Baaghi TV

Category: اسلام

  • درخت لگاؤ – مستقبل محفوظ بناؤ   تحریر : حسن ریاض آہیر

    درخت لگاؤ – مستقبل محفوظ بناؤ تحریر : حسن ریاض آہیر

    درختوں کے قتلِ عام میں ہم اشرف المخلوقات سرِ فہرست ہیں۔
    گزشتہ روز وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے مندرجہ ذیل تصویر اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شئیر کی اور ساتھ پیغام لکھا کہ ہم اس سال ریکارڈ شجر کاری کریں گے۔
    تصویر میں موجود درخت جو مختلف ممالک میں فی شخص درختوں کی تعداد کو ظاہر کرتا ہے، اسے دیکھ کر ایسے لگتا ہے جیسے ہم پاکستانی ریگستان میں رہتے ہوں۔
    اس تصویر کے مطابق دیکھا جائے تو
    کینیڈا میں ایک انسان کے لئے دس ہزار ایک سو تریسٹھ درخت ہیں
    گرین لینڈ میں چار ہزار نو سو چونسٹھ
    آسٹریلیا جو کہ بظاہر ریگستان نما ہے اس میں فی شخص تین ہزار دو سو چھیاسٹھ
    امریکہ میں چھ سو ننانوے
    فرانس میں دو سو تین
    ایتھوپیا میں ایک سو تینتالیس
    چائنہ میں ایک سو تیس
    انگلینڈ میں سینتالیس
    ہندوستان میں اٹھائیس
    اور جبکہ ہمارے پیارے پاکستان میں ایک انسان کے حصے میں پانچ درخت آتے ہیں ۔۔۔
    ہم آج سے تیس سال پیچھے چلے جائیں تو شاید ہمارے ملک میں فی شخص ایک سو سے زیادہ درخت تھے لیکن پھر جمہوری قوتوں نے ملک سے درختوں کا صفایا کر دیا۔
    میں ان تمام نام نہاد سابقہ حکمرانوں سے پوچھتا ہوں کہ اتنے درخت کاٹنے کے بعد کیا تمہارا پیٹ بھر گیا ؟
    ہوس اور لالچ ہے کہ کبھی ختم ہو نہیں سکتی ۔۔۔
    اگر اتنے ہی تم انسانیت دوست اور عوام کے خیر خواہ ہوتے تو درخت کاٹنے کی بجائے پہلے سے دوگنے درخت اپنی جیب سے لگواتے اور جب تک زندہ ہو ان کی اس طرح حفاظت کرتے جس طرح اپنی اولادوں کی کرتے ہو۔
    تمھارا نام آنے والی نسلیں ہمیشہ یاد رکھتی اور تمہیں دعائیں دیتی۔
    صرف حکمران ہی نہیں ہم عوام کی بھی یہ زمہ داری بنتی ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ شجر کاری کریں اور اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں۔
    درخت لگانے سے موسوم خوش گوار اور ٹھنڈا رہتا ہے۔ ہوا میں موجود آلودگی کم ہوتی ہے۔ زمین کٹاؤ سے بچی رہتی ہے اور چرند پرند کا یہ مسکن ہوتا ہے۔
    ماحولیاتی تبدیلیوں میں درخت فلٹر کا کام کرتے ہیں اس لیے ہمیں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے چاہیے اور انکی حفاظت کو یقینی بنانا چاہیے۔
    حکومت پاکستان وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں شجر کاری مہم میں پیش پیش ہے اور انکی اس محنت کا ادراک عالمی فورمز پر بھی کیا گیا ہے۔
    ہم سب پاکستانی خود سے عہد کر لیں اور اپنی ذات کے لیے ہی ایک ایک درخت لگانا شروع کر دیں تو یہ تعداد کروڑوں میں پہنچ سکتی ہے، حکومت شجر کاری کر رہی ہے اور اس حوالے سے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے لیکن کچھ زمہ داری ہم عوام کی بھی بنتی ہے۔
    اللّٰہ پاک ہمیں ہمیشہ ہر قدرتی اور ماحولیاتی آفات سے بچائیں آمین !
    درخت لگاؤ
    زندگی محفوظ بناؤ

    @HRA_07

  • انصاف اور پاکستان کا عدالتی نظام تحریر: محمد حماد

    انصاف اور پاکستان کا عدالتی نظام تحریر: محمد حماد

    بروقت انصاف کی فراہمی کسی بھی معاشرے کے لئے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ جس معاشرے میں انصاف نہ ہو، ظلم اور بے ایمانی عام ہو، کمزور اور طاقتور کے لئے الگ قوانین ہوں وہ معاشرے اور قومیں کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔

    ہمارا مذہب اسلام بھی ہمیں ایک دوسرے کے مابین انصاف کرنے اور ناانصافی سے بچنے کی تلقین کرتا ہے۔ قرآن مجید کا فرمان ہے ، "اللہ انصاف ، نیکی کرنے ، اور لواطت اور رشتہ داری کا حکم دیتا ہے ، اور وہ تمام شرمناک کاموں ، ناانصافیوں اور سرکشی سے منع کرتا ہے: وہ تمہیں ہدایت دیتا ہے تاکہ تم کو نصیحت حاصل ہو”۔ (النحل :90) قران کریم میں جہاں انصاف کرنے کی تلقین کی گئی وہیں اس بات کا بھی حکم دیا گیا کہ زاتی دشمنی اور نفرت کو اپنے اوپر حاوی کر کے کسی سے ناانصافی نہ کی جائے ۔ اللہ نے فرمایا: “اے ایمان والو! اللہ کے لئے ثابت قدمی سے کھڑے ہو جاؤ اور صرف گواہ رہو اور دوسروں سے دشمنی اور نفرت آپ کو انصاف سے باز نہ آنے دے۔ انصاف کرو: یہ تقویٰ کے قریب ہے اور اللہ سے ڈرو۔ جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے واقف ہے۔” (المائدہ: 8)

    نہ صرف اسلام بلکہ دنیا کے تمام مذاہب میں انصاف کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ موجودہ دور میں عدلیہ اور عدالتی نظام انصاف فراہم کرنے کے زمہ دار ہیں۔ اگر ہم اپنے ملک پر نظر ڈالیں تو سیشن کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک ہماری عدالتیں موجود ہیں جہاں روز سیکڑوں مقدمات کی سماعت کی جاتی ہے۔

    بلاشبہ ہماری عدالتیں آزاد ہیں اور انصاف فراہم کرنے کے لئے کوشاں بھی لیکن حالیہ عالمی رینکنگ کے مطابق پاکستان کا عدالتی نظام 128 ممالک کی فہرست میں 120 نمبر پر ہے اور اس کی بےشمار وجوہات ہیں۔ امیر اور طاقتور جرم کر کے بھی گھنٹوں میں ضمانتیں کروا لیتے ہیں جبکہ غریب پوری زندگی انصاف کا متلاشی رہتا ہے۔ ہمارے سامنے اس طرح کی بےشمار مثالیں موجود ہیں جہاں عدالتی فیصلوں میں غیرضروری تاخیر کے سبب لوگوں کی آدھی زندگیاں جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزر گئی۔ دوسری جانب ہمارے اسی ملک میں سانحہ ماڈل ٹاون جیسے المناک سانحات رونما ہوئے اور ان میں شہید ہونے والوں کے لواحقین آج بھی دربدر کی ٹھوکریں کھانے اور یہ سوال کرنے پر مجبور ہیں کہ ہمیں کون انصاف فراہم کرے گا۔

    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں بڑے پیمانے پر عدالتی اصلاحات لائی جائیں تا کہ امیر اور غریب کو بلا تفریق، سستا، اور جلد انصاف فراہم کیا جا سکے۔ اسی طرح ہم حقیقی معنوں میں ایک اسلامی فلاحی ریاست کی بنیاد رکھ سکیں گے۔


    Muhammad Hammad

    Muhammad Hammad is a writer ,blogger,freelance Journalist, influencer  out more about his work on  Twitter  account 

     


  • تحریر: محمد عثمان  عنوان: مغل بادشاہ ترقی کے خلاف رکاوٹ

    تحریر: محمد عثمان عنوان: مغل بادشاہ ترقی کے خلاف رکاوٹ

    مغلوں کی تاریخ: مغلوں کی حکمرانی 1526ھ میں شروع ہوئی۔ ہندوستان میں مغلوں کا پہلا حکمران ظہورالدین بابر تھا۔ وہ مغل سلطنت کا بانی ہے۔ بنیادی طور پر ، مغل افغانی تھے۔ ان کو جنگھی خان (منگول کنگ) نے بے دردی سے شکست دی۔ وہ افغانستان میں پناہ مانگ رہے تھے۔ دریں اثنا ، اس حالت کو دیکھ کر ہندوستان کے مسلم قائدین نے اپنی حکومت کے خلاف بغاوت کی۔ انہوں نے ظہورالدین بابر کو اپنی شکست خوردہ فوج کے ساتھ ہندوستان پر حملہ کرنے کی دعوت دی۔ اس نے ہندوستان پر حملہ کیا اور بغیر کسی رکاوٹ کے فتح حاصل کی کیونکہ مرکزی رہنما اس کے حق میں تھے۔ وہ دراصل ایک نیک آدمی اور روحانی آدمی تھا۔ انہوں نے برصغیر میں اسلام کی تبلیغ کی۔ اس کی موت 1530a.h میں ہوئی۔ ان کی وفات کے بعد ، ان کے بیٹے ناصر الدین ہمایون نے سلطنت کی ذمہ داری قبول کی۔ وہ ایک روحانی شخص بھی تھا اور حکومت کی رسم و رواج میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا۔ انہوں نے اپنے دور حکومت میں بہت ساری عمارتیں بنائیں۔ صورتحال پر نگاہ ڈال کر آگرہ کے گورنری گورنر شاہ سوری نے ہمایوں کے خلاف سڑکیں نکالیں جب وہ کسی دوسرے ملک کے دورے پر تھے۔
    شیر شاہ سوری: شیر شاہ سوری افغانی تھے۔ اس نے ہندوستان پر صرف پانچ سال حکومت کی۔ حکمرانی کا ان کا مختصر وقفہ (1540 سے 1545) صدی کا سب سے جدید دور سمجھا جاتا ہے۔ سوری بہت ذہین اور موجودہ ذہن کا حکمران تھا۔ انہوں نے اپنی عوام کی فلاح و بہبود کے لئے بہت سے اقدامات کئے۔ اس نے تنکا کی بجائے روپیہ متعارف کرایا۔ اس نے مسافروں کے لئے بڑی تعداد میں رہائشیں تعمیر کیں ، جہاں کوئی بھی کھانا کھا سکتا ہے اور دن کے کسی بھی وقت آرام کرسکتا ہے۔ مزید یہ کہ اس نے گرینڈ چوری روڈ (جی ٹی روڈ) کے نام سے ایک بہت لمبی سڑک بنائی۔ یہ سڑک بنگال سے شروع ہوتی ہے اور کابل میں ختم ہوتی ہے۔ اس نے مسافروں کو اپنا وقت بچانے میں مدد فراہم کی۔ اس سے برصغیر میں تجارت کی شرح میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے قوم کے لئے اور بھی بہت کچھ کیا۔ انہوں نے ہندوستان میں پوسٹ سسٹم بھی متعارف کرایا۔ اس کی حکمرانی کے چھوٹے دورانیے کو سنہری حد کہا جاتا ہے۔ 1545 میں ان کی اچانک موت کے بعد ، ان کے بڑے بیٹے کو بادشاہ مقرر کیا گیا۔ وہ اس اہم ذمہ داری کے اہل نہیں تھا۔ اپنی غلط حکمت عملیوں کی وجہ سے ہمایوں کو واپس آنے کا راستہ ملا۔ اس نے سوری کی سلطنت پر حملہ کیا اور 1547 میں جنگ جیت لی۔ یہ وہ وقت تھا جب ہندوستان نے ایک بار پھر ترقی کرنا چھوڑ دی۔
    مغلوں کے ذریعہ اختراعات:
    دراصل ، بہت سے مغل حکمران صرف روحانی اور اسلامی کلاس ہی پڑھائے جاتے تھے۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ پوری دنیا میں کیا ہورہا ہے۔ مغل دانشور تھے۔ انہوں نے ادب کے لئے کام کیا۔ ان میں سے کچھ اچھے مصنف بھی تھے۔ انہوں نے شاعری پر اپنی کتابیں لکھیں۔ وہ اکثر شاعری کی جماعتیں کہتے تھے اور اچھے شاعروں کو بھی ان سے نوازا جاتا تھا۔ ظہورالدین بابر ، ہمایوں ، اورنگزیب عالمگیر اور بہادر شاہ ظفر مشہور مغل مصنفین ہیں۔ اورنگ زیب کے سوا سبھی حکمران موسیقی کے دلدادہ تھے۔ وہ ایسی موسیقی سنتے تھے جو روح کو چھوتی ہے۔ تان سنگھ اکبر کے زمانے کا مشہور موسیقار تھا۔ وہ مغل کے دور کے سب سے زیادہ ایوارڈ یافتہ موسیقار تھے۔ آج ہم سنتے ہیں کہ بہت سے راگ مغلوں نے متعارف کرائے تھے۔ راگ "سا رے گا” سب سے پہلے تن سنگھ نے گایا تھا۔ مزید یہ کہ مغلوں کے دور میں بڑی تعداد میں بے معنی عمارتیں سامنے آئیں۔ تاج مہل آگرہ ، لال قلعہ دہلی ، شاہی مسجد لاہور ، ہیران مینار اور بابری مسجد ان میں سے کچھ مشہور ہیں۔ مختصر یہ کہ اس بڑے دور میں کوئی سائنسی کام نہیں کیا گیا۔ ہندوستان روایتی زندگی گزار رہا تھا جبکہ پوری دنیا سائنسی لحاظ سے ترقی کر رہی تھی۔ مغلوں نے عیش و عشرت کی زندگی گزاری۔ ذرا تصور کریں کہ اتنی بڑی سرزمین کے بادشاہ کے پاس مہینوں شکار کرنے کے لئے وقت باقی رہتا ہے۔ یہ کتنا مضحکہ خیز ہے۔
    جب ہندوستان نے ترقی کرنا شروع کی:
    مغلوں نے تین صدیوں تک برصغیر پر حکمرانی کی۔ 1857 وہ سال تھا جب ہندوستان نے اس قسم کے بادشاہوں سے نجات حاصل کی جب برطانوی فوج نے ہندوستان پر حملہ کیا اور انہوں نے مغل سلطنت کا خاتمہ کیا۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ برطانوی فوج کو یہاں حملہ نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ہم نے انہیں صرف یہاں تجارت کی اجازت دی ہے۔ لیکن ، میری رائے انگریزوں کے حق میں ہے۔ کوئی شک نہیں کہ ان کی پالیسیاں مسلمانوں کے خلاف تھیں۔ انہوں نے ان پر تشدد کیا۔ ایک مسلمان کے لئے اچھی زندگی گزارنا مشکل تھا لیکن لوگوں کو مردہ نیند سے بیدار کرنے کی سخت ضرورت تھی۔
    دوسری طرف،برطانوی حکومت اپنے ساتھ بہت سی نئی چیزیں لے کر آئی۔ مثال کے طور پر ، انہوں نے ٹرین کے ذریعے سفر متعارف کرایا۔ انہوں نے موٹر کاریں ، فون کالز ، اسلحہ کی بہت ساری قسمیں اور بہت کچھ پیش کیا۔ انہوں نے فرٹلائجیشن میں نئی تکنیک بھی متعارف کروائی۔ انہوں نے یہاں فیکٹریاں لگائیں۔ وہ بہت ساری چیزیں لائے جو ہندوستان کے مقامی لوگوں کو نا معلوم تھے۔ آخر میں ، میں یہ کہوں کہ مغل سلطنت سائنسی دور کا تباہ کن دور تھا۔
    تحریر: محمد عثمان
    @Usm_says1

  • تحریر: مجاہد حسین ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں

    تحریر: مجاہد حسین ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں

    ہمارے معاشرے میں ہمیں طرح طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ ہزاروں قسم کی فطرتیں دیکھنے میں آتی ہے۔ بہت سے لوگوں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا یے۔ کبھی کبھی کوئی غیر ہمارے دلوں پر ایسا اثر اور نشان چھوڑ جاتا ہے جو کسی اپنے سے امید بھی نہیں کی جا سکتی۔
    کچھ ایسا ہی واقعہ آج ہمارے ساتھ پیش آیا۔
    آج سعودی عرب میں یوم العرفہ تھا۔ آج کو دن یہاں کے مقامی لوگوں کی اکثریت روزہ رکھتی ہے۔ یہاں بھی ہر طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ آپ نے اکثر سعودی پلٹ پاکستانیوں کے منہ سے کفیلوں کی برائیاں سن رکھی ہونگی۔ اور یقیناً ان میں سے اکثریت کے بارے میں ہماری رائے بھی ایسی ہی ہے۔ لیکن آج ہوئے واقعے نے ہمیں یہ سکھا دیا کہ "ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں”
    اللہ نے نفلی روزہ رکھنے کی توفیق دی، سارا دن گھر والوں سے باتوں میں، نماز اور ذکر اور سو کے گزر گیا۔ شام ہوئی تو دوست نے کہا کہ آج ریسٹورنٹ سے کھانا کھا کے آتے ہیں۔ رہائش کے پاس ہی ایک ترک ریسٹورنٹ ہے۔ اکثر جانا ہوتا ہے وہاں پر۔ افطار کمرے میں کر کے جب ہم ریسٹورنٹ پہنچے تو وہاں پہلے سے ایک باریش سعودی کھانا نوش فرما رہا تھا۔ میں نے رسماً انہں سلام کہا، انہوں نے میری طرف دیکھا مسکرا کر وعلیکم السلام کہا، میں نے اپنی ٹوٹی پھوٹی عربی میں انہیں عید کی ایڈوانس مبارک بھی دے ڈالی، یہ سب دیکھ کر وہ مسکرائے اور کھانا کھانے میں مصروف ہوگئے۔
    اتنی دیر میں ہمارا آرڈر بھی آ گیا اور ہم نے بھی کھانا شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد ویٹر پیپسی لے کے ہمارے پاس آیا اور بولا، "یہ ان صاحب نے آپ کو دینے کے لئے کہا ہے” ہم نے قبول کی اور ان کا شکریہ ادا کر کے کھانا کھانے لگ گئے۔ انہوں نے اپنا کھانا ختم کیا اور کاؤنٹر پہ حساب کتاب کر کے پیسے دے دئیے۔ جاتے وقت مسکراتے ہوئے ہمیں "عید مبارک” بھی کہہ گئے۔
    ہم نے کھانے سے فارغ ہو کے، ہاتھ دھو کے جب بل دینا چاہا تو معلوم ہوا کہ اللہ کا وہ نیک بندہ ہمارے پیسے بھی دے گیا ہے۔ ہم حیرت بھری نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے کہ ایسا کیوں کیا؟
    آخر ایسا کیا تھا جس نے اس شخص کو متاثر کیا؟
    ہوٹل میں اور بھی لوگ تو موجود تھے (کئی تو سعودی بھی تھے) تو ہمارا بل ہی کیوں؟
    کیا ریسٹورنٹ میں آتے ہی ہمارا اسے سلام کرنا، اس سے حال پوچھنا، عید کی مبارک دینا اسے پسند آیا؟
    اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ لیکن ایک بات تو ہے۔ اخلاق آپ کے بڑے سے بڑے دشمن کو بھی دوست بنا دیتا ہے۔ آپ کے قتل کے درپے لوگ آپ کے خادم بھی بن جایا کرتے ہیں یہ چیزیں ہمیں اللہ کے رسول ﷺ کی سیرت سے ملتی ہیں۔
    خیر، وجہ چاہے کچھ بھی ہو، جب آپ کسی سے اخلاق سے پیش آتے ہیں تو آپ کا ایک مثبت اثر اس کے دل میں اتر جاتا ہے۔ حضرت ابودردہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : "میزان میں حسن اخلاق سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہیں” ایک اور مقام پہ حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: بیشک مومن اپنے حسن اخلاق کی بدولت روزے رکھنے اور قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے” اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں حسن اخلاق سے نوازے۔ آمین
    @Being_Faani

  • 2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک انکشاف

    2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک انکشاف

    ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے گلیشیر تیزی سے پگھل رہے ہیں اور سمندروں کی آبی سطح میں بھی لگاتار اضافہ ہو رہا ہے لیکن اب ناسا نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ایک نیا اور خطرناک اندیشہ ظاہر کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں ایک خوفناک انکشاف کیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ چاند پر ہونے والی ہلچل کے باعث زمین پر بہت ہی خطرناک طوفانی سیلاب کا خطرہ ہے۔

    ناسا کے ذریعہ کی گئی تحقیق پر مبنی رپورٹ “نیچر” رسالہ میں گزشتہ ماہ شائع ہوئی تھی اس رپورٹ میں چاند پر ہونے والی ہلچل کی وجہ سے زمین پر آنے والے خطرناک سیلاب کو”نیوسنس فلڈ” کہا گیا ہے۔

    ناسا کا کہنا ہے کہ موسمی تبدیلی کے پیچھے ایک بڑی وجہ چاند بھی ہو سکتا ہے ناسا نے مستقبل قریب میں چاند کے اپنے ہی محور پر ڈگمگانے کا امکان ظاہر کیا ہے جس طرح سے ماحولیاتی تبدیلی میں تیزی آرہی ہے اور سمندر کی آبی سطح بڑھ رہی ہے، ایسے میں 2030 میں چاند اپنے محور پر ڈگمگا سکتا ہے۔ چاند کے اس طرح سے ڈگمگانے سے زمین پر تباہ کن سیلاب آسکتا ہے۔

    حالانکہ جب کبھی بھی زمین پر ہائی ٹائیڈ آتا ہے اس میں آنے والے سیلاب کو اسی نام سے جانا جاتا ہے لیکن ناسا کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ 2030تک زمین پر آنے والے نیوسنس فلڈ کی تعداد کافی بڑھ جائے گی پہلے ان کی تعداد بھلے ہی کم ہوگی، لیکن بعد میں اس میں تیزی آ جائے گی۔

    ناسا کی تحقیق کے مطابق چاند کی حالت میں آنے والی تھوڑی سی بھی تبدیلی زمین پر زبردست سیلاب کی وجہ بن سکتی ہے –

    ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن کے مطابق چاند کی کشش ثقل جو طوفان کی وجہ بنتی ہے، ایسی ماحولیاتی تبدیلی زمین پر آنے والے سیلاب کی بڑی وجہ ہوگی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ زمین پر آنے والا سیلاب چاند، زمین اور سورج کی حالت پر منحصر کرے گا کہ اس میں کتنی تبدیلی ہوتی ہے۔

  • بہترین ایام اور عید الاضحٰی کے اسباق         بقلم:جویریہ بتول

    بہترین ایام اور عید الاضحٰی کے اسباق بقلم:جویریہ بتول

    بہترین ایام اور عید الاضحٰی کے اسباق…!!!
    بقلم:جویریہ بتول

    ہمدردی،غمگساری،جذبۂ قربانی،خواہشات نفس پر قابو،محبوب چیزوں کو اللّٰہ تعالٰی کی رضا کی خاطر قربان کر دینے کا پیام لیئے وفاؤں،محبتوں اور چاہتوں سے مزین مسلمانوں کا یہ تہوار عید الاضحٰی قریب ہے۔

    خلیل اللّٰہ کی آزمائشوں اور اُن پر پورا اترنے کے انعامات اس تہوار سے خصوصی منسوب ہیں۔
    یہ موقع ہمارے اندر جذبۂ ہمدردی،اخوت،بھائی چارے،اور محبتوں کے فروغ کا ہے…
    کہ جب ایک معاشرے کا غریب اور کمزور طبقہ بھی براہِ راست مستفید ہوتا تو وہ چاہے قربانی کے جانور کی خریداری ہو،اس کے گوشت کی تقسیم ہو یا اس کی کھال ہو…جس پر معیشت کاایک بہترین پہیہ بھی چلتا ہے…
    بہترین مصنوعات تیار ہوتی ہیں۔
    یہ ایام ہمیں اپنے رب کی قربت،عبادت اور رضا کے قریب کرتے ہیں جب ہم بدنی،مالی اور عملی عبادات کے ذریعے اس کا تقوٰی تلاشتے ہیں۔
    یہاں سب سے بڑا جو پیغام ہمارا رب ہمیں دے رہا ہے وہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالٰی کو نہ تو ہمارا خون پہنچتا ہے اور نہ ہی گوشت…
    ہمارے روزے اس کی بڑائی میں اضافہ کرتے ہیں نہ ہماری دیگر عبادات اس پر احسان ہیں…
    لیکن یہ ہمارے تقوٰی کو جانچنے کا ٹیسٹ ٹائم ہے…
    اور وہ ہم سے ریا و دکھاوے کی بجائے تقوٰی اور عاجزی اور اپنی رضا میں جینا چاہتا ہے…
    ابراہیم علیہ السلام کی بہترین اور پسندیدہ ترین چیز ان کا بیٹا اسماعیل علیہ السلام تھا۔
    جسے وہ رب کے اشارہ پر قربان کر دینے کے لیئے وہ فورًا تیار ہو گئے اور امام الناس کہلائے…!!!
    یہ ہمارے لیئے ایک سبق ہے کہ اگر ہمیں اپنی ایک خواہش قربان کرنی پڑے تو ہم کتنے بہانے گھڑتے ہیں…؟
    آئیں،بائیں شائیں کرتے ہیں جو اس بات کی دلیل ہے کہ تقوٰی کی راہیں مضبوط ایمان کی متقاضی ہوتی ہیں…
    ہم میں سے ہر ایک کو کوئی چیز کوئی رشتہ،کوئی مال بے حد محبوب ہوتے ہیں لیکن ایمان یہ ہونا چاہیئے کہ اگر رب کی رضا کی خاطر مجھے یہ سب بھی قربان کر دینے پڑیں تو کچھ خسارا نہیں ہے:
    والذین امنو اشد حبا للہ…(البقرۃ)۔
    اور پھر رب بھی اپنی محبت میں شدت اختیار کرنے والوں کو بے وقعت اور بے مول نہیں چھوڑا کرتا۔
    وہ راضی ہو کر انہیں کردار کی اوجِ ثریا پر پہنچاتا ہے…
    اُن کا ذکرِ خیر پچھلوں میں باقی رکھتا ہے…
    وہ جن سے محبّت کرتا ہے جبریل امین کے زریعے سے فرشتوں اور اہل زمین میں منادی کرواتا ہے کہ پھر دنیا والے بھی اس سے محبّت کرنے لگتے ہیں…
    یہ بڑے نصیب کی بات ہے،ایں سعادت بزورِ بازو نیست…
    حج بیت اللہ اس بہترین ایام کا ایک زبردست اور اتحاد و مساوات کا بہترین سبق ہے…
    جب گورے کالے،پست قامت،طویل قامت،ادنٰی،اعلٰی اس کی بارگاہ میں فقیر بنے ایک ہی پکار پکارتے ہیں:
    لبیک اللھم لبیک،لبیک لا شریک لک…
    رب کی وحدانیت کا پر زور آوازہ جو چہار دانگِ عالم سنائی دیتا ہے اور اس کی قدرت و جلال کی ہیبت دل میں بٹھا دیتا ہے۔
    عید الاضحٰی کے اس موقع پر ایک پیغام جو ہم سب کے لیئے واضح ہے وہ آدابِ فرزندی بھی ہے…
    وہ وقت جب باپ اور بیٹے کے درمیان مکالمہ جاری تھا کہ میں تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں؟
    بیٹے کا جواب کردار کی کس قدر بلندی کا غماز ہے کہ ابا جان آپ وہ کر گزریئے جس کا حکم آپ کو آپ کے رب نے دیا ہے…!!!
    مجھے آپ ان شآ ءَ اللّٰہ صابروں میں سے پائیں گے…!!!
    آج کی اولادیں جو والدین کی اہمیت سے نابلد دکھائی دیتی ہیں اُن کی بات کی پرواہ نہیں کرتیں،
    اُن کے تجربات اور حقائق کی نظر کو جھٹلا کر پریشانیوں کو تخلیق کرتی ہیں، یہ موقع ان سب کے لیئے بھی ایک گہرا سبق ہے بقول اقبال رحمہ اللّٰہ:
    یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی…
    سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی…؟
    اگر اسماعیل علیہ السلام جیسے آدابِ فرزندی ہمارے معاشرے بھی میں پنپنے لگ جائیں تو یقینًا یہ زندگیاں عید کی سی صورت میں گزرنے لگیں…!!!
    پھر ہلالِ عید حقیقی معنوں میں خوشیوں کی بہار بن کر طلوع ہو،
    اور کرب سے لبریز اور امن و راحت کو ترستا کوئی کاسۂ خالی نہ ہو…
    خوشی کا یہ موقع تمام مسلمانوں کی زندگیوں میں خوشی کو بھر دے…عالمِ اسلام پر چھائی خزاؤں کے سائے چھٹ کر سدا بہاروں کے گلستان مہکیں…
    اپنا اور اپنوں کا اور ارد گرد کے رشتہ داروں،لوگوں کا خیال رکھیں…
    اللّٰہ تعالٰی تمام مسلمانوں کی من
    جملہ عبادات کو اپنی بارگاہ میں خالص اپنی رضا کے لیئے قبول فرما لے…اور ان بہترین ایام کے اسباق کو بقیہ ایام میں بھی رہ نما اور روشنی بنانے کی توفیق نصیب فرمائے…آمین…!!!
    ===============================

  • عمرہ زائرین کو 25 جولائی سے عمرے کی اجازت دی جائے گی        سعودی نائب وزیر حج

    عمرہ زائرین کو 25 جولائی سے عمرے کی اجازت دی جائے گی سعودی نائب وزیر حج

    سعودی نائب وزیر حج نے کہا ہے کہ حج کے بعد 25 جولائی سے عمرے کی اجازت دے دی جائے گی۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق نائب وزیر حج کا کہنا ہے کہ یومیہ 20 ہزار عمرہ زائرین کو اجازت نامے جاری کیے جائیں گے عمرہ زائرین کی تعداد میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا۔

    دوسری جانب سعودی عرب میں نماز کے اوقات میں بھی دکانیں اور کاروبار جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی سعودی ایوان ہائے صنعت و تجارت کے سربراہ عجلان بن عبدالعزیز العجلان کی جانب سے جاری ایک سرکلر میں کہا گیا کہ مملکت میں تمام تجارتی مراکز اور کاروباری سرگرمیوں کو اوقات نماز کے دوران کھلے رہنے کی اجازت دی جائے گی۔

    عجلان بن عبدالعزیز العجلان کا کہنا ہے کہ یہ خریداری کے تجربے، خریداروں اور گاہکوں کی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کی کوشش ہے اور یہ سرکلر سعودی ایوان ہائے صنعت و تجارت کے تمام ممبران کو بھیجا گیا ہے۔

    سعودی میڈیا کے مطابق ایوان ہائے صنعت و تجارت نے ہدایت جاری کی ہے کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر پرعمل درآمد، صارفین کو انتظار کی زحمت اور اژدحام سے بچانے کے لیے اوقات نماز کے دوران دکانیں کھلی رکھیں۔ تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں کسی توقف کے بغیر کرتے رہیں۔

  • 9 ذوالحج کے روزے کی فضیلت و برکات

    9 ذوالحج کے روزے کی فضیلت و برکات

    عشرۂ ذوالحجہ کے روزے مستحب ہیں ،خصوصاً احادیث میں 9 ذوالحج کے روزے کی غیر معمولی فضیلت بیان کی گئی ہے صحیح مسلم کے مطابق حضرت ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ہرماہ تین دن کے روزے رکھنا، ایک رمضان کے بعد دوسرے رمضان کے روزے رکھنا ،یہ تمام عمر کے روزے رکھنے کے مترادف ہے اور یومِ عرفہ کا روزہ رکھنے سے مجھے اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہ معاف فرمادے گا اور مجھے اُمید ہے کہ یومِ عاشورکا روزہ رکھنے سے اللہ تعالیٰ ایک سال پہلے کے گناہ معاف فرمادے گا-

    اُمّ المومنین حضرت عائشہ ؓبیان کرتی ہیں:’’بے شک رسول اللہ ﷺ عرفہ کے روزہ کو ہزار دن کے برابر شمار فرماتے تھے –

    صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’اللہ تعالیٰ یومِ عرفہ سے زیادہ کسی دن بندوں کو دوزخ سے آزاد نہیں کرتا ۔اللہ اپنے بندوں سے قریب ہوتاہے اور فرشتوں کے سامنے اپنے بندوں پر فخر کرتاہے اورفرماتاہے: یہ بندے کس ارادے سے آئے ہیں-

    ہر ملک کی چاند کی تاریخ کے اعتبار سے 9 ذوالحجہ :
    دنیا بھر میں طلوع اور غروب کے اوقات علاقوں کے اختلاف سے مختلف ہوتے ہیں ۔جس طرح نمازوں میں ہر ہرعلاقے کے اپنے اپنے مطلع کا اعتبار ہوتا ہے اورہر شخص اپنے علاقے کے حساب سے نماز پڑھتا ہے ،اِسی طرح دیگر عبادات کا حکم ہوگا ۔جس طرح پوری دنیا میں جمعہ ایک وقت میں نہیں ہوتا اور نہ ہی قدرت کے بنائے ہوئے نظامِ گردشِ لیل ونہار کی وجہ سے ایسا ہوسکتا ہے-

    اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے کسی کو بھی محروم نہیں فرماتا، جس کے لیے جہاں جہاں اُن کے اپنے وقت اور تاریخ کے مطابق وہ ساعت آئے گی، اُس وقت وہاں پر اللہ کے جو بندے مصروفِ دعا ہوں گے انہیں اللہ تعالیٰ کی عطا سے قبولیت نصیب ہو جائے گی۔

    اِسی طرح دنیا کے دیگر ممالک کے مسلمان "یومِ عرفہ” کا روزہ سعودی عرب کی تاریخ کے حساب سے رکھنے کے پابند نہیں ہیں، سعودی عرب کے مسلمان اس دن روزہ رکھیں جب ان کے یہاں 9 ذو الحجہ ہو، اور دوسرے ممالک کے مسلمان اس دن روزہ رکھیں جب ان کے یہاں 9 ذو الحجہ ہو کوئی چاہے تو 9ذوالحجہ کے ساتھ 7 اور 8 ذوالحجہ کے روزے بھی رکھ سکتا ہے،لیکن حج کرنے والے پر جو عرفات میں ہے ،اُسے عرفہ کے دن روزہ رکھنا مکروہ ہے ۔

    سُنن ابو داؤد میں ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں:’’ رسول اللہ ﷺ نے عرفہ کے دن عرفہ میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا-

    9 ذوالحجہ کو یومِ عرفہ کہنے کی وجوہات:
    علماء اکرام کے مطابق 9 ذوالحجہ کو ’یومِ عرفہ‘کہنے کی فقہاء نے 3 وجوہات بیان کی ہیں:

    ایک حضرت ابراہیم کو 8 ذوالحجہ کی رات خواب میں نظر آیا کہ وہ اپنے بیٹے کوذبح کر رہے ہیں، تو ان کو اس خواب کے اللہ تعالی کی طرف سے ہونے یا نہ ہونےمیں کچھ تردد ہوا، پھر9 ذوالحجہ کو دوبارہ یہی خواب نظرآیا تو ان کو یقین ہو گیا کہ یہ خواب اللہ تعالی کی طرف سےہی ہے، چوںکہ حضرت ابراہیم کویہ معرفت اور یقین 9 ذوالحجہ کو حاصل ہوا تھا، اسی وجہ سے 9 ذوالحجہ کو ’یومِ عرفہ‘ کہتے ہیں۔

    دوسرا یہ کہ 9 ذوالحجہ کو حضرت جبرائیل علیہ السلام نےحضرت ابراہیم علیہ السلام کوتمام "مناسکِ حج” سکھلائے تھے، مناسکِ حج کی معرفت کی مناسبت سے 9 ذوالحجہ کو ’یومِ عرفہ‘ کہتے ہیں۔

    تیسرا یہ کہ 9 ذوالحجہ کو حج کرنے والے حضرات چوںکہ میدانِ عرفات میں وقوف کے لیے جاتے ہیں،تو اس مناسبت سے 9 ذوالحجہ کو "یومِ عرفہ” بھی کہہ دیتے ہیں۔

    مذکورہ اقوال سے معلوم ہوا کہ تسمیہ کے اعتبار سے’یومِ عرفہ‘کوصرف وقوفِ عرفہ کے ساتھ خاص کرنا درست نہیں ہے، بلکہ یہ مختلف وجوہات کی بنا پر 9 ذوالحجہ کادوسرا نام ہے، لہٰذا یہ دن ہر ملک میں اپنی تاریخ کے اعتبار سے ہوگا،یعنی دیگر ممالک میں جس دن 9 ذوالحجہ ہوگی وہی دن ’یومِ عرفہ ‘کہلائے گا، خواہ اس دن سعودی عرب میں یومِ عرفہ نہ ہو –

    بعض احادیث میں روزے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے یوم عرفہ کے بجائے 9 ذی الحجہ کے الفاظ مذکور ہیں. مثلاً ابوداؤد ، نسائی ، احمد میں روایت کے مطابق بعض امہات المؤمنین بیان کرتی ہیں:

    "رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ذو الحجہ کے 9 دن اور عاشوراء کے روزے رکھا کرتے تھے.”یعنی یہ روزہ در اصل 9 ذو الحجہ کا ہے، کیوںکہ عشرہ ذو الحجہ کے ابتدائی 9 دنوں میں سے ہر روزے کی فضیلت احادیث میں مستقل طور پر آئی ہے-

  • ریاست مدینہ کی طرف سفر  تحریر:محمد نعیم شہزاد

    ریاست مدینہ کی طرف سفر تحریر:محمد نعیم شہزاد

    پیوستہ رہ شجر سے
    ریاست مدینہ کی طرف سفر

    تحریر: محمد نعیم شہزاد

    وطن عزیز پاکستان آزادی کا 74 واں سورج دیکھنے جا رہا ہے۔ ایشیاء صغیر کی سر زمین پر تاج برطانیہ کے آمرانہ تسلط کے بعد مسلمانوں پر ہندو اکثریت کے جابرانہ اقتدار کے بادل منڈلا رہے تھے کہ مسلم قیادت نے ایک الگ اسلامی مملکت کا مطالبہ کر دیا۔ حیرت ہوتی ہے ان خود ساختہ دانشوروں پر جو دو قومی نظریہ، نظریہ پاکستان کی مخالفت کرتے ہیں۔ اگر ہندو، مسلم ایک قوم بن سکتے تو اس تقسیم کی قطعاً ضرورت نہ پیش آتی مگر تقسیم کا فارمولا طے ہونا اور اس پر عملدرآمد اس بات کا عکاس ہے کہ ہندو مسلم اتحاد کی حقیقت دیوانے کے خواب سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ تقسیم ہند کے بعد میں پیش آنے والے حالات و واقعات تقسیم کے اس عمل کے درست ہونے پر شاہد ہیں۔ ان 74 برسوں میں ریاست پاکستان نے بہت سے نشیب و فراز کا سامنا کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت سے کلمہ لا الہ الا اللہ کے نام پر بننے والی یہ ریاست حاسدوں کے حسد اور شریروں کے شر کے باوجود قائم دائم ہے اور تاقیامت سلامت رہے گی۔ ان شاء اللہ

    سر دست میں آپ کو مدینہ ثانی کہلانے والی اس ریاست، پاکستان جسے اسلام کا قلعہ بھی قرار دیا جاتا ہے کے نظام حکومت میں آنے والی ایک بڑی تبدیلی کی بات کرنا چاہوں گا۔ یہ وہ تبدیلی ہے جو آ نہیں رہی بلکہ آ گئی ہے۔ اور یہ ایک بنیادی تبدیلی ہے جو کسی بھی معاشرے کی تعمیر میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
    تاریخ شاہد ہے کہ ریاست مدینہ میں جب ایک چوری کے مقدمہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مجرم خاتون کی سفارش کی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اقوام کی تباہی کا سبب ذکر فرما دیا۔

    "کمزور کو سزا دینا اور طاقتور کو چھوڑ دینا”۔

    یہ ہر دور کا المیہ رہا ہے کہ طاقتور اور مالدار طبقہ اپنی طاقت کے زور پر تمام طرح کے مواخذات سے بری الذمہ ٹھہرتا ہے اور سارا زور کمزور اور غریب عوام پر ہی نکلتا ہے۔ امیر شخص واضح ثبوت موجود ہونے کے باوجود بچ جاتا ہے اور غریب محض شک کی بنیاد پر دھر لیا جاتا ہے۔ اس پر مستزاد محکمانہ غفلتیں ہیں جن کی وجہ سے عوام انصاف سے یا تو محروم ہیں یا منتظر اور یہ انتظار ختم ہوتا نظر نہیں آتا۔ ایسے وقت میں پاکستان سیٹزن پورٹل کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ آپ کسی بھی محکمے کی طرف سے لیت و لعل کا شکار ہیں یا آپ کی شنوائی نہیں ہو رہی تو اپنی شکایت کے لیے اس پورٹل کی طرف رجوع کریں۔ شکایت درج کرنے کے 40 یوم سے پہلے پہلے آپ کا مسئلہ حل ہو جائے گا اور اگر شکایت پوری طرح رفع نہ یہہو تو اس کا اظہار تبصرہ کے کالم میں کریں یا دوبارہ شکایت درج کر دیں اور پہلے والی شکایت کا حوالہ بھی دے دیں ۔

    گزشتہ 9 ماہ کے عرصے میں میں سیٹیزن پورٹل سے تین بار مستفید ہوا ہوں اور وہ ثمرات پائے ہیں جو اس کے بغیر ناممکن تھے۔ جب ہمارا کوئی جائز کام رکا ہوا ہو اور اس کے پورے ہونے کی کوئی امید نظر نہ آتی ہو تو سیٹیزن پورٹل ہی ہماری آخری امید بن جاتا ہے اور آپ کو انصاف آپ کی دہلیز پر ہی مل جاتا ہے۔ ایسے میں وزیراعظم پاکستان کے لیے دل سے دعائیں نکلتی ہیں جنہوں نے اس نظام کا اجراء کیا۔ یہی وہ بنیادی تبدیلی ہے جو قوموں کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ میں اس سلسلے میں وزیراعظم پاکستان کو مبارک باد دینا چاہوں گا اور امید رکھوں گا کہ انصاف کی فراہمی کا یہ سلسلہ بدستور جاری رہے گا اور ہمارے پاک وطن کو ریاست مدینہ کے ماڈل پر ایک فلاحی ریاست بنا دے گا۔

    محمد نعیم شہزاد ایک فری لانس بلاگر اور کانٹینٹ رائٹر ہیں۔ ان کے موضوعات میں تعلیم، عمرانیات اور سیاسیات شامل ہیں۔ لکھاری کے بارے میں مزید جاننے کے لیے ان کا پرسنل اکاؤنٹ وزٹ کریں۔

  • عشرہ ذوالحج کے 10 دنوں میں نیک اعمال میں سب سے افضل عمل

    عشرہ ذوالحج کے 10 دنوں میں نیک اعمال میں سب سے افضل عمل

    ویسے تو ذوالحج کے پہلے شعرے میں ہر عمل کا ہی بیت زیادہ اجر و ثواب ہے تاہم ان نیک اعمال میں سے اللہ تعالیٰ کا ذکر سب سے افضل ہے ان دنوں میں بکثرت تہلیل‘ تکبیر اور تحمیدکرنی چاہیے۔ یید الاضحی کی تکبیرات ذوالحجہ کی ابتدا سے لیکر 13 ذوالحجہ کے آخر تک کہنا شرعی عمل ہے-

    اس بارے میں فرمان باری تعالی ہے:ترجمہ: تا کہ وہ اپنے فائدے کی چیزوں کا مشاہد ہ کریں، اور مقررہ دنوں میں اللہ کے نام کا ذکر کریں[الحج : 28
    ]یہاں ” مقررہ دن” سے مراد عشرہ ذو الحجہ ہے

    اور دوسری جگہ فرمان باری تعالی: ترجمہ: اور گنتی کے چند دنوں میں اللہ کا ذکر کرو [البقرة : 203]
    اور یہاں ” چند دن”سے مراد ایام تشریق ہیں۔

    اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ایام تشریق کھانے پینے، اور ذکر الہی کے دن ہیں،مسلم

    امام بخاری صحیح بخاری میں فرماتے ہیں کہ ابن عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما عشرہ ذوالحجہ میں بازار جا کر تکبیرات کہتے، تو لوگ بھی انکی تکبیروں کے ساتھ تکبیرات کہتے اور عمر بن خطاب، آپکے صاحبزادے، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما منی کے دنوں میں مسجد، اور خیمہ ہر جگہ بلند آواز سے تکبیرات کہتے، حتی کہ پورا منی تکبیروں سے گونج اٹھتا۔

    اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ متعدد صحابہ کرام سے مروی ہے کہ وہ عرفہ کے دن [9 ذوالحجہ]کی نماز فجر سے لیکر 13 ذوالحجہ کی عصر تک پانچوں نمازوں کے بعد تکبیرات کہتے تھے، یہ عمل ان لوگوں کیلئے ہے جو حج نہیں کر رہے، جبکہ حجاج کرام اپنے احرام کی حالت میں یوم النحر یعنی 10 ذوالحجہ کو بڑے جمرہ پر رمی کرنے تک تلبیہ کہتے رہیں گے اور اسکے بعد تکبیرات کہیں گے-

    چنانچہ یہ تکبیرات مذکورہ جمرہ کو پہلی کنکری مارنے سے شروع ہوں گی، اور اگر تلبیہ کیساتھ تکبیرات بھی کہتا رہے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ بخاری شریف میں ہے کہ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں عرفہ کے دن تلبیہ کہنے والے تلبیہ کہتے، اور انہیں کوئی نہیں ٹوکتا تھا، اور تکبیرات کہنے والے تکبیرات کہتے، انہیں بھی کوئی نہیں ٹوکتا تھا لیکن احرام والے شخص کیلئے افضل تلبیہ ہی ہے، جبکہ مذکورہ دنوں میں احرام کھلنے کے بعد تکبیرات افضل ہیں۔

    پانچ دنوں میں تکبیر مطلق اور تکبیر مقید اکٹھی ہوجاتی ہیں، اور یہ پانچ دن یوم عرفہ، یوم نحر، اور ایام تشریق کے تین دنیعنی: 9 ذوالحجہ سے 13 ذوالحجہ تک اور آٹھ ذو الحجہ اور اس سے پہلے والے ایام میں تکبیرات ابتدائے ذوالحجہ ہی سے مطلق ہیں مقید نہیں ہیں-

    مسند احمد میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی نیک عمل کسی دن میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اتنا محبوب اور معظم نہیں جتنا ان دس دنوں میں محبوب اور معظم ہے ، چنانچہ ان دنوں میں کثرت کیساتھ "لا الہ الا اللہ”، "اللہ اکبر”اور "الحمد للہ” کہا کرو-

    محمد بن علی نفل نمازوں کے بعد بھی تکبیر کہتے تھے جیسے تہجد ، اشراق ، چاشت کے پڑھے یا اس کے علاوہ اسی طرح عورتیں بھی تکبیرات پڑھتی تھیں –

    دوسرا کام 9 ذالحجہ کا روزہ ہے جس کی خاص فضیلت ہے اس سے گناہ معاف ہوتے ہیں اور اس دن کا روزہ ایک سال گزرے ہوئے اور ایک سال آنے والے دنوں کا کفارہ بنتا ہے اس کے علاوہ باقی دنوں کے رمضان کے چھوڑے روزوں کا بھی ان دنوں میں کفارہ ادا کر سکتے ہیں اجر کا اجر فرض کی ادائیگی بھی ہو جائیگی ان دنوں رمضان کے چھوڑے روزے رکھنے کا فائدہ یہ ہے کہ شوال میں الگ الگ رکھنے پڑھتے ہیں اس میں اکٹھے 8 رکھے جاسکتے ہیں-

    تیسرا سب سے افضل عمل قربانی ہے ہر شخص الگ الگ قربانی نہیں کر سکتا تو مل کر بھی اکٹھے ہو کر کی جا سکتی ہے-

    ان دنوں جہاں ایک طرف تسبیحات کی کثرت کرنی ہے تو دوسری طرف ان چیزوں سے ہرہیز کرنا ہے جن سے اعمال ضائع ہونے کا خدشہ ہو جھوٹ غیبت چغلی طعنہ ہنسی مذاق فضول میں لغو باتیں اپنے شر سے دوسروں کو محفوظ رکھنا اپنی زبان بے دوسروں کو تکلیف نہ پہنچانا بد گمانی تجسس ٹوہ نہیں لگانا آڑ نہیں دلانا نفرت و بغض نہیں کرنا ظلم نہ کرنا ہے نہ ہونے دینا ہے کسی کو بے عذت نہیں کرنا آڑ دلانا اور طعنہ دینے والی عادتوں کو چھوڑنا ہے غصہ نافذ کرنے کی طاقت رکھنے کے باوجود اسے چھوڑ دینا ہے –

    گالی گلوچ بدزبانی سے بچنا ہے رشتہ داروں سے قطع تعلقی نہیں کرنی ان کو منانا ہے ظالم رشتہ داروں کے ساتھ بھی مہربانی سے پیش آنا ہے ایمان کی تجدید کرنی ہے ہمسایوں کواپنے شر سے بچانا ہے صبر وتحمل اور درگز کرنا ہے اچھا اخلاق کرنا ہے اول وقت پر نماز کرنا ہے قیام لمبا کرنا ہے ہو سکے تو تہجد پڑھنا اور روزہ رکھنا ہے –

    علاوہ ازیں مالی صدقات میں اہل و عیال کی ضرویات پوری کرنا ہے ناراض رشتہ دار کو تحفہ دینا اپنے بہن بھائی دوستوں کی ضرورویات پوری کرنا پانی پلانا ایسا صدقہ دینا کہ خود کو محتاج نہ کرے کسی ناراض لوگوں کو آپس میں صلح کرانا کسی کو خوش کرنا کسی کی پریشانی دور کرنا پھر اپنے نفس اور خواہش کا جہاد کرنا کوگوں کو اپنی برائی سے محفوظ رکھنا شامل ہیں-