Baaghi TV

Category: برطانیہ

  • برطانیہ میں خالصتان ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ مکمل

    برطانیہ میں خالصتان ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ مکمل

    برطانیہ میں خالصتان ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ مکمل ہوگئی، جس کے نتائج کا اعلان پنجاب ریفرنڈم کمیشن ووٹنگ کے تمام مراحل مکمل ہونے پر کرے گا۔

    باغی ٹی وی : مقامی وقت کے مطابق ووٹنگ صبح 10 سے شام 5 بجے تک جاری رہی جس میں خواتین سمیت بزرگ سکھوں نے بھی حصہ لیا۔

    خالصتان ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ کا انعقادسکھ فار جسٹس کے زیراہتمام کیا گیا جبکہ سلاو اور اس کے گردونواع کے 10 ہزار سے زاہد سکھوں نے ووٹنگ میں حصہ لیا اس کے علاوہ سارا دن سکھ رہنما آزاد خالصتان کے حق میں نعرے بھی بلند کرتے رہے۔

    بھارت: سکھوں کے مقدس مقامات کی بے حرمتی کا الزام،چوبیس گھنٹوں میں دو افراد قتل

    سکھ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ سکھ برادری بھارت کے ناروا اور انسانیت سوز سلوک کے آگے ڈٹ کر کھڑی ہوگئی بھارت سکھوں کی آزادی کی تحریک کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کررہا ہے۔

    اس سے قبل برطانیہ میں خالصتان کے قیام کے لیے ریفرنڈم کے تیسرے مرحلےکی ووٹنگ کیلئے ووٹ ڈالنے والوں کا کہنا تھا کہ سکھ آزادی کے حصول تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، سکھ کمیونٹی نے آزادی کےلیےگولی کے بجائے ووٹ کو ترجیح دی ہے۔

    ووٹرز کا کہنا تھا کہ بھارت سکھوں کی حق کی آواز کو زیادہ دیر نہیں دبا سکتا، پنجاب میں رہنے والے تمام مذاہب کے لوگ بھارت سے آزادی چاہتے ہیں، ریفرنڈم کے ذریعے اپنا وطن حاصل کرنے کا بہترین موقع ملا ہے، سکھوں کی آزادی کا خواب جلد پورا ہوگا۔

    بھارت میں مذہبی اقلیتیں خوف ودہشت کے عالم میں:بقااوراحیا بھی خطرےمیں:رپورٹ جاری

    سکھ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پنجاب کی آزادی پر مہر لگانے کے لیے صبح سے ہزاروں سکھ اپنا ووٹ ڈال چکے ہیں، ریفرنڈم کرواکر کئی ممالک نے آزادی حاصل کی ہے، جونا گڑھ بھی ریفرنڈم کے ذریعے بھارت کا حصہ بنا تھا۔

    دوسری جانب بھارتی حکام خالصتان ریفرنڈم سے خوفزدہ ہیں جس کے پیش نظر بھارتی حکام نے سکھوں کو ریفرنڈم میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے این آر آئی کارڈ اور ویزے منسوخ کرنے کی دھمکیاں دیں-

    واضح رہے کہ کینیڈا میں سکھ فار جسٹس بھارت میں سکھوں کے علیحدہ وطن سے متعلق مقدمے کے پہلے مرحلے میں کامیابی حاصل کرچکی ہے, کینیڈا کی عدالت کے فیصلے میں پاکستان پر سکھوں کی ریفرنڈم کیمپین کی پشت پناہی کا الزام غلط ثابت ہوا تھا۔

    سکھوں کے مقدس مقامات گولڈن ٹمپل کی بے حرمتی کرنے والا نوجوان ہلاک کر دیا گیا

    یاد رہےکہ اندرا گاندھی کو آپریشن بلیو اسٹار کا حکم دینے پر ان کے سکھ باڈی گارڈز نے 31 اکتوبر کو ہلاک کردیا تھا، اس قتل کے بعد بھارت میں ہزاروں سکھوں کو چن چن کر قتل کیا گیا جب کہ پولیس اہلکار ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو روکنے کے بجائے تماشہ دیکھتے تھے۔

    یہی نہیں بعض واقعات میں پولیس اہلکاروں نے ووٹر لسٹیں بھی حملہ آوروں کو فراہم کیں، اس کے پیش نظر سکھوں نے 31 اکتوبر کی مناسبت سے آزادی کے لیے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

    بھارت: ہم جنس پرست جوڑے نے شادی کرلی

  • لندن:اومی کرون کا پھیلاؤ روکنے کیلئےپارلیمنٹ میں خصوصی بل منظور

    لندن:اومی کرون کا پھیلاؤ روکنے کیلئےپارلیمنٹ میں خصوصی بل منظور

    لندن: اومی کرون کا پھیلاو روکنے کیلئے حکومتی اقدامات پر پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے بعد خصوصی بل منظور کر لیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ میں ماسک لازمی پہننے کے اقدامات کے حق میں 441 جبکہ مخالفت میں 41 ووٹ پڑے بل کے تحت سینما، تھیٹرز اور میوزیم میں بھی ماسک پہننا لازمی قراردیا گیا ہے نائٹ کلب اور بعض دیگر مقامات پر داخلے کیلئے ویکسینشن کا ثبوت یا کورونا کا منفی نتیجہ دکھانا بھی لازمی ہو گا۔

    برطانیہ میں اومی کرون سے پہلی موت

    رپورٹ کے مطابق کوویڈ پاسپورٹ کا منصوبہ بھی پارلیمنٹ سے منظور کر لیا گیا، جس میں کوویڈ پاسپورٹ کے حق میں 369 اور مخالفت میں 126 ووٹ پڑے 2019 کے الیکشن کے بعد برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو پارٹی ارکان کی طرف سے بڑی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے کچھ ارکان نے بل میں موجود اقدامات کی مخالفت کی تو کچھ نے بوروس جانسن کے لیے مشکل حالات پیدا کرنے کے لیے غصہ نکالا۔

    برطانیہ میں اومیکرون کے پھیلاؤ میں تیزی

    برطانیہ میں کورونا کی نئی قسم اومی کورون بہت تیزی سے پھیل رہا ہے، اب تک برطانیہ میں اومی کرون کی 4500 افراد میں تشخیص ہو چکی ہے، جس میں سے 10 متاثرین اسپتال منتقل کر دئیے گئے ہیں جبکہ ایک جان کی بازی ہار چکا ہے۔

    برطانیہ میں حالات کنٹرول سے باہر: اومی کرون کا پھیلاؤ تیز، کورونا الرٹ لیول 3 سے…

    برطانیہ کے چیف میڈیکل آفیسر نے خبردار کیا ہے کہ اومیکرون تیزی سے پھیل رہا ہے، مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے،کرونا کی اس نئی قسم سے ویکسین سے بھی محفوظ رہنا مشکل ہے، برطانیہ میں اومیکرون کے کیسز میں اضافے کے بعد کرونا الرٹ لیول تین سے بڑھا کرچار کردیا گیا ہے-

    لندن : جنوری میں اومی کرون کی بڑی لہر کا خطرہ،سائنسدانوں نے خبردار کر دیا

    میڈیکل آفیسر کا کہنا ہے کہ اومیکرون کی وج سے پہلے ہی ہسپتالوں میں مریض زیر علاج ہیں اور اب مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے کا خدشہ ہے، اومی کرون کے پھیلاؤ میں اضافے کے بعد کورونا الرٹ لیول بڑھا کر چار کردیا گیا ہے کورونا الرٹ لیول چار کا مطلب وبا کا پھیلاؤ بہت زیادہ ہے نئے کرونا وائرس کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کورونا کا اومی کرون ویرینٹ ڈیلٹا ویرینٹ سے زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے دنیا کے 70 ممالک میں اومیکرون تیزی سے پھیل چکا ہے۔

    کورونا کی نئی قسم کا خوف،چین میں 5 لاکھ سے زائد افراد قرنطینہ

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق نئی قسم میں کورونا وائرس نے بڑے پیمانے پر اپنی ہیت اور شکل تبدیل کر لی ہے اور اس وائرس میں ری انفیکشن کا خطرہ دیگر تمام اقسام سے زیادہ ہے کورونا کی نئی قسم کے کیسز سب سے پہلے جنوبی افریقہ میں رپورٹ ہوئے جنوبی افریقہ میں اس قسم کی تصدیق کے بعد سے کورونا کی یہ قسم بوٹسوانا، بلجیئم، ہانگ کانگ، اور اسرائیل میں پائی گئی ہے۔

    امریکی دواساز کمپنی نے کورونا کی چوتھی ڈوز کے استعمال کا اشارہ دیدیا

    دریافت ہونے والی کورونا کی نئی قسم کے جینیاتی ڈھانچے میں بہت سے تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ سائنسدانوں نے اس نئی قسم کو ہولناک وائرس قرار دیا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ قسم اب تک سامنے آنے والی کورونا اقسام میں سب سے زیادہ خطر ناک ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اومیکرون قسم نے ہمیں حیران کر دیا ہے کیونکہ اس میں ہماری توقع سے زیادہ تبد یلیاں آ چکی ہیں ماہرین کےمطابق کورونا کی اومی کرون قسم میں 50 تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں جبکہ اس سے پہلے سب سے زیادہ خطرناک سمجھی جانے والی قسم ڈیلٹا میں صرف 2 تبدیلیاں پائی گئی تھیں اس قسم میں موجود مخصوص سپائک پروٹین، جس کو ویکسین نشانہ بناتی ہے، اس میں 30 جینیاتی تبدیلیاں موجود ہیں۔

    اومی کرون کیسز، ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ کی کرسمس پارٹی منسوخ

    اس وائرس کی قسم کے معائنے کے بعد ہم نے دیکھا کہ اس کا وہ حصہ جو سب سے پہلے انسانی جسم پر اثرانداز ہوتا ہے اس کی سطح پر بھی 10 جینیاتی تبدیلیاں ہیں۔

    اومی کرون سے بچنے کا طریقہ: برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق سائنس دان یہ جاننے کے لیے کوشش کر رہے ہیں لیکن فی الحال احتیاط ہی سب سے مفید راستہ ہے۔

    بل گیٹس کی کورونا وبا سے متعلق نئی پیشگوئی

    دنیا بھر کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی اس بات پر ہی زور دیا جا رہا ہے کہ اومی کرون کے خلاف مزاحمت کے لیے ویکسینیشن کے عمل کو تیز کیا جائے اور جو لوگ اب تک ویکسین سے محروم ہیں ان تک ویکسین پہنچائی جائے۔

    ڈبلیو ایچ او کے مطابق کورونا کے خلاف طے شدہ حفاطتی اقدامات پر عمل درآمد بھی اومی کرون سے بچاؤ میں مدد دے سکتے ہیں، یعنی ماسک پہننا اور سماجی فاصلوں کا خیال رکھنا۔

    16 اور 17 سال کی عمر کے لوگوں کے لیے فائزر کووڈ بوسٹر کی اجازت دے دی گئی

  • نام”محمد” رواں سال برطانیہ میں مقبول ترین ناموں میں شامل

    نام”محمد” رواں سال برطانیہ میں مقبول ترین ناموں میں شامل

    نام”محمد” 2021 میں برطانیہ میں لڑکوں کا سب سے مقبول نام بن گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : رواں برس امریکا میں نومولود بچوں کے رکھے جانے والے 10 مقبول ناموں کی فہرست سامنے آگئی جس میں نام ‘محمد’ بھی پہلی بار جگہ بنانے میں کامیاب رہا بے بی سینٹر نامی ویب سائٹ کی ناموں کے حوالے سے جاری کی گئی سالانہ رپورٹ مں یہ بات بتائی گئی۔

    تازہ ترین مردم شماری کے مطابق برطانیہ میں 3.3 ملین سے زیادہ مسلمان آباد ہیں اور پورے ملک کے 18% کے مقابلے برطانیہ میں نصف مسلمان غربت کی زندگی گزار رہے ہیں گزشتہ سال محمد نام لڑکوں میں سب سے زیادہ پسند کیا جانے والا نام شمار کیا گیا تھا اور اس سال بھی یہ نام 28ویں نمبر پر موجود ہے-

    وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہوگا

    ڈیٹا کے مطابق رواں سال امریکا میں بچوں کے سب سے زیادہ رکھے جانے والے دس ناموں میں دو عربی نام محمد اور عالیہ بھی شامل ہیں۔

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ رواں سال امریکا میں صوفیہ نام سب سے زیادہ مقبول ثابت ہوا، جبکہ لڑکوں میں لیام نام ٹاپ پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہا محمد اور عالیہ ناموں نے اس فہرست میں جگہ بنانے کے لیے میسن اور لیلہ ناموں کو پیچھے چھوڑا۔

    امریکا میں لڑکوں کے رکھے جانے والے مزید مقبول ناموں میں جیکشن، نوح، ایڈن اور گریسن شامل ہیں جبکہ لڑکیوں کے لیے اولیویا، ایما، ایوا اور ایریا جیسے نام مقبول رہے۔

    ایک اور رپورٹ کے مطابق محمد نام دنیا بھر میں بچوں کا رکھا جانے والا سب سے مقبول ترین نام ثابت ہوا بےبی سینٹر کی ایڈیٹر لنڈا مورے کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ مسلمان گھرانے عموماً پیغمبر حضرت محمد ﷺ کے نام پر اپنے بیٹوں کا نام رکھتے ہیں۔

    شدید دھند کے باعث موٹر وے ایم ٹولاہور سے شیخوپورہ تک بند

    امریکا کی سوشل سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کےڈیٹا کے مطابق سال 2000 میں نام ‘محمد’ 620 نمبر پر تھا جبکہ 2018 تک یہ 345 پر آگیا اس کے علاوہ امریکا میں نام ‘محمد’ کے لیے رائج مختلف حروف تحجی کو ایک کر دیا جائےتو یہ تعداد اور بڑھ جائے گی۔

    خیال رہے کہ محمد نام کو برطانیہ میں بھی لڑکوں کا سب سے مقبول ترین نام قرار دیا گیا اور یہ اعزاز اس نے مسلسل تیسرے سال حاصل کیا تھا برطانیہ میں محمد نام 2017 سے مقبول ترین یا سرفہرست پوزیشن پر ہے جبکہ 2014 اور 2015 میں بھی یہ سرفہرست رہا تھا۔

  • برطانیہ میں اومی کرون  سے پہلی موت

    برطانیہ میں اومی کرون سے پہلی موت

    برطانیہ میں اومی کرون وائرس سے ایک مریض کی ہلاکت ہوئی ہے-

    باغی ٹی وی : ” روئٹرز” نے اسکائی نیوز کے حوالے سے بتایا کہ برطانوی وزیراعظم بورس جانس نے پیر کے روز اومی کرون سے مریض کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جانسن نے نامہ نگاروں کو بتایا، "افسوس کی بات ہے کہ اب کم از کم ایک مریض کی اومی کرون کے ساتھ موت کی تصدیق ہوئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں اومیکرون کیسز میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور متعدد مریض اس وقت اسپتالوں میں زیر علاج ہیں بورس جانسن نے میڈیا سے بات چیت میں کہا ہے کہ اس وقت کورونا سے متاثرہ مریضوں میں سے 40 فیصد اومی کرون کا شکار ہیں۔

    لندن : جنوری میں اومی کرون کی بڑی لہر کا خطرہ،سائنسدانوں نے خبردار کر دیا

    خبر رساں ادارے کے مطابق برطانیہ میں کورونا وائرس بھی تیزی سے پھیلنے لگا ہے۔ گزشتہ روز بھی برطانیہ میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد وائرس سے متاثر ہوئی تھی۔

    برطانیہ کے چیف میڈیکل آفیسر نے خبردار کیا ہے کہ اومیکرون تیزی سے پھیل رہا ہے، مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے،کرونا کی اس نئی قسم سے ویکسین سے بھی محفوظ رہنا مشکل ہے، برطانیہ میں اومیکرون کے کیسز میں اضافے کے بعد کرونا الرٹ لیول دوسری بلند ترین سطح پر پہنچا دیا گیا ہے-

    میڈیکل آفیسر کا کہنا ہے کہ اومیکرون کی وج سے پہلے ہی ہسپتالوں میں مریض زیر علاج ہیں اور اب مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے کا خدشہ ہے، اومی کرون کے پھیلاؤ میں اضافے کے بعد کورونا الرٹ لیول بڑھا کر چار کردیا گیا ہے کورونا الرٹ لیول چار کا مطلب وبا کا پھیلاؤ بہت زیادہ ہے۔ نئے کرونا وائرس کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کورونا کا اومی کرون ویرینٹ ڈیلٹا ویرینٹ سے زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے-

    برطانیہ میں حالات کنٹرول سے باہر: اومی کرون کا پھیلاؤ تیز، کورونا الرٹ لیول 3 سے بڑھا کر 4 کردیا گیا

    اومی کرون کے پھیلاؤ میں تیزی کے بعد برطانیہ نے کورونا الرٹ لیول تین سے بڑھا کرچارکردیا۔خبر ایجنسی کے مطابق کورونا الرٹ لیول چار کا مطلب وبا کا پھیلاؤبہت زیادہ ہے اور ہیلتھ کیئر سروسز پردباؤ بہت زیادہ ہے۔

    برطانوی حکومت کا کہنا ہےکہ ابتدائی شواہد کےمطابق اومی کرون ویرینٹ ڈیلٹا سے زیادہ تیزی سےپھیل رہا ہے، اومی کرون ویرینٹ سے کورونا ویکسین سے ملنے والا تحفظ کم ہورہاہے۔

    ادھر سائنسدانوں نے خبر دار کیا ہے کہ اگر پابندیاں نہ لگائی گئیں تو جنوری میں ملک اومی کرون کی بڑی لہر کی زد میں ہوگا برٹش منسٹر مائیکل گوو کے مطابق دارالحکومت لندن میں 30 فیصد کورونا مریضوں اومی کرون وائرس پایا گیا ہے۔

    برطانیہ میں اومیکرون کے پھیلاؤ میں تیزی

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر ملک میں مزید پابندیاں نہ لگائیں گئیں تو جنوری میں اومی کرون کی بڑی لہر پھیلنے کا خدشہ ہے۔ اپریل کے آخر تک کورونا کی نئی قسم سے اموات کی تعداد25000 سے 75000 تک جا سکتی ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اموات کی تعداد اس بات پر منحصر ہوگی کہ ویکسین نئے ویرینٹ کے خلاف کس حد تک موثر ثابت ہوتی ہے ان کا کہنا ہے کہ ویکسینیٹڈ افراد کے اومی کرون سے متاثر ہونے کے امکانات کم ہیں۔

    امریکی دواساز کمپنی نے کورونا کی چوتھی ڈوز کے استعمال کا اشارہ دیدیا

    محکمہ صحت کے حکام کے مطابق اومی کرون دسمبر کے وسط تک برطانیہ میں سب سے زیادہ پایا جانے والا وائرس بن سکتا ہے سکاٹش فرسٹ منسٹر نکولا اسٹروجن نے برطانیہ میں اومی کرون کے بڑے پیمانے پر پھیلاو کو ’’انفیکشن کا سونامی‘‘ قرار دیتے ہوئے اس سے خبردار کیا ہے۔

    واضح رہے کہ کورونا کی خطرناک قسم اومیکرون کے پھیلاؤ میں تیزی کے بعد کورونا الرٹ لیول تین سے بڑھا کرچار کردیا گیا ہے عالمی ادارہ صحت نے بھی تصدیق کی ہے کہ دنیا کے 63 ممالک میں اومیکرون تیزی سے پھیل چکا ہے

  • اومی کرون کیسز، ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ کی کرسمس پارٹی منسوخ

    اومی کرون کیسز، ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ کی کرسمس پارٹی منسوخ

    لندن میں کورونا وائرس کے ویرینٹ اومی کرون کے پیش نظر ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ نے کرسمس پارٹی منسوخ کردی۔

    باغی ٹی وی :برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس سال برطانوی وزیر اعظم کے ڈاؤننگ اسٹریٹ آفس میں کرسمس پارٹی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے کیونکہ حکومت کورونا کے پھیلاؤ سے نمٹنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

    16 اور 17 سال کی عمر کے لوگوں کے لیے فائزر کووڈ بوسٹر کی اجازت دے دی گئی

    برطانوی ہیلتھ سیکورٹی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ اومی کرون پھیلنے کی موجودہ شرح برقرار رہی تو رواں ماہ کے آخر تک 10 لاکھ سے زائد افراد ویرینٹ سے متاثر ہوسکتے ہیں برطانوی ہیلتھ سیکورٹی ایجنسی کے مطابق اومی کرون کے خلاف کورونا ویکسین کی تیسری ڈوز 75 فیصد تک مؤثر ہے۔

    اس سےقبل برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے رواں ہفتے ہی بڑھتے اومی کرون کیسز کے باعث ملک میں پلان بی کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ برطانیہ میں اومی کرون کیسز رپورٹ ہونے والے کیسز سے کہیں زیادہ ہے اس لیے پرانی پابندیوں کو دوبارہ نافذ کیا جار ہا ہے۔

    بل گیٹس کی کورونا وبا سے متعلق نئی پیشگوئی

    پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے ماسک کے استعمال کو لازمی قراردیا تھا۔ جبکہ نائٹ کلبز اور رش والی جگہوں پر جانے کے لیے کوویڈ پاس دکھانا لازمی ہو گا۔ ورکرز کےلیے گھر سے کام کرنے کی آپشن بھی دوبارہ سے لاگو کر دی گئی ہے۔

    برطانوی وزیراعظم کی پریس سیکرٹری مستعفی:وزیراعظم کی حکومت خطرے میں‌:تہلکہ…

  • برطانیہ: 20 سالہ لڑکی نے اپنی پیدائش سے متعلق ڈاکٹر کیخلاف انوکھا مقدمہ جیت لیا

    برطانیہ: 20 سالہ لڑکی نے اپنی پیدائش سے متعلق ڈاکٹر کیخلاف انوکھا مقدمہ جیت لیا

    برطانیہ میں 20 سالہ لڑکی نے اپنی پیدائش سے متعلق اپنی والدہ کے ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ جیت لیا۔

    باغی ٹی وی : برطانوی میڈیا کے مطابق پیدائشی طور پر ریڑھ کی ہڈی کے عارضے SPINA BIFIDA کا شکار لنکاشائر کی 20 سالہ ایوی ٹومبس نے اپنی والدہ کے اس ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا جس نے حمل کے وقت اس کی ماں کو ایک ایسی دوا نہ استعمال کرنے کا مشورہ دیا تھا جو ممکنہ طور پر پیدائش کے بعد ایوی کو جسمانی معذوری سے بچا سکتی تھی۔

    اپنی حالت کے باوجود باہمت پیرا شو جمپنگ اسٹار لڑکی گھُڑ سواری کے مقابلوں میں بھی حصہ لیتی ہے، موٹی ویشنل اسپیکر ہے اس کے علاوہ پرنس ہیری اور میگھن مارکل سے خصوصی ملاقات بھی کر چکی ہے مقدمہ جیتنے کے بعد ایوی ٹومبس ہر جانے کی مد میں لاکھوں پاؤنڈ حاصل کر سکے گی۔

    متحدہ عرب امارات کی گولڈن جوبلی،رہنماؤں کا اگلے 50 سال کے لئے نیا عزم

    قطع نظر، اس کا دعویٰ ہے کہ ڈاکٹر فلپ مچل اس کی ماں، کیرولین ٹومبس کو حاملہ ہونے سے پہلے ضروری سپلیمنٹس لینے کا مشورہ دینے میں ناکام رہنے کے بعد ‘غلط حمل کے الزام’ کے لیے ذمہ دار ہیں۔

    مس ٹومبس کا کہنا ہے کہ اگر ان کی والدہ کے ڈاکٹر نے انہیں فولک ایسڈ کے سپلیمنٹس لینے کا مشورہ دیا ہوتا تاکہ اس کے بچے کو اسپائنا بائفا کے متاثر ہونے کے امکانات کو کم کیا جا سکے اس کی ماں حاملہ نہ ہوتی اور ایوی پیدا نہ ہوتی لیکن ڈاکٹر مچل نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے مسز ٹومبس کو "معقول مشورہ” فراہم کیا تھا-

    ایوی کی بیرسٹر، سوسن روڈ وے کیو سی نے عدالت کو بتایا کہ مسز ٹومبس اپنے والدین دونوں کو کھونے کے بعد کس طرح ایک خاندان شروع کرنے کی خواہشمند تھیں یہ ایک خاندان شروع کرنے کا بہت قیمتی فیصلہ تھا کیونکہ اس نے خود اپنے والدین کو کھو دیا تھا جب وہ چھوٹی تھی وہ اس وقت تک جنسی تعلقات سے پرہیز کر رہے تھے جب تک کہ انہیں اس مشاورت میں مشورہ نہیں ملا تھا۔”

    لیکن مشاورت کے دوران فولک ایسڈ پر بات کرنے کے باوجود، مسز ٹومبس اصرار کرتی رہیں کہ انہیں ڈاکٹر مچل نے اسپائنا بائفا کی روک تھام میں اس کی اہمیت کے بارے میں نہیں بتایا تھا اگر مسز ٹومبس کو ان کے جی پی نے مناسب مشورہ دیا ہوتا تو وہ اپنے حمل کو اتنی عجلت میں آگے نہ بڑھاتی جتنی اس نے کی تھی اگر اسے حاملہ ہونے سے روک دیا جاتا، تو اس کا ایک "عام، صحت مند” بچہ ہوتا –

    لیکن ڈاکٹر مچل نے تمام دعووں کی تردید کی کیونکہ ان کے بیرسٹر، مائیکل ڈی ناوارو کیو سی نے اصرار کیا کہ یہ ان کا دفاع ہے کہ انہوں نے فولک ایسڈ سپلیمنٹس لینے کی خواہش کے بارے میں "معقول مشورہ” دیا ان کا دعویٰ ہے کہ اس نے یقینی طور پر ماں کو اچھی خوراک اور فولک ایسڈ کی اچھی سطح رکھنے کا مشورہ دیا ہوگا ناکہ سپلیمینٹس استعمال کرنے کا-

    متحدہ عرب امارات کا جھنڈا طاقت، فخر اور ناقابل تسخیر ہونے کی علامت ہے صدر شیخ…

  • برطانیہ میں طوفان،5 روز سے 30 ہزار گھربجلی سے محروم

    برطانیہ میں طوفان،5 روز سے 30 ہزار گھربجلی سے محروم

    برطانیہ میں برفباری اورطوفانی ہواؤں کے 5روز بعد 30 ہزار گھر بجلی سے محروم ہیں-

    باغی ٹی وی : اسکاٹ لینڈ اور شمالی انگلینڈ میں دسیوں ہزار گھر پانچ دب بعد بھی بجلی سے محروم ہیں جمعہ کو آنے والے "طوفان ارون” میں تین افراد ہلاک ہوئے بتدائی طور پر تقریباً 100 میل (160 کلومیٹر) فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں کے بعد لاکھوں گھروں کی بجلی منقطع ہو گئی۔

    امریکا: درجنوں ڈاکوؤں کا سُپر اسٹور پر دھاوا،نئی تاریخ رقم ہو گئی ،پولیس بھی…

    انرجی نیٹ ورکس ایسوسی ایشن (ENA) نے کہا کہ بدھ کی صبح تک، انجینئرز نے 97 فیصد پراپرٹیز کو دوبارہ جوڑ دیا تھا، لیکن تقریباً 30,000 اب بھی بجلی سے محروم ہیں 30000گھروں کو بجلی کی بحالی میں مزید وقت لگ سکتا ہے”ہمارے پاس انجینئرز کی ٹیمیں نیٹ ورک کو بحال کرنے کے لیے چوبیس گھنٹے کام کر رہی ہیں-

    انہوں نے کہا کہ بحالی کی کوششوں کے انجینئرز کو جس پیمانے کا سامنا ہے وہ بہت بڑا ہے،” انہوں نے مزید کہا کہ وسطی سکاٹ لینڈ میں ہوا کی رفتار "گزشتہ 25 سالوں میں صرف دو بار دیکھی گئی ہے”۔

    برطانیہ میں طوفان “آرون” نے تباہی مچا دی،ایک لاکھ سے زائد گھر بجلی سے محروم

    انہوں نے ارون کو "ایک ایسا واقعہ قرار دیا جو ہم نے 60 سالوں سے نہیں دیکھا ہمیں مستقبل میں اسی طرح کے انتہائی مشکل موسمی حالات کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

  • حمل کے دوران کورونا ویکسین لگوانا محفوظ ہے یا نہیں؟،نئی تحقیق کے نتائج سامنے آگئے

    حمل کے دوران کورونا ویکسین لگوانا محفوظ ہے یا نہیں؟،نئی تحقیق کے نتائج سامنے آگئے

    برطانیہ کی جانب سے جاری ڈیٹا کے مطابق دوران حمل کوویڈ 19 سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن کرانے والی خواتین کو کسی قسم کے منفی اثرات کا سامنا نہیں ہوتا اور بچے کی پیدائش میں مسائل نہیں ہوتے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق یوکے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کی اس تحقیق میں جنوری سے اگست 2021 کے دوران بچوں کو جنم دینے والی 3 لاکھ 55 ہزار 299 خواتین کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی۔ان میں سے 24 ہزار 759 خواتین نے کم از کم کووڈ ویکسین کی ایک خوراک بچے کی پیدائش سے قبل استعمال کی تھی۔

    نتائج متعدد دیگر تحقیقی رپورٹس سے مطابقت رکھتے ہیں جن سے تصدیق ہوتی ہے کہ حمل کے دوران ویکسین کا استعمال ماں اور بچے دونوں کے لیے محفوظ ہے۔

    ڈیٹا سے ثابت ہوتا ہے کہ مردہ بچوں کی پیدائش کی شرح ویکسینیشن اور ویکسینیز استعمال نہ کرنے والی خواتین میں لگ بھگ یکساں تھی۔یہی مماثلت کم پیدائشی وزن کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کی شرح میں بھی دریافت ہوئی۔

    کرونا کی نئی قسم، اسد عمر نے خطرے سے آگاہ کر دیا

    دوسری جانب کورونا کے نئے ویریئنٹ ’اومیکرون‘ کے پھیلاؤ کے متعلق سب سے پہلے خبردار کرنے والوں میں سے ایک افریقی ڈاکٹر کا کہنا ہے ’او می کرون‘ کی علامات بہت ہی معمولی ہیں اور یہ وائرس 40 سال یا اس سے کم عمر کے افراد کو متاثر کر رہا ہے۔

    ساؤتھ ایفریقن میڈیکل ایسوسی ایشن کی سربراہ ڈاکٹر اینجلیک کوئیٹزی نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے کلینک میں سات ایسے مریض دیکھے جن کی علامات ڈیلٹا سے مختلف تھیں مریضوں کے پٹھوں میں ہلکا درد، خشک کھانسی اور گلے میں خراش تھی۔

    "اومی کرون” تشویش کا باعث تو ہے لیکن بے چینی کی وجہ نہیں،امریکی صدر

  • برطانیہ میں طوفان “آرون” نے تباہی مچا دی،ایک لاکھ سے زائد گھر بجلی سے محروم

    برطانیہ میں طوفان “آرون” نے تباہی مچا دی،ایک لاکھ سے زائد گھر بجلی سے محروم

    لندن: برطانیہ میں طوفان “آرون” نے تباہی مچا دی مختلف حادثات میں 3 افراد جاں بحق ہو گئے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق طوفان آرون نے برطانیہ میں تباہی مچا دی، تیز ہواؤں، شدید برفباری اور بارش نے سکاٹ لینڈ، شمالی انگلینڈ، ویلز اور ساحلی علاقوں میں درختوں کو گرا دیا، جس سے ایک لاکھ سے زائد گھر بجلی سے محروم ہو گئے جبکہ مختلف حادثات میں 3 افراد جاں بحق ہو گئے

    برطانیہ میں آنے والے حالیہ طوفان کے باعث اسکاٹ لینڈ، شمالی انگلینڈ، ویلز میں تیز ہواؤں اور برفباری کے باعث متعدد درخت گر گئے برطانیہ میں ایک کار پر درخت گرنے سے ایک شخص جان سے ہاتھ دھو بیٹھا-

    دریا کنارے سیر کیلئے آنے والے سیاحوں کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    70 سے 80 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں کے باعث بیشتر مکانات کو نقصان پہنچا ہے شدید طوفانی ہواؤں کے باعث ہائی وے پر ایک ٹرالر بھی الٹ گیا جبکہ شمالی برطانیہ اور اسکاٹ لینڈ میں درخت گرنے اور شدید برفباری کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی-

    محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی کہ آج شمالی برطانیہ اور اسکاٹ لینڈ میں 100 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوا چلنے کی توقع ہے۔ طوفان کے پیش نظر کئی سڑکیں بند کردی گئیں۔ برطانوی پولیس نے عوام سے غیر ضروری سفر نہ کرنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات کر دیں۔

    محکمہ موسمیات نے سکاٹ لینڈ، شمالی انگلینڈ، ویلز اور ساحلی علاقوں کے لیے سرخ طوفان کی وارننگ جاری کی ہے۔

    امریکا: درجنوں ڈاکوؤں کا سُپر اسٹور پر دھاوا،نئی تاریخ رقم ہو گئی ،پولیس بھی…

  • شہزادی کیٹ مڈلٹن محقق بن گئیں

    شہزادی کیٹ مڈلٹن محقق بن گئیں

    لندن: برطانوی شہزادی کیٹ مڈلٹن نے تحقیق شروع کردی ہے جس کے باعث وہ محقق بن گئی ہیں۔

    باغی ٹی وی: برطانوی میڈیا کے مطابق شہزادہ ولیم کی اہلیہ کیٹ مڈلٹن اپنے خاندانی شجرہ نسب پر تحقیقات کر رہی ہیں برطانوی شاہی خاندان کی بڑی بہو کیٹ مڈلٹن نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اپنی خاندانی نسل پر تحقیق کررہی ہیں۔

    واضح رہے کہ شہزادی کیٹ میڈلٹن کی والدہ گولڈ اسمتھ خاندان سے تعلق رکھتی ہیں جب کہ ان کے والد کا تعلق امیر ترین خاندان مڈلٹن سے ہے۔

    شہزادی کیٹ مڈلٹن نے بتایا کہ ان کا خاص موضوع یہ جاننا ہے کہ ان کے آباؤ اجداد کی گزشتہ چار نسلوں کی گھریلو زندگیوں نے بچوں اور بالغوں پر کیا اثرات مرتب کیے ہیں؟

    39 سالہ ڈچز آف کیمبرج کیٹ مڈلٹن نے یہ انکشاف برطانیہ کے معروف تحقیقی تعلیمی ادارے یونیورسٹی کالج لندن کے دورے کے دوران کیا۔

    شہزادی کیٹ مڈلٹن نے بتایا کہ ان کا خاص موضوع یہ جاننا ہے کہ ان کے آباؤ اجداد کی گزشتہ چار نسلوں کی گھریلو زندگیوں نے بچوں اور بالغوں پر کیا اثرات مرتب کیے ہیں؟

    برطانوی شہزادی کیٹ مڈلٹن جب دورے پر پہنچیں تو انہیں وہاں موجود پروفیسرز نے تحقیقاتی مقالوں اور کتب سے متعلق آگاہی فراہم کی۔

    کیٹ مڈلٹن اس موقع پر پروفیسرز سے اپنی تحقیق کی بابت مختلف سوالات کیے اور وہاں موجود کتب میں دلچسپی کا بھی اظہار کیا۔

    ڈچز آف کیمبرج نے منگل کی صبح ایک یونیورسٹی کا دورہ کیا تاکہ چھوٹے بچوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے کی جانے والی اہم تحقیق کے بارے میں مزید جان سکیں۔

    انہوں نے اپنے عوامی کام کا ایک اہم حصہ بچوں کی زندگی کے پہلے پانچ سالوں پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ، "ہمارے ابتدائی بچپن ہماری بالغ زندگی کو تشکیل دیتے ہیں اور اس اہم وقت کے اثرات کے بارے میں مزید جاننا اس بات کو سمجھنے کے لیے بنیادی ہے کہ ایک معاشرہ ہماری مستقبل کی صحت اور خوشی کو بہتر بنانے کے لیے کیا کر سکتا ہے۔ ”

    یونیورسٹی کالج لندن کے سنٹر فار لونگیٹوڈنل سٹڈیز میں ان کا دورہ اس وقت ہوا جب ادارے نے اپنے بچوں کے 2020 کے منصوبے کا آغاز کیا ، جو 9 ماہ سے 5 سال تک کے بچوں کی مجموعی ترقی کو ٹریک کرے گا۔

    ایک بیان میں ، کیٹ نے اسے ایک تاریخی مطالعہ قرار دیا جو کہ "پہلے پانچ سالوں کی اہمیت کو واضح کرے گا اور ابتدائی بچپن کے انتہائی نازک پہلوؤں کے بارے میں بصیرت فراہم کرے گا ، نیز وہ عوامل جو مثبت زندگی بھر کے نتائج کی حمایت یا رکاوٹ ہیں۔”

    انہوں نے کہا”میں اس اہم شعبے میں زیادہ سے زیادہ گہرائی سے تحقیق کی حمایت کرنے کے لیے پرعزم ہوں اور اس ابتدائی مرحلے میں مطالعے کے پیچھے موجود تمام لوگوں سے مل کر مجھے خوشی ہے۔”

    اس سال کے شروع میں ، ڈچز نے ابتدائی بچپن کے لیے نئے رائل فاؤنڈیشن سینٹر کا اعلان کیا ، جس کے بارے میں انہیں اور اس کے عملے کو امید ہے کہ ابتدائی سالوں کے غیر معمولی اثرات کے بارے میں آگاہی اور عمل میں اضافہ ہوگا۔

    منگل کی صبح اپنے دورے کے دوران ، کیٹ نے 1940 کی دہائی کے ابتدائی بچپن میں کچھ تاریخی تحقیق دیکھی – جس میں 1958 میں نئی ​​ماؤں کو دیا گیا ‘پیدائشی سوالنامہ’ بھی شامل تھا۔

    حمل کے دوران تمباکو نوشی کے بچے کے پیدائشی وزن پر پڑنے والے اثرات اور اس سے بچے کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر جوانی تک اثر پڑتا رہا ہے۔ کیٹ کے دفتر نے بتایا کہ اس کی وجہ سے حاملہ ہونے کے دوران خواتین کو تمباکو نوشی روکنے کے لیے صحت عامہ کی مہم چلائی گئی۔

    ایک گول میز بحث کے دوران ، 39 سالہ ڈچز کو بچپن سے لے کر جوانی تک دماغ کی نشوونما کے گراف دکھائے گئے اور ماحول کس طرح ایک اہم کردار ادا کرتا ہے ، نیز ایک اعلی سماجی و اقتصادی حیثیت کس طرح زیادہ سے زیادہ سرمئی مادے سے منسلک ہوتی ہے۔

    ایک چھوٹے بچے کا دماغ ایک اور سلائیڈ نے وضاحت کی کہ مطالعہ والدین کی ذہنی صحت ، صدمے ، زندگی کے واقعات ، تناؤ اور بچوں کی نشوونما کے سلسلے میں علاقائی اور پڑوس کی خصوصیات جیسے عوامل کو کیسے دیکھے گا۔

    انہوں نے ماہرین سے پوچھا ، "ہم کون سے ممالک کو اس میں سرفہرست سمجھتے ہیں؟ کون سے ممالک کے پاس ایک کامیاب ماڈل ہے جس سے ہم سیکھ سکتے ہیں؟”

    پروفیسر پاسکو فیئرون ، چیئر آف ڈویلپمنٹل سائیکوپیتھولوجی اور 2020 کے بچوں کے مطالعے کے پرنسپل انویسٹی گیٹر نے ، کیٹ کو بتایا: "مجھے کہنا پڑتا ہے ، برطانیہ بُرا نہیں ہے ہمارے پاس چھوٹے بچوں کے لیے کچھ شاندار پروگرام ہیں۔”

    الیسا گڈمین ، پروفیسر آف اکنامکس اور یو سی ایل سنٹر فار لانگیٹوڈینل سٹڈیز کی ڈائریکٹر نے تقریب کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ کیٹ "انتہائی متعلقہ سوالات پوچھتی ہیں۔” یہ واقعی ظاہر کرتا ہے کہ وہ واقعی اس موضوع میں دلچسپی رکھتی ہیں کیونکہ وہ کافی علم رکھتی ہیں یہ واقعی کسی ساتھی سے بات کرنے کی طرح ہے۔ ”

    یونیورسٹی کے محققین یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ بچوں کی سماجی ، علمی اور ابتدائی زبان کی نشوونما کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی صحت اور اسکول کے لیے تیاری پر کس طرح وسیع عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔

    ان کا نیا مطالعہ ان عوامل کو دیکھے گا جو ابتدائی سالوں میں بچوں کی نشوونما اور تعلیم کو متاثر کرتے ہیں ، بشمول ان کے گھر کا ماحول ، برادری ، ابتدائی سال کی خدمات اور خاندان کے وسیع تر سماجی اور معاشی حالات۔

    کینٹنگٹن پیلس میں کیٹ کے دفتر نے بتایا کہ یہ تحقیق برطانیہ میں پیدائشی ہم آہنگی کے مطالعے کی تازہ ترین ہے اور جنوری 2022 میں 8،000 خاندانوں کو اپریل ، مئی اور جون 2021 میں پیدا ہونے والے بچوں کے لیے بھرتی کرنا شروع کرے گی۔