Baaghi TV

Category: اسلام

  • توبو الی اللّٰــــہ توبۃ نصوحا       بقلم:جویریہ بتول

    توبو الی اللّٰــــہ توبۃ نصوحا بقلم:جویریہ بتول

    توبو الی اللّٰــــہ توبۃ نصوحا…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول).

    ہم گزشتہ سال سے ایک اضطراب،وہم اور پریشانی کی کیفیت میں مبتلا ہیں…
    کورونا وائرس کی وبا نے اپنے شکنجے میں کس کر ہر اعتبار سے ہمیں مفلسی کی طرف دھکیلا ہے…وہ تعلیمی اداروں کے بے ترتیب شیڈول ہوں یا کاروبارِ زندگی کے دیگر مرحلے…خوشی و غمی کے مواقع متاثر ہو کر رہ گئے…غریب و دیہاڑی دار طبقہ کام نہ ملنے کی وجہ سے پریشان دکھائی دینے لگا…بڑے کاروباروں کو بھی دھچکا لگا…
    ہم عبادت گاہوں سے بھی دُور ہوئے…
    لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس دوران ہم نے اپنا محاسبہ کرنے کی کوشش کی…تنہائی کے یہ لمحات ہمیں اپنے دریدہ دامن رفو کرنے پر آمادہ کر پائے یا نہیں…
    ہر اعتبار سے گناہوں کی آلودگی سے متاثر ہوتے ہوئے ہم ندامت و توبہ کے چند آنسوؤں سے تر چہرے کے ساتھ سچے دل سے بارگاہ الٰہی میں جھک گئے؟
    ہم نے اپنے تمام معاملات درست کرنے کی نیت کر لی ؟
    کیا بے یقینی اور خوف کی اس کیفیت میں ہم سچے دل سے اپنی اصلاح پر آمادہ نظر آتے ہیں؟
    یہ وبائیں اور بلائیں بڑی آزمائش ہوا کرتی ہیں اور انہیں رضائے حق کے نشان بھی نہیں کہا جا سکتا جب کہ قوم میں تمام تر برائیاں پوری شدت سے موجود بھی ہوں…
    تب صرف ایک حل نکلتا نظر آتا ہے اور وہ ہے توبہ کے ارادے سے اپنے گناہوں پر نادم ہو کر استغفار کرنا…
    بندے اور رب کے حضور توبہ کے درمیان کوئی حائل نہیں ہو سکتا…
    یاد ہے ناں قرآن تو سب پڑھتے ہوں گے شھر القرآن سے گزرتے ہوئے کہ مشرکینِ مکہ بھی جب سخت ابتلاء میں آتے…سمندری لہروں میں گِھر جاتے…کوئی راستہ دکھائی نہ دیتا…
    معبودانِ باطل غائب ہو جاتے…بت مدد کو نہ پہنچتے تو اللّٰــــہ واحد کو ہی اخلاص سے پکارتے…
    قرآن میں اللّٰه تعالٰی نے اُن کی اس کیفیت کا نقشہ بیان کرنے کے بعد کئی مقامات پر فرمایا کہ جب ہم انہیں اس مصیبت سے نجات دیتے تو ساحلِ سمندر پر پہنچتے ہی پھر شرک و نافرمانی میں مبتلا ہو جاتے…!
    ایک قوم کا تذکرہ بھی تو ضرور نظروں سے گزرا ہوا ہو گا…
    جسے اللّٰہ تعالٰی نے وہ واحد قوم کہا جنہیں عذاب کی وارننگ دی جا چکی تھی مگر اُن کی بصیرت کی آنکھ کُھل گئی تو سب کے سب گڑگڑاتے ہوئے الٰہ واحد کے دربار میں جھک گئے…توبہ کی سسکیوں کی گونج میں اپنے اوپر آئے عذاب کی گھڑیوں کو ایمان کی دولت سے بدلنے میں کامیاب ہو گئے…
    جن کا تذکرہ کرتے ہوئے رب نے فرمایا کسی سابقہ وارننگ زدہ قوم کو اُن کا ایمان لانا فائدہ نہ دے سکا اِلَّا قوم یونس…مگر یونس علیہ السلام کی قوم کو…!!!
    ہاں وہ قومِ یونس تھی…!
    جس کے پیغمبر نے بھی مچھلی کے پیٹ میں پکارا:
    لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظلمین¤
    توبہ کے طلب گاروں پر تو فرشتوں کا نزول ہوا کرتا ہے…
    صحیح بخاری میں ہے سابقہ قوم کے ایک شخص کی مثال دیتے ہوئے رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا کہ:
    جب سو آدمیوں کو قتل کرنے والا آدمی توبہ کی غرض سے نکل پڑا تو اُس کی روح راستے میں ہی قبض کر لی گئی
    آسمان سے فرشتے اُترے اور اُس کی برائیوں اور گناہوں کی وجہ سے جہنم کا مستحق سمجھنے لگے…اللّٰہ نے زمین کو نیکی کی بستی کی طرف سمٹ جانے کا حکم دیا اور اُس کی روح جنت والے فرشتوں کے سپرد کر دی گئی…
    کہ وہ توبہ کی نیت سے قدم اُٹھا چکا تھا…
    رب کتنا قدر دان ہے ؟
    یہ ہم نے سوچنا ہے کہ آیا ہم سچے دل سے رب کو پکار کر پھر سچے ہی رہے یا وقت گزرنے پر پھر ملاوٹ کرنے پر آ گئے…؟
    کیا توبہ کرنے کے بعد پھر خیانتوں کی آمیزش کرنے لگ گئے…؟
    جب خلوصِ دل اور سچے عزم کے ساتھ اُس کے در پر جھک جایا جائے تو وہ تو سیئات کو حسنات میں بدل دیا کرتا ہے…کتنا خوب صورت اور احسان بھرا قانون ہے اُس کا کہ:
    من تاب و اٰمن و عمل صالحا فاولئک یبدل اللّٰہ سَیِّاٰتھم حسنٰت و کان اللّٰه غفور رحیما¤
    (الفرقان)
    رسول اللہﷺ نے فرمایا:
    "گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہی ہے گویا اس کے ذمہ گناہ ہے ہی نہیں…!”
    (ابنِ ماجہ_کتاب الزھد)
    یہ بات سچ ہے کہ مسلمان قوم آج بھی روحانیت کے مضبوط ترین اور بلند یقین کے درجہ پر فائز ہے…غیر مسلم بھی آج یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ مسلمانوں کا الٰہ بہت جلد سُن لیتا ہے اور یہی سب سے بڑا سچ اور حقیقت ہے اور ہم نے مل کر اس حقیقت کو دنیا پر آج واضح کرنا ہے…
    وہ تو اپنے بندوں کے گناہوں کو نیکیوں میں بدلنے کا منتظر ہے…
    وہی بہترین مرجع،بہترین کارساز اور سب سے بڑا مہربان ہے…
    بس کہیں فرق ہے تو اس تعلق میں…!
    سقم ہے تو اس کردار میں…!!
    بھول ہے تو راستوں میں…!!!
    اور ضرورت ہے،عقائد و اعمال کی اصلاح کے ساتھ اخلاص بھرے رجوع اور ندامت بھری توبہ کی…اُس سے خالص اور گہرے سے تعلق کی…نہ کہ وقتی طور پر اور رسمی…!
    پھر اس کی رحمتیں برسیں گی…ہاں یقینًا برسیں گی…اوپر نیچے سے…
    آگے پیچھے سے…
    اور دائیں بائیں سے گھیراؤ کریں گی…یہ اُس کا سچا وعدہ ہے…!!!
    لا ریب ہمارے پلٹنے میں تو دیر اور کوتاہی ہو سکتی ہے…اُس کے راضی ہونے اور بخشش و عطا میں ہر گز نہیں…!!!
    آئیں استغفار کریں…تنہا تنہا سہی مگر وہ تو اقرب من حبل الورید ہے…دلوں میں اُٹھنے والے خیالات سے باخبر…پھر اس استغفار سے گناہ بھی دُھلیں گے…رزق بھی وافر ہو گا اور راستے بھی کُھلنے لگیں گے…اور یاد رکھیے کہ اجتماعی طور پر ابتلاء میں اجتماعی کردار ہی لازم ہو جایا کرتا ہے…
    ہمیں ہر معاملے میں وہ دین کا ہو یا دنیا کا اس کرپشن بھرے کردار سے خود کو بچانا ہے…
    پھر خواص و عوام کی تخصیص نہیں ہوا کرتی اور رب کے حکموں اور لشکروں کے سامنے دنیا بھر کی ٹیکنالوجی اور وسائل بھی کم کم پڑتے دکھائی دینے لگتے ہیں…اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے…رہے نام اللّٰــــہ کا…
    کل من علیھا فان¤ویبقٰی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام¤
    ہم کمزور و بے بس ہیں اور اُسی کی طرف لوٹنے والے ہیں،فلاح کا راستہ اللّٰــــہ تعالٰی نے ہمیں بتا دیا ہے کہ:
    یا ایھا الذین اٰمنو توبو الی اللّٰــــہ توبۃ نصوحا،عسٰی ربکم ان یکفر عنکم سیِّاٰتکم…(التحریم:8).
    "اے لوگو جو ایمان لائے ہو،توبہ کرو اللّٰــــہ کی طرف خالص و سچی توبہ،قریب ہے تمہارا رب تم سے تمہارے گناہوں کو دُور کر دے…!!!آمین.
    =================================

  • پاکستان کے تاریخی شہر لاہور پر مر مٹنے والی شہزادی بامبا سدھر لینڈ

    پاکستان کے تاریخی شہر لاہور پر مر مٹنے والی شہزادی بامبا سدھر لینڈ

    پاکستان کے تاریخی شہر لاہور پر مر مٹنے والی شہزادی بامبا سن 1843 سے سن 1849 تک سلطنتِ پنجاب کے حکمران مہاراجہ دلیپ سنگھ کے گھر 29 ستمبر سن 1869 کو لندن میں بیٹی پیدا ہوئی۔

    نومولود بیٹی کا نام بامبا صوفیہ جنداں دلیپ سنگھ رکھا گیا بامبا ان کی والدہ، صوفیہ نانی اور جند دادی کا نام تھا پنجاب کے سب سے معروف مہاراجہ رنجیت سنگھ شہزادی بمبا کے دادا تھے شہزادی بمبا نے لندن میں ہی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا جس کے بعد امریکی شہر شکاگو کے ایک میڈیکل کالج چلی گئیں۔

    بیسویں صدی کے آغاز میں شہزادی بامبا نے اپنے آباؤ اجداد کی سرزمین ہندوستان کے دورے کرنا شروع کر دئیے وہ ہمیشہ لاہور یا شملہ میں رہتی تھیں شہزادی بمبا کو لاہور اس قدر پسند آیا کہ انہوں نے انگلستان کو چھوڑ کر تنہا ہی لاہور کو اپنا مستقل مسکن بنا لیا۔

    انہوں نے ماڈل ٹاؤن کے اے بلاک میں مکان نمبر 104 خرید کر اس میں رہائش اختیار کر لی شہزادی بامبا نے اس گھر کا نام ’گلزار‘ رکھا اور اس میں اپنے ہاتھ سے کئی اقسام کے گلاب کے پودے لگا کر ان کی دیکھ بھال شروع کر دی۔

    سن 1915 میں شہزادی بامبا نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور کے پرنسپل ڈاکٹر ڈیوڈ سدھر لینڈ کے ساتھ شادی کر لی اور ان کا نام شہزادی بامبا سدھرلینڈ ہو گیا۔

    شہزادی بامبا کی دادی کا انتقال سن 1863 میں ہو گیا تھا لیکن شہزادی بمبا نے سن 1924 میں ان کی باقیات لاہور منگوا کر اپنے دادا مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سمادھی میں دفن کروائیں۔

    سن 1939 میں ڈاکٹر ڈیوڈ سدرلینڈ کے انتقال کے بعد شہزادی بامبا لاہور میں اکیلی رہ گئیں لیکن انہوں نے لاہور سے بے پناہ محبت کے باعث ماڈل ٹاؤن میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا ان کا خیال تھا کہ وہ اس طرح اپنے مرحوم باپ دلیپ سنگھ کی روح کو کسی طور پر سکون پہنچا سکے گی۔

    اس دوران شہزادی بامبا کا شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کے ساتھ بھی ملنا جلنا رہا علامہ اقبال، شہزادی بامبا کی انتہائی عزت کرتے تھے۔ شہزادی بامبا کا 88 سال کی عمر میں اسی گھر میں انتقال ہوا وہ عمارت سن 1944 میں سات ہزار روپے میں خریدی گئی تھی آج بھی یہ عمارت ان کے خاص ملازم پیر بخش کی اولاد کے زیراستعمال ہے۔

    تقسیم کے ایک برس قبل 13جولائی 1946ء کو بامبا نے رنجیت سنگھ کی اولاد کا ایک حقیقی وارث ہونے کے ناطے اپنے ایک وکیل رگھبیر سنگھ ایڈووکیٹ فیڈرل کورٹ آف انڈیا کی وساطت سے اپنی پنجاب کی سلطنت کا مطالبہ کر تے ہوئے ایک خط یو این او کو بھجوایا لیکن اس خط کا کوئی بھی خاطر خواہ جواب نہ دیا گیا۔

    تقسیم کے وقت شہزادی بامبا انگلینڈ، ہندوستان اور دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک میں رہنے کا حق رکھتی تھیں لیکن انہوں نے اپنے دادا کی سلطنت پنجاب کے دارالحکومت لاہور کو ہر چیز پر ترجیح دی وہ لاہور میں رہ کر دلیپ سنگھ کی جائیداد اور دیگر معاملات کو دیکھتی رہیں وہ لاہور میں اکثر اپنی گاڑی پر مال روڈ اور دوسرے علاقوں میں چلی جاتیں اور عہد رفتہ کی عمارات کو دیکھتی رہتی تھیں۔

    شہزادی بامبا نے ایک مرتبہ ایک سرکاری افسر سے گلہ کیا کہ میں اس بادشاہ کی پوتی ہوں جس کی ملکیت میں تمام پنجاب تھا اور مجھے بس میں الگ سے کوئی نشست بھی نہیں دی جاتی بامبا کے آخری ایام انتہائی تکلیف دہ تھے وہ اپنی وفات سے دو برس قبل ہی کانوں سے بہری ہو چکی تھیں، آنکھوں سے خاص دکھائی بھی نہیں دیتا تھا اور فالج کے حملے کے باعث وہ اپنے دستخط بھی نہ کر سکتی تھیں۔

    ان تمام حالات کی خبر شہزادی کے قریبی رشتہ داروں میں سے پریتم سنگھ کو مکمل طور پر تھی 10 مارچ سن 1957 کو بامبا انتقال کر گئیں اور پاکستان میں برطانیہ کے ڈپٹی ہائی کمشنر نے ان کی عیسائی رسومات کی ادائیگی کرنے کے بعد شیر پاؤ پُل کے قریب جیل روڈ کےگورا قبرستان میں دفنایا گیا۔

    ان کی وصیت کے مطابق ان کی قبر کے کتبے پر فارسی کے دو اشعار لکھے گئے جن کا ترجمہ کچھ یوں ہے:

    حاکم اور محکوم میں تفریق باقی نہیں رہتی
    جس لمحے تقدیر کا لکھا آن ملتا ہے
    اگر کوئی قبر کو کھود کر دیکھے
    تو امیر اور غریب کو الگ الگ نہیں کر سکتا

    علاوہ ازیں شہزادی بامبا کی قبر کے کتبے پر درج ذیل تحریر رقم ہے۔

    Here lies in eternal peace The Princess Bamba Sutherland Eldest Daughter of Maharajah Daleep Singh and Grand Daughter of Maharajah ranjit Singh of Lahore.Born on 29th September 1869 in London-Died on 10th March 1957 at Lahore.

    شہزادی بامبا کو آرٹ سے گہرا لگاؤ تھا اور جب ان کا انتقال ہوا ان کے پاس بیش قیمت پینٹگز کا پورا خزانہ موجود تھا جوان کی وصیت کے مطابق ان کے خاص ملازم پیر کریم بخش سپرا کے سپرد کیا گیا اس خزانے میں واٹر کلر، ہاتھی کے دانتوں پر پینٹنگز، مجسمے اورآرٹ کے دیگر شاہکار نمونے شامل تھے۔

    جبکہ لندن میں بچی ہوئی دلیپ سنگھ کی وسیع و عریض جائیداد کا کوئی بھی وارث نہ بچا اور نہ ہی کسی نے اس کا مطالبہ کیا اور یوں وہ تمام جائیداد تاج برطانیہ کو منتقل ہو گئی۔

    لیکن لندن میں موجود سکھ خاندان کے نوادرات وصیت کے مطابق پیر کریم بخش نے حکومت پاکستان کے تعاون سے لاہور منگوانے کی درخواست دائر کی متعلقہ بنک نے انتہائی ایمانداری سے وہ خاندانی نوادرات ایک ہفتے میں لاہور بھجوا دیئے۔

    ان نوادرات کوشہزادی بامبا کی رہائش گاہ میں محفوظ کر کے ’اورئینٹل میوزیم‘ کھولا گیا 1962ء میں حکومتِ پاکستان نے شہزادی بامبا کے آرٹ کے اس خزانے کو قومی اثاثہ قرار دے کر خرید لیا اور اسے لاہور کے شاہی قلعے میں محفوظ کر لیا۔

    سن 2018 میں اس کولیکشن کو عام شہریوں کے لیے کھول دیا گیا اسے دیکھ کر پنجاب میں سکھوں کی حکمرانی کی شان و شوکت کا اندازہ ہوتا ہے۔

  • صدقہ فطرہ،فدیہ صوم اور کفارہ صوم کے نصاب کا اعلان از مفتی منیب الرحمن

    صدقہ فطرہ،فدیہ صوم اور کفارہ صوم کے نصاب کا اعلان از مفتی منیب الرحمن

    مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان کے سابق چیئرمین مفتی منیب الرحمٰن نے فطرہ، فدیہ اور کفارہ صوم کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی :اس حوالے سے جاری ایک اعلامیے کے مطابق مفتی منیب الرحمٰن نے بتایا کہ رواں سال صدقہ، فطر اور فدیے کی کم از کم مقدار 140 روپے فی کس ہے ساتھ ہی اعلامیے میں بتایا گیا کہ اہل ثروت اپنی مالی حیثیت کے مطابق فطرہ و فدیہ ادا کریں-

    اسی طرح جو مسلمان ‘گندم کے آٹے’، ‘جو’، ‘کھجور’، ‘کشمش’ کے حساب سے فطرہ ادا کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے نصاب کچھ اس طرح ہے۔

    دو کلو گندم کے آٹے کے حساب سے 140 روپے فی کس ،چارکلو جو کے حساب سے 320 روپے فی کس، چارکلو کھجور کے حساب سے 960 روپے فی کس، چار کلو کشمش کے حساب سے 1920 روپے فی کس کا نصاب ہے۔

    بیان کے مطابق آٹے کے حساب سے ایک روزے کا فدیہ 140 روپے جبکہ 30 روزوں کا 4 ہزار200 روپے رکھا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ جو کے حساب سے ایک روزے کا فدیہ 320 جبکہ 30 کا 9 ہزار 600 روپے، کجھور کے حساب سے ایک روزے کا فدیہ 960 روپے اور 30 روزوں کا فدیہ 28 ہزار 800 روپے رکھا گیا ہے جبکہ کشمش کے حساب سے ایک روزے کا فدیہ 1920 روپے جبکہ 30 روزوں کا 57600 روپے ہے۔

    بیان کے مطابق کفارہ برائے قسم آٹے کے حساب سے 1400 روپے ، جو کے حساب سے 3200 ، کھجور کے حساب سے 9600 اور کشمش کے حساب سے 19200 رکھا گیا ہے-

    جبکہ بیان کے مطابق کفارہ برائے صوم برائے 60 مساکین کے لیے آٹے کے حساب سے 8 ہزار 400 روپے،جو کے حساب سے 19 ہزار 200 روپے ،کھجور کے حساب سے 57 ہزار 600 روپے، کشمش کے حساب سے ایک لاکھ 15 ہزار 200 روپے رکھا گیا ہے-

    علاوہ ازیں مفتی منیب الرحمٰن کا کہنا تھا کہ گندم کے حساب سے یہ فطرہ، فدیہ اور کفارات کی کم از کم رقم ہے، یہاں تمام اجناس کا حوالہ اس لیے دیا گیا ہے تا کہ جن حضرات کو اللہ تعالیٰ نے رزق میں کشادگی عطا کی ہے اور وافر دولت سے نوازا ہے ان پر نعمت مال کا تشکر لازم ہے اور وہ اپنی مالی حیثیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے آٹے، جو، کھجور، کشمش کے حساب سے فطرہ، فدیہ اور کفارات ادا کریں۔

    انہوں نے قران پاک کی سورۃ البقرہ کی آیت کا بھی حوالہ دیا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اور جو کوئی خوش دلی سے زیادہ دے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے (البقرہ-184)

    واضح رہے کہ صدقہ فطر عید کی نماز سے قبل ادا کرنا ضروری ہے جبکہ گھر کے سربراہ کو اپنے پیاروں یعنی بیوی اور بچوں وغیرہ کا فطرانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔

  • تشدد کا رستہ شریعت نہیں ہے  ازقلم:محمد یوسف واصفی

    تشدد کا رستہ شریعت نہیں ہے ازقلم:محمد یوسف واصفی

    تشدد کا رستہ شریعت نہیں ہے
    ازقلم:محمد یوسف واصفی

    محبت کا دعوٰی محبت نہیں ہے

    تشدد کا رستہ شریعت نہیں ہے

    محبت نبی ؐ کی خدا کی عطا ہے

    فقط نعرے بازی کی وقعت نہیں ہے

    مسلماں کا قاتل مسلماں ہوا ہے

    یہ ختم نبوت ؐ کی خدمت نہیں ہے

    کسی امت کا قتل توبہ توبہ

    یہ عشق نبی میں اجازت نہیں ہے

    جلاؤ، گھیراؤ یہ دھرنے ،رکاوٹ

    سیاست گری ہے عقیدت نہیں ہے

  • روزہ، تنہائی کی اصلاح اور تقویٰ کا پیغام     بقلم : عمران محمدی

    روزہ، تنہائی کی اصلاح اور تقویٰ کا پیغام بقلم : عمران محمدی

    روزہ، تنہائی کی اصلاح اور تقویٰ کا پیغام

    بقلم
    عمران محمدی عفا اللہ عنہ

    =============

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
    اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر روزہ رکھنا لکھ دیا گیا ہے، جیسے ان لوگوں پر لکھا گیا جو تم سے پہلے تھے، تاکہ تم بچ جائو۔
    البقرة : 183

    شریعت میں روزہ کی نیت سے صبح صادق سے سورج غروب ہونے تک کھانے پینے اور جماع سے رکے رہنے کا نام صوم ہے۔

    اسلامی روزے کا مقصد نفس کو عذاب دینا نہیں بلکہ دل میں تقویٰ یعنی بچنے کی عادت پیدا کرنا ہے کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے فرمان پر عمل کرتے ہوئے صبح سے شام تک ان حلال چیزوں سے بچے گا تو وہ ان چیزوں سے جو ہمیشہ کے لیے حرام ہیں، ان سے روزہ کی حالت میں بدرجۂ اولیٰ بچے گا۔ اس طرح روزہ گناہوں سے بچنے کا اور بچنے کی عادت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
    [ اَلصِّیَامُ جُنَّۃٌ]
    [ بخاری، الصیام، باب فضل الصوم ۱۸۹۴]
    ’’روزہ (گناہوں اور آگ سے) ڈھال ہے۔‘‘

    روزے رکھنے کا مقصد

    اللہ تعالیٰ نے جب روزہ رکھنا فرض کیا تو اس کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا
    لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
    تاکہ تم تقوی اختیار کر لو۔
    البقرة : 183
    یعنی روزے رکھ کر روزہ دار شخص متقی بن جائے

    تقوی کی حقیقت کیا ہے

    صحیح بخاری میں ہے
    ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
    لَا يَبْلُغُ الْعَبْدُ حَقِيقَةَ التَّقْوَى حَتَّى يَدَعَ مَا حَاكَ فِي الصَّدْرِ
    (بخاری معلقا)
    کوئی شخص تقوی کی حقیقت یعنی اصل روح کو تب تک نہیں پہنچ سکتا جب تک ہر اس کام کو نہ چھوڑ دے جو اس کے سینے میں کھٹکے

    حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں
    ”متقی وہ ہے جو حرام سے بچے اور فرائض بجا لائے ۔ “
    (تفسیر ابن کثیر)

    ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ تقویٰ کیا ہے ؟
    انہوں نے کہا کبھی کانٹے دار راستے میں چلے ہو ؟ جیسے وہاں کپڑوں کو اور جسم کو بچاتے ہو ایسے ہی گناہوں سے بال بال بچنے کا نام تقویٰ ہے ۔
    اس واقعہ کی سند ضعیف ہے لیکن بہرحال تقوی کے تعلق سے اصل بات یہی ہے جو اس میں بیان ہوئی ہے کہ گناہوں سے ایسے بچ کر زندگی گزاری جائے جیسے خاردار جھاڑیوں کے بیچ و بیچ گزرنے والے کانٹوں سے بچ کر چلتے ہیں

    ابن معتز شاعر کا قول ہے ۔
    «خل الذنوب صغیرھا ….
    وکبیرھا ذاک التقی ….
    واصنع کماش فوق ارض ….
    الشوک یحدذر مایری ….
    لا تحقرن صغیرۃ ….
    ان الجبال من الحصی»
    یعنی چھوٹے اور بڑے اور سب گناہوں کو چھوڑ دو یہی تقویٰ ہے ۔ ایسے رہو جیسے کانٹوں والی راہ پر چلنے والا انسان ۔ چھوٹے گناہ کو بھی ہلکا نہ جانو ۔ دیکھو پہاڑ کنکروں سے ہی بن جاتے ہیں ۔

    تقوی اور ٹریفک پولیس افسر کی مثال

    اکثر سڑکوں پر یہ منظر دیکھا گیا ہے کہ جب گاڑی چلانے والوں کو پتہ چل جائے کہ آگے ٹریفک پولیس کا ایک ایسا افسر ناکے پر کھڑا ہے کہ جو مخلص ہے جھوٹ نہیں بولتا اور جھوٹ سے کام نہیں لیتا رشوت نہیں لیتا
    اور میری گاڑی کے ڈاکومنٹس بھی پورے نہیں ہیں اور اگر میں وہاں پہنچ گیا تو سو، پچاس کی رشوت سے کام نہیں چلے گا تو ایسے حالات میں کتنے لوگ ہیں جو ناکے سے پہلے ہی اپنا راستہ تبدیل کر لیتے ہیں یا سروس لائن پر آ جاتے ہیں یا کسی ہوٹل پر رک جاتے ہیں یا کسی پٹرول پمپ پر اپنی گاڑی کھڑی کر لیتے ہیں ہیں اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں سامنے والا افسر مخلص ہے رشوت نہیں چلے گی اور ہمیں اپنی غلطی پر سزا یا جرمانہ ادا کرنا ہی پڑے گا

    روزے دار کے تقوی کی حقیقت و کیفیت

    جب روزے دار اکیلا ہوتا ہے اسے کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتا بھوک بھی لگی ہوتی ہے پیاس بھی لگی ہوتی ہے کھانے اور پینے کی اشیاء بھی دستیاب ہوتی ہیں لیکن وہ صرف اس لیے کچھ کھاتا ہے نہ کچھ پیتا ہے کہ مجھے اللہ دیکھ رہا ہے تب روزے دار شخص تقوی کی اس معراج پر ہوتا ہے جو شرع میں مطلوب ہیں

    اور عبادات میں یہی وہ درجہ احسان ہے جس کے متعلق
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    «أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ»
    (بخاری كِتَابُ الإِيمَانِ،بَابُ سُؤَالِ جِبْرِيلَ النَّبِيَّ ﷺ عَنِ الإِيمَانِ، وَالإِسْلاَمِ، وَالإِحْسَانِ، وَعِلْمِ السَّاعَةِ،50)
    کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اگر یہ درجہ نہ حاصل ہو تو پھر یہ سمجھو کہ وہ تم کو دیکھ رہا ہے۔

    روزے کا پیغام، مت سمجھو کہ مجھے کوئی نہیں دیکھ رہا

    ابن کثیر نے امام احمد رحمہ اللہ کے متعلق نقل فرمایا کہ وہ یہ دو اشعار پڑھا کرتے تھے، جو یا تو ان کے ہیں یا کسی اور کے ہیں
    إِذَا مَا خَلَوْتَ، الدَّهْرَ، يَوْماً، فَلَا تَقُلْ
    خَلَوْتُ وَلَكِنْ قُلْ عَلَيَّ رَقِيبُ
    کسی دن خلوت میں ہو تو یہ مت کہنا میں تنہا ہوں، بلکہ کہو: مجھ پر ایک نگران ہے
    ولاَ تحْسَبَنَّ اللهَ يَغْفَلُ سَاعَةً
    وَلَا أنَ مَا يُخْفَى عَلَيْهِ يَغِيْبُ
    اللہ تعالی کو ایک لمحہ کیلیے بھی غافل مت سمجھنا، اور نہ یہ سمجھنا کہ اوجھل چیز اس سے پوشیدہ ہوتی ہے۔

    اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھ رہا ہے

    فرمایا
    أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَى
    تو کیا اس نے یہ نہ جانا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔
    العلق : 14

    اور فرمایا
    أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ
    کیاوہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا ہے اور وہی تو ہے جو نہایت باریک بین ہے، کامل خبر رکھنے والا ہے۔
    الملك : 14

    اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں ہے

    اتنا لطیف کہ اس سے ایک ذرہ بھی نہیں چھپ سکتا

    فرمایا
    إِنَّ اللَّهَ لَا يَخْفَى عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ
    بے شک اللہ وہ ہے جس پر کوئی چیز نہ زمین میں چھپی رہتی ہے اور نہ آسمان میں۔
    آل عمران : 5

    فرمایا
    عَالِمِ الْغَيْبِ لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ وَلَا أَصْغَرُ مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْبَرُ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ
    جو سب چھپی چیزیں جاننے والا ہے ! اس سے ذرہ برابر چیز نہ آسمانوں میں چھپی رہتی ہے اور نہ زمین میں اور نہ اس سے چھوٹی کوئی چیز ہے اور نہ بڑی مگرایک واضح کتاب میں ہے۔
    سبا : 3

    اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ کون، کب، کہاں، کیا کررہا ہے

    فرمایا
    وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ
    اور وہ جانتا ہے جو تم کماتے ہو۔
    الأنعام : 3

    سورہ رعد میں ہے
    عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ
    وہ غیب اور حاضر کو جاننے والا، بہت بڑا، نہایت بلند ہے۔
    الرعد : 9
    سَوَاءٌ مِنْكُمْ مَنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ
    برابر ہے تم میں سے جو بات چھپا کر کرے اور جو اسے بلند آواز سے کرے اور وہ جو رات کو بالکل چھپا ہوا ہے اور (جو) دن کو ظاہر پھرنے والا ہے۔
    الرعد : 10

    اللہ تعالیٰ درختوں کے ایک ایک پتے اور زمین کی تہوں میں پڑے دانے کو بھی جانتے ہیں

    فرمایا
    وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ
    اور اسی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں، انھیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور وہ جانتا ہے جو کچھ خشکی اور سمندر میں ہے اور کوئی پتّا نہیں گرتا مگر وہ اسے جانتا ہے اور زمین کے اندھیروں میں کوئی دانہ نہیں اور نہ کوئی تر ہے اور نہ خشک مگر وہ ایک واضح کتاب میں ہے۔
    الأنعام : 59

    دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں

    یہ بات مشہور ہے کہ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں ہیں اور حقیقت بھی ایسے ہی ہے نہ صرف یہ کہ دیواریں بلکہ کائنات کی ہر چیز کے کان ہیں اس سے وہ آوازوں کو سنتے ہیں اور محفوظ کرتے ہیں

    لہذا اے انسان❗ تو گناہ کے لیے کہاں چھپ سکتا ہے جہاں بھی چھپے گا وہاں کا ایک ایک ذرہ تیرے خلاف گواہی دینے والا ہوگا

    فرمایا
    وَلِلَّهِ جُنُودُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا
    اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اورزمین کے لشکر ہیں اور اللہ ہمیشہ سے سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
    الفتح : 7

    زمین

    اے انسان❗ تو جہاں بھی چھپے گا آخر ہوگا تو زمین پر ہی ناں اور یاد رکھ یہ زمین بھی رپورٹ کرے گی کہ تو کیا کرتا رہا تھا
    فرمایا
    إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا
    جب زمین سخت ہلا دی جائے گی، اس کا سخت ہلایا جانا۔
    الزلزلة : 1
    وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا
    اور زمین اپنے بوجھ نکال باہر کرے گی ۔
    الزلزلة : 2
    وَقَالَ الْإِنْسَانُ مَا لَهَا
    اور انسان کہے گا اسے کیا ہے؟
    الزلزلة : 3
    يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا
    اس دن وہ اپنی خبریں بیان کرے گی۔
    الزلزلة : 4
    بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَى لَهَا
    اس لیے کہ تیرے رب نے اسے وحی کی ہو گی۔
    الزلزلة : 5

    کراما کاتبین

    اے گناہ گار انسان❗ تو ان فرشتوں سے کیسے چھپے گا جو تیری ہربات لکھنے کے پابند ہیں
    اس سے مراد اعمال کی کاؤنٹنگ کرنے والے فرشتے ہیں

    فرمایا
    وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ
    حالانکہ بلاشبہ تم پر یقینا نگہبان (مقرر) ہیں۔
    الإنفطار : 10
    كِرَامًا كَاتِبِينَ
    جو بہت عزت والے ہیں، لکھنے والے ہیں۔
    الإنفطار : 11
    يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ
    وہ جانتے ہیں جو تم کرتے ہو۔
    الإنفطار : 12

    سورہ ق میں ہے
    إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ
    جب (اس کے ہر قول و فعل کو) دو لینے والے لیتے ہیں، جو دائیں طرف اور بائیں طرف بیٹھے ہیں۔
    ق : 17
    مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ
    وہ کوئی بھی بات نہیں بولتا مگر اس کے پاس ایک تیار نگران ہوتا ہے۔
    ق : 18

    أَمْ يَحْسَبُونَ أَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُمْ بَلَى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُونَ
    یا وہ گمان کرتے ہیں کہ ہم ان کا راز اور ان کی سرگوشی نہیں سنتے، کیوں نہیں اور ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس لکھتے رہتے ہیں۔
    الزخرف : 80

    انسان کے ماحول اور استعمال کی چیزیں بھی انسانی افعال اور اعمال پر گواہی دینے والی ہیں

    اے گناہ گار انسان❗ تو ارد گرد کی اشیاء سے کیسے چھپ سکے گا

    ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ! لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتّٰی تُكَلِّمَ السِّبَاعُ الْإِنْسَ، وَ حَتّٰی يُكَلِّمَ الرَّجُلَ عَذَبَةُ سَوْطِهِ وَشِرَاكُ نَعْلِهِ وَتُخْبِرُهُ فَخِذُهُ بِمَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ ]
    [ترمذي، الفتن، باب ما جاء في کلام السباع : ۲۱۸۱، و قال الألباني صحیح و رواہ أحمد : 84/3، ح : ۱۱۷۹۸ ]
    ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت قائم نہیں ہو گی حتیٰ کہ درندے انسانوں سے کلام کریں گے اور آدمی سے اس کے کوڑے کا کنارا اور جوتے کا تسمہ بات کرے گا اور اس کی ران اسے بتائے گی کہ اس کے گھر والوں نے اس کے بعد کیا کیا۔‘‘

    عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
    [ وَلَقَدْ كُنَّا نَسْمَعُ تَسْبِيْحَ الطَّعَامِ وَهُوَ يُؤْكَلُ ]
    [ بخاري، المناقب، باب علامات النبوۃ في الإسلام : ۳۵۷۹ ]
    ’’ہم (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں) کھانے کی تسبیح سنتے تھے، جب کہ وہ کھایا جا رہا ہوتا تھا۔‘‘

    درخت اور پودے

    فرمایا
    وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ
    اور بے تنے کے پودے اور درخت سجدہ کر رہے ہیں ۔
    الرحمن : 6

    انسانی اعضاء رپورٹ کریں گے

    اے انسان ❗سب سے بڑ کر یہ بات کہ تو اپنے ہی جسم کے اعضاء سے کیسے چھپ سکے گا جو ہروقت تیرے ساتھ ہی رہتے ہیں

    فرمایا
    يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
    جس دن ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے خلاف اس کی شہادت دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔
    النور : 24

    اور فرمایا
    الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَى أَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَا أَيْدِيهِمْ وَتَشْهَدُ أَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ
    آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اوران کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پاؤں اس کی گواہی دیں گے جو وہ کمایا کرتے تھے۔
    يس : 65

    مرغی وہاں ذبح کرنی ہے جہاں آپ کو کوئی بھی نہ دیکھ رہا ہو

    ایک حکایت مشہور ہے کہ ایک استاد نے اپنے چند شاگردوں سے کہا کہ میرے پاس ایک ایک مرغی ذبح کرکے لاو لیکن یہ خیال رہے کہ آپ میں سے ہر ایک نے تنہائی میں اس جگہ مرغی ذبح کرنی ہے جہاں آپ کو کوئی اور نہ دیکھ رہا ہو اگلے دن اس کے شاگرد ذبح کی ہوئی مرغی لے کر استاد کے پاس پہنچ گئے لیکن ایک شاگرد ایسا تھا جس کے ہاتھ میں زندہ مرغی تھی
    استاد نے پوچھا آپ نے مرغی ذبح کیوں نہیں کی تو اس نے کہا مجھے کوئی ایسی جگہ نہیں ملی کہ جہاں مجھے کوئی بھی نہ دیکھ رہا ہو میں جہاں بھی چھپتا تھا جہاں بھی جاتا تھا ہر جگہ مجھے اللہ تعالی دیکھ رہے ہوتے تھے اس لئے میں زندہ مرغی ہی لے کر واپس آگیا ہوں

    ایک بکری ہمیں فروخت کر دو بکریوں کا مالک کونسا دیکھ رہا ہے

    نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ سے باہر کسی سفر پر تھے ان کے ساتھ دیگر لوگ بھی تھے ایک جگہ پڑاؤ کیا کھانے کے لیے دستر خوان بچھایا اسی دوران وہاں سے ایک چرواہا گزرا

    اسے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا آؤ اس دسترخوان پر بیٹھو
    اس نے کہا میں نے روزہ رکھا ہوا ہے

    عبداللہ رضی اللہ عنہ نے(تعجب سے ) اسے کہا اتنے سخت گرمی والے دن اور ان پتھریلے ٹیلوں میں بکریوں کے پیچھے چلتے ہوئے تو نے روزہ رکھا ہوا ہے –

    اس نے کہا میں آنے والے دنوں کی تیاری کر رہا ہوں

    عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کیا تو اپنی ایک بکری ہمیں بیچے گا ہم اس کا گوشت بھی تمہیں کھلائیں گے کہ تو اس کے ساتھ روزہ افطار کر لینا اور تجھے اس کی قیمت بھی ادا کریں گے

    اس نے کہا یہ بکریاں میری نہیں ہے یہ میرے مالکوں کی ہیں

    اس پر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے(امتحان کی غرض سے) کہا کہ اگر تو انہیں کہہ دے گا کہ بکری کو بھیڑیا کھا گیا ہے تو تیرے مالک تجھے کچھ نہیں کہیں گے

    چرواہے نے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور یہ کہتے ہوئے آگے چل پڑا
    فأين الله ؟؟؟
    تو پھر اللہ کہاں ہے
    (یعنی اگر میرے مالک نہیں دیکھ رہے تو اللہ تو دیکھ رہا ہے ناں)

    اس کے چلے جانے کے بعد ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ مسلسل یہ جملہ دہراتے رہے
    فأين الله ؟؟؟ فأين الله ؟؟؟
    اللہ کہاں ہے، اللہ کہاں ہے

    پھر جب وہ مدینہ واپس لوٹے تو انہوں نے اس چرواہے کہ مالک سے بات چیت کرکے اس سے بکریاں بھی خرید لیں اور بکریوں کا چرواہا بھی خرید لیا پھر اس چرواہے کو آزاد کرکے وہ ساری بکریاں اس کو تحفے میں دے دیں
    [ صفة الصفوة (١٨٨/٢)
    شعب الإيمان للبیھقی 5291
    مختصر العلو للألباني
    وسندہ حسن ]

    ھالینڈ میں ایک عرب نوجوان کا واقعہ

    ایک عرب نوجوان کا کہنا ہے کہ : اُن دنوں جب میں ھالینڈ میں رہ رہا تھا تو ایک دن جلدی میں ٹریفک قانون کی خلاف ورزی کر بیٹھا۔ بتی لال تھی اور سگنل کے آس پاس کوئی نہیں تھا، میں نے بھی بریک لگانے کی ضرورت محسوس نہ کی اور سیدھا نکل گیا۔ چند دن کے بعد میرے گھر پر ڈاک کے ذریعے سے اس خلاف ورزی:
    "وائلیشن” کا ٹکٹ پہنچ گیا۔ جو اُس زمانے میں بھی 150 یورو کے برابر تھا۔

    ٹکٹ کے ساتھ لف خط میں خلاف ورزی کی تاریخ اور جگہ کا نام دیا گیا تھا، اس خلاف ورزی کے بارے میں چند سوالات پوچھے گئے تھے، ساتھ یہ بھی کہا گیا تھا کہ آپ کو اس پر کوئی اعتراض تو نہیں؟

    میں نے بلا توقف جواب لکھ بھیجا: جی ہاں، مجھے اعتراض ہے۔ کیونکہ میں اس سڑک سے گزرا ہی نہیں اور نہ ہی میں نے اس خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے۔

    میں نے یہ جان بوجھ کر لکھا تھا اور یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ یہ لوگ اس سے آگے میرے ساتھ کیا کرتے ہیں؟

    میرے خط کے جواب میں لگ بھگ ایک ہفتے کے بعد محکمے کی طرف سے ایک جواب ملا۔ ان کے خط میں میری کار کی تین تصاویر بھی ساتھ ڈالی گئی تھیں۔ پہلی سگنل توڑنے سے پہلے کی تھی، دوسری میں میں گزر رہا تھا اور بتی لال تھی، تیسری میں میں چوک سے گزر چکا تھا اور بتی ابھی تک بھی لال تھی۔

    یعنی سیدھا سادا معاملہ تھا، میں جرم کا مرتکب تھا تو اس کا مطلب یہی تھا کہ میں مرتکب ہوا تھا اور بس۔ نہ بھاگنے کی گنجائش اور نہ مکر جانے کا سوال۔ چپکے سے اقرار نامہ لکھ بھیجا، جرمانہ ادا کیا اور چُپ ہو گیا۔

    لیکن یاد رہے کہ اللہ تعالٰی کے پاس بھی فوٹو مشین ہے❗
    سوچیں کہ بندے کی بنی ہوئی مشین سے تو ہم بھاگ نہیں سکتے پھر اللہ کی بنائی ہوئی مشین سے کیسے بھاگ سکیں گے
    کدھر ہوگا بھاگنے کا راستہ؟

    سورہ قیامۃ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    يَقُولُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ
    انسان اس دن کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟
    القيامة : 10

    روزے دار کا اللہ تعالیٰ سے رازدارانہ تعلقِ خاص

    چونکہ روزے دار کی تنہائی خاص طور پر اللہ تعالی کے لیے ہوتی ہے اور وہ علیحدگی میں بھی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں سمجھتے ہوئے حرام کا مرتکب نہیں ہوتا اس لیے اس کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق اور اس کے اجروثواب کی کیفیت بھی باقی اعمال سے الگ ہی حیثیت رکھتی ہے

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

    کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِها إِلَی سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَی مَا شَائَ اﷲُ، يَقُوْلُ اﷲُ تَعَالَی :  إِلَّا الصَّوْمُ فَإِنَّهُ لِی، وَأَنَا أَجْزِی بِهِ.

     ابن ماجه، السنن، کتاب الصيام، باب ما جاء فی فضل الصيام، 2 : 305، رقم :  1638
    ’’آدم کے بیٹے کا نیک عمل دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک آگے جتنا اﷲ چاہے بڑھایا جاتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے :  روزہ اس سے مستثنیٰ ہے کیونکہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا ۔‘

    وفی روایۃ
    کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ، فَإِنَّهُ لِي وَأنَا اَجْزِيْ بِهِ.

     بخاری، الصحيح، کتاب الصوم، باب هل يقول انی صائم اذا شتم، 2 : 673، رقم : 1805
    ’’ابن آدم کا ہر عمل اس کے لئے ہے سوائے روزے کے۔ پس یہ (روزہ) میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔‘‘

    اور فرمایا
    وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ
    اور اس شخص کے لیے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، دو باغ ہیں۔
    الرحمن : 46

    تنہائی کی اصلاح کس قدر ضروری ہے

    روزہ، ایک مسلمان انسان کی تنہائی کو درست کرنے کا بہترین زریعہ ہے

    بعض لوگ ظاہر میں دین دار اور عبادت گزار ہوتے ہیں لیکن وہ تنہائی میں گناہوں سے اپنے دامن کو نہیں بچاتے۔ ایسے لوگوں کی دینداری انہیں کچھ کام نہ آئے گی۔ ان کی عبادت اور نیکیوں کی ﷲ تعالیٰ کے ہاں کوئی قیمت نہ ہوگی ۔
    روز قیامت ان کی ساری نیکیاں بے وقعت و بے حیثیت اور رائیگاں ہوسکتی ہیں ۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کی روشنی میں سمجھئیے کہ تنہائی کی اصلاح کس قدر اہمیت رکھتی ہے

    سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    ” لَأَعْلَمَنَّ أَقْوَامًا مِنْ أُمَّتِي، يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَسَنَاتٍ أَمْثَالِ جِبَالِ تِهَامَةَ، بِيضًا، فَيَجْعَلُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَبَاءً مَنْثُورًا ".
    قَالَ ثَوْبَانُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، صِفْهُمْ لَنَا، جَلِّهِمْ لَنَا ؛ أَنْ لَا نَكُونَ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَا نَعْلَمُ.
    قَالَ : ” أَمَا إِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ وَمِنْ جِلْدَتِكُمْ، وَيَأْخُذُونَ مِنَ اللَّيْلِ كَمَا تَأْخُذُونَ، وَلَكِنَّهُمْ أَقْوَامٌ إِذَا خَلَوْا بِمَحَارِمِ اللَّهِ انْتَهَكُوهَا ".
    (ابن ماجہ وصححہ الالبانی رحمہ اللہ)
    (میں اپنی امت میں سے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو روزِ قیامت تہامہ کے پہاڑوں جیسی چمکدار نیکیاں لے کر آئیں گے، لیکن اللہ تعالی انہیں اڑتی ہوئی دھول بنا دے گا)
    اس پر سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے کہا: "اللہ کے رسول! ہمیں ان کے اوصاف واضح کر کے بتلائیں کہیں ہم ان لوگوں میں شامل نہ ہو جائیں اور ہمیں پتا بھی نہ چلے!”
    تو آپ ﷺ نے فرمایا: (وہ تمہارے بھائی ہیں اور تمہاری قوم سے ہیں، وہ بھی رات کو اسی طرح قیام کرتے ہوں گے جس طرح تم  کرتے ہو، لیکن [ان میں منفی بات یہ ہے کہ] وہ جس وقت تنہا ہوتے ہیں تو اللہ تعالی کے حرام کردہ کام کر بیٹھتے ہیں )

    یوسف علیہ السلام کی تنہائی، امت مسلمہ کے لیے مشعل راہ

    روزہ رکھ کر تنہائی میں صرف کھانا پینا ہی منع نہیں ہے بلکہ اپنے آپ کو ہر قسم کے حرام کام سے بچا کر رکھنا اصل تقویٰ اور مقصد رمضان ہے

    اس سلسلے میں اللہ کے نبی یوسف علیہ الصلاۃ و السلام کا عظیم واقعہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے

    قرآن میں ہے
    وَرَاوَدَتْهُ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا عَنْ نَفْسِهِ وَغَلَّقَتِ الْأَبْوَابَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ قَالَ مَعَاذَ اللَّهِ إِنَّهُ رَبِّي أَحْسَنَ مَثْوَايَ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ
    اور اس عورت نے، جس کے گھر میں وہ تھا، اسے اس کے نفس سے پھسلایا اور دروازے اچھی طرح بند کرلیے اور کہنے لگی جلدی آ۔ اس نے کہا اللہ کی پناہ، بے شک وہ میرا مالک ہے، اس نے میرا ٹھکانا اچھا بنایا۔ بلاشبہ حقیقت یہ ہے کہ ظالم فلاح نہیں پاتے۔
    يوسف : 23

    اہل علم فرماتے ہیں کہ اس وقت یوسف علیہ السلام کو گناہ پر آمادہ کرنے والی ہر چیز موجود تھی اور روکنے والی دنیا کی کوئی چیز نہ تھی۔ یوسف علیہ السلام کی صحت، جوانی، قوت، خلوت، فریق ثانی کا حسن، پیش کش، اس پر اصرار، غرض ہر چیز ہی بہکا دینے والی تھی، جب کہ انسان کو روکنے والی چیز اس کی اپنی جسمانی یا جنسی کمزوری ہو سکتی ہے، یا فریق ثانی کے حسن کی کمی، یا اس کی طرف سے انکار یا مزاحمت کا امکان یا راز فاش ہونے کا خطرہ یا اپنے خاندان، قوم اور لوگوں میں رسوائی کا خوف، ان میں سے کوئی چیز ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں تھی۔ اٹھتی جوانی تھی، بے مثال حسن تھا، دروازے بند تھے، دوسری طرف سے پیش کش بلکہ درخواست اور اس پر اصرار تھا، اپنے وطن سے دور تھے کہ قبیلے یا قوم میں رسوائی کا ڈر ہو۔ یہاں کتنے ہی لوگ باہر کے ملکوں میں جاتے ہیں تو اپنوں سے دور ہونے کی وجہ سے بہک جاتے ہیں، پھر دروازے خوب بند تھے، راز فاش ہونے کی کوئی صورت ہی نہ تھی اور جب مالکہ خود کہہ رہی ہو تو سزا کا کیا خوف؟
    (تفسیر القرآن الکریم از استاذ گرامی حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ)

    اہل علم نے یوسف علیہ السلام کے زنا سے بچنے کو عفت کا کمال قرار دیا ہے، کیونکہ دنیاوی لحاظ سے انھیں زنا سے روکنے والی کوئی چیز موجود نہیں تھی، حتیٰ کہ ان کے پاس حرّیت بھی نہیں تھی

    مریم علیہا السلام اور تنہائی میں گناہ سے بچنے کا عظیم نمونہ

    یہ اتنی حیاء والی اور پاکباز عورت تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی مثال بیان کی ہے
    فرمایا
    وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا
    اور عمران کی بیٹی مریم کی (مثال دی ہے) جس نے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی
    التحریم 12

    جب تنہائی میں ایک فرشتہ انسانی شکل میں ان کے پاس آیا تو انہوں نے اپنی عصمت کے دفاع کیلئے فوراً اللہ کی پناہ حاصل کی

    فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا
    تو ہم نے اس کی طرف اپنا خاص فرشتہ بھیجا تو اس نے اس کے لیے ایک پورے انسان کی شکل اختیار کی۔
    مريم : 17

    قَالَتْ إِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنْكَ إِنْ كُنْتَ تَقِيًّا
    اس نے کہا بے شک میں تجھ سے رحمان کی پناہ چاہتی ہوں، اگر تو کوئی ڈر رکھنے والا ہے۔
    مريم : 18

    تنہائی میں، اپنے رب سے ڈرتے رہنے والوں کے لیے رب کے عرش کا سایہ

    حدیث میں عرش کا سایہ حاصل کرنے والے سات خوش بختوں میں ایک وہ بندہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [وَرَجُلٌ طَلَبَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصَبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ ]
    [ مسلم : ۱۰۳۱۔ بخاری، الزکاۃ، باب فضل إخفاء الصدقۃ : ۶۴۷۹ ]
    ’’اور ایسا آدمی جسے کوئی منصب اور خوبصورتی والی عورت برائی کی طرف بلائے تو وہ کہے میں تو اللہ سے ڈرتا ہوں ۔‘‘

    روزہ،جھوٹ چھوڑنے کا نام ہے

    روزے کو عربی میں ”صَوْمٌ“ کہتے ہیں
    اصل میں یہ کسی بھی کام سے رک جانے کو کہتے ہیں، کھانا پینا ہو یا کلام ہو یا چلنا پھرنا، اسی لیے گھوڑا چلنے سے یا چارا کھانے سے رکا ہوا ہو تو اسے ”فَرَسٌ صَائِمٌ“ کہتے ہیں
    رکی ہوئی ہوا کو بھی ”صَوْمٌ“ کہتے ہیں۔
    (تفسیر القرآن الكريم از استاذ گرامی حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ)

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ
    [ بخاری، الصیام، باب من لم یدع قول الزور : ۱۹۰۳، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ]
    ’’جو شخص جھوٹی بات اور اس پر عمل نہ چھوڑے اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔‘‘

    روزہ رکھ کر نماز نہ پڑھنے والے، جھوٹ بولنے والے، دھوکا دینے والے، سارا دن ٹی وی پر کان اور آنکھ کے زنا میں مصروف رہنے والے، غرض کسی بھی نافرمانی کا ارتکاب کرنے والے سوچ لیں کہ انھیں روزہ رکھنے سے کیا ملا؟

  • سعادت ماہ رمضان         ازقلم :عظمی ربانی

    سعادت ماہ رمضان ازقلم :عظمی ربانی

    سعادت ماہ رمضان

    ازقلم :عظمی ربانی

    رحمتوں کا مہینہ رمضان آگیا
    بن کے یہ رب کا مہمان آگیا

    اس کا حصول اے مومنو! سعادت ہے تمہاری
    دن رات کی مشقت ریاضت ہے تمہاری

    لوٹ لو نیکیوں کی سیل ہے لگی ہوئی
    ہر نیکی ستر گنا اجر میں بندھی ہوئی

    وقت آگیا روٹھے رب کو منانے کا
    اپنی التجائیں اور دعائیں رب کو سنانے کا

    کیا اچھا ہے دن بھر روزہ داروں کا صیام
    کیا خوب ہے نیکوکاروں کا رات بھر قیام

    رحمان۔۔۔۔ ماہ مقدس میں رحمتیں ہے دکھا رہا
    منادی دے دے کر اپنی طرف ہے بلا رہا

    احسان مانو رب کا کرو شکر اس کا ادا
    نہ ضیاع کرنا وقت کا وہ رہتا نہیں سدا

    صدقہ خیرات کے بڑھ چڑھ کر کرو کام
    کرو کوشش کار خیر کی ہو سکے تو صبح و شام

    تلاوت قرآن ہے سکونِ قلب و جان
    اس کو سینے سے لگا کر راحت کا پیدا کرو سامان

    اس کی قدر کو جانو اپنے آپ کو پہچانو
    واسطے عبادت کے پیدا کیا اس بات کو تم بھی جانو

    صیام و قیام کرتے اک اور عہد کریں
    بقیہ ایام زندگی بھی ہم سپرد خدا کریں
    *********

  • کشف الاسرار:ہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیں    تحریر: کاشف علی ہاشمی

    کشف الاسرار:ہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیں تحریر: کاشف علی ہاشمی

    ہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیں
    تحریر کاشف علی ہاشمی
    کشف الاسرار
    قسط نمبر 1
    تحریک لبیک پاکستان کے امیر سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد یکا یک ہر طرف سے ان کے کارکنان نکلے روڈ اک بلاک کر دئیے جس سے عامة الناس اور عام آدمی متاثر ہواسب سے پہلے تو اگر تحریک کے لوگ محض اپنے قائد کے لیے نکلے ہیں تو یہ انکا پرسنل مسلہ ہے اس پر عوام سے اتنی ذیادتی بالکل برداشت نہیں-

    دوسرا یہ کہ انکا مطالبہ سعد نہیں بلکہ سفیر کو نکالنا ہے تو اس حوالے سے ہر غیرت مند مسلمان انکے ساتھ کھڑا ہے البتہ طریقہ کار سے اختلاف سب کو ہے-

    دیکھیں روڈ بلاک کرنا لوگوں کو تکلیف دینا لوگوں کی۔گاڑیاں جلانا پولیس والوں مارنا بالکل قابل مزمت ہے اگر آپ نبیؐ کے حوالے سے کھڑے اگر آپ مذہب کے حوالے سے کھڑے ہیں تو پھر مذہب پر اور نبیؐ کی تعلیمات پر پہلے خود سختی سے عمل کریں پھر ہم دوسروں پر بھی نافذ کرنے کی بات کریں-

    لیکن اگر آپ خود نبیؐ کے تعلیمات کے منافی کام کریں تو ہم دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں کہ غلامان محمدؐ کیسے ہیں عام عوام میں یہ تاثر اک پریشر گروپ اور غنڈہ گردی جیسا جارہاہے یقینًا کفار کا حملہ بہت بڑا ہے مگر کیا یہ بڑا حملہ ہمیں حضرت محمدؐ کی تعلیمات سے باہر لے جاسکتا ہے؟ کیا ہم اپنے آقا کےفرمودات کے خلاف خود ہی کھڑے ہو جائیں تو جیت کس کی ہے ؟ اور ہارا کون؟

    مجھے ہمارے لبیک والے بھائی بتاو ہم اپنی حکومت کو کیا کہہ رہے ہیں سفیر نکالو کیوں؟ یہ ہماری دینی غیرت کا تقاضہ ہے اور اسلام کے مطابق ہے یہاں تک بات ٹھیک ہے لیکن جو طریقہ ہم نے اختیار کیا ہے کیا وہ عین اسلام کے مطابق ہے؟

    جب ہم اپنے نفس پر اسلام غالب نہیں کر سکتے جب ہم بے گناہ لوگوں کو قتل کر دیں اپنے ہی مسلمان بھائیوں کی املاک کو جلادیں جب ہم اپنے ہی مسلمانو کا راستہ روک لیں اور اس کو جہاد جیسا عظیم عمل بھی گرداننے لگیں تو یقینًا یہ زیادتی ہے یہ کیسا جہاد ہے جس میں مسلمانو کا جانی و مالی نقصان ہورہا ہے اور مسلمان باہم دست و گریباں ہیں اور سرکارؐ کے احکامات کو نظر انداز کیا جارہاہے
    جذبات الگ چیز ہے-

    کیا ٹی ٹی پی والے بھی پہلے یہ سب کچھ اسلام اور جہاد کے نام پر نہیں کر چکے کیا داعش کا موقف یہی نہیں ہے؟ کہ جو ان مطابق نہیں مانے گا وہ کافر منافق اور واجب القتل ہے یہ ہاتھ اگر اٹھے تو آقا کے احکامات کے مطابق اٹھے. ورنہ اس کے علاوہ شمشیر تو کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ
    اب زرا ہم حکومتی موقف کو بھی دیکھ لیتے ہیں کیا وجہ ہے کہ حکومت سفیر کو نہیں نکال رہی ۔ وجہ ہے فیٹف-

    اچھا یہ فیٹف ہے کیا بلا. جس کی وجہ سے پہلے ہم نے ملک فلاحی کام کرنے والی جماعتوں کو بین کیا جہاد کشمیر سے پیر پیچھے ہٹائے اور اب فرانس کی ناقابل برداشت بدمعاشی کی باوجود ہم اس کے آگے سرنگوں ہیں-

    فیٹف بنیادی طور پر کفار کے سات ممالک کے کہنے پر 1989 میں بنائی گئی فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس ہے جو کہ منی لانڈرنگ کے حوالے سے بظاہر دہشت گرد گروپوں کو سرمائے استعمال سے روکنے کے لیے بنائی گئی ہے-

    اس پر تفصیلی بات ہم پھر کسی مضمون میں کریں گے فی الحال ہم اس کا معاملہ دیکھتے ہیں کہ فرانس نے سرکاری طور جو بدمعاشی کی ہے اور جو نبیؐ کی توہین کی ہے اور اس پر ڈٹ کر کھڑا ہوگیا ہے جبکہ ہمارے میاوں میاوں کرتے مسلمان ممالک اور ان کے سربراہان سمجھتے ہیں کہ وہ چند بیانات سے اپنے لوگوں کو ٹھنڈا کر لیں درحقیقت ہمارے پڑھے لکھے طبقے اور حکمران مکڈیا زیادہ تر الحاد کی طرف مائل ہیں کیونکہ ہم تعلیم لینے اپنے بچوں کوباہر بھیجتے اور انکہ دین پر اتنی پختگی پہلے نہیں ہوتی وہاں سیکولر لبرل ماحول میں غریب ملک کے یہ بچے سمجھتے ہیں ترقی مذہب سے ہٹ کر ملتی ہے اور ہماری یونیورسٹیاں اور ادارے الحاد کی جانب زیادہ جھکاو دکھا رہے ہیں اور اس جا کوئی موثر جواب بھی نہیں دیا جارہا ہے جس کی جانب اقبال نے اشارہ بھی کیا تھا

    ہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیں
    امتی باعث رسوائی پیغمبر ہیں
    بت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیں
    تھا ابراہیم پدر اور پسر آذر ہیں

    آج کا پڑھا لکھا مسلمان جو سرمائے اور دولت کو کل کائنات سمجھتا ہے اور اس کے پیچھے بھاگتے اس نوجوان کو جس کی تربیت اب صحابہ کرام کے واقعات اور سیرت نبیؐ کے بجائے مسٹر چپس اور شیلے جیسے لوگوں کو پڑھ کر ہوئی ہے وہ نہیں سمجھ پاتا کہ معیشت اہم ہے یا عزت اہم ہے اور عزت بھی اس ہستی کی کہ جس کے لیے مال و عزت اور جان قربان کرنے کا عزم نا ہو تو ایمان ہی نہیں مانا جاتا
    سیدنا انس ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا ” کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے اہل وعیال، اس کے مال اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ بن جاؤں۔” (صحیح مسلم)۔

    ایک اور روایت سیدنا عبداللہ بن ہشامؓ اس طرح نقل کرتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ نبی کریم کے ساتھ تھے اور آپ سیدنا عمر بن الخطابؓ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ سیدناعمر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ()! یقینا آپ ()مجھے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں سوائے میرے نفس کے جس پر نبی کریم نے ارشاد فرمایا:

    ” نہیں، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے یہاں تک کہ میں تمہارے نزدیک تمہارے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہوجاؤں۔” یعنی اس وقت تک تمہارا ایمان کامل نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں تمہارے نزدیک تمہاری جان سے بھی زیادہ محبوب نہ بن جاؤں۔زبانِ رسالتؐ سے یہ بات سننی تھی کہ سیدنا عمر ؓ نے عرض کیا ” ہاں! اللہ کی قسم ، اب آپ () مجھے اپنے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔”
    رسول اللہ نے ارشاد فرمایا ” ہاں اب اے عمر۔” یعنی اب تمہارا ایمان مکمل ہوا(صحیح بخاری)۔
    یعنی ایمان ہی قبول نہیں بلکہ وہ تمہارا اسلام ہے ایمان نہیں-

    بھلا ایمان بھی کبھی مجبور ہوتا ہے ایمان تو جان وارنے کا نام ہے ایمان تو مٹ جانے کا نام ہے ایمان تو 313 کو بے سروسامانی کے عالم میں اک بڑے لشکر کے سامنے تلواروں کے مقابل ڈنڈوں سے کھڑا کر دیتا ہے ، ایمان تو پیٹ پر پتھر باندھ کر بھوکے پیاسے خندق کھودتے سر پر کھڑے دشمن کے سامنے ڈٹ جاتا ہے ایمان تو چند ہزار کا لشکر لاکھوں کے جدید ترین اسلحے کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور اسے تنکوں کی طرح بکھیر دیتا ہے ، ایمان تو سات ہزار کا لشکر دشمن کی سرزمین پر اترتا اپنے ملک سے دور دشمن سرزمین چھوٹا سا لشکر ہے دشمن بہت زیادہ ہے راستوں کا پتہ نہیں مگر ایمان یہاں کشتیاں جلا دیتا ہے –

    تم کہتے ہو چند نوکریاں اور معیشت کا مسلہ ہے بے غیرت بن جائیں درحقیقت مسلمانو کی معیشت تو جہاد تھی نبیؐ نے فرمایا میرا رزق میرے نیزے کی انی کے نیچے ہے جب سے جہاد چھوڑا ہے معیشت بھی عزت بھی اور اب غیرت بھی جارہی ہے
    کتنا افسوس ہے کہ جب مسلمان کہتا ہے معاشی مسلہ ہے ہم نبیؐ کی توہین برداشت کر لیں

    غافل آداب سے سکان زميں کيسے ہيں
    شوخ و گستاخ يہ پستی کے مکيں کيسے ہيں

    اس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہے
    تھا جو مسجود ملائک’ يہ وہی آدم ہے
    عالم کيف ہے’ دانائے رموز کم ہے
    ہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہے
    ہم سمجھتے کہ معاشی مسلہ فیٹف کے ہاتھ ہے اور اللہ ایمان سب کچھ ختم کئیے بیٹھے ہیں اصل بات یہ ہے کہ ہماری ایمان پر تربیت نہیں ہوئی یہی وجہ کہ اک طرف ہم معاملات کرتے وقت نبیؐ کی تعلیمات کو ہمارا مذہبی طبقہ بھی پیش کرنے سے قاصر ہے اور ہمارا سیکولر طبقہ اس سے ویسے ہی دور ہے اسلام تو سب جانتے ہیں ایمانیات کے مقدمے بابت کم ہی بات ہوتی ہے ان شاءاللہ آئندہ مضامین میں ایمان کیا ہے کیسے بنتا ہے کمزوریاں کہاں ہیں پہ مفصل لکھیں گے جزاک اللہ خیرا
    وما علینا الالبلاغ

  • احتجاج کے شرعی آداب   بقلم :عمران محمدی

    احتجاج کے شرعی آداب بقلم :عمران محمدی

    احتجاج کے شرعی آداب

    بقلم
    عمران محمدی
    ( عفا اللہ عنہ )

    =============

    وطن عزیز پاکستان میں توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ اور قتل و غارت کا سلسلہ بڑھی تیزی سے پروان چڑھتا جا رہا ہے، سیاست اور مذہب کے نام پر نوجوانوں کو ورغلا کر ان کے جذبات کو غلط جگہ استعمال کرنا تو گویا فنکاروں کے دائیں ہاتھ کا فن ہے

    وطن عزیز پاکستان میں احتجاجی مظاہروں، دھرنوں، ریلیوں لانگ مارچ اور بڑے بڑے سیمینارز کا سلسلہ تقریباً پورا سال ہی جاری و ساری رہتا ہے
    جن میں سے بعض مستقل اور بعض ہنگامی ہوتے ہیں اور بعض مذہبی اور بعض سیاسی نوعیت کے ہوتے ہیں
    جن میں لوگوں کی کثیر تعداد اپنے گھروں سے نکل کر باہر سڑکوں پر اپنی مذہبی اور سیاسی وابستگی کا اظہار کرتی ہے،

    یہ مظاہرے اپنے مظاہرین کے عقائد و نظریات اور حقوق کے ترجمان ہوتے ہیں
    احتجاجی مظاہرے کے انداز اور اسٹائل سے ہی متعلقہ افراد کے اخلاق و کردار کا اندازہ ہوتا ہے اور ان کا چہرہ کھل کر سامنے آتا ہے کہ آیا یہ لوگ پر امن شہری ہیں یا پر تشدد ذہنیت کے حامل ہیں

    یہ دھرنے اور احتجاج خواہ مذہبی ہوں یا سیاسی مجموعی طور پر ان کا چہرہ مایوس کن اور انتہائی غیر مناسب ہے
    مد مقابل کی عزت و حرمت سے کھیلنا
    املاک کو نقصان پہنچانا
    دکانیں جلانا
    سڑکوں پر ٹائر جلا کر بلاک کرنا
    گاڑیوں کو نظر آتش کرنا
    انسانی جانوں سے کھیلنا
    الغرض کہ دھرنے کی دنیا میں یہ سب کچھ جائز سمجھ لیا جاتا ہے الا کہ کسی کو اللہ تعالٰی نے عقل و دانش سے کام لینے کی توفیق دے رکھی ہو

    سو ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ ایک مسلم کی جان، مال اور عزت کی کیا اہمیت ہے اور احتجاجی دھرنوں کے شرعی اصول و ضوابط کیا ہیں

    احتجاج کرنے کے شرعی آداب

    احتجاج کرنا انسان کی جبلت میں شامل ہے اور اس کا پیدائشی حق ہے
    بچہ دنیا میں آتے ہی احتجاج کرتا ہے
    جب تک بچہ روئے نہیں ماں دودھ نہیں دیتی

    اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ اپنے جائز حقوق منوانے، امت مسلمہ کے مفادات، اسلامی شعائر اور ارکان اسلام کے دفاع کے لیے اگر احتجاج اور دھرنا ناگزیر ہو جائے تو پھر احتجاج کرنے، دھرنا دینے اور لانگ مارچ کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے، ایسا کیا جا سکتا ہے اور بعض اوقات احتجاجی مظاہرے نا صرف یہ کہ جائز بلکہ واجب اور ضروری ہو جاتے ہیں

    غیرت اسلامی کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ جب بھی اور جہاں کہیں بھی ”احتجاج“ کی ضرورت محسوس ہو، ضرور کیا جائے تاکہ اپنے جذبہ ایمانی کا اعلان ہوسکے اور کل روز قیامت ہم یہ کہہ سکیں کہ جب کبھی بھی اسلام یا اسلامی اقدار کے خلاف کوئی عمل ہوا، ہم نے مقدور بھر اس کے خلاف آواز بلند کی

    لیکن کسی بھی قسم کے احتجاج کے دوران کبھی بھی کوئی ایسا عمل نہیں کرنا چاہئے جو اسلامی تعلیمات کے خلاف ہو اور یہ خیال رکھنا بھی بہت ضروری ہے کہ کہیں دوران احتجاج جذبات کی لہر میں بہتے ہوئے شرعی حدود سے متجاوز نہ ہو جائیں
    احتجاجی مظاہروں کے لیے چند اھم امور مد نظر رکھنا ضروری ہیں

    احتجاج کے لیے پر امن اور مہذب طریقہ اپنایا جائے

    جاہلوں، بدؤں اور بد تمیز لوگوں سا انداز ہر گز نہ اپنایا جائے
    اللہ تعالٰی فرماتے ہیں
    ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ ۚ
    (سورة المؤمنون 96)
    ” آپ برائی کو احسن (سب سے بہتر) طریقہ سے دفع کریں۔”

    مثال کے طور پر پریس کانفرنس احتجاج ریکارڈ کرانے کا ایک سلجھا طریقہ ہے

    احتجاج کریں مگر گالی مت دیں

    اپنی زبان سے ”مجرموں“ کے خلاف گالم گلوچ یا نازیبا الفاظ نہیں ادا کرنا چاہئے بلکہ تقریر و تحریر میں اخلاقی قدروں میں رہتے ہوئے مجرموں کے اقدامات کی مذمت کی جائے
    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلَا اللَّعَّانِ وَلَا الْفَاحِشِ وَلَا الْبَذِيءِ
    مومن بہت زیادہ لعن طعن کرنے والا، فحش گو اور بدزبان نہیں ہوتا
    ترمذی

    احتجاج میں فساد فی الارض نہ ہو

    مظاہروں اور جلوسوں کے دوران سرکاری و غیر سرکاری املاک کو نقصان نہیں پہنچانا چاہئے۔ بلکہ اگر ”مجرمان سے متعلقہ املاک“ بھی ہماری دسترس میں آجائیں تو انہیں بھی نقصان نہیں پہنچایا جاسکتا۔ توڑ پھوڑ اور پولس یا انتظامیہ پر پتھراؤ وغیرہ کرنا بالکل غلط ہے

    اللہ تعالٰی فرماتے ہیں
    وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ …
    (سورة الأعراف 56)
    ” اور زمین میں فساد برپا نہ کرو

    وَاللَّہ ُلَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ
    ﴿ سورة آل عمران: 5 ﴾
    اللہ تعالٰی ظالموں کو پسند نہیں کرتے

    احتجاج، اسلام اور اہلیان اسلام کی بدنامی کا باعث نہ بنے

    دوران احتجاج ایسا کچھ بھی نہ کیا جائے کہ سیکولر لابی کو باتیں کرنے کا موقع ملے
    یا اسلام کا غلط چہرہ دنیا کے سامنے ظاہر ہو
    یا یہ کہ اس سے بڑا کوئی اور ’’منکر‘‘ جنم نہ لے

    کیونکہ پھر یہ احتجاج دفاع اسلام نہیں بلکہ اسلامیان کے لیے ایک نئے فتنے اور کئی طرح کی مشکلات کا پیش خیمہ ثابت ہو گا

    وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ …
    (سورة البقرة 119)
    ” اور فتنہ قتل سے زیاده سخت ہے”

    لہذا حرمت رسول اور دین اسلام کی حفاظت کرتے کرتے حرمتِ دینِ رسول پامال نہ کیجئے

    دوران احتجاج اگر کسی کی گاڑی جلا دی گئی یا دکان جلا دی گئی یا اس کی کسی اور چیز کو نقصان پہنچا دیا گیا تو یہ ایسے ہی ہے گویا اس شخص کو ہمیشہ ہمیش کے لیے مذہب اور اہلیان مذہب سے متنفر کردیا گیا ہےسوچئے کہ یہ کتنا بڑا فتنہ و فساد ہےکیا یہ اسلام کی خدمت ہوگی یا اسلام سے دشمنی

    دوران احتجاج راستے مت روکے جائیں

    احتجاج سے ٹریفک میں خلل نہیں پڑنا چاہئے اور نہ ہی راستہ بلاک کرکے عام شہریوں کو مشکلات میں ڈالنا چاہئے

    جیسا کہ ایک حدیث مبارکہ میں ہے
    عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ كَذَا وَكَذَا، فَضَيَّقَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ، وَقَطَعُوا الطَّرِيقَ، فَبَعَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا يُنَادِي فِي النَّاسِ : ” أَنَّ مَنْ ضَيَّقَ مَنْزِلًا أَوْ قَطَعَ طَرِيقًا فَلَا جِهَادَ لَهُ ".

    کہ ایک دفعہ جہادی سفر کے دوران لوگوں نے راستے بلاک کر دیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے لوگوں میں اعلانات کروادیے کہ جس نے راستے بلاک کیے اس کا کوئی جہاد نہیں ہے
    حكم الحديث: حسن

    حتی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے راستوں پر بیٹھنے سے بھی منع کردیا فرمایا

    ایاکم والجلوس علی الطرقات
    راستوں میں مت بیٹھا کرو

    راستے بلاک ہونے کی وجہ سے روزانہ اجرت پر کام کرکے کھانے والےغریب و مسکین کام نہیں کرسکتے لہذا وہ اور انکے بچے بھوکے رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

    بیمار علاج کیلئے بھی نہیں جا سکتے۔ بے شمار لوگ اذیت میں دن گزارتے ہیں اور اسی طرح مسلمانوں کی اکثریت کو اذیت پہنچتی ہے اور مسلمانوں کو ایذا پہنچانا کبیرہ گناہ ہے

    فرمایا
    وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا
    (الأحزاب:۵۸)
    ” اور وہ لوگ جو ناحق مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایذا پہنچاتے ہیں انھوں نے یقیناً بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اٹھا یا۔”

    احتجاج روڈ بلاک کیے بغیر بھی ہو سکتا ہے۔
    سڑک کے کنارے کھڑے ہوکر بھی مظاہرہ ہوسکتا ہے
    عجیب بات ہے کہ ہمیں راستہ روکے بغیر احتجاج کا کوئی طریقہ سجھائی نہیں دے رہا۔

    ڈبل سڑکوں پہ ایک جانب بند کر لیں تاکہ دوسری طرف ٹریفک بحال رہے۔

    احتجاج کو بغاوت و خروج کا جامہ مت پہنایا جائے
    احتجاج کے لیے نکلنے سے پہلے اپنے کارکنان کو خوب اچھی طرح بریف کریں
    کہ
    احتجاج کرنا ہے بدمعاشی نہیں کرنی
    احتجاج کا مقصد حکومت تک اپنی بات پہنچانا ہے, بغاوت کرنا نہیں

    دوران احتجاج کسی بھی حکومتی وغیر حکومتی عہدیدار کی تکفیر مت کریں، کسی بھی انسان کے قتل کے فتوے مت جاری کریں اور نہ ہی عوام الناس اور کارکنان کو جوش دلائیں کہ فلاں فلاں شخص اگر آپ کو کہیں مل جائے تو اسے قتل کر دیا جائے

    اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے کہ:

    یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُہَدَآءَ بِالْقِسْطِ وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلَّا تَعْدِلُوْا اِعْدِلُوْا ہُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ.(۸)
    ’’ ایمان والو، اللہ کی خاطر عدل وانصاف کے گواہ بن کر کھڑے ہو جاؤ، اور ایسا نہ ہو کہ کسی قوم کے ساتھ دشمنی تمھیں برانگیختہ کر کے ناانصافی پر آمادہ کردے۔ عدل پر قائم رہو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ تمھارے اعمال کی پوری پوری خبر رکھنے والا ہے۔‘

    احتجاج کے دوران افراتفری، توڑ پھوڑ، ہنگامہ آرائی اور جلاؤ گھیراؤ کا سا ماحول بنا کر معاشرے میں دہشت نہ پھیلائی جائے

    جیسا کہ حدیث میں آیا ہے
    عَنْ عَبْدﷲِ بْنِ عُمَرَ رضی اﷲ عنهما قَالَ: کُنَّا قُعُودًا عِنْدَ رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فَذَکَرَ الْفِتَنَ، فَأَکْثَرَ فِي ذِکْرِهَا حَتَّی ذَکَرَ فِتْنَةَ الْأَحْلَاسِ. فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اﷲِ! وَمَا فِتْنَةُ الْأَحْلَاسِ؟ قَالَ: هِيَ هَرَبٌ وَحَرْبٌ.
    أبوداود، السنن،کتاب الفتن والملاحم، باب ذکر الفتن، 4: 94، رقم: 4242

    ’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتنوں کا ذکر فرمایا۔ پس کثرت سے ان کا ذکر کرتے ہوئے فتنہ احلاس کا ذکر فرمایا۔کسی نے سوال کیا کہ یا رسول اﷲ! فتنہ احلاس کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ وہ افراتفری، فساد انگیزی اور قتل و غارت گری ہے۔‘‘

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    إِنَّﷲَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا.
    مسلم، الصحيح، کتاب البر والصلة والآداب، باب الوعيد الشديد لمن عذب الناس بغير حق، 4 : 2018، رقم : 2613
    اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو اذیت و تکلیف دیتے ہیں

    اسی طرح حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

    المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده.
    (بخاری، الصحيح، باب من سلم المسلمون، رقم11

    ’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں‘‘۔

    سورۃ البروج کی آیت نمبر دس (10) میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں
    اِنَّ الَّذِيْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيْقِ
    (بے شک جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو اذیت دی پھر توبہ (بھی) نہ کی تو ان کے لیے عذابِ جہنم ہے اور ان کے لیے (بالخصوص) آگ میں جلنے کا عذاب ہے)

    دوران احتجاج اسلحہ کی بے جا نمائش مت کریں

    حالیہ مظاہروں کے دوران ایسے بہت سے مناظر دیکھنے کو ملے ہیں
    حتی کہ ایک صاحب نے تو ننگی تلوار ہاتھ میں پکڑ رکھی تھی
    جبکہ اس سلسلے میں اسلامی تعلیمات ملاحظہ فرمائیں

    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرو ی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

    لَا يُشِيرُ أَحَدُکُمْ إِلَی أَخِيهِ بِالسِّلَاحِ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَحَدُکُمْ لَعَلَّ الشَّيْطَانَ يَنْزِعُ فِي يَدِهِ، فَيَقَعُ فِي حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ.

    مسلم، الصحيح، کتاب البر والصلة والآداب، باب النهي عن إشارة بالسلاح، 4: 2020، رقم: 2617
    ’’تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے، تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ شاید شیطان اس کے ہاتھ کو ڈگمگا دے اور وہ (قتلِ ناحق کے نتیجے میں) جہنم کے گڑھے میں جا گرے۔‘‘

    اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    مَنْ أَشَارَ إِلَی أَخِيهِ بِحَدِيدَةٍ، فَإِنَّ الْمَلَائِکَةَ تَلْعَنُهُ حَتَّی يَدَعَهُ، وَإِنْ کَانَ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ.

    مسلم، الصحيح، کتاب البر والصلة والآداب، باب النهي عن إشارة بالسلاح، 4: 2020، رقم: 2616

    ترمذی، السنن، کتاب الفتن، باب ما جاء في إشارة المسلم إلی أخيه بالسلاح، 4: 463، رقم: 2162
    ’’جو شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ کرتا ہے فرشتے اس پر اس وقت تک لعنت کرتے ہیں جب تک وہ اس اشارہ کو ترک نہیں کرتا خواہ وہ اس کا حقیقی بھائی(ہی کیوں نہ) ہو۔‘‘

    حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:

    نَهَی رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم أَنْ يُتَعَاطَی السَّيْفُ مَسْلُولًا.
    ترمذی، ابو داؤد
    ’’رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ننگی تلوار لینے دینے سے منع فرمایا۔‘‘

    ________
    اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک ایک مسلمان کی عزت، مال اور جان کی حرمت

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    وَلَا تَعۡثَوۡا فِى الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ‌ۚ
    اور زمین میں فساد کرتے ہوئے دنگا نہ مچاؤ۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ حجاب
    ( بخاری )
    مظلوم کی بددعا سے بچیں کیونکہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان پردہ نہیں ہے

    کسی مسلم کو حقیر سمجھنا حرام ہے
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ»
    [مسلم: 2564]
    "کسی آدمی کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے ۔”

    آپﷺ نے ایک اور موقعہ پر فرمایا:
    المسلم اخوالمسلم لا یظلمہ ولا یخذلہ ولا یحقرہ

    مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اس پر ظلم نہیں کرتا نہ اسے اکیلا چھوڑتا ہے اور نہ اس کی تحقیر کرتا ہے
    بخاری و مسلم

    مسلمان کی حرمت کعبہ کی حرمت کی طرح ہے
    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر انسانی جان ومال کے تلف کرنے اور قتل و غارت گری کی خرابی و ممانعت سے آگاہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :
    إِنَّ دِمَائَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ وأعْرَاضَکُمْ عَلَيْکُمْ حَرَامٌ، کَحُرْمَةِ يَوْمِکُمْ هذَا، فِی شَهْرِکُمْ هٰذَا، فِی بَلَدِکُمْ هٰذَا، إِلَی يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّکُمٍْ.
    بخاری و مسلم

    بے شک تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر اِسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارے اِس دن کی حرمت تمہارے اِس مہینے میں اور تمہارے اِس شہر میں (مقرر کی گئی)ہے اُس دن تک جب تم اپنے رب سے ملو گے۔

    حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنھما سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور یہ فرماتے سنا:
    مَا أَطْيَبَکِ وَأَطْيَبَ رِيحَکِ، مَا أَعْظَمَکِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَکِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَحُرْمَةُ الْمُوْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اﷲِ حُرْمَةً مِنْکِ مَالِهِ وَدَمِهِ، وَأَنْ نَظُنَّ بِهِ إِلَّا خَيْرًا.
    ابن ماجه، السنن، کتاب الفتن، باب حرمة دم المؤمن وماله، 2: 1297، رقم: 3932
    (اے کعبہ!) تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے، تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مومن کے جان و مال کی حرمت اﷲ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے اور ہمیں مومن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہئے۔‘‘

    مسلمانوں کی عزت، مال اور جان سب کے سب دوسروں پر حرام ہیں

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُہٗ وَمَالُہٗ وَعِرْضُہٗ
    (مسلم ، کتاب البر والصلۃ، باب تحریم  ظلم المسلم ۔۔۔الخ،ص ۱۳۸۶،حدیث:۲۵۶۴)
    یعنی ہر مسلمان کا خون ،مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے ۔

    کسی کی ملکیت پر نا جائز قبضہ کرنے کا خوفناک انجام
     
    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    مَنْ اقْتَطَعَ شِبْرًا مِنْ الْأَرْضِ ظُلْمًا طَوَّقَهُ اللَّهُ إِيَّاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ 
    مسلم
    جو شخص کسی کی ایک بالشت زمین پر نا جائز قبضہ کرتا ہے اللہ تعالٰی اسے قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق پہنائیں گے

    کسی کو ناحق قتل کرنے کی سنگینی

    قرب قیامت کئی فتنے ظاہر ہونگے جن میں سے ایک قتل و غارت بھی ہے

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيَنْقُصُ العِلْمُ وَيُلْقَی الشُّحُّ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيَکْثُرُ الْهَرْجُ. قَالُوا: يَا رَسُولَ اﷲِ، أَيُمَا هُوَ؟ قَالَ: الْقَتْلُ، الْقَتْلُ.
    بخاری و مسلم
    ’’ زمانہ قریب ہوتا جائے گا، علم گھٹتا جائے گا، بخل پیدا ہو جائے گا، فتنے ظاہر ہوں گے اور ہرج کی کثرت ہو جائے گی۔ لوگ عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللہ! ہرج کیا ہے؟ فرمایا کہ قتل، قتل (یعنی ہرج سے مراد ہے: کثرت سے قتلِ عام)۔‘‘

    مسلمان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف

    قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    مَنْ قَتَلَ نَفْسًام بِغَيْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيْعًا.
    المائدة، 5: 32
    ’’جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا) کے (بغیر، ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔‘‘

    عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
    لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَی اﷲِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ.
    (ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
    اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مسلمان شخص کے قتل سے پوری دنیا کا ناپید (اور تباہ) ہو جانا ہلکا (واقعہ) ہے

    قیامت کے دن سب سے پہلے قتل کا حساب ہوگا

    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خونریزی کی شدت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

    أَوَّلُ مَا يُقْضَی بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاء.
    بخاری و مسلم
    ’’قیامت کے دن لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خون ریزی کا فیصلہ سنایا جائے گا۔‘‘

    قاتل کے کسی بھی قسم کے نیک اعمال قبول نہیں ہوتے

    حضرت عبد اﷲ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

    مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا فَاعْتَبَطَ بِقَتْلِهِ لَمْ يَقْبَلِ اﷲُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا.
    جس شخص نے کسی مومن کو ظلم سے ناحق قتل کیا تو اﷲ تعالیٰ اس کی کوئی نفلی اور فرض عبادت قبول نہیں فرمائے گا۔
    ابو داؤد

    قاتل کی سزا دائمی جہنم ہے

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًاo

    ’’اور جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کرے تو اس کی سزا دوزخ ہے کہ مدتوں اس میں رہے گا اور اس پر اللہ غضب ناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس نے اس کے لیے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے‘‘

    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مومن کے قاتل کی سزا جہنم بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

    لَوْ أَنَّ أَهْلَ السَّمَائِ وَأَهْلَ الْأَرْضِ اشْتَرَکُوْا فِي دَمِ مُؤْمِنٍ لَأَکَبَّهُمُ اﷲُ فِي النَّارِ.
    ترمذي، کتاب الديات، باب الحکم في الدماء، 4: 17، رقم: 1398
    ’’اگر تمام آسمانوں و زمین والے کسی ایک مومن کے قتل میں شریک ہو جائیں تب بھی یقینا اللہ تعالیٰ ان سب کو جہنم میں جھونک دے گا۔‘‘

    مزید فرمایا
    إِنَّ مِنْ وَرَطَاتِ الْأُمُوْرِ الَّتِي لَا مَخْرَجَ لِمَنْ أَوْقَعَ نَفْسَهُ، فِيْهَا سَفْکَ الدَّمِ الْحَرَامِ بِغَيْرِ حِلِّهِ.

    بخاري، الصحيح، کتاب الديات، باب ومن قتل مؤمنا متعمدًا فجزاؤه جهنم، 6: 2517، رقم: 6470
    ’’ہلاک کرنے والے وہ اُمور ہیں جن میں پھنسنے کے بعد نکلنے کی کوئی سبیل نہ ہو، اِن میں سے ایک بغیر کسی جواز کے حرمت والا خون بہانا بھی ہے۔‘‘

  • مومنین اور رمضان المبارک     تحریر:حافظ امیر حمزہ سانگلوی

    مومنین اور رمضان المبارک تحریر:حافظ امیر حمزہ سانگلوی

    مومنین اور رمضان المبارک

    تحریر:حافظ امیر حمزہ سانگلوی

    ماہ صیام کی آمد آمد ہے۔مومن مسلمان خوشی سے باغ باغ ہیں۔اس کی رحمتوں اور برکات کو سمیٹنے کے لیے کمر کسی ہوئی ہے۔گویا کہ ایسے لوگوں پر خدا تعالیٰ کی رحمت و برکت بھرپور برسنے کو تیار ہے یعنی جیسے ہی رمضان المبارک کا چاند نظر آئے مومنین پر رحمت کی بارش بذات خود خوب برسنے کو بے تاب ہے۔یہ کوئی عام مہینہ نہیں بلکہ ماہ رمضان المبارک نزول قرآن کا مہینہ ہے، رب العزت کی مومنین کے لیے بنائی گئی پیاری جنت میں داخلے اور جہنم سے آزادی و چھٹکارا پانے کا مہینہ ہے۔ لوگوں کے لیے ہدایت و رہنما کتاب قرآن مجید کی کثرت سے تلاوت کرنے کا مہینہ ہے۔ فرائض کے علاوہ نوافل کو کثرت سے پڑھنے اور صدقات و خیرات کو تیز آندھی کی طرح کرنے کا مہینہ ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ ہر قسم کی عبادات کا ایک نیکیوں کا موسم بہار ہے۔جس کے آنے سے پوری دنیا کے ہر کونے میں زندگی بسر کرنے والے مسلمان اپنے اپنے ایمان اور تقویٰ کے مطابق ان بابرکت ایام میں اپنے خالق حقیقی کی رضامندی حاصل کرنے اور بندگی کا حق ادا کرتے ہیں۔

    رمضان المبارک کے مہینے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے بخشش و رحمت کے دروازے کھولے ہوتے ہیں۔حدیث مبارکہ میں وارد ہوا ہے کہ رمضان المبارک شروع ہوتے ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمتوں اور برکتوں کا نزول شروع ہو جاتا ہے۔ جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں۔ سرکش شیطانوں کو قید کر دیا جاتا ہے۔ ایک روایت میں ہے رحمت کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔ جنت کے آٹھ دروازے ہیں ان میں سے ایک دروازے کا نام ”ریان”ہے۔ اس دروازے سے صرف روزہ دار ہی داخل ہوں سکیں گے۔

    ان ایام میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک فرشتے کی ڈیوٹی لگا دی جاتی ہے،جو کہ اپنے انداز سے لوگوں کو آواز لگاتا ہے۔ اے بھلائی کے چاہنے والے! جلدی کر،یہ وقت بڑا غنیمت ہے، اتنا بڑا اجر کسی دوسرے وقت میں نہیں ملے گا۔ اے برائی کرنے والے اب تو رک جا کہ یہ وقت عذاب الٰہی کو دعوت دینے کا نہیں ہے۔ پھر جو لوگ نیکی کرتے ہیں اور برائی کرنے سے رکے رہتے ہیں ان کو آگ سے یعنی جہنم سے آزاد کر دیا جاتا ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت شروع سال سے لے کر آئندہ سال تک سجائی جاتی ہے۔ جب رمضان شریف کا پہلا دن ہوتا ہے تو عرش کے نیچے سے ایک ہوا جنت کے پتوں کو سرسراتی ہوئی حوروں تک پہنچتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمارے لیے اپنے بندوں میں سے خاوند بنا دے جن سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ ایک اور مقام پر فرمایا: رمضان المبارک سے بہتر مہینہ مومن کے لیے اور کوئی نہیں۔ وہ رمضان کے اخراجات پہلے ہی تیار کر لیتا ہے اور زیادہ عبادت کی سعادت حاصل کر لیتا ہے۔ جب کہ منافق پر رمضان المبارک کا مہینہ بڑا بھاری ہوتا ہے۔ وہ اس میں مومنوں کو بد نام اور ذلیل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔(ابن ماجہ)

    رمضان المبارک کی بابرکت گھڑیوں کو معمولی نہ سمجھیں۔ان ایام کو عام دنوں کی طرح بے توجہی سے گزار دینا اور پرواہ نہ کرنا۔خدانخواستہ اگر کوئی انسان اپنے گناہوں کو معاف نہ کرا سکا،اپنی بخشش اور اپنے مالک حقیقی کی رضا مندی حاصل نہ کر سکا، تو ایسے بدنصیب سے اللہ کی رحمت دور ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ منبر کی پہلی سیڑھی پر اپنا قدم مبارک رکھا تو فرمایا: آمین،دوسری سیڑھی پر قدم رکھا تو فرمایا: آمین، تیسری سیڑھی پر قدم رکھا تو فرمایا: آمین، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے یہ عجیب بات دیکھی ہے۔ پہلے آپ نے کبھی اس طرح منبر پر چڑھتے ہوئے آمین نہیں کہا۔ تو آپ نے فرمایا منبر کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھتے ہی میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور انھوں نے کہا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جس شخص نے رمضان المبارک میں روزے رکھے اور جنت حاصل نہ کر سکا، وہ اللہ کی رحمت سے محروم ہے۔ میں نے کہا آمین،دوسرے سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے جبریل نے کہا۔ جو شخص اپنے والدین میں سے کسی ایک کو بڑھاپے میں پائے اور وہ ان کی خدمت کر کے جنت حاصل نہ کرے تو وہ بھی اللہ کی رحمت سے محروم ہو۔ تیسری سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے جبریل علیہ السلام نے کہا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی سن کرآپ پر درود شریف نہ پڑھے وہ بھی اللہ کی رحمت سے محروم ہو۔ میں نے کہا: آمین۔(ترمذی)اس حدیث مبارکہ سے رمضان المبارک کی اہمیت و عظمت اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے، کہ ہم اتنی زیادہ نیکیاں کریں کہ اللہ تعالیٰ خوش ہو کر ہمیں جنت میں داخلہ نصیب کر دے۔ اسی طرح یہ بھی واضح ہوا کہ ماں باپ کی اطاعت کرنا اور کثرت سے درود شریف کا اہتمام کرنابھی جنت میں داخلے کا ذریعہ ہے۔

  • انڈونیشیا میں شدید زلزلہ:1300 عمارتیں منہدم سینکڑوں افراد لاپتہ،ہلاکتوں کی تصدیق

    انڈونیشیا میں شدید زلزلہ:1300 عمارتیں منہدم سینکڑوں افراد لاپتہ،ہلاکتوں کی تصدیق

    انڈونیشیا کے جزیرے جاوا میں 6.1 شدت کے زلزلے میں 1300 عمارتیں منہدم اور آٹھ افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوگئی جبکہ سینکڑوں افراد لاپتہ ہیں-

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق زلزلے کا مرکز جنوبی ساحل میں 10 کلومیٹر گہرائی میں تھا سب سے زیادہ نقصان سیاحتی مقام بالی میں ہوا جہاں ہزار سے زائد گھر اور دیگر عمارتیں گر گئیں۔ عمارتوں کے ملبے سے آٹھ افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں جبکہ مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق سیکڑوں شہری لاپتہ ہیں۔

    تاہم اب بھی درجنوں افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے جن کے بچنے کی امید بہت کم ہے کیونکہ بڑی تعداد میں عمارتیں منہدم ہونے کی وجہ سے ریسکیو کاموں میں بہت زیادہ دشواریوں کا سامنا ہے۔


    ریسکیو ادارے کے مطابق سیکڑوں افراد لاپتہ ہیں، امدادی کاموں کے درمیان لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے ہوسکتا ہے۔ حکومت نے مذکورہ علاقے میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے آرمی کو بھی ریسکیو کاموں کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 6.1 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کا مرکز جاوا کا مشرقی ساحل اور گہرائی دس کلومیٹر تھی۔ مقامی ماہرین کے مطابق زلزلے کا مرکز ملنگ شہر سے 67 کلومیٹر دور تھا، اسی وجہ سے بالی میں بہت زیادہ تباہی ہوئی۔