Baaghi TV

Category: اسلام

  • امر جلیل اور بعض دیگر کے باطل نظریات اور راہ اعتدال   بقلم: جویریہ بتول

    امر جلیل اور بعض دیگر کے باطل نظریات اور راہ اعتدال بقلم: جویریہ بتول

    امر جلیل اور بعض دیگر کے باطل نظریات اور راہ اعتدال

    (بقلم:جویریہ بتول).

    اللّٰہ تعالٰی اس کائنات کا خالق،مالک،رازق اور وارثِ حقیقی ہے…اس بات کا معمولی عقل رکھنے والا انسان بھی کہیں نہ کہیں اعتراف کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے…چاہے وہ رب تعالٰی کی وحدانیت کا قائل ہو یا نہ ہو…
    اُس عظیم ذات نے جب اپنا تعارف اپنی آخری الہامی کتاب قرآن مجید میں کروایا تو کبھی "الغنی” کہہ کر کہ وہ ہر چیز،ضرورت و حاجت سے بے پرواہ ہے… وہ تو خود "البدیع” یعنی ہر چیز کا پیدا کرنے والا موجد ہے…وہ "الخبیر” مکمل اگاہی و خبر رکھنے والا… وہ "الحکیم” کمال حکمت اور "العلیم” یعنی کمال علم والا ہے…جس کے سامنے انسان کی تمام بودی دلیلیں،اعتراضات اور سوالات بے وقعت رہ جاتے ہیں…اُس نے جو کچھ تخلیق کیا ہے… ایک خاص اندازے اور مقصد کے تحت پیدا کیا ہے…جسے چیلنج کرنے والے ازل سے سرگرداں ہیں اور ابد تک رہیں گے…!
    اُس ذات نے جب اپنا تعارف کروایا تو کیا ہی بہترین وضاحت کی کہ تمام شبہات پر لَا کی ضرب لگ گئی…نفی کر دی گئی…اور صرف اُس کے وجود کا اثبات باقی رہا…اِلَّا اللّٰہ…! احد و صمد نےفرمایا کہ اے میرے پیغمبر حضرت محمدﷺ اعلان کر دیجئے:
    قل ھو اللّٰہ احد¤ اللّٰہ الصمد¤لم یلد ولم یولد¤ولم یکن لہ کُفُوًا احد¤ (سورۃ اخلاص:1_4)
    "کہہ دیجئے کہ اللّٰہ ایک ہے،اللّٰہ بے نیاز ہے،نہ اُس سے کوئی پیدا ہوا،اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا،اور نہ ہی کوئی اُس کا ہمسر ہے…!!!”
    وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا…
    Neither He begets and nor (He) is born…
    یعنی وہ اپنی ذات،صفات اور افعال میں…لیس کمثلہ شئیٌ ہے…!
    حدیث قدسی کا مفہوم ہے کہ:
    "اللّٰه تعالٰی فرماتا ہے،ابنِ آدم مجھے گالی دیتا ہے یعنی میرے لیے اولاد ثابت کرتا ہے،حالاں کہ میں نے نیاز ہوں،میں نے کسی کو جنا ہے،نہ کسی سے پیدا ہوا ہوں اور نہ میرا کوئی ہمسر ہے…”
    (صحیح بخاری…کتاب التفسیر).
    یعنی قرآن کی صرف یہ ایک مختصر سی سورت اللّٰہ تعالٰی کا اس قدر جامع اور بلیغ تعارف ہے کہ معمولی عقل رکھنے والا انسان بھی اِسے بآسانی سمجھ سکتا ہے،جو متعدد خداؤں کے نظریہ کا بھی رد ہے…
    اور اُس سوچ کا بھی کہ اللّٰہ کی کوئی اولاد ہے،یا اُس کے شریک ہیں یا وہ نظریہ رکھنے والے جو وجود باری تعالٰی کے قائل ہی نہیں…
    یہ سب سفاہت کی نشانیاں ہیں کیوں کہ انسان یہ تو ماننے کو تیار نہیں ہے کہ بجلی سے چلنے والا معمولی سا بلب بغیر کسی بنانے والے یا ایجاد کے ممکن ہے…
    لیکن بسا اوقات اس وسیع کائنات،سورج،چاند اور ستاروں کی باقاعدہ تخلیق سے انکار کر دیتا ہے…!
    جس رب نے اس کائنات کے ذرے ذرے کو بامقصد بنایا ہے…:
    "ہم نے آسمان اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیلتے ہوئے نہیں بنایا،اگر ہم یوں کھیل تماشے کا ارادہ کرتے تو اسے اپنے پاس سے ہی بنا لیتے،اگر ہم کرنے والے ہی ہوتے…
    بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر دے مارتے ہیں پس سچ جھوٹ کا سر توڑ دیتا ہے اور وہ نابود ہو جاتا ہے تم جو باتیں بناتے ہو وہ تمہارے لئے باعثِ خرابی ہیں…”
    (الانبیآء:16_18).
    اپنی یکتائی،تنہا ہونے اور وحدانیت کی مذید دلیل دیتے ہوئے اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا:
    "اگر آسمان و زمین میں اللّٰہ کے سوا اور معبود ہوتے تو یہ دونوں درہم برہم ہو جاتے پس اللّٰہ ہی عرش کا رب ہر اس وصف سے پاک ہے جو مشرک بیان کرتے ہیں…”
    (الانبیآء:22).

    "آسمان کو محفوظ چھت بھی ہم نے ہی بنایا ہے لیکن لوگ اس کی قدرت کے نمونوں پر دھیان نہیں دھرتے…
    وہی اللّٰــــہ ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو پیدا کیا،ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے مدار میں تیرتے ہیں…”
    (الانبیآء:33).

    اللّٰه ہی نے مردوں اور عورتوں کو پیدا کیا حضرت آدم علیہ السلام کا خالق بھی وہی،اماں حوّا کا خالق بھی وہی…
    مرد و عورت کے حقوق و فرائض اور مقام و مرتبہ کا تعین کرنے والا بھی وہی…
    اُس کے سبھی فیصلے اور ارادے پر ازحکمت ہیں…
    "اور اس چیز کی آرزو نہ کرو،جس کے باعث اللّٰــــہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے،مردوں کا اس میں سے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا اور عورتوں کا اُس میں سے حصہ ہے جو انہوں کے کمایا…”
    (النسآء:32).
    اللّٰہ تعالٰی کا مردوں کو ہی انبیاء و رسل بنا کر بھیجنا بھی اس کے کامل علم کی نشانی ہے…یہ اس کی قدرت کا اٹل فیصلہ ہے…نیکی و اطاعت کے کاموں میں سب کے لیے برابر اجر ہے لیکن ان کے درمیان استعداد،صلاحیت اور قوت کار کا جو فرق ہے وہ محض آرزو سے تبدیل نہیں ہو گا…
    جو خالق ہوتا ہے وہ اپنی مخلوق کی صلاحیت و استعداد سے بخوبی آگاہ ہوتا ہے تبھی فرمایا
    لا یکلف اللّٰہ نفسًا الا وسعھا…
    وہ اپنی مخلوق پر بوجھ بھی وسعت و صلاحیت کے مطابق ہی ڈالا کرتا ہے…
    یہ اعتراض کہ عورت نبیہ کیوں نہیں،اور اللّٰہ تعالٰی کی ماں نہیں،معاذ اللّٰــــہ…بیوقوفانہ اور بے معنی دلیل اور سوچ ہے…!
    "جس کی ملکیت میں آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان اور تہہِ خاک کے نیچے کی ہر چیز ہے…”(طٰہٰ:6).
    ”وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے…”(البروج:16)
    یعنی اُس کے حکم و مشیت کو ٹالنے والا کوئی نہیں،اور نہ ہی اُسے کوئی پوچھنے والا ہے…!!!
    اپنی ذاتِ بلند و برتر کی شان بیان کرتے ہوئے فرمایا:
    "شانِ رحمٰن کے لائق ہی نہیں کہ وہ اولاد رکھے،آسمان و زمین میں جو بھی ہیں سب کے سب اُس کے بندے ہی بن کر آنے والے ہیں،ان سب کو اس نے گھیر اور پوری طرح گن رکھا ہے،یہ سارے کے سارے قیامت کے دن اکیلے اکیلے اُس کے پاس حاضر ہونے والے ہیں…!!!”
    (مریم:92_95).
    اللّٰه اکبر…
    حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر صبحِ قیامت تک جتنے بھی انسان ہیں سب کو اُس نے گن کر اپنی گرفت و قابو میں رکھا ہے،کوئی بھی اپنے کرتوتوں سمیت اُس سے مخفی نہیں ہے اور اکیلا ہی اُس کی بارگاہ میں پیش بھی ہونے والا ہے…!
    رسول اللّٰہ ﷺ وادی نخلہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ کو نمازِ فجر پڑھا رہے تھے کہ کچھ جنوں کا وہاں سے گزر ہوا جنہوں نے قرآن سنا…اللّٰہ تعالٰی نے اُن کی اس کیفیت کو سورۂ جن میں یوں بیان فرمایا:
    "جنوں کی ایک جماعت نے قرآن سنا اور کہا ہم نے عجیب قرآن سنا ہے… جو راہ راست کی طرف راہ نمائی کرتا ہے،ہم اس پر ایمان لا چکے اب ہم ہر گز کسی کو اپنے رب کا شریک نہیں بنائیں گے…اور بے شک ہمارے رب کی شان بڑی بلند ہے،نہ اُس نے کسی کو بیوی بنایا،نہ بیٹا، اور یہ کہ ہم میں کا بے وقوف اللّٰــــہ کے بارے میں خلافِ حق بات کرتا تھا…”
    (الجن:1_4)
    اللّٰه کی مخلوق جن بھی شعور سے گزرے تو ایسی کمزوریوں سے رب کی تقدیس بیان فرمائی کہ تَعٰالٰی جَدُّ رَبِّنَا…!!!
    ترجمہ درج بالا آیات میں سفیھنا سے مراد ہر وہ شخص یا جنس ہے جو اللّٰہ کے بارے میں گمانِ باطل رکھتا ہے…جھوٹ و باطل میں مبالغہ کر کے…راہِ اعتدال سے دوری و تجاوز کر کے…اور ایسے سارے لوگ افترا پرداز ہیں…
    جو تصوراتی ابہام و ابطال کو زبان پر لے آ کر رب بزرگ و برتر اور خالق و مالکِ کائنات کے بارے میں گستاخانہ زبان کے مرتکب ہوتے اور اپنے اوپر حجت تمام کر کے بدترین سوچ و مثال قائم کرنے والوں میں شامل ہو جاتے ہیں…ایسے لوگ جو معاشرے میں اُلجھن اور حدود و ادب سے تجاوز کا باعث بنیں اور آئین و قانون اور میڈیائی فورم کا غلط استعمال کریں،ان کے خلاف ایکشن لینا ذمہ داران کی ذمہ داری ہے…تاکہ ایک اسلامی مملکت اور معاشرے میں اصلاح و اثبات کو فروغ ملے نہ کہ منفیت و گستاخانہ ذہنیت کا پھیلاؤ منہ زور ہوتا چلا جائے…!!!

  • ایک درخت پر بیک وقت 300 الگ الگ اقسام کے آم اگانے والا مینگو مین

    ایک درخت پر بیک وقت 300 الگ الگ اقسام کے آم اگانے والا مینگو مین

    لکھنو: ملیح آباد کے 81 سالہ حاجی کلیم اللہ خان نے آم کے ایک درخت پر بیک وقت 300 الگ الگ اقسام کے آم اُگا کر عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : اس حوالے سے حاجی کلیم اللہ خان بتاتے ہیں کہ سات اقسام کے آم دینے والا ایک درخت وہ 1957 میں اس وقت اُگا چکے تھے جب وہ خود 17 سال کے تھے اور ساتویں جماعت میں فیل ہونے کے بعد اپنے پشتینی باغ میں آموں کی کاشت سے کل وقتی طور پر وابستہ ہوچکے تھے لیکن’’بدقسمتی سے وہ درخت سیلاب کی نذر ہوگیا،‘‘

    کلیم اللہ خان نے کہا آئندہ تیس سالہ تک آم کی کاشت میں تجربہ اور نمایاں مقام حاصل کرنے کے بعد، 1987 میں انہوں نے ایک بار پھر اپنے لڑکپن کے ادھورے منصوبے کو مکمل کرنے کی ٹھان لی تاہم اب کی بار انہوں نے اپنے پشتینی باغ میں آم کے ایسے درخت کا انتخاب کیا جو 100 سال پرانا اور بہت بڑا تھا۔

    وہ الگ الگ اقسام والے آموں کے درختوں کی شاخیں کاٹ کر انہیں قلموں کی شکل دیتے اور اس درخت کی کسی نہ کسی شاخ پر لگا دیتے۔

    وہ اوسطاً ہر مہینے اس درخت میں ایک نئی قسم کی قلم کا اضافہ کردیتے؛ اور یوں بالآخرمیں تقریباً پچیس سال میں وہ درخت ایک ہی وقت میں 300 سے زائد اقسام کے آم دینے کے قابل ہوگیا، جسے بھارت کی ’’لمکا بُک آف ریکارڈز‘‘ میں بھی درج کرلیا گیا۔

    آج یہ درخت اتنا بڑا ہوچکا ہے کہ اس کے سائے تلے 15 افراد بہت آرام سے پکنک منا سکتے ہیں جبکہ اس کی ہزاروں شاخیں دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔

    آموں سے اپنے عشق اور آموں کی کاشت میں غیرمعمولی مہارت کی بناء پر حاجی کلیم اللہ خان کو ’’آم آدمی‘‘ کا لقب بھی مل چکا ہے۔

    بعض لوگوں کو اعتراض ہے کہ کلیم اللہ خان کا یہ کارنامہ صرف نمائشی ہے جس کا کوئی مالی فائدہ نہیں۔ لیکن دیگر افراد کہتے ہیں کہ ہر چیز کا فائدہ پیسے کے ترازو میں تولا نہیں جانا چاہیے۔

    اس کارنامے پر حاجی کلیم اللہ خان کو بھارتی حکومت کی جانب سے 2008 میں ’’پدماشری‘‘ اعزاز بھی دیا جاچکا ہے۔

  • زکوۃ کی فضیلت و اہمیت کیا ہے ؟ زکوٰۃ کے متعلق  انتہائی اہم معلومات

    زکوۃ کی فضیلت و اہمیت کیا ہے ؟ زکوٰۃ کے متعلق انتہائی اہم معلومات

    زکوۃ اسلام کا بنیادی رکن ہے۔ رسولِ پاک ﷺ کا فرمانِ پاک ہے :
    ”اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر ہے، اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ پاک کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (ﷺ) اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، حج کرنا اوررمضان کے روزے رکھنا۔”
    (بخاری شریف، کتاب الایمان ،باب دعا ء کم ایمانکم ،حدیث نمبر۸،ج۱،ص۱۴)

    زکوۃ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآنِ حکیم میں نماز اور زکات کا ایک ساتھ 32 مرتبہ ذکر آیا ہے۔
    (ردالمحتار،کتاب الزکاۃ، ج۳، ص۲۰۲)
    علاوہ ازیں زکوۃ دینے والا خوش نصیب دنیوی واُخری سعادتوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتا ہے۔ زکات کی فرضیت قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ اللہ پاک قرآنِ حکیم میں ارشاد فرماتا ہے :

    وَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ

    اور نماز قائم رکھو اور زکوۃ دو۔
    (پ ۱،البقرۃ:۴۳)

    نماز کے بعد زکوٰۃ ہی کا درجہ ہے۔ قرآنِ کریم میں ایمان کے بعد نماز اور اس کے ساتھ ہی جا بجا زکوٰۃ کا ذکر کیا گیاہے۔ زکوٰۃ کے لغوی معنی پاک ہونا، بڑھنا اور نشوونما پانا کے ہیں۔ یہ مالی عبادت ہے۔ یہ محض ناداروں کی کفالت اور دولت کی تقسیم کا ایک موزوں ترین عمل ہی نہیں بلکہ ایسی عبادت ہے جو قلب او ررُوح کا میل کچیل بھی صاف کرتی ہے۔ انسان کو اللہ کا مخلص بندہ بناتی ہے۔ نیز زکوٰۃ اللہ کی عطا کی ہوئی بے حساب نعمتوں کے اعتراف اور اس کا شکر بجا لانے کا بہترین ذریعہ ہے۔

    ارشادِ باری تعالیٰ ہے اِنْ تُقْرِ ضُوااﷲَ قَرْضاً حَسَناً یُضَاعِفْہُ لَکُمْ وَ یَغْفِر لَکُمْج (سورئہ التغابن 17) ترجمہ! اگر قرض دو اللہ کو اچھی طرح قرض دینا وہ دو گنا کرے تم کو اور تم کو بخشے۔

    اس کے مقابلے میں جو لوگ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے اُن کے لئے اللہ کاارشاد ہے وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ اْلذَّھَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَا یُنْفِقُو نَہَا فِیْ سَبِیْلِ اﷲِ فَبَشِّرْ ہُمْ بِعَذَاْبٍ اَلِیْمٍ ط (سورئہ توبہ 34)۔ ترجمہ! جو لوگ جمع رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اس کو خرچ نہیں کرتے اللہ کی راہ میں سو اُن کو خوشخبری سُنا دے عذاب ِ دردناک کی۔

    زکوٰۃ کے متعلق ہر طبقے مثلا عام لوگ، تاجر، زمیندار اور جانور پالنے والوں کے لئے انتہائی اہم معلومات

    ایک لاکھ پر -/2500 روپے زکوۃ ادا کی جائے گی-
    دو لاکھ پر -/5000
    تین لاکھ پر -/7500
    چار لاکھ پر -/10000
    پانچ لاکھ پر-/12500
    چھ لاکھ پر -/15000
    سات لاکھ پر-/17500
    آٹھ لاکھ پر-/20000
    نو لاکھ پر-/22500
    دس لاکھ پر-/25000
    بیس لاکھ پر-/50000
    تیس لاکھ پر-/75000
    چالیس لاکھ پر-/100000
    پچاس لاکھ پر-/125000
    ایک کروڑ پر-/250000
    دو کروڑ پر-/500000
    ‎ہم زکوٰۃ کیسےادا کریں؟
    ‎اکثرمسلمان رمضان المبارک میں زکوة ادا کرتے ہیں
    ‎سونا چاندی
    ‎زمین کی پیداوار
    ‎مال تجارت
    ‎جانور
    ‎پلاٹ
    ‎کرایہ پر دیےگئے مکان
    ‎گاڑیوں اوردکان وغیرہ کی زکوۃ کیسے اداکی جاتی ہے۔

    قرآن کریم میں زکوۃ ادا کرنے والے کے لئے سخت عذاب کی وعید سنائی گئی ہے-

    1۔زکوٰۃکا انکار کرنے والاکافر ہے۔(حم السجدۃآیت نمبر 6-7)
    ‎2۔زکوٰۃادا نہ کرنے والے کو قیامت کے دن سخت عذاب دیا جائےگا۔(التوبہ34-35)

    3۔زکوٰۃ ادا نہ کرنے والی قوم قحط سالی کاشکار ہوجاتی ہیں۔(طبرانی)
    4۔زکوٰة كامنکر‎جوزکوٰةادانہیں کرتااسکی نماز،روزہ،حج سب بیکار ہیں۔

    دوسری جانب زکوۃ دینے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے آخرت میں خوشخبری سنائی ہے-
    ‎5 ۔زکوٰۃاداکرنے والےقیامت کےدن ہر قسم کےغم اورخوف سےمحفوظ ہونگے-
    (البقرہ 277)
    ‎6۔زکوٰۃ کی ادائیگی گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی کا بہت بڑاذریعہ ہے(التوبہ103)

    ‎زکوٰۃکا حکم:
    ‎ ہر مال دارمسلمان مرد ہو یاعورت پر زکوٰۃ واجب ہے۔خواہ وہ بالغ ہو یا نابالغ ،عاقل ہویا غیر عاقل بشرط یہ کہ وہ صاحب نصاب ہو۔

    ‎نوٹ۔سود،رشوت،چوری ڈکیتی،اور دیگرحرام ذرائع سےکمایا ہوا مال ان سےزکوٰۃ دینے کابالکل فائدہ نہیں ہوگا صرف حلال کمائی سے دی گئی زکوٰۃ قابل قبول ہے۔

    ‎زکوٰۃ کتنی چیزوں پر ہے-

    ‎زکوٰۃ چار چیزوں پر فرض ہے ۔
    1۔سونا چاندی
    ‎2۔زمین کی پیداوار
    ‎3۔مال تجارت
    ‎4۔جانور۔

    ‎سونے کی زکوٰۃ:
    87گرام یعنی ساڑھےسات تولے سونا پر زکوٰۃ واجب ہے -(ابن ماجہ1/1448)

    ‎نوٹ۔سونا محفوظ جگہ ہو یا استعمال میں ہر ایک پرزکوٰۃ واجب ہے۔(سنن ابودائود کتاب الزکوٰۃ اوردیکھئے حاکم جز اول صفحہ 390 ۔
    ‎فتح الباری جز چار صفحہ 13

    ‎چاندی کی زکوٰۃ:
    612گرام یعنی ساڑھےباون تولے چاندی پر زکوٰۃواجب ہے اس سے کم وزن پر نہیں۔(ابن ماجہ)

    ‎زکوٰۃ کی شرح:
    ‎ زکوٰۃ کی شرح بلحاظ قیمت یا بلحاظ وزن اڑھائی فیصد ہے۔(صحیح بخاری کتاب الزکاۃ)

    ‎زمین کی پیدا وار پر زکوٰۃ:
    ‎ مصنوعی ذرائع سے سیراب ہونے والی زمین کی پیدا وارپر عشر بیسواں حصہ دینا ہوگا ورنہ ہے۔قدرتی ذرائع سے سیراب ہونے والی پیداوار پر شرح زکوٰۃ دسواں حصہ ہے دیکھئے(صحیح بخاری کتاب الزکوٰۃ)-

    ‎نوٹ:زرعی زمین والےافراد گندم،مکی،چاول،باجرہ،آلو،سورج مکھی،کپاس،گنااوردیگر قسم کی پیداوار سے زکوٰۃ یعنی (عشر )بیسواں حصہ ہرپیداوار سےنکالیں۔ (صحیح بخاری کتاب الزکاۃ)-

    ‎اونٹوں کی زکوٰۃ:
    ‎ پانچ اونٹوں کی زکوٰۃ ایک بکری اور دس اونٹوں کی زکاۃ دو بکریاں ہیں۔پانچ سے کم اونٹوں پر زکوٰۃ واجب نہیں۔(صحیح بخاری کتاب الزکوٰۃ)-

    ‎بھینسوں اورگائیوں کی زکوٰۃ

    30گائیوں پر ایک بکری زکوٰۃہے۔
    40گائیوں پردوسال سے بڑا بچھڑا زکوٰۃ دیں۔(ترمذی1/509)

    ‎بھینسوں کی زکوٰۃکی شرح بھی گائیوں کی طرح ہے۔

    ‎بھیڑبکریوں کی زکوٰۃ:
    40سے ایک سو بیس بھیڑ بکریوں پر ایک بکری زکوٰۃہے جبکہ 120سےلےکر200تک دو بکریاں زکوٰۃ۔ (صحیح بخاری کتاب الزکاۃ)
    ‎چالیس بکریوں سے کم پرزکوٰۃ نہیں۔

    ‎کرایہ پر دیئے گئےمکان پر زکوٰۃ:
    ‎ کرایہ پردیئے گئے مکان پر زکوٰۃنہیں لیکن اگراسکاکرایہ سال بھر جمع ہوتا رہے جو نصاب تک پہنچ جائے اور اس پر سال بھی گزر جائے تو پھر اس کرائے پر زکوٰۃ واجب ہے۔اگر کرایہ سال پورا ہونے سے پہلے خرچ ہو جائے توپھر زکوٰۃ نہیں۔شرح زکوٰۃ اڑھائی فیصد ہوگی۔

    ‎گاڑیوں پر زکوٰۃ:
    ‎ کرایہ پر چلنےوالی گاڑیوں پر زکوٰۃ نہیں بلکہ اسکے کرایہ پر ہےوہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ کرایہ سال بھر جمع ہوتا رہے اور نصاب تک پہنچ جائے۔

    ‎نوٹ:
    ‎گھریلو استعمال والی گاڑیوں، جانوروں،حفاظتی ہتھیار۔مکان وغیرہ پر زکوٰۃ نہیں (صحیح بخاری)-

    ‎سامان تجارت پر زکوٰۃ:
    ‎ دکان کسی بھی قسم کی ہو اسکےسامان تجارت پر زکوٰۃدینا واجب ہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ مال نصاب کو پہنچ جائے اوراس پرایک سال گزر جائے۔

    ‎نوٹ:دکان کےتمام مال کا حساب کر کے اسکا چالیسواں حصہ زکوٰۃ دیں یعنی ۔دکان کی اس آمدنی پرزکوٰۃنہیں جوساتھ ساتھ خرچ ہوتی رہے صرف اس آمدنی پر زکوٰۃ دینا ہوگی جوبنک وغیرہ میں پورا سال پڑی رہے اور وہ پیسے اتنے ہوکہ ان سے ساڑھےباون تولےچاندی خریدی جاسکے-

    ‎پلاٹ یا زمین پر زکوٰۃ:
    ‎ جو پلاٹ منافع حاصل کرنے کے لیئے خریدا ہو اس پر زکوٰۃ ہوگی ذاتی استعمال کے لیے خریدا گیا پلاٹ پر زکوٰۃ نہیں۔
    ‎(سنن ابی دائودکتاب الزکوٰۃ حدیث نمبر1562)-

    ‎کس کس کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔
    ‎ماں باپ اور اولاد کےسوا سب زکوٰۃکےمستحق مسلمانوں کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔والدین اوراولادپراصل مال خرچ کریں زکوٰۃ نہیں۔
    ‎نوٹ:
    ‎(ماں باپ میں دادا دادی ، نانا نانی اوراولادمیں پوتے پوتیاں نواسیاں نواسے بھی شامل ہیں۔

    ‎زکوٰۃکےمستحق لوگ
    ‎1۔مساکین(حاجت مند)
    ‎2۔غریب
    3۔ زکاۃوصول کرنےوالے
    ‎4۔مقروض
    ‎5۔قیدی
    ‎6۔ مجاھدین
    ‎7.مسافر (سورۃالتوبہ60)

    اگر کچھ سونا ہے، کچھ چاندی ہے، یا کچھ سونا ہے، کچھ نقد روپیہ ہے، یا کچھ چاندی ہے، کچھ مالِ تجارت ہے، ان کو ملاکر دیکھا جائےتو ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت بنتی ہےاس صورت میں زکوٰۃ فرض ہے-

    ‎عشری زمین کی پیداوار پر بھی زکوٰة فرض ہے

  • شب برات کی فضیلت و حقیقت

    شب برات کی فضیلت و حقیقت

    عوام میں نصف شعبان کی رات کا اہتمام کرنے اور خاص طور سے اسی رات میں عبادات انجام دینے کے کئی اسباب ہیں جن میں ایک سبب یہ بھی ہے کہ رسول اللہ کی طرف منسوب ایسی بہت ساری احادیث کا وجود جن سے اس رات کی فضیلت، اس میں اعمال کی پیشی، عمر کی تحدید، رزق کی تقسیم، دعاء کی قبولیت اور خود رسول اللہ کااس رات عبادات کے اہتمام کا پتہ چلتا ہے لہٰذا اس عظیم ثواب کے حصول اور سنت نبوی ؐ کی پیروی میں لوگ اس رات کااہتمام اور اس رات کی تعظیم میں بہت زیادہ مبالغہ کرتے ہیں۔

    براۃ کے معنیٰ ہیں نجات، اور شبِ برات کا معنیٰ ہے گناہوں سے نجات کی رات۔ گناہوں سے نجات توبہ سے ہوتی ہے۔ یہ رات مسلمانوں کے لئے آہ و گریہ و زاری کی رات ہے، رب کریم سے تجدید عہد کی رات ہے، شیطانی خواہشات اور نفس کے خلاف جہاد کی رات ہے، یہ رات اللہ کے حضور اپنے گناہوں سے زیادہ سے زیادہ استغفار اور توبہ کی رات ہے۔ اسی رات نیک اعمال کرنے کا عہد اور برائیوں سے دور رہنے کا عہد دل پر موجود گناہوں سے زنگ کو ختم کرنے کاموجب بن سکتا ہے۔

    قرآن پاک میں فرمان باری تعالیٰ: فیہا یفرق کل أمر حکیم(الدخان 4)۔”اسی رات میں ہر فیصلہ شدہ معاملہ بانٹ دیا جاتا ہے”کی بعض تفاسیر میں آیا ہے کہ اس سے مراد نصف شعبان کی رات ہے۔ علامہ زمخشری کہتے ہیں:

    نصف شعبان کی رات کے چار نام ہیں:
    لیلۃ المبارکہ
    لیلۃ البراۃ
    لیلۃ الصک
    لیلۃ الرحمۃ
    اور کہا گیا ہے کہ اس کو شب برات اور شب صک اس لئے کہتے ہیں کہ بُندار یعنی وہ شخص کہ جس کے ہاتھ میں وہ پیمانہ ہوکہ جس سے ذمیوں سے پورا خراج لے کر ان کے لئے برات لکھ دیتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اس رات کو اپنے بندوں کے لئے بخشش کا پروانہ لکھ دیتا ہے۔ اس کے اور لیلۃ القدر کے درمیان چالیس راتوں کا فاصلہ ہوتا ہے۔

    یہ بھی ایک قول ہے کہ یہ رات پانچ خصوصیتوں کی حامل ہوتی ہے۔

    اس میں ہر کام کا فیصلہ ہوتا ہے۔
    اس میں عبادت کرنے کی فضیلت ہے۔
    اس میں رحمت کانزول ہوتا ہے۔
    اس میں شفاعت کا اتمام ہوتا ہے۔
    اور پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس رات میں یہ عادت کریمہ ہے کہ اس میں آب زمزم میں ظاہراً زیادتی فرماتا ہے۔

    زیادہ تر مفسرین کا بھی ماننا ہے کہ مذکورہ رات سے مراد شب قدر ہے۔ چنانچہ فرمان باری تعالیٰ:

    حٰم وَالْکِتٰبِ الْمُبِيْنِ اِنَّـآ اَنْزَلْنٰـهُ فِیْ لَيْلَةٍ مُّبٰـرَکَةٍ اِنَّا کُنَّا مُنْذِرِيْنَ فِيْهَا يُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِيْمٍ

    حا میم (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں) اس روشن کتاب کی قسم بے شک ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں اتارا ہے۔ بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں اس (رات) میں ہر حکمت والے کام کا (جدا جدا) فیصلہ کردیا جاتاہے۔ (الدخان، 44: 1تا4)

    اس آیت کی تفسیر میں علماء فرماتے ہیں کہ برکت والی رات سے مراد شب قدر ہے۔یہاں اللہ تعالیٰ نے رات کو مبہم رکھا ہے لیکن دوسری جگہ واضح کردیا ہے کہ جس برکت والی رات میں قرآن کریم اتارا گیا ہے، وہ شب قدر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
    "بے شک ہم نے قرآن کو لیلۃ القدر یعنی خیروبرکت والی رات میں نازل کیا ہے۔”
    اور یہ نزول رمضان المباک کے مہینہ میں ہواجیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    "وہ رمضان کا مہینہ تھا جس میں قرآن نازل ہوا۔”(البقرہ185)۔

    اور یہاں جس برکت والی رات کا جس میں ذکر ہوا ہے، اس برکت کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس بیان میں صاف کردیا کہ لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔

    اللہ تعالیٰ نے اس رات کو مبارکہ(برکت والی ) رات کا نام اس لئے دیا ہے کہ اللہ اس رات لوگوں کے درجات میں اضافہ فرماتا ہے، ان کی لغزشوں کو معاف کرتا ہے، قسمت کی تقسیم کرتا ہے، رحمت پھیلاتا ہے اور خیر عطا کرتا ہے-((احکام القرآن لابن العربی)۔

    ابن العربی کہتے ہیں: "اکثر علماء کے نزدیک :فیہا یفرق کل امر حکیم(الدخان4)یعنی اسی رات میں ہر طے شدہ معاملہ بانٹ دیا جاتاہے، سے مراد شب قدر ہے جبکہ کچھ علماء کا کہنا ہے کہ یہ نصف شعبان کی رات ہے لیکن یہ بے بنیاد بات ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی سچی اور فیصلہ کن کتاب قرآن مجید میں فرمایا:وہ رمضان کا مہینہ تھا جس میں قرآن نازل ہوا(البقرہ185)۔

    سیدہ عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا :

    ” 4راتوں میں اللہ تعالیٰ خیر کے دروازے کھول دیتا ہے: عیدالاضحی کی رات، عیدالفطر کی رات، نصف شعبان کی رات جس میں عمر، روزی اور حج کرنے والے کے بارے میں لکھا جاتا ہے اور عرفہ کی رات، صبح کی اذان تک۔” (الدر المنثور، وقال ابن العربی : لایصح فیہا شیٔ ولافی نسخ الآجال ،احکام القرآن)۔

    بعض روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس رات دعا قبول ہوتی ہے مثلاً عبدالرزاق نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے :”
    4″راتوں میں دعاء مستردنہیں ہوتی: جمعہ کی رات ،پہلی رجب کی رات، نصف شعبان کی رات اورعیدین کی رات۔”(مصنف عبدالرزاق)۔
    نصف شعبان کی رات میں عبادات کااہتمام:

    نصف شعبان کی رات کی فضیلت بیان کرنے والی مذکورہ احادیث کی بنا پر لوگ نہ صرف اس رات کی تعظیم کرتے ہیں بلکہ اس رات میں نماز اور دعاء کا بھی اہتمام کرتے ہیں۔ اس رات میں عبادت کرنے کے سلسلے میں جو احادیث آئی ہیں، ان میں سیدنا علی بن ابی طالب ؓ کی یہ حدیث بھی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:

    "جب نصف شعبان ہو تو رات میں عبادت کرو اور دن میں روزہ رکھو کیونکہ اللہ تعالیٰ اس رات آفتاب غروب کے بعد آسمانِ دنیا پر اتر تاہے اور فرماتا ہے: ہے کوئی بخشش طلب کرنے والا جسے میں بخشش دوں؟ ہے کوئی روزی مانگنے والا جسے میں روزی دوں؟ ہے کوئی مصیبت زدہ، جس کی مصیبت دور کروں؟ یہاں تک فجر طلوع ہوجاتی ہے۔”(سنن ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلاۃ، باب ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان)۔

    خطیب بغدادی اور ابن نجار نے حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے روایت کی ہے کہ: رسول اللہ (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام شعبان کے روزے رکھ کر اس کو رمضان کے ساتھ ملادیتے تھے اور آپ کسی بھی ماہ کے تمام دنوں کے روزے نہ رکھتے تھے سوائے شعبان کے۔ میں نے عرض کی: یارسول اللہ (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) شعبان کا مہینہ آپ کو بڑا پسند ہے کہ آپ اس کے روزے رکھتے ہیں؟ آپ (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: ہاں۔ اے عائشہ (رضی اللہ عنہا): کوئی نفس بھی پورے سال میں فوت نہیں ہوتا مگر اس کی اجل شعبان میں لکھ دی جاتی ہے۔ تو میں پسند کرتا ہوں کہ جب میری اجل لکھی جائے تو میں اللہ کی عبادت اور عمل صالح میں مصروف ہوں۔(امام جلال الدین سیوطی ’’تفسیر در منثور‘)

    نصف شعبان کی رات کی بہت فضیلت ہے، جیسا کہ علمائے عظام کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس رات کو کسی متعین عبادت کے لئے خاص کرلیا جائے۔مثلاًرات میں نماز پڑھنا اوردن میں روزہ رکھنا کیونکہ اس بارے میں رسول اللہ سے کوئی قابل اعتماد حدیث کاپتہ نہیں جبکہ کسی عبادت کی قبولیت کی2 شرطیں ہیں: صرف اللہ کی رضامندی کے لئے ہواور سنت کے مطابق ہو۔اگر کسی بھی عبادت میں ان دونوں میں سے کوئی شرط مفقود ہو تو وہ عبادت قابل قبول نہیں۔

  • کیا منی پلانٹ لگانے سے گھر میں دولت کی ریل پیل ہو جاتی ہے؟

    کیا منی پلانٹ لگانے سے گھر میں دولت کی ریل پیل ہو جاتی ہے؟

    منی پلانٹ کا نام تو سب نے سنا ہوگا ۔منی پلانٹ سے متعلق کئی باتیں منسوب بھی کی جاتی ہیں منی پلانٹ کا سائنسی زبان میں نباتاتی نام ایپی پرینیم منی پلانٹ کہتے ہیں منی پلانٹ ایک آرائشی، سرسبز، خوبصورت اور سدا بہار بیل ہے یہ پانی میں بھی اگائی جا سکتی ہے اور مٹی میں بھی۔ اِس کی خاص بات یہ ہے کہ اِس پر نہ کوئی پھل لگتا ہے اور نہ پھول۔ لیکن اگر یہ جنگل میں اگا ہو تو اِس پر بہت دیر بعد پھول لگ جاتے ہیں اور ایسا ہونا بہت نایاب ہے اس کا وطن جنوب مشرقی ایشیائی ممالک ہیں۔ اسے بڑھنے کے لیے گرم مرطوب موسم مون سون پسند ہے۔

    پودوں کو تین بنیادی نیوٹرینٹس کی ضرورت ہوتی ہے۔ پہلا نائیٹروجن دوسرا پوٹاشیم اور تیسرا فاسفورس۔ نائیٹروجن سے پودے میں ہریالی آتی ہے یعنی پتے وغیرہ بہت اگتے ہیں۔ پوٹاشیم سے جریں شاہیں اور تنہ وغیرہ مضبوط ہوتے ہیں اور شاہیں ذیادہ اگتی ہیں اور فاسفورس سے پھول اور پھل بہت ذیادہ اگتا ہے منی پلانٹ کو کسی بھی خاص کھاد کی ضرورت نہیں ہوتی آپ اِس کو صرف پانی میں بھی لگا دیں تو یہ پھلتا پھولتا رہے گا۔

    منی پلانٹ کے فوائد:
    منی پلانٹ اپنی خوراک ہوا سے ہی حاصل کر لیتا ہے۔ اِس کی خاص بات یہ بھی ہے کہ جس گھر میں یہ لگا ہو اُس گھر میں جتنی بھی مضر صحت گیسیں ہوتی ہیں منی پلانٹ اُس کو جزب کر لیتا ہے اوراُن کو اپنی خوراک بنا لیتا ہے اور گھر کا ماحول بھی تازہ اور خوشگوار رہتا ہے۔ اِس کی ایک اور خاص بات جو دوسرے پودوں سے منفرد ہے وہ یہ کے دوسرے پودے دن میں اپنے اندر سے اوکسیجن باہر نکالتے ہیں اور کاربنڈائی اوکسائیڈ اپنے اندر جزب کرتے ہیں اور رات کو اوکسیجن اور کاربنڈائی اوکسائیڈ دونوں ہی جزب کرتے ہیں۔ لیکن منی پلانٹ دن میں بھی اوکسیجن خارج کرتا ہے اور رات میں بھی اوکسیجن ہی خارج کرتا ہے۔ جس سے گھر کے ماحول میں تازگی رہتی ہے۔

    منی پلانٹ لگانے کا طریقہ:
    منی پلاٹ گملے میں بھی لگا سکتے ہیں اور پانی میں بھی اگر گملے میں لگانا ہے تو گملے میں مٹی بھر لیجیے اور اگر پانی میں لگانا ہے تو کسی بوتل وغیرہ میں پانی بھر لیجیے۔ اس کے بعد آپ کو منی پلانٹ کی بیل کا ایک چھوٹا ٹکرا چاہیے ہو گا۔ وہ بیل کا چھوٹا ٹکڑا آپ اپنی لوکل نرسری سے بھی حاصل کر سکتے ہیں یا پھر اگر آپ کے آس پاس کسی نے منی پلانٹ لگایا ہوا ہے تو آپ اُن سے بھی بیل کا ایک چھوٹا ٹکڑا لے سکتے ہیں۔ اُس کی لمبائی کم از کم دو اینچ ہونی چاہیے۔ اب اُس بیل کے ٹکرے پر اگر پتے لگے ہوئے ہیں تو اُن کو اتار لیں صرف سرے پر جو چھوٹے پتے لئے ہوں اُن کو نہ اتاریں۔ اب آپ اِس بیل کو گملے میں لگا لیں اور کسی چھاوں والی جگہ پر رکھ دیں جہاں سورج کی روشنی آتی ہے۔

    لیکن یاد رہے کہ اِس کو دھوپ میں نہیں رکھنا۔ اسی طرح آپ اِس کو پانی میں بھی لگا سکتے ہیں۔ ایک بوتل لیں اور اُس میں پانی ڈال دیں۔ اِس کے بعد اُس بوتل میں بیل ڈال دیں۔ اور اُس کو کسی چھائوں والی جگہ پر رکھ دیں جہاں سورج کی روشنی آتی ہو۔ بیل لگانے کے ایک یا دو ہفتے کے اندر اندر آپ کی بیل کی جڑیں نکل آئیں اور آپ کی بیل بڑھنے شروع ہو جائے گی اور اُس پر نئے پتے بھی لگنے شروع ہو جائیں گے۔

    منی پلانٹ کے بارے میں اختیاطی تدابیر:
    اگر آپ نے پانی میں منی پلانٹ لگایا ہے تو جس بوتل وغیرہ میں بھی آپ نے منی پلانٹ لگایا ہے اُس میں پانی کا لیول برکرار رکھیں یعنی اگر پانی ختم ہو رہا ہو تو اُس بوتل میں دوبارہ پانی بھر دیں اگر گملے میں منی پلانٹ لگایا ہے تو اُس کو روز پانی دیں لیکن یہ یاد رہے کہ پانی گملے میں کھڑا نہیں ہونا چاہیے۔ اگر پانی گملے میں کھڑا رہا تو آپ منی پلانٹ کی جڑیں گل جائے گئیں اور وہ مرجھا جائے گا منی پلانٹ کی بیل اور پتے بہت بد ذائقہ ہوتے ہیں۔ اِس لیے کبھی غلطی سے بھی اُن کو نہ چکھیں۔

    منی پلانٹ کے بارے میں مفروضات:
    نام کی مناسبت سے یہ خیال بھی عام ہے کہ منی پلانٹ لگانے سے گھر میں دولت کی ریل پیل ہو جاتی ہے تاہم پودے بیچنے والوں کی نظر میں منی پلانٹ لگا کر امیر ہوجانے کی بات میں کوئی صداقت نہیں البتہ کہا جاتا ہے کہ صحت بڑی دولت ہے تواس لحاظ سے دیکھا جائے تومنی پلانٹ واقعی بڑا دولت بخش پودا ہے ۔ گھر کے ماحول میں چوبیس گھنٹے وافر آکسیجن سے گھر بھر تروتازہ اورہشاش بشاش رہتا ہے۔

  • پاکستان کے ساحلوں پر اچانک بڑی تعداد میں جیلی فش کیوں نظر آنے لگیں؟

    پاکستان کے ساحلوں پر اچانک بڑی تعداد میں جیلی فش کیوں نظر آنے لگیں؟

    چند روز قبل پاکستان کے صوبہ سندھ اور بلوچستان کے ساحلوں پر اچانک بڑی تعداد میں مردہ جیلی فش نظر آنے لگیں۔

    باغی ٹی وی :ایک فٹ سے لے کر نصف فٹ چوڑی اور کلو سے ڈیڑھ کلو وزنی یہ سمندری حیات سمندری لہروں کے ساتھ تیرتی ہوئی کراچی کے سی ویو سے لے کر بلوچستان کے اوڑماڑہ ساحل تک دیکھی گئیں۔

    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ جیلی فش آخر آئی کہاں سے اور ان کا ساحلوں پر اس طرح نمودار ہونے کا کیا مطلب ہے؟

    اس حوالے سے غیر ملکی خبر رساں ادارے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے جنگلی حیات کے عالمی ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف کے معاون معظم خان کا کہنا ہے کہ جب سمندر میں جیلی فش کی تعداد بڑھی تو ماہی گیروں نے اس کا فائدہ اٹھانا شروع کیا اور اس کی ہارویسٹنگ کا آغاز ہو گیا۔

    انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اسے نمک اور پھٹکڑی لگا کر چین برآمد کیا جاتا ہے برآمد ہونے والی جیلی فش کی دو اقسام ہیں ایک کو ‘اصلی’ اور ایک کو ‘جنگلی’ کہا جاتا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ چین کی مارکیٹ میں کویوڈ کی وجہ سے مندی کا رجحان ہے اور کویوڈ کے بعد انھوں نے برآمدات پر بھی کچھ پابندیاں لگائی ہیں اس لیے پاکستان سے وہاں جیلی فش جا نہیں رہی یا کم جا رہی ہے اس لیے اس موسم میں ماہی گیروں نے اس کی ہارویسٹنگ نہیں کی اور یہ مردہ حالت میں ساحلوں تک پہنچ گئیں۔

    معظم خان کے مطابق پاکستان میں جیلی فش کی پچاس سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں جو سندھ کی کریکس سے لے کر بلوچستان کی کلمت تک پھیلی ہوئی ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ جس طرح پہاڑوں پر پھول کھلتے ہیں اس طرح سمندر میں جیلی فش کا بلوم آتا ہے جس کی وجہ سے یہ بڑی تعداد میں ملتی ہیں۔15 سال پہلے تک یہ اس تعداد میں نہیں ملتی تھیں اور اس کی ایک بڑی وجہ موسمیاتی تغیر ہے۔

    ان کے مطابق اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر مچھلی کا شکار اور وہ سمندری حیات جو جیلی فش کو خوراک کے طور پر استعمال کرتی ہیں ان کی تعداد میں کمی بھی جیلی فش کی تعداد میں اضافے کے ایک وجہ سمجھی جاتی ہے۔

    بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے ساحل پر ماہی گیر جال لگا کر بھی مچھلیاں پکڑتے ہیں سی ویو پر بھی ایک درجن کے قریب ماہی گیر ایک طویل جال سمندر میں لے گئے اور وہاں سے کھینچ کر کنارے تک لائے اور اس میں سے جیلی فش نکال نکال کر ساحل پر پھینکتے رہے۔

    ایک ماہی گیر آفتاب نے بتایا کہ مارچ سے لے کر مئی، جون تک جیسے جیسے پانی کی سطح بلند ہوتی ہے اور یہ گرم ہوتا ہے یہ جیلی فش ساحل کی طرف آتی ہیں

    آفتاب نے بتایا کہ عام دنوں میں جال میں مچھلی زیادہ آتی ہے لیکن ان دنوں میں جیلی فش بھی آ جاتی ہے، پہلے یہ جیلی فش چین خرید لیتا تھا ابھی ان کا بھاؤ نہیں اس لیے ہم اس کو پکڑ کر باہر پھنیک دیتے ہیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ایک ایسا وقت بھی تھا جب چین والوں کو جیلی فش کی طلب ہوئی تو ماہی گیروں نے مچھلی چھوڑ کر اس کا کاروبار شروع کر دیا اور ساحل پر جال لگا کر مچھلی پکڑنے والوں سے لے کر کشتی والے ماہی گیروں تک بس اس کا شکار کرتے رہے لیکن آج کل اسے کوئی نہیں خریدتا۔

    کراچی یونیورسٹی کے شعبے میرین سائنس کی سربراہ ڈاکٹر راشدہ قادری کا کہنا ہے کہ جیلی فش میں اضافے کی متعدد وجوہات ہیں، جن میں Eutrophication یعنی پانی میں معدنیات اور نشوونما کے اجزا شامل ہو جانا، سیوریج سمندر میں جانے سے سمندری نباتات بڑھنا، اس کے علاوہ انسانی سرگرمیاں اور سمندری درجہ حرارت میں اضافہ شامل ہیں۔

    ’اگر ان کو کنٹرول کیا جائے تو جیلی فش کی تعداد معمول پر آ سکتی ہے۔‘

  • دستگیری کر میری اے  دستگیر     بقلم:ام شاہد

    دستگیری کر میری اے دستگیر بقلم:ام شاہد

    دعا
    ✍️از قلم ام شاہد
    تجھ سے اے مالک تیری یہ
    نالائق غلام…………..
    چند چیزیں مانگتی ھیــــں
    تجھ سے صبح و شام………
    میری ہر خواہش کو تو ں
    پورا کر ے…………
    اور جو کچھ اے اللّٰــــــہ
    توں دے مجھے…………
    تیری ہی اطاعت میں کام
    آئے مجھے………………
    اور ذرائع تیری مرضی کا بنے……….
    جتنی چیزوں سے ھے
    محبت مجھے……………
    زائل ان میں سے توں کر
    ڈالے جسے……………
    پھر مجھے اس کے عوض
    میں اے اللّٰــــــہ…………
    اپنی مرضی کی توں محبت
    کر عطا مجھے………….
    دے مجھے اپنی محبت
    اس قدر…………..
    ہر اک محبت سے یہی
    ہو بیشتر…………
    اور محبت ہی تیری اے غنی………..
    سب سے بڑھ کر ہو مجھے
    دلبستگی…………..
    دے مجھے خوف اپنا سب سے بیشتر…………
    سب سے بڑھ کر مجھے تیرا ہی ڈر………….
    جب ہو میری عمر کا وقت اخیر…………
    دستگیری کر میری اے
    دستگیر…………..
    میری اچھی عمر عمر اخیر…
    فضل و رحمت سے تیرے
    اے دستگیر…………
    سب سے اچھے ہوں میرے
    پچھلے عمل………..
    سب سے اچھا وقت ہو
    میرا وقت اجل……..
    تیرے ملنے کا شوق ہو اتنا
    مجھے…………
    کر دیں جو دنیا سے بے پرواہ
    مجھے………….
    اور ھیــــں دنیا کی جتنی
    حاجتیں…………..
    بھول بیٹھوں سب کو میں
    اس شوق میں…………
    اور ملوں جس روز تجھ سے
    اے غنی……….
    سب سے روز ہو اچھا
    میرا وہی…………..
    جس طرح دنیا سے دنیا
    دار کی……….
    ٹھنڈی کرتا ھیــــں توں آنکھیں اے غنی……………
    ام شاہد کی کر آنکھوں کو بھی ٹھنڈک عطاء ………..
    بندگی سے اپنی اے رب العالمین………….
    ام شاہد کے دل کو بھی کر
    ٹھنڈک عطاء…………
    محبت سے اپنی رب العالمین……………….

  • آب و ہوا میں تبدیلی  اورہرجگہ منفی اثرات کی وجہ سےویسٹرن مونارک تتلیاں ناپید ہونے کے قریب

    آب و ہوا میں تبدیلی اورہرجگہ منفی اثرات کی وجہ سےویسٹرن مونارک تتلیاں ناپید ہونے کے قریب

    ایریزونا: پچھلی چند دہائیوں کے دوران حالیہ کئی مطالعات میں کیڑوں میں بڑے پیمانے پر کمی آئی ہےجن میں ویسٹرن بٹرفلائی بھی شامل ہیں-

    باغی ٹی وی : ویسٹرن بٹر فلائی ایک زمانے میں مشہور تتلیاں ہوا کرتی تھیں اور گزشتہ 40 سال سے اب تک ہرسال ان کی تعداد میں 1.6 فیصد کم ہورہی ہے اس حوالے سے بین الاقوامی سائنسی جریدے سائنس میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق 450 مختلف اقسام کی تتلیوں کا سروے کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ 1980 سے اب تک ویسٹرن مونارک تتلیوں کی آبادی 99.9 کم ہوچکی ہے۔

    ’ چند برس قبل مونارک تتلیوں کی آبادی لاکھوں میں تھیں اور اب ان کی کل تعداد 2000 نوٹ کی گئی ہیں،‘ تحقیق میں شامل سائنسداں کیٹی پروڈِک نے کہا جو جامعہ ایریزونا سے تعلق رکھتی ہیں۔

    ان کے خیال میں ویسٹرن مونارک تتلیاں اب معدومیت کے قریب جاپہنچی ہیں۔ اس کے علاوہ کیبج وائٹ اور دیگر اقسام کی تتلیاں بھی تیزی سے ختم ہورہی ہیں کیونکہ ان کا قدرتی گھر (مسکن) تباہ ہورہا ہے اس کے علاوہ دور تک نقل مکانی کرنے والی ویسٹ کوسٹ لیڈی تتلیاں بھی غائب ہوتی جارہی ہیں۔

    اس تحقیق میں عام شوقین افراد، ماہرین اور تتلیوں سے وابستہ سائنسدانوں نے مغربی امریکا سے جمع کردہ 40 سالہ ڈیٹا پیش کیا ہے اس میں موسمیاتی تبدیلیوں اور تتلیوں کے قدرتی مسکن اور زمین کو بھی شامل کیا گیا ہے تاہم اس میں مغربی یورپ کے گنجان آبادیوں میں تتلیوں کا احوال بھی شامل ہے لیکن آب و ہوا میں تبدیلی ہر جگہ منفی اثرات کی وجہ بن رہی ہے اور تتلیوں کی اقسام معمولی گرمی سے بھی شدید متاثر ہورہی ہیں۔

    تحقیق میں کہا گیا ہے کہ موسمِ بہار سمیت پورے سال موسمی حدت بڑھ رہی ہے یہ تتلی جیسے حساس جاندار پر دباؤ ڈال رہا ہے ان کی نشوونما متاثر ہوتی ہے اورہائبرنیشن کا عمل بھی متاثر ہورہا ہے پھر موسمیاتی تبدیلیوں سے ان کی خوراک اور پودے بھی کم ہوتے جارہے ہیں اسی وجہ سے تتلیوں کی کئی اقسام نقل مکانی پر بھی مجبور ہیں مثلاً سویلوٹیل بٹرفلائی اپنے اصل مسکن سے 325 کلومیٹر دور جاچکی ہے-

  • جامعہ الدراسات الاسلامیہ تقریب تکمیل بخاری آج شام 7 بجے لائیو نشر کی جائے گی

    جامعہ الدراسات الاسلامیہ تقریب تکمیل بخاری آج شام 7 بجے لائیو نشر کی جائے گی

    جامعہ الدراسات الاسلامیہ کراچی میں تقریب تکمیل بخاری براہ راست نشر کی جائے گی-

    باغی ٹی وی : تقریب تکمیل بخاری دیئے گئے لنکس پر 7 بجے لائیو نشر کی جائے گی ان شاء اللہ گورنر سندھ عمران اسماعیل اس تقریب کے مہمان خصوصی ہونگے.

    جبکہ اس تقریب کے حوالے سے ٹویٹر ایکٹیوٹی 7 بجے شروع ہو گی.

    واضح رہے کہ گلشن اقبال کراچی میں وفاق المدارس سلفیہ سے الحاق شدہ جامعہ الدراسات الاسلامیہ اہل حدیث مکتب فکر کی سب سے بڑی دینی علوم کی درسگاہ ہے یہ یونیورسٹی روڈ پر سفاری پارک کے سامنے واقع ہے۔

    جامعہ الدراسات الا سلامیہ گزشتہ پینتیس سال سے شعبہ درس نظامی شعبہ حفظ اور شعبہ لغت العربیہ اور طالبات کے لیے دوسالہ فہم دین کورس کروا رہا ہے۔

    جامعہ میں طلباءکو دینی تعلیم کے ساتھ ایم اے تک عصری تعلیم کے مواقع، کمپیوٹر کورس، فن تحریر وتقریرکے کورس بھی کروائے جاتے ہیں جامعہ کے زیر اہتمام کراچی میں قائم 31 سے زائد طلباءوطالبات کے مدارس ہیں۔

  • کثرت کی طلب ایک فتنہ  بقلم: عمران محمدی

    کثرت کی طلب ایک فتنہ بقلم: عمران محمدی

    کثرت کی طلب ایک فتنہ

    بقلم: عمران محمدی عفا اللہ عنہ

    حرص و ہوس میں مبتلا انسان اپنی آخرت سے غافل ہو جاتا ہے

    فرمایا باری تعالیٰ نے
    أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ
    تمھیں ایک دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کی حرص نے غافل کر دیا۔
    التكاثر : 1

    حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ
    یہاں تک کہ تم نے قبرستان جا دیکھے۔
    التكاثر : 2

    كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ
    ہرگز نہیں، تم جلدی جان لو گے۔
    التكاثر : 3

    ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ
    پھر ہرگز نہیں، تم جلدی جان لو گے۔
    التكاثر : 4

    كَلَّا لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِينِ
    ہرگز نہیں، کاش! تم جان لیتے، یقین کا جاننا۔
    التكاثر : 5

    لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ
    کہ یقینا تم ضرور جہنم کو دیکھو گے۔
    التكاثر : 6

    ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِينِ
    پھر یقینا تم ضرور اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لو گے۔
    التكاثر : 7

    ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ
    پھر یقینا تم اس دن نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھے جاؤ گے۔
    التكاثر : 8

    کثرت کی حرص میں مبتلا انسان حلت و حرمت کے پیمانے بھول جاتا ہے

    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يُبَالِي الْمَرْءُ مَا أَخَذَ مِنْهُ أَمِنَ الْحَلَالِ أَمْ مِنْ الْحَرَامِ
    (بخاري ،كِتَابُ البُيُوعِ،بَابُ مَنْ لَمْ يُبَالِ مِنْ حَيْثُ كَسَبَ المَالَ،2059)
    لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان کوئی پرواہ نہیں کرے گا کہ جو اس نے حاصل کیا ہے وہ حلال سے ہے یا حرام سے ہے۔

    کثرت کی طلب میں فقراء کو نظر انداز کرنے کا انجام

    سورہ قلم میں ایسے لوگوں کا ایک واقعہ اللہ تعالیٰ نے نقل کیا ہے
    یہ چند بھائی تھے جنھیں اللہ تعالیٰ نے بہت شاندار باغ عطا فرمایا تھا، مگر بجائے اس کے کہ وہ اسے اللہ کی نعمت سمجھ کر اس میں سے اللہ تعالیٰ کا حصہ نکالتے، انھوں نے قسم کھالی کہ صبح ہوتے ہی اس کا پھل توڑ لیں گے، کسی مسکین کو نہ آنے دیں گے اور نہ انھیں کچھ دیں گے، مگر اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان کے جانے سے پہلے ہی آگ لگنے یا کسی اور آسمانی آفت سے باغ برباد ہو گیا۔ صبح گئے تو وہاں کچھ بھی نہ تھا۔

    اللہ تعالیٰ نے فرمایا
    إِنَّا بَلَوْنَاهُمْ كَمَا بَلَوْنَا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ
    یقینا ہم نے انھیں آزمایا ہے، جیسے ہم نے باغ والوں کو آزمایا، جب انھوں نے قسم کھائی کہ صبح ہوتے ہوتے اس کا پھل ضرور ہی توڑ لیں گے۔
    القلم : 17
    وَلَا يَسْتَثْنُونَ
    اور وہ کوئی استثنا نہیں کر رہے تھے۔
    القلم : 18
    فَطَافَ عَلَيْهَا طَائِفٌ مِنْ رَبِّكَ وَهُمْ نَائِمُونَ
    پس اس پر تیرے رب کی طرف سے ایک اچانک عذاب پھر گیا، جب کہ وہ سوئے ہوئے تھے۔
    القلم : 19
    فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ
    تو صبح کووہ (باغ) کٹی ہوئی کھیتی کی طرح ہو گیا۔
    القلم : 20
    فَتَنَادَوْا مُصْبِحِينَ
    پھر انھوں نے صبح ہوتے ہی ایک دوسرے کو آواز دی۔
    القلم : 21
    أَنِ اغْدُوا عَلَى حَرْثِكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَارِمِينَ
    کہ صبح صبح اپنے کھیت پر جا پہنچو، اگرتم پھل توڑنے والے ہو۔
    القلم : 22
    فَانْطَلَقُوا وَهُمْ يَتَخَافَتُونَ
    چنانچہ وہ چل پڑے اور وہ چپکے چپکے آپس میں باتیں کرتے جاتے تھے۔
    القلم : 23
    أَنْ لَا يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِسْكِينٌ
    کہ آج اس (باغ) میں تمھارے پاس کوئی مسکین ہر گز داخل نہ ہونے پائے۔
    القلم : 24
    وَغَدَوْا عَلَى حَرْدٍ قَادِرِينَ
    اور وہ صبح سویرے پختہ ارادے کے ساتھ اس حال میں نکلے کہ (اپنے خیال میں پھل توڑنے پر) قادر تھے۔
    القلم : 25
    فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُوا إِنَّا لَضَالُّونَ
    پس جب انھوں نے اسے دیکھا تو انھوں نے کہا بلاشبہ ہم یقینا راستہ بھولے ہوئے ہیں۔
    القلم : 26
    بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ
    بلکہ ہم بے نصیب ہیں۔
    القلم : 27
    قَالَ أَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ لَوْلَا تُسَبِّحُونَ
    ان میں سے بہتر نے کہا کیا میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے۔
    القلم : 28
    قَالُوا سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ
    انھوں نے کہا ہمارا رب پاک ہے، بلاشبہ ہم ہی ظالم تھے۔
    القلم : 29
    فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَلَاوَمُونَ
    پھر ان کا ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوا،آپس میں ملامت کرتے تھے۔
    القلم : 30
    قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا طَاغِينَ
    انھوں نے کہا ہائے ہماری ہلاکت! یقینا ہم ہی حد سے بڑھے ہوئے تھے۔
    القلم : 31
    عَسَى رَبُّنَا أَنْ يُبْدِلَنَا خَيْرًا مِنْهَا إِنَّا إِلَى رَبِّنَا رَاغِبُونَ
    امید ہے کہ ہمارا رب ہمیں اس کے بدلے میں اس سے بہتر عطا فرمائے گا۔یقینا (اب) ہم اپنے رب ہی کی طرف راغب ہونے والے ہیں۔
    القلم : 32
    كَذَلِكَ الْعَذَابُ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ
    اسی طرح (ہوتا) ہے عذاب۔ اور یقینا آخرت کا عذاب کہیں بڑا ہے، کاش ! وہ جانتے ہوتے۔
    القلم : 33

    کاروبار، تجارت اور مال وزر میں اتنا کھو جانا کہ دعوت و جہاد اور انفاق فی سبیل اللہ سے دوری ہوجائے، یہ ہلاکت ہے

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
    اور اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت کی طرف مت ڈالو اور نیکی کرو، بے شک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
    البقرة : 195

    ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ آیت ہم انصار کی جماعت کے بارے میں نازل ہوئی، جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو عزت بخشی اور اس کے مددگار بہت ہو گئے تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے چھپا کر دوسروں سے کہا کہ ہمارے اموال (یعنی کھیت اور باغات وغیرہ) ضائع ہو گئے، اب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو عزت بخشی ہے اور اس کے مدد گار بہت ہو گئے ہیں، چنانچہ ہم اگر اپنے اموال میں ٹھہر جائیں اور جو ضائع ہو گئے ہیں انھیں درست کر لیں(تو بہترہے)، تو اللہ تعالیٰ نے ہماری بات کی تردید کرتے ہوئے یہ آیت اتار دی
    لھذا ’’ہلاکت‘‘ ہمارا اپنے اموال میں ٹھہر جانا، انھیں درست کرنا اور جنگ کو چھوڑ دینا تھا۔
    ابو ایوب رضی اللہ عنہ اللہ کے راستے ہی میں نکلے رہے یہاں تک کہ روم کی سرزمین میں دفن ہوئے۔
    [ ترمذی، التفسیر، باب و من سورۃ البقرۃ : ۲۹۷۲ و صححہ الألبانی ]

    آدمی کے مال کی حقیقت

    ابو مُطرّف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ يَقُوْلُ ابْنُ آدَمَ مَالِيْ، مَالِيْ، قَالَ وَهَلْ لَكَ يَا ابْنَ آدَمَ! مِنْ مَّالِكَ إِلَّا مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ؟ ]
    [ مسلم، الزھد والرقائق، باب الدنیا سجن للمؤمن : ۲۹۵۸ ]
    ’’ابن آدم کہتا ہے میرا مال، میرا مال، حالانکہ اے آدم کے بیٹے! تیرے مال میں سے تیرا مال تو صرف وہی ہے جو تونے کھایا اور فنا کر دیا، یا پہنا اور پرانا کر دیا، یا صدقہ کیا اور آگے بھیج دیا۔‘‘

    مالداری سے اخروی فائدہ اٹھائیں

    عبداللّٰہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا:

    «اِغْتَنِمْ خمساً قَبْلَ خمسٍ، شَباَبَكَ قَبْلَ هَرَمِكَ وَ صِحَتَكَ قَبْلَ سُقمِكَ وَ غِنَاكَ قَبْلَ فَقْرِكَ وَ فَرَاغَكَ قَبْلَ شُغْلِكَ وَ حَیٰوتَكَ قَبْلَ مَوْتِكَ»

    ”پانچ چیزوں سے پہلے پانچ چیزوں کو غنیمت شمار کرو! اپنی جوانی کو اپنے بڑھاپے سے پہلے، اپنی صحت کو اپنی بیماری سے پہلے، اپنی مالداری کو اپنی تنگدستی سے پہلے، اپنی فراغت کو اپنی مشغولیت سے پہلے اور اپنی زندگی کو اپنی موت سے پہلے ۔”

    رواه الحاكم وصححه الألباني في صحيح الجامع الصغير (رقم 1077)

    ابن آدم کی حرص کی انتہا

    ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ لَوْ كَانَ لاِبْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَّالٍ لاَبْتَغٰي ثَالِثًا، وَلاَ يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلاَّ التُّرَابُ، وَيَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰي مَنْ تَابَ ]
    [ بخاري، الرقاق، باب ما یتقی من فتنۃ المال: ۶۴۳۶ ]
    ’’اگر ابن آدم کے پاس مال کی بھری ہوئی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری وادی تلاش کرے گا اور آدم کے بیٹے کے پیٹ کو مٹی کے علاوہ کوئی چیز نہیں بھرتی اور اللہ اس کی طرف پلٹ آتا ہے جو واپس پلٹ آئے۔‘‘

    مال و جاہ کی محبت آدمی کے دین کو کس قدر نقصان پہنچاتی ہے

    سب سے زیادہ نقصان دہ چیز، دو چیزوں کی حرص ہے
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلاَ فِيْ غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَی الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِيْنِهِ ]
    [ ترمذي، الزھد، باب حدیث ما ذئبان جائعان… : ۲۳۷۶، وصححہ الألباني ]
    ’’دو بھوکے بھیڑیے جو بھیڑ بکریوں میں چھوڑ دیے جائیں، وہ انھیں اتنا خراب نہیں کرتے جتنا آدمی کے مال اور شرف ( اونچا ہونے) کی حرص اس کے دین کو خراب کرتی ہے۔‘‘

     اے طائرِ لاہُوتی! اُس رزق سے موت اچھّی
     جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

    وہ لوگ سب سے زیادہ نقصان والے ہوتے ہیں جن کی ساری محنت اور کوشش محض دنیا حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہے

    قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا
    کہہ دے کیا ہم تمھیں وہ لوگ بتائیں جو اعمال میں سب سے زیادہ خسارے والے ہیں۔
    الكهف : 103
    الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا
    وہ لوگ جن کی کوشش دنیا کی زندگی میں ضائع ہوگئی اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک اچھا کام کر رہے ہیں۔
    الكهف : 104

    ’’جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں گم ہو کر رہ گئی‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور آخرت کی پروا نہ کی اور دنیا کی خوش حالیوں اور کامیابیوں کو اپنا اصل مقصد بنائے رکھا

    انسانی طبیعت میں حرص اور کنجوسی ہے

    اللہ تعالیٰ نے فرمایا
    وَأُحْضِرَتِ الْأَنْفُسُ الشُّحَّ
    اور تمام طبیعتوں میں حرص (حاضر) رکھی گئی ہے
    النساء :128

    اور فرمایا
    قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي إِذًا لَأَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْإِنْفَاقِ وَكَانَ الْإِنْسَانُ قَتُورًا
    کہہ دے اگر تم میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوتے تو اس وقت تم خرچ ہو جانے کے ڈر سے ضرور روک لیتے اور انسان ہمیشہ سے بہت بخیل ہے۔
    الإسراء : 100

    سورہ نساء میں ہے
    أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ فَإِذًا لَا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا
    یا ان کے پاس سلطنت کا کچھ حصہ ہے؟ تو اس وقت تو وہ لوگوں کو کھجور کی گٹھلی کے نقطہ کے برابر نہ دیں گے۔
    النساء : 53

    مال کی حرص بڑھاپے تک آدمی کے ساتھ رہتی ہے

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ يَكْبَرُ ابْنُ آدَمَ، وَ يَكْبَرُ مَعَهُ اثْنَتَانِ حُبُّ الْمَالِ، وَطُوْلُ الْعُمُرِ ]
    [ بخاري، الرقاق، باب من بلغ ستین سنۃ… : ۶۴۲۱ ]
    ’’آدمی بڑا ہوتا جاتا ہے اور اس کے ساتھ دو چیزیں بڑی ہوتی جاتی ہیں، مال کی محبت اور لمبی عمر کی محبت۔‘‘

    جتنی زیادہ نعمتیں، اتنا زیادہ محاسبہ

    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما بھوک کی وجہ سے گھر سے نکلے اور ایک انصاری کے گھر آئے، اس نے مہمانی میں کھجوریں اور بکری کا گوشت پیش کیا۔ آپ نے گوشت اور کھجوریں کھائیں اور اوپر سے شیریں پانی پیا۔ جب خوب سیر ہوچکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ! لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هٰذَا النَّعِيْمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ]
    [ مسلم، الأشربۃ، باب جواز استتباعہ غیرہ… : ۲۰۳۸ ]
    ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم سے قیامت کے دن اس نعمت کے بارے میں ( بھی) سوال ہوگا۔‘‘

    کھجوریں اور جو کی روٹی کھا کر چٹائی پر سونے والوں کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    {ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ}
    تم سے ایک دن تمام نعمتوں کی بابت لازماً پوچھا جائے گا۔

    ذرا سوچیے کہ پھر ہمارا کیا بنے گا !!

    اور فرمایا
    وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا
    اور اس چیز کا پیچھا نہ کر جس کا تجھے کوئی علم نہیں۔ بے شک کان اور آنکھ اور دل، ان میں سے ہر ایک، اس کے متعلق سوال ہوگا۔
    الإسراء : 36

    دنیا میں ایسے رہو جیسے مسافر یا راستہ چلنے والا رہتا ہے

    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا
    «كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ»
    (بخاری ،كِتَابُ الرِّقَاقِ،بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: «كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ»،6416)
    ” دنیا میں اس طرح ہوجاجیسے مسافر یا راستہ چلنے والا ہو “

    حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے ، انھوں نے فرمایا
    اضْطَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَصِيرٍ فَأَثَّرَ فِي جِلْدِهِ فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ كُنْتَ آذَنْتَنَا فَفَرَشْنَا لَكَ عَلَيْهِ شَيْئًا يَقِيكَ مِنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَنَا وَالدُّنْيَا إِنَّمَا أَنَا وَالدُّنْيَا كَرَاكِبٍ اسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا
    (ابن ماجہ، كِتَابُ الزُّهْدِ،بَابُ مَثَلُ الدُّنْيَا،4109)
    (السلسلۃ الصحیحۃ 1388)
    :رسول اللہ ﷺ چٹائی پر (آرام کرنے کے لئے) لیٹے تو اس کے نشان آپ کے جسم مبارک پر ظاہر ہوگئے ۔ میں نے عرض کیا:اللہ کے رسول ! اگر آپ ہمیں فرماتے توہم آپ کے لئے کوئی چیز (بستر وغیرہ)بچھادیتے جس کے ساتھ اس (چٹائی کی سختی)سے بچاؤ ہوجاتا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :‘‘میرا دنیا سے کیاتعلق ! میری اور دنیا کی مثال توایسے ہے، جیسے کوئی سوار (مسافر)سائے کے لئے درخت کے نیچے ٹھہرا،پھر اسے چھوڑ کر روانہ ہوگیا’’

    اخراجات میں میانہ روی اختیار کریں گے تو کثرت کی حرص کنٹرول ہوسکتی ہے

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    كُلُوا وَاشْرَبُوا وَالْبَسُوا وَتَصَدَّقُوا فِي غَيْرِ إِسْرَافٍ وَلَا مَخِيلَةٍ
    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کھاؤ، پیو، پہنو اور صدقہ کرو فضول خرچی اور بخل کے بغیر
    (ابو داؤد و علقہ البخاری)

    خرچ کرنے میں میانہ روی اختیار کیجئے
    وَلَا تَجۡعَلۡ يَدَكَ مَغۡلُوۡلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبۡسُطۡهَا كُلَّ الۡبَسۡطِ فَتَقۡعُدَ مَلُوۡمًا مَّحۡسُوۡرًا
    اور نہ اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا کرلے اور نہ اسے کھول دے، پورا کھول دینا، ورنہ ملامت کیا ہوا، تھکا ہارا ہو کر بیٹھ رہے گا۔
    الإسراء – آیت 29

    اور فرمایا
    وَلَا تُبَذِّرۡ تَبۡذِيۡرًا
    اور مت بےجا خرچ کر، بےجا خرچ کرنا۔
    الإسراء – آیت 26
    اِنَّ الۡمُبَذِّرِيۡنَ كَانُوۡۤا اِخۡوَانَ الشَّيٰطِيۡنِ‌ ؕ وَكَانَ الشَّيۡطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوۡرًا
    بیشک بےجا خرچ کرنے والے ہمیشہ سے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان ہمیشہ سے اپنے رب کا بہت ناشکرا ہے۔
    الإسراء – آیت 27

    کھانے پینے میں میانہ روی اختیار کریں
    يٰبَنِىۡۤ اٰدَمَ خُذُوۡا زِيۡنَتَكُمۡ عِنۡدَ كُلِّ مَسۡجِدٍ وَّكُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا وَلَا تُسۡرِفُوۡا‌ ۚ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ المسرفین
    اے آدم کی اولاد ! ہر نماز کے وقت اپنی زینت لے لو اور کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ گزرو، بیشک وہ حد سے گزرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔  الأعراف – آیت 31

    قناعت پسند شخص کامیاب ہوگیا

    حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :
    قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ وَرُزِقَ كَفَافًا وَقَنَّعَهُ اللَّهُ بِمَا آتَاهُ
    (مسلم ،كِتَابُ الزَّكَاةِ،بَابٌ فِي الْكَفَافِ وَالْقَنَاعَةِ2426)
    ” وہ انسان کا میاب و بامراد ہو گیا جو مسلمان ہو گیا اور اسے گزر بسر کے بقدر روزی ملی اور اللہ تعا لیٰ نے اسے جو دیا اس پر قناعت کی تو فیق بخشی

    اپنے سے زیادہ مالدار لوگوں کی طرف نہ دیکھیں

    کثرت کی حرص سے بچنے اور قناعت اختیار کرنے کا بہترین حل یہ ہے کہ اپنے سے زیادہ مالدار لوگوں کی طرف دیکھا ہی نہ جائے اور نہ ہی ان کی شاہانہ زندگی زیر بحث لائی جائے

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    وَلَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ اِلٰى مَا مَتَّعۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّنۡهُمۡ زَهۡرَةَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا لِنَفۡتِنَهُمۡ فِيۡهِ‌ ؕ وَرِزۡقُ رَبِّكَ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى
    اور اپنی آنکھیں ان چیزوں کی طرف ہرگز نہ اٹھا جو ہم نے ان کے مختلف قسم کے لوگوں کو دنیا کی زندگی کی زینت کے طور پر برتنے کے لیے دی ہیں، تاکہ ہم انھیں اس میں آزمائیں اور تیرے رب کا دیا ہوا سب سے اچھا اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا ہے۔

    میزان بینک کے مالک کا بیٹا

    اونچے سٹیٹس اور ٹھاٹھ باٹھ کی باتیں سننے، کرنے اور دیکھنے سے انسان کی طبیعت میں اسی طرح کے ماحول اور سہولیات کو حاصل کرنے کی تمنا پیدا ہوتی ہے اور پھر اگر یہ حاصل نہ ہو سکے تو مایوسی اور بے چینی پیدا ہوتی ہے

    ہمارے استاذ گرامی جناب یوسف طیبی صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک واقعہ سنایا
    وہ فرماتے ہیں کہ میزان بینک کے مالک کا بیٹا کراچی کے ایک مہنگے سکول میں تعلیم حاصل کرتا تھا کہ جہاں پر یورپ کے مالدار لوگوں کے تذکرے اس کے نصاب تعلیم میں پڑھائے جاتے تھے کچھ دنوں کے بعد دیکھا گیا کہ بچہ مایوس اور پریشان سا رہتا ہے باپ نے وجہ پوچھی تو بیٹے نے بتایا کہ ابا جی ہمارے گھر میں سویمنگ پول نہیں ہے میں اس لیے پریشان ہوں

    وائٹ بورڈ پہ لگی لائن کو چھوٹا کریں

    کہتے ہیں ایک استاد نے وائٹ بورڈ پہ مارکر کے ساتھ ایک لکیر کھینچی اور کلاس میں موجود تمام شاگردوں سے کہا اس لکیر کو کسی طرف سے کاٹے بغیر چھوٹا کریں سب شاگرد حیران رہ گئے کہ کاٹنا بھی نہیں اور چھوٹا بھی کرنا ہے یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے
    جب جواب دینے میں ناکام ہوگئے تو استاد نے اسی کے ساتھ اس سے کچھ بڑی لکیر کھینچی
    اور پوچھا بتاؤ کون سی لکیر چھوٹی ہے تو تمام شاگردوں نے کہا ہاں جو پہلے تھی وہ چھوٹی ہے
    استاد صاحب نے کہا دیکھا ناں کیسے یہ لکیر بغیر کاٹے چھوٹی ہو گئی ہے
    پھر انہوں نے کہا کہ جب یہ اکیلی تھی اس کا کسی کے ساتھ مقابلہ نہیں تھا تو اس کو کوئی بھی چھوٹا نہیں کہتا تھا مگر جب اس کا اس سے بڑی کے ساتھ موازنہ ہوا تو یہ چھوٹی محسوس ہونے لگی کیوں کہ کیمپریزن میں بڑی چیز بھی چھوٹی بن جاتی ہے
    یہی حالت ہماری زندگی کی سہولیات کی ہے جب ہم اپنے پاس موجود نعمتوں کو دوسروں کے پاس موجود نعمتوں سے موازنہ کرتے ہیں تو ہمیں اپنی نعمتیں چھوٹی محسوس ہونے لگتی ہیں

    اپنے سے کمزور لوگوں کی طرف دیکھیں تاکہ شکر پیدا ہو

    حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ،کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    انْظُرُوا إِلَى مَنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَلَا تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ فَهُوَ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ
    (كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ،بَابٌ «الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ، وَجَنَّةُ الْكَافِرِ»،7430)
    "اس کی طرف دیکھو جو(مال ور جمال میں) تم سے کمتر ہے،اس کی طرف مت دیکھو جو تم سے فائق ہے ،یہ لائق تر ہے اسکے کہ تم اللہ کی نعمت کو حقیر نہ سمجھو گے جو تم پر کی گئی۔”

    پہننے کے لیے جوتا نہیں ہے تو شکوہ شکایت کی بجائے اسے دیکھیں جس کے پاؤں ہی نہیں ہیں

    ایک شخص اللہ تعالیٰ سے جوتا مانگ رہا تھا اور کچھ شکوہ بھی کر رہا تھا کہ میں اتنا غریب ہوں کہ میرے پاس پہننے کے لئے جوتا بھی نہیں ہے دعا سے فارغ ہو کر مسجد سے باہر نکلا تو ایسے شخص کو دیکھا جس کے پاؤں ہی نہیں تھے فوراً کہنے لگا اللہ تیرا شکر ہے تو نے مجھے جوتا نہیں دیا تو کوئی بات نہیں پاؤں تو دیئے ہیں ناں

    کمزوروں کے ساتھ رہنے کی، نبوی خواہش

    انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ اَللّٰهُمَّ أَحْيِنِيْ مِسْكِيْنًا وَ أَمِتْنِيْ مِسْكِيْنًا وَاحْشُرْنِيْ فِيْ زُمْرَةِ الْمَسَاكِيْنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِمَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ!؟ قَالَ إِنَّهُمْ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِأَرْبَعِيْنَ خَرِيْفًا ]
    ’’اے اللہ! مجھے مسکین ہونے کی حالت میں زندہ رکھنا، مسکین ہونے کی حالت میں موت دے اور مسکینوں کی جماعت سے اٹھا۔‘‘ عائشہ رضی اللہ عنھا نے پوچھا : ’’یا رسول اللہ! یہ کیوں؟‘‘ آپ نے فرمایا : ’’وہ جنت میں اپنے اغنیاء سے چالیس (۴۰) سال پہلے جائیں گے۔‘‘
    [ ترمذي، الزھد، باب ما جاء أن فقراء المھاجرین… : ۲۳۵۲ ]

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گزارے کی زندگی پسند کیا کرتے تھے

    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوْتًا ]
    ’’اے اللہ! آل محمد کا رزق گزارے کے برابر کر دے۔‘‘
    [ مسلم، الزکاۃ، باب في الکفاف و القناعۃ : ۱۰۵۵ ]

    انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
    «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدَّخِرُ شَيْئًا لِغَدٍ»
    (ترمذي،أَبْوَابُ الزُّهْدِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ،بَاب مَا جَاءَ فِي مَعِيشَةِ النَّبِيِّ ﷺ وَأَهْلِهِ​2362صحيح)
    نبی اکرمﷺ آنے والے کل کے لیے کچھ نہیں رکھ چھوڑتے تھے

    تکلفانہ زندگی کی خواہش کا بہترین تریاق آخرت کی یاد

    حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں موجود تھے اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی بارگاہِ اقدس میں حاضر تھے جبکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مضبوط بٹی ہوئی پٹّی کی چارپائی پر تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک پہلوؤں اور (چارپائی کی سخت کھردری) پٹّی کے درمیان کوئی چیز (بچھی ہوئی) نہ تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام لوگوں سے زیادہ نرم و نازک جلد والے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلو بدلا تو (نظر آیا کہ اس سخت) پٹّی کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نرم و نازک جلد اور پہلوؤں میں دھنسنے کے نشانات تھے۔ پس (یہ دیکھ کر) حضرت عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
    اے عمر! تمہیں کس چیز نے رلا دیا؟
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :
    یا رسول اﷲ! بخدا میں نہ روتا اگر میں یہ نہ جانتا ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اﷲ تعالیٰ کے ہاں قیصر و کسریٰ سے زیادہ مقام و مرتبہ ہے۔ بے شک وہ دنیا میں عیش و عشرت سے زندگی گزار رہے ہیں اور آپ اِس حالت میں ہیں جسے میں دیکھ رہا ہوں۔
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
    یَا عُمَرُ، أَمَا تَرْضٰی أَنْ تَکُوْنَ لَنَا الْآخِرَۃُ وَلَھُمُ الدُّنْیَا
    اے عمر! کیا تو اِس بات پر راضی نہیں کہ ہمارے لیے آخرت اور اُن کے لئے دنیا ہو۔
    اُنہوں نے عرض کیا :
    (یا رسول اﷲ!) کیوں نہیں۔
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
    سو (اصل حقیقت) یہی ہے۔”

    جو انعامات اللہ کے پاس ہیں وہ دین سے غافل کردینے والی تجارت سے کہیں بہتر ہے

    اللہ تعالیٰ نے فرمایا
    وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا قُلْ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ اللَّهْوِ وَمِنَ التِّجَارَةِ وَاللَّهُ خَيْرُ الرَّازِقِينَ
    اور جب وہ کوئی تجارت یا تماشا دیکھتے ہیں تو اٹھ کر اس طرف چلے جاتے ہیں اور تجھے کھڑا چھوڑ جاتے ہیں، کہہ دے جو اللہ کے پاس ہے وہ تماشے سے اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ سب رزق دینے والوں سے بہتر ہے۔
    الجمعة : 11

    یعنی اللہ کی خاطر تم جس لہو (کھیل تماشے) اور تجارت کو چھوڑو گے اللہ کے پاس اس سے کہیں بہتر بدلا دنیا اور آخرت دونوں میں موجود ہے

    اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا یقین ہوتو دنیا کی مصیبتیں کچھ بھی محسوس نہیں ہوتیں

    اگر کسی سے کہا جائے کہ آگ میں چھلانگ لگا دو تو کوئی بھی آگ میں چھلانگ لگانے کے لئے تیار نہیں ہوگا لیکن اگر یقین دلا دیا جائے کہ آگ کے دوسری طرف ایک کلو سونا پڑا ہے اگر آپ کسی طرح اس طرف پہنچ جائیں تو وہ آپ کو مل جائے گا تو بہت سے لوگ ایسے ہوں گے جو اس میں چھلانگ لگانے کے لئے تیار ہو جائیں گے
    سونے کے حصول کا یقین ان پر آگ کی مصیبت کو ہلکا کر دے گا
    بالکل اسی طرح اگر ہمارے دلوں میں اللہ سے ملاقات کا یقین پختہ ہوجائے اور آخرت کی نعمتوں پر یقین آجائے تو دنیا کی مصیبتیں ہمارے لئے بہت ہلکی ہو سکتی ہے

    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ کم ہی ایسا ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی کسی مجلس سے اپنے صحابہ کے لیے یہ دعا کیے بغیر اٹھے ہوں :
    اللَّهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا يَحُولُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِيكَ وَمِنْ طَاعَتِكَ مَا تُبَلِّغُنَا بِهِ جَنَّتَكَ وَمِنْ الْيَقِينِ مَا تُهَوِّنُ بِهِ عَلَيْنَا مُصِيبَاتِ الدُّنْيَا وَمَتِّعْنَا بِأَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُوَّتِنَا مَا أَحْيَيْتَنَا وَاجْعَلْهُ الْوَارِثَ مِنَّا وَاجْعَلْ ثَأْرَنَا عَلَى مَنْ ظَلَمَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى مَنْ عَادَانَا وَلَا تَجْعَلْ مُصِيبَتَنَا فِي دِينِنَا وَلَا تَجْعَلْ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا وَلَا تُسَلِّطْ عَلَيْنَا مَنْ لَا يَرْحَمُنَا
    (ترمذی ،ابْوَابُ الدَّعَوَاتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ،باب دعاء اللَّهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا يَحُولُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِيكَ،3502)
    یعنی اے اللہ ہمیں اپنی ملاقات اور جنت کی ملاقات اور یوم آخرت کی ملاقات کا ایسا پختہ یقین عطا فرما دے کہ دنیا کی مصیبتیں ہمیں بالکل ہلکی محسوس ہونا شروع ہو جائیں

    اولاد کی تربیت کی فکر کرو سہولیات کی نہیں

    کثرت مال کی حرص اور ہوس پیدا کرنے کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی ہے آدمی اپنی اولاد کو نازونعم میں دیکھنے کا خواہش مند ہوتا ہے اور پھر اس خواہش کو پروان چڑھانے کے لیے ہر طرح سے کوشش کرتا ہے

    اپنی اولاد کی اچھی تربیت کی فکر کرو
    سہولیات کی فکر مت کیا کرو
    پرندے اپنے بچوں کو اڑنا اور پرواز کرنا سکھاتے ہیں گھونسلے بنا کر نہیں دیتے

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی کو سہولیات کی بجائے تعلق باللہ پر تربیت کرتے ہیں

    فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ) چکی پیسنے کی تکلیف کی شکایت کی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس آئیں لیکن آپ موجود نہیں تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان کی ملاقات ہوئی تو ان سے اس کے بارے میں انہوں نے بات کی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فاطمہ رضی اللہ عنہا کے آنے کی اطلاع دی، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود ہمارے گھر تشریف لائے، اس وقت ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے، میں نے چاہا کہ کھڑا ہو جاؤں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یوں ہی لیٹے رہو، اس کے بعد آپ ہم دونوں کے درمیان بیٹھ گئے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی،۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    أَلَا أُعَلِّمُكُمَا خَيْرًا مِمَّا سَأَلْتُمَانِي إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا تُكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ ، وَتُسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَتَحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ
    کہ تم لوگوں نے مجھ سے جو طلب کیا ہے کیا میں تمہیں اس سے اچھی بات نہ بتاؤں، جب تم سونے کے لیے بستر پر لیٹو تو چونتیس مرتبہ اللہ اکبر، تینتیس مرتبہ سبحان اللہ اور تینتیس مرتبہ الحمدللہ پڑھ لیا کرو، یہ عمل تمہارے لیے کسی خادم سے بہتر ہے۔
    ( Sahih Bukhari#3705)

    ایک آدمی پنکھے سے جھول گیا

    ایک شخص صرف اس وجہ سے خودکشی کرتے ہوئے پنکھے سے جھول گیا کہ اس نے اپنے بچوں کو چھوٹی عید پر کپڑے بنوا کر دیے تھے اور جب بڑی عید آئی تو اس کے بچوں نے پھر کپڑوں کی ڈیمانڈ کی اس کی جیب میں اتنے پیسے نہیں تھے کہ نئے کپڑے بنوا کر دے سکتا
    بچوں نے کہا کہ بابا ہمارے ہمسایوں نے تو اپنے بچوں کو نئے کپڑے بنوا کر دیے ہیں تو وہ دل برداشتہ ہو گیا اور اس نے خودکشی کر لی

    حالانکہ اگر اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو سامنے رکھا ہوتا اور اپنے بچوں کو وہی بات سمجھاتا جو نبی علیہ السلام نے اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو سمجھائی تھی تو کبھی بھی خود کشی کی نوبت نہ آتی

    اللہ تعالیٰ نے فرمایا
    الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ أَمَلًا
    مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی زینت ہیں اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے ہاں ثواب میںبہتر اور امید کی رو سے زیادہ اچھی ہیں۔
    الكهف : 46

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کو دنیا کی زندگی پر آخرت کو ترجیح دینے کا سبق دیتے ہیں

    بنوقریظہ کے اموال اور دوسری فتوحات کے نتیجے میں جب مسلمانوں کی حالت کچھ بہتر ہو گئی تو انصار و مہاجرین کی عورتوں کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے بھی نان و نفقہ میں اضافے کا مطالبہ کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی صورت اپنی زہد و قناعت کی زندگی ترک کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ بیویوں کے اصرار پر آپ کو سخت رنج اور صدمہ ہوا اور آپ نے قسم کھا لی کہ میں ایک ماہ تک تمھارے پاس نہیں آؤں گا۔ اسے ’’ایلاء‘‘ کہتے ہیں

    پھر آپ پر یہ آیات نازل ہوئیں
    يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا
    اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دے اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کا ارادہ رکھتی ہو تو آئو میں تمھیں کچھ سامان دے دوں اورتمھیں رخصت کردوں، اچھے طریقے سے رخصت کرنا۔
    الأحزاب : 28
    وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا
    اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخری گھر کا ارادہ رکھتی ہو تو بے شک اللہ نے تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔
    الأحزاب : 29