مسلمان ہر سال دو عیدیں مناتے ہیں۔ ایک عیدالفطر جو کہ یکم شوال کو مناتے ہیں اور دوسری عید الاضحیٰ جسے عید قربان بھی کہا جاتا ہے، دس ذی الحجہ کو مناتے ہیں۔ عید الاضحیٰ کے موقع پہ مسلمان حضرت ابراہیم کی سنت ادا کرتے ہوئے حلال جانور قربان کرتے ہیں، اسی کو قربانی کہتے ہیں۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بڑے صاحبزادے تھے۔ قرآن نے انہیں صادق الوعد کا لقب دیا۔ ایک دن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا اباجان جو کچھ آپ کو حکم ہوا کر ڈالئے آپ ان شاء اللہ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔
قربان جائیں اس پیغمبر زادے کی ایمانی عظمتوں پر جنہوں نے باپ کے خواب کو اللہ کا حکم سمجھتے ہوئے سر تسلیم خم کر کے تاریخ انسانیت میں ذبیح اللہ کا منفرد اعزاز حاصل کیا۔
جب حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے لیے لٹایا تب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے فرمایا، اے ابراہیم (کیا خوب) تم نے اپنا خواب سچا کر دکھایا۔ ہم نیکو کاروں کو یوں ہی بدلہ دیتے ہیں۔
آسمان سے ایک مینڈھا آتا ہے اور حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ اس مینڈھے کو ذبح کرتے ہیں، ارشاد ہوتا ہے ابراہیم! تمہاری قربانی قبول ہوگئی۔ ہم نے اسماعیل کی ذبح کو ’’ایک عظیم ذبح،، کے ساتھ فدیہ کر دیا۔بے شک باپ کا بیٹے کے ذبح کے لئے تیار ہوجانایہ ایک بڑی صریح آزمائش تھی ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اس آزمائش میں پورا اترے۔
اب ذہن انسانی میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو بچانا ہی مقصود تھا تو پھر ان کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا حکم کیوں ہوا؟ اور اگر حکم ہوا تھا تو ان کی زندگی کو تحفظ کیوں دیا گیا۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟
حکم اس لئے ہوا کہ سراپائے ایثار و قربانی پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لخت جگر سے ذبح کی تاریخ کی ابتدا ہوجائے کہ راہ حق میں قربانیاں دینے کا آغاز انبیاء کی سنت ہے اور بچا اس لئے گیا کہ اس عظیم پیغمبر کی نسل پاک میں نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت با سعادت ہونا تھی۔ اولاد ابراہیم علیہ السلام میں تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تشریف لانا تھا اس لئے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ذبح کو جنت سے لائے گئے مینڈھے کی قربانی کی صورت میں’’عظیم ذبح،، کے ساتھ بدل دیا گیا اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام محفوظ و مامون رہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اسی قربانی کی یاد میں ہر سال مسلمان عید الاضحیٰ مناتے ہیں اور جانوروں کو اللہ کی راہ میں قربان کرتے ہیں۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا عید الاضحیٰ پرصرف جانور کو ذبح کر دینے سے قربانی کا مقصد پورا ہو جاتا ہے؟
عید ِقرباں کے موقعے پر اپنے اندر کے جانور(انا) کو بھی قربان کرنا چاہے۔ عید کے مقدس تہوار پر انسان ’’انا ‘‘ کی قربانی بھی کر لے تو قربانی کی حقیقی روح کو پا سکتا ہے۔عید قرباں کا مقصد بھی یہ ہے کہ جانور کی قربانی کے ساتھ اپنی خواہشات و انانیت کو قربان کیا جائے۔ عید کا یہ دن ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس کے توسط سے ہم اپنی ذاتی رنجشوں، ناراضگیوں اور ایک دوسرے کی غلطیوں وخامیوں کو نظر انداز کرکے کھلے دل سے ایک دوسرے کوگلے لگا لیں۔ اگر انسان اس مبارک موقعے پر’’انا‘‘ کی قربانی کر لے تو نہ صرف بہت سی مشکلات سے چھٹکارہ پا سکتا ہے، بلکہ خدا کی بہت قربت بھی حاصل کرسکتا ہے،کیونکہ یہ ’’انا‘‘ ہی بہت سے مسائل کی جڑ ہے۔اس کی وجہ سے انسان کی زندگی دوبھر ہوجاتی ہے۔بہت سے رشتے ’’انا ‘‘ کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔
آج ہمارا معاشرہ آپس میں اختلافات، تعصبات اور افرا تفری اور انتشارکا شکار ہے، اپنے علاوہ کوئی کسی دوسرے کی بات تک کو تحمل وبرداشت سے سننا نہیں چاہتا۔اس کا واحد سبب ہمارے نفس کی سرکشی ہے اور یہ تہوار ہمیں اپنے نفس کو دوسروں کے لیے قربانی دینے کا درس دیتا ہے۔ عید الاضحیٰ ہمیں آپس میں پیارومحبت اور اتحاد ویکجہتی کے ساتھ رہنے کا درس دیتی ہے اور یہ پیغام دیتی ہے کہ سب ایک دوسرے کے حقوق کی پاس داری کریں اور اچھے برے وقت میں ایک دوسرے کے کام آئیں۔
دوسروں کو بھی آپس کے اختلافات اور نفرتوں کو بھلانے کا درس دیں اور ایسا معاشرہ تشکیل دیں، جس کا تقاضا ہمارا دین کرتا ہے۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کی قربانیوں کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائیں۔(امین)
پاکستان زندہ آباد۔
@iamAsadLal
Category: اسلام
-

عید ِقرباں پہ انا کی قربانی تحریر: محمد اسعد لعل
-

قرآن سے بے سہارہ عورت کی حفاظت : تحریر احسان اللہ خان
یہ ایک مہاجر عورت کی داستان ہے۔ جو جالندھر کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ یہ داستان غم خود اس کی زبانی ملاحظہ کیجئے۔
میں تو اس بات پر یقین رکھتی ہوں جو خدا نے اپنی کتاب میں فرمائی ہے کہ خدا جس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلت دے وہ بہت ہی کریم و رحیم ذات ہے۔ پھر وہ ایک دم اپنے بچپن کی طرف لوٹی اور کہنے لگی کہ بچپن میں ہمیں قرآن کریم کی تعلیم بہت سختی سے دی جاتی تھی۔ اگر کوئی کسی بہانے کی وجہ سے قرآن پڑھنے نہ جاتا تو پہلے بزرگ اس کو سمجھاتے پھر اسے نئے طریقوں سے سزا دی جاتی حتیٰ کہ وہ بڑی خوشی سے قرآن پاک پڑھنے چلا جاتا۔
اسی طرح میں نے بھی ایک دفعہ سر درد کا بہانا بنایا۔ سزا تو نہیں ملی تھی لیکن سمجھو مجھے ایک دم سمجھ آگئی کہ قرآن پاک پڑھے بغیر گزارا نہیں۔ چنانچہ میں نے قرآن پاک حفظ کرنا شروع کیا۔ اور اس وقت نئے کپڑے نہیں پہنے لیکن دھلے ہوئے پہنے تھے جب تک قرآن پاک حفظ کرلیا۔
زندگی کے دن گزر رہے تھے کہ اچانک ملک تقسیم ہوگیا اور ہم پاکستان آرہے تھے کہ راستے میں غنڈوں اور ڈاکوؤں نے ہمارے قافلے پر حملہ کردیا پھر کیا ہوا اس کے بعد اس کی آواز مدہم پڑھ گئی اور دو ننھے ننھے اشک انسو سے گر پڑے۔ میرے گھر کے تمام افراد شہید ہوگئے اور میں بے ہوش ہوگئی۔ ہوش آنے پر میں نے اپنے آپ کو ایک نرم اور پر سکون بستر پر پڑا پایا۔ یہ ایک خوبصورت کمرہ تھا جس میں کچھ عریاں فوٹو تھیں اور بعض تصویروں پر گرنتھ پڑھتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ مجھے معلوم ہوا کہ یہ سکھوں کا گھر ہے اچانک زور سے دروازہ کھلا۔ اور ایک نواجوان سکھ اور ایک بوڑھی عورت کمرے میں داخل ہوئے۔ اور آتے ہی اس نوجوان نے اس عورت سے کہا ”ماں یہ ہے تیری بہو کیا تجھے پسند ہے؟ “ وہ۔عورت ہنس کر بولی ہاں پسند ہے۔ پھر وہ باہر چلی گئی اس کے بعد اس نوجوان نے الماری سے شراب کی بوتلیں نکالیں پھر وہ بے تحاشہ پینے لگا۔ اس کے بعد وہ بے ہوش ہوگیا۔ اس کے بعد میری آنکھوں سے نیند غائب ہوگئی۔ اور میں وہاں سے بھاگنے کی تیاری کرنے لگی۔ رات کے تقریباً دو بجے تھے میں چارپائی سے اتر کوئی چیز تلاش کرنے لگی۔ اچانک مجھے ایک چمکتی ہوئی چیز دکھائی دی یہ ایک کرپان تھی جو اس بے ہوش سکھ کی چارپائی کی نیچے پڑی ہوئی تھی۔ میں نے جلدی سے کرپان اٹھائی اور اس کا سر تن سے جدکردیا۔ معمولی سی چیخ سنائی دی اور بے تحاشہ باہر کو بھاگی۔ راسے کی مشکلات سے بچنے کے بعد دن تقریباً دو بجے واہگہ بارڈر کی سرحد پر ہلالی پرچم کو دیکھ کر میں بے ہوش ہوگئی۔ اس کے بعد کیا ہوا میں اپنے مسلمان بھائیوں کے درمیان رہنے لگی۔المختصر اسی محافظ (قرآن) نے میری زندگی بچائی۔ جو اسی وقت یہی قرآن میرے بغل میں تھا۔IhsanMarwat_786
-

میرے محبوب حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق تحریر :صائمہ مسعود
سیرت النبی پر بہت کچھ لکھا گیا
اور جتنا لکھا گیا وہ کم لگا
میرے پیارے نبی اللہ کے آخری نبی ہیں
آپکے بعد کوئ نبی دنیا میں نہیں آئے گا
آپکے ماننے والے مسلمان کہلائے اور ہر مسلمان کا ایمان تب مکمل ہوتا جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا آخری نبی تسلیم کرتا
اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بتائ ہوئی بات سے رہنمائی لیتا
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عظیم ترین ہستی ہیں دنیا کے تمام انسانوں کے لیے باعث تقلید ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق و کردار قرآن کے مطابق تھا
آپ کی عاجزی و انکساری کے کافر بھی متعارف تھے۔اپ بہت سادہ لوح انسان تھے آپ نے کبھی خود کو خاص نہیں سمجھا بلکہ اللہ کا ایک عام بندہ تصور کیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہایت خاکسار۔ملنسار اور رحم دل تھے
آپ سب سے محبت سے پیش آتے۔چھوٹوں سے شفقت
اور بڑوں کا احترام کرتے تھے
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے ہمیشہ دشمنوں کو معاف کیا اور درگزر کیا
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو بھی صبرو تحمل کا درس دیا اور درگزر کرنے کا بھی حکم دیا ہے
دشمنوں کے ساتھ اخلاق سے پیش آتے تھے جضرت عائشہ ام المومنین کا ارشاد ہے کہ
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اخلاق قرآن کے مطابق تھا
آپ بہترین اخلاق کے مالک تھے
رحم کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھر ہوا تھا۔سب کا احترام کرتے تھےاسلام سے پہلے عرب جہالت کے اندھیروں میں غرق تھا
کوئ ادب لحاظ نہیں تھا لیکن آپکے حسن اخلاق سے لوگ متاثر ہوئے اور دائرہ اسلام میں داخل ہوئے
اسلام سے پہلے عورت کی کوئ عزت نہ تھی
لیکن نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے ان پر احسان اور احترام فرمایا۔انکے حقوق واضع کیے اور فرمایا
کہ یہ حقیر نہیں ہیں یہ عزت اور ہمدردی کے لائق ہیں۔اپ نے عورتوں کی باتوں کا برا بھی نہیں منایا بلکہ انکے مسائل کو حل کیا۔ہمیشہ نرم لہجہ اختیار کیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ قرآن پاک کی مکمل اور عملی تفسیر تھی
قرآن مجید میں اس امر کی شہادت موجود ہے
‘یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حسن اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہیں’
آپ کی حیات طیبہ مبارک انسانوں کے لیے سر چشمہ ہدایت اور مشعل ہدایت ہے۔ ۔ -

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات تحریر : تصوّر جٹ
اسلام میں ہمیں ہر چیز کے بارے میں سکھایا جاتا ہے ۔
اِسی طرح اسلام قربانی کا سکھاتا ہے۔
اسلام صرف جانوروں کی قربانی نہیں بلکہ اپنی انا کی قربانی اپنی ضروریات اپنی خواہشات کی قربانی دینے کا درس دیتا ہے ۔ہمیں اپنی خواہشات کی قربانی دے کر اللہ کی رضا میں راضی ہونا چاہیے تا کہ ہم آخرت کی زندگی سنوار سکے۔
ارشاد ہوا _
” جو اللہ کی رضا میں راضی ہو گیا اللہ اس پر راضی ہو گیا”
اور جس پر اللہ راضی ہو جائے اُسے اور کیا چاہیے۔
ہمارا دنیا میں آنے کا مقصد ہی اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو راضی کرنا ہے۔عیدین قربانی اور ایثار کی عملی مثال ہے
عیدین کے موقع پر ہمیں غریبوں کا لازمی خیال رکھنا چاہیے۔
اُن کو اپنی خوشیاں میں شریک کرنا چاہیے تا کہ وہ بھی عید کی خوشیوں کو محسوس کر سکے۔اگر عید کی خوشیوں کی بات کی جائے تو اب مجھے وہ پہلے والی خوشیوں کی لہر نظر نہیں آتی۔
جیسے کہ بچوں کا تیار ہونا چاند رات کو بچیوں کا مہندی لگانا رات کو دیر تک جاگنا۔ پڑوسیوں کا ایک دوسرے کی طرف جا کر عید کی مبارک باد دینا۔اب یہ سب ختم ہوتا جا رہا ہے کیوں کی سائنس کے جدید دور نے انسان کو اتنا مصروف کر دیا ہے کہ اُس کے پاس کِسی کو دینے کے لئے ٹائم نہیں۔
عید ااضحٰی ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یاد دلاتی ہے اور ہمیں سنت ابرہیمی ادا کرنے کا موقع دیتی ہے۔
اصل قربانی تو باپ بیٹے کی گفتگو تھی دنبہ کی قربانی تو اس کا فدیہ تھا۔
مگر افسوس ہمیں دنبہ یاد رہا گفتگو یاد نہ رہی…اللہ ہم سب کو عید کی خوشیاں نصیب فرمائے۔آمین
-

حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ ایک شخصیت تحریر: محمد صابر مسعود
آپ کی ذات محتاجِ تعارف نہیں لیکن پھر بھی آپ کے سامنے کچھ صفات بیان کئے دیتا ہوں جن کا ذکر فائدہ سے خالی نہیں، آپ کی ذات شمس و قمر کی طرح روشن ہے، بلاشبہ مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کے مجدد اور حکیم الامت تھے۔ 5/ربیع الثانی/1285ھ (1863ع) کو اتر پردیش میں واقع تھانہ بھون ضلع مظفر نگر کو آپ جیسی شخصیت کے دیدار کا شرف حاصل ہوا، ابتدائ تعلیم تھانہ بھون اور میرٹھ میں ہوئ، 1295ھ میں دارالعلوم دیوبند میں داخل ہوئے ۔
پانچ سال مشغولِ تعلیم رہ کر 1301ھ میں فراغت حاصل ہوئ ۔
حضرت مولانا یعقوب نانوتوی، مولانا سید احمد دہلوی، شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی، وغیرہ آپ کے کبار اساتذہ ہیں، سید الطائفہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ؒ کے دست حق پرست پر بیعت ہوکر اکتساب فیض کیا اور 15/سال کانپور میں درس وتدریس کا سلسلہ قائم رہا ۔
اس کے بعد پوری زندگی تبلیغ و تذکیر اور تصنیف و تالیف کے ذریعہ اصلاحِ عقائد و اعمال و ابطالِ رسوم و بدعات کا عظیم الشان کارنامہ انجام دیا جس کی کوئ نظیر ماضی قریب کی تاریخ میں نہیں ملتی، آپ کی اصلاح و تربیتی سرگرمیوں سے ہزاروں انسانوں کو فیض پہنچا، کثرت تصانیف میں آپ کا کوئ ہمسر نہیں۔
مختلف موضوعات پر تقریبا ایک ہزار تصانیف آپ کی یادگار ہیں ۔
آپ کے خلفاء و مجازین بیعت کی تعداد 164 ہے ،جن کے ذریعہ آپ کا فیض چار دانگ عالم میں پھیلا اور آج بھی جاری ہے، سیاسیات میں آپ اپنے استاد شیخ الہند ؒ کے قافلہ میں شریک نہ رہے، پھر بھی مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے جمعۃ الانصار کے اجلاس میرٹھ کی صدارت فرمائ، 19-20/ جولائی 1943ع کی درمیانی شب میں اس دنیائے فانی کو الوداع کہا ۔ حضرت مولانا ظفر احمد تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور تھانہ بھون کے قبرستان، ،،عشق بازاں ،میں تدفین عمل میں آئ ۔۔ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے۔۔@sabirmasood_
-

سنت نبویؐ کی پیروی حقیقی کامیابی تحریر : زوہیب زاہد خان
آج کے دور میں ہم مسلمان دنیا کی رنگینیوں میں کھوگئے ہیں۔ آج ہم دین اسلام کی تعلیمات سے دور ہوچکے ہیں جسکی وجہ سے ہماری زندگیوں سے برکت اٹھی چکی ہے۔ ہمیں کہیں طرح کے مسائل نے گھیر لیا ہے۔ ہم الجھنوں کے دلدل میں دھنستے چلے جارہے ہیں۔ ہمارا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ ہمارے دل مردہ اور بے ضمیر ہوچکے ہیں. مجموعی طور پر ہمیں زوال کا سامنا ہے۔
ناکامی کی بنیادی وجہ :
مسلمانوں کے زوال کی سب سے بڑی وجہ الله پاک اور الله کے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے احکامات کے مطابق زندگی نہ گرازنا ہے۔ کیونکہ اصل کامیابی الله اور رسول الله کی اطاعت اور فرماں برداری میں ہے۔ یہ ہی مسلمانوں کی دنیا و آخرت میں کامیابی کا اصل ذریعہ ہے۔سنت نبویؐ :
ہر وہ ایسا عمل جو ہمارے پیارے رسولؐ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عملی طور پر کرکے دکھایا ہو اور امت کو اسکا حکم دیا ہو اس عمل کو ہم سنت کہتے ہیں۔ ہمارے پیارے نبی کریم کی پوری زندگی ہمارے لیئے عملی نمونہ ہے. پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے محبت ہمارے ایمان کا بنیادی حصہ ہے۔ پیارے نبی کی سنت سے محبت نبی سے محبت کی عظیم ترین مثال ہے۔الله رب العالمین نے ہمارے نبی کریم کی سیرت طیبہ کو قیامت تک کے مسلمانوں کیلئے رہنمائی کا ذریعہ بنادیا ہے۔ مسلمان زندگی کے ہر امور میں آپ کی سیاست طیبہ کو پڑھ کر رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ نبی کریم کی زندگی ہر مسلمان کیلئے بہترین اسوہ حسنہ ہے۔
قران و سنت :
آج کے مشکل ترین دور میں الله اور رسول اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق زندگی گزارنا ہماری دنیا و آخرت میں حقیقی کامیابی ہے۔قران مجید میں الله نے مسلمانوں کیلئے واضح احکامات بیان فرما دیئے ہیں۔اسکے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بتائی ہوئی احادیث مبارکہ کے مطابق زندگی گزارنا ہماری حقیقی کامیابی ہوگی۔
الله پاک مجھ سمیت ہر مسلمان کو الله اور الله کے پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت طیبہ کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
@ZohIbZahidKhan
-

ویڈیو اسسٹڈ ایکشن۔ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم
دُنیا جیسے جیسے ترقی کر رہی ہے ویسے ہی جدید ایجادات انسانی زندگی میں آسانی پیدا کر رہی ہیں۔ ان جدید ایجادات میں ایک ویڈیو شیئرنگ ٹیکنالوجی بھی ہے۔ آج کے جدید دور میں ویڈیو اسسٹڈ کانفرنس، ویڈیو اسسٹڈ میٹنگز، ویڈیو اسسٹڈ تعلیم اور حتیٰ کہ ویڈیو اسسٹڈ سرجريز بھی ہو رہی ہیں۔ کچھ بعید نہیں کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی بہت کچھ بدل دے گی۔ دور دراز علاقوں میں تعلیم، علاج اور کاروبار آسان ہو جائے گا۔
لیکن ہمارا پیارا پاکستان اِس ٹیکنالوجی کے استعمال میں بھی سب سے آگے ہے۔ آج یہاں ہر چیز ویڈیو اسسٹڈ ہو چکی ہے۔ ہمارا معاشرہ اور تمام ادارے ویڈیو اسسٹنس کے عادی ہو چُکے ہیں۔ جب تک کسی جُرم، ظُلم یا زیادتی کی ویڈیو وائرل نہیں ہوتی مُجرم کے خلاف کوئی ریاستی ادارہ حرکت میں نہیں آتا۔
گزشتہ دنوں ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں مدرسے کا ایک استاد اپنے شاگرد کے ساتھ نازیبا حرکات کر رہا تھا۔ لیکن تصویر کا دوسرا رخ اس سے بھی زیادہ قبیح نکلا۔ متاثرہ لڑکا ایک عرصے سے اپنے استاد کی طرف سے زیادتی کا نشانہ بن رہا تھا، لیکن جب اُس نے شکایت کرنے کی کوشش کی تو نہ ہی مدرسہ انتظامیہ نے اور نہ ہی پولیس نے کوئی ایکشن لیا۔ استاد کی گرفتاری کے لیے مجبوراً لڑکے کو ایک ویڈیو بنا کر وائرل کروانی پڑی، پھر جا کر ہمارے ادارے حرکت میں آئے۔
ہمارے معاشرے میں پنپنے والی چھوٹی بڑی برائیوں کو اُس وقت تک بُرا نہیں سمجھا جاتا جب تک اس برائی کی ویڈیو فیس بک یا ٹویٹر کی زینت نہیں بنتی۔ کچھ عرصہ قبل ایک یونیورسٹی میں ایک لڑکے نے ایک ساتھی لڑکی کو پرپوز کیا۔ یہاں تک تو بات ٹھیک تھی لیکن پروپوزل قبول ہونے کے بعد دونوں نے سرِ عام نازیبا حرکات کی۔ اس واقعہ کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی اور جب بہت سارے مہذب شہریوں نے اس واقعے کی تنقید کی تو پھر جا کر یونیورسٹی نے ایکشن لیا۔
ایک اور واقعہ جو کہ کچھ روز قبل ہی وقوع ہوا تھا، ایک موٹر سائیکل سوار لڑکے نے راہ چلتی لڑکی سے پرس چھینا اور دھکا دے کر گرا دیا۔ اس واقعے کی بھی ویڈیو وائرل ہوئی، ہمارے ادارے حرکت میں آئے اور ایک ہی روز میں ملزم گرفتار ہو گیا۔ تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ ملزم کافی عرصے سے یہ کام کر رہا ہے لیکن کبھی پکڑا نہیں گیا۔ اگر اس واقعہ کی ویڈیو وائرل نہ ہوتی تو نا جانے کتنے اور جرم ہوتے۔
حال ہی میں ایک ویڈیو سکینڈل منظر عام پر آیا۔ با اثر افراد نے ایک جوڑے (کپل) کو مارنے پینے کے ساتھ نہ صرف لڑکی کو برہنہ کیا بلکہ ان سے زبردستی نازیبا حرکات کروائی گئیں۔ اسکے بعد لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور اس سب کی ویڈیو بنائی گئی۔ یہ واقعہ تقریباً 8 ماہ قبل پیش آیا تھا، اتنے عرصے میں مُجرم کھلے عام گھومتے رہے اور پولیس کو اُنہیں گرفتار کرنے کی توفیق نہ ہوئی۔ شاید اسی لیے لڑکا یا لڑکی میں سے کسی نے پولیس رپورٹ نہیں کی کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ اُنہیں انصاف نہیں ملے گا۔ ان کی بھی داد رسی ہوئی لیکن ویڈیو وائرل ہونے کے بعد۔ ویڈیو وائرل ہونے کے کچھ ہی دنوں میں نہ صرف سب مُجرم گرفتار ہو گئے بلکہ ان کے پاس سے ایسی کئی دوسری ویڈیوز بھی برآمد ہوئیں۔
اگر اس جوڑے کو انصاف کی تھوڑی سی بھی امید ہوتی تو شاید وہ بہت پہلے پولیس کے پاس چلے جاتے۔ لیکن انصاف ملا بھی تو رُسوا ہونے کے بعد۔ بلکہ ابھی انصاف کہاں ملا ہے۔ کچھ دن بعد ہم یہ قصہ بھول بھال کر ایک نئی ویڈیو وائرل کریں گے جیسے ہم سیالکوٹ موٹروے والے واقعے کو بھول چکے ہیں۔ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا، ظلم ہوتا رہے گا، ویڈیوز بنتی رہیں گے، ہم واویلہ کرتے رہیں گے اور کچھ دن بعد ایک نئی ویڈیو وائرل ہوتے ہی پچھلے واقعات بھولتے جائیں گے۔
-

تحریر ماریہ بلوچ عنوان: ناشکرے ہم
بحثیت انسان مسلمان قوم و امت ہم ناشکرے لوگ ہیں ۔ ہم میسر نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے اور الٹا جو ہمیں حکمت الہی سے دیا نہیں گیا اسکی طرف دھیان لگائے رکھتے ہیں جب ہم بھوکے ہوتے ہیں ہم خواہش کرتے ہیں بس کہیں سے کچھ بھی کھانے کو مل جائے اور کھانے کے بعد شکر ادا نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں کاش ہمیں کچھ اچھا کھانے کو مل جاتا۔ اور یہی حال ہم تمام نعمتوں کے ساتھ کرتے ہیں ۔
مجھے ذاتی طور پر اسکی صرف ایک ہی وجہ نظر آتی ہے کہ ہم اللہ کی تقسیم پر راضی نہیں ہوتے ہمیں لگتا ہے جو ہمیں دیا گیا ہے ہم اس سے بہتر کے حقدار تھے۔ نادانستہ ہم اللہ کی حکمت کے منکر ہو رہے ہوتے ہیں۔ قرآن کی ایک مختصر سی آیت میں اللہ نے بہت جامعیت سے بتایا کہ
"اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور دونگا اور اگر تم نے کفر کرو گے تو عذاب شدید ہے”
مطلب اگر شکر نہیں تو پھر وہاں کفر ہے ۔۔ کفر کس چیز کا؟؟ کفر اللہ کی نعمتوں کس انکار ہے جو اس نے دی ہیں اور پھر ایسے کفر پر عذاب بھی شدیدکہا۔۔
بہت حیرت کی بات ہے ہمارے معاشرے میں انفرادی و اجتماعی کفر اس قدر عام ہو چکا ہے کہ اب ہمیں اسکا ادراک بھی نہیں ہوتا۔
کل 100 روپیہ کمانے والا آج 1000 کما رہا ہے اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد لگثریز کا عادی ہو رہا ہے اور زبان پر ایک ہی کلمہ ہے کیا کریں اخراجات ہی پورے نہیں ہوتے۔ اگر ہم قوم ہیں تو بھی ہمارا یہی حال ہے ہم اپنے ملک میں آذادی سے رہتے ہیں ہمارے جان مال و عزت کو وہ تحفظ اجتماعی طور پر حاصل ہے جس کے لیے ہم نے قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم کر کے یہ ملک حاصل کیا تھا لیکن اب ہم اس پر بھی شاکر نہیں ہمیں ہمارے ہی ملک میں نقائص نظر آتے ہیں ہماری نظریں یورپ کے بظاہر ترقی یافتہ مگر اخلاقی اقدار میں پست ممالک پر ہیں۔اور ہم ان جیسا ہونا چاہتے ہیں ۔
ہمیں اپنا ملک اپنا نظام دیا گیا مگر ہم اسکو نہیں اپنانا چاہتے ناشکرے پن ہی میں ہم اللہ کے نظام کو ناکافی سمجھتے ہیں ہمیں اس میں نقائص نظر آتے ہیں۔۔
اب بھی وقت ہے ہمارے لیے شکر کو اپنانے کا اپنی انفرادی و اجتماعی زندگیوں میں یہی ہمارے لیے راہ نجات و وسیلہ کامیابی ہےTwitter handle: @ShezM__
-

تحریر: تصوّر جٹ جدیدیت اسلام سے دوری کا باعث
بے حیائی کیا ہے؟ گناہوں پر شرم نہ محسوس کرنا بلکہ ان کا کھلے عام اعتراف کرنا، بے حیائی ہے۔
ہمارا معاشرہ بے حیائی کے اس راستے پر چل پڑا ہے جہاں عروج نہیں بلکہ زوال ہے۔
جدید دور کے نام پر مسلمانوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے اور مسلمان اس گمراہی کو خوشی سے قبول کر رھے ھیں۔
اگر آج کے دورِ جدید میں دیکھا جائے تو مختلف ایپس نے پوری دنیا میں فحاشی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ جن کی مقبولیت ایسے شیطانی ذرائع ہیں جن کی وجہ سے بے حیائی مسلمانوں کے گھروں تک پہنچ رہی ہے۔ جس کی زد میں آ کر مسلمان اپنی اسلامی اقدار سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
مسلمان عورتوں میں پردہ اور مردوں میں حیا کا خاتمہ ہوتا جا رہا ہے۔ جس سے کسی بھی معاشرے کو زوال کا شکار ہوتا دیکھ سکتے ہیں۔
ایسے لوگ جو مسلمانوں کو دین اسلام سے دور اور ان میں بے حیائی و فحاشی کو پھیلاتے ہیں ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ
“جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ان کے لیے دنیا و آخرت میں درد ناک عذاب ہیں، اللہ سب کچھ جانتا ہے اور تم کچھ بھی نہیں جانتے۔”
مسلمان سمجھ رھے ھیں کہ ھم جدید دور کی طرف جا رہے ھیں لیکن وہ یہ نہیں سمجھ رہے کہ وہ اسلام سے کتنا دُور ہو گئے ہیںکبھی کبھی میرے ذہین میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ وہی پاکستان ہے جس کو اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا ہمارے آباؤ اجداد نے بے شمار جانوں کے نذرانہ پیش کیے تھے۔
ہم آج پاکستان کو بنانے کا مقصد بُھول گئے ہیں اور دین اسلام سے اتنا دُور چلے گئے ہیں یہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔
ہمیں اپنے مقصد کی طرف واپس آنا ہو گا اور اللہ اور اس کے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی بسر کرنی ہو گی۔
اللہ پاک ہم سب کو اپنے حفظ وامان میں رکھے۔ آمین۔
@T_jutt17
-

مسجد عبد اللہ بن عباسؓ – طائف (سعودیہ ) تحریر : محمد آصف شفیق
دوستو آج ہم آ پ سے طائف کی سیر کا احوال شئر کریں گے
ہم چند دوستوں نے جدہ سے طائف کی سیر کا پروگرام بنایا جدہ سے طائف کم و بیش 170 کلومیٹر ہے اور کم و بیش دو گھنٹے کی ڈرائیو ہے ، طائف ایک پر فضا مقام ہے جہاں سیر و سیاحت کیلئے آنے والوں کیلئے دیگر سہولتوں کے علاوہ چئر لفٹ کی سہولت موجود ہے جس سے آپ پورے ایریا کو فضا سے دیکھ سکتے ہیں بل کھاتی سڑکیں پہاڑی راستہ اور مسلسل چڑھائی جس کی وجہ سے کافی وقت لگ جاتا ہے ، نئی نئی گاڑیاں مستقل چڑھائی کی وجہ سے اکثر ہیٹ اپ ہو جاتی ہیں جنہیں کبھی تو اٹھا کر لانا پڑجاتا ہے یا وہیں پر کوئی جگاڑ لگا کر واپس لایا جا سکتا ہے ،اگر گاڑی خراب ہو جائے تو یہاں راہ چلتے مسافر فواراً رک کر آپکی مدد کرتے ہیں جو کہ ایک اچھی بات ہے
تو ہم بات کر رہے تھے طائف کی ، شہر طائف میں بہت سی قدیم مساجد ہیں جن میں سے ایک عظیم صحابی عبداللہ بن عباس ؓ کی مسجد ہے جو کہ طائف شہر کی مشہور مساجد میں سے ایک مسجد ہے ، یہ طائف شہر کے بالکل وسط میں واقع ہے ،اس مسجد کی تعمیر 592 ہجری میں ہوئی ، اس مسجد میں کم و بیش 3000 نمازیوں کی گنجائش موجود ہے ، مسجد میں اجتماعات عید کی نماز سیمینار ز اور لیکچرز کا انعقاد کیا جاتا ہے ، مسجد کی مختلف ادوار میں میں توسیع کی جاتی رہی محترم شاہ سعود رحمہ اللہ کے دور میں مسجد کی توسیع کی گئی اور اسے 15000 مربع میٹر تک وسیع کیا گیا
مسجدکے بالکل ساتھ عبد اللہ بن عباسؓ لائبریری بھی موجود ہے جو اچھی بڑی لائبریری ہے چونکہ ہم نے اس کورونا کی وبا کے دوران طائف کا سفر کیا اس لئے انتظامیہ نے حفاظتی نقطہ نظر سے لائیبریری کو بند کیا ہوا ہے ہم امید کرتے ہیں ان شااللہ اپنے اگلے وزٹ پر لائیبریری کو اندر سے دیکھ سکیں گے اور اس میں موجود نوادرات کی زیارت بھی کر پائیں گے اور اسے آپ سب پڑھنے والوں سے شئر بھی کریں گے ان شاء اللہ
مسجد اور لائبریری کے قریب ہی پارکنگ ایریا ہے جس میں وسیع و عریض کار پارکنگ کی سہولت موجود ہے ، ساتھ ہی خوبصورت گیٹ بھی بنایا گیا ہے جسے باب عبد اللہ بن عباسؓ کا نام دیا گیا ہے
طائف میں ہی موجود مسجد علی ؓ کا احوال بھی انشاء اللہ جلد ہی اپنے اگلے بلاگ میں پیش کروں گا
محمد آصف شفیق
جدہ -سعودیہ@mmasief