Baaghi TV

Category: برطانیہ

  • کورونا سےانتہائی خطرے سے دوچار غریب ممالک کیلئے100 ملین خوراکوں کی پہلی کھیپ رواں ہفتے فراہم کی جائے گی

    کورونا سےانتہائی خطرے سے دوچار غریب ممالک کیلئے100 ملین خوراکوں کی پہلی کھیپ رواں ہفتے فراہم کی جائے گی

    لندن: سکریٹری خارجہ ڈومینیک راب نے کہا ہے کہ برطانیہ رواں ہفتے "انتہائی خطرے سے دوچار غریب ممالک” کو 100 ملین کورونا ویکسین خوراکوں کی پہلی کھیپ فراہم کرنا شروع کردے گا۔

    باغی ٹی وی : برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق کورونا ویکسین کی پہلی کھیپ انڈونیشیا . کینیا، کمبوڈیا، جمائیکا اورفلپائن سمیت دولت مشترکہ کے اتحادی ممالک کو فراہم کی جائے گی جس میں اسٹرانینیکا کی خوراکیں بھی شامل ہیں

    آکسفورڈ میں آسٹرا زینیکا پروڈکشن سائٹ کے دورے کے موقع پر مسٹر راب نے کہا: "جب تک ہم دنیا میں ہر ایک کو محفوظ نہیں بنائیں گے ہم برطانیہ میں محفوظ نہیں رہیں گے۔

    کوروناویکسین نہ لگانے کی وجہ سےاسپتالوں میں انتہائی سنگین صورتِ حال پیدا ہوگئی ہے ڈاکٹر نسیم صلاح…

    برطانیہ کے سیکریٹری خارجہ ڈومینیک راب کا کہنا ہے کہ عالمی وبا سے بچاؤ کے لیے تمام ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ آبادی کو ویکسین لگوائیں۔

    دنیا بھر میں 190 سے زیادہ ممالک میں کورونا وائرس کی 3.7 بلین سے زائد ویکسین کی خوراکیں دی گئیں۔ تاہم ، ملک سے دوسرے ممالک میں ویکیسینیشن کروانےافراد کی تعداد نمایاں طور پر مختلف ہوتی ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ جی7 کے سربراہی اجلاس میں دنیا کے بڑے صنعتی ممالک کے رہنماؤں نے غریب ممالک کو کورونا ویکسین کی ایک ارب خوراکیں دینے کا وعدہ کیا گیا تھا امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک 500 ملین خوراکیں فراہم کرے گا۔

    برطانیہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی کورونا ویکسین کی خوراکوں پر مبنی پہلی کھیپ کی نصف کو عالمی ادارہ صحت کے پروگرام کو واکس کے ذریعے تقسیم کیا جائے گا جس کا مقصد 92 کم یا درمیانے آمدنی والے ممالک میں کم از کم 20فیصد آبادی کو ویکسین فراہم کرنا ہے۔

    شہری ویکسین لگوائیں100 ڈالر انعام پائیں اعلان کر دیا گیا

    کوواکس دنیا میں ویکسین کی فراہمی کو یقینی بنانے والا پروگرام ہے جو عالمی ادارہ صحت کی زیر نگرانی کام کرتا ہے۔

    ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے اندازہ لگایا ہے کہ "وبائی بیماری کو صحیح معنوں میں ختم کرنے کے لئے” عالمی آبادی کے 70فیصد افراد ویکسین لگانے کی ضرورت ہے ، جس کے لئے 11 بلین خوراک کی ضرورت ہوگی۔

    اس سے قبل جون میں عالمی ادارہ صحت نے کہا تھا کہ عالمی شیئرنگ سکیم کے ذریعے کووڈ 19 کی ویکسین لینے والے غریب ممالک کی ایک بڑی تعداد کو اپنے اپنے ممالک میں ویکسین پروگرام جاری رکھنے کے لیے کافی مقدار میں ویکسین کی خوراکیں دستیاب نہیں ہیں۔

    ڈبلیو ایچ او کے سینیئر مشیر ڈاکٹر بروس آئلورڈ نے کہا تھا کہ کوویکس پروگرام کے تحت 131 ممالک کو ویکسین کی 90 ملین خوراکیں فراہم کی گئی ہیں وائرس اب بھی دنیا بھر میں پھیل رہا ہے اور کے پیش نظر ویکسین فراہمی کی یہ مقدار انسانی آبادیوں کو وائرس سے بچانے کے لیے ناکافی ہے یکسین کی عدم دستیابی ایک ایسے موقع پر سامنے آ رہی ہے جب بیشتر افریقی ممالک میں انفیکشن کی تیسری لہر جاری ہے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ چونکہ غریب ممالک میں ویکسین کی رسد میں دشواری کا سامنا ہے اسی لیے کچھ دولت مند ممالک، جن کے پاس ویکسین کی اضافی خوراکیں موجود ہیں، کوویکس اور دیگر ذرائع سے ویکسین کے عطیات جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    کورونا کی بھارتی قسم ڈیلٹا نے امریکا میں خطرے کی گھنٹی بجا دی

  • برطانیہ :موسم سرما میں موسمی فلو اور کورونا وائرس این ایچ ایس کیلئے ایک خطرناک ترین چیلنج ثابت ہو سکتا ہے   ماہرین نے خبردار کرد یا

    برطانیہ :موسم سرما میں موسمی فلو اور کورونا وائرس این ایچ ایس کیلئے ایک خطرناک ترین چیلنج ثابت ہو سکتا ہے ماہرین نے خبردار کرد یا

    برطانیہ :سائنسدانوں نے اس آنے والے موسم سرما میں کورونا وائرس موسمی وائرس کے حوالے سے خبردار کیا ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ادارے سکائے نیوز نے ایک رپورٹ کا حوالے سے بتایا کہ اس موسم سرما میں 60 ہزار سے زائد افراد فلو سے مر سکتے ہیں اور موسمی وائرسزاور کوویڈ 19 کی اکٹھے حملے کی وجہ سے یو کےکا ادارہ صحت نیشنل ہیلتھ سروسز(این ایچ ایس) بھی ان سے پر قابو پانے میں ناکام رہ سکتا ہے-

    اس سخت انتباہ سائنس دانوں نے کیا تھا جو کہتے ہیں کہ فلو کا موسم خاص طور پر مہلک ثابت ہوسکتا ہے لیکن فلو جاب کے بڑھے ہوئے پروگرام اور فلو کے ٹیسٹوں میں تیزی سے خطرات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

    کوویڈ 19 کی پابندیوں کا مطلب یہ ہے کہ سانس کے بہت سارے وائرس پچھلے موسم سرما میں عام طور پر اس طرح پھیل نہیں سکتے تھے کہ اس کی وجہ سے کچھ وائرلوجسٹ فکر مند ہیں جو کہتے ہیں کہ موسمی سانس کی بیماریوں سے آبادی قوت مدافعت سے سمجھوتہ کیا جاسکتا ہے لوگوں کے ملنے جلنے اور اھتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے کی وجہ سےیہ وائرس مزید پھیلتا جائے گا-

    اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز کی نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلو اور آر ایس وی (ریسپائریٹری سنسٹیئل وائرس) اسپتال میں داخل ہونے اور اموات ایک "معمول” سال میں دو بار ہوسکتی ہیں اور یہ کوویڈ 19 انفیکشن میں اضافے کے موافق ہوسکتی ہے۔

    اس رپورٹ کے مصنف ماہر ایڈوائزری گروپ کے سربراہ ، پروفیسر سر اسٹیفن ہولگیٹ نے کہا چار اہم چیلنجز ہیں: سب سے پہلے سانس کے وائرس میں اضافے سے وسیع پیمانے پر افراد متاثر ہو سکتے ہیں اور این ایچ ایس پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔

    دوسری بات ، کوویڈ 19 کی ایک تیسری لہر پھیل رہی ہے اور این ایچ ایس کو پچھلے 15 ماہ یا اس سے زیادہ عرصے میں کوویڈ کی وجہ سے بہت پریشر کا سامنا رہا ہے اور اب یہ ایک حقیقی چیلنج بننے والا ہے۔

    تیسرا یہ کہ ، این ایچ ایس پہلے ہی دباؤ میں ہے ، لہذا امکان ہے کہ موسم سرما کے ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے قابل نہ ہو آخر کار وبائی بیماری کی وجہ سے برطانیہ کی آبادی کے اندر بدترین جسمانی اور ذہنی صحت متاثر ہوئی ہیں

    انہوں نے مزید کہا مجموعی طور پر سوسائٹی نے پچھلے 15 مہینوں سے یہ سیکھا ہوگا کہ یہ قبول نہیں ہے کہ (ہمارے پاس) تمام ریسپائرئٹری وائرسز سردیوں میں حملہ کر دیں اور قریب قریب ہی ہماری نیشنل ہیلتھ سروس بند ہو جائے-

    "اگر ایسی چیزیں موجود ہیں جو ہمیں ٹرانسمیشن کی روک تھام کرنا چاہئے تو ہمیں وہ کرنا چاہئے ا س کے لئے ہمیں احتیاطی تدابیر کرنی چاہئے جن میں ماسک پہننا اور غیر ضروری میل ملاقاتیں سرفہرست ہیں-

    انہوں نے کہا کہ ہم واقعی اس قابل ہیں کہ ہم ان تمام وائرسز کے ذریعہ پیدا ہونے والی صورتحال پر سالانہ مستقل دباؤ کو روکنے کے لئے احتاطی تدابیر اختیار کریں اوراس کا مطلب صرف رویے میں تبدیلی ہے۔

    اور انفیکشن کی موجودہ لہر کی وجہ سے این ایچ ایس کو دیکھ بھال کی کوشش میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انگلینڈ میں پچاس لاکھ سے زیادہ افراد انتظار کی فہرست میں شامل ہیں۔

    لوگ جو بیماری میں توجہ نہیں دیتے اور مدد کے حصول کو چھوڑ دیتے ہیں وہ بھی اس موسم سرما میں دمہ ، ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے حالات کے لئے درکار امداد میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔

    انہوں نے کوویڈ 19 ٹیسٹ میں توسیع کا بھی مطالبہ کیا جس میں فلو اور آر ایس وی کے ٹیسٹ بھی شامل کیے گئے تھے – مثال کے طور پر اگر GPs فوری طور پر اس بات کی تصدیق کر سکے کہ آیا مریض کو فلو ہے یا نہیں تو وہ جلد سے جلد اینٹی وائرل دوائیں لکھ سکتا ہے جس کا مطلب ہے کہ مزکورہ شخص پر بیماری کا حملہ کم ہو گا اور NHS پر بوجھ کم ہوگا۔

    اس رپورٹ میں دیگر مسائل جیسے طبی عملے کی کمی اور بستروں کی کمی کو بھی اجاگر کیا گیا ہے –

    اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز کے صدر اور ماہر مشاورتی گروپ کے رکن پروفیسر ڈیم ان جانسن نے مزید کہا: "ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ ہمارے ہاں بدترین سردیوں کا موسم گزرنا ہے ، ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں غیر یقینی چیزوں کا ایک چیلنج مل گیا ہےجو سردیوں میں ہمیں مار سکتا ہے کہ ہمیں اب تخفیف کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے مزید کہا مجھے امید ہے کہ ہم معاشرے کی حیثیت سے ان میں سے کچھ طرز عمل میں تبدیلی لائیں گے۔ جب آپ بیمار ہوں تو سماجی دوری اختیار کریں جب آپ سب سے زیادہ متعدی بیماری کا شکار ہوتے ہیں تو ، اپنا ٹیسٹ کروائیں –

    ڈیم این نے کہا کہ فلو کے اعدادوشمار "غیر یقینی” ہیں اور 60،000 کے اعداد و شمار "غیرمعمولی طور پر بدترین صورت حال” ہیں اور انہوں نے مزید کہا کہ "فلو انتہائی غیر متوقع ہے”۔

    ماہر مشاورتی گروپ کی رکن پروفیسر عذرا غنی نے مزید کہا: "ہم نے اس نوعیت کا کبھی تجربہ نہیں کیا جہاں معاشرے نے واقعتا t اس حد تک منتقلی کو کم کردیا ہے۔ یہ جاننا بہت مشکل ہے کہ اس کا کیا اثر پڑے گا یہ کہنا صرف واقعی ایک انتباہ ہے کہ ‘ہم اس کے بارے میں کچھ کر سکتے ہیں ، یہ ناگزیر نہیں ہے ، ہم اقدامات کو بروئے کار لا سکتے ہیں اور اثر کو کم کرسکتے ہیں’۔

    اس رپورٹ کے مصنفین کا خیال ہے کہ فلو کا سیزن قوت مدافعت کی کمی کی وجہ سے معمول سے پہلے آسکتا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ واقعتا فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ موسم سرما میں این ایچ ایس پر مزید دباؤ ہے۔

    سر پیٹرک والنس نے اس موسم سرما میں این ایچ ایس کو درپیش چیلنجوں کا جائزہ لینے کے لئے رپورٹ جاری کی سردی میں مہلک فلو کے اضافے کے علاوہ ، اس تحقیق کے تحت خبردار کیا گیا ہے کہ این ایچ ایس پہلے ہی دباؤ میں ہے اور موسم سرما کے ان اضافی چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے جدوجہد کرے گی کیونکہ اس میں بستروں اور تربیت یافتہ عملے کی کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    لیکن ان مصنفین نے زور دے کر کہا ہے کہ پیش گوئیاں کسی بدترین صورتحال پر مبنی ہیں جس میں کوئی مداخلت نہیں ہوگی ویکسین لگانے کی تعداد میں تیزی ، موسم خزاں میں بوسٹر مہم اور COVID اور فلو کی جانچ صلاحیت میں اضافہ NHS پر ان اضافی دباؤ کے اثرات کو کم کرنے میں نمایاں مددگار ثابت ہوگا۔

  • رائل نیوی میں بطور کیپٹن تعینات ہونیوالی پاکستانی نژاد پہلی مسلم خاتون عاصم اظہرکی رشتے میں کیا لگتی ہیں؟

    رائل نیوی میں بطور کیپٹن تعینات ہونیوالی پاکستانی نژاد پہلی مسلم خاتون عاصم اظہرکی رشتے میں کیا لگتی ہیں؟

    پاکستان میوزک انڈسٹری کے نامور گلوکار عاصم اظہر نے انکشاف کیا ہے کہ رائل نیوی میں بطور کیپٹن تعینات ہونے والی پاکستانی نژاد پہلی مسلم خاتون دُردانہ انصاری گلوکار کی خالہ ہیں-

    باغی ٹی وی : سمجای رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر گلوکار عاصم اظہر نے اپنے ٹوئٹ میں دردانہ انصاری کے ساتھ تصاویر شئیر کیں اور انکشاف کیا کہ وہ رشتے میں ان کی خالہ لگتی ہیں-


    اپنے ٹوئٹ میں عاصم اظہر نے لکھا کہ آج کا دن نہ صرف میرے اور میرے اہل خانہ کے لئے ، بلکہ پوری قوم کے لئے قابل فخر لمحہ ہے-

    گلوکار نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ دُردانہ انصاری او بی ای ، خود ملکہ برطانیہ کی منظوری سے برطانوی رائل نیوی کے کیپٹن کی حیثیت سے دنیا کی پہلی مسلمان اور پاکستانی خاتون بن گئیں ہیں-

    عاصم اظہر نے دل والے ایموجی کا ستعمال کرتے ہوئے لکھا کہ مجھے آپ پر فخر ہے خالہ جان۔


    عاصم اظہر کی ٹوئٹ کے جواب میں دردانہ انصاری نے لکھا کہ بیٹا عاصم مین یہ اعزا حاصل کر کے خود کو بہت خوش قسمت محسوس کرتی ہوں مجھے اپنے والدین کی دعاوں ، اللہ تعالیٰ، ملکہ الزبتھ دوم اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہماری قوم ، حقیقی لوگ جو ہم پر یقین رکھتے ہیں کی طرف سے بڑے پیمانے پر اعانت کی گئی ہے۔ مجھے آپ پہ فخر ہے.

    واضح رہے کہ پاکستانی نژاد خاتون دُردانہ انصاری برٹش رائل نیوی کی کیپٹن بن کر دنیا کی پہلی مسلمان خاتون بن گئیں ہیں جن کو ملکہ برطانیہ نے رائل نیوی میں کیپٹن مقرر کیا ہے۔

    دردانہ انصاری ایک انٹر پرینیؤر اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سماجی کارکن ہیں 2012 میں انہیں مسلمان خواتین کی ترقی کے لیے پروگرام تشکیل دینے پر برطانیہ کی جانب سے آرڈر آف دی برٹش امپائر(او بی ای) سے نوازا گیا۔

    پاکستانی نژاد دُردانہ انصاری رائل نیوی کی کیپٹن بننے والی مسلم دنیا کی پہلی خاتون بن گئیں

  • پاکستانی نژاد دُردانہ انصاری رائل نیوی کی کیپٹن بننے والی مسلم دنیا کی پہلی خاتون بن گئیں

    پاکستانی نژاد دُردانہ انصاری رائل نیوی کی کیپٹن بننے والی مسلم دنیا کی پہلی خاتون بن گئیں

    پاکستانی نژاد خاتون دُردانہ انصاری برٹش رائل نیوی کی کیپٹن بن کر دنیا کی پہلی مسلمان خاتون بن گئیں-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق رائل نیوی میں کیپٹن انتہائی سینئر عہدہ ہے، یہ عہدہ کمانڈر سے اوپر اور کموڈور سے نیچے ہے رائل نیوی کا کیپٹن برطانوی آرمی کے کرنل اور شاہی فضائیہ کے گروپ کیپٹن کے برابر عہدے کا حامل ہوتا ہے۔

    تاہم پاکستان نژاد دردانہ انصاری مسلم دنیا کی پہلی خاتون ہیں جن کو ملکہ برطانیہ نے رائل نیوی میں کیپٹن مقرر کیا ہے۔


    واضح رہے کہ دردانہ انصاری سولہ سال کی عمر میں پاکستان سے برطانیہ آئیں اور تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف فلاحی کاموں میں بھی بھرپور حصہ لیا۔


    دردانہ انصاری ایک انٹر پرینیؤر اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سماجی کارکن ہیں 2012 میں انہیں مسلمان خواتین کی ترقی کے لیے پروگرام تشکیل دینے پر برطانیہ کی جانب سے آرڈر آف دی برٹش امپائر سے نوازا گیا۔

    امریکا کے پہلے مسلم وفاقی پاکستانی جج کے اعزاز میں تقریب

  • طالبان کےساتھ مل کر کام کرنے کے سوا عالمی برادری کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں             برطانوی وزیر دفاع

    طالبان کےساتھ مل کر کام کرنے کے سوا عالمی برادری کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں برطانوی وزیر دفاع

    لندن :برطانوی وزیر دفاع بین ویلس کابر نے کہا کہ طالبان کےساتھ مل کر کام کرنے کے سوا عالمی برادری کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں-

    باغی ٹی وی : برطانوی وزیر دفاع نے کہا کہ اگر طالبان نے افغانستان میں حکومت بنائی تو ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کیلئے تیار ہیں طالبان کےساتھ مل کر کام کرنے کے سوا عالمی برادری کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے –

    انہوں نے کہا کہ عالمی اصولوں پر عمل پیرا کسی بھی افغان حکومت کے ساتھ کام کریں گے اگر افغان حکومت نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی تو تعلقات پر نظر ثانی کریں گے ایسے میں طالبان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا امکان متنازعہ ہو گا۔

    دوسری جانب طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ایک بیان میں بتایا ہے کہ پاکستانی سرحد سے متصل افغان ضلع اسپن بولدک پر قبضے کے لیے حملہ کیا گیا جس کے بعد پاکستان اور افغانستان کے مابین مرکزی گزرگاہ کاکنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

    افغانستان سے امریکی فوج کا 95 فیصد سے زائد انخلا مکمل ہوگیا امریکی سنٹرل…

    ترجمان طالبان کا کہنا ہے کہ طالبان نے 20 سال بعد افغانستان کی جانب سے باب دوستی کاکنٹرول دوبارہ حاصل کرلیا ہے، باب دوستی پر طالبان نے افغانستان کا قومی پرچم اتار دیا اور طالبان امارت اسلامی کا سفید پرچم لہرادیا گیا ہے۔

    ہتھیار ڈالنے والے 22 افغان کمانڈوز کی موت کا دعویٰ،طالبان کی امریکی میڈیا کے دعوے…

  • اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر30 کلو گرام ہیروئن کی برطانیہ اسمگل کرنے کی کوشش ناکام، ملزمان گرفتار

    اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر30 کلو گرام ہیروئن کی برطانیہ اسمگل کرنے کی کوشش ناکام، ملزمان گرفتار

    اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہیروئن اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی گئی۔

    باغی ٹی وی : کسٹم حکام کے مطابق 30 کلو گرام ہیروئن برطانیہ اسمگل کی جانی تھی ہیروئن کپڑوں کی برآمدی کھیپ میں چھپا کر اسمگل کی جارہی تھی جس کی نشاندہی اسکینر پر ہوئی۔

    ہیروئن اسمگل کرنے کی کوشش کرنے والے 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    دوسری جانب کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں سی ٹی ڈی نے کروائی کی جس کے نتیجے میں 5 مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوئے ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کےقبضےسےاسلحہ اورگولہ بارود بھی برآمد ہوا ہےہلاک ہونے والے دہشت گردوں سےمتعلق مزید تفتیش جاری ہے۔

  • سکولوں سے سینکڑوں بچوں کی باقیات برآمد، کینیڈا میں مظاہرین نے ملکہ وکٹوریہ اورالزبتھ 2 کے مجسمے توڑ دیئے

    سکولوں سے سینکڑوں بچوں کی باقیات برآمد، کینیڈا میں مظاہرین نے ملکہ وکٹوریہ اورالزبتھ 2 کے مجسمے توڑ دیئے

    کینیڈا میں دو سابق بورڈنگ اسکولوں سے مقامی قدیم نسل کے سینکڑوں بچوں کی باقیات برآمد ہونے پر مشتعل مظاہرین نے ملکہ وکٹوریہ اور ملکہ الزبتھ دوم کے مجسموں کو گرا دیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ادارے ڈیلی میل کے مطابق یکم جولائی کو کینیڈا کا قومی دن منایا جاتا ہے تاہم رواں سال ملک کے دو سابق بورڈنگ اسکولوں سے مقامی قدیم نسل کے سینکڑوں بچوں کی باقیات برآمد ہونے کے باعث رنگا رنگ تقریبات کا انتظام نہیں کیا گیا۔

    یہ ہلاکتیں دہائیوں قبل بورڈنگ اسکول میں مقامی قدیم نسل کے بچوں کو نئی تہذیب سے روشناس کرانے کے دوران تشدد سے ہوئیں جس پر ملک کے طول و ارض میں مظاہرے جاری ہیں جس میں مایوس کن نوآبادیاتی تاریخ پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا اور نسل کشی پر فخر نہیں کے نعرے لگائے گئے۔

    مظاہرے کے دوران مشتعل افراد نے برطانیہ کی سابق ملکہ وکٹوریہ اور موجودہ کوئن ایلزبتھ کے مجسمے کو توڑ کر زمین پر گرادیا، کئی بادشاہوں کے مجسمے بھی گرائے گئے اور ان پر لال رنگ سے نشان لگادیا اور شدید نعرے بازی کی گئی ملکہ وکٹوریہ کے مجسمہ کے سر کو بعد میں ہٹا کر دریائے آسینیبوین میں پھینک دیا گیا۔

    18 ویں صدی سے 1970 کے درمیان ، کینیڈک اسکولوں میں بھیجے جانے کے بعد ڈیڑھ لاکھ دیسی کینیڈین بچوں کو عیسائیت قبول کرنے پر مجبور کیا گیا اور انہیں اپنی مادری زبان بولنے کی اجازت نہیں تھی۔

    بہت سوں کو مارا پیٹا گیا اور زبانی طور پر بدسلوکی کی گئی ، اور کہا جاتا ہے کہ ان کی موت 6000 تک ہوچکی ہے ، لیکن کینیڈا کی حکومت کی اس پالیسی کا برطانوی شاہی خاندان کے ساتھ بہت کم تعلق ہے ، جو رسمی سربراہان مملکت ہیں۔

    کل کینیڈا میں ہونے والے مظاہروں سے ان کا امریکہ میں پھیل جانے کا امکان بڑھ گیا ہے اور نظرانداز ، بدسلوکی اور موت کے دعوؤں کے بعد وہاں اجتماعی قبروں میں بھی اسی طرح کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

    دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے ملکاؤن اور بادشاہوں کے مجسموں کو گرانے اور بے حرمتی پر افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں لوگوں کے جذبات کا احساس ہے تاہم مجسموں کی بے حرمتی بھی قابل مذمت ہے۔

    قبل ازیں یوم کینیڈا پر وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کا کہنا تھا کہ اسکولوں میں بچوں کی باقیات کی دریافت سے ہمیں اپنی تاریخ کی ناکامیوں پر غور کرنے کا موقع ملا ہے۔ بدقسمتی سے کینیڈا میں اب بھی کچھ لوگ مقامی افراد اور بہت سے دوسری اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی پر مبنی رویہ رکھتے ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کینیڈا کے علاقوں برٹش کولمبیا اور ساسکیچوان کے سابق بورڈنگ اسکولوں جو حکومت کے تعاون سے کیتھولک چرچ کے زیر انتظام تھے سے ایک ہزار کے قریب غیر نشان زدہ قبریں ملی تھیں۔

    کینیڈا میں سابق سکول سے مزید 182 بچوں کی اجتماعی قبریں دریافت

    کینیڈا کے ایک سکول کے احاطہ سے 215 بچوں کی باقیات برآمد

  • آئس لینڈ نے کورونا وائرس کی وجہ سے عائد تمام پابندیاں ختم کر دیں

    آئس لینڈ نے کورونا وائرس کی وجہ سے عائد تمام پابندیاں ختم کر دیں

    آئس لینڈ نے کورونا وائرس کی وباء کی وجہ سے عائد تمام پابندیاں ختم کر دیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے "رائٹرز” کے مطابق ملک کے وزیر صحت نے جمعہ کو کہا کہ آئس لینڈرز کو اب ماسک پہننے یا دوسرے لوگوں سے محفوظ فاصلہ رکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ آج یعنی ہفتہ کو COVID-19 کی تمام پابندیاں ختم کردی جائیں گی –

    شمالی اٹلانٹک کے ملک نے عام طور پر کوویڈ 19 کے وباء کا مقابلہ سخت ٹیسٹنگ اور ٹریسنگ سسٹم کے ذریعے کیا ہے۔

    "وزیر صحت سووندس سویورسٹیٹیر نے کہا ،” ہم اس معاشرے کو بحال کررہے ہیں جس میں ہم زندگی گزارنے کے عادی ہیں اور جس کی ہم خواہش رکھتے ہیں۔ ”

    رائٹرز نے ایک نیوز ویب سائٹ کے حوالے سے کہا کہ ، آئس لینڈ کے وزیرِ صحت نے کہا ، آئس لینڈ ممکنہ طور پر یورپ کا پہلا ملک ہو گا جس نے اپنی COVID-19 کی تمام پابندیوں کو ختم کیا ہے۔

    اب تک موجود پابندیوں میں عوامی اجتماعات پر پابندی اور لوگوں کے مابین دو میٹر کی دوری کی حکمرانی شامل ہے۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ 87 فیصد آئس لینڈرز کو کورونا وائرس کی پہلی ویکسین مل گئی ہے ، جس کے مطابق موازنہ کرنے والے ممالک میں یہ سب سے زیادہ شرح ہے۔

    3لاکھ 60 ہزار افراد کے ملک میں دو ہفتوں میں فی ایک لاکھ باشندوں میں اوسطاً 1.6 فیصد انفیکشن واقعات ہیں۔ مجموعی طور پر 6،637 انفیکشنز زدہ مریضوں میں سے صرف 30 افراد کی موت ہوئی ہے۔

  • کیا شاہی محل نے میگھن اور ہیری کے نسل پرستی کے الزامات کا اعتراف کر لیا؟

    کیا شاہی محل نے میگھن اور ہیری کے نسل پرستی کے الزامات کا اعتراف کر لیا؟

    رواں برس مارچ میں ڈیوک اینڈ ڈچزآف سسیکس نےمعروف امریکی میزبان اوپرا ونفری کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران برطانوی شاہی خاندان پر نسل پرست ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں بکنگھم پیلس کی جانب سے شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کی جانب سے لگائے گئے نسل پرستی کے الزامات کا اعتراف کرنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے ۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق، اب چند مہینوں بعد شاہی محل نے اعتراف کیا کہ شاہی محل کےتمام تر عملےکو برابری کا مقام دینےکے لیےمزید کام کرنا ہوگا۔

    میگھن اور ہیری کے انٹر ویو کے بعد ، محل نے 2020-2021 کے اپنے سالانہ مالی ریکارڈ کو جاری کیا تو نسلی اقلیتی ملازمین کا تناسب اگلے سال تک 10 فیصد تک بڑھانے کے ہدف کے ساتھ 8.5 فیصد رہا ۔

    محل کے ایک ذرائع نے بتایا کہ یہ تعداد عوامی کردی گئی ہے تاکہ کسی سے کچھ چھپا نہ رہے اور محل کے دروازوں کے پیچھے ہونے والی پیشرفت کے لیے شاہی خاندان جوابدہ ہو۔

    ذرائع نے یہ بھی کہا کہ ہم اپنی کوششوں کے باوجود وہاں نہیں ہیں جہاں ہم ہونا چاہتے ہیں یہ نہیں ہے کہ اس عرصے کے دوران برابری اور شمولیت کے اقدامات میں پیشرفت نہیں کی جارہی ہے ، بس بات اتنی ہے کہ وہ نتائج برآمد نہیں ہوئے جو ہم چاہتےہیں ۔

    واضح رہے کہ رواں برس مارچ میں برطانوی شہزادہ ہیری اور اُن کی اہلیہ میگھن مارکل کا اوپرا ونفرے کو دیئے گئے تہلکہ خیز انٹرویو میں شاہی خاندان کے کئی راز افشا کیے تھے

    میگھن مارکل نسل پرستی پر مبنی کارڈ استعمال کرکے لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرنا چاہتی ہیں سیمی گریوال

    میگھن مارکل نے شاہی خاندان کے متعلق کیا بڑا انکشاف

    برطانوی وزیراعظم کا میگھن مارکل کےانٹرویو پرکوئی بھی تبصرہ کرنے سےگریز

    پرنس ہیری اور میگھن کے تہلکہ خیزانٹرویو نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی

    شہزادی ہیری کی اہلیہ میگھن مارکل کے شاہی خاندان پر الزامات ،ملکہ برطانیہ الزبتھ کا ردعمل سامنے آگیا

    برطانوی شاہی خاندان سے ایک برس قبل علیحدگی کے بعد ان دونوں کا پہلا مشترکہ انٹرویو تھا انٹر ویو میں شہزادہ ہیری کی اہلیہ میگھن مارکل نے انکشاف کیا تھا کہ شاہی خاندان میں رہتے ہوئے بھی نسلی تعصب کا نشانہ بنایا گیا جس پر خودکشی کرنے کے بارے میں بھی سوچا تھا-

    دوسری جانب اس وقت برطانوی شہزادہ ہیری اور اہلیہ میگھن کے نسل پرستی کے دعوؤں پر رد عمل کے لیے شاہی محل کو دباؤ کا سامنا تھا یہاں تک کہ برطانوی وزیراعظم نے بھی اس انٹرویو کے حوالے سے کوئی بھی تبصری کرنے سے انکار کر تے ہوئے کہا تھا کہ شاہی خاندان کے معاملات پرکوئی تبصرہ نہیں کروں گا، ملکہ کا یکجہتی کا کردار قابل تحسین ہے۔

    پرنس ہیری اور میگھن مارکل کے انٹرویو پر سوشل میڈیا پر میمز کا طوفان

  • پاکستان کا بزدل دشمن پاکستانیوں کو مرعوب نہیں کرسکتا:الطاف شاہد

    پاکستان کا بزدل دشمن پاکستانیوں کو مرعوب نہیں کرسکتا:الطاف شاہد

    پاک سرزمین پارٹی برطانیہ کے صدرچوہدری محمد الطاف شاہد نے کہا ہے کہ پاکستان کا بزدل دشمن پاکستانیوں کو مرعوب نہیں کرسکتا۔

    پی ایس پی کے مرکزی چیئرمین سیّد مصطفی کمال سمیت پارٹی عہدیداران اورکارکنان جوہر ٹاﺅن بم دھماکے کی شدید مذمت جبکہ شہداءکے پسماندگان سے اظہار تعزیت کرتے ہیں۔ہمیں شہداءجوہرٹاﺅن کے ورثاءکے کرب کابھرپورادراک اوراحساس ہے،پی ایس پی کی قیادت انہیں اس نازک گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑے گی۔ پنجاب حکومت سانحہ جوہرٹاﺅن کے زخمیوں کوبھرپور طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے۔

    اپنے ایک بیان میں چوہدری محمد الطاف شاہد نے مزید کہا کہ جوہرٹاﺅن میں بم دھماکے سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع نے پاکستانیوں کو سوگوار کردیا۔ہماری ماہر اوربہادر سکیورٹی فورسز مادروطن پاکستان کے دفاع کیلئے مستعد ہیں۔ہمارا چھپ کروار کرنیوالے دشمن سے سامنا ہے ،شکست فاش اس کامقدربنے گی ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز اورعوام دہشت گردوں کاصفایاکرنے کیلئے پرعزم ہیں۔دنیا کی کسی طاقت کو پاکستان کاداخلی امن واستحکام تباہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سکیورٹی ادارے انتہائی منظم اور انتھک انداز سے دہشت گردوں اورسماج دشمن عناصر کاصفایاکر رہے ہیں،بیرونی قوتوں کے آشیر باد کے باوجودناپاک شرپسند عناصر کواپنی پاک سرزمین پرقدم جمانے اوراپنے بیگناہ ہم وطنوں کے خون سے ہولی کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ہماری سکیورٹی فورسز کومادر وطن کی حفاظت کرنے کاہنر خوب آتا ہے۔