Baaghi TV

Category: اسلام

  • ڈیرہ غازیخان ۔ بین الصوبائی شاہراہ این 70 پر ٹریفک کی روانی بحال

    ڈیرہ غازیخان ۔ بین الصوبائی شاہراہ این 70 پر ٹریفک کی روانی بحال

    ڈیرہ غازیخان ۔ بین الصوبائی شاہراہ این 70 پر ٹریفک کی روانی بحال کردی گئی
    شہری بھی برسات میں احتیاط کریں ، محتاط ڈرائیونگ اور ٹریفک قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے پریشانی سے بچ سکتے ہیں۔کمشنر
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ڈیرہ غازی خان بارش کی وجہ سے راکھی گاج نیلی مٹی کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ سے روڈ بلاک ہونے پر کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس اکرام ملک کے حکم پر ایس ایچ او حافظ یوسف اپنی فورس سمیت بروقت موقع پر پہنچ گئے اور اپنی مددآپ کے تحت روڈ کلیئر کرانا شروع کرادیا ،


    اس دوران کمشنر ڈیرہ غازیخان نے بھی لینڈسلائنڈنگ سے بین الصوبائی شاہراہ این 70 بند ہونے کافوری نوٹس لیااور بارڈر ملٹری پولیس کی بھاری نفری دونوں سائیڈ پر تعینات کرائی اور این ایچ اے کی بھاری مشینری سے پتھر اور مٹی کو ہٹادیا گیا، بھاری مشینری کے ذریعے روڈ کلیئر کرادیا گیابین الصوبائی شاہراہ این 70 پر ٹریفک کی روانی بحال کرادی گئی۔کمشنر عثمان انورنے کہاکہ وزیر اعلی میاں محمد حمزہ شہباز شریف کی ہدایت پر مسافروں کی آسانی کیلئے ہرممکن اقدامات کئے جارہے ہیں ،انہوں نے مزیدکہاکہ شہری بھی برسات میں احتیاط کریں ،

    محتاط ڈرائیونگ اور ٹریفک قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے پریشانی سے بچ سکتے ہیں۔یاد رہے گذشتہ ہفتے بھی راکھی گاج کے قریب نیلی مٹی کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ سے تین دن تک بین الصوبائی شاہراہ بند رہی اور مسافروں اورڈرائیوروں کو کافی مشکلات سامناکرناپڑاتھا اُس دوران گاڑیوں کے فیول بھی ختم ہوگئے تھے اور روڈکلیئرکراتے ہوئے بی ایم پی کمانڈنٹ کی گاڑی بھی لینڈسلائنڈنگ کی زد میں آگئی تھی تاہم وہ خود محفوظ رہے تھے، اُس وقت بھی بارڈرملٹری پولیس نے اپنے کمانڈنٹ کے حکم پرروڈکلیئرکرایااورمسافروں کیلئے کھانے پینے کاانتظام بھی کیا تھا۔

  • مین شاہراہ سیلاب کے باعث کٹنے سےاپرچترال کا ایک ہفتے سے  زمینی رابطہ منقطع

    مین شاہراہ سیلاب کے باعث کٹنے سےاپرچترال کا ایک ہفتے سے زمینی رابطہ منقطع

    ضلع اپر چترال میں ریشن کے مقام پر سیلاب کی وجہ سے مین شاہراہ پچھلے ایک ہفتے سے کٹ چکی ہے جس کے نتیجے میں ضلع اپر چترال کا ملک کے دیگر حصوں سے زمینی رابطہ منقطع ہے۔ وزیر اعظم پاکستان کے مشیر انجنیر امیر مقام نے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا اور عوام کو فوری ریلیف دینے کا اعلان بھی کیا۔ تفصیل اپرچترال سے باغی ٹی وی کے نمائندے گل حماد فاروقی کی اس رپورٹ میں

  • جنوبی پنجاب میں بارشیں برسانے والاطاقتور سسٹم داخل، ڈینگی کا خطرہ

    جنوبی پنجاب میں بارشیں برسانے والاطاقتور سسٹم داخل، ڈینگی کا خطرہ

    جنوبی پنجاب میں آج رات سے بارشوں کا طاقتوار اور تگڑاسپیل داخل ہو رہا ہے جس سے گرج چمک اور تیز ہواٶں کے ساتھ موسلادھار بارشوں کا امکان ہے
    باغی ٹی وی رپورٹ جنوبی پنجاب میں آج سے بارشوں کا طاقتوار اور تگڑاسپیل داخل ہو رہا ہے جس سے گرج چمک اور تیز ہواٶں کے ساتھ موسلادھار بارشوں کا امکان ہے ٹمپریچر میں کمی دیکھنے کو مل سکتی ہے … آج رات سے جمعہ کی رات تک جنوبی پنجاب کے تمام اضلاع میں وقفے وقفے کے ساتھ موسلادھار بارشوں کا امکان ہے ملتان , بہاولپور , بہاولنگر , ڈیرہ غازی خان , فورٹ منرو , فورٹ عباس , وہاڑی , ملیسی , تونسہ , کوٹ ادو , لیہ , بھکر , لودھراں , ساہیوال , خانیوال , پاکپتن , اوکاڑہ , علی پور جام پور , فاضل پور , راجن پور , رحیم یار خان , خان پور , صادق آباد میں گرج چمک اور تیز ہواٶں کے ساتھ موسلادھار بارشوں کا امکان ہے

    اِدھر کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن محمد عثمان انور کی زیر صدارت ویڈیو لنک اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ افسران شریک تھے۔کمشنر عثمان انور نے کہا کہ موسم برسات ڈینگی کیس بڑھنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے اس لئے انسداد ڈینگی کےلئے ان ڈور،آوٹ ڈور سرویلینس بڑھائی جائے۔بارش کے دوران نکاسی آب کا بہتر انتظام کیا جائے۔نشیبی علاقوں کو خصوصی فوکس کیا جائے۔ڈینگی مچھر کی پرورش گاہوں کو تلف کرنا ضروری ہے ۔

    کمشنر عثمان انور نے کہا کہ محکموں کے فوکل پرسنز اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے انجام دیں۔انسداد ڈینگی سرگرمیوں کو حکومت پنجاب کی ڈیش بورڈ پر اندارج کرائی جائیں۔فرائض میں کوتاہی اور عدم دلچسپی برداشت نہیں ہوگی۔کمشنر عثمان انور نے کہا کہ ڈپٹی کمشنرز تمام معاملات کی خود نگرانی کریں۔انسداد ڈینگی مہم سے متعلق جائزہ اجلاس ہفتہ وار منعقد کیا جائے۔

  • کراچی: موسلادھار بارش، متعدد علاقے ڈوب گئے، گھروں میں پانی داخل، کرنٹ لگنے سے 3 جاں بحق

    کراچی: موسلادھار بارش، متعدد علاقے ڈوب گئے، گھروں میں پانی داخل، کرنٹ لگنے سے 3 جاں بحق

    کراچی: موسلادھار بارش، متعدد علاقے ڈوب گئے، گھروں میں پانی داخل، کرنٹ لگنے سے 3 جاں بحق
    باغی ٹی وی رپورٹ۔محکمہ موسمیات نے کراچی میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہاہے کہ بارشوں کا سلسلہ 18 جولائی تک جاری رہے گا۔شہرقائد میں کئی گھٹنوں سے جاری بارش اب بھی وقفے وقفے سے جاری ہے کو ابھی بھی مکمل طور پر تھم نہیں سکی اور آسمان پر سیاہ بادل منڈلا رہے ہیں جس سے مزیدبارش ہونے کاامکان موجودہے۔حکام کی جانب سے بھی شہریوں کو گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایات دی جارہی ہیں اور ایمرجنسی کی صورت میں 1299 ڈائل کرنے کا کہا گیاہے۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے کل رات سے تیز بارش جاری ہے جس کے باعث شہر کے متعدد علاقے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں،


    شہر میں کئی گھٹنوں سے جاری بارش ابھی بھی مکمل طور پرنہیں تھمی اور آسمان پر سیاہ بادل منڈلا رہے مزیدبارش کا پیغام دے رہے ہیں جس سے شہریوں کی پریشانی میں مزیداضافہ ہوگیاہے ،

    کمشنر کراچی نے اپنے پیغام میں شہریوں سے کہا ہے کہ وہ بلا ضرورت گھر وںسے نکلنے سے اجتناب کریں۔محکمہ موسمیات کی جانب سے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی بارش کے اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں۔

    محکمہ موسمیات کے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق شہر میں سب سے زیادہ بارش مسرور بیس پر 119 اعشاریہ 5 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔محکمہ موسمیات کے مطابق ڈی ایچ اے فیز ٹو میں 106، قائد آباد میں 76 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔محکمہ موسمیات نے بتایا ہے کہ فیصل بیس پر 65، اورنگی ٹاون میں 56، اولڈ ایئر پورٹ پر 49، گلشنِ حدید میں 46 اور جناح ٹرمینل پر 29 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شہرِ قائد کو بارش برسانے والے بادلوں نے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے، اس لیے مختلف علاقوں میں دن بھر موسلا دھار بارش ہو سکتی ہے۔موسمیاتی تجزیہ کار کے مطابق بحیرہ عرب سے مسلسل بارش برسانے والے بادل شہر کی جانب بڑھ رہے ہیں، ٹھٹھہ، بدین اور کیٹی بندر سے بادلوں کے آنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ان کا کہنا ہے کہ شہر میں مزید 2 سے 3 گھنٹے بارش کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔موسمیاتی تجزیہ کار نے امکان ظاہر کیا ہے کہ شہر میں کل شام تک وقفے وقفے سے بارش ہو سکتی ہے۔

    انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ موجودہ مون سون سسٹم کو بحیرہ عرب سے مسلسل نمی مل رہی ہے۔محکمہ موسمیات نے کراچی میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہاہے کہ بارشوں کا سلسلہ 18 جولائی تک جاری رہے گا۔

  • کوہ سلیمان کے بیشتر علاقوں میں بارش، طغیانی کا خدشہ

    کوہ سلیمان کے بیشتر علاقوں میں بارش، طغیانی کا خدشہ

    کوہ سلیمان کے بیشتر علاقوں میں بارش، طغیانی کا خدشہ
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ڈیرہ غازیخان میں کوہ سلیمان کے بیشتر علاقوں میں موسلادھار بارش ندی نالوں میں طغیانی،مون سون بارشوں کا سلسلہ باقاعدہ طور پر داخل،مزید بارشوں کی پیشگوئی، اس بار مون سون میں معمول سے زیادہ بارش ہونے کی توقع ہے،اس سے قبل کوہ سلیمان میں انتہائی خشک سالی پھیلی ہوئی تھی۔ لوگ پینے کے پانی کے لیے پریشان تھے۔ لیکن رواں ہفتے میں بارشوں کا ایک مضبوط سلسلہ بلوچستان سے کوہ سلیمان میں داخل ہوا ہے،پورا کوہ سلیمان سیاہ بادلومیں گھرا ہوا ہے،کوہ سلیمان پر ہونے والی بارش سے پہاڑی تودے گرنے سے بین الصوبائی کوئٹہ روڈ گذشتہ تین روز سے بند ہے،

    قبائلی علاقے راکھی گاج نیلی مٹی کے مقام لینڈ سلائیڈنگ ایریا میں دوبارہ موسلا دھار بارش شروع ہونے کے باعث راکھی گاج نیلی مٹی کے مقام پر بلوچستان سے پنجاب سفر کرنے والے ہزاروں مسافر اور مریض بری طرح پھنس گئے،کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس اکرام ملک رات گئے روڈ کلیئر کرانے کے لیے خود موقع پر پہنچ گئے سرکل آفیسر سردار عبداللہ خان لغاری اور دیگر آفیسران بھی انکے ہمراہ تھے ، لینڈ سلائیڈنگ ایریا میں بارش کے دوران روڈ کلیئر کرانے میں بی ایم پی کوکافی مشکلات کاسامناکرنا پڑ رہا ہے ،نیشنل ہائی وے کے ارباب اختیار سلائیڈنگ ایریا میں ہیوی مشینری بھجوانے کی بجائے مکمل طور پرمنظر سے غائب ہیں،ڈیرہ غازیخان کی انتظامیہ خاص طور بی ایم پی کمانڈنٹ وہاں موقع پر موجود رہے تاہم ان کی گاڑی بھی لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آگئی ، پہاڑی مٹی ک تودا گرنے گاڑی کاشیشہ ٹوٹ گیاتاہم وہ خود محفوظ رہے،
    بی ایم پی کی طرف کوہ سلیماں لینڈسلائیڈنگ کی وجہ سے پھنسے ہوئے مسافروں اور ڈرائیوروں کو کھانا اور پانی کی بوتلیں بھی فراہم کی گئیں، راکھی گاج سے لے کر فورٹ منرو تک گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ پہاڑی علاقے میں پھنسے مسافروں، سیاحوں اور تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ڈی جی خان کوئٹہ روڈ دو ٹرکوں کے الٹنے، بارش، کیچڑ اور پہاڑوں سے پتھر گرنے کے باعث بلاک ہوئی۔ کئی گاڑیوں کے پیٹرول ڈیزل ختم ہوگئے ہیں ۔
    اُدھرشمال مشرقی بلوچستان میں موسلا دھار بارشوں اور سیلابی ریلوں کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔

    متعدد مکانات منہدم جبکہ رابطہ سڑکیں اور پل بہہ گئے، خانہ بدوشوں کی جھونپڑیاں اور مویشی بھی سیلابی ریلوں کی نظر ہو گئے۔لیویز حکام کیمطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ کوہ سلیمان اور کچھی کے پہاڑی سلسلوں میں موسلا دھار بارش سے رکنی اور کچھی کے میدانی علاقوں میں برساتی پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ کئی کچے مکانات گر گئے۔ہرنائی میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے جبکہ ضلع لسبیلہ میں بارشوں سے متعدد ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ خضدار اور ملحقہ علاقوں میں بارش سے کئی سالوں سے خشک ندی نالے بھی پانی سے بھرگئے ہیں۔

  • ڈیرہ،لینڈ سلائیڈنگ دو روزسے بین الصوبائی کوئٹہ روڈ بند،روڈ کلیئرکرانے کے دوران پہاڑی تودا بی ایم پی کمانڈنٹ کی گاڑی پر گر گیا

    ڈیرہ،لینڈ سلائیڈنگ دو روزسے بین الصوبائی کوئٹہ روڈ بند،روڈ کلیئرکرانے کے دوران پہاڑی تودا بی ایم پی کمانڈنٹ کی گاڑی پر گر گیا

    ڈیرہ غازیخان ۔لینڈسلائیڈنگ دوروزسے بین الصوبائی کوئٹہ روڈ بند،روڈکلیئرکرانے کے دوران پہاڑی تودا بی ایم پی کمانڈنٹ کی گاڑی پر گر گیا .
    باغی ٹی وی رپورٹ ۔ڈیرہ غازی خان بین الصوبائی کوئٹہ روڈ کی صورتحال کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس اکرام ملک رات گئے روڈ کلیر کرانے کے لیے خود پہنچ گئے سرکل آفیسر سردار عبداللہ خان لغاری اور دیگر آفیسران انکے ہمراہ تھے ،ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقے راکھی گاج نیلی مٹی کے مقام لینڈ سلائیڈنگ ایریا میں دوبارہ موسلا دھار بارش شروع ہونے کے باعث راکھی گاج نیلی مٹی کے مقام پر بین الصوبائی کوئٹہ روڈ پر بلوچستان سے پنجاب سفر کرنے والے ہزاروں مسافر مریض بری طرح پھنس گئے، بین الصوبائی کوئٹہ روڈ راکھی گاج نیلی مٹی کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ ایریا میں بارش کے دوران روڈ کلئیر کرانے میں بی ایم پی کمانڈنٹ وپولیٹکل اسسٹنٹ محمد اکرام ملک کو سخت مشکلات سامناکرنا پڑ رہا ہے

    ،بی ایم پی اہلکاربارش میں فرائض سر انجام دینے اور مسافروں کی مدد کرنے میں مصروف میں مصروف رہے اس دوران راکھی گاج نیلی مٹی کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ ایریا کلیئر کرانے کے دوران پہاڑی تودا پولیٹیکل اسسٹنٹ کوہ سلیمان محمد اکرام ملک کی گاڑی پر گر گیا ہے جس سے انکی گاڑی کو نقصان پہنچا ہے تاہم پولیٹیکل اسسٹنٹ کوہ سلیمان محمد اکرام ملک گاڑی میں محفوظ رہے ہیں۔ گاڑی پر تودا گرنے کے بعد وہ روڈ کلیئر کرانے کے لیے موٹر سائیکل پر سوار ہو گئے ہیں، پولیٹیکل اسسٹنٹ کوہ سلیمان محمد اکرام ملک کل سے روڈ کلیئر کرانے میں مصروف عمل ہیں۔انہوں نے کہا

  • کیا سیلاب پھرسب کچھ بہالے جائے گا؟

    کیا سیلاب پھرسب کچھ بہالے جائے گا؟

    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    محکمہ موسمیات کاکہنا ہے کہ پاکستان کے بالائی اور وسطی علاقوں میںآنے والی بارشوں سے مون سون کا سلسلہ شروع ہو چکاہے جبکہ اس سال ملک کے مختلف علاقوں میں 10سے 30فیصد تک زیادہ بارشیں ہونے کی توقع ہے۔رواں سال صوبہ پنجاب اور سندھ میں زیادہ بارشیں ہوں گی جبکہ باقی تمام علاقوں میں بھی معمول سے کچھ زیادہ بارشیں ہوں گی۔پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کی وارننگ جبکہ صوبہ سندھ، پنجاب، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخواہ کے علاوہ بڑے شہروں کراچی، لاہور، فیصل آباد سمیت دوسرے شہروں میں اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ رواں سال ملک میں معمول سے زیادہ مون سون بارشوں کے نتیجے میں پاکستان کو 2010 جیسی سیلابی صورت حال کا سامنا ہو سکتا ہے۔
    انسان کو خدانے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن میں سب سے قیمتی اور ضروری نعمت پانی ہے ۔ انسان پانی کے بغیرچنددن سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا،ہمارے جسم کا دو تہائی حصہ پانی پرمشتمل ہے۔ پانی ایک اہم غذائی جزوہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ پانی زندگی ہے تویہ غلط نہ ہوگا،انسان کی تخلیق سے لے کر کائنات کی تخلیق تک سبھی چیزیں پانی کی مرہون منت ہیں۔ قرآن کریم میں ہے۔ وجعلنا من الماِ کل شی حی افلا یو منون۔(ترجمہ)اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی تو کیا وہ ایمان نہ لائیں گے (سورہ انبیا ، آیت30 ) دوسری جگہ قرآن مجیدمیں اعلا ن فرمایا(ترجمہ)اور اللہ نے زمین پر ہرچلنے والا پانی سے بنایا تو ان میں کوئی اپنے پیٹ پر چلتاہے اور ان میں کوئی دو پائوں پر چلتا ہے اور ان ہی میں کوئی چار پائوں پر چلتاہے۔ اللہ بناتا ہے جو چاہے،بے شک اللہ سب کچھ کر سکتاہے۔(سورہ نور)اسی کرہِ ارض یعنی زمین پر جتنے بھی جاندار ہیں خواہ انسان ہوں یا دوسری مخلوق ان سب کی زندگی کی بقا پانی پر ہی منحصر (Depend) ہے ۔زمین جب مردہ ہوجاتی ہے تو آسمان سے آبِ حیات بن کر بارش ہوتی ہے اور اس طرح تمام مخلوق کے لئے زندگی کا سامان مہیا کرتی ہے۔
    پانی جہاں زندگی کی علامت ہے وہیں بارشوں اور سیلاب کی صورت میں کئی انسانی جانوں کے ضیاع کا بھی موجب ہے،بارشیں زیادہ ہونے سے دریائوں اور جھیلوں میں جب پانی گنجائش سے بڑھ جاتا ہے توان کے کناروں سے باہر آجاتا ہے جوسیلاب کاباعث بنتاہے،جس سے ہزاروں پاکستانی متاثرہوتے ہیں ،اس سیلاب سے قیمتی انسانی جانیں موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں، فصلیں اور مال مویشی سب کچھ اس سیلاب کی نظرہوجاتے ہیں،حالانکہ محکمہ موسمیات سیلاب کی پیشگی وارننگ جاری کرتا ہے ،مگراس سیلاب سے بچائوکیلئے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے جاتے ،جن علاقوں میں سیلاب کاخطرہ زیادہ ہوتا ہے وہاں پر ڈی سی اورکمشنرصاحبان وزٹ کرکے صرف فوٹوسیشن کرکے اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہوجاتے ہیں ،یہ نہیں دیکھاجاتاکہ محکمہ انہارکے آفیسران کیاگل کھلارہے ہیں،اس سیلاب سے بچائوکیلئے سپربندوں کے پشتے مضبوط بنانے کیلئے فرضی بلنگ اورفرضی ٹھیکے دیکربڑی کرپشن کی جاتی ہے۔ان کرپشن میں لتھڑے ناسوروں کے خلاف آج تک کوئی ایسی کارروائی دیکھنے کونہیں ملی جس میں ان لوگوں کوکوئی عبرت ناک سزادی گئی ہوتاکہ آئندہ ان سیلابوں سے ہونے والے نقصانات سے مملکت پاکستان کے باسیوں کوبچایاجاسکے۔
    ہرسال سیلاب سے ہماراکسان سب سے زیادہ متاثرہوتا ہے،یہ سیلابی پانی اپنے ساتھ فصلات ،مویشی اورپختہ سڑکیں، تعمیر اور ترقی کو بہا کرلے جاتاہے جبکہ ہر سال ہی یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ سیلاب کا باعث بننے والے پانی کو ذخیرہ کیوں نہیں کیا جاتا؟ ہر سال جولائی سے ستمبر تک مون سون بارشیں اپنے ساتھ سیلاب لاتی ہیں لیکن حالیہ برسوں میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ غیر معمولی صورتحال کاسامنا کرناپڑرہاہے۔اس وقت پاکستان کی زرخیز زرعی زمینیں پانی کی کمی کی وجہ سے صحرا میں تبدیل ہو رہی ہے۔پاکستان میں ایک روایت سی بن گئی ہے کہ ہر سال مون سون سیزن سے پہلے وفاقی اور صوبائی سطحوں پر ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا جاتا ہے ،ان ہنگامی صورت حال کے اعلان سے کرپشن کا ایک ناختم ہونے والاسلسلہ شروع ہوجاتاہے ،میٹنگ درمیٹنگ اورسائٹ وزٹنگ کی دوڑشروع ہوجاتی ہے ،دفتری فائلوں کے پیٹ بھرجاتے ہیں، اِس سے زیادہ اورکچھ نہیں کیا جاتا۔جب مون سون سیزن کے دوران تباہی و بربادی ہوچکی ہوتی ہے تو حسب روایت حکومتی مشینری حرکت میں آ جاتی ہے اور قومی خزانے سے کروڑوں روپے محض آنیوں اور جانیوں پر خرچ کر دیے جاتے۔ اگر یہی وسائل بارشوں اور سیلابی بربادی سے پہلے منصوبہ بندی کے تحت لگائے جائیں اور ماہر انجینئرز اور سائنسدانوں اور ماہر تعمیرات کے تجربات سے استفادہ کیا جائے تو یقینا حکومت کا سب سے احسن اقدام ہو گا۔
    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان ممکنہ حالات سے بچائو کے لیے حکومتِ پاکستان نے اب تک کیا حکمت عملی اختیار کی ہے۔ پاکستان میں عوام کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں، اعلی حکومتی شخصیات اور اداروں کی غفلت و لا پرواہی کے نتائج گذشتہ سالوں میں آنے والے سیلاب کے دوران قوم بھگت چکی ہے۔حکومت کی جانب سے سیلاب سے نمٹنے اور سیلابی پانی کو نئے آبی ذخائر میں محفوظ کرنے کے لیے کسی قسم کی کوئی پالیسی یا منصوبہ بندی سامنے آئی نہ ہی کبھی مستقل بنیادوں پر کسی قسم کے کوئی ٹھوس اقدام ہی اٹھائے گئے، ہمیشہ جب سیلاب سر پر آ جاتا ہے اور اپنی غارت گری دکھاتا ہے تو نمائشی اقدامات کرکے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
    پاکستان میں دستیاب اعدا وشمار کے مطابق 2010میں سیلاب سے تقریبا دو کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں80 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے جبکہ پانچ لاکھ مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ ضلع مظفرگڑھ میں سب سے زیادہ مکانات یعنی ساٹھ ہزار کو سیلابی پانی نے نقصان پہنچایا۔ رحیم یار خان اور گجرات دوسرے نمبر پر ہیں جہاں تیرہ ہزار مکانات تباہ ہوئے۔ اس کے علاوہ بھکر، ڈیرہ غازی خان، حافظ آباد، خوشاب، لیہ، میانوالی اور راجن پور بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔صوبہ خیبر پختونخواہ میںایک ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئیں،ڈیرہ اسماعیل خان کی آبادی سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ،تقریبا چار سو دیہات کی چھ لاکھ آبادی کو سیلاب سے نقصان پہنچا، نوشہرہ کے سو سے زائد دیہات کی پونے پانچ لاکھ آبادی کو نقصان پہنچا،چارسدہ کے80 دیہات کی ڈھائی لاکھ آبادی متاثر ہوئی،خیبر پختونخواہ کے شمالی اضلاع جن میں کوہستان، سوات، شانگلہ اور دیر شامل ہیں بعض علاقوں تک ایک ماہ گزر جانے کے باوجود زمینی رابطے بحال نہیں ہوسکے تھے۔سندھ میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے 36 لاکھ سے زائدآبادی متاثرہوئی،جیکب آباد کی سات لاکھ آبادی کو نقصان پہنچا۔کشمور میں 6 لاکھ سے زائد افرادمتاثرہوئے۔ شکارپور، سکھر، ٹھٹہ اور دادو میں بھی متاثرین کی تعداد لاکھوں میںتھی۔صوبہ سندھ میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد70سے زیادہ تھی۔ سندھ میں چار لاکھ باسٹھ ہزار مکانات کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچا تھا۔بلوچستان جوکہ آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے میں تقریبا سات لاکھ لوگ متاثر ہوئے اور76 ہزار مکانات کو نقصان پہنچاتھا،کشمیر اور گلگت بلتستان میں مجموعی طور پر تقریبا تین لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے اور نو ہزار مکانات کو نقصان پہنچا تھا۔
    موجودہ حالات میں ہماری قوم مہنگائی اور بیروزگاری کے ہاتھوں تباہ حالی کا شکار ہے اوراس قابل نہیں ہے کہ ممکنہ طورپرآنے والے سیلاب کامقابلہ کرسکے ،ہمارے حکمرانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرناچاہئے، ملک کو بحرانوں اورعوام کو ممکنہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے ٹھوس بنیادوں پر عملی اقدامات مکمل کرنے کی جتنی ضرورت آج ہے اس سے پہلے شاید کبھی نہیں تھی ، حکومتِ وقت کو کمیٹیاں بنانے اور نوٹس لینے کی بھونڈی باتوں سے نکلناہوگا کہیں ایسانہ کہ حکومت اقدامات کرتی رہے اور پانی ایک بار پھر سر سے گزر جائے اورعوام کو دوبارہ 2010ء کی طرح سیلاب کی تباہ کاریوں کاسامناکرناپڑے،سب کچھ اپنے ساتھ بہاکرلے جائے۔

  • محکمہ موسمیات نے  یکم جولائی سے کراچی میں مون سون کی پیشن گوئی کر دی،

    محکمہ موسمیات نے یکم جولائی سے کراچی میں مون سون کی پیشن گوئی کر دی،

    محکمہ موسمیات نے یکم جولائی سے کراچی میں مون سون کی پیشن گوئی کر دی،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق محکمہ موسمیات نے کراچی کے موسم کے حوالے سے پیشن گوئی کی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون بارشوں کا آغاز یکم جولائی سے ہو گا۔

    مزید تفصیلات کے مطابق چیف میٹرولوجسٹ کراچی سردار سرفراز کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ 30 جون سے مون سون کی ہواؤں کا آغاز ہو گا ۔اور پھر یہ ہوائیں یکم جولائی کی صورت میں بارشوں کے طور پر منظر عام پر آۓ گی۔مزید ان کا کہنا تھا کہ پہلااسپیل 3 تا 4 روز پر بھی محیط ہوسکتا ہے۔رواں سال مون سون کےدوران معمول سے 30 فیصد زائد بارشوں کا امکان ہے۔

    مون سون کے موسم کے حوالے سے سردار سرفراز کا کہنا تھا کہ کراچی میں سمندر ہیں جس کی وجہ سے اس طرح کے موسم میں جب سمندر کی طرف سے نمی ملتی ہے تو بارش زیادہ ہونے کا امکان بھی ہو جاتا ہے۔اس طرح یہ موسم جولائی تا ستمبر پر محیط ہونے کا امكان ہو سکتا ہے۔ مون سون بارشوں کا دورانیہ یکم جولائی تا 30 ستمبر تک 3 ماہ پر محیط ہوتا ہے۔

    مزید برآں محکمہ موسمیات ارلی وارننگ سینٹر کی پیشگوئی کے مطابق جمعے اور ہفتے کو بارش کا کوئی امكان نہیں ہے۔بلکے موسم گرم ہو گا۔24 جون سے وسطی اور بالائی سندھ میں بہت زیادہ گرم موسم واپس آنے کا امکان ہے۔اور جمعرات کو بھی موسم بہت گرم محسوس کیا گیا تھا ۔اور موسم گرم ہونے کے ساتھ ساتھ شدید حبس بھی محسوس ہوئی تھی۔محکمہ موسمیات کےمطابق زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 39.8ڈگری جبکہ ہوامیں نمی کا تناسب 53 فیصد رہا ۔خیال رہے یہ درجہ حرارت بہت تیز اور گرمی کی شدت بھی معمول سے ہٹ کر زیادہ محسوس ہوئی۔

  • متحدہ عرب امارات کی مختلف ریاستوں میں زلزلے کے جھٹکے

    متحدہ عرب امارات کی مختلف ریاستوں میں زلزلے کے جھٹکے

    دبئی: متحدہ عرب امارات کی مختلف ریاستوں میں مقامی وقت کے مطابق صبح 3:15 زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق جنوبی ایران میں زلزلہ آنے کے باعث یو اے ای میں جھٹکے محسوس کیے گئے زلزلہ پیما مرکز کی جانب سے زلزلے کی شدت 6.0 ریکارڈ کی گئی زلزلے کا مرکز ایرانی ساحلی شہر بندر لنگہ کے قریب تھا۔


    کئی سوشل میڈیا صارفین نے زلزلے کی ویڈیوز بھی شئیر کیں-


    https://twitter.com/RoyalIntel_/status/1504238457123934209?s=20&t=W92IP9ztYdBPO5-lOOvPGg


    2003 میں، 6 اعشاریہ 6 شدت کے زلزلے نے بام شہر کو تباہ کر دیا تھا، جس میں 26 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 2017 میں ایران اور عراق کے درمیان سرحدی علاقے میں 7 شدت کے زلزلے سے 600 افراد ہلاک اور 9000 سے زائد زخمی ہوئے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان میں بھی گلگت، اسکردو، گانچھے، شگر اور چلاس سمیت گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے ے زلزلے کے باعث لوگوں کی بڑی تعداد کلمہ طیبہ کا ورد کرتی ہوئی گھروں و کاروباری مراکز سے باہر آگئی زلزلے کی وجہ سے لینڈ سلائیڈنگ ہوئی اور ملوپہ کے مقام پر گلگت اسکردو روڈ بند ہو گیا تھا-

  • جاپانی ساحل کے نیچے آتشیں چٹان دریافت ،جو بہت طاقتور زلزلوں کی وجہ بن سکتی ہے

    جاپانی ساحل کے نیچے آتشیں چٹان دریافت ،جو بہت طاقتور زلزلوں کی وجہ بن سکتی ہے

    ٹوکیو: جنوبی جاپان کے ساحل کے نیچے ایک آتشیں چٹان دریافت ہوئی ہے جسے ’کومانو پلوٹون‘ کا نام دیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : ماہرین نے خدشہ ظاہرکیا ہے کہ یہ چٹان ایک طرح سے مقناطیس یا برقی سلاخ کا کردار ادا کرتے ہوئے بہت طاقتور زلزلوں کی وجہ بن سکتی ہےاس کےمفصل تھری ڈی نقشے سے معلوم ہوا ہے کہ ٹیکٹانوک پلیٹوں کی توانائی اس چٹان کی اطراف پہنچتی ہے اور دھیرے دھیرے جمع ہورہی ہے۔

    گلوبل وارمنگ میں 2 ڈگری اضافہ ہواتوگرمیاں 3 ہفتے طویل ہوجائیں گی، ماہرین کی وارننگ

    2006 میں سائنسدانوں نے کومانو پلوٹان پر توجہ کی تھی جو پگھلے ہوئے ارضی مادے سے بنی ایک چٹان ہے پلوٹون اس چٹان کو کہتے ہیں جو زیرزمین دیگر پتھروں کو ہٹا کر ایک ابھار کی صورت میں باہر پھوٹتی ہے اور دھیرے دھیرے سرد ہوکر سخت ہوجاتی ہے-

    ماہرین نے تحقیق کے دوران معلوم کیا کہ نانکائی سبڈکشن زون میں ایک ارضیاتی پلیٹ دوسری پلیٹ میں دھنس رہی ہے جسے سبڈکشن کا عمل کہا جاتا ہے اس سے پلیٹوں پر توانائی جمع ہوتی رہتی ہے اور زلزلوں کی وجہ بنتی ہے پھر معلوم ہوا کہ ایک مقام پر پلوٹون چٹان موجود ہے ماہرین نے اس کے بعد مزید 20 سال کا ڈیٹا جمع کیا اور چٹان کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی مزید نقشہ سازی کی۔

    انٹارکٹیکا میں تین لاکھ سے زائد آسمانی پتھر موجود ہوسکتے ہیں

    بحری ارضی سائنس و ٹیکنالوجی ایجنسی کے سینیئر سائنسداں سیوشی کوڈیرا کا کہنا ہے کہ اس اہم تحقیق سے جاپان میں رونما ہونے والے ممکنہ زلزلوں کی پیشگوئی میں سہولت ہوگی تو دوسری جانب آتشیں چٹان اور ٹیکٹونک پلیٹوں کے درمیان ربط جاننے میں بھی مدد ملے گی ہم درست طور پر نہیں کہہ سکتے کہ مستقبل میں کہاں اور کس وقت بڑے زلزلے رونما ہوں گے لیکن ڈیٹا اور ماڈلنگ سے اس کا درست اندازہ ضرور لگایا جاسکتا ہے-

    ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلہ معمولی ہو یا بڑا اس کے اثرات اپنے مقام سے تالاب میں دائروں کی طرح پھیلتےہیں، تباہی مچاتے ہیں اور دوبارہ لوٹ آتے ہیں ماہرین نے اس پورے عمل کی نقشہ سازی کی ہے جو نہایت محنت طلب کام ہے اسی مقام سے 1944 اور 1946 کے ہولناک زلزلے بھی پھوٹے تھے اور اب معلوم ہوا ہے کہ اس میں پلوٹون کا کردار بہت اہم تھا۔

    چاند کی چڑھتی تاریخوں میں شارک کے حملے بڑھ جاتے ہیں،تحقیق