Baaghi TV

Category: اسلام

  • قربانی کرنے والوں کے لئے اہم احکامات

    قربانی کرنے والوں کے لئے اہم احکامات

    جن وانس کی تخلیق کا حقیقی مقصد اللہ تبارک وتعالیٰ کی بندگی بجا لانا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ کی بندگی کے لیے مختلف طریقے قرآن وسنت میں متعین کیے گئے ہیں‘ جن میں نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، صدقات، نوافل، ذکرِ الٰہی، دعا اور دیگر بہت سی عبادات شامل ہیں۔

    اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی بندگی کے لیے بعض ایام کو خصوصی اہمیت اور فضیلت بھی عطا فرمائی ہے جن میں ایام ذی الحجہ کو بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے۔

    اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ توبہ کی آیت نمبر 36میں ارشاد فرماتے ہیں: ”بے شک مہینوں کا شمار اللہ کے نزدیک بارہ ہے‘ اللہ کی کتاب میں جس دن اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور اُن میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں‘‘۔ حرمت والے چار مہینوں میں رجب، ذو الحج، ذی القعد اور ـمحرم شامل ہیں۔

    حرمت والے ان چار مہینوں میں ذی الحجہ کی اپنی ایک شان اور مقام ہے کیونکہ یہ دین اسلام کے پانچویں اہم ترین رکن’’حج‘‘ کی ادائیگی کا مہینہ ہے اس لیے اس مہینے کا نام ہی ذوالحج رکھا گیا ہے یعنی حج والا مہینہ اس مہینے کی 8تاریخ کو حاجی حج کا قصد کرتے اور 9 تاریخ کو عرفات میں وقوف کرتے ہیں، عرفات کے اس وقوف کی وجہ سے اللہ تبارک وتعالیٰ حاجیوں کی جملہ خطاؤں کو معاف فرما دیتے ہیں اور اس مہینے کی 10تاریخ کو دنیا بھر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے حاجی اور غیر حاجی مسلمان جانوروں کو ذبح کرتے ہیں-

    ذی الحجہ کے پہلے عشرے سے متعلق ایک ہدایت یہ بھی ہمیں دی گئی ہے کہ جو شخص قربانی کرتاہو، وہ ذی الحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد حجاج کرام سے مشابہت کے لیے ناخن اور بال کٹوانے سے احتراز کرے ، اس سلسلے میں کتب احادیث میں حضرت ام سلمہ ؓ سے یہ روایت منقول ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا: جب ذی الحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہو جائے تو تم میں سے جو آدمی قربانی کرنے کا ارادہ کرے وہ ( اس وقت تک جب تک کہ قربانی نہ کرلے) اپنے بال اور ناخن بالکل نہ کتروائے۔

    اس روایت میں قربانی کرنے والوں کو بقر عید کا چاند دیکھنے لینے کے بعد قربانی کر لینے تک بال وغیرہ کٹوانے سے اس لئے منع فرمایا گیا ہے ،تاکہ جو لوگ حج کررہے ہیں اور احرام کی حالت میں ہیں وہ بال ناخن نہیں کٹواسکتے، لہٰذا دوسرے لوگوں کو بھی احرام والوں کی مشابہت حاصل ہو جائے ۔

    تاہم یہ ممانعت تنزیہی ہے ،لہٰذا بال وغیرہ کا نہ کٹوانا مستحب ہے اور اس کے خلاف عمل کرنا ترک اولیٰ ہے، لیکن حرام نہیں، لہٰذا کسی کو ضرورت ہو یا کوئی عذر ہواور وہ بال ناخن کٹوادے تو گناہ گار نہیں ہوگا۔بہرحال یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کو موقع دیاگیا ہے کہ وہ اپنی اپنی جگہ رہتے ہوئے بھی حج اور حجاج کرام سے ایک نسبت اور مشابہت پیدا کرلیں، اور ان کے ساتھ کچھ اعمال میں شریک ہوجائیں یہ مشابہت بھی ان شاء اللہ ہمارے لیے رحمت اور برکت کا سبب ہوگی۔

  • فضائل عشرہ ذی الحجہ اور اس میں کرنے کے کام         بقلم :عمران محمدی عفا اللہ عنہ

    فضائل عشرہ ذی الحجہ اور اس میں کرنے کے کام بقلم :عمران محمدی عفا اللہ عنہ

    فضائل عشرہ ذی الحجہ اور اس میں کرنے کے کام

    بقلم :عمران محمدی عفا اللہ عنہ
    =============

    عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت

    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    وَالْفَجْرِ
    قسم ہے فجر کی !
    الفجر : 1
    وَلَيَالٍ عَشْرٍ
    اور دس راتوں کی !
    الفجر : 2

    اللہ تعالیٰ جن دس راتوں کی قسم اٹھا رہے ہیں
    بہت سے مفسرین نے اس (’’ وَ لَيَالٍ عَشْرٍ ‘‘) سے ذوالحجہ کی پہلی دس راتیں مراد لی ہیں۔

    ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ:
    "یہی تفسیر صحیح ہے”
    تفسير ابن كثير: (8/413)

    اور کسی بھی چیز کی قسم اٹھانا اسکی اہمیت، اور اسکے عظیم فوائد کی دلیل ہے

    دنیا کے ایام میں سب سے افضل دن

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    «ﺃﻓﻀﻞ ﺃﻳﺎﻡ اﻟﺪﻧﻴﺎ ﺃﻳﺎﻡ اﻟﻌﺸﺮ» .
    دنیا کے ایام میں سب سے افضل دن( ذوالحجہ کے) دس دن ہیں
    (ﺻﺤﻴﺢ) …
    صحیح الجامع الصغير 1133 –

    تنبیہ
    رمضان کے آخری عشرہ اور عشرہ ذی الحجہ میں تقابلی طور پر علماء اس طرح بیان کرتے ہیں کہ عشرہ رمضان کی راتیں افضل ہیں کیونکہ ان میں لیلة القدر آتی ہے اور عشرہ ذی الحجہ کے دن افضل ہیں۔

    امام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں
    ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن رمضان کے آخری دس دنوں سے افضل ہیں اور رمضان کے آخری عشرہ کی راتیں ذوالحجہ کی دس راتوں سے افضل ہیں۔
    حافظ ابن قیم بیان کرتے ہیں کہ جب فاضل اور سمجھدار شخص اس پر غوروخوض کرے گا تو وہ اسے شافی و کافی پائے گا کیونکہ ذوالحجہ کے دس دنوں کے علاوہ ایام کے اعمال اللہ تعالی کو دس ذوالحجہ کے اعمال سے زیادہ محبوب نہیں اور ان ایام میں یومِ عرفہ،یوم نحر اور یوم ترویہ بھی ہیں(جو خاص فضیلت کے حامل ہیں)اور رمضان کی آخری دس راتیں شب بیداری کی راتیں ہیں جن میں رسول اللہﷺرات بھر عبادت کیا کرتے تھے اور ان راتوں میں شبِ قدر بھی۔چنانچہ جو شخص اس تفصیل کے بغیر جواب دے گا اس کےلئے ممکن نہیں کہ وہ صحیح دلیل پیش کر سکے۔(مجموعہ فتاوی ابن تیمیہ:25؍287)

    عشرہ ذی الحجہ میں آنے والے عرفہ کے دن کی خاص فضیلت

    حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا:بلاشبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ” مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ، مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ، وَإِنَّهُ لَيَدْنُو، ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمِ الْمَلَائِكَةَ، فَيَقُولُ: مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ؟ ”
    "کوئی دن نہیں جس میں اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے بڑھ کر بندوں کو آگ سے آزاد فرماتا ہو،وہ(اپنے بندوں کے) قریب ہوتا ہے۔ اور فرشتوں کے سامنے ان لوگوں کی بناء پر فخر کرتا ہے اور پوچھتا ہے:یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟”
    مسلم 3288

    ایک یہودی نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ
    يَا أَمِيرَ المُؤْمِنِينَ، آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ تَقْرَءُونَهَا، لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ اليَهُودِ نَزَلَتْ، لاَتَّخَذْنَا ذَلِكَ اليَوْمَ عِيدًا.

    اے امیرالمومنین! تمھاری کتاب ( قرآن ) میں ایک آیت ہے جسے تم پڑھتے ہو۔ اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس ( کے نزول کے ) دن کو یوم عید بنا لیتے

    قَالَ: أَيُّ آيَةٍ؟
    آپ نے پوچھا وہ کون سی آیت ہے؟

    قَالَ: {اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا} [المائدة: 3]

    اس نے جواب دیا ( سورہ مائدہ کی یہ آیت کہ ) “ آج میں نے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمہارے لیے دین اسلام پسند کیا

    قَالَ عُمَرُ: «قَدْ عَرَفْنَا ذَلِكَ اليَوْمَ، وَالمَكَانَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ قَائِمٌ بِعَرَفَةَ يَوْمَ جُمُعَةٍ»
    ” حضرت عمر نے فرمایا کہ ہم اس دن اور اس مقام کو ( خوب ) جانتے ہیں جب یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ( اس وقت ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں جمعہ کے دن کھڑے ہوئے تھے۔
    بخاري 45

    حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے جواب کا مطلب یہ تھا کہ جمعہ کا دن اور عرفہ کا دن ہمارے ہاں عید ہی مانا جاتا ہے اس لیے ہم بھی اس مبارک دن میں اس آیت کے نزول پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں، پھر عرفہ کے بعد والا دن عیدالاضحی ہے، اس لیے جس قدرخوشی اور مسرت ہم کو ان دنوں میں ہوتی ہے اس کا تم لوگ اندازہ اس لیے نہیں کرسکتے کہ تمہارے ہاں عید کا دن کھیل تماشے اور لہوولعب کا دن مانا گیا ہے، اسلام میں ہرعید بہترین روحانی اور ایمانی پیغام لے کر آتی ہے۔

    حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق يوم عرفہ عید کا دین

    عقبہ بن عامر الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    《يوم عرفة ، ويوم النحر وأيام التشريق عيدنا أهلَ الإسلام ،و ھی ایام أكل وشرب》
    "یوم عرفہ، قربانی کا دن اور ایام تشریق ہم اہل اسلام کے لیے عید ہیں اور یہ ایام کھانے پینے کے ہیں ۔
    (سنن أبي داود : ۲٤۱۹ ، سنن الترمذي: ۷۷۳ ، سنن النسائی: ۳۰۰۷، وسنده حسن)

    یہ ایسا دن ہے جس کی اللہ تعالی نے قسم اٹھائ ہے

    اورعظیم الشان اورمرتبہ والی ذات قسم بھی عظیم الشان والی چيز کے ساتھ اٹھاتی ہے ، اوریہی وہ یوم المشہود ہے جو اللہ تعالی نے اپنے اس فرمان میں کہا ہے :

    وشاهد ومشهود البروج ( 3 ) حاضرہونے والے اورحاضرکیے گۓ کی قسم ۔

    ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا :

    ( یوم موعود قیامت کا دن اوریوم مشہود عرفہ کا دن اورشاھد جمعہ کا دن ہے ) اسے امام ترمذي نے روایت کیا اورعلامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے حسن قرار دیا ہے ۔

    عشرہ ذی الحجہ کے آخری دن یعنی یوم النحر کی عظمت

    سیدنا عبداللہ بن قرط ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا
    إِنَّ أَعْظَمَ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمُ النَّحْرِ ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ قَالَ عِيسَى قَالَ ثَوْرٌ وَهُوَ الْيَوْمُ الثَّانِي

    ” اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاں سب سے بڑھ کر عظمت والا دن یوم النحر ( دس ذوالحجہ ) اس کے بعد یوم القر ( ۱۱ ذوالحجہ ) ہے ۔ “ عیسیٰ نے ثور سے نقل کیا کہ یہ دوسرا دن ہوتا ہے “
    ابو داؤد 1765

    یوم القر کی وضاحت کے لیے الصحيح لابن خزيمه میں اس روایت پر یوں تبویب کی گئی ہے
    ﺑﺎﺏ ﻓﻀﻞ ﻳﻮﻡ اﻟﻘﺮ ﻭﻫﻮ ﺃﻭﻝ ﺃﻳﺎﻡ اﻟﺘﺸﺮﻳﻖ
    یوم القر کی فضیلت کا بیان اور اس سے مراد ایام تشریق کا پہلا دن ہے. 2966

    عشرہ ذی الحجہ میں بڑی بڑی عبادات جمع ہوجاتی ہیں

    اس عشرہ مبارکہ کا ایک خاص امتیاز ہے جو کسی اور عشرے کو حاصل نہیں ہے وہ یہ کہ اس میں انسان تمام بڑی بڑی عبادات بجا لا سکتا ہے
    جیسے روزے، نماز، زکوٰۃ، حج، جہاد، اور ہجرت وغیرہ
    بالخصوص حج اور قربانی دو ایسی عبادات ہیں جو اس عشرے میں ہی ادا کی جاتی ہیں

    حافظ ابن حجررحمہ اللہ فتح الباری کےاندرفرماتےہیں:
    ” عشرہ ذی الحجہ کی امتیازی حیثیت کاسبب غالبایہ ہےکہ دیگرایّام کےمقابلےمیں بڑی بڑی عبادتیں مثلا:نماز، روزہ، زکاۃ اورحج ان ایام میں اکٹھی ہوجاتی ہیں”
    (فتح الباری (3/136))

    عشرہ ذی الحجہ میں نیک اعمال کی باقی دنوں کے نیک اعمال پر فضیلت

    سیدنا ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

    مَا مِنْ أَيَّامٍ, الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهَا أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ –يَعْنِي: أَيَّامَ الْعَشْرِ-، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ, إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ، فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ.
    ” اللہ تعالیٰ کو کوئی نیک عمل کسی دن میں اس قدر پسندیدہ نہیں ہے جتنا کہ ان دنوں میں پسندیدہ اور محبوب ہوتا ہے ۔ “ یعنی ذوالحجہ کے پہلے عشرہ میں ۔ صحابہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” نہیں ، جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں مگر جو کوئی شخص اپنی جان و مال لے کر نکلا ہو اور پھر کچھ واپس نہ لایا ہو ۔ “
    ابو داؤد 2438، بخاری 926، ترمذی

    عشرہ ذی الحجہ کے اعمال

    پہلا عمل

    تسبیحات، تحمیدات اور تکبیرات کہنا

    اس عشرہ میں اللہ تعالیٰ کی پاکی، بڑائی اور حمد و ثناء بکثرت کرنی چاہئے

    اس بارے میں فرمان باری تعالی ہے:

    {لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ}

    تا کہ وہ اپنے فائدے کی چیزوں کا مشاہد ہ کریں، اور مقررہ دنوں میں اللہ کے نام کا ذکر کریں[الحج : 28]

    یہاں ” أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ ” سے مراد عشرہ ذو الحجہ [ماہ ذوالحجہ کے پہلے دس دن] ہیں۔

    ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    «ﻣﺎ ﻣﻦ ﺃﻳﺎﻡ ﺃﻋﻈﻢ ﻋﻨﺪ اﻟﻠﻪ، ﻭﻻ ﺃﺣﺐ ﺇﻟﻴﻪ اﻟﻌﻤﻞ ﻓﻴﻬﻦ ﻣﻦ ﺃﻳﺎﻡ اﻟﻌﺸﺮ ﻓﺄﻛﺜﺮﻭا ﻓﻴﻬﻦ اﻟﺘﺴﺒﻴﺢ، ﻭاﻟﺘﻜﺒﻴﺮ، ﻭاﻟﺘﻬﻠﻴﻞ»
    کوئی دن ایسے نہیں جو اللہ کے ہاں ان دس دنوں سے زیادہ عظمت والے ہوں اور جن میں کیا ہوا نیک عمل ان دس دنوں سے زیادہ محبوب ہو پس تم ان ایام میں اللہ کی تسبیح، تکبیر اور تہلیل بکثرت کرو
    المعجم الکبیر للطبرانی 11116
    شعب الایمان للبیھقی

    مسند احمد کی ایک روایت میں
    "والتحميد”
    کے الفاظ ہیں
    دیکھئیے ((أحمد (2/75)شیخ احمد شاکر نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے، دیکھیے:شرحہ علی المسند رقم (5446))”

    تسبیح کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنا جیسے سبحان اللہ کہنا

    تکبیر کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرنا جیسے اللہ اکبر کہنا

    تہلیل کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت بیان کرنا جیسے لا الہ الا اللہ کہنا

    تحمید کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرنا جیسے الحمد للہ کہنا

    ان چاروں اعمال و کلمات کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    أَحَبُّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ أَرْبَعٌ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ
    اللہ تعالیٰ کو یہ چار کلمات
    سُبْحَانَ اللَّهِ
    وَالْحَمْدُ لِلَّهِ
    وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ
    وَاللَّهُ أَكْبَرُ
    سب سے زیادہ محبوب ہیں
    مسلم 2137

    مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کے دن اعمال تولنے والے ترازو میں ان کلمات کے بہت زیادہ بھاری ہونے پر تعجب کیا ہے
    فرمایا
    مَا أَثْقَلَهُنَّ فِي الْمِيزَانِ
    یہ (چار) کلمات ترازو میں کس قدر وزنی ہیں
    مسند احمد 15235

    پورا عشرہ ذی الحجہ تکبیرات کہنا صحابہ کرام کا مبارک عمل ہے

    صحيح بخاری میں معلق روایت ہے
    وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ وَأَبُو هُرَيْرَةَ يَخْرُجَانِ إِلَى السُّوقِ فِي أَيَّامِ الْعَشْرِ يُكَبِّرَانِ وَيُكَبِّرُ النَّاسُ بِتَكْبِيرِهِمَا

    عبداللہ بن عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما ان دس دنوں میں تکبیرات کہتے ہوئے بازار کی طرف نکل جاتے اور لوگ بھی ان کے ساتھ مل کر تکبیرات کہتے

    نو ذوالحجہ کی فجر سے بالخصوص تکبیرات کا آغاز :

    ابو وائل شقیق بن سلمہ الأسدی رحمہ اللہ (تابعی) بیان کرتے ہیں :

    كَانَ عَلِيٌّ يُكَبِّرُ بَعْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ غَدَاةَ عَرَفَةَ، ثُمَّ لَا يَقْطَعُ حَتَّى يُصَلِّيَ الْإِمَامُ مِنْ آخِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ بَعْدَ الْعَصْرُ.

    "سیدنا علی رضی اللہ عنہ عرفہ کی صبح ، فجر کی نماز کے بعد تکبیرات کہتے، پھر ایام تشريق کے آخری دن (١٣ ذوالحجہ کو) امام کے نماز عصر پڑھانے تک مسلسل کہتے رہتے اور عصر کی نماز کے بعد بھی تکبیرات کہتے.”

    ( المستدرك للحاكم : ٤٤٠/١ ح: ١١١٣ ، السنن الكبرى للبيهقي : ٤٣٩/٣ ح : ٦٢٧٥ وسنده حسن)

    عکرمہ مولی ابن عباس رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے متعلق بیان کرتے ہیں :

    أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ عَرَفَةَ، إِلَى آخِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ.

    "سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ عرفہ کی نماز فجر سے لیکر ایام تشريق کے آخری دن (١٣ ذوالحجہ) تک تکبیرات کہتے.”

    ( مصنف ابن أبي شيبة : ٤٨٩/١ ح: ٥٦٤٦ ، المستدرك للحاكم : ٤٤٠/١ ح : ١١١٤ ، السنن الكبرى للبيهقي : ٤٣٩/٣ ح : ٦٢٧٦ وسنده صحیح)

    امام عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي رحمہ اللہ سے تکبیرات کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا :
    يُكَبَّرُ مِنْ غَدَاةِ عَرَفَةَ إِلَى آخِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ كَمَا كَبَّرَ عَلِيٌّ وَعَبْدُ اللہِ.

    "عرفہ کی صبح سے لے کر ایام تشريق کے آخر تک تکبیرات کہے جیسا کہ سیدنا علی اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے.”

    (المستدرك للحاكم : ٤٤٠/١ ح : ١١١٦ وسنده صحیح)

    تکبیرات کے الفاظ

    اس بارے میں معاملہ وسیع ہے کیونکہ تکبیرات کہنے کا حکم مطلق ہے

    فرمانِ باری تعالی ہے:
    (وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ)

    تا کہ تم اللہ تعالی کی اسی طرح بڑائی بیان کرو جیسے اس نے تمھیں سکھایا ہے۔
    [البقرة:185]

    اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے تکبیرات کیلیے الفاظ کی تعیین نہیں فرمائی

    الغرض کوئی بھی الفاظ تکبیرات کیلئے آپ کہہ سکتے ہیں کیونکہ تکبیرات کے معین الفاظ مرفوعاً منقول نہیں ہیں۔

    البتہ صحابہ کرام سے منقول تکبیرات کے الفاظ پر پابندی کرنا بہتر ہے۔

    عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے تکبیرات کے یہ الفاظ منقول ہیں

    ” اَللهُ أَكْبَرُ ، اَللهُ أَكْبَرُ، اَللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَاللهُ أَكْبَرُ، اَللهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ ”

    [اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے، اور تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں۔ ]

    "مصنف ابن ابی شیبہ” (2/165-168)
    "إرواء الغلیل” (3/125)

    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے
    "الله اكبر كبيرا الله اكبر كبيرا واجل ‘الله اكبر ولله الحمد
    اخرجہ ابن ابی شیبۃ فی المصنف واسنادہ صحیح

    بیہقی (3/315) نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ الفاظ روایت کیئے ہیں
    ” اَللهُ أَكْبَرُ ، اَللهُ أَكْبَرُ، اَللهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ، اَللهُ أَكْبَرُ وَأَجَلُّ، اَللهُ أَكْبَرُ عَلَى مَا هَدَانَا”
    البانی رحمہ اللہ نے اسے "ارواء الغلیل” (3/126) میں صحیح قرار دیا ہے۔

    سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے
    ” الله اكبر الله اكبر كبيرا”
    کے الفاظ ثابت ہیں ۔
    ( ابن ابی شیبہ 2/168 ح5645
    السنن الکبری اللبیہقی 3/316)

    دوسرا عمل

    روزے رکھیں

    امہات المؤمنین میں سے ایک کا بیان ہے کہ
    كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ تِسْعَ ذِي الْحِجَّةِ، وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ وَالْخَمِيسَ.
    رسول اللہ ﷺ ذوالحجہ کے ( پہلے ) نو دن ، عاشورہ محرم ، ہر مہینے میں تین دن اور ہر مہینے کے پہلے سوموار اور جمعرات کو روزہ رکھا کرتے تھے ۔
    ابو داؤد 2437

    بغرضِ ترغیب روزوں کے چند فضائل درج کر رہا ہوں تاکہ اس عشرہ مبارکہ میں روزے رکھنے کا شوق پیدا ہو جائے

    حضرت حزیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا
    فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَجَارِهِ تُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ وَالصِّيَامُ وَالصَّدَقَةُ
    ’’آدمی کی آزمائش ہوتی ہے اس کے بال بچوں کے بارے میں، اس کے مال میں اور اس کے پڑوسی کے سلسلے میں۔ ان آزمائشوں کا کفارہ نماز روزہ اور صدقہ ہیں۔‘‘

    روزے جہنم کی آگ کے سامنے ڈھال ہیں
    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

    اَلصَّوْمُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ کَجُنَّةِ أَحَدِکُمْ مِنَ الْقِتَالِ.

    ’’روزہ جہنم کی آگ سے ڈھال ہے جیسے تم میں سے کسی شخص کے پاس لڑائی کی ڈھال ہو۔‘‘
     نسائی، السنن، کتاب الصيام، 2 :  637، رقم :  2230، 2231

    ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:

    مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَعَّدَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنْ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا 
    کہ جو شخص لوجہ اللہ ایک دن کا روزہ رکھ لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس ایک روزے کی برکت سے اس کے چہرے کو ستر برس مدّت کی مسافت تک آگ سے دور کر دیتا ہے
    بخاري

    روزے کا اجر اتنا زیادہ ہے کہ اس کا کوئی شمار ہی نہیں ہے
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

    کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِها إِلَی سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَی مَا شَائَ اﷲُ، يَقُوْلُ اﷲُ تَعَالَی :  إِلَّا الصَّوْمُ فَإِنَّهُ لِی، وَأَنَا أَجْزِی بِهِ.

    ’’آدم کے بیٹے کا نیک عمل دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک آگے جتنا اﷲ چاہے بڑھایا جاتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے :  روزہ اس سے مستثنیٰ ہے کیونکہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا ۔‘

     ابن ماجه، السنن، کتاب الصيام، باب ما جاء فی فضل الصيام، 2 : 305، رقم :  1638

    وفی روایۃ
    : کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ، فَإِنَّهُ لِي وَأنَا اَجْزِيْ بِهِ.

    ’’ابن آدم کا ہر عمل اس کے لئے ہے سوائے روزے کے۔ پس یہ (روزہ) میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔‘‘

     بخاری، الصحيح، کتاب الصوم، باب هل يقول انی صائم اذا شتم، 2 : 673، رقم : 1805.۔

    عرفہ کا روزہ

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ، أَحْتَسِبُ عَلَى اللهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ، وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ،
    عرفہ کے دن کے دن روزہ رکھنے سے مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ گزشتہ اور آئندہ دو سالوں کے گناہ معاف فرمادے گا
    (صحیح مسلم ،الصیام ، الترمذي، الصوم، باب ما جاء في فضل الصوم يوم عرفة، ح :۷۶۹)

    حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا:بلاشبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ” مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ، مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ، وَإِنَّهُ لَيَدْنُو، ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمِ الْمَلَائِكَةَ، فَيَقُولُ: مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ؟ ”
    "کوئی دن نہیں جس میں اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے بڑھ کر بندوں کو آگ سے آزاد فرماتا ہو،وہ(اپنے بندوں کے) قریب ہوتا ہے۔ اور فرشتوں کے سامنے ان لوگوں کی بناء پر فخر کرتا ہے اور پوچھتا ہے:یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟”
    مسلم 3288

    ام المؤمنين سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :

    «ما من السنة يوم أصومه أحب إلي من أن أصوم يوم عرفة».

    "مجھے پورے سال کے دنوں میں سے عرفہ کے دن روزہ رکھنا سب سے زیادہ پسند ہے.”

    (مسند ابن الجعد : 512، شعب الایمان للبیہقی : 315/5 ح : 3485، تهذيب الآثار للطبري : 600 وسندہ صحیح)

    ضروری بات
    یہ روزہ حاجیوں کے لیے نہ رکھنا زیادہ بہتر ہے :
    عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی والدہ ام فضل لبابہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں:
    "شك الناس يوم عرفة في صوم النبي صلى الله عليه وسلم، فبعثت إلى النبي صلى الله عليه وسلم بشراب  فشربه.
    "لوگ عرفات کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے متعلق شک میں تھے (کہ آج آپ کا روزہ ہے یا نہیں) تو میں نے آپ کی طرف ایک مشروب بھیجا تو آپ نے اسے نوش فرما لیا”۔
    (صحيح البخاري : ۱۹۵۸ ، ۱۹۸۸ ، صحیح مسلم : ۱۱۲۳)

    امام شافعی(٢٠٤ھ)رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    "فأحب صومها إلا أن يكون حاجًّا فأحب له ترك صوم يوم عرفة لأنه حاجٌّ مضَحٍّ مسافرٌ ولترك النبي ﷺ صومه في الحج وليقوى بذلك على الدعاء ، وأفضل الدعاء يوم عرفة”.
    "میں (نو ذوالحجہ) کے روزے کو پسند کرتا ہوں سوائے حاجی کے ، اس کے لیے یہ ہے کہ عرفہ کے دن کا روزہ نہ رکھے کیونکہ وہ فریضہ حج ادا کرنے والا، قربانی کرنے والا اور مسافر ہے ( سب سے بڑی بات) نبی کریم ﷺ نے بھی حج میں روزہ نہیں رکھا، تاکہ وہ دعا کے لیے خوب توانا رہے اور عرفہ کے دن کی دعا افضل دعا ہے”۔
    (دیکھئے مختصر المزني: ص٥٩، فضائل الأوقات للبيهقي: ص۳٦٤)

    عرفہ کا روزہ علاقائی 9تاریخ یا یوم عرفہ کے مطابق

    جب سے جدید ٹیکنالوجی اور ذرائع ابلاغ میں تیزی آئی ہے تب سے بعض حلقوں کی جانب سے صوم عرفہ کے متعلق ایک عجیب اشکال کھڑا کیا گیا ہے
    وہ یہ کہ روزہ اسی دن رکھا جائے گا جس دن حاجی لوگ میدان عرفات میں جمع ہونگے خواہ اپنے علاقے میں اس دن نو تاریخ ہو یا نہ ہو

    جبکہ یہ موقف کئی ایک وجوہات کی بنا پر انتہائی کمزور موقف ہے

    (1)اس موقف کے قائل تمام علماءرمضان کے روزوں’دیگر نفلی روزوں اور یوم عاشور اور عیدین وغیرہ کی تعیین میں تو قمری تقسیم کو تسلیم کرتے ہیں لیکن یومِ عرفہ سے دھوکا کھا کر اس کو سعودی تاریخ سے جوڑنے کرنے کی کوشش کرتے ہیں

    (2)اگر اس موقف کو تسلیم کر لیا جائے تو تمام اسلامی دنیا سعودی یومِ عرفہ کے مطابق روزہ رکھ ہی نہیں سکتی۔کیونکہ مشرقی ممالک میں سحری سعودی وقت سے دو یا تین گھنٹے قبل شروع ہوتی ہے اور افطاری بھی ان سے پہلے ہوتی ہے۔اسی مناسبت سے تو مشرقی لوگ سعودی تاریخ کے مطابق روزہ رکھ ہی نہیں سکتے اور بعض مغربی ممالک میں قمری تاریخ سعودی تاریخ سے آگے ہے۔چنانچہ مکہ مکرمہ میں جب یومِ عرفہ ہوتا ہے تو وہاں عیدالاضحی منائی جارہی ہوتی ہے تو اس غیرمنصفانہ تقسیم سے تو مغربی ممالک کے مسلمان یوم عرفہ کے روزہ کی فضیلت سے محروم رہیں گے

    (3)روئے زمین پر ایسے خطے موجود ہیں کہ سعودیہ کےلحاظ سےیومِ عرفہ کے وقت وہاں رات ہوتی ہے ان کےلئےروزہ رکھنے کا کیا اصول ہوگا؟اگر انہیں عرفہ کے وقت روزہ رکھنے کا پابند کیا جائے تو کیا وہ رات کا روزہ رکھیں گے

    (4)اگرچہ آج ہم سائنسی دور سے گزر رہے ہیں لیکن آج سے چند سال قبل معلومات کے یہ ذرائع میسر نہ تھے جن سے سعودیہ میں یومِِ عرفہ کا پتا لگایا جا سکتا اب بھی دیہاتوں اور دراز کے باشندوں کو کیسے پتا چلے گا کہ سعودی میں یومِ عرفہ کب ہے تاکہ وہ اس دن روزے کا اہتمام کریں

    ماخوذ از فتاویٰ شیخ عبد الستار الحماد حفظہ اللہ تعالیٰ

    یوم عرفہ کے دیگر اعمال

    غسل کرنا :

    إِنَّ رجلاً سَأَلَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْغُسْلِ ، فَقَالَ : ” اغْتَسِلْ كُلَّ يَوْمٍ إِنْ شِئْتَ "، قَالَ: لَا، بَلِ الْغُسْلُ أَيْ الْمُسْتَحَبُّ قَالَ: ” اِغْتَسِلْ کُلَّ يَوْمِ جُمُعَةٍ ، وَيَوْمِ الْفِطْرِ، وَيَوْمِ النَّحْرِ وَ يَوْمِ عَرَفَةَ ”

    ” سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے غسل کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا : چاہے ہر روز غسل کرو ، سائل نے پوچھا : نہیں، کونسا غسل مستحب ہے؟ فرمایا : ہر جمعہ، عید الفطر، عید الاضحٰی اور عرفہ کے دن غسل کرو . ”

    ( مسند مسدد کما فی المطالب لابن حجر : 693 و سندہ صحیح ووثق رجاله البوصیری في إتحاف الخيرة المهره : 265/2 )

    یوم عرفہ میں بالخصوص گناہوں سے بچنا

    سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :

    إِنَّ هَذَا يَوْمٌ مَنْ مَلَكَ فِيهِ سَمْعَهُ، وَبَصَرَهُ، وَلِسَانَهُ، غُفِرَ لَهُ.

    "جو شخص اس (یعنی عرفہ کے) دن اپنے کانوں، آنکھوں اور زبان کو گناہوں سے قابو میں رکھتا ہے اسے بخش دیا جاتا ہے.”

    ( مسند أحمد : 329/1 ح : 3041، مسند أبي داود الطيالسي : 2857، مسند أبي يعلي : 2441، الزهد للوكيع : 488 وسندہ صحیح و اخطأ من ضعفه، وصححه الهيثمي و البوصيري و المنذري والمناوي و احمد شاكر . و انظر : أخبار مكة للفاكهي و المعجم الكبير للطبراني شعب الایمان للبيهقي و فضل يوم عرفة لابن عساكر و صحیح ابن خزيمة)

    تیسرا عمل

    جہاد فی سبیل اللہ

    اس عشرہ میں جہاد فی سبیل اللہ کا اجر و ثواب اتنا زیادہ بڑھ جاتا ہے کہ عام دنوں میں کیا جانے والا جہاد بھی اس کے برابر نہیں ہوسکتا
    اور بالخصوص اگر کوئی خوش قسمت مجاہد ان دنوں شہادت کی سعادت حاصل کرلیتا ہے تو اس کا تو کوئی مقابلہ ہی نہیں

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    مَا مِنْ أَيَّامٍ, الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهَا أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ –يَعْنِي: أَيَّامَ الْعَشْرِ-، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ, إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ، فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ.
    ” اللہ تعالیٰ کو کوئی نیک عمل کسی دن میں اس قدر پسندیدہ نہیں ہے جتنا کہ ان دنوں میں پسندیدہ اور محبوب ہوتا ہے ۔ “ یعنی ذوالحجہ کے پہلے عشرہ میں ۔ صحابہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” نہیں ، جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں مگر جو کوئی شخص اپنی جان و مال لے کر نکلا ہو اور پھر کچھ واپس نہ لایا ہو ۔ “
    ابو داؤد 2438، بخاری 926، ترمذی

    چوتھا عمل

    حج بیت اللہ

    سبحان اللہ کیسا عظیم عشرہ ہے کہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک رکن ایسا ہے جو خاص اسی عشرے سے تعلق رکھتا

    بغرضِ ترغیب حج و عمرہ کے چند فضائل درج کر رہا ہوں تاکہ اس عشرہ مبارکہ میں حج بیت اللہ کا شوق پیدا ہو جائے

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ( تَابِعُوْا بَیْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ فَإِنَّھُمَا یَنْفِیَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوْبَ کَمَا یَنْفِی الْکِیْرُ خَبَثَ الْحَدِیْدِ وَالذَّھَبِ وَالْفِضَّۃِ )
    [ ترمذي، الحج، باب ما جاء في ثواب الحج والعمرۃ : ٨١٠، عن عبد اللّٰہ بن مسعود (رض) ]
    ” حج اور عمرہ پے در پے کیا کرو، کیونکہ یہ فقر اور گناہوں کو اس طرح دور کرتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے اور سونے چاندی کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔ “

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ( اَلْعُمْرَۃُ إِلَی الْعُمْرَۃِ کَفَّارَۃٌ لِمَا بَیْنَھُمَا وَالْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ لَیْسَ لَہُ جَزَاءٌ إِِلَّا الْجَنَّۃُ )
    [ بخاري، الحج، باب وجوب العمرۃ و فضلھا : ١٧٧٣۔ مسلم : ١٣٤٩ ]
    ” عمرہ سے لے کر عمرہ، دونوں کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کی جزا جنت کے سوا کچھ نہیں۔ “ گناہوں کی معافی بھی بہت بڑا نفع ہے،

    نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
    ( مَنْ حَجَّ لِلَّہ فَلَمْ یَرْفُثْ وَلَمْ یَفْسُقْ رَجَعَ کَیَوْمِ وَلَدَتْہٗ أُمُّہٗ )
    [ بخاري، الحج، باب فضل الحج المبرور : ١٥٢١، عن أبي ہریرہ ۔ مسلم : ١٣٥٠ (رح) ّ ]
    ” جو شخص حج کرے، نہ کوئی شہوانی فعل کرے اور نہ کوئی نافرمانی کرے تو واپس اس طرح (گناہوں سے پاک ہو کر) جائے گا جس طرح اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔ “

    رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرو بن عاص (رض) سے فرمایا تھا :
    ( أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلَامَ یَھْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہٗ وَأَنَّ الْھِجْرَۃَ تَھْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَھَا وَأَنَّ الْحَجَّ یَھْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہٗ )
    [ مسلم، الإیمان، باب کون الإسلام یھدم ما قبلہ ۔۔ : ١٢١ ]
    ” کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں کہ اسلام اپنے سے پہلے (گناہوں) کو گرا دیتا ہے اور یہ کہ ہجرت اپنے سے پہلے (گناہوں) کو گرا دیتی ہے اور یہ کہ حج اپنے سے پہلے (گناہوں) کو گرا دیتا ہے۔ “

    پانچواں عمل

    عید پڑھنا

    اسی عشرہ مبارکہ کے آخری دن یعنی دس ذی الحجہ کو عید کی نماز ادا کرنا ایک اہم شرعی فریضہ ہے

    عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:‏‏‏‏
    أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَى عِيدًا جَعَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ، ‏‏‏‏‏‏ .

    اضحی کے دن ( دسویں ذی الحجہ کو ) مجھے عید منانے کا حکم دیا گیا ہے جسے اللہ عزوجل نے اس امت کے لیے مقرر و متعین فرمایا ہے
    داود 2789

    شرعی دلائل اور عید کی اسلام میں اہمیت کے پیش نظر صحیح بات یہی ہے کہ نماز عید فرض ہے

    ام عطيہ رضى اللہ تعالى عنہا سے روايت كيا ہے :
    أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَهُنَّ فِي الْفِطْرِ وَالأَضْحَى الْعَوَاتِقَ وَالْحُيَّضَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ ، فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَعْتَزِلْنَ الصَّلاةَ وَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِحْدَانَا لا يَكُونُ لَهَا جِلْبَابٌ . قَالَ : لِتُلْبِسْهَا أُخْتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا

    ” ہميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے عيد الفطر اور عيد الاضحى ميں ( عيد گاہ كى طرف ) نكلنے كا حكم ديا، اور قريب البلوغ اور حائضہ اور كنوارى عورتوں سب كو، ليكن حائضہ عورتيں نماز سے عليحدہ رہيں، اور وہ خير اور مسلمانوں كے ساتھ دعا ميں شريك ہوں, وہ كہتى ہيں ميں نے عرض كيا: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم: اگر ہم ميں سے كسى ايك كے پاس اوڑھنى نہ ہو تو ؟
    رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: اسے اس كى بہن اپنى اوڑھنى دے ”
    صحيح بخارى حديث نمبر ( 324 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 890 ).

    شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى ” مجموع الفتاوى” ميں كہتے ہيں:
    ” دلائل سے جو ميرے نزديك راجح ہوتا ہے وہ يہ كہ نماز عيد فرض عين ہے، اور ہر مرد پر نماز عيد ميں حاضر ہونا واجب ہے، ليكن اگر كسى كے پاس عذر ہو تو پھر نہيں ” اھـ (ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 16 / 217 )

    اگر جمعہ اور عیدین ایک دن جمع ہو جائیں تو جمعہ کے متعلق رخصت ہے۔ حالانکہ جمعہ واجب ہے، اگر صلوٰۃ عید فرض نہ ہوتی تو دوسرے فرض کو کیسے ساقط کر سکتی ہے۔ یہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ صلوٰۃ عیدین دیگر نماز پنجگانہ کی طرح فرض عین ہے

    چھٹا عمل

    قربانی

    عشرہ ذی الحجہ کے آخری دن یعنی دس ذی الحجہ کو قربانی کرنا دوسرے تینوں دنوں کی بنسبت ثواب زیادہ ہے ۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے:
    (( مَاالْعَمَلُ فِیْ اَیَّامٍ اَفْضَلُ مِنْھَا فِیْ ھٰذِہٖ قَالُوْا وَلَا الْجِھَادُ قَالَ وَلَا الْجِھَادُ اِلاَّ رَجُلٌ خَرَجَ یُخَاطِرُ بِنَفْسِہٖ وَمَالِہٖ فَلَمْ یَرْجِعْ بِشَیْئٍ))
    [’’ کسی اور دن میں عبادت ان دس دنوں میں عبادت کرنے سے افضل نہیں ہے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ جہاد بھی نہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ جہاد بھی نہیں ۔ہاں وہ شخص جو اپنی جان اور مال کو خطرے میں ڈالتے ہوئے نکلے اور پھر کوئی چیز واپس نہ لوٹے۔‘‘]

    قربانی کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے
    قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
    کہہ دے بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے، جو جہانوں کا رب ہے۔
    الأنعام : 162

    دوسرے مقام پر ارشاد ہے
    وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ
    اور ہم نے ہر امت کے لیے ایک قربانی مقرر کی ہے، تاکہ وہ ان پالتو چوپاؤں پر اللہ کا نام ذکر کریں جو اس نے انھیں دیے ہیں۔ سو تمھارا معبود ایک معبود ہے تو اسی کے فرماںبردار ہو جاؤ اور عاجزی کرنے والوں کو خوش خبری سنادے۔
    الحج : 34

    لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ … : یعنی ہم نے ہر امت کے لیے ایک قربانی مقرر کی ہے، تاکہ وہ ہمارے عطا کردہ پالتو چوپاؤں پر اللہ کا نام لے کر انھیں قربان کریں، نہ کہ کفار کی طرح ہمارے عطا کر دہ چوپاؤں کو بتوں اور غیر اللہ کے آستانوں پر انھیں خوش کرنے کی نیت سے ذبح کریں۔

    دیگر مذاہب میں قربانی کا ثبوت

    اللہ تعالیٰ کے لیے بطور نیاز قربانی کرنا تمام آسمانی شریعتوں کے نظام عبادت کا لازمی جز رہا ہے
    تفسیر ثنائی میں ہے :
    ’’قرآن مجید کے اس دعویٰ (کہ ہر قوم میں قربانی کا حکم ہے) کا ثبوت آج بھی مذہبی کتب میں ملتا ہے۔ عیسائیوں کی بائبل تو قربانی کے احکام سے بھری پڑی ہے۔ تورات کی دوسری کتاب سفر خروج میں عموماً یہی احکام ہیں۔ تعجب تو یہ ہے کہ ہندوؤں کی مذہبی کتابوں میں بھی اس کا ثبوت ملتا ہے۔ ہندوؤں اور آریوں کے مسلمہ پیشوا منوجی کہتے ہیں : ’’یگیہ (قربانی) کے واسطے اور نوکروں کے کھانے کے واسطے اچھے ہرن اور پرند مارنا چاہیے۔ اگلے زمانے میں رشیوں نے یگیہ کے لیے کھانے کے لائق ہرن اور پکشیوں کو مارا ہے۔ شری برہماجی نے آپ سے آپ یگیہ (قربانی) کے واسطے پشو (حیوانوں) کو پیدا کیا۔ اس سے یگیہ جو قتل ہوتا ہے وہ بدھ نہیں کہلاتا۔ حیوان، پرند، کچھوا وغیرہ، یہ سب یگیہ کے واسطے مارے جانے سے اعلیٰ ذات کو دوسرے جنم میں پاتے ہیں۔‘‘ [ ادہیائے : ۵۔ شلوک : ۲۲، ۲۳، ۳۹، ۴۰ ] گو آج کل کے ہندو یا آریہ ایسے مقامات کی تاویل یا تردید کریں مگر صاف الفاظ کے ہوتے ہوئے ان کی تاویل کون سنتا ہے۔ اس جگہ ہم نے صرف یہ دکھانا تھا کہ قرآن شریف نے جو دعویٰ کیا ہے وہ بحمد اللہ اپنا ثبوت رکھتا ہے، باقی قربانی کی علت اور وجہ کے لیے ہماری کتب مباحثہ، حق پر کاش، ترک اسلام وغیرہ ملاحظہ ہوں۔‘‘
    بحوالہ تفسیر القرآن الكريم از استاذ گرامی حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ

    اسلام میں بھی یہ بطور عبادت مقرر کی گئی ہے، اس میں حاجی، غیر حاجی کی کوئی قید نہیں ہے۔ البتہ مکہ میں حج یا عمرہ پر کی جانے والی قربانی کو ہدی اور دوسرے مقامات پر کی جانے والی قربانی کو اضحیہ کہا جاتا ہے۔

    انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
    [ ضَحَّی النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَرَأَيْتُهُ وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلٰی صِفَاحِهِمَا يُسَمِّيْ وَيُكَبِّرُ فَذَبَحَهُمَا بِيَدِهٖ]
    [بخاري، الأضاحی، باب من ذبح الأضاحي بیدہ : ۵۵۵۸۔ مسلم : ۱۹۶۶ ]
    ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگوں والے دو چتکبرے مینڈھے قربانی کیے، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پہلوؤں پر اپنا پاؤں رکھا اور ’’ بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ ‘‘ پڑھ کر ان دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔‘‘

    ساتواں عمل

    قربانی کی نیت رکھنے والا عشرہ ذی الحجہ میں حجامت وغیرہ نہ کروائے

    قربانی کا ارادہ رکھنے والا شخص جب ذوالحجہ کا چانددیکھ لے یا یہ خبر عام ہو جائے کہ چاند نظر آگیا ہے تو اس رات سے لے کر اپنے جا نور کی قربانی کر لینے تک اپنے جسم کے کسی حصے سے کوئی بال یا ناخن نہ کاٹے کیونکہ
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا رَأَيْتُمْ هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ، وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ، فَلْيُمْسِكْ عَنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ»
    (صحیح مسلم، الأضاحي، باب نهى من دخل عليه عشر ذي الحجة وهو يريد التضحية أن يأخذ من شعره…، ح:۱۹۷۷)
    "جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھ لو اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کا ارادہ رکھے تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔

    یہ پابندی قربانی کرنے تک ہے
    صحیح مسلم اور سنن ابو داود میں یہ الفاظ بھی مروی ہیں:
    (( فَلاَ یَاْخُذَنَّ مِنْ شَعْرِہٖ وَ لاَ مِنْ اَظْفَارِہٖ شَیْئًا حَتّٰی یُضَحِّيَ ))
    ’’وہ اپنے جانور کو ذبح کرلینے تک اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔‘‘

    المستدرک على الصحيحين میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے
    "ﺇﺫا ﺩﺧﻞ ﻋﺸﺮ ﺫﻱ اﻟﺤﺠﺔ ﻓﻼ ﺗﺄﺧﺬﻥ ﻣﻦ ﺷﻌﺮﻙ ﻭﻻ ﻣﻦ ﺃﻇﻔﺎﺭﻙ ﺣﺘﻰ ﺗﺬﺑﺢ ﺃﺿﺤﻴﺘﻚ”
    یعنی یہ ناخنوں اور بالوں کی پابندی قربانی کرلینے تک ہے
    حدیث نمبر 7519

    مؤطا امام مالک میں ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے قربانی کے بعد سر کے بال کٹوائے
    ﻓﺤﻠﻖ ﺭﺃﺳﻪ ﺣﻴﻦ ﺫﺑﺢ اﻟﻜﺒﺶ، ﻭﻛﺎﻥ ﻣﺮﻳﻀﺎ ﻟﻢ ﻳﺸﻬﺪ اﻟﻌﻴﺪ ﻣﻊ اﻟﻨﺎﺱ
    موطا ﺑﺎﺏ ﻣﺎ ﻳﺴﺘﺤﺐ ﻣﻦ اﻟﻀﺤﺎﻳﺎ

    یہ پابندی تمام گھر والوں پر ھے

    نافع، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق روایت کرتے ہیں
    أﻥ اﺑﻦ ﻋﻤﺮﻣﺮ ﺑﺎﻣﺮﺃﺓ ﺗﺄﺧﺬ ﻣﻦ ﺷﻌﺮ اﺑﻨﻬﺎ ﻓﻲ ﺃﻳﺎﻡ اﻟﻌﺸﺮ
    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ان دس دنوں میں ایک عورت کے پاس سے گزرے جو اپنے بیٹے کے بال کاٹ رہی تھی
    تو آپ نے فرمایا
    "ﻟﻮ ﺃﺧﺮﺗﻴﻪ ﺇﻟﻰ ﻳﻮﻡ اﻟﻨﺤﺮ ﻛﺎﻥ ﺃﺣﺴﻦ”
    اگر تو اسے قربانی کے دن تک مؤخر کردیتی تو بہتر ہوتا
    مستدرک للحاکم 7520

  • بلا سود قرضہ دیا جائے گا صدر مملکت

    بلا سود قرضہ دیا جائے گا صدر مملکت

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی زیرِ صدارت مگس بانی اور شہد کی پیداور کے متعلق اجلاس ہوا، جدید آلات اور مگس بانوں کی جدید خطوط پر تربیت سے پاکستان میں شہد کی پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہے، ملکی آب و ہوا اور نباتات مگس بانی کے لئے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں، مگس بانی کے شعبے میں زرمبادلہ کمانے اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع مہیا کرنے کی بڑی صلاحیت ہے، نوجوانوں کو محدود سرمایہ کاری سے مگس بانی اور شہد کا کاروبار شروع کرسکتے ہیں، حکومت کامیاب جوان پروگرام کے تحت نوجوان کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی کررہی ہے ، حکومت نوجوانوں کو کاروبار کیلئے 500،000 روپے تک بلاسود قرض فراہمی کررہی ہے.
    وزارت ماحولیاتی تبدیلی اور ایرڈ یونیورسٹی کی اجلاس کو مگس بانی کے فروغ کیلئے کیے جانے والے اقدامات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ جنگلات خیبرپختونخوا شہد کی پیداوار میں اضافے کیلئے بیری کے 60 لاکھ درخت اور پھلاہی کے ۱ کروڑ درخت لگائے گا.

  • نظام المدارس پاکستان نے دینی مدارس کے نصاب پر سوال اٹھا دئے؟

    نظام المدارس پاکستان نے دینی مدارس کے نصاب پر سوال اٹھا دئے؟

    نظام المدارس پاکستان کے زونل صدور اور ضلعی کوارڈینیٹرز کا اہم اجلاس نظام المدارس پاکستان کے مرکزی سیکرٹریٹ میں صدر نظام المدارس پاکستان علامہ مفتی امداد اللہ قادری کی زیر صدارت منعقد ہوا ہے، اتفاق علماء نے مدارس کے ذمہ داران کی طرف سے رجسٹریشن اور نصاب پر نظرثانی پر متنازعہ وقف املاک ایکٹ پر نظر ثانی کا موقف منظور کروانے پر شکریہ ادا کیا ہے، مفتی امداد اللہ قادری، خرم نوازگنڈاپور،علامہ میر آصف اکبر،علامہ عین الحق بغدادی نے اجلاس سے خطاب کیا ہے، اس میں کہا فیا کہ مدارس دینیہ کے طلباء کو جدید سائنسی علوم بھی پڑھانا ہوں گی، مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ صرف رجسٹرڈ مدارس اور بورڈز کو اسناد جاری کرنے کا اختیار ہونا چاہیے، اجلاس میں علمائے کرام نے متفقہ اعلامیہ منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ ”مدارس دینیہ کی رجسٹریشن اور نصاب کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے حوالے سے ریاستی سطح پر بروئے کار آنے والے اقدامات کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ مدارس کی رجسٹریشن کو 100 فیصد یقینی بنایا جائے کسی کو ضوابط کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ سیاست اور فرقہ واریت میں ملوث مدارس کے حوالے سے ریاست زیروٹالرینس کی پالیسی اختیار کرے، حکومت رجسٹرڈ مدارس کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور اساتذہ کی جدید تدریسی خطوط پر کورسز میں مدد دے، مدارس دینیہ کے مختلف سطح کے تعلیمی پروگرامز کی تکمیل پر اسناد کے اجراء کا اختیار صرف قانونی تقاضے پورے کرنے والے بورڈز کو ہونا چاہئے“۔
    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نظام المدارس پاکستان کے نائب صدر خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ مدارس دینیہ کے طلباء کو روایتی گردانیں رٹانے کی بجائے انہیں جدید سائنسی،معاشی، معاشرتی مسائل کا حل بھی دینا ہو گا تاکہ وہ اسلام اور پاکستان کے سفیر بن کر پوری دنیا میں اسلام کا پرامن اور علمی تشخص اجاگر کر سکیں۔ نیم خواندہ علماء اسلام کی غلط تعبیریں کر کے اسلام کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ نئی نسل کو دین سے دور کررہے ہیں۔ نظام المدارس پاکستان کے صدر علامہ مفتی امداد اللہ قادری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نصاب پر نظر ثانی کے تمام مراحل میں خصوصی سرپرستی کرنے پر ہم شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے مشکور ہیں۔مدارس دینیہ کا اڑھائی سو سالہ پرانا نظام ذہین طلباء کی صلاحیتوں کو زنگ آلود کررہا ہے۔ نصاب پر نظر ثانی کے مخالفین نسلوں کے ساتھ ظلم کرنے کے مرتکب ہورہے ہیں اور انہیں علم و ادب اور تعمیر و ترقی کے مرکزی دھارے سے کاٹ رہے ہیں۔ ایسے تمام علماء اپنے احوال پر نظر ثانی کریں اور امت پرترس کھائیں۔
    نظام المدارس پاکستان کے ناظم اعلیٰ علامہ میر آصف اکبر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نظام المدارس پاکستان نے حکومت کو متنازعہ وقف ایکٹ پر نظر ثانی پر آمادہ کر کے علماء و مشائخ کا ایک اہم مطالبہ منوایا۔ انہوں نے کہا کہ نظام المدارس مدارس دینیہ کی ایک مضبوط آواز بن چکا ہے۔
    نظام المدارس پاکستان کے کنٹرولر امتحانات علامہ عین الحق بغدادی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مدارس دینیہ کے نصاب پر نظر ثانی کے ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ ان شاء اللہ اس میں کامیاب ہوں گے۔ نظام المدارس کی تعلیمی پالیسی مقابلہ نہیں موازنہ اور مکالمہ ہے۔ ہمارا مقصد ایک دین دار تعلیم یافتہ نسل پروان چڑھانا ہے۔ نظام المدارس کا نصاب عصری تقاضوں کے مطابق ہے۔ مدارس دینیہ کے ساتھ مشاورت کر کے آگے بڑھیں گے۔اجلاس میں علامہ محمد اشفاق علی چشتی، علامہ محمداسلم صابری، پروفیسر ثمر عباس، علامہ خلیل احمد قادری، مفتی غلام اصغر صدیقی، مفتی رفیق قادری رندھاوا، مفتی شہزاد احمد سجاد، علامہ پروفیسر آصف شہزاد جماعتی، علامہ محمد شہزاد تبسم، علامہ مفتی خلیل احمد حنفی، علامہ گل محمد چشتی، علامہ پروفیسر اشتیاق حبیب، قاری رحمت اللہ عصمت نے بھی اظہارخیال کیا ہے.

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اختیاری زہد اور پرتعیش زندگی سے کنارہ کشی

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اختیاری زہد اور پرتعیش زندگی سے کنارہ کشی

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اختیاری زہد اور پرتعیش زندگی سے کنارہ کشی

    بقلم :عمران محمدی عفا اللہ عنہ

    1️⃣ مکے کی انتہائی مالدار خاتون خدیجہ رضی اللہ عنھا آپکی زوجہ محترمہ تھیں اور ایسی جانثار، وفادار تھیں کہ انہوں نے اپنا سارا کاروبار، ساری تجارتی انویسٹمنٹ اور ساری دولت اشاعت و تبلیغ اسلام کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کر دی

    2️⃣ مکے کے سب سے زیادہ مالدار شخص ابوبکر رضی اللہ عنہ نہ صرف یہ کہ آپ کے خاص دوست تھے بلکہ ان کی بیٹی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آپ کی زوجہ محترمہ تھی
    حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ایسے سخی اور فراخ دل تھے کہ آپ نے ایک موقع پر اپنا سارا مال حاضرِ خدمت کردیا۔ اور بال بچوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول کے سواکچھ نہ چھوڑا۔ اس وقت ان کے صدقے کی مقدار چار ہزار درہم تھی

    3️⃣ مکے کے بہت ہی مالدار شخص عثمان رضی اللہ عنہ آپ کے داماد تھے
    صرف تبوک کے موقع پر حضرت عثمان بن عفانؓ نے جو صدقہ کیا اس صدقے کی مقدار
    ساڑھے پانچ کلو سونا
    ساڑھے انتیس کلو چاندی
    نوسو اونٹ
    اور ایک سو گھوڑے تک جاپہنچی
    (الرحیق المختوم)

    اگر آج کے حساب سے اسے کیلکولیٹ کیا جائے تو ساڑھے پانچ کلو سونا 550 تولے بنتا ہے اور ایک تولہ کم و بیش ایک لاکھ کا ہے اور یوں نقد رقم جو عثمان رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کی تھی ساڑھے پانچ کروڑ روپے بنتی ہے
    یہ صرف سونے کا حساب ہے
    اونٹ، گھوڑے اور چاندی کی قیمت اس سے الگ ہے

    4️⃣ لاکھوں، کروڑوں اور اربوں روپے کی مالیت کے برابر ملنے والے مال غنیمت میں سے خمس، پانچواں حصہ آپ کی ملکیت ہوتا تھا

    اور مال فے پورے کا پورا آپ کا ہوتا تھا

    5️⃣ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں :
    ’’جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خمس میں سے ہر بیوی کو اسّی (۸۰) وسق (دو سو چالیس من) کھجوریں اور بیس (۲۰) وسق (ساٹھ من) جو دیا کرتے تھے (اور یہ وظیفہ آپ کی وفات کے بعد بھی جاری رہا)۔‘‘
    [ أبو داوٗد، الخراج، باب ما جاء في حکم أرض خیبر : ۳۰۰۶، و قال الألباني حسن الإسناد ]

    کھجور اچھی بھی ہوتی ہے درمیانی بھی ہوتی ہے اور ناقص بھی
    اگر ہم اوسط ریٹ فی کلو 500 کے مطابق بھی حساب کریں تو 80 وسق یعنی 240 من کھجور (جوکہ 9600 کلو بنتی ہے) 48 لاکھ روپے مالیت ہے

    اور 20 وسق یعنی 60 من جو (جوکہ 2400 کلو بنتے ہیں)
    فی کلو جو کا اوسط ریٹ 80 روپے ہے
    60 من جو تقریباً 2 لاکھ روپے کے بنتے ہیں

    گویا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ہر زوجہ محترمہ کو ٹوٹل 50 لاکھ روپے سالانہ دیا کرتے تھے

    اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیک وقت 9 ازواج مطہرات موجود رہی ہیں

    اس حساب سے 9 بیویوں کا سالانہ خرچ ساڑے چار کروڑ روپے بنتا ہے

    کیا دنیا میں کوئی شخص اتنا مالدار پایا گیا ہے جو اپنی بیویوں کو اتنی بھاری رقم سالانہ جیب خرچ کے طور پر دیتا ہو ❓

    خلفائے راشدین کے زمانے میں روم و شام، مصر اور فارس فتح ہوئے، تو امہات المومنین میں سے ہر ایک کا سالانہ وظیفہ بارہ ہزار درہم مقرر ہو گیا، جو تقریباً ایک ہزار دینار (ساڑھے چار کلو یعنی 450 تولہ سونے) کے برابر تھا۔ جوکہ ساڑھے چار کروڑ روپے مالیت کے برابر ہے یہ الگ بات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کی برکت سے ان کی ایسی تربیت ہوئی تھی کہ وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتی تھیں
    اور اسی زندگی پر قناعت کرتیں جو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا پر ترجیح دیتے ہوئے اختیار کی تھی

    6️⃣ بڑے بڑے مالدار صحابہ جان نچھاور کرنے اور مال پیش کرنے کے لئے آپ کے اشارہ ابرو کے منتظر رہتے تھے
    کہ اگر آپ اظہار خواہش کرتے تو دنیا جہاں کی دولت آپ کے قدموں میں ہوتی

    7️⃣ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے ایک ہزار غلام تھے جو روزانہ شام کو آپ کے پاس پیسے کما کر لایا کرتے تھے

    8️⃣ آپ کے انتہائی قریبی دوست عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا شمار انٹرنیشنل تاجروں میں ہوتا تھا

    تبوک کے موقع پر حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ دوسو اوقیہ (تقریباً ساڑھے ۲۹ کلو ) چاندی لے آئے

    9️⃣ تبوک کے موقع پر حضرت عاصم بن عدیؓ نوے وسق (یعنی ساڑھے تیرہ ہزار کلو ،ساڑھے ۱۳ ٹن ) کھجور لے کر آئے۔
    جو کہ تقریباً اڑسٹھ(68) لاکھ روپے کی مالیت ہے

    🔟 دوپہاڑوں کے درمیان(چرنے والی) بکریاں ایک ہی شخص کو دے دیں

    انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
    آپ فرماتے ہیں
    ” مَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ، قَالَ: فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَأَعْطَاهُ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ، فَقَالَ: يَا قَوْمِ أَسْلِمُوا، فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَاءً لَا يَخْشَى الْفَاقَةَ ”
    (مسلم، كِتَابُ الْفَضَائِلِ،بَابُ حُسنِ خُلُقِهِ النبي صلى الله عليه وسلم، 6020)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام (لا نے) پر جوبھی چیز طلب کی جا تی آپ وہ عطا فر ما دیتے ،کہا: ایک شخص آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہاڑوں کے درمیان(چرنے والی) بکریاں اسے دے دیں ،وہ شخص اپنی قوم کی طرف واپس گیا اور کہنے لگا : میری قوم !مسلمان ہو جاؤ بلا شبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنا عطا کرتے ہیں کہ فقر وفاقہ کا اندیشہ تک نہیں رکھتے۔

    1️⃣1️⃣ اکیلے صفوان کو تین سو اونٹ دے دیئے

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین میں خونریز جنگ کی، اللہ نے اپنے دین کو اور مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی
    وَأَعْطَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ مِائَةً مِنَ النَّعَمِ ثُمَّ مِائَةً ثُمَّ مِائَةً
    اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سو اونٹ عطا فرمائے ،پھر سواونٹ پھر سواونٹ۔

    صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا :
    «وَاللهِ لَقَدْ أَعْطَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْطَانِي، وَإِنَّهُ لَأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ، فَمَا بَرِحَ يُعْطِينِي حَتَّى إِنَّهُ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ»
    (مسلم، كِتَابُ الْفَضَائِلِ،بَابُ حُسنِ خُلُقِهِ النبي صلى الله عليه وسلم، 6022)
    اللہ کی قسم!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جو عطا فر ما یا ،مجھے تمام انسانوں میں سب سے زیادہ بغض آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا ۔پھر آپ مجھے مسلسل عطا فرما تے رہے یہاں تک کہ آپ مجھے تمام انسانوں کی نسبت زیادہ محبوب ہو گئے

    2️⃣1️⃣ مقروض میت کا قرض اپنے ذمے لیتے ہیں

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کر رکھا تھا
    فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ مَاتَ وَتَرَكَ مَالًا فَلْيَرِثْهُ عَصَبَتُهُ مَنْ كَانُوا وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَلْيَأْتِنِي فَأَنَا مَوْلَاهُ
    (بخاری ،كِتَابُ فِي الِاسْتِقْرَاضِ وَأَدَاءِ الدُّيُونِ وَالحَجْرِ وَالتَّفْلِيسِ،بَابُ الصَّلاَةِ عَلَى مَنْ تَرَكَ دَيْنًا،2399)
    جو مومن بھی انتقال کر جائے اور مال چھوڑ جائے تو اس کے ورثاءاس کے مالک ہوں۔ وہ جو بھی ہوں
    اور جو شخص قرض چھوڑ جائے یا اولاد چھوڑ جائے تو وہ میرے پاس آجائیں کہ ان کا ولی میں ہوں۔

    اس سب مال و دولت کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں میں اکڑ، تکبر یا غرور نہیں تھا

    حضرت ابو مسعود (عقبہ بن عمرو انصاری)ؓ سے روایت ہے‘انھوں نے فرمایا:
    أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَكَلَّمَهُ، فَجَعَلَ تُرْعَدُ فَرَائِصُهُ
    ایک آدمی نبیﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور آ پ سے بات کرنے لگا۔(رسول اللہﷺ کے رعب کی وجہ سے )اس کے کندھے کانپنے لگے(اس پر کپکپی طاری ہو گئی)
    رسول اللہﷺ نے فرمایا:
    «هَوِّنْ عَلَيْكَ، فَإِنِّي لَسْتُ بِمَلِكٍ، إِنَّمَا أَنَا ابْنُ امْرَأَةٍ تَأْكُلُ الْقَدِيدَ»
    (ابن ماجة، كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ،بَابُ الْقَدِيدِ،3312صحیح
    سلسلة الأحاديث الصحيحة للألبانى رقم :1876)
    ’’گھبراؤ مت‘میں بادشاہ نہیں ہوں۔میں تو ایک ایسی(عام سی غریب)عورت کا بیٹا ہوں جو خشک کیا ہوا گوشت کھایا کرتی تھی۔‘‘

    میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی سائل کو نفی میں جواب نہیں دیا

    حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا
    «مَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ لَا»
    (مسلم، كِتَابُ الْفَضَائِلِ،بَابُ حُسنِ خُلُقِهِ النبي صلى الله عليه وسلم، 6018)
    : ایسا کبھی نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کو ئی چیز مانگی گئی ہو اور آپ نے (ناں یا نہیں ) فرمایا ہو۔

    دنیا سے بے تعلقی اور انفاق فی سبیل اللہ کا عزم ایسا کہ اگر احد پہاڑ برابر بھی سونا ہوتا تو اللہ کی راہ میں خرچ کردیتے

    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    لَوْ كَانَ لِي مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا يَسُرُّنِي أَنْ لَا يَمُرَّ عَلَيَّ ثَلَاثٌ وَعِنْدِي مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا شَيْءٌ أُرْصِدُهُ لِدَيْنٍ
    (بخاری ،كِتَابُ فِي الِاسْتِقْرَاضِ وَأَدَاءِ الدُّيُونِ وَالحَجْرِ وَالتَّفْلِيسِ،بَابُ أَدَاءِ الدَّيْنِ،2389)
    اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تب بھی مجھے یہ پسند نہیں کہ تین دن گزر جائیں اور اس ( سونے ) کا کوئی حصہ میرے پاس رہ جائے۔ سوا اس کے جو میں کسی قرض کے دینے کے لیے رکھ چھوڑوں۔

    ضرورت کے باوجود مانگنے والے کو چادر دے دی
    سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ” بردہ “ (یعنی وہ لنگی جس میں حاشیہ بنا ہوا ہوتا ہے) لے کر آئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں یہ لنگی آپ کے پہننے کے لئے لائی ہوں ۔
    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لنگی ان سے قبول کر لی ۔ اس وقت آپ کو اس کی ضرورت بھی تھی پھر آپ نے پہن لیا ۔
    صحابہ میں سے ایک صحابی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن پروہ لنگی دیکھی تو عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ بڑی عمدہ لنگی ہے ، آپ یہ مجھے عنایت فرما دیجئے ۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لے لو ، جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اٹھ کر تشریف لے گئے تو اندر جا کروہ لنگی بدل کرتہہ کرکے عبدالرحمن کو بھیج دی
    (بخاري، كِتَابُ الأَدَبِ، بَابُ حُسْنِ الخُلُقِ وَالسَّخَاءِ، وَمَا يُكْرَهُ مِنَ البُخْلِ،6036)

    خریدا ہوا اونٹ لوٹا دیا اور رقم بھی واپس نہ لی

    جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ ( ایک غزوہ کے موقع پر ) اپنے اونٹ پر سوار آ رہے تھے ، اونٹ تھک گیا تھا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ادھر سے گزر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کو ایک ضرب لگائی اور اس کے حق میں دعا فرمائی ، چنانچہ اونٹ اتنی تیزی سے چلنے لگا کہ کبھی اس طرح نہیں چلا تھا ۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اسے ایک اوق یہ میں مجھے بیچ دو ۔ میں نے انکار کیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصرار پر پھر میں نے آپ کے ہاتھ بیچ دیا ، لیکن اپنے گھر تک اس پر سواری کو مستثنیٰ کرالیا ۔ پھر جب ہم ( مدینہ ) پہنچ گئے ، تو میں نے اونٹ آپ کو پیش کردیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قیمت بھی ادا کردی ، لیکن جب میں واپس ہونے لگا تو میرے پیچھے ایک صاحب کو مجھے بلانے کے لیے بھیجا ( میں حاضر ہوا تو ) آپ نے فرمایا کہ میں تمہارا اونٹ کوئی لے تھوڑا ہی رہا تھا ، اپنا اونٹ لے جاو، یہ تمہارا ہی مال ہے ۔ ( اور قیمت واپس نہیں لی )
    (صحيح البخاري كِتَابُ الشُّرُوطِ، بَابُ إِذَا اشْتَرَطَ البَائِعُ ظَهْرَ الدَّابَّةِ إِلَى مَكَانٍ مُسَمًّى جَازَ،2718)

    اور مسلم کی ایک روایت میں ہے
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا
    خُذْ جَمَلَكَ وَدَرَاهِمَكَ فَهُوَ لَكَ
    (مسلم، بَاب بَيْعِ الْبَعِيرِ وَاسْتِثْنَاءِ رُكُوبِهِ،715)
    اپنا اونٹ بھی لے لے اور اپنے درہم بھی لے لے یہ تیرا مال ہے

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فقر اختیاری تھا

    لطف یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس حال پر خوش تھے اور آپ نے اسے اللہ تعالیٰ سے مانگ کر لیا تھا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوْتًا ]
    ’’اے اللہ! آل محمد کا رزق گزارے کے برابر کر دے۔‘‘
    [ مسلم، الزکاۃ، باب في الکفاف و القناعۃ : ۱۰۵۵ ]

    انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ اَللّٰهُمَّ أَحْيِنِيْ مِسْكِيْنًا وَ أَمِتْنِيْ مِسْكِيْنًا وَاحْشُرْنِيْ فِيْ زُمْرَةِ الْمَسَاكِيْنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِمَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ!؟ قَالَ إِنَّهُمْ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِأَرْبَعِيْنَ خَرِيْفًا ]
    ’’اے اللہ! مجھے مسکین ہونے کی حالت میں زندہ رکھنا، مسکین ہونے کی حالت میں موت دے اور مسکینوں کی جماعت سے اٹھا۔‘‘ عائشہ رضی اللہ عنھا نے پوچھا : ’’یا رسول اللہ! یہ کیوں؟‘‘ آپ نے فرمایا : ’’وہ جنت میں اپنے اغنیاء سے چالیس (۴۰) سال پہلے جائیں گے۔‘‘
    [ ترمذي، الزھد، باب ما جاء أن فقراء المھاجرین… : ۲۳۵۲ ]

    ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ (رسول اللہﷺ نے دعا فرمائی)
    اللهمّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا، وَأَمِتْنِي مِسْكِينًا، وَاحشرنِي فِي زَمْرَة الْمَسَاكِين.
    اے اللہ مجھے مسكینی كی حالت میں زندہ ركھ ، اور مسكینی كی حالت میں فوت كر ، اور مجھےمساكین كے گروہ میں جمع كر۔
    [سلسلہ صحیحہ:1331]
    [عبد بن حمید فی المنتخب من المسند:2/110]

    آپ نے کبھی ٹیک لگا کر شاہانہ طور طریقے سے کھانا نہیں کھایا

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    لَا آکُلُ مُتَّکِئًا
    ’’میں ٹیک لگاکر نہیں کھاتا‘‘
    (صحیح بخاری: 5398)

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری زندگی کبھی میدہ نہیں کھایا

    ابو حازم نے بیان کیاکہ
    میں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا
    هَلْ أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ؟
    ، کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میدہ کھایا تھا ؟
    انہوں نے کہاکہ
    «مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ، مِنْ حِينَ ابْتَعَثَهُ اللَّهُ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ»
    جب اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بنایا اس وقت سے وفات تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میدہ دیکھا بھی نہیں تھا ۔
    میں نے پوچھا
    هَلْ كَانَتْ لَكُمْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنَاخِلُ؟
    کیانبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ کے پاس چھلنیاں تھیں
    انہوں نے کہا کہ
    «مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْخُلًا، مِنْ حِينَ ابْتَعَثَهُ اللَّهُ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ»
    جب اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بنایا اس وقت سے آپ کی وفات تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چھلنی دیکھی بھی نہیں ۔

    انہوں نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا
    كَيْفَ كُنْتُمْ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ غَيْرَ مَنْخُولٍ؟
    آپ لوگ پھر بغیر چھنا ہوا جو کس طرح کھاتے تھے ؟
    انہوں نے بتلایا
    كُنَّا نَطْحَنُهُ وَنَنْفُخُهُ، فَيَطِيرُ مَا طَارَ، وَمَا بَقِيَ ثَرَّيْنَاهُ فَأَكَلْنَاهُ
    ہم اسے پیس لیتے تھے پھر اسے پھونکتے تھے جو کچھ اڑنا ہوتا اڑجاتا اورجو باقی رہ جاتا اسے گوندھ لیتے ( اور پکاکر ) کھالیتے تھے
    (بخاری، كِتَابُ الأَطْعِمَةِ، بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ ﷺ وَأَصْحَابُهُ يَأْكُلُونَ،5413)

    آپ کے گھر والوں نے کبھی مسلسل تین راتیں پیٹ بھر کر کھانہ نہیں کھایا

    عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں :
    [ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِيْنَةَ مِنْ طَعَامِ بُرٍّ ثَلَاثَ لَيَالٍ تِبَاعًا حَتّٰی قُبِضَ ]

    ’’محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے، جب سے آپ مدینہ میں آئے، تین دن پے در پے گندم کا کھانا سیر ہو کر نہیں کھایا، یہاں تک کہ آپ فوت ہو گئے۔‘‘
    [ بخاري، الرقاق، باب کیف کان عیش النبي صلی اللہ علیہ وسلم و أصحابہ… : ۶۴۵۴ ]

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی پتلی روٹی یا سٹیم روسٹڈ بکری نہیں کھائی

    حضرت انس رضی اللہ عنہ لوگو ں سے کہتے کہ
    «كُلُوا، فَمَا أَعْلَمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَغِيفًا مُرَقَّقًا حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ، وَلاَ رَأَى شَاةً سَمِيطًا بِعَيْنِهِ قَطُّ»
    کھاؤ ، میں نے کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتلی روٹی کھاتے نہیں دیکھا اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی آنکھ سے بھنی ہوئی بکری دیکھی ۔ یہاں تک کہ آپ کا انتقال ہوگیا ( صلی اللہ علیہ وسلم )

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ،گھر میں، کوئی چیز کل کے لیےذخیرہ نہیں کیا کرتے تھے

    انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
    «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدَّخِرُ شَيْئًا لِغَدٍ»
    (ترمذي،أَبْوَابُ الزُّهْدِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ،بَاب مَا جَاءَ فِي مَعِيشَةِ النَّبِيِّ ﷺ وَأَهْلِهِ​2362صحيح)
    نبی اکرمﷺ آنے والے کل کے لیے کچھ نہیں رکھ چھوڑتے تھے

    مسافر مہمان کو کھانہ کھلانے کے لیے میرے نبی کے گھر میں کچھ بھی نہیں تھا

    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کے پاس پیغام بھیجا، ان کی طرف سے جواب آیا کہ ہمارے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ مَنْ يَضُمُّ أَوْ يُضِيْفُ هٰذَا؟ ]
    ’’اس مہمان کو اپنے ساتھ کون لے جائے گا؟‘‘
    انصار میں سے ایک آدمی (جن کا نام ابو طلحہ رضی اللہ عنہ تھا :صحیح مسلم) نے کہا:
    ’’میں لے جاؤں گا۔‘‘
    چنانچہ وہ اسے لے کر اپنی بیوی کے پاس گیا اور اس سے کہا :
    ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان کی خاطر تواضع کرو۔‘‘
    اس نے کہا:
    ’’ہمارے پاس بچوں کے کھانے کے سوا کچھ نہیں۔‘‘
    اس نے کہا:
    ’’کھانا تیار کر لو، چراغ جلا لو اور بچے جب کھانا مانگیں تو انھیں سلا دو۔‘‘
    اس نے کھانا تیار کر لیا، چراغ جلا دیا اور بچوں کو سلا دیا۔ پھر وہ اس طرح اٹھی جیسے چراغ درست کرنے لگی ہے اور اس نے چراغ بجھا دیا۔ میاں بیوی دونوں اس کے سامنے یہی ظاہر کرتے رہے کہ وہ کھا رہے ہیں، مگر انھوں نے وہ رات خالی پیٹ گزار دی۔ جب صبح ہوئی اور وہ انصاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا
    تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ ضَحِكَ اللّٰهُ اللَّيْلَةَ أَوْ عَجِبَ مِنْ فَعَالِكُمَا ]
    ’’آج رات تم دونوں میاں بیوی کے کام پر اللہ تعالیٰ ہنس پڑا یا فرمایا کہ اس نے تعجب کیا۔‘‘
    تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :
    « وَ يُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَ مَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ »
    [ الحشر: ۹ ]
    ’’اور اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ انھیں سخت حاجت ہو اور جو کوئی اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ ہیں جو کامیاب ہیں۔‘‘
    [ بخاري، مناقب الأنصار، باب قول اللّٰہ عزوجل: «و یؤثرون علی أنفسہم …» : ۳۷۹۸۔ مسلم : ۲۰۵۴ ]

    مانگنے والی عورت کو دینے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں صرف ایک کھجور

    امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان فرمایا: ’’میرے پاس ایک عورت اپنی دو بیٹیوں کے ہمراہ آئی۔ اس نے مجھ سے سوال کیا، لیکن اس نے میرے پاس سوائے ایک کھجور کے اور کچھ نہ پایا۔ میں نے اس کو وہی دے دی۔ اس نے اس کو لے کر ان دونوں میں تقسیم کردیا اور خود اس میں سے کچھ نہ کھایا۔ پھر وہ اٹھی اور اپنی دونوں بیٹیوں کے ہمراہ چلی گئی۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا واقعہ سنایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’مَنْ ابْتُلِيَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَيْئٍ، فأَحْسَنَ إِلَیْھِنَّ، کُنَّ لَہُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ۔
    [جس شخص کو ان بیٹیوں میں سے کسی چیز کے ساتھ آزمائش میں ڈالا گیا اور اس نے ان کے ساتھ احسان کیا، تو وہ اس کے لیے [جہنم کی] آگ کے مقابلے میں رکاوٹ ہوں گی۔‘‘]

    متفق علیہ: صحیح البخاري، کتاب الأدب، باب رحمۃ الولد وتقبیلہ ومعانقتہ، رقم الحدیث ۵۹۹۵، ۱۰/۴۲۶؛ وصحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب فضل الإحسان إلی البنات، رقم الحدیث ۱۴۷۔(۲۶۲۹)، ۳/۲۰۲۷۔ الفاظ حدیث صحیح مسلم کے ہیں

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے جب لگزری زندگی گزارنے کی خواہش کی تو آپ ان سے ناراض ہو گئے

    بنوقریظہ کے اموال اور دوسری فتوحات کے نتیجے میں جب مسلمانوں کی حالت کچھ بہتر ہو گئی تو انصار و مہاجرین کی عورتوں کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے بھی نان و نفقہ میں اضافے کا مطالبہ کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی صورت اپنی زہد و قناعت کی زندگی ترک کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ بیویوں کے اصرار پر آپ کو سخت رنج اور صدمہ ہوا اور آپ نے قسم کھا لی کہ میں ایک ماہ تک تمھارے پاس نہیں آؤں گا۔

    يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا
    اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دے اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کا ارادہ رکھتی ہو تو آئو میں تمھیں کچھ سامان دے دوں اورتمھیں رخصت کردوں، اچھے طریقے سے رخصت کرنا۔
    الأحزاب : 28

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر،حجرات

    ’’یہ نو حجرے تھے، ہر بیوی کے پاس ایک حجرہ تھا اور یہ کھجور کی ٹہنیوں سے بنے ہوئے تھے، ان کے دروازوں پر سیاہ بالوں کے ٹاٹ کے پردے تھے۔

    داؤد بن قیس رحمہ اللہ نے فرمایا:
    ’’میں نے وہ حجرے دیکھے ہیں، کھجور کی ٹہنیوں سے بنے ہوئے تھے، جنھیں باہر کی جانب سے بالوں کے ٹاٹوں سے ڈھانپا ہوا تھا اور میرا گمان ہے کہ صحن کے دروازے سے کمرے کے دروازے تک چھ یا سات ہاتھ (نو یا ساڑھے دس فٹ) کا فاصلہ تھا اور کمرے کا اندرونی حصہ دس ہاتھ (پندرہ فٹ) تھا اور میرا گمان ہے کہ گھر کی چوڑائی سات آٹھ ہاتھ (ساڑھے دس بارہ فٹ) کے درمیان تھی۔‘‘
    بخاری نے ’’الادب المفرد‘‘ میں اور ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے اسے روایت کیا ہے

    اور حسن سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا :
    ’’میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے کمروں میں جایا کرتا تھا تو ان کی چھت کو ہاتھ لگا لیتا تھا۔ ولید بن عبد الملک رحمہ اللہ کے عہد میں ان کے حکم سے ان گھروں کو مسجد نبوی میں شامل کر دیا گیا جس پر لوگ بہت روئے۔‘‘

    اور سعید بن مسیب نے فرمایا :
    ’’اللہ کی قسم! مجھے پسند تھا کہ ان حجروں کو ان کی حالت پر رہنے دیا جاتا، تاکہ اہلِ مدینہ کے بچے بڑے ہوتے اور تمام دنیا سے آنے والے آتے تو دیکھتے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں کیسے گھروں پر اکتفا کیا ہے۔ اس سے ان کے دلوں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر دنیا حاصل کرنے کی حرص اور اس پر فخر کے بجائے زہد اور دنیا سے بے رغبتی پیدا ہوتی۔‘‘

    بوقت وفات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کی کیفیت

    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیاکہ
    «لَقَدْ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا فِي رَفِّي مِنْ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ، إِلَّا شَطْرُ شَعِيرٍ فِي رَفٍّ لِي، فَأَكَلْتُ مِنْهُ، حَتَّى طَالَ عَلَيَّ، فَكِلْتُهُ فَفَنِيَ»
    (بخاری ،كِتَابُ الرِّقَاقِ،بَابُ فَضْلِ الفَقْرِ،6451)
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو میرے توشہ خانہ میں کوئی غلہ نہ تھاجو کسی جاندار کے کھانے کے قابل ہوتا، سوائے تھوڑے سے جو کے جو میرے توشہ خانہ میں تھے، میں ان میں سے ہی کھاتی رہی آخر جب بہت دن ہوگئے تو میں نے انہیں ناپا تو وہ ختم ہوگئے

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت یا ترکہ

    عمر وبن حارث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا
    مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا عَبْدًا وَلَا أَمَةً إِلَّا بَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءَ الَّتِي كَانَ يَرْكَبُهَا وَسِلَاحَهُ وَأَرْضًا جَعَلَهَا لِابْنِ السَّبِيلِ صَدَقَةً
    (بخاري ،كِتَابُ المَغَازِي،بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ ﷺ وَوَفَاتِهِ،4461)
    کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ درہم چھوڑے تھے ، نہ دینا ر ، نہ کوئی غلام نہ باندی ، سوااپنے سفید خچر کے جس پر آپ سوار ہواکرتے تھے اور آپ کا ہتھیار اور کچھ وہ زمین جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں مجاہدوں اور مسافروں کے لیے وقف کررکھی تھی

    میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر حالت میں اللہ کا شکر ادا کرنے والے تھے

    جب پیدا ہوئے تو باپ فوت ہو چکا تھا
    کچھ وقت گزرا تو ماں بھی دنیا سے چلی گئی
    تھوڑی ہی مدت گزری کہ چچا بھی وفات پا گئے
    اس کے ساتھ ہی وفادار بیوی داغ مفارقت دے گئی
    پھر ایک وقت آیا کہ قوم نے تنگ کرنا شروع کر دیا نوبت یہاں تک پہنچی کہ بائیکاٹ کر دیا گیا
    کچھ امید لے کر طائف میں تشریف لے گئے لیکن وہاں سے بھی پتھر کھانے پڑے
    پھر واپس آئے تو اپنی ہی قوم قتل کے منصوبے بنا رہی تھی
    مجبور ہو کر آبائی شہر چھوڑ دیا
    دیار غیر میں پناہ گزیں ہوئے لیکن دشمن نے وہاں بھی پیچھا نہ چھوڑا
    الغرض اتنی ساری تکالیف کے باوجود اپنے رب کی بہت عبادت کیا کرتے تھے ایک دن عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھ ہی لیا کہ اتنی عبادت
    تو فرمانے لگے
    أفلا اکون عبدا شکورا
    کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ نہ بنوں

  • سندھ کا ڈومیسائل بناکر غیرقانونی طریقے سے ملازمت کرنے والے افسران کی شامت

    سندھ کا ڈومیسائل بناکر غیرقانونی طریقے سے ملازمت کرنے والے افسران کی شامت

    سندھ کا ڈومیسائل بناکر غیرقانونی طریقے سے سی ایس ایس کرکے گریڈ 17 میں ملازمت حاصل کرنے والے افسران کی شامت آگئی۔

    سندھ حکومت نے معاملے پر فیڈرل پبلک سروس کمیشن سے رابطہ کرلیا۔

    دیگر صوبوں کے 8 امیدواروں نے جعلی طریقے سے سندھ کا ڈومیسائل بناکر سال 2020 میں سی ایس ایس پاس کیا ۔
    محکمہ داخلہ سندھ نے اس سلسلے میں خط لکھا جس میں انہوں نے کہا کہ افسران کے تعلیمی اسناد و ڈومیسائل کے دستاویز سندھ حکومت کے حوالے کیے جائیں۔

    مشکوک افسران میں 5 ایڈمنسٹریٹو سروس آڈٹ اکائونٹس جے 2 اور او ایم جی گروپ کا ایک افسر شامل ہے۔افسران میں ارسلان چوہدری، کامران احمد، اسداللہ گوندل، ملک سردار اشرف اور اویس احمد نے سندھ اربن کے ڈومیسائل پر ایڈمنسٹریٹو سروس میں گریڈ 17 کی ملازمت حاصل کی ہے۔

    آڈٹ اکائونٹس میں راجہ عبدالسلام، رانا ضیا الرحمٰن اور او ایم جی گروپ میں سبین منہاس نے سندھ رورل کا ڈومیسائل بناکر ملازمت حاصل کی ہے۔
    آٹھوں افسر نے جعلی طریقے سے سندھ کے ڈومیسائل بناکر 17گریڈ حاصل کیا ہے.

  • کوہاٹ شہر اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    کوہاٹ شہر اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    کوہاٹ شہر اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے-

    باغی ٹی وی : کوہاٹ شہر اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے زلزلے کے جھٹکوں کے بعد لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے گھروں سے باہر نکل آئے، زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلہ کی شدت 4.8 ریکارڈ کی گئی-

    زلزلہ پیما مرکز نے بتایا کہ زلزلے کا مرکز کوہاٹ کے نزدیک تھا، اور زیرزمین گہرائی 20 کلو میٹر تھی-

    واضح رہے کہ اس سے 4 دن قبل بلوچستان کے ضلع ژوب میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 4.7 اور زیرزمین گہرائی 10 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی تھی زلزلہ پیمامرکز نے بتایا تھا کہ زلزلے کا مرکز  ژوب سے 82کلومیٹر شمال مشرق میں تھا۔

  • شجر کاری مہم میں مزید تیزی لائ جائے گورنر پنجاب

    شجر کاری مہم میں مزید تیزی لائ جائے گورنر پنجاب

    پریس ریلیز ملتان
    شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق
    چیئر مین پی ایچ اے اعجاز حسین جنجوعہ اور وائس چیئرمین پی ایچ اے ملک امجد عباس کی گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور اور صوبائی وزیر ہاﺅسنگ میاں محمودالرشید سے ملاقات مختلف امور پر تبادہ خیا ل کیا گیا.

    گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے پی ایچ اے ملتان کی شجر کاری مہم کی تعریف کی ہے اور کاوشوں کو سراہا ہے، اُنھوں نے مزید کہا کہ پی ایچ اے ملتان شہر کو سر سبز وشاداب بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، چیئرمین پی ایچ اے سے گورنر پنجاب نے ملتان آنے کا وعدہ بھی کیا ہے، صوبائی وزیر ہاﺅسنگ میاں محمود الرشید نے بھی شجر کاری مہم اور پی ایچ اے ملتان کے محتلف امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے شجر کاری کے فروغ کے لیے مزید اقدامات کرنے پر بھی زور دیا ہے، اس موقع پر وزیر اعظم پاکستان کی کلین اینڈ گرین مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، پنجاب کے تمام پی ایچ ایز شجر کاری کے فروغ کے لئے بھر پور اقدمات کریں پارکوں میں شہریوں کو تمام بنیادی سہولیات مہیا کی جائیں، تاکہ کلین اینڈ گرین وژن کو عملی جامہ پہنانے میں مدد ملے۔

  • ملک میں پانی کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ

    ملک میں پانی کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ

    ذرائع آبی وسائل اسلام آباد

    ملک میں پانی اوربجلی کا ایک اوربحران پیدا ہونے کا خدشہ ہونے کو ہے، دریاوں کے بہاؤ میں کمی، ڈیموں میں پانی کا ذخیرہ تیزی سے ختم ہونے لگا ہے، سکردو اور دیگر شمالی علاقہ جات میں درجہ حرارت 19 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا ہے، ایک ہفتہ یہی صورتحال رہی توپانی کا شارٹ فال 32 فیصد تک ہوسکتا ہے، دریاوں میں پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 85 ہزارسے کم ہو کر 2 لاکھ 58 ہزار کیوسک تک رہ گیا ہے، منگلا ڈیم سے پانی کا اخراج مزید کم کردیا گیا ہے، وفاقی حکومت کی بجلی کی پیداوار کے لیے ڈیموں سے پانی کا اخراج بڑھانے کی ہدایت ‏کر دی گئی ہے، ارسا نے منگلا اور تربیلا سے پانی کا اخراج کی تجویز مسترد کردی ہے، بجلی کی پیداوار کے لیے پانی کا بحران پیدا نہیں کرسکتے،
    موجودہ صورتحال برقرار رہی توتربیلا اور منگلا سے 3 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم سے نکل ‏جائےگی، قادرپور گیس فیلڈ مرمت کے باعث بند رہے گی، قادرپور گیس فیلڈ کی بندش سے ایل این جی کی ترسیل بھی متاثر ہوگی، سسٹم سے تھرمل بجلی کی بڑی مقدار بھی نکل سکتی ہے،
    یہی صورتحال رہی توپانی کا شارٹ فال 32 فیصد تک ہوسکتا ہے، دریاوں میں پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 85 ہزار سے کم ہو کر 2 لاکھ 58 ہزار کیوسک تک رہ گیا، منگلا ڈیم سے پانی کا اخراج مزید کم کردیا گیا ہے.

  • گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں قدرت کا دل ، شمشال جھیل

    گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں قدرت کا دل ، شمشال جھیل

    شمشال جھیل ، گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں قدرت کا دل، اس خوبصورت جھیل کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں-

    باغی ٹی وی : دنیا بھر میں دل جیسی منفرد شکل والی جھیلیں بہت کم تعداد میں ہیں لیکن شاید آپ کو یہ جان کر حیرت ہو کہ ان میں سب سے خوبصورت قرار دی جانے والی جھیل ’’شمشال‘‘ پاکستان میں واقع ہے۔

    گلگت بلتستان کی وسیع و عریض شمشال وادی میں پہاڑوں سے گھری ہوئی یہ خوبصورت جھیل سیاحوں کےلیے ایک خوبصورت تفریحی مقام کا درجہ رکھتی ہے لیکن بہت کم لوگ اس بارے میں جانتے ہیں۔

    وکی پیڈیا کے مطابق، وادی شمشال تک پہنچنے کا راستہ بہت مشکل ہوا کرتا تھا لیکن یہاں کے رہنے والوں نے کئی سال محنت کرکے ایک سڑک تعمیر کرلی جس کے بعد یہاں پہنچنا بہت آسان ہوگیا ہے۔

    وادی شمشال ایک انتہائی وسیع و عریض علاقہ ہے جس کی سرحدیں چین اور بلتستان سے ملتی ہیں۔ وادی شمشال میں پامیر کا علاقہ بھی شامل ہے۔ وادی شمشال ایک دشوار گزار وادی میں واقع ہے اس کی وجہ سے باقی دنیاسے سے کٹاہواتھا۔ تاہم، تقریباً دس سال پہلے اس خوبصورت وادی اور جفاکش کوہ پیماؤں کی سرزمین تک آخر کار سڑک بن گئی۔ سڑک کی تعمیر میں یہاں کے مقامی ہنرمندوں اور جفاکشوں نے انتہائی اہم قربانیاں دیں۔

    شمشال جھیل خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے لیکن دنیا کے سامنے اس کی خوبصورتی اور انفرادیت اجاگر کرنے کےلیے سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر کچھ خاص محنت نہیں کی گئی ہے۔

    شاید یہی وجہ ہے کہ صرف چند ایک غیر ملکی سیاحوں اور فوٹوگرافروں نے ہی اس منفرد جھیل کی خوبصورتی کو کیمرے سے قید کیا ہے اور دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔

    واضح رہے کہ شمشال کی ایک انتہائی اہم وجہ شہرت یہاں پر جنم لینے والی کم عمر کوہ پیما ثمینہ بیگ ہے، جس نے دنیا کی بلند ترین چوٹی سرکرکے یہ کارنامہ سر انجام دینے والی پہلی پاکستانی خاتون ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کے علاوہ، وادی شمشال سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما رجب شاہ اور مہربان شاہ نے پاکستان کی بلند ترین چوٹی پر چڑھنے کا اعزاز حاصل کیاہے۔ کوہ پیمائی سے منسلک نامور اور تجربہ کار افراد کی ایک بہت بڑی تعداد شمشال سے تعلق رکھتی ہے۔