw
    ٹیپو سلطان کی انگوٹھی

    ملکۂ برطانیہ الزبتھ دوم کی وفات، پاکستان میں سرکاری سطح پر یومِ سوگ منانے کا…

    میڈیا رپورٹس کے مطابق انگریزوں نے 1799 میں ٹیپو سلطان کے خلاف جنگ میں فتح کے بعد اس جسم سے انگوٹھی اتار لی تھی جسے ایک نیلامی کے دوران 1 لاکھ 45 ہزار پاؤنڈز میں نامعلوم شخص کو نیلام کیا گیا۔

    افریقہ کا عظیم ستارہ

    برطانوی حکومت نے 1905 میں افریقہ سے برآمد ہونے والے دنیا کے سب سے بڑے ہیرے ’دی گریٹ اسٹار آف افریقہ‘ کو بھی لوٹ لیا تھا جو اس وقت ملکہ برطانیہ کے تخت میں جڑا ہوا ہے۔


    میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیرے کا وزن 530 قیراط ہے جس کی مالیت کا تخمینہ 40 کروڑ امریکی ڈالرز لگائی ہے تاریخ دانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’افریقہ کے عظیم ستارے‘ نامی ہیرے کو ایڈورڈ ہفتم کو بطور تحفہ پیش کیا گیا تھا تاہم ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ہیرا چوری کیا۔

    شہزادہ چارلس برطانوی تخت و تاج کےباقاعدہ بادشاہ بن گئے

    ایلگن ماربلز

    مؤرخین کے مطابق 1803 میں لارڈ ایلگن نے یونان سے ہارتھینن کی بوسیدہ دیواروں سے سنگ مرمر کو نکال کر لندن منتقل کروا دیا تھا جو اب بھی برطانوی عجائب گھر(برٹش میوزیم) میں موجود ہے اور 1925 سے یونان اپنی قیمتی اشیاء کی واپسی کا مطالبہ کررہا ہے جو آج تک پورا نہ ہوسکا لارڈ ایلگن کی وجہ سے ان قیمتی یونانی سنگ مرمر کو ایلگن ماربلز کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    روزیٹا پتھر

    مصری حکام اور ماہرین آثار قدیمہ روزیٹا پتھر کو واپس مصر لانا چاہتے ہیں لیکن دیگر نوادرات اور قیمتی اشیاء کی اس کا مطالبہ بھی پورا نہ ہوسکا 196 سال قبل مسیح کے پتھر سے متعلق ماہرین آثار قدیمہ کا دعویٰ ہے کہ اس پتھر کو برطانوی حکومت نے سن1800 میں فرانس کے خلاف جنگ میں فتح حاصل کرنے بعد چوری کیا تھا۔

    کوئین الزبتھ دوئم کی 70 سال کی حکمرانی ختم: برطانوی شاہی خاندان کے خطابات بھی…


    رپورٹ کے مطابق روزیٹا پتھر دریائے نیل کے ایک کنارے روزیٹا کے مقام پر 1799 میں فرانسیسی فوجیوں کو اتفاقاً ملا تھا، جس میں ایک ہی عبارت تین زبانوں یعنی مصری تصویری خط میں، مصری عوامی خط اور یونانی خط میں کندہ ہے۔

    واضح رہے کہ روزیٹا پتھر بھی ایلگن ماربلز کی طرح اس وقت برطانیہ کے عجائب گھر میں موجود ہے۔

    لیڈی ڈیانا کے بعد کیٹ میڈلٹن کو "پرنسس آف ویلز” کا خطاب مل گیا

  • ملکۂ برطانیہ الزبتھ دوم کی وفات، پاکستان میں سرکاری سطح پر یومِ سوگ منانے کا فیصلہ

    ملکۂ برطانیہ الزبتھ دوم کی وفات، پاکستان میں سرکاری سطح پر یومِ سوگ منانے کا فیصلہ

    ملکۂ برطانیہ الزبتھ دوم کی وفات پر پاکستان میں سرکاری سطح پر یومِ سوگ منانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ملکۂ برطانیہ کی وفات پر یومِ سوگ منانے کی منظوری دے دی۔

    اس ضمن میں نوٹی فکیشن جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق کل پاکستان میں یومِ سوگ کے طور پر منایا جائے گا۔ملکہ برطانیہ کا تابوت آج بذریعہ سڑک ایڈنبرا پہنچایا جائیگا،وزارتِ خارجہ نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو ملکۂ برطانیہ کی وفات پر سرکاری سطح پر یومِ سوگ منانے کی تجویز دی تھی۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے وزارتِ خارجہ کی تجویز کی منظوری دے دی ہے۔

    وزیرِ اعظم نے کابینہ ڈویژن کو یومِ سوگ سے متعلق انتظامات کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔واضح رہے کہ برطانیہ کی ملکہ الزبتھ الیگزینڈرا میری ونڈسر 8 ستمبر کو 96 برس کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔

    ملکہ کو پچھلے سال اکتوبر سے صحت کے مسائل کا سامنا تھا جس کے باعث انہیں چلنے پھرنے اور کھڑے ہونے میں مشکل پیش آ رہی تھی۔الزبتھ دوم 6 فروری 1952ء سے 8 ستمبر 2022ء کو اپنی موت تک 70 سال اور 214 دن برطانیہ کی ملکہ رہیں۔ ملکۂ برطانیہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات 19 ستمبر کو ادا کی جائیں گی

  • کوئین الزبتھ دوئم کی 70 سال کی حکمرانی ختم:  برطانوی شاہی خاندان کے خطابات بھی تبدیل

    کوئین الزبتھ دوئم کی 70 سال کی حکمرانی ختم: برطانوی شاہی خاندان کے خطابات بھی تبدیل

    کوئین الزبتھ کی وفات کے بعد برطانیہ میں نئے بادشاہ کے ساتھ شاہی خاندان والوں کے خطابات بھی بدل دیئے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : کوئین الزبتھ کے بیٹے اور 5 دہائیوں تک پرنس آف ویلز رہنے والے چارلس نے بادشاہ کا عہدہ سنبھال لیا ہے کوئین الزبتھ دوئم کی 70 سال کی حکمرانی ختم ہوئی ہے جس کے بعد برطانیہ کے نئے بادشاہ کے ساتھ ہی شاہی خاندان کو نئے خطابات سے نوازا گیا ہے-

    ملکہ برطانیہ کے انتقال پر عالمی رہنماؤں کا گہرے دکھ کا اظہار


    ملکہ الزبتھ کی وفات کے بعد ان کے بڑے بیٹے نے چارلس سوئم کے نام سے شاہی تخت سنبھالا جبکہ ان کی اہلیہ کمیلا کوئین کنسورٹ بن گئیں-

    چارلس سوئم نےاپنا پرنس آف ویلز کا خطاب اپنے بڑے بیٹے ولیم کو سونپ دیا ہے، شہزادہ ولیم ، بادشاہ کے وارث ہوں گے، ان کے پاس ڈیوک آف کیمبرج کا اعزاز تھا، اور اب انہیں پرنس آف ویلز اور کارن وال کا ٹائٹل دیا گیا جو گزشتہ پانچ دہائیوں سے کنگ چارلس کے پاس تھا چارلس کو یہ خطاب 1958 میں دیا گیا تھا –

    برطانیہ کے نئے بادشاہ چارلس کا قوم سے پہلے خطاب میں آنجہانی ملکہ کو زبردست خراج عقیدت


    جبکہ شہزادہ ولیم کی اہلیہ کیٹ مڈلٹن کو بھی ڈچز آف کیمبرج سے ، پرنسس آف ویلز اور کارن وال کا شاہی اعزازدیا گیا ہے، پرنسس آف ویلز کا خطاب 1981 میں کنگ چارلس سے شادی کے بعد لیڈی ڈیانا کو دیا گیا تھا ،جس کے بعد یہ خطاب ان کی دوسری اہلیہ کمیلا کو بھی دیا گیا لیکن انہوں نے ڈیانا کے احترام میں ڈچز آف کارن وال کا ٹائٹل اپنے پاس رکھا جبکہ پرنسس آف کارن وال کا یہ اعزاز انہیں کیملا سے وراثت میں ملا ہے۔

    ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کی وفات سے برطانیہ کی قدیم روایات اور اقدارہی بدل گئیں


    علاوہ ازیں ولیم اور کیٹ کے تین بچوں کو بھی نئے شاہی خطابات دیئے گئے ہیں پرنس جارج اب پرنس جارج آف کان وال اینڈ ویلز شہزادی شارلٹ اب پرنسس شارلٹ کان وال اینڈ ویلز جبکہ شہزادہ لوئس اب پرنس لوئس آف کان وال اینڈ ویلز ہوں گے۔

    کنگ چارلس کے دوسرے چھوٹے بیٹے اور بہو ہیری اور میگھن پہلے ہی شاہی خاندان سے دستبردار ہو چکے ہیں، لیکن سسیکس ڈیوک اور ڈچس شہزادہ ہیری اور میگھن کے بچے آرچی اور للی بیٹ ملکہ الزبتھ دوم کے انتقال کے بعد شہزادہ اور شہزادی بن گئے ہیں ان کے بچوں کو روایت کے مطابق پرنس آرچی ماؤنٹ بیٹن ونڈسر، اور پرنسس للی بیٹ ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کے خطاب دیئے گئے ہیں 1917 میں کنگ جارج پنجم کے وضع کردہ قوانین کے تحت یہ القابات دیئے گئے-

    لیڈی ڈیانا کے بعد کیٹ میڈلٹن کو "پرنسس آف ویلز” کا خطاب مل گیا

  • ملکہ برطانیہ کے انتقال پر عالمی رہنماؤں کا گہرے دکھ کا اظہار

    ملکہ برطانیہ کے انتقال پر عالمی رہنماؤں کا گہرے دکھ کا اظہار

    70 سالوں سے برطانیہ کے تخت پر راج کرنے والی ملکہ الزبتھ دنیا سے رخصت ہو گئیں، جس پرعالمی رہنماؤں اور اعلیٰ شخصیات نے ان کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: عالمی رہنماؤں نےبرطانیہ کے شاہی خاندان، برطانوی حکومت اور برطانوی عوام سے ملکہ الزبتھ دوئم کے انتقال پر گہرے دکھ و افسوس کا اظہارکیا ہے-

    ملکہ برطانیہ ایلزبتھ دوئم 96 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں

    کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹس ٹروڈو نے ملکہ برطانیہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک مشکل دنیا میں، ان کے مسلسل فضل اور عزم نے ہم سب کو راحت پہنچائی انہوں نے مزید کہا کہ وہ ان کی باتوں کو یاد کریں گے وہ دنیا میں میری پسندیدہ شخصیات میں سے ایک تھیں، اور وہ مجھے بہت یاد آئیں گی۔

    نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے کہا کہ وہ غیر معمولی شخصیت کی مالک تھیں، ان کی زندگی کے آخری ایام اس بات کو عیاں کرتے ہیں ، ملکہ ان لوگوں کے لیے آخری حد تک کام کر رہی تھی جن سے وہ پیار کرتی تھی۔

    فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں ’ایک نرم دل ملکہ‘ اور ’فرانس کی دوست‘ کے طور پر یاد کیا، جبکہ سابق امریکی صدر باراک اوبامہ کا کہنا تھا کہ ملکہ نے ’دلکش انداز، خوبصورتی اورانتھک محنت کےذریعے کیے گئے دور حکومت کی وجہ سے دنیا کو اپنا بنایا۔

    روسی صدر پیوٹن نے کہا کہ برطانیہ کی حالیہ تاریخ کے سب سے اہم واقعات ان کی عظمت کے نام سے جڑے ہوئے ہیں۔

    ملکہ الزبتھ دوئم کے انتقال پر صدر پاکستان اور وزیراعظم کا گہرے دکھ و افسوس کا…

    سویڈن کے بادشاہ کارل گستاف نے کہا کہ وہ ہمیشہ سے میرے خاندان کے لیے عزیز رہی ہیں اور ہماری مشترکہ خاندانی تاریخ میں ایک قیمتی کڑی ہے، جبکہ بیلجیئم کے بادشاہ فلپ اور ملکہ میتھلڈےکا کہنا تھا کہ وہ ایک غیرمعمولی شخصیت تھیں، جنھوں نےاپنے دور حکومت میں وقار، ہمت اور لگن کا مظاہرہ کیا۔

    اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ انہوں نے لوگوں کی خدمت کے لیے ملکہ کی غیر متزلزل، زندگی بھر لگن کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دنیا ان کی عقیدت اور قیادت کو طویل عرصے تک یاد رکھے گی۔

    یورپی یونین کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لین نے کہا کہ ملکہ حقیقی قیادت کی ایک مثال تھی، ان میں ہر گزرنے والی نسل کے ساتھ ساتھ اپنی روایات سے جڑے رہنے کی صلاحٰت بھی تھی۔

    ملکہ برطانیہ کے انتقال کے بعد شہزادہ چارلس بادشاہ بن گئے

    ملکہ الزبتھ کے پانچویں کزن اور نیدرلینڈز کے بادشاہ ولیم الیگزینڈر نے گہرے احترام اور بڑے پیارسے ملکہ کی شخصیت کو یاد کیا۔

    جرمن چانسلر اولاف شُولز نے کہا کہ دوسری عالمی جنگ کی ہولناکیوں کے بعد جرمن-برطانوی مفاہمت کے لیے ان کی کوششیں ناقابل فراموش رہے گی۔

    واضح رہے کہ برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوئم 96 سال کی عمر میں چل بسیں ہیں شاہی محل بکنگھم پیلس نے ملکہ برطانیہ کے انتقال کا اعلان کیا شہزادہ چارلس برطانیہ کے آئندہ بادشاہ بن جائیں گے برطانوی حکومت نے ملکہ برطانیہ کے انتقال پر دس روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات آج لندن میں اد ا کی جائیں گی.

    برطانوی میڈیا کے مطابق ملکہ کی تدفین لندن برج آپریشن کے منصوبے کے تحت سر انجام پائے گی،ملکہ کے تابوت کو شاہی ٹرین پر سینٹ پینکراس ریلوے اسٹیشن لندن منتقل کیاجائے گا اور پھر ریلوے اسٹیشن سے تابوت بکنگھم پیلس لایا جائے گا-

    ملکہ برطانیہ نے پاکستان کے کس دور میں دورے کیے تفصیلات آگئیں