Baaghi TV

Category: اسلام

  • "ربیع الاول ماہ مبارک ولادت مصطفیٰ کا آغاز اور امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم” تحریر: محمد عبداللہ

    بلاشبہ اس کائنات کی سب سے بڑی خوشی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بطور ایک پیغمبر اور نبی کے آمد کی ہے اور اللہ کے کرم کی انتہا کے اللہ نے ہم ایسے گناہگاروں کو شرف امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بحشا ہے. تو آئیے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کی تاریخوں پر جھگڑنے اور فتوؤں کی پٹاریاں کھولنے کی بجائے "لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ” مالک ارض و سماء کے اس احسان عظیم کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں اور بعثت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم مقصد "ھُوَالَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ” کی تکمیل میں جت جائیے.خود ساختہ عقائد و نظریات اور اعمال اور ان کی بنیاد پر اس بابرکت ماہ میں دنگا و فساد کی بجائے حقیقی سیرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل پیرا بھی ہوا جائے اور اسی کا پرچار بھی کیا جائے کیونکہ وہی اسوہ تو کامیابی کی کنجی ہے کہ "لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا”.
    بعثت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عالی شان مقصد کو سمجھا اور سمجھایا جائے اور قیامت کے دن اور مابعد قیامت کی زندگی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کو پانے کی تگ و دو کی جائے کہ دنیا وما فیھا کا سب سے بڑا غم بھی رحلت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تھا کہ صحابہ و اہل بیت کے دل پھٹے جاتے تھے یہ خبر نہیں تھی بلکہ اک قیامت تھی جو نہ صرف مدینہ بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں پر ٹوٹی تھی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں، فاروق اعظم صدمے کی تاب نہ لاتے ہوئے تلوار نکالے کھڑے تھے جو کہے گا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم رحلت فرما گئے ہیں میں اس کا سر قلم کردوں گا. اس سانحہ جانکاہ کے بعد نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیوانوں کے آنسو خشک نہ ہوتے تھے اور کوئی بھی اس خبر کو ماننے کو تیار نہیں تھا یہاں تک کہ صدیق اعظم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یار غار ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور لوگوں سے اس انداز میں مخاطب ہوئے میں "جو بھی محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ آپ ﷺ اس دنیا فانی سے رخصت ہوچکے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا تو (اس کا معبود) اللہ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے اور اس کو کبھی موت نہیں آئے گی اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے "وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ”
    "اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف رسول ہیں ‘ ان سے پہلے اور رسول گزر چکے ہیں اگر وہ فوت ہوجائیں یا شہید ہوجائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں پر پھر جاؤ گے تو جو اپنی ایڑیوں پر پھرجائے گا سو وہ اللہ کا کچھ نقصان نہی کرے گا اور عنقریب اللہ کا شکر کرنے والوں کو جزا دے گا”
    .ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا "اللہ کی قسم ! ایسا محسوس ہوا کہ جیسے پہلے سے لوگوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ہے اور جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی تلاوت کی تو سب نے ان سے یہ آیت سیکھی اب یہ حال تھا کہ جو بھی سنتا تھا وہی اس کی تلاوت کرنے لگ جاتا تھا”
    ہائے کاش اس امت محمد میں آج کوئی فقیہ،کوئی مفتی، کوئی عالم، کوئی حاکم، کوئی استاد کردار صدیقی ادا کرنے والا ہو اس پور پور بکھری امت کو مجتمع کردے اور راہ مستقیم سے بھٹکی امت کو راہ جنت پر گامزن کردے کہ ربیع الاول کے مہینے میں یہ امت نبی ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پاسعادت کی تاریخوں پر باہم دست و گریباں ہونے اور پیدائش و بعثت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی منانے اور غم آقائے دو جہاں پر کفر و اسلام کے فتوے بانٹنے والی اس امت کو یکجان کرکے مقصد بعثت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکمیل میں مصروف عمل کرا دے.
    محمد عبداللہ کے مزید بلاگز پڑھیں

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • "عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر کا اک انتہائی اہم پہلو” !!! تحریر محمد عبداللہ

    گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران عمران خان کی تقریر کو لے کر دنیا بھر میں بحث جاری ہے. کوئی اس کو امت مسلمہ کے ویژنری رہنما کی حیثیت سے دیکھ رہا ہے تو کوئی بھارت کی دہشت گردیوں اور کشمیر چیرہ دستیوں کو بہترین انداز میں اقوام عالم کے سامنے واضح کردینے پر عمران خان کو خراج تحسین پیش کر رہا ہے.بلاشبہ پاکستان جیسے ملک کے وزیراعظم کی حیثیت سے یہ ایک بہت بڑی اور تاریخی گفتگو تھی جو عمران خان نے اقوام متحدہ کے فورم سے دنیا سے مخاطب ہوکر کی گئی.

    کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ
    عمران خان کی تقریر میں سے کچھ بہت اہم نکات اسلام کا بیانیہ، اسلامو فوبیا، توہین رسالت، اسلام پر لگنے والا دہشت گردی کا الزام بھی تھے. ان پر بات کرنے سے قبل میں قارئین کو یاد دلاتا چلوں کہ نائن الیون کے ایشو پر جب فوری اسلام کو مورد الزام ٹھہرایا گیا اور امریکی صدر بش نے اسلام کے خلاف باقاعدہ صلیبی جنگوں کے آغاز کا اعلان کیا اور اس کے نتیجے میں افغانستان اور بعد ازاں عراق میں لاکھوں مسلمانوں کو شہید کرکے ان ملکوں کو کھنڈرات میں بدل دیا گیا. جیسے ہی نائن الیون کا حادثہ پیش آیا اور اسلام و مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرایا گیا تو مغرب میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں نے اسلام اور قران کا مطالعہ شروع کیا کہ یہ کونسا مذہب ہے اور اس کی تعلیمات کیا ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مغرب میں بڑی تعداد میں لوگوں نے اسلام قبول کرنا شروع کردیا، ان دنوں میں سب سے زیادہ رکھا جانے والا نام "محمد” تھا، سب سے زیادہ فروخت ہونے والی اور تخائف کی صورت میں دی جانے والی کتاب قران مجید تھی. مغرب میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں نے اسلام قبول کرنا شروع کردیا کہ وہاں کے تھنک ٹینکس اور پالیسی ساز اداروں نے اپنی حکومتوں کو خبردار کرنا شروع کردیا کہ اگر صورتحال کو کنٹرول نہ کیا گیا تو اگلے کچھ سالوں میں اسلام مغرب کا سب سے بڑا مذہب ہوگا. اس ساری صورتحال میں باقاعدہ پراپیگنڈے کی فیکٹریز قائم ہوئیں اور اسلامو فوبیا کا اک منظم سلسلہ شروع ہوا جس کے تحت مسلمانوں پر حملے اور باقاعدہ منصوبہ بندی سے توہین رسالت کا مکروہ فعل مغربی حکومتوں کی سرپرستی میں بار بار سرانجام دیا گیا جو تاحال جاری ہے.

    امریکہ کی جنگ میں شامل ہونا پاکستان کی غلطی، کیا نئے پاکستان کا بیانیہ بھی نیا ہوگا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ
    اقوام متحدہ جیسے بڑے فورم پر گزشتہ شب کی جانے والی تقریر میں جہاں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے جہاں مسئلہ کشمیر، بھارتی دہشت گردی، موسمی تغیرات وغیرہ پر بات کی وہیں عمران خان کی تقریر کا بہت بڑا حصہ اسلام کے پر امن بیانیے کے فروغ، توہین رسالت اور اسلامو فوبیا کو کاؤنٹر کرنے پر مشتمل تھا. عمران خان نے بلاشبہ اسلام کے پرامن بیانیے کو بہترین انداز میں اقوام متحدہ جیسے فورم پر پیش کیا اور دنیا کو دعوت دی کہ وہ اسلام کو اسٹڈی کریں. اسی توہین رسالت اور اس پر مسلمانوں کے غم و غصے اور جذبات کو بھی بالدلیل مغرب سے سامنے رکھا. اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنے والوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور واضح کیا کہ اسلام پر امن دین ہے جو دہشت گردی کے مخالف تعلیمات دیتا ہے. آزادی اظہار رائے کو بنیاد بنا کر شعائر اسلامی کو ہدف بنانے پر بھی زبردست انداز میں دفاع کیا. اقوام متحدہ کے اسٹیج پر کھڑے ہوکر لاالہ الا اللہ کا نعرہ مستانہ بلند کیا.

    عمران کی سفارتی کامیابیاں — محمد عبداللہ
    عمران خان کے اس تاریخی خطاب کے بعد پوری دنیا میں اس پر تبصرے شروع ہوگئے. سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک ملین سے زائد ٹویٹس کے ساتھ عمران خان ورلڈ وائڈ پینل پر سرفہرست رہے. امریکہ و یورپ سمیت دنیا بھر سے لوگوں نے اسلام، پاکستان اور عمران خان کو گوگل پر سرچ کرنا اور سماجی ویب سائٹس پر ان کے متعلق تبصرے کرنا شروع کیے.یہ بڑی خوش آئند صورتحال ہے اور یہ قوی امید کی جا رہی ہے کہ جس طرح نائن الیون میں اسلام کو مورد الزام ٹھہرانے کے بعد مغرب میں لوگ اسلام کی طرف راغب ہوئے تھے اور بہت بڑی تعداد میں اسلام قبول کیا تھا ان شاءاللہ بعینہ عمران خان کے خطاب میں اسلام اور اسلامو فوبیا پر مفصل بیان کے بعد مغرب میں لوگ پہلے سے زیادہ اسلام کو اسٹڈی کریں گے اور اسلام کی طرف راغب ہوں گے ان شاءاللہ.

    مصنف کا تعارف اور دیگر مضامین پڑھیں

     

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • اسلام آباد: بحریہ یونیورسٹی میں طالبہ کی ہلاکت پر احتجاج

    اسلام آباد: بحریہ یونیورسٹی میں طالبہ کی ہلاکت پر احتجاج

    اسلام آباد: اسلام آباد میں صورت حال کشیدہ ، بحریہ یونیورسٹی میں طالبہ کی ہلاکت پر انتظامیہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے طلبہ نے سڑک ٹریفک کے لیے بند کردی ہے۔طلبہ نے یونیورسٹی کے سامنے شاہین چوک کو ٹریفک کےلیے بند کر دیا ہے اور شدید احتجاج جاری ہے۔

    ٍڈینگی کے حملے جاری ، 100 لاہوریوں میں‌ڈینگی وائرس کی تصدیق نے ہلچل مچادی

    بحریہ یونیورسٹی میں طالبہ کی ہلاکت کے خلاف احتجاج میں شریک لڑکی کے کلاس فیلوز اور دیگر طلبا ریکٹرکے استعفے کو ڈھونگ قرار دے رہے ہیں۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ چوتھے فلور پر لفٹ کے لیے جگہ خالی چھوڑنے کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔

    ہسپتال میدان جنگ بن گیا، لاٹھی چارج، شیلنگ، 10 ڈاکٹر گرفتار، کے پی حکومت نے اہم فیصلہ کرلیا

    خیال رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کی بحریہ یونیورسٹی میں بی ایس کی طالبہ حلیمہ چوتھی منزل سے گرکر جاں بحق ہوگئی تھی م دوسری طرف کراچی میں بھی ایک طالبہ پچھلے دنوں‌جانبحق ہوگئی تھیں‌، جس کے بارے میں ابھی تک کوئی پتہ نہیں چل سکا کہ اسے کس نے اور کیوں ماراتھا ،

    یونیسیف کے وفد کی وزیرتعلیم ڈاکٹرمراد راس سے ملاقات ، کن اہم یاداشتوں پر دستخط ہوئے یہ بھی خبر آگئی

  • اصلاح معاشرہ اور ہم :علی چاند

    اصلاح معاشرہ اور ہم :علی چاند

    ہمارا معاشرہ اسلامی معاشرہ اور ہم سب مسلمان ہیں ۔ حج کرنے ، عمرہ کرنے ، خیرات دینے میں پاکستانیوں کا دنیا میں اور کوٸی ثانی نہیں اور الحَمْدُ ِلله ہمیں اس بات پر فخر ہے ۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر انسان پریشانیوں ، دکھوں ، اور تکیلفوں میں کیوں گھرا ہوا ہے ؟ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم ایک اللہ کو ماننے والے ، سارے اختیارات کا مالک صرف اللہ پاک کو ماننے والے ، حاجت روا صرف ایک اللہ کو ماننے والے ، ہم لوگ آخر بے چینیوں اور تکلیفوں کا شکار ہیں کیوں ؟

    اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑاٸیں اور اپنی معاشرتی زندگی پر غور کریں تو ہمیں اپنے اردگرد جھوٹ ، بددیانتی ، بد لحاظی ، منافقت ، نفرت ، فساد ، رشتوں سے الجھاٶ ہر جگہ کثرت سے نظر آٸے گا ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اسلام کو ماننے والے ، ایک اللہ کو قادر مطلق سمجھنے والے ، خود کو مسلمان کہنے والے اس قدر اخلاقی پستی کا شکار ہوتے جارہے ہیں کہ ہم جھوٹ بولنا حق سمجھتے ہیں ،ڈاکہ زنی لوٹ مار ، کسی مسلمان کا حق کھانا ، ناپ تول میں کمی کرنا ، والدین کی گستاخی کرنا ، کسی مسلمان کی چغلی اور غیبت کرنا ، کسی بھولے بھالے مسلمان پر بہتان لگانا ، الزام تراشی کرنا معیوب نہیں سمجھتے ؟ حالانکہ ہمیں ہمارا اسلام ان سب باتوں سے سختی سے منع کرتا ہے ۔ اسلام میں چغل خور کو شیطان کا بھاٸی کہا گیا ہے تو کہیں غیبت کو اپنے مردہ بھاٸی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی ہے ۔ کہیں دکھاوے کی مذمت کی گٸی ہے تو کہیں مسلمان کا راز فاش کرنے والے کو یہ کہا جارہا ہے کہ اگر وہ مسلمان کے کسی راز کو فاش کرے گا تو اللہ بھی اسے ذلیل و رسوا کر دے گا ، کہیں فضول خرچی سے منع کیا گیا ہے تو کہیں ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے واقعات بتا کر عبرت حاصل کرنے کی تنبیہ کی گٸی ہے ۔ کہیں چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا رکھی گٸی ہے تو کہیں زنا اور شراب پر حد مقرر کی گٸی ہے ۔ اور بات مختصرا یہ کہہ دی گٸی ہے کہ وہ ہم میں سے نہیں جو چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا اور بڑوں کا ادب نہیں کرتا ۔ قصور وار کون ؟ کیا ہمارے معاشرے کے بگاڑ کی اصل وجہ ہم خود تو نہیں ؟ کیا ہم صرف نام کے مسلمان تو نہیں ؟ کیا ہم نے اسلام کا صرف نام سنا ہے یا اسلام کو پڑھا بھی ہے کہ اسلام کہتا کیا ہے ؟ اگر ہم ان چند سوالوں پر غور کریں توبات سامنے یہ آتی ہے کہ ہم صرف پیداٸشی مسلمان ہیں جنہوں نے اسلام کا صرف نام ہی سن رکھا ہے ۔ اگر ہم نے اسلام پڑھا ہوتا تو ہمیں پتہ ہوتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے ۔ اور اللہ نے ہمیں چغلی ، غیبت ، بے حیاٸی ، شراب جوٸے ،چوری ، جھوٹ ، بہتان سے نا صرف منع کیا ہے بلکہ اس پر سخت وعیدیں بھی آٸی ہیں ۔ ہم لوگ یہ تو جانتے ہیں کہ ہمارے کیا حقوق ہیں لیکن یہ کبھی نہیں سوچا کہ ہمارے فراٸض کیا ہیں ۔ والدین اولاد کا حق دینے کو تیار نہیں تو اولاد والدین کو بوجھ سمجھ رہی ہے ، سسرالی رشتوں کے ساتھ جو ہمارا رویہ ہوتا ہے وہ تو اللہ کی پناہ ۔ ساس یہ تو چاہتی ہے کہ بہو بیٹی بنے لیکن خود بہو کو بیٹی سمجنے کو تیار نہیں ۔ اسی طرح بہو یہ تو چاہتی ہے کہ ساس سسر اپنی بیٹی سے زیادہ بہو کا خیال رکھیں لیکن بہو خود اپنے ساس سسر کو والدین کا درجہ دینے کو تیار نہیں ، عورتیں صرف اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر اپنے چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کے دلوں میں ان کی دادی ، پھوپھو ، چچا جیسے مقدس رشتوں کے لیے نفرت ڈال رہی ہیں جبکہ مرد اپنے بچوں کے سامنے اپنے بچوں کی امی ، اس کے والدین اور بہن بھاٸیوں کو برا بھلا کہتے ہیں جس کی وجہ سے اولاد کے دل میں ماں کے مقدس رشتوں کے لیے بغض اور نفرت پیدا ہوتی ہے ۔ اس طرح جب مرد اور عورت اپنے بچوں کے سامنے ایک دوسرے سے لڑاٸی جھگڑا کرتے ہیں تو بچے بھی والدین کی عزت و احترام کرنا چھوڑ دیتے ہیں ۔ جب والدین بچوں کے سامنے جھوٹ بولتے ہیں تو بچے بھی ایسی ہی تربیت پاتے ہیں ۔ ہم اپنی خود غرضی اور لالچ کی بنا پر اپنے خون پسینے کی کماٸی کو جھوٹی قسم اٹھا کر ، ناپ تول میں کمی کر کے ، اپنے ڈیوٹی کے گھنٹوں میں کمی بیشی کر کے حلال سے حرام میں بدل دیتے ہیں ۔ اور جب ہمارا کھاناپینا حرام ہوجاتے ہیں تو پھر ہمارے گھروں میں نااتفاقی ، ناچاکی اور نفرتیں جنم لیتی ہیں ۔ بیوی کو یہ پرواہ نہیں ہوتی کہ جس ساس کے خلاف وہ اپنے شوہر کے کان بھر رہی ہے وہ اس کے شوہر کی جنت ہے ایسی عورتیں اپنے ہم سفر اپنے مزاجی خدا کی جنت خود اپنے ہاتھوں برباد کر رہی ہوتی ہیں ۔ استاد اپنے فراٸض بھول کر بس اپنی تنخواہ کے چکروں میں پڑ چکے ہیں جس کی وجہ سے آج کے طالب علم کے پاس علم کا تو ذخیرہ ہوگا لیکن وہ تربیت سے بالکل خالی ہوگا ۔

    اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم دنیا و آخرت میں اعلی مقام حاصل کر سکیں ۔ اپنے غموں اور پریشانیوں کا خاتمہ کر سکیںتو ہمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلام کا مطالعہ کر کے سچے پکے مسلمان بنیں اور پھر اسلام کو اپنی عملی زندگیوں میں نافذ کریں ۔ ہماری مشکلات کا حل صرف اور صرف اسلامی تعلیمات پر عمل سے ہی ممکن ہے اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے سے پہلے اسلامی تعلیمات کو جاننا ضروری ہے ۔ اللہ پاک ہمیں اسلام کو سمجھنے اور اسلام کو اپنی عملی زندگیوں میں نافذ کرنے کی توفیق عطا فرماٸے ۔
    آمین

  • "مقامِ نسواں”۔۔۔ !!!———— از  جویریہ چوہدری

    "مقامِ نسواں”۔۔۔ !!!———— از جویریہ چوہدری

    عورت کا ہر روپ ہی خوب سے خوب تر ہے۔۔۔۔۔
    ”ماں”۔۔۔۔
    جس کے قدموں تلے جنت رکھ دی گئی،
    جس کے بطن سے دنیا کی عظیم ہستیوں نے جنم لیا۔۔۔۔
    دنیا کے بہترین انسان انبیاء کرام اس عورت کی گود میں کھیلے۔۔۔

    بیٹی بنی تو اسے جہنم سے آڑ کہا گیا ہے۔۔۔۔
    اس کی بہترین تعلیم و تربیت اور حقوق کی ادائیگی کو جنت میں داخلہ کاسبب کہا گیا ہے۔۔۔

    بہن کے روپ میں یہ دعا اور حوصلہ افزائی کا سامان ہے۔۔۔

    بیوی کے روپ میں محبت و وفا کی انمول داستان ہے۔۔۔۔۔
    کہ اپنی زندگی میں ایک نیا موڑ لے کر اسے ہمیشہ کے لیئے نباہنے کا عہد ہے اور پہلے رشتوں سے دوری ہے۔۔۔۔
    پھر ہمہ وقت شوہر ہے یا بچے۔۔۔
    اس کی زندگی کا یہی حاصل رہ جاتا ہے ناں۔۔۔؟؟؟

    اسلام نے عورتوں کے حقوق کی اس وضاحت کے ساتھ تاکید کی ہے کہ جس کی مثال تاریخ انسانی میں اور کہیں نہیں ملتی۔۔۔!!!

    اس عورت کی نزاکت کا احساس رکھتے ہوئے اسے باہر کے گرم و سرد تھپیڑوں سے محفوظ رکھا۔۔۔
    اس پر معاشی ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈالا۔۔۔
    ہاں اگر عورت از خود ایسے اسباب رکھتی ہو کہ وہ اپنا مال اپنے رشتوں پر خرچ کرتی ہے تو یہ الگ بات ہے۔۔۔
    پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر اترنے والے قرآن کا پیغام کتنا دل افزا ہے کہ:
    "ان عورتوں کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو۔۔۔”
    (النسآ:19)

    اس کے ساتھ امتیازی سلوک کا خاتمہ کیا۔۔۔
    اس کی عزت کا سب سے بہترین دفاع کیا۔۔۔
    اس کے مقام و دائرہ کار کا احسن انداز میں تعین کیا۔۔۔
    غلط کاموں سے بچاؤ کا بہترین راستہ دکھایا۔۔۔
    اس کی مرضی و منشاء کا خیال رکھا۔۔۔!!!
    اس کے سفر وحضر کی تعلیمات دیں۔۔۔
    وہ وقت کہ جب اس کا وجود ہی اس دھرتی پر بوجھ تصور کیا جاتا تھا۔۔۔
    تو اسے حیات نو کی نوید دی۔۔۔!!!
    یہ اسلام کی ہی تعلیم ہے کہ عورت کو شیشے سے تشبیہہ دی گئی۔۔۔
    انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنی بعض عورتوں کے پاس آئے جو اونٹوں پر جا رہی تھیں،ام سلیم بھی ان کے ہمراہ تھیں
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "افسوس اے انجشہ!
    ان شیشوں کو آہستہ لے کر چلو۔۔۔”
    (صحیح بخاری)

    میدان جنگ میں ان کے قتل سے منع فرما دیا گیا۔۔۔
    پیارے نبی حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب کسی لشکر کو روانہ فرماتے تو
    عورتوں اور بچوں کے قتل سے ممانعت کی خصوصی تاکید کرتے۔۔۔
    آج کی جنگوں میں استحصالِ نسواں کا بخوبی مشاہدہ ہر انسان کر سکتا ہے۔۔۔
    کہ یہ بنتِ حوا ان وجوہات سے کتنی متاثر اور بے چینی سے گزرتی نظر آتی ہے۔۔۔؟

    اسلام نے عورت کو محرم رشتوں کی صورت میں بہترین شیلٹر فراہم کیا اور انہیں عورت سے حسن سلوک کا پابند کیا۔۔۔
    یہاں تک کہ گھر کے کاموں میں بھی ہاتھ بٹانے کی تعلیم ملی۔۔۔۔
    خود رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنے گھر کے کام کاج کر لیتے تھے۔۔۔(صحیح بخاری)

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زوجہ حضرت خدیجہ رضی اللّٰہ تعالی عنھا کا ذکر کرتے تو فرماتے:
    ”وہ مجھ پر اس وقت ایمان لائیں،جب لوگوں نے میرا انکار کیا۔۔۔
    انہوں نے میری تصدیق کی جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا،
    اور اپنے مال و دولت سے میری مدد کی جبکہ دوسروں نے مجھے محروم کیا،،،
    اور اللّٰہ تعالی نے مجھے خدیجہ سے اولاد کی نعمت عطا کی،جب کہ دوسری بیویوں سے اولاد نہیں ہوئی۔”
    (رواہ احمد)

    پیارے نبی کی تعلیم یہ ہے کہ
    حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللّٰہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ:
    "رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔۔۔تم میں سے بہتر وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے لیئے بہتر ہیں”۔
    (رواہ ابن ماجہ)

    ان آبگینوں کو کرچی کرچی ہونے سے بچانے کے لیئے اللہ تعالی نے ان کی ہدایت و راہ نمائی کے اسباق قرآن مجید میں اتار کر رہتی دنیا تک کے لیئے راہیں واضح کر دیں۔۔۔۔
    ایمان والی عورتوں کے لیئے مریم علیھا السلام اور آسیہ علیھا السلام کی مثالیں دے کر کردار کی رفعت و پاکیزگی کا درس دیا۔۔۔
    امہات المومینین کو خطاب کرتے ہوئے تاکید عام کی۔۔۔۔
    نبی کی بیویوں اور مومنوں کی عورتوں سے خطاب کرتے ہوئے انہیں پردہ وحجاب کے فوائد بتائے۔۔۔۔
    رضا و رحمت کی راہیں سُجھائیں۔۔۔
    اماں خدیجہ رضی اللّٰہ عنھا کی ثابت قدمی اور اسلام کی راہ میں پیارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معاونت کی قدر دانی اس طرح کی کہ جبریل امین ان کے لیئے اللّٰہ کی طرف سے سلام اور جنت میں موتیوں کے محل کی بشارت دینے آئے۔۔۔۔
    اسلام ہمیں ان ثابت قدم اور باعمل عورتوں کی صفات سے آگاہی دیتا ہے کہ
    کامیابی کی راہیں کون سی ہیں؟

    حضرت شعیب علیہ السلام کی صاحبزادیوں کی صفت پردہ و حیا کا تذکرہ کر کے راہ دکھانے کی کوشش کی۔۔۔
    بے آب و گیاہ وادی میں شوہر کے حکم کی تعمیل کرتی اماں حاجرہ علیھا السلام کی داستان عزیمت سنائی۔۔۔۔
    کہ نیک بیویاں اللّٰہ تعالی کے احکامات کے سامنے شوہروں کی معاونات کیسے ہوتی ہیں۔۔۔۔؟
    بے آب و گیاہ وادی میں نومولود کے ہمراہ اپنے رب کے حکم پر سرِ تسلیم خم کر کے شوہر کی اطاعت کیسے بجا لائی جاتی ہے۔۔۔۔؟
    زبان پر حرفِ شکایت بھی وارد نہیں ہوتا۔۔۔۔
    اور پھر عرش بریں پر ان کے اس کردار و قربانی کی لاج مالکِ جہاں کس طرح رکھتا ہے۔۔۔؟
    کہ رہتی دنیا تک کے لیئے ان صحرا کی وسعت میں ڈیرہ ڈالے اس ماں کے انداز و عمل کو مناسکِ حج بنا دیا۔۔۔۔اللّٰہ اکبر۔۔۔ !!!
    غرض یہ کہ اسلام سے بڑھ کر محافظ نسواں کوئی نہیں۔۔۔
    اور عورت کے مقامات کا جو احسن تعین اسلام نے کیا ہے۔۔۔۔
    کوئی ذی شعور اسے جھٹلا نہیں سکتا۔۔۔۔معاشرتی طور پر بھی ان تعلیمات سے مرد و زن کی آگہی بہت ضروری ہو چکی ہے۔۔۔

    اللّٰہ تعالی نے ارشاد فرمایا:
    "نیک عمل مرد کرے یا عورت اور وہ مومن بھی ہو تو اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی۔۔۔!!!!”
    اللّٰہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہمارے مقام و وقار اور دائرہ کار کی آگہی بخشے،گھر ہو یا باہر کی کوئی ذمہ داری، ہم اسلام کے عطا کردہ زیور سے سدا آراستہ رہیں۔۔۔ اور دنیا و آخرت کی سعادتیں نصیب فرمائے۔
    مومنات کی راہوں کا انتخاب کرنے کی توفیق دے کہ پروردگار عظیم کے نزدیک وہی راہیں فلاح والی ہیں جو اس نے خود ہمیں بتائی ہیں۔۔۔ اور ہمیں ان کاموں سے دور رکھے جو اس کی ناراضگی و غضب کو دعوت دینے والے ہوں۔۔۔اپنی رضاؤں کا حقدار بنائے،اپنی پسندیدہ بندیوں میں شامل کر لے۔۔۔آمین یا ارحم الراحمین۔۔ !!!!!

    بقلم:(جویریہ چوہدری)۔

  • بلاول کے کیا کہنے ، مجھے تو بلاول کی ہر ادا قبول ، مولانا فضل الرحمن کے بیان نے ہلچل مچادی

    بلاول کے کیا کہنے ، مجھے تو بلاول کی ہر ادا قبول ، مولانا فضل الرحمن کے بیان نے ہلچل مچادی

    ڈیرہ غازی خان: مجھے تو بلاول کی ہر ادا پیاری لگتی ہے ، میں اس سے دلی پیار کرتا ہوں ، ان خیالات کا اظہار جمیعت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا ،مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ احتجاج کی خاطر کنٹینر فراہم کرنا در اصل شکست تسلیم کرنا ہے۔

    ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آزادی مارچ سے متعلق تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت جاری ہے اور سب کو اعتماد میں لے کر فیصلہ کریں گے۔

    ڈریرہ غازی خان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی ف نے تن تنہا 15 کامیاب ملین مارچ کیے اور اس دوران ایک پتا تک نہیں ٹوٹا۔ پی ٹی آئی نے ایک جائز حکومت کیخلاف ناجائز دھرنا دیا تھا لیکن ہم ایک ناجائز حکومت کیخلاف آزادی مارچ کرنے جارہے ہیں۔

    مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ان کا آزادی مارچ تاریخی ہوگا اور یہ ملک کی درست سمت کا تعین کرے گا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس مارچ کے بعد کوئی دھاندلی کرنے سے قبل سو بار سوچے گا۔

  • موٹروے پر سفر کرنے والوں کے لیے ایسی خبر ، جس کو پڑھنا ضروری ہوگیا

    موٹروے پر سفر کرنے والوں کے لیے ایسی خبر ، جس کو پڑھنا ضروری ہوگیا

    اسلام آباد :ٹیکس سسٹم مزید فعال ہوگیا ، اب موٹر وے پر سفر کرنے والے ہو جائیں تیار، حکومت نےٹول ٹیکس میں 10فیصد اضافہ کردیا،اضافہ شدہ ٹیکس کل سے وصول کیا جائیگا۔

    موٹروے ذرائع کے مطابق کل سے ایم ٹو کے ٹول ٹیکس میں 10 فیصد اضافہ کر دیا جائے گا، اب لاہور سے اسلام آباد جانے والی گاڑیوں کو ٹول ٹیکس 680 کے بجائے 750 روپےدینا ہو گا۔

    دوسری طرف اس حوالے سے شہری حلقوں کی جانب سے ایم ٹو کےٹول ٹیکس میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی ٹیکس پالیسی عوام سے جینے کا حق بھی چھین رہی ہے۔

  • غریب کی بیٹی کا دوپٹہ : علی چاند کا بلاگ

    غریب کی بیٹی کا دوپٹہ : علی چاند کا بلاگ

    مسجد میں قالین بچھانے سے بہتر ہے کہ کسی غریب کی بیٹی کو چادر لے دی جاٸے ، مسجد میں پتھر لگوانے سے بہتر ہے کہ کسی غریب کی بیٹی کو چادر لے دی جاٸے ، میلاد پر پیسہ لگانے سے بہتر ہے کسی غریب کی بیٹی کو چادر لے دی جاٸے ، حج پر اتنے پیسے لگانے سے بہتر ہے انسان غریب کی بیٹیوں کو چادر لے دے ، عمرہ پر جانے سے بہتر ہے کہ انسان غریب کی بیٹیوں کو کپڑے لے دے انہیں چادریں لے دے ۔

    یہ ہیں وہ چند جملے جو آٸے دن ہمیں سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ یہ ہیں وہ چند جملے جن کا پرچار کچھ نام نہاد مسلمان کرتے نظر آتے ہیں ۔ میں ان لوگوں کو پوچھنا چاہوں گا کہ آخر تکلیف مسجد ، عمرہ ، میلاد اور حج کی ہے یا پھر واقعی غریب کی بیٹی کا درد ہے دل میں ۔ اگر تو درد ان لوگوں کو مسجد ، منبر ، محراب ، حج اور عمرے کا ہے تو میں ایسے لوگوں کو مشورہ دوں گا کہ وہ کسی عالم دین کی صحبت میں بیٹھیں ، اللہ کے احکامات پڑھیں ، دین سیکھیں تاکہ ان لوگوں کو پتہ چلے کہ جب حکم خدا ماننا ہوتا ہے تو پھر آدم کو سجدہ بھی کرنا پڑتا ہے ورنہ انکار پر سب سے بڑا عبادت گزار بھی مردود کہلاتا ہے ۔ جہاں حکم ربی آجاتا ہے وہاں یہ نہیں دیکھنا ہوتا کہ اس کی بجاٸے یہ کر لیں یا اس کی بجاٸے وہ کر لیں ۔ پھر صرف اور صرف اللہ کا حکم ماننا ہوتا ہے ۔

    رہی بات غریب کی بیٹی کے دوپٹے اور چادر کی تو اللہ پاک ان غریبوں کی بیٹیوں کی عزتیں سلامت رکھے ۔ جو یہ بھی اچھی طرح جانتی ہیں کہ پھٹی ہوٸی چادر سے سر کیسے ڈھانپنا ہے اور یہ بھی جانتی ہے کہ اسے نامحرم مردوں سے اپنی عزت کو کیسے بچانا ہے ۔ یہ جو لوگ ایسی باتیں کر کے اپنی دانشوری کے جوہر دیکھاتے ہیں کہ غریب کی بیٹی کے سر پر چادر دو ، عمرہ چھوڑو ، حج چھوڑو ، میلاد چھوڑو ، مسجد چھوڑو ، مسجد کا خیال نہ کرو صرف اور صرف غریب کی بیٹی کی چادر کا سوچو تو میں ایسے دانشوروں سے کہنا چاہوں گا کہ اپنی آنکھوں اور عقل پر بندھی پٹی کو کھول کر دیکھو کسی غریب کی بیٹی بغیر چادر کے نظر آگٸی تو کہنا ، کسی غریب کی بیٹی پھٹی ہوٸی جینز میں نظر آگٸی تو کہنا ، کسی غریب کی بیٹی بغیر دوپٹے کے نظر آگٸی تو کہنا ، اگر غریب کی بیٹی اپنی عزت کا سودا کرتی نظر آگٸی تو کہنا ، غریب کی بیٹی اگر کسی سے محبت بھی کرے گی ، اسے ٹوٹ کر چاہے گی بھی تو بھی کبھی بھی اس کے سامنے بغیر دوپٹے پھٹی ہوٸی جینز اور عریاں لباس پہن کر نہیں جاٸے گی ۔ خدارا بند کرو یہ تماشا غریب کی بیٹی ، غریب کی بیٹی ، غیب کی بیٹی ، خدا کے لیے مت بناو تماشا غریب کی بیٹی کے دوپٹے کا کیونکہ غریب ہے تو کیا ہوا اس کے پاس غیرت مند باپ ، عزت دار بھاٸی ، عزت دار شوہر موجود ہے اس کی فکر کرنے کے لیے جو اس کےسر پر سے کبھی چادر اترنے نہیں دیتے ، غریب کی بیٹی کے پاس چار محافظ موجود ہیں جو اس کی عزت کے رکھوالے ہیں ۔

    غریب کی بیٹی کی چادر کی فکر کرنے والے دانشوروں فکر کرنی ہے تو آٶ فکر کرتے ہیں ، اس بیچاری غریب لڑکی کا جس کے پاس نا تو غیرت مند باپ ہے نا عزت دار بھاٸی اور شوہر ، آٶ فکر کریں اس بیچاری عورت کی جسے روز نیم عریاں لباس پہن کر ، کبھی چند روپے کے شیمپو اور صابن کے لیے ٹی وی پر آ کر نہانا پڑتا ہے سب کے سامنے ، کبھی اسے چند منٹ کے ڈرامے کے لیے کسی نامحرم کے بستر پر اس کے ساتھ لیٹنا پڑتا ہے ، کبھی اسے عریاں لباس پہن کر ایوارڈ شو میں نامحرم کی بانہوں میں ناچنا پڑتا ہے ، تاکہ اس بیچاری کے باپ ، بھاٸی ، شوہر کو اس کا بوجھ نا اٹھانا پڑے بلکہ یہ خود کما کر انہیں کھلاٸیں ۔ غریب کی بیٹی کی چادر کی فکر کرنے والو ! ان امیروں کی بیٹیوں کے دکھ سمجھو ، انہیں اپنی زکوة ، خیرات اور صدقات میں سے حصہ دیں تاکہ یہ بیچاریاں پھٹی ہوٸی جینز ، عریاں لباس اور بغیر دوپٹے کے گھومنے کی بجاٸے با پردہ اور پورا لباس خرید کر پہن سکیں ۔ غریب کی بیٹی کی چادر کی فکر کرنے والے مفکرو ! آٶ امیر کی بیٹی کا درد سمجھیں تاکہ اسے دو دو ٹکے کے نامحرم لوگوں کے ساتھ ناجاٸز ڈرامے اور اشتہار نا کرنے پڑیں ، آٶ بنو سہارا ان امیروں کی بیٹیوں کا جن کے تم دیوانے ہو ، جن کے تم فین ہو ، جن کی ذات سے تم متاثر ہو کر ان کی Ids کو فالو کرتے ہو ، ان کی فضول پوسٹس پر پاگلوں کی طرح کمنٹ کرتے ہو تاکہ وہ کسی طرح تم لوگوں کو رپلاٸے دیں ۔ پھر اگر کوٸی رپلاٸے دے دے تو کمنٹ کو سیو کر کے اسے پوسٹ کر کے اپنے چھوٹے پن کاثبوت دیتے ہو ، اور ایسا کرنے سے پہلے یہ بھی نہیں سوچتے کہ یہی ہیں وہ عورتیں جو تماری نسلوں میں بے حیاٸی پھیلا رہی ہیں ، یہی ہیں وہ عورتیں جن کی وجہ سے غریب کی بیٹی کی زندگی عذاب ہورہی ہے ، یہی ہیں وہ عورتیں جن کی وجہ سے غریب کی بیٹی کے باپ کو جہیز کے لیے لمبی لمبی لسٹیں ملتی ہیں ۔ خدارا غریب کی بیٹی کا تماشا نا بناٸیں ،
    ، غریب کی بیٹی اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ وہ نا صرف اپنا سر ڈھانپنا جانتی ہے بلکہ اپنی ، اپنے باپ ، اپنے بھاٸی ، اپنے شوہر اور اپنے بیٹے کی عزت کی حفاظت کرنا بھی جانتی ہے ۔

    اللہ پاک نام نہاد امیروں کی بیٹیوں کو ہدایت عطا فرماٸے اور سب بیٹیوں کی عزت و آبرو کی حفاظت فرماٸے ۔ آمین

  • پٹرول سے جان چھوٹ گئی ، کیوں ؟ راوالپنڈی کا مستری چھاگیا ،

    پٹرول سے جان چھوٹ گئی ، کیوں ؟ راوالپنڈی کا مستری چھاگیا ،

    راوالپنڈی : راوالپنڈی کا مستری چھا گیا . یہ مستری کوئی عام نہیں بلکہ آٹو ورکشاپ کا مالک راجہ اعجاز ہے جس نے بیٹے کے ساتھ مل کر بیٹری سے چلنے والا منفرد موٹر سائیکل تیارکردیا،پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قمیتوں سے جہاں عوام پریشان ہیں تو ایسے میں راولپنڈی کے ایک آٹو میکنک نے ایک ایسا منفرد موٹرسائیکل تیار کیا ہے جو فیول کی بجائے برقی بیٹریوں سے چلتا ہے۔

    راوالپنڈی سے ذرائع کے مطابق پٹرول سے جان چھڑانے میں کردار ادا کرنے والے دونوں باپ بیٹا ہیں. اطلاعات کے مطابق کمیٹی چوک میں آٹو ورک شاپ کے مالک راجہ اعجاز نے اپنے بیٹے کیساتھ مل کر اس موٹر سائیکل کو تیار کیا۔اس موٹر سائیکل میں ایک ہارس پاور کی موٹر اور 4 بیٹریاں لگائی گئی ہیں، جسے کسی بھی جگہ پر بجلی کی مدد سے چارج کیا جاسکتا ہے۔

    راجہ اعجاز کا کہنا ہے کہ اس ایجاد کے بعد آٹو میکینکس کے مطابق اس موٹر سائیکل سے ماحولیاتی آلودگی پر کافی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔موٹر سائیکل 50 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔آٹو مکینک نے حکومت سے مدد کی اپیل کی ہے تاکہ بڑے پیمانے پر اس طرح کی مزید موٹرسائیکلز کو تیار کیا جاسکے جس سے ناصرف ماحول کو صاف کرنے میں مدد ملے گی، بلکہ اندھن کی بھی بچت ہوگی۔

  • پی پی سینیٹر کے خلاف فرد جرم کی کارروائی 2 اگست تک موخر

    پی پی سینیٹر کے خلاف فرد جرم کی کارروائی 2 اگست تک موخر

    اسلام آباد:اسلام آباد کی احتساب عدالت نے لوک ورثہ فنڈز میں خرد برد کے الزام میں پیپلز پارٹی کی سینٹر روبینہ خالد پر فرد جرم کی کاروائی موخرکردی گئی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی احتساب عدالت میں لوک ورثہ کے فنڈز میں خرد برد کے الزام میں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کیس کی سماعت کی ۔پی پی سینیٹر روبینہ خالد طبیعت ناسازی کے باعث عدالت میں پیش نہ ہوسکی، جس پر آج فرد جرم عائد نہ ہو سکی۔ عدالت کا آئندہ سماعت پر تمام ملزمان کو حاضری یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے فرد جرم کی کاروائی کے لیے دو اگست کی نئی تاریخ مقرر کی۔

    واضح رہےکہ یکم جولائی کو نیب راولپنڈی نے پیپلزپارٹی کی سینیٹر روبینہ خالد کے خلاف کرپشن ریفرنس اسلام آباد کی احتساب عدالت میں دائر کیا تھا،نیب کے مطابق ملزمان پر لوک ورثہ کے فنڈز میں خرد برد کا الزام ہے، ملزمان کی وجہ سے30.13 ملین روپے قومی خزانے کو نقصان پہنچا۔