Baaghi TV

Category: اسلام

  • بھارت: سمندری طوفان تاؤتے سے کرناٹکا، کیرالہ، گوا اور مہاراشٹرا میں تباہی مچ گئی   12 افراد ہلاک

    بھارت: سمندری طوفان تاؤتے سے کرناٹکا، کیرالہ، گوا اور مہاراشٹرا میں تباہی مچ گئی 12 افراد ہلاک

    سمندری طوفان تاؤتے انڈیا کے شہر گجرات کی جانب بڑھنے لگا-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق تاؤتے سے بھارتی ریاست کرناٹکا، کیرالہ، گوا اور مہاراشٹرا میں تباہی مچ گئی جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک ہو گئے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق سمندری طوفان تاؤتے بھارتی ریاست گجرات کے ساحل کی جانب بڑھ رہا ہے، اور اس کے کل تک گجرات سے ٹکرائے جانے کا امکان ہے۔

    میڈیا ذرائع کے مطابق گجرات کے ساحل پر سمندری لہروں میں تیزی آچکی ہے علاوہ ازیں ریاست گجرات میں 4اعشاریہ 5 شدت کے زلزلے کے جھٹکے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

    دوسری جانب سمندری طوفان تاؤتےکے پاکستانی ساحل سے ٹکرانے کا خطرہ ٹل گیا ہے، مگر محکمہ موسمیات کی جانب سے سندھ کی ساحلی پٹی پر منگل تا جمعرات (18سے 20مئی) آندھی کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے –

    محمکہ موسمیات کے ڈائریکٹر سردارسرفراز کا کہنا تھا کہ سمندری طوفان کراچی سے دور نکلتا جارہا ہے اس لیے شہر میں بارش کا کوئی امکان نہیں البتہ تھرپارکر، میرپور خاص، بدین، ٹھٹھہ اور عمر کوٹ میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے جہاں تھرپارکر میں تیز بارش متوقع ہے جب کہ اس دوران 40 سے 60 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں بھی چل سکتی ہیں۔

  • محکمہ موسمیات نے سمندری طوفان تاؤتے سے متعلق چھٹا الرٹ جاری کر دیا

    محکمہ موسمیات نے سمندری طوفان تاؤتے سے متعلق چھٹا الرٹ جاری کر دیا

    محکمہ موسمیات کی جانب سے سمندری طوفان تاؤتے سے متعلق چھٹا الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق تاؤتے شدید ترین سمندری طوفان بن چکا ہے جبکہ 15 کلو میٹر کی رفتار سے طوفان کا رخ شمال مغرب کی جانب ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان کے مرکز میں ہواؤں کی رفتار 100 سے 120 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے-

    محکمہ موسمیات کا سمندری طوفان تاؤتے سے متعلق کہنا ہے کہ ٹراپیکل سائیکلون ٹریک میں تبدیلی پر سندھ کے بعض شہروں کے موسم میں تبدیلی کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ کے شہر ٹھٹہ، سجاول، میرپورخاص، سانگھڑ، بدین، عمرکوٹ میں 17 سے 19 مئی تک تیز ہوائیں 60 سے 80 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل سکتی ہیں۔

    محکمہ موسمیات نے بتایا کہ سندھ کے ساحلی شہروں میں گرد آلود ہوائیں، تو کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش کا بھی امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کی جانب سے پیش گوئی کی گئی ہے کہ کراچی، حیدر آباد اور شہید بے نظیر آباد کا موسم اگلے دو روز تک گرم سے شدید گرم رہے گا جبکہ کراچی میں تیز گرد آلود ہوائیں چل رہی ہیں۔

    محکمہ موسمیات کی جانب سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ ماہی گیر سمندر میں طغیانی کے باعث 19 مئی تک کھلے سمندر میں نہ جائیں۔

    دوسری جانب ترجمان فشر فوک فورم کے مطابق کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری کے ساحل پر سمندر کی لہروں میں شدت آگئی ہے۔

    ترجمان فشرفوک فورم کے مطابق سمندر میں ماہی گیری کے لیے گئی کشتیوں کو بھی واپس بلایا جا رہا ہے۔

    ترجمان فشرفوک فورم کا کہنا ہے کہ سائیکلون کے پیش نظر حکومت کے احکامات پر عمل درآمد شروع ہوگیا ہے۔

    واضح رہے کہ سمندری طوفان تاؤتے کل کے مقابلے میں کراچی سے مزید قریب ہو گیا ہے، تاؤتے کراچی کے جنوب مشرق میں 1 ہزار 210 کلو میٹر کی دوری پر ہے ڈائریکٹر محکمہ موسمیات نے بتایا ہے کہ طوفان شدت ضرور پکڑ رہا ہے، تاہم وہ پاکستان کی ساحلی پٹی سے دور ہو کر گزرے گا۔

    یاد رہے کہ چوتھے الرٹ میں محکمہ موسمیات نے بتایا تھا کہ سمندری طوفان کا رخ شمال اور شمال مغرب میں بھارتی گجرات کی جانب رہے گا،یہ طوفان 18 مئی تک بھارتی گجرات تک پہنچ جائے گا۔

    اس سمندری طوفان کے نتیجے میں بھارتی ریاست گجرات کے ساحلی علاقوں اور پاکستانی سمندر کے قریب مشرق کی جانب ساحلی علاقوں کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اگر یہ سمندری طوفان شدت پکڑ گیا تو یہ پچھلی دو دہائیوں کے دوران پاک بھارت ساحلی پٹی سے ٹکرانے والا طاقت ور ترین طوفان ہو گا تاہم ابھی تک کے اندازوں کے مطابق سمندری طوفان آبادی والے ساحلی علاقوں سے دور رہے گا لیکن مہاراشٹرا کا ساحلی شہر ممبئی اس سے متاثر ہو سکتا ہے۔

    سمندری طوفان تاؤتے کراچی سے مزید قریب محکمہ موسمیات نے کراچی والوں کو خبردار کر دیا

    کراچی والوں کے لیے خطرہ ہی خطرہ : محکمہ موسمیات نے سمندری طوفان سےمتعلق پانچواں الرٹ جاری کردیا

    سندھ میں ایمرجنسی نافذ:سمندری طوفان کے پیش نظر سینٹرل کنٹرول روم قائم، کراچی…

    وزیر اعلیٰ سندھ نے سمندری طوفان کے پیشِ نظر ایمرجنسی پلان ٹیم بنانے کے احکامات…

    بحیرہ عرب میں طوفان،وزیر اعلیٰ سندھ کی ایمرجنسی پلان بنانے کی ہدایت

    بحیرہ عرب میں ہوا کا کم دباﺅ طوفان ”تاوتے“ کی شکل اختیار کر گیا

  • سمندری طوفان تاؤتے کراچی سے مزید قریب محکمہ موسمیات نے کراچی والوں کو خبردار کر دیا

    سمندری طوفان تاؤتے کراچی سے مزید قریب محکمہ موسمیات نے کراچی والوں کو خبردار کر دیا

    سمندری طوفان تاؤتے کل کے مقابلے میں کراچی سے مزید قریب ہو گیا-

    باغی ٹی وی :محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر سردار سرفراز کے مطابق سمندری طوفان ’ٹاک ٹائی‘ کا رخ مزید شمال مغرب کی جانب ہو رہا ہے تاؤتے کراچی کے جنوب مشرق میں 1 ہزار 210 کلو میٹر کی دوری پر ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ طوفان شدت ضرور پکڑ رہا ہے، تاہم وہ پاکستان کی ساحلی پٹی سے دور ہو کر گزرے گا۔

    محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر کے مطابق دور ہونے کے باعث کراچی میں بارش کے امکانات کم ہو گئے، البتہ طوفان کی وجہ سے جنوب مشرقی سندھ میں بارش ہو سکتی ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں سمندری طوفان کے باعث گرد آلود تیز ہوائیں چل رہی ہیں کراچی میں 25 سے 30 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل سکتی ہیں، تاہم گرم ہواؤں کے باعث لو کی صورتِ حال رہے گی۔

    ڈائریکٹر محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ طوفان کے باعث کراچی کا موسم کبھی گرم اور کبھی شدید گرم رہے گا، جبکہ شہر گرد آلود ہواؤں کی لپیٹ میں رہے گا۔

    ان کے مطابق آئندہ 2 روز تک کراچی کا موسم گرم اور شدید گرم رہ سکتا ہے، جبکہ زیادہ سےزیادہ درجہ حرارت 42 سے 43 سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔

    ڈائریکٹر محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ طوفان کے مرکز میں 130 سے 150 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں۔

    واضح رہے کہ سمندری طوفان تاؤتے بھارتی ریاست گجرات کی جانب بڑھ رہا ہے، اس طوفان سے بھارت کی 6 ریاستیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے، طوفان سے متاثرہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر لوگوں کی نقل مکانی جاری ہے۔

    کراچی والوں کے لیے خطرہ ہی خطرہ : محکمہ موسمیات نے سمندری طوفان سےمتعلق پانچواں الرٹ جاری کردیا

    سندھ میں ایمرجنسی نافذ:سمندری طوفان کے پیش نظر سینٹرل کنٹرول روم قائم، کراچی…

    وزیر اعلیٰ سندھ نے سمندری طوفان کے پیشِ نظر ایمرجنسی پلان ٹیم بنانے کے احکامات…

    بحیرہ عرب میں طوفان،وزیر اعلیٰ سندھ کی ایمرجنسی پلان بنانے کی ہدایت

    بحیرہ عرب میں ہوا کا کم دباﺅ طوفان ”تاوتے“ کی شکل اختیار کر گیا

  • مقام ابراہیم کی جدید تکنیک کے ذریعے بنائی گئیں تصاویر پہلی مرتبہ منظر عام پر

    مقام ابراہیم کی جدید تکنیک کے ذریعے بنائی گئیں تصاویر پہلی مرتبہ منظر عام پر

    مکہ المکرمہ میں مسلمانوں کے مقدس ترین مقام مسجد الحرام میں پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے منسوب مقام ابراہیم کی نایاب تصاویر پہلی مرتبہ سامنے آئی ہیں۔

    باغی ٹی وی:بین الاقوامی میڈیا کے مطابق حرمین شریفین کے انتظامی امور کے نگران ادارے نے ان تصاویر کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جاری کیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے یہ تصاویر جدید ’فوکس سٹیک پینورما‘ نامی فوٹوگرافی تکنیک کے ذریعے بنائی گئیں ہیں۔


    مقام ابراہیم خانہ کعبہ سے 10 میٹر مشرق کی جانب صفا و مروہ کی سمت میں واقع ہے اور اس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پیروں کے نشان موجود ہیں۔

    ادارہ امور حرمین کے مطابق حضرت ابراہیم نے اس پتھر پر کھڑے ہو کر خانہ کعبہ کو تعمیر کیا تھا۔


    مقام ابراہیم کو محفوظ بنانے کی غرض سے بنائے گئے شیشے کے شوکیس میں رکھے ہوئے پتھرکے وسط میں حضرت ابراہیمؑ کے قدموں کے واضح نشانات موجود ہیں جن کی شکل بیضوی ہے، ان نشانوں کی اونچائی اور لمبائی 50 سینٹی میٹر کے قریب ہے۔



    یاد رہے حرمین شریفین کے انتظامی امور کی نگران عمومی صدارت نےچند روز قبل جنت کے مقدس پتھر ’’حجر اسود‘‘ کی اعلیٰ معیار کی تصاویر جاری کیں تھیں جن کی عکاسی میں جدید تکنیک استعمال کیے جانے کی وجہ سے حجر اسود کی انتہائی واضح تصویر پہلی مرتبہ دنیا کے سامنے آئی۔

    ان تصاویر کو انٹرنیٹ، ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر پسندیدگی کے اظہار کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہےان تصاویر کے سوشل میڈیا پر شیئر ہوتے ہی اکثر صارفین اس پتھر کی خوبصورتی کے حوالے سے تبصرے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اب میں حجر اسود اور مقام ابراہیم کو سپر ریزولوشن میں دیکھ سکتا ہوں۔

    ’جنت کے پتھر‘ کی جدید ترین تکنیک کے ذریعے بنائی گئی تصاویر پہلی مرتبہ منظر عام پر

  • سعودی حکومت کا رواں سال بھی غیرملکیوں کو حج کی اجازت نہ دینے پر غور

    سعودی حکومت کا رواں سال بھی غیرملکیوں کو حج کی اجازت نہ دینے پر غور

    مکہ المکرمہ: دنیا بھر میں کورونا کی تیسری لہر کے باعث سعودی حکومت نے اس سال بھی حج کو محدود کرنے پر غور شروع کردیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق کورونا کی تیسری لہر کے باعث سعودی حکومت نے اس سال بھی حج کو محدود کرنے پر غور شروع کردیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب مسلسل دوسرے سال بھی حج کے لیے غیرملکیوں کی آمد پر پابندی لگاسکتی ہے اور صرف مقامی مقیم افراد کی محدود تعداد کو فریضہ حج کی ادائیگی کی اجازت ہوگی۔ جن افراد کو اجازت ہوگی ان کےلیے کورونا ویکسی نیشن کروانا ضروری ہوگا یا اگر کبھی وہ کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہوں تو صحت یاب ہوئے کئی ماہ ہوچکے ہوں۔

    کورونا سے قبل ہر سال 25 لاکھ غیرملکی زائرین حج کے لیے سعودی عرب جاتے تھے، جن سے سعودی عرب کو سالانہ 12 ارب ڈالر کی خطیر آمدنی بھی ہوتی تھی۔

    سعودی عرب نے کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے گزشتہ سال بھی غیرملکی زائرین کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی اور محدود پیمانے پر حج کی اجازت دی تھی جس کے نتیجے میں مملکت میں مقیم صرف 10 ہزار زائرین نے حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی تھی جن کا انتخاب خودکار طریقے سے کیا گیا تھا جن میں سعودی شہری اور تارکین وطن دونوں شامل تھے۔ سعودی وزارت حج و عمرہ نے ویزہ فیس اور عمرہ پیکج کی رقم ادا کردینے والے زائرین کی رقم بھی واپس کردی تھی۔

    فروری میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری نے بھی کہا تھا کہ سعودی حکام نے فی الحال حاجیوں سے درخواستیں لینے سے منع کردیا ہے، شاید اس مرتبہ بھی معمول کے مطابق حج نہ ہوسکے اور سعودی حکام سے ابھی تک حج سے متعلق ایم او یو سائن نہیں ہوا.

  • ’جنت کے پتھر‘ کی جدید ترین تکنیک کے ذریعے بنائی گئی تصاویر پہلی مرتبہ منظر عام پر

    ’جنت کے پتھر‘ کی جدید ترین تکنیک کے ذریعے بنائی گئی تصاویر پہلی مرتبہ منظر عام پر

    خانہ کعبہ کے جنوب مشرقی حصے پر موجود مقدس پتھر حجراسود کی فوٹوگرافی کی جدید ترین تکنیک کے ذریعے بنائی گئی تصاویر پہلی مرتبہ منظر عام پر لائی گئی ہیں-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب میں موجود مسلمانوں کی دو مقدس مساجد مسجد النبوی اور مسجد الحرام کے امور کی نگرانی کرنے والے ادارے رئاسة شؤون الحرمين کے ٹوئٹر اور انسٹاگرام اکاؤنٹس سے ایسی تصاویر شیئر کی گئی ہیں جنھیں اب تک حجراسود کی انتہائی باریک بینی سے بنائی گئی تصاویر میں شمار کیا جا رہا ہے۔


    رئاسة شؤون الحرمين کے مطابق ’فوکس سٹیک پینورما‘ نامی فوٹوگرافی تکنیک کے ذریعے بنائی گئی ان تصاویر کی سات گھنٹے تک عکس بندی کی گئی اور ان تصاویر کو اکٹھا کرنے میں تقریباً 50 گھنٹوں کا وقت لگا ہے۔

    اس ٹیکنالوجی کے ذریعے مختلف تصاویر کو جوڑ کر ایک انتہائی مستند تصویر بنائی جاتی ہے جس کی کوالٹی بہترین ہوتی ہے اور اس کے ذریعے تصویر کی باریکیوں پر بھی بخوبی نظر ڈالی جا سکتی ہے۔


    اس تکنیک کے حوالے سے مزید معلومات فراہم کرتے ہوئے اس ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے بتایا گیا کہ یہ تصویر بنانے میں سات گھنٹے صرف ہوئے۔ اس دوران 1050 فاکس سٹاک پینوراما بنائے گئے اور بالآخر 50 گھنٹوں کی پراسیسنگ کے بعد جو تصویر سامنے آئی وہ 49 ہزار میگا پکسلز پر مشتمل تھی۔

    اس پتھر کی وضع انڈے جیسی ہے جس میں کالے اور سرخ رنگ کا خوبصورت امتزاج ہے۔ اس کا قطر تقریباً 30 سینٹی میٹر ہے اور یہ خانہ کعبہ کے جنوب مشرقی کونے پر دیوار کے ساتھ رکھا ہے۔


    ان تصاویر کے سوشل میڈیا پر شیئر ہوتے ہی اکثر صارفین اس پتھر کی خوبصورتی کے حوالے سے تبصرے کیے تو کسی نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اب میں حجر اسود کو سپر ریزولوشن میں دیکھ سکتا ہوں۔

    مسلمانوں کے لئے حجر اسود کی تاریخی اہمیت:

    مسلمانوں کے لیے حجر اسود کی تاریخی اہمیت ہے اور عمرے اور حج کی غرض سے خانہ کعبہ کا طواف کرنے والوں کے لیے اس پتھر کا چومنا لازمی ہے لیکن بھیڑ کی وجہ سے ہاتھ کے اشارے سے بھی چوما جا سکتا ہے۔


    زائرین حج اسے چومنے کے لیے ایسے اوقات کا انتخاب کرتے جب طواف میں بھیڑ کم ہو تاکہ ان کے حج کے ارکان پورے ہوں۔


    اس پتھر سے جڑی تاریخ دراصل مذہب اسلام سے بھی زیادہ قدیم ہے روایات کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام ساتھ مل کر خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے اور انھیں تعمیر مکمل کرنے کے لیے ایک پتھر کی ضرورت تھی تو اس وقت یہ پتھر جنت سے اتارا گیا تھا –


    پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبوت دینے جانے سے قبل خانہ کعبہ کی مرمت کے وقت حجر اسود کو اس کی جگہ پر رکھنے کے لیے قبائل میں اختلاف ہو گیا تھا اور سب چاہتے تھے کہ یہ شرف انھیں حاصل ہو، چنانچہ یہ فیصلہ کیا گیا کہ کل جو پہلا شخص خانہ کعبہ کی جانب آئے گا وہی فیصلہ کرے گا-


    اس دن سب سے پہلے وہاں تشریف لانے والی شخصیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تھی اور انھوں نے اپنے ہاتھ سے پتھر اٹھا کر اپنی چادر پر رکھی اور تمام قبائل سے کہا کہ وہ چادر کے کونوں کو پکڑ کر اسے اپنے ہاتھوں مبارک سے مطلوبہ جگہ پر رکھ دیا اور تمام قبائل اس فیصلے سے خوش ہو گئے –

  • ملک بھر میں آج مسلمان اعتکاف کریں گے ، این سی اوسی کی جانب سے گائیڈ لائن جاری

    ملک بھر میں آج مسلمان اعتکاف کریں گے ، این سی اوسی کی جانب سے گائیڈ لائن جاری

    اعتکاف عربی زبان کا لفظ ہے جس کا لغوی معنی ’’خود کو روک لینا، بند کر لینا، کسی کی طرف اس قدر توجہ کرنا کہ چہرہ بھی اُس سے نہ ہٹے‘‘ وغیرہ کے ہیں۔

    جبکہ اصطلاح شرع میں اس سے مراد ہے انسان کا علائقِ دنیا سے کٹ کر خاص مدت کے لئے عبادت کی نیت سے مسجد میں اس لئے ٹھہرنا تاکہ خلوت گزیں ہو کر اﷲ کے ساتھ اپنے تعلقِ بندگی کی تجدید کر سکے۔

    پچھلی قوموں میں بھی اعتکاف کی عبادت موجود تھی، قرآن میں اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے : ترجمہ، اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم و اسماعیل کو کہ میرآ گھر خوب ستھرا کرو طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لیے۔

    حدیث کی روشنی میں:
    نبی آخر الزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا۔ پھر آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات (بیویاں) اعتکاف کرتی رہیں۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

    اللہ تعالٰیٰ کی قربت و رضا کے حصول کے لیے گزشتہ امتوں نے ایسی ریاضتیں لازم کر لی تھیں، جو اللہ نے ان پر فرض نہیں کی تھیں۔ قرآن حکیم نے ان عبادت گزار گروہوں کو ’’رہبان اور احبار‘‘ سے موسوم کیا ہے۔ تاجدار کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تقرب الی اللہ کے لیے رہبانیت کو ترک کر کے اپنی اُمت کے لیے اعلیٰ ترین اور آسان ترین طریقہ عطا فرمایا، جو ظاہری خلوت کی بجائے باطنی خلوت کے تصور پر مبنی ہے۔ یعنی اللہ کو پانے کے لیے دنیا کو چھوڑنے کی ضرورت نہیں بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے دنیا کی محبت کو دل سے نکال دینا اصل کمال ہے۔

    شرائط اعتکاف:

    1: مردوں کا اعتکاف مسجد میں ہی ہو گا۔

    علماء کے مطابق اعتکاف جماعت والی مسجد میں ہی درست ہے یعنی ایسی مسجد جہاں لوگ باجماعت نماز کی ادائیگی کے لیے اکٹھے ہوتے ہوں۔ شمنی نے کہا : جماعت والی مسجد اعتکاف کے لیے شرط ہے اور اس سے مراد ایسی مسجد ہے جہاں مؤذن اور امام مقرر ہو اور اس میں پانچ وقت کی نمازیں یا کچھ نمازیں جماعت کے ساتھ پڑھی جاتی ہوں۔ اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے : اعتکاف صرف ایسی جامع مسجد میں درست ہے جہاں پانچوں وقت کی نمازیں جماعت کے ساتھ ادا کی جاتی ہوں اور یہی امام احمد کا قول ہے۔ علامہ ابن ہمام نے کہا : اس کو بعض مشائخ نے صحیح قرار دیا ہے۔ قاضی خان نے کہا : اور ایک روایت میں ہے کہ اعتکاف جامع مسجد میں ہی درست ہے اور یہی حدیث کا ظاہری معنی ہے۔ اور امام ابو یوسف اور امام محمد سے مروی ہے کہ اعتکاف کسی بھی مسجد میں جائز ہے اور یہی امام مالک اور امام شافعی کا بھی قول ہے-

    2: سنت یہ ہے کہ 19 رمضان کو غروب آفتاب سے پہلے پہلے مسجد میں معتکف پہنچ جائے۔

    ایام اعتکاف:
    رمضان کے آخری دس دن کا اعتکاف حضرت عبد اﷲ بن عمر سے روایت ہے : محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کے آخری عشرے(دس دن) کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے-

    رمضان کے آخری بیس دن کا اعتکاف : حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر سال رمضان المبارک میں دس دن اعتکاف فرماتے تھے۔ لیکن جس سال آپ کا وصال ہوا اس سال آپ نے بیس دن اعتکاف فرمایا-

    اس طرح رمضان المبارک کے آخری عشرے میں مساجد میں اعتکاف کا اہتمام کیا جاتا ہے ساتھ ہی 21 رمضان المبارک کو یوم حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی منایا جاتا ہے تاہم رواں سال محکمہ اوقاف پنجاب نے پابندی عائد کردی ہے۔

    کورونا کے پیش نظر محکمہ اوقاف پنجاب کے زیرانتظام مساجد میں اعتکاف پر پابندی عائد کردی گئی ہے محکمہ اوقاف کی جانب سے پابندی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

    دوسری جانب نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر(این سی او سی) نے یوم علی رضی ﷲ تعالی عنہ، اعتکاف، شب قدر کی مناسبت سے طاق راتوں میں اجتماعات اور جمعتہ الوداع کے لئے گائیڈ لائنز جاری کر دیں ہیں-

    این سی او سی کی جانب سے عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ مساجد میں شب قدر کی مناسبت سے طاق راتوں میں ہونے والے اجتماعات میں بچے اور 50 سال سے زیادہ عمر کے افراد نہ آئیں ۔

    این سی او سی کی ہدایت کے مطابق یوم علی کرم ﷲ وجہہ پر ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایاجائے، یوم علی کرم ﷲ وجہہ پر کورونا علامات والے افراد کو مجالس میں شرکت کی اجازت نہ دی جائے، یوم علی کی مناسبت سے مجالس آن لائن ہوں یا پھر آؤٹ ڈور منعقد کی جائیں، علما اور ذاکرین کو کورونا منفی رپورٹ ہونے پر ہی خطاب کی اجازت دی جائے-

    گائیڈ لائنز میں کہا گیا ہے کہ کورونا علامات والے افراد مسجد کے بجائے گھر میں ہی اعتکاف کریں، معتکفین مسجد میں بستر سمیت دیگر سامان گھر سےلائیں اور مشترکہ سحر و افطار سے گریز کریں-

    گائیڈ لائنز کے مطابق جمعتہ الوداع کے لئے نمازی جائے نماز ساتھ لائیں اور وضو گھر سے کرکے آئیں، جمعتہ الوداع کے اجتماعات میں نمازیوں کے آنے اور جانے کا الگ راستہ رکھا جائے، داخلی راستے پر تھرمل اسکیننگ اور سینیٹائزر کا بندوبست یقینی بنایا جائے، صفوں کے درمیان فاصلہ رکھا جائے وضوخانوں میں بھیڑ نہ لگائی جائے، مساجد میں شب قدر کی مناسبت سے طاق راتوں میں ہونے والے اجتماعات میں بچے اور 50 سال سے زیادہ عمر کے افراد نہ آئیں۔

  • اہرام مصر سے بھی پرانی سعودی عرب میں دریافت ہونی والی پتھر کی تعمیرات

    اہرام مصر سے بھی پرانی سعودی عرب میں دریافت ہونی والی پتھر کی تعمیرات

    شمال مغربی سعودی عرب میں دریافت ہونی والی پتھر کی تعمیرات جنہیں ’مستطیل‘ کہا جاتا ہے تعمیرات پر تحقیق کرنے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ مصر کے اہرام سے بھی پہلے کی ہیں-

    باغی ٹی وی : اس حوالے سے سعودی عرب کے وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ پتھر کے زمانے کے آخری دور میں ہوئی یہ دیوقامت تعمیرات 7000 سال سے زیادہ پرانی ہیں۔


    عرب نیوز کے مطابق آثار قدیمہ کی اس دریافت سے انکشاف ہوا ہے کہ یہ مستطیلیں دنیاکی قدیم ترین یادگاروں میں شامل ہیں۔


    رائل کمیشن فار العلا (آر سی یو) نے اس دریافت کو ‘مستطیل’ کا نام دیا ہے اگرچہ ان مستطیلوں کے وجود کے بارے میں سب کو پہلے سے علم ہے تاہم نئی تحقیق کے دوران ان کی پہلے سے دگنی تعداد میں دریافت ہوئی ہے یہ تقریباً ایک ہزار کے قریب ہیں۔


    ہر مستطیل کے آخر میں ایک دیوار ہے جو دیگر طویل دیواروں سے جڑی ہوئی ہے اس سے ان دیوقامت مستطیلوں کے صحنوں کے سلسلے وجود میں آ جاتے ہیں جن کی لمبائی20 میٹر سے لے چھ سو میٹر تک ہے۔


    ہر مستطیل کے مرکزی داخلی راستے کے باہراس کی بنیاد میں گول یا نیم گول سیل بنائے گئے ہیں تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ان مستطیلوں نے تقریباً دو لاکھ مربع کلومیٹر کا علاقہ گھیر رکھا ہے یہ مستطیلیں ایک جیسی دکھائی دیتی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا تعلق ایک ہی زمانے سے ہے۔


    اس دریافت پر ہونے والی تحقیق یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کے اس پراجیکٹ کا حصہ ہے جو وہ العلا اور خیبر کے صوبوں میں کر رہی ہے یہ منصوبہ آر سی یو کے آثار قدیم پروگرام میں شامل ہے۔


    پرتھ میں یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا میں ماہر آثار قدیمہ اور تحقیق کی شریک مصنفہ میلیسا کینیڈی نے این بی سی ٹیلی ویژن کو بتایا ہے کہ’ہم انہیں یاد گاری لینڈ سکیپ خیال کرتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ تقریباً دو لاکھ مربع کلو میٹر سے زیادہ بڑے علاقے میں پائی گئی ہیں اور یہ شکل میں بالکل ایک جیسی ہیں۔ اس لیے شاید ان کے حوالے سے عقیدہ یا فہم بھی ایک جیسے ہیں۔

  • دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت

    دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت

    پولینڈ کے سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے 2 ہزار سال قدیم ممی کے اسکین کے بعد دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت کی ہے یہ اپنی طرز کی واحد دریافت ہے-

    باغی ٹی وی : جمعرات کو جرنل آف آرکیالوجیکل سائنس میں چھپنے والی ایک مضمون کے مطابق یہ دریافت وارسا ممی پراجیکٹ کے محققین نے کی ہے۔

    2015 میں شروع ہونے والے پراجیکٹ میں وارسا کے نیشنل میوزیم میں رکھے گئے نوادرات کی جانچ پڑتال کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہےپہلے خیال تھا کہ یہ کسی مرد پجاری کی ممی ہے جو پہلی صدی قبل از مسیح یا پہلی صدی عیسوی کے درمیان زندہ تھے لیکن سکین سے پتہ چلا کہ یہ کسی عورت کی ممی ہے جو حمل کے آخری مراحل میں تھی۔

    اس منصوبے کے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کسی ایسی خاتون کی باقیات ہیں جو 20 اور 30 سال کی عمر کے پیٹے میں تھی اور اس کا تعلق کسی اونچے خاندان سے تھا، جو پہلی صدی قبل مسیح کے دوران وفات پا گئی تھی۔

    جرنل میں چھپنے والے مضمون میں انہوں نے اپنی دریافت کا اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ پیش ہے ایک حنوط شدہ حاملہ عورت کی ممی کی پہلی مثال اور اس طرح کے جنین کی پہلی ریڈیولوجیکل تصاویر۔

    جنین کے سر کے گھیرے سے انھوں اندازہ لگایا کہ جب ماں کی موت نامعلوم وجوہات کی بنا پر ہوئی تو اس وقت اس کی عمر 26 اور 30 ​​ہفتوں کے درمیان ہو گی۔

    منصوبے میں شامل پولینڈ اکیڈمی کے سائنسدان ووجیچ ایجسمنڈ نے کہا کہ ‘ہم نہیں جانتے کہ ماں کے پیٹ سے ممی بنائے جانے کے وقت ان بچوں کو کیوں نہیں نکالا گیا’، انہوں نے مزید کہا کہ ‘اسی لیے یہ ممی منفرد نوعیت کی ہے، ہم نے اس سے پہلے اس طرح کے کیسز نہیں دیکھے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری دریافت دنیا کی پہلی حاملہ ممی ہے۔

    سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ اسے کیوں نہیں نکالا گیا اور الگ کیا گیا، لیکن ان کا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس کا تعلق بعد کی زندگی یا اسے نکالنے میں مشکلات سے ہو۔

    وزیرک سزیلک نے اندازہ لگایا ہے کہ شاید حمل ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہو یا پھر اس کا تعلق اس وقت کے دوبارہ جنم لینے کے عقائد سے متعلق ہوسکتا ہے۔

    سائنسدانوں کو اب یقین ہے کہ یہ اس سے بھی قدیم زمانے سے تعلق رکھتی ہے اور وہ اب اس کی ہلاکت کی وجوہات تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ممی کھولی نہیں گئی ہے تاہم اسکین میں عورت کے لمبے گھنگریالے بال اس کے کندھے پر دیکھے جاسکتے ہیں۔

    اشاعت کے مطابق یہ محفوظ کی گئی حاملہ خاتون کی دریافت کا پہلا کیس ہے، اس کے ذریعے قدیم وقتوں میں حمل اور زچگی سے متعلق نئے ممکنات پر تحقیق کے موقع ملیں گے-

    فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق یونیورسٹی آف وارسا کی ماہر بشریات (anthropologist) اور ماہر آثار قدیمہ (archaeologist) مرزینہ اوزیرک سزیلک نے صحافیوں کو بتایا کہ ‘میرے شوہر اسٹینسلا، ایک ماہر مصری آثار قدیمہ، اور میں نے ممی کا ایکسرے دیکھا جس میں مردہ حاملہ عورت (ممی) کے پیٹ میں تین بچوں کے آثار دیکھائی دیئے-

    انھوں نے بتایا کہ ٹیم امید کرتی ہے کہ اب وہ ممی کے جسم میں سے کچھ ٹشو حاصل کر کے حنوط شدہ خاتون کی موت کی وجہ کا بھی تعین کرے گی۔

    محققین کے مطابق ممی بہت اچھی حالت میں محفوظ‘ ہے لیکن اس کی گردن کے گرد کپڑے کو پہنچنے والے نقصان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسا کسی وقت قیمتی سامان ڈھونڈنے والوں نے کیا تھا۔

    ماہرین کہتے ہیں کہ کم از کم 15 اشیا جن میں ممی کی طرح کے تعویذ کا ایک ’مہنگا سیٹ‘ بھی شامل ہے، ممی کے اندر لپٹا ہوا برآمد ہوا ہے۔

    مذکورہ ممی کو 19ویں صدی میں پولینڈ منتقل کیا گیا تھا اور اسے وارسا یونیورسٹی کے نوادرات کے کلیکشن کا حصہ بنایا گیا تھا اس ممی کو 1917 میں نیشنل میوزیم میں رکھا گیا جسے علامتی تابوت کے ساتھ عوام کے دیکھنے کے لیے پیش کیا گیا۔

  • مصنوعی ذہانت سے قدیم ترین پُراسرار تحریر کا راز انکشاف ،قدیم دنیا کو سمجھنے کا ایک نیا موقع ہے  محققین

    مصنوعی ذہانت سے قدیم ترین پُراسرار تحریر کا راز انکشاف ،قدیم دنیا کو سمجھنے کا ایک نیا موقع ہے محققین

    محقیقن نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے ذریعےبحیرہ مردار کے قریب غاروں سے سکرولزکی صورت میں برآمد ہونے والی پراسرار قدیم دستاویزات کا راز جان لیا ہے –

    باغی ٹی وی : غیر ملکی ویب سائٹ بی بی سی اردو کے مطابق محققین نے ان قدیم طوماروں کے مخطوطات میں سے ‘عظیم كتاب أشعيا’ کہلانے والی دستاویز پر تجربات کیے تھے جن سے پتہ چلا کہ شاید دو نامعلوم افراد نے قدیم زمانے میں اُس وقت کی زبان میں ہاتھ سے لکھے گئے الفاظ کی ہُو بہُو نقل تیار کی تھی۔

    ان قدیم مخطوطات جو کے طومار کی صورت میں یعنی گول لپٹے ہوئے کاغذات کی صورت میں غاروں میں ملے تھے، کہا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک انجیل کے عہد نامہِ قدیم کا ایک نُسخہ ہے 70 برس پہلے برآمد ہونے والے یہ مخطوطات آج کے لوگوں کے لیے باعثِ حیرت ہیں اور ابھی تک راز ہی بنے ہوئے ہیں-

    ان قدیم مخطوطات کا ایک حصہ بحیرہِ مردار کے قریب قمران نامی پہاڑ کے ایک غار سے مقامی بدوؤں کو ملا تھا اب غرب اردن کے یہ پہاڑ اسرائیل کے قبضے میں ہیں۔

    ان میں زیادہ تر ایسے مسودے ہیں جو عبرانی، آرامی اور یونانی زبان میں لکھے ہوئے ہیں، اور ان کے بارے میں خیال ہے کہ ان کا تیسری صدی قبل مسیح کے دور سے تعلق بنتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق كتاب أشعيا ان 950 مختلف مخطوطات میں سے ایک ہے جو ان غاروں سے سنہ چالیس اور سنہ پچاس کی دہائیوں میں ملے تھے۔ یہ مخطوطہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس کے 54 کالم نصف حالت میں تقسیم کیے گئے ہیں اور یہ ایک ہی انداز سے لکھے گئے ہیں۔

    ہالینڈ میں یونیورسٹی آف گرونینجن کے محققین نے كتاب أشعيا کے جائزے کے لیے مصنوعی ذہانت اس وقت سب سے زیادہ جدید اور نمونوں کو سمجھنے کے طریقے کا استعمال کیا۔ انھوں نے عبرانی زبان کے ایک حرف ‘الف’ کا تجزیہ کیا جو کہ اس کتاب میں 5000 مرتبہ درج تھا۔


    فوٹو بشکریہ بی بی سی اردو

    محققین ملادن پوپووچ، معرو ف ضالع اور لمبرٹ شومیکر اپنے ایک تحقیقی مقالے میں لکھا کہ وہ اس قدیم روشنائی کے نشانات کو سمجھنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو ڈیجیٹل امیجز پر ظاہر ہوئے تھے۔

    ان محققین کے مطابق قدیم روشنائی کے نشانات کسی بھی شخص کے بازو اور ہاتھوں کے پٹھوں کی حرکات و سکنات کو ظاہر کرتے ہیں اور یہ ہر فرد کے اپنے انداز کی مخصوص ہوتی ہیں انھوں نے اس بات کو سمجھنے کے لیے کہ آیا ایک مخطوطے کے لکھنے میں ایک سے زیادہ افراد شامل تھے اس طریقے کا استعمال کیا۔

    محققین کے مطابق زیادہ امکان ہے کہ دو کاتبین مل جل کر کام کرتے رہے تا کہ وہ ایک جیسا طرز تحریر برقرار رکھ سکیں لیکن ساتھ ساتھ اپنی منفرد خصوصیت کو بھی ظاہر کر سکیں۔

    محققین کے مطابق کتابت میں یکسانیت یہ ظاہر کرتی ہے کہ کاتبین کو کسی ایک مدرسے یا ایک خاندان میں ایک جیسی تربیت دی گئی ہو، مثال کے طور پر دونوں کو ان کے والد نے لکھنے کی تربیت دی ہو کاتبوں کی ایک دوسرے کی نقل کرنے کی صلاحیت اتنی بہترین تھی کہ اب تک کے کئی ماہرین ان دو کاتبوں کے درمیان کوئی فرق نہیں سمجھ سکے تھے-

    معروف ضالع نے اس تحقیق کا پہلا تجزیاتی ٹیسٹ کیا ٹیکسٹوریل اور ایلوگرافک خصوصیات کے ان کے تجزیہ سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ عظیم كتاب أشعيا کے طومار میں متن کے 54 کالم دو مختلف گروہوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں جنہیں تُکّے سے تقسیم نہیں کیا گیا تھا، بلکہ ان کے کلسٹرڈ منظم انداز میں بنے ہوئے تھے۔

    اس تبصرہ کے ساتھ کہ اس طومار کے ایک سے زیادہ کاتب ہو سکتے ہیں، ضالع نے ان اعداد و شمار کو اپنے ساتھی محقق شومیکر کے حوالے کیا، جنھوں نے اب حروف کے ٹکڑوں کے نمونوں کا استعمال کرتے ہوئے کالموں کے مابین مماثلتوں کا جائزہ لیااس دوسرے تجزیاتی مرحلے نے دو مختلف کاتبوں کے ہونے کی تصدیق کردی-

    عظیم کتاب اشعیا کا یہ تجزیہ اور اس مخطوطے کی کتابت میں دوسرے کاتب کی شناخت کرنے میں کامیابی اب یہ قمران سے ملنے والے دوسرے قدیم مخطوطوں کا تجزیہ کرنے کے بھی نئے امکانات کھولتی ہے۔

    اب محققین دونوں کاتبوں کے لکھے ہوئے طومار کی تحریروں کے مائکرو لیول تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور احتیاط سے مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ انھوں نے ان مخطوطات پر کس طرح کام کیا۔

    پوپووچ کے مطابق یہ بہت دلچسپ بات ہے کیونکہ اس سے قدیم دنیا کو سمجھنے کا ایک نیا موقع بنتا ہے جو ماہرین اور محققین کے مابین ان کاتبوں کے درمیان بہت زیادہ پیچیدہ روابط کا انکشاف کر سکتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس مطالعے میں ہمیں ایک بہت ہی ایک جیسے طرز تحریر کے شواہد ملے ہیں جو عظیم اشعیا کے اسکرول کے مشترکہ دو کاتبوں کی ایک جیسی تربیت یا اصلیت کا پتہ دیتے ہیں ہمارا اگلا مرحلہ دیگر طومار کی تحقیقات کرنا ہے، جہاں ہمیں ان کے مختلف کاتبوں کی ابتدا یا تربیت کے بارے میں معلومات مل سکتی ہیں۔

    اس طرح سے ہمیں ان معاشروں کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہو سکیں گی جنھوں نے بحیرہ مردار کے طومار تیار کیے تھے اب ہم مختلف لکھنے والوں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم ان کے نام کبھی نہیں جان پائیں گے لیکن 70 سال کے مطالعے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بالآخر ہم ان کی لکھاوٹ کے ذریعہ ان سے مصافحہ کر لیں گے۔