Baaghi TV

Category: اسلام

  • آ نکھ کی پتلی کی شرارتیں تحریر بقلم محمد ارسلان!!!

    آ نکھ کی پتلی کی شرارتیں تحریر بقلم محمد ارسلان!!!

    آ نکھ کی پتلی کی شرارتیں

    Eye Pupil in Quran
    انسان جب جھوٹ بولتا ہے تو وہ اپنی آنکھ کی پُتلی(جسے پیوپلز کہتے ہیں) کے سائز کو کنٹرول نہیں کر سکتا، یہ ایک غیر اختیاری/ارادی عمل ہے:


    خودمختاری اعصابی نظام (اے این ایس) جسمانی افعال کو منظم کرتا ہے جو بغیر کسی کنٹرول (غیر ارادی عمل) کے وقوع پذیر ہوتا ہے.
    اس سسٹم کی دو برانچیں ہیں۔

    i: The sympathetic nervous system
    ii: Parasympathetic nervous system

    دونوں برانچوں کو مختصر سی سٹیٹمنٹس میں بیان کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ
    The sympathetic system
    اڑنے یا لڑنے والے حالات میں کام کرتا ہے جبکہ
    Parasympathetic nervous system
    آرام کرنے اور کھانا ہضم کرنے کے عمل میں کام کرتا ہے
    عام لفظوں میں
    The sympathetic nervous system
    آپکی حفاظت کیلئے اور خطرات سے بچنے کیلئے آپکے جسم کو ہدایت دیتا ہے جبکہ
    The Parasympathetic nervous system
    آپکی انرجی کو محفوظ کرنے اور آرام کرنے کی ہدایات آپکے جسم کو دیتا ہے جیسا کہ بہترین ہاضمہ اور بہترین اور پرسکون نیند سونا۔
    عام طور پر آپکی پریشانیوں اور کشیدگیوں میں کہیں نہ کہیں جھوٹ بھی شامل ہوتا ہے(یہاں تک کہ آپ بہترین جھوٹ بولنے والے انسان بن جاتے ہیں)، کیونکہ آپ ڈر رہے ہوتے ہیں کہ کہیں آپکے جھوٹ کا پول نہ کھل جائے۔
    اور یہی ڈر آپکے "sympathetic nervous system” کو چلاتا ہے جسکی وجہ سے آپکے جسم میں کچھ اثرات پیدا ہوتے ہیں
    Sympathetic nervous system
    کا آنکھ میں متحرک ہونے کی وجہ سے آئرس میں ایک مسل جسکا نام "پیوپلری ڈائلیٹر مسل” ھے وہ حرکت میں آتا ہے اور پیوپل کے سائز کو چوڑائی کی شکل میں بڑھا دیتا ہے جیسا کہ ہم حیرانگی کی صورت میں آنکھیں ضرورت سے زیادہ کھول لیتے ہیں,
    اسکے نتیجے میں ایک بیماری "Mydriasis” لاحق ہوجاتی ہے جسکا مطلب ہے آنکھ کی پُتلی کا غیر معمولی پھیلاؤ۔
    جبکہ دوسری صورت میں جب Parasympathetic system چالو ہوتا ہے تو اسکے نتیجے میں آنکھ کی پُتلی میں سکڑاو آجاتا ہے۔
    مختصراً جہاں پریشانی لاحق ہوتی ہے وہاں جھوٹ بھی شامل ہوتا ہے اور یہی پریشانی sympathetic system کو چلانے کی وجہ بنتی ہے،
    مختصراً جب انسان جھوٹ بولتا ہے تو پیوپل کمزور ہوجاتا ہے۔
    لہذا جھوٹ والے لوگ منہ سے تو جھوٹ بول لیتے ہیں لیکن وہ اپنے پیوپل(آنکھ کی پُتلی) کو کنٹرول نہیں کر سکتے( جیسا کہ اکثر ہم چہرے سے پہچان لیے جاتے ہیں کہ ہم جھوٹ بول رہے ہیں)
    جیسا کہ 1400 سال پہلے ہی قرآن میں بیان کر دیا گیا:

    يَعْلَمُ خَآئِنَةَ الْاَعْيُنِ وَمَا تُخْفِى الصُّدُوْرُ (40:19 غافر)
    "وہ آنکھوں کے دھوکے اور دل کے بھید جانتا ہے”
    ۔
    اور ہم جانتے ہیں کہ پیوپل(آنکھ کی پُتلی) جھوٹوں کو دھوکا دیتی ہے کیونکہ جھوٹے لوگ جھوٹ بولتے وقت آنکھ کی پُتلی کی حرکت کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔
    لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ
    1400 سال قبل رہنے والے ایک غیر معمولی شخص(محمد) کس طرح جان سکتے ہیں کہ اپکے پیوپل آپکو دھوکہ دیتے ہیں جب آپ جھوٹ بولتے ہیں؟؟؟؟؟؟
    یہ رب العالمین کے ہونے کی ایک بڑی نشانی ہے

    بقلم محمد ارسلان!!!

  • معجزات قرآن قسط 2: قرآن میں روشنی کی رفتار کا ذکر تحریر ؛ محمد ارسلان

    معجزات قرآن قسط 2: قرآن میں روشنی کی رفتار کا ذکر تحریر ؛ محمد ارسلان

    معجزات قرآن قسط نمبر 2

    فرشتوں کا روشنی کی رفتار کے مطابق سفر کرنا 👇

    مومنوں (مسلمانوں) کا خیال ہے کہ فرشتے کم کثافت(low density) مخلوق ہیں،
    اور خدا نے انہیں روشنی(نور) سے پیدا کیا ہے۔
    وہ صفر(0) کی رفتار سے لے کر روشنی کی رفتار تک کا سفر کرتے ہیں۔
    یہ فرشتے ہیں جو خدا کے احکام کو بجا لاتے ہیں۔
    فرشتے خدا کے عرش کی بجائے خلاء میں کسی محفوظ جگہ(سدرتہ المنتحی) سے احکامات لیتے ہیں۔
    وہ اس محفوظ جگہ(سدرتہ المنتحی) کے ساتھ ہر وقت منسلک ہوتے ہیں تاکہ خدا سے اپنے لیے احکامات یہاں سے لیے جائیں۔
    مندرجہ ذیل آیات میں قرآن یہ بیان کرتا ہے کہ اس خاص جگہ(سدرتہ المنتحی) کے ساتھ منسلک فرشتے کیسے سفر کرتے ہیں۔
    اور وہ رفتار جسکے ذریعے وہ اس خاص جگہ(سدرتہ المنتحی) سے رابطہ کرتے ہیں، کیسے روشنی کی رفتار کہلاتی ہے۔

    يُدَبِّـرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُـمَّ يَعْرُجُ اِلَيْهِ فِىْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٝٓ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ (السجدہ 5#)
    "وہ آسمان سے لے کر زمین تک ہر کام کی تدبیر کرتا ہے پھر یہ حکم/معاملہ(فرشتے کے ذریعے) اسے(مطلوبہ جگہ) صرف ایک دن میں پہنچا دیا جاتا ہے اور وہ ایک دن تمہارے مطابق ایک ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔”
    ۔
    مطلب فرشتہ جو ایک دن میں سفر کرتا ہے ہم وہی سفر ایک ہزار سال میں پورا کر سکتے ہیں۔ یہ فرشتے ہیں جو یہ پیغامات پہنچاتے ہیں۔
    پچھلے لوگوں نے فاصلے کو صرف چلنے کی مقدار میں ماپا نہ کہ کلومیٹر کے سکیل یا میل کے سکیل میں، مثال کے طور پر
    اگر ایک گاوں دو دن کے فاصلے پر ہے تو اسکا مطلب یہ تھا کہ اس گاؤں تک پہنچنے کیلئے دو دن چلنا پڑے گا، یا 10 دن کے فاصلے پر ہے تو دس دن چلنا پڑے گا۔
    اسی طرح قرآن نے فرشتوں کے ایک دن کے سفر کرنے کی رفتار 1000 سال بتائی ہے، یعنی فرشتہ ایک دن میں 1000 سال کا فاصلہ طے کر سکتا ہے۔
    پھر پچھلے لوگوں نے لونر کیلنڈر(چاند کا کیلنڈر) کو اپنا لیا جسکے ایک سال میں 12 مہینے ہوتے ہیں۔
    یہ مہینے چاند سے متعلق ہیں نہ کہ سورج کے متعلق۔
    چونکہ ایک سال میں 12 مہینے ہوتے ہیں، اسی طرح ایک ہزار سال میں 12000 مہینے ہوں گے۔
    یہ آیت اس فاصلے کا حوالہ دے رہی ہے کہ خدا یہ کہتا ہے کہ چاند 12000 مہینوں تک جتنا سفر طے کرتا ہے، اتنا ہی سفر فرشتہ ایک دن میں طے کرلیتا ہے
    اور یہ دریافت کیا جا چکا ہے کہ "چاند کا 12000 مہینوں کا سفر”، روشنی کی رفتار کے برابر ہے.
    #سکندریات

    معجزات قرآن قسط 1 ؛ مادے کی اکثریت سے کالے سوراخ کا تشکیل پانا ؛ بقلم: سلطان سکندر!!!

  • کلونجی میں موت کے سوا ہر مرض کا علاج ہے ،تحریر؛ حبیب الرحمن

    کلونجی میں موت کے سوا ہر مرض کا علاج ہے ،تحریر؛ حبیب الرحمن

    کلونجی میں موت کے سوا ہر مرض کا علاج ہے ، حبیب الرحمن

    قدیم اطباء کلونجی اور اس کے بیجوں کے بھی استعمال سے خوب واقف تھے۔ وہ کلونجی کے بیج کو معدے اور پیٹ کے امراض مثلاً ریاح، گیس کا ہونا، آنتوں کا درد، نسیان، رعشہ، دماغی کمزوری، فالج اور افزائش دودھ کے لیے استعمال کراتے تھے۔

    کلونجی ایک قسم کی گھاس کا بیج ہے۔ اس کا پودا سونف سے مشابہ، خود رو اور تقریباً سَوا فٹ بلند ہوتا ہے۔کلونجی کی فصل حاصل کرنے کے لئے اس کی باقاعدہ کاشت کی جاتی ہے۔ اس کے پھول زردی مائل، بیجوں کا رنگ سیاہ اور شکل پیاز کے بیجوں سے ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ انہیں پیاز کا بیج سمجھتے ہیں۔ اصلی کلونجی کی پہچان یہ ہے کہ اگر اسے سفید کاغذ میں لپیٹ کر رکھیں تو اس پر چکنائی کے داغ لگ جاتے ہیں۔ ہر شاخ کے اوپر سیاہ دانے دار بیج ہوتے ہیں۔ اسی بیج کے حصول کے لئے بھارت، بنگلہ دیش، ترکی، وغیرہ میں اس کی کاشت کی جاتی ہے۔ کلونجی کے ان بیجوں کی خصوصی مہک ہوتی ہے۔ اسے ادویات کے علاوہ کھانے اور اچار وغیرہ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

    شعبہ طب میں اسے مصفی دوائی کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔کلونجی کے بیجوں میں فاسفورس، فولاد، اور کاربو ہائڈریٹ کے مرکبات شامل ہوتے ہیں۔ کلونجی کی کیمیاوی تجزیے سے معلوم ہو ا اس میں پیلے رنگ کا مادہ کیروٹین پایا جاتا ہے جو جگر میں پہنچ کر وٹامن اے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ان کے علاوہ بھی بہت سے ایسے مرکبات کلونجی میں پائے جاتے ہیں ، جو نظام انہظام کے لیے مفید ہیں۔ یہ بولی امرض کو دور کرتا ہے۔یہ جسم کی قوت مدافعت میں اضافہ کرنے کے علاوہ ہر قسم کے امراض کے علاج میں معاون ہے۔ کلونجی کے تیل میں ساٹھ فیصد لینو لیٹک ترشہ (Linoletic Acid) اور تقریباً ۲۱ فیصد Lipase کیمیاوی مادہ پایا جاتا ہے۔ یہ گرم درجہ حرارت میں جسم کو ٹھنڈا رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔کلونجی میں پائے جانے والے خصوصی مادے Saponin Vlatile Oil اورNigelline پائے جاتے ہیں جو مختلف بولی امراض میں کارگر ہوتے ہیں۔ اسی لئے نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ کلونجی کو اپنی غذا میں شامل کرو کہ یہ موت کے سوا تمام امراض کے علاج کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    مختلف امراض میں کلونجی کے تیل کی استعمال کی ترکیب حسب ذیل ہے۔

    1.دمہ، کھانسی اور الرجی: ان امراض سے نجات کے لئے ایک کپ گرم پانی میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر نہار منہ اور رات سونے سے قبل چالیس روز تک استعمال کریں۔ سرد اشیاء کھانے سے پرہیز کریں۔

    2.ذیابیطس (شوگر): ایک کپ قہوہ (کالی چائے)نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر نہار منہ اور رات سونے سے قبل پی لیں۔ روغنی خوراک بالخصوص تلی ہوئی اشیا کھانے سے پرہیز کریں۔ اگر ذیابیطس کے لئے پہلے سے کوئی دوائی کھا رہے ہوں تو اسے جاری رکھیں۔ البتہ بیس روز بعد خون میں شوگر کا لیول چیک کروائیں۔ اگر معمول کے مطابق پائیں تو ادویہ کا استعمال بند کر کے اس نسخہ کو چالیس روز تک جاری رکھیں۔ مکمل شفا کے بعد نسخہ کا استعمال بند کر دیں۔

    3.دل کا دورہ: ایک کپ گرم پانی میں ایک چمچہ شہد، نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار دس دن تک استعمال کریں۔ دس دن کے بعد مزید دس دن یومیہ ایک مرتبہ استعمال کریں۔

    4.پولیو اور لقوہ: ایک کپ گرم پانی میں ایک چمچہ شہد، نصف چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار استعمال کریں۔ بچوں کو گرم پانی میں دو چمچے دودھ اور تین قطرے کلونجی کا تیل ملا کر دن میں تین مرتبہ پلائیں۔ علاج۴۰ دن تک جاری رکھیں۔

    5.جوڑوں کا درد: ایک چمچہ سرکہ، نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اور دو چمچہ شہد ملا کر صبح نہار منہ اور رات کو سونے سے قبل استعمال کریں۔

    6.بد ہضمی، گیس، پیٹ کا درد: ایک چمچہ سرکہ میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار پئیں۔ موٹاپا دور کر نے کے لئے بھی یہی نسخہ کا آمد ہے۔

    7.آنکھوں کے امراض: آنکھوں کا سرخ ہونا، پانی بہنا، کمزوری بصارت وغیرہ کی صورت میں ایک کپ گاجر کے عرق میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر نہار منہ اور رات سونے سے قبل پئیں۔ یہ علاج چالیس روز تک جاری رکھیں ، اچار اور بینگن سے پرہیز کریں۔

    8. امراض مستورات (لیکوریا، پیٹ میں درد، کمر درد): دو گلاس پانی میں دس گرام پودینے کے پتے ابال لیں۔ پانی الگ کر کے اس میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر نہار منہ اور رات سونے سے قبل پی لیں۔ علاج چالیس روز تک جاری رکھیں ، اچار، بیگن، انڈے اور مچھلی سے پرہیز کریں۔ اگر معمول سے زائد عرصہ تک ماہواری رُک جائے تو ایک کپ گرم پانی میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اور دو چمچہ شہد ملا کر نہار منہ اور رات سونے سے قبل پی لیں۔ علاج ایک ماہ تک جاری رکھیں۔ آلو، بینگن سے پرہیز کریں۔

    9.یادداشت میں کمی: یاد داشت میں اضافہ کے لئے ایک کپ پانی میں دس گرام پودینے کے پتے ابال لیں۔ اس پانی میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار پئیں۔ یہ علاج بیس روز تک جاری رکھیں۔

    10.درد گردہ: ۲۵۰ گرام کلونجی کے بیج کو پیس کر ایک کپ شہد میں اچھی طرح ملا لیں۔ دو چمچہ اس آمیزہ کو نصف پیالی پانی میں ملا کر اس میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں ایک بار پئیں۔ علاج کو بیس روز تک جاری رکھیں۔

    11.عام جسمانی کمزوری:نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل میں ایک چمچہ شہد ملا کر دن میں ایک مرتبہ استعمال کرنے سے عام کمزوری اور اس کا باعث بننے والے دیگر امراض دور ہو جاتے ہیں۔

    12.دردِ سر: پیشانی اور کانوں کے قریب کلونجی تیل سے مالش کے علاوہ نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل دن میں دو بار پئیں۔

    13.بلند فشار خون: گرم چائے یا کافی میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ڈال کر دن میں دو بار استعمال کریں۔ اسی کے ساتھ روزانہ دو جوے لہسن بھی استعمال کریں۔

    14.بالو ں کا گرنا: نیبو کے عرق سے سر کی اچھی طرح مالش کریں۔ ۱۵ منٹ کے بعد بالوں کو شیمپو سے دھو کر اچھی طرح خشک کریں۔ پھر پورے سر پر کلونجی کے تیل کی مالش کریں۔ ایک ہفتہ تک روزانہ کے علاج سے بالوں کا گرنا بند ہو جاتا ہے

    15.عام بخار: آدھے کپ پانی میں نصف چمچہ نیمبو کا عرق اور نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار پئیں۔ بخار اترنے تک یہ نسخہ جاری رکھیں اور چاولوں سے پرہیز کریں۔

    16.گردے میں پتھری:ایک پیالی گرم پانی میں دو چمچہ شہد، نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح نہار منہ اور رات کو سونے سے قبل پئیں۔ ٹماٹر اور پالک اور لیمن سے پرہیز کریں۔

    17.کانوں میں درد، پیپ کا بہنا، سماعت میں کمی: کلونجی کے تیل کو گرم کر کے ٹھنڈا کر لیں۔ متاثرہ کان میں دو قطرے ڈالیں۔

    18.دانتوں کے امراض: دانتوں کی کمزوری، دانتوں سے خون نکلنے، ناگوار بو آنے یا مسوڑھوں کے سوج جانے کی صورت میں ایک پیالی دہی میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر صبح نہار منہ اور رات سونے سے قبل کھا لیں۔

    19.کثرتِ احتلام: مردوں میں کثرت احتلام کی صورت میں ایک پیالی سیب کے جوس میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر صبح نہار منہ اور رات سونے سے قبل پی لیں۔ علاج ۲۱ روز تک جاری رکھیں اور گرم مسالہ والے کھانوں سے پرہیز کریں

    20.خون کی کمی (انیمیا): پودینہ کے پتوں کی ایک شاخ کو پانی میں اُبال کر ایک پیالی جوس بنائیں۔ نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح نہار منہ اور رات سونے سے قبل پئیں۔ یہ نسخہ ۲۱ دن تک استعمال کریں۔

    21.یرقان (پیلیا): ایک پیالی دودھ میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح نہار منہ اور رات سونے سے قبل ایک ہفتہ تک پئیں۔

    22.کھانسی: ایک پیالی گرم پانی میں دو چمچے شہد اور نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح ناشتہ سے قبل اور رات کھانے کے بعد استعمال کریں۔ علاج دو ہفتہ تک جاری رکھیں ، ٹھنڈی چیزوں سے پرہیز کریں۔

    23.حملہ قلب (ہارٹ اٹیک): دل کے والو کی بندش، سانس لینے میں دقت، ٹھنڈا پسینہ اور دل پر دباؤ کی صورت میں ایک پیالی بکری کا دودھ میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح ناشتہ سے قبل اور رات سونے سے قبل استعمال کریں۔ یہ علاج ۲۱ دن تک جاری رکھیں۔

    24.زچگی: بچہ کی پیدائش کے بعد ذہنی کمزوری، تھکاوٹ اور اخراجِ خون جیسے امراض میں ایک پیالی کھیرے کے جوس میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح ناشتہ سے قبل اور رات سونے سے قبل استعمال کریں۔ یہ علاج ۴۰ دن تک جاری رکھیں۔

    25.پیٹ میں کیڑے: ایک چمچہ سرکہ میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں تین بار صبح ناشتہ سے قبل، دوپہر اور رات میں استعمال کریں۔ یہ علاج ۱۰دن تک جاری رکھیں۔

    26.جوڑوں کا درد: ایک چمچہ سرکہ اور دو چمچہ شہد میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار استعمال کریں۔ جوڑوں کی تِل کے تیل سے مالش بھی کریں۔ ۲۱ دن تک گیس آور خوراک سے پرہیز کریں۔

    27.جسمانی صحت: صحت کو برقرار رکھنے کے لئے ایک کلو گرام گندم کے آٹے میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر روٹی بنائیں اور کھائیں۔ ان شاء اللہ صحت برقرار رہے گی۔

    28.چہرہ اور جلد کی شادابی کے لئے: دو بڑے چمچہ شہد، نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اور نصف چائے کا چمچہ زیتون کا تیل اچھی طرح ملا کر صبح اور شام چہرہ پر ۴۰ دن تک لگائیں۔

    29.بواسیر: ایک چمچہ سرکہ اور نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر بواسیر کی جگہ پر دن میں دو بار لگائیں۔

    30. ماہواری میں بے ترتیبی: ایک چمچہ شہد اور نصف چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر صبح ناشتہ سے قبل اور رات میں دو ہفتہ تک پئیں۔

    31.بے خوابی: آرام دہ نیند کے لئے رات کھانے کے بعد نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ایک چمچہ شہد میں ملا کر پئیں۔

    32.سستی : چست رہنے کیلئے روزانہ صبح ناشتہ سے قبل نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل دو چمچہ شہد کے ساتھ استعمال کریں۔

    33.شیرِ مادر: ماں کے دودھ میں اضافہ کے لئے ایک پیالی دودھ میں دو قطرے کلونجی تیل ڈال کر صبح ناشتہ سے قبل اور رات سونے پیشتر پئیں۔

    34.درد معدہ : ہر قسم کے درد معدہ کو رفع کرنے کے لئے میٹھے سنگترہ کے ایک گلاس جوس میں دو چمچہ شہد اور نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار پئیں۔

    35.جوڑوں کے درد، کمر درد، گردن میں درد: دو عدد خشک انجیر کھا کر ایک پیالی دودھ میں چار قطرے کلونجی کا تیل ڈال کر پئیں اور اس کے بعد دو گھنٹہ تک کچھ نہ کھائیں۔ یہ علاج دو ماہ تک جاری رکھیں۔ آلو اور ٹماٹر سے پرہیز کریں۔

    36. رحم کے مسائل: بچہ دانی کے مختلف امراض میں نصف گڈی پودینہ کا عرق، ۲ چمچہ مصری کا سفوف میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اچھی طرح ملا کر صبح ناشتہ سے قبل استعمال کریں۔ علاج ۴۰ دن تک جاری رکھیں۔

    37.دانتوں میں درد: سوتے وقت روئی کے پھاہے کو کلونجی کے تیل میں گیلا کر کے متاثرہ حصہ میں رکھ دیں۔

    38.کانوں کی تکالیف کے لئے: ایک چائے کے چمچہ کلونجی کے تیل کو ایک بڑے چمچ زیتون کے تیل میں ملا کر اچھی طرح گرم کر لیں۔ پھر ٹھنڈا کر کے سوتے وقت اس کے دو تین قطرے کانوں میں ڈال لیں۔ فوری افاقہ ہو گا۔

    39.جگر و معدہ کے امراض:دو سَو گرام شہد میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اچھی طرح ملا کر اس آمیزہ کا نصف صبح ناشتہ سے قبل اور نصف شام میں استعمال کریں۔ ایک ماہ تک اس نسخہ کو استعمال کریں اور ترش اشیاء سے پرہیز کریں۔

    40.مٹاپا: نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل میں دو چمچہ شہد نیم گرم پانی میں حل کر کے دن میں دو بار پئیں چاول سے پرہیز کریں

    41.ہکلانا، تتلانا: نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اور دو چمچے شہد اچھی طرح ملا کر اسے زبان کے اوپر دن میں دو بار رکھیں۔

    42.خشکی: دس گرام کلونجی کا تیل، تیس گرام زیتون کا تیل اور تیس گرام منہدی سفوف کو اچھی طرح ملا کر تھوڑا سا گرم کریں۔ ٹھنڈا ہونے پر اسے بالوں کی جڑوں میں لگائیں۔
    دیسی نسخہ جات،جنسی و جسمانی بیماریوں کا علاج جڑی بوٹیوں کے فوائد اور بہترین تحریروں کے لئے ہمارا پیج لاٗیک کیجئے.اپنے دوستوں کو بھی شیئر کریں… شکریہ

  • قیامت کی علاماتِ صغریٰ،کبریٰ،امام مہدی اور فتنۂ دجال__!!![قسط:2]—–از—جویریہ چوہدری

    قیامت کی علاماتِ صغریٰ،کبریٰ،امام مہدی اور فتنۂ دجال__!!![قسط:2]—–از—جویریہ چوہدری

    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "کئی فتنے ایسے ہوں گے،جن میں بیٹھے رہنے والا،کھڑے رہنے والے سے اور کھڑا رہنے والا چلنے والے سے اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا،جو شخص دور سے بھی ان کو جھانکے گا،وہ اس کو بھی سمیٹ لیں گے،اس وقت جس کسی کو کوئی پناہ کی جگہ یا بچاؤ کا مقام مل سکے وہ اس میں چلا جائے…!!!”
    (صحیح بخاری)۔

    قیامت سے پہلے جھوٹے نبیوں اور دجالوں کا ظہور ہو گا ہر ایک چھوٹا ہونے کے باوجود یہ دعویٰ کرے گا کہ وہی اللّٰہ کا نبی ہے۔(صحیح بخاری)۔

    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "وہ وقت قریب ہے جب مسلمان کے لیئے بہتر مال یہ ہو گا کہ وہ چند بکریاں لے کر پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے مقامات پر چلا جائے،اپنا دین فتنوں سے بچانے کو بھاگتا پھرے…”(صحیح بخاری)۔

    زمانہ قریب ہو جائے گا(یعنی وقت بہت تیزی سے گزر جائے گا،سال مہینوں کی مانند اور مہینے ہفتہ کی طرح محسوس ہوں گے)۔(صحیح بخاری)۔

    علم گھٹ جائے گا ہر طرف جہالت پھیل جائے گی،حتیٰ کہ کوئی عالم باقی نہیں رہے گا اور لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے…
    ہرج بڑھ جائے گا صحابہ کرام رضوان اللہ نے عرض کی یا رسول اللّٰہ!
    ہرج کیا ہے ؟
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    "خونریزی”…
    ہرج حبشی کا لفظ کا لفظ ہے جس کا مطلب خونریزی ہے۔

    (صحیح بخاری_کتاب العلم وکتاب الفتن)۔
    بدکاری و فحاشی کھلم کھلا ہو گی۔(صحیح بخاری)
    شراب اعلانیہ پی جائے گی(صحیح بخاری)۔

    لوگ اسے نام بدل کر پیئیں گے اور حلال سمجھیں گے(صحیح بخاری)۔
    آج مسلمان کتنے دھڑلے سے شراب پیتے ہیں گویا وہ حلال ہے،شادی و خوشی کے مواقع پر،ناچ گانے کے مواقع پر…
    ہوٹلوں،کلبوں میں…ڈیروں، پنچائتوں میں…

    وہ شراب جس کے بارے میں ہمارا رب ہمیں مخاطب کر کے کہہ رہا ہے:
    اے ایمان والو__!!!
    شراب اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے تیر یہ سب گندی باتیں شیطانی کام ہیں،ان سے بالکل الگ رہو تاکہ فلاح یاب ہو”۔(المآئدۃ:90)۔
    ہمارا رب ہمیں فلاح کی راہ دکھا رہا ہے مگر ہم اس سے منہ موڑ کر کس چیز کا سودا کر رہے ہیں؟
    گمراہی و گھاٹے کا ناں ؟
    لاریب کہ رب کی بتائی ہوئی راہوں کے برعکس راہیں ہمیشہ سے گمراہی و ناکامی والی ہیں…!!!
    اعاذنا اللّٰہ منھا__!

    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو زنا،ریشم اور گانے بجانے کو درست کر لیں گے۔(صحیح بخاری)۔

    ایسے لوگوں کو اللّٰہ زمین م دھنسا دے گا اور کچھ کی صورتیں مسخ کر دے گا وہ قیامت تک اسی صورت میں رہیں گے…!!!
    (ابن ماجہ__کتاب الفتن)۔

    مسلم ممالک میں بھی آج میوزک کنسرٹ کے نام پر گانے بجانے کی جو مشقیں ہوتی ہیں وہ بھی اہلِ عقل سے ہر گز پوشیدہ نہیں ہیں…چاہے نفسانی خواہشات سے مغلوب انسان اسے ذہنی تفریح طبع کہے یا موسیقی کو روح کی غذا،
    لیکن اللّٰہ تعالٰی نے اور ہمارے پیارے پیغمبر صلی اللّٰہ علیہ وسلم جنہیں اللّٰہ تعالٰی نے رحمتِ عالم بنا کر بھیجا وہ اس چیز سے منع فرما رہے ہیں یہ لہو و لعب ہے،یہ دل میں نفاق پیدا کرنے کا باعث ہے۔۔۔
    یہ دل کو اللّٰہ تعالٰی کی یاد سے غافل کرنے کی وجہ ہے جبکہ اللّٰہ تعالٰی دلوں کے سکون کا راز یہ بتا رہا ہے:
    اَلَا بذکراللہ تطمئن القلوب¤

    سن لو __
    دلوں کا اطمینان صرف اللّٰہ کی یاد و ذکر میں ہے(الرعد)۔
    مسلمان معاشرے میں امر المعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ بااحسن نبھایا جانا چاہیئے اور اس چیز کے روحانی و اخلاقی نقصانات سے آگاہ کیا جانا چاہیئے جو آج انٹر ٹینمنٹ کی آڑ میں کھلی فحاشی صورت میں ہماری زندگیوں میں سرایت کر گئے…اور ہم اسے محسوس کرنے سے بھی قاصر ہیں یا کرنا ہی نہیں چاہتے۔

    اسی چیز سے آگے بڑھ کر فحاشی و عریانی جنم لیتی ہے…بے پردگی کو رواج ملتا ہے اور جسم و لباس کی زیبائش و آرائش کا بھوت سوار ہو جاتا ہے
    عورتیں لباس پہننے کے باوجود ننگی نظر آتی ہیں…
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    جو عورتیں لباس پہننے کے باوجود ننگی ہوں گی وہ جنت کو دیکھ سکیں گی اور نہ ہی اس کی خوشبو پا سکیں گی،حالانکہ جنت کی خوشبو اتنے اور اتنے فاصلے سے محسوس کی جا سکے گی۔
    (صحیح مسلم)۔

    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    دیکھو بہت سی عورتیں جو دنیا میں پہنے ہوئے مگر آخرت میں ننگی ہوں گی۔(صحیح بخاری__کتاب الفتن)۔
    (ایسی عورتیں جو لباس پہننے کے باوجود بھی ننگی نظر آتی ہیں)۔
    فحاشی و عریانی ہی پھر آگے بڑھ کر بدکاری کی راہیں ہموار کرتی ہیں…
    اور کوئی بھی معاشرہ ان کے مضر اثرات سے اخلاقی طور پر دیوالیہ ہو جاتا ہے…!!!

    قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ ہر آنے والا وقت پہلے وقت سے بدتر ہو گا(صحیح بخاری)۔

    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی،جب تک ایک آدمی دوسرے آدمی کی قبر پر گزر کر یوں نہ کہے گا کاش میں اس کی جگہ میں(قبر میں) ہوتا__”
    (صحیح بخاری)۔

    (جاری ہے…)
    ==============================

    قیامت کی علاماتِ صغریٰ،کبریٰ،امام مہدی اور فتنۂ دجال__!!![قسط:2]
    تحریر:(جویریہ چوہدری)۔

  • اسلام،جدید سائنس،کرونا وائرس اور ہم—-ازقلم:حافظ عبدالستار

    اسلام،جدید سائنس،کرونا وائرس اور ہم—-ازقلم:حافظ عبدالستار

    آج نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں ہر شخص کی زبان پر ایک ہی ترانہ ہے ”کرونا وائرس“ جو کہ ایک خطرناک مرض بن چکا ہے۔ پوری دنیا میں لاکھوں افراد اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔

    ہر طرف خوف و ہراس کی فضاء پھیل چکی ہے۔ کیونکہ یہ وائرس ملنے جلنے سے پھیلتا ہے اس لیے تما م سکولز،کالجز،یونیورسٹیز،کمیونٹی سنٹرز،مدارس،دفاتر،ملز،فیکٹریز کو بند کر دیا گیا ہے،تاکہ اس وائرس کے پھیلنے کے امکانات کم ہو جائیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت پوری دنیا میں کرونا وائرس کے تقریباً786957کیسز سامنے آچکے ہیں جس میں مزید کیسز ابھی بھی سامنے آرہے ہیں،جن میں سے مرنے والوں کی تعداد 37843تک پہنچ چکی ہے۔

    مزید برآں روزانہ کے حساب سے پوری دنیا میں 3500سے زیادہ لوگ مر رہے ہیں،اور پاکستان میں ان کی تعداد تقریباً 1865ہو چکی ہے۔اگر ہم حالات کا جائزہ لیں تو کرونا وائرس دیکھنے میں ایک بیماری ہے لیکن اگر میں اس کو خدا کا عذاب کہوں تو غلط نہ ہوگا۔جو حالات اس وقت پوری دنیا کے ہیں،ہر طرف بے حیائی،فحاشی عروج پہ ہے۔ امت مسلمہ پر ظلم کیا جا رہا ہے (شام،فلسطین،کشمیر) اس میں شامل ہیں۔حلال اور حرام کے درمیان تمیز ختم ہو چکی ہے،ظلم اپنی انتہاء کو پہنچ چکا ہے۔ لیکن کوئی طاقت اس کو روک نہ سکی،وہ کہتے ہیں نہ کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہے جب آتی ہے تو پوری دنیا کو ہلا ک کر کے ر کھ دیتی ہے۔

    دیکھئے!خدا کا عذاب ایک چھوٹے سے وائرس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیااور یہ پکار پکار کے کہہ رہاہے ”Where are your Fighter Jets, Missiles and your Nuclear Weapons” اور سب کو بتا دیا تم تو اپنے آپ کو سپر پاور سمجھتے ہو،لیکن یہ تمہاری غلط فہمی ہے جس میں تم مبتلا ہو، سب سے طاقتور ذات اللہ تعالیٰ کی ہے۔ دنیا پر ظلم اس قدر اپنی انتہاء کو پہنچ گیا کہ خدا کا عذاب آگیا۔ میرا وجدان کہتا ہے یہ صدا تھی کشمیر کی ان ماؤں اور بہنوں کی جنہوں نے اپنے بھائیوں اور بیٹوں کواپنی آنکھوں کے سامنے قتل ہوتے دیکھا،یہ صدا تھی ان بہنوں اور بیٹیوں کی جن کی عزت کو سب کے سامنے تار تار کیا گیا۔اور خدا کے عذاب نے ”کرونا وائرس“ کی صورت میں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،

    انہوں نے تو کشمیر کو بند کیا تھا اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا کو بند کر دیا۔مجھے شام کے اس بچے کی صدابھی یاد ہے جس نے دم توڑتے ہوئے کہا تھا”سَاُخْبِرُ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْ“ میں سب کچھ اپنے رب کو بتاؤں گا۔مجھے عراق کی اس بیٹی کی صدا بھی یاد ہے جس نے بھاگتے ہوئے نیوز چینل کے صحافی سے کہا ”انکل! خدا کے واسطے میری عکاسی مت کرنا میں بے حجاب ہوں“۔ مجھے افغانستان کے اس بچے کی بات بھی یاد ہے جس کا بازو زخمی ہو گیا تھا اور ڈاکٹر نے کہا بیٹا!تمہارا بازو کاٹنا پڑے گا تو اس بچے نے کہا ”خدا کے واسطے میرا بازو کاٹ لیں مگر میری آستین مت کاٹنا کیونکہ زیب تن کرنے کیلئے میرے پاس یہی ایک جوڑا ہے“۔اس مرض سے بچنے کیلئے آج کی سائنس یہ کہتی ہے،کہ صفائی کا خاص خیال رکھو،

    جس علاقے میں یہ بیماری ہے اس سے دور رہو، ایک دوسرے کے درمیان فاصلہ رکھو، منہ پر Maskپہنو، ہاتھوں کو صاف کرو، یہ وہ تمام چیزیں ہیں جن کوچودہ سوسال پہلے ہمارے آقا و مولا جناب حضرت محمد مصطفی ﷺ بیان کر چکے تھے۔صحیح بخاری کی حدیث مبارکہ ہے جس کا مفہوم کچھ ہوں ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام کی طرف سفر کر رہے تھے کہ آپ کو ایک مقام پر اطلاع ملی کہ شام کی طاعون کی وباء پھیل چکی ہے تو اس وقت قافلے میں حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ بھی شامل تھے آپ کی عرض کی یا امیر المؤمنین!میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔”کہ جب تم کسی علاقہ کے متعلق سنو کہ وہاں وباء پھیل چکی ہے تو اس علاقہ کی طرف مت جاؤ اور اگر تم اس علاقہ میں ہو جہاں وباء پھیلی ہوئی ہے تو وہاں سے اپنی جان بچانے کیلئے مت بھاگو“۔

    اسلام نے بھی تو یہی تعلیمات دی تھیں۔ حرام سے دور رہو،پردہ کرو،صفائی کا خاص خیال رکھوبیشک صفائی نصف ایمان ہے۔ کیونکہ اسلام وہ نظریہ حیات ہے جس میں زندگی کے ہر پہلو پر راہنمائی اور سبق ملتا ہے۔انسانی زندگی کے ہر طبقے کیلئے براہ راست راہنمائی موجود ہے۔ مگر افسوس!ہم نے اسلام کی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا،اور بات پھر بھی وہاں ہی آگئی ہے ساری دنیا میں لوگ ماسک کی صورت میں پردہ کر رہے ہیں، حرام چیزوں سے دور رہے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق بہت سے لوگ اسلام قبول کررہے ہیں کیونکہ آج پوری دنیا کو علم ہو چکا ہے کہ اسلام ہی امن و سلامتی کا راستہ ہے۔ مشہور رومن حکم راں (Justinan)کہتا ہے جو معمولات،دستور،باضابطہ طور پر اسلا م کے پاس موجود ہیں۔

    وہ دنیا کی کسی قوم کے پاس نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ مستقبل میں پیش آنے والے مسائل وہ چاہے کسی بھی نوعیت کے ہوں،اسلام نے باضابطہ ان کا احاطہ کیا ہے۔اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب وادیان جدید دور کے مسائل حل کرنے سے عاجز ہیں۔جس چیز کا حل ہمیں سائنس اور کتابوں سے نہیں ملتا ان تمام مسائل کا حل حضور ﷺ کی سنت نبوی کے اندر موجود ہے کیونکہ ارشاہ نبویﷺ ہے۔”ترکتم علی حجۃ بیضاء لیلھا کنھار رھا لایزیغ عنھا الا ھالک“ ترجمہ:میں نے تم کو روشن راستے پر چھوڑا ہے،اس کی راتیں بھی اس کے دنوں کی مانند روشن ہیں۔

    اب اسلام کی تعلیمات سے وہی شخص انحراف کرے گا جو خود کو ہلاکت کے گڑھے میں گرانا چاہتا ہے۔اگر ہم اس بیماری کو اسلامی نقطہ نظر سے دیکھیں تو اس کا علاج بہت ہی آسان ہے اور وہ ہے ”وضو“آج کی جدیدسائنس بھی کہتی ہے اگر کوئی دن میں بانچ بار وضو کرتا ہے تو وہ کئی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔وضو کے طریقے کو دیکھا جائے اور سائنسی بنیادوں پر اس کو پرکھا جائے تو حیرت انگیز انکشافات ہوتے ہیں۔مثلاً سب سے پہلے منہ کو لے لیں۔وضو میں تین دفعہ کلی کرنے سے منہ کی غلاظت سے پاک ہو جاتا ہے۔

    جدید سائنس ثابت کر چکی ہے کہ کلی کرنے سے گلا خراب ہونے سے محفوظ رہتا ہے اور دانت اور مسوڑھے بھی خراب ہونے سے محفوظ رہتے ہیں کیونکہ کلی کرنے ان پر خوراک کے ذرات جو انفیکشن کا باعث بنتے ہیں دور ہو جاتے ہیں۔اس کے بعد ناک میں پانی ڈالنا اس میں موجود مٹی اور دھول کے ذرات جو ناک میں موجود چھوٹے چھوٹے بال پکڑ لیتے ہیں اور انہیں سانس کی نالی میں جانے سے روکتے ہیں وضو کرنے سے یہ گندگی دور ہو جاتی ہے اور ناک صاف رکھنے سے تازہ ہوا کی آمد و رفت بہتر ہو جاتی ہے۔

    اسکے بعد چہرہ اور دونوں ہاتھ دھونے سے ان پر پسینے او رتیل کے غدود اور ہوا میں موجود مٹی اور جراثیم سے جو کیمیائی عمل ہوتا ہے اس سے یہ اعضاء محفوظ رہتے ہیں اور انفیکشن سے بچ جاتے ہیں۔اور ”کرونا وائرس“سے محفوظ رہنے کیلئے بھی تو ڈاکٹر یہی کہہ رہے ہیں بار بار ہاتھوں کو دھوئیں،منہ کو دھوئیں یہ تمام چیزیں بھی تو اسلام کی بیان کردہ ہیں ہم ان پر عمل کر کے اس سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ مختار سالم اپنی کتاب
    (Prayer esport for body and soul)میں ہر پہلو سے وضو کے فوائد کے بارے میں لکھتا ہے۔

    ”جدید سائیٹیفک ریسرچ ثابت کرتی ہے کہ وضو ایک انتہائی اہم عمل ہے اور دن میں پانچ وقت وضو کرنے سے جسم انتہائی اہم اور مضر رساں بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے“۔آج وقت اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے کا ہے۔اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی جبیں کو جھ کا کر استغفار کرنے کا ہے۔آج وقت اپنے اعمال کے محاسبہ کرنے کاہے۔اپنے گھروں اور مساجد کو رب کی عبادت سے آباد کرنے کا ہے۔اور ”کروناوائرس“کے خلاف جو ہماری حکومت اقدامات کر رہی ہے ان پر عمل کرنے کا ہے کیونکہ اس بیماری کا خاتمہ صرف حکومت نہیں کر سکتی ان کو ہماری تعاون کی بھی اشد ضرورت ہے۔

    اپنے گھروں سے ضرورت کے بغیر بالکل باہر نہ نکلیں،اپنے پیاروں کی حفاظت کریں۔ اگر کی ضرورت کے پیش نظرباہر نکلنا پڑتا ہے تو ماسک کا استعمال ضرور کریں اور حکومت نے جو پورے ملک میں باہر نکلنے پر پابندی لگائی ہے اس کو اپنے لئے عذاب نہ سمجھیں بلکہ میں تو یوں کہوں گا۔”It’s not a CURFEW, It’s a CARE FOR YOU”آخر میں اتنا کہوں گا۔”سب کچھ ہر جگہ بند ہو رہا ہے،لیکن!توبہ کا دروازہ اب بھی کھلا ہے“

    اسلام،جدید سائنس،کرونا وائرس اور ہم

    ازقلم:حافظ عبدالستار

  • اسلام،جدید سائنس،کرونا وائرس اور ہم  ازقلم:حافظ عبدالستار

    اسلام،جدید سائنس،کرونا وائرس اور ہم ازقلم:حافظ عبدالستار

    آج نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں ہر شخص کی زبان پر ایک ہی ترانہ ہے ”کرونا وائرس“ جو کہ ایک خطرناک مرض بن چکا ہے۔ پوری دنیا میں لاکھوں افراد اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں

    ہر طرف خوف و ہراس کی فضاء پھیل چکی ہے۔ کیونکہ یہ وائرس ملنے جلنے سے پھیلتا ہے اس لیے تمام سکولز،کالجز،یونیورسٹیز،کمیونٹی سنٹرز،مدارس،دفاتر،ملز،فیکٹریز کو بند کر دیا گیا ہے،تاکہ اس وائرس کے پھیلنے کے امکانات کم ہو جائیں۔

    ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت پوری دنیا میں کرونا وائرس کے تقریباً786957کیسز سامنے آچکے ہیں جس میں مزید کیسز ابھی بھی سامنے آرہے ہیں،جن میں سے مرنے والوں کی تعداد 37843تک پہنچ چکی ہے۔ مزید برآں روزانہ کے حساب سے پوری دنیا میں 3500سے زیادہ لوگ مر رہے ہیں،اور پاکستان میں ان کی تعداد تقریباً 1865ہو چکی ہے۔

    اگر ہم حالات کا جائزہ لیں تو کرونا وائرس دیکھنے میں ایک بیماری ہے لیکن اگر میں اس کو خدا کا عذاب کہوں تو غلط نہ ہوگا۔جو حالات اس وقت پوری دنیا کے ہیں،ہر طرف بے حیائی،فحاشی عروج پہ ہے۔ امت مسلمہ پر ظلم کیا جا رہا ہے (شام،فلسطین،کشمیر) اس میں شامل ہیں۔حلال اور حرام کے درمیان تمیز ختم ہو چکی ہے،ظلم اپنی انتہاء کو پہنچ چکا ہے۔ لیکن کوئی طاقت اس کو روک نہ سکی،وہ کہتے ہیں نہ کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہے جب آتی ہے تو پوری دنیا کو ہلا ک کر کے ر کھ دیتی ہے۔دیکھئے!خدا کا عذاب ایک چھوٹے سے وائرس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیااور یہ پکار پکار کے کہہ رہاہے ”Where are your Fighter Jets, Missiles and your Nuclear Weapons” اور سب کو بتا دیا تم تو اپنے آپ کو سپر پاور سمجھتے ہو،لیکن یہ تمہاری غلط فہمی ہے جس میں تم مبتلا ہو، سب سے طاقتور ذات اللہ تعالیٰ کی ہے۔

    دنیا پر ظلم اس قدر اپنی انتہاء کو پہنچ گیا کہ خدا کا عذاب آگیا۔ میرا وجدان کہتا ہے یہ صدا تھی کشمیر کی ان ماؤں اور بہنوں کی جنہوں نے اپنے بھائیوں اور بیٹوں کواپنی آنکھوں کے سامنے قتل ہوتے دیکھا،یہ صدا تھی ان بہنوں اور بیٹیوں کی جن کی عزت کو سب کے سامنے تار تار کیا گیا۔اور خدا کے عذاب نے ”کرونا وائرس“ کی صورت میں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،انہوں نے تو کشمیر کو بند کیا تھا اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا کو بند کر دیا۔مجھے شام کے اس بچے کی صدابھی یاد ہے جس نے دم توڑتے ہوئے کہا تھا”سَاُخْبِرُ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْ“ میں سب کچھ اپنے رب کو بتاؤں گا۔مجھے عراق کی اس بیٹی کی صدا بھی یاد ہے جس نے بھاگتے ہوئے نیوز چینل کے صحافی سے کہا ”انکل! خدا کے واسطے میری عکاسی مت کرنا میں بے حجاب ہوں“۔ مجھے افغانستان کے اس بچے کی بات بھی یاد ہے جس کا بازو زخمی ہو گیا تھا اور ڈاکٹر نے کہا بیٹا!تمہارا بازو کاٹنا پڑے گا تو اس بچے نے کہا ”خدا کے واسطے میرا بازو کاٹ لیں مگر میری آستین مت کاٹنا کیونکہ زیب تن کرنے کیلئے میرے پاس یہی ایک جوڑا ہے“۔

    اس مرض سے بچنے کیلئے آج کی سائنس یہ کہتی ہے،کہ صفائی کا خاص خیال رکھو،جس علاقے میں یہ بیماری ہے اس سے دور رہو، ایک دوسرے کے درمیان فاصلہ رکھو، منہ پر Maskپہنو، ہاتھوں کو صاف کرو، یہ وہ تمام چیزیں ہیں جن کوچودہ سوسال پہلے ہمارے آقا و مولا جناب حضرت محمد مصطفی ﷺ بیان کر چکے تھے۔صحیح بخاری کی حدیث مبارکہ ہے جس کا مفہوم کچھ ہوں ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام کی طرف سفر کر رہے تھے کہ آپ کو ایک مقام پر اطلاع ملی کہ شام کی طاعون کی وباء پھیل چکی ہے تو اس وقت قافلے میں حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ بھی شامل تھے آپ نے عرض کی یا امیر المؤمنین!میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔”کہ جب تم کسی علاقہ کے متعلق سنو کہ وہاں وباء پھیل چکی ہے تو اس علاقہ کی طرف مت جاؤ اور اگر تم اس علاقہ میں ہو جہاں وباء پھیلی ہوئی ہے تو وہاں سے اپنی جان بچانے کیلئے مت بھاگو“۔

    اسلام نے بھی تو یہی تعلیمات دی تھیں۔ حرام سے دور رہو،پردہ کرو،صفائی کا خاص خیال رکھوبیشک صفائی نصف ایمان ہے۔ کیونکہ اسلام وہ نظریہ حیات ہے جس میں زندگی کے ہر پہلو پر راہنمائی اور سبق ملتا ہے۔انسانی زندگی کے ہر طبقے کیلئے براہ راست راہنمائی موجود ہے۔ مگر افسوس!ہم نے اسلام کی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا،اور بات پھر بھی وہاں ہی آگئی ہے ساری دنیا میں لوگ ماسک کی صورت میں پردہ کر رہے ہیں، حرام چیزوں سے دور رہے ہیں۔

    ایک رپورٹ کے مطابق بہت سے لوگ اسلام قبول کررہے ہیں کیونکہ آج پوری دنیا کو علم ہو چکا ہے کہ اسلام ہی امن و سلامتی کا راستہ ہے۔ مشہور رومن حکمراں (Justinan)کہتا ہے جو معمولات،دستور،باضابطہ طور پر اسلا م کے پاس موجود ہیں۔وہ دنیا کی کسی قوم کے پاس نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ مستقبل میں پیش آنے والے مسائل وہ چاہے کسی بھی نوعیت کے ہوں،اسلام نے باضابطہ ان کا احاطہ کیا ہے۔اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب وادیان جدید دور کے مسائل حل کرنے سے عاجز ہیں۔جس چیز کا حل ہمیں سائنس اور کتابوں سے نہیں ملتا ان تمام مسائل کا حل حضور ﷺ کی سنت نبوی کے اندر موجود ہے کیونکہ ارشاہ نبویﷺ ہے۔”ترکتم علی حجۃ بیضاء لیلھا کنھار رھا لایزیغ عنھا الا ھالک“ ترجمہ:میں نے تم کو روشن راستے پر چھوڑا ہے،اس کی راتیں بھی اس کے دنوں کی مانند روشن ہیں۔اب اسلام کی تعلیمات سے وہی شخص انحراف کرے گا جو خود کو ہلاکت کے گڑھے میں گرانا چاہتا ہے۔

    اگر ہم اس بیماری کو اسلامی نقطہ نظر سے دیکھیں تو اس کا علاج بہت ہی آسان ہے اور وہ ہے ”وضو“آج کی جدیدسائنس بھی کہتی ہے اگر کوئی دن میں بانچ بار وضو کرتا ہے تو وہ کئی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔وضو کے طریقے کو دیکھا جائے اور سائنسی بنیادوں پر اس کو پرکھا جائے تو حیرت انگیز انکشافات ہوتے ہیں۔مثلاً سب سے پہلے منہ کو لے لیں۔وضو میں تین دفعہ کلی کرنے سے منہ کی غلاظت سے پاک ہو جاتا ہے۔جدید سائنس ثابت کر چکی ہے کہ کلی کرنے سے گلا خراب ہونے سے محفوظ رہتا ہے اور دانت اور مسوڑھے بھی خراب ہونے سے محفوظ رہتے ہیں کیونکہ کلی کرنے ان پر خوراک کے ذرات جو انفیکشن کا باعث بنتے ہیں دور ہو جاتے ہیں۔اس کے بعد ناک میں پانی ڈالنا اس میں موجود مٹی اور دھول کے ذرات جو ناک میں موجود چھوٹے چھوٹے بال پکڑ لیتے ہیں اور انہیں سانس کی نالی میں جانے سے روکتے ہیں وضو کرنے سے یہ گندگی دور ہو جاتی ہے اور ناک صاف رکھنے سے تازہ ہوا کی آمد و رفت بہتر ہو جاتی ہے۔اسکے بعد چہرہ اور دونوں ہاتھ دھونے سے ان پر پسینے او رتیل کے غدود اور ہوا میں موجود مٹی اور جراثیم سے جو کیمیائی عمل ہوتا ہے اس سے یہ اعضاء محفوظ رہتے ہیں اور انفیکشن سے بچ جاتے ہیں۔اور ”کرونا وائرس“سے محفوظ رہنے کیلئے بھی تو ڈاکٹر یہی کہہ رہے ہیں بار بار ہاتھوں کو دھوئیں،منہ کو دھوئیں یہ تمام چیزیں بھی تو اسلام کی بیان کردہ ہیں ہم ان پر عمل کر کے اس سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

    مختار سالم اپنی کتاب (Prayer esport for body and soul)میں ہر پہلو سے وضو کے فوائد کے بارے میں لکھتا ہے۔”جدید سائیٹیفک ریسرچ ثابت کرتی ہے کہ وضو ایک انتہائی اہم عمل ہے اور دن میں پانچ وقت وضو کرنے سے جسم انتہائی اہم اور مضر رساں بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے“۔آج وقت اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے کا ہے۔اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی جبیں کو جھکا کر استغفار کرنے کا ہے۔آج وقت اپنے اعمال کے محاسبہ کرنے کاہے۔اپنے گھروں اور مساجد کو رب کی عبادت سے آباد کرنے کا ہے۔اور ”کروناوائرس“کے خلاف جو ہماری حکومت اقدامات کر رہی ہے ان پر عمل کرنے کا ہے کیونکہ اس بیماری کا خاتمہ صرف حکومت نہیں کر سکتی ان کو ہماری تعاون کی بھی اشد ضرورت ہے۔

    اپنے گھروں سے ضرورت کے بغیر بالکل باہر نہ نکلیں،اپنے پیاروں کی حفاظت کریں۔ اگر کی ضرورت کے پیش نظرباہر نکلنا پڑتا ہے تو ماسک کا استعمال ضرور کریں اور حکومت نے جو پورے ملک میں باہر نکلنے پر پابندی لگائی ہے اس کو اپنے لئے عذاب نہ سمجھیں بلکہ میں تو یوں کہوں گا۔”It’s not a CURFEW, It’s a CARE FOR YOU”آخر میں اتنا کہوں گا۔”سب کچھ ہر جگہ بند ہو رہا ہے،لیکن!توبہ کا دروازہ اب بھی کھلا ہے“۔

  • جاز کمپنی کی سست روی لوگ پریشان

    جاز کمپنی کی سست روی لوگ پریشان

    قصور
    راءو خان والا میں ایک ہفتے سے جاز ٹاور خراب سگنلز کی کمی کی بدولت پورا علاقہ سخت پریشان انٹرنیٹ کی سپیڈ بھی انتہائی سست
    تفصیلات کے مطابق راءوخان والا میں پچھلے ایک ہفتے سے جاز نیٹ ورک کا مسئلہ بنا ہوا ہے سگنل بلکل کم آتے ہیں کال بار بار کٹ جاتی ہے اور انٹرنیٹ کی سپیڈ نا ہونے کے برابر ہے جس پر اہل علاقہ نے بار بار جاز ہیلپ لائن پر شکایات کیں مگر کوئی نتیجہ نا نکلا لوگوں نے جاز کے قصور موبائل نمبر 03006598666 پر بھی بارہا رابطہ کیا مگر ہر بار ٹال مٹول سے کام لیا گیا ایک شہری کو بتایا گیا کہ جاز کمپنی کا ٹاور زمین مالکان سے تنازعہ چل رہا ہے جس کی بدولت تاخیر ہوئی ہے اور مذید ابھی 4 سے 5 دن لگ جائینگے
    لوگوں نے جاز کمپنی سے مطالبہ کیا ہے کہ جلد سے جلد ٹاور سے خرابی دور کی جائے تاکہ لوگ کال کرنے اور سننے میں دقت محسوس نا کریں

  • ہم سعودی عرب اور ایران کی دوستی کرائیں‌گے،وزیر اعظم

    ہم سعودی عرب اور ایران کی دوستی کرائیں‌گے،وزیر اعظم

    ’ہنرمند پاکستان پروگرام‘ لوگوں کو نیچے سے اوپر لائے گا ،وزیر اعظم

    باغی ٹی وی :وزیراعظم عمران خان نے 30 ارب روپے کی لاگت سے ’ہنرمند پاکستان پروگرام‘ کی افتتاحی تقریب کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مشکل وقت سے نکل رہا ہے، انسان اور قوم کی زندگی میں ہمیشہ اچھا برا وقت آتا رہتا ہے تاہم صرف اچھا وقت کہانیوں میں ہی ہوتا ہے۔ہم سعودی عرب اور ایران کی دوستی کرائیں‌گے

    انہوں نے کہا کہ حقیقی زندگی اونچ نیچ کا نام ہے تاہم برے وقت میں انسان کو اصلاح کرنی چاہیے اور کمزور طبقے کا خیال رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ مدینہ کی ریاست کی وجہ سے 700 سال تک مسلمان کامیاب رہے۔

    عمران خان نے کہا کہ ہماری کوشش ہے احساس پروگرام کے ذریعے لوگوں کو نیچے سے اوپر لائیں، ہم نے گزشتہ سال سے پناہ گاہیں بنانا شروع کی تھیں اور آج پنجاب میں 170 پناہ گاہیں بن چکی ہیں۔ تاہم خسارے کے باعث لوگوں کو غربت کا سامنا کرنا پڑا۔
    ان کا کہنا تھا کہ کمزور طبقے کا خیال رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ مہذب معاشروں میں سب کو یکساں مواقع ملتے ہیں۔ امریکا میں ہر شعبے میں پاکستانی آگے نکل گئے، اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ انہیں معاشرے نے موقع دیا۔

    پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے عوامی فلاح کیلئے اٹھائے گئے مثبت اقدامات پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ غریب طبقے کو اوپر لانے کیلئے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 190 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ یوٹیلٹی سٹورز کو 7 ارب روپے کا پیکج دیا۔ نادار لوگوں کیلئے لنگر خانے کھولے اور سڑکوں پر سونے والوں کے لیے پناہ گاہیں بنائی گئیں۔ غریبوں کو علاج کی سہولیات دینے کیلئے ہیلتھ کارڈ بنائے گئے۔ ہیلتھ کارڈ کے ذریعے7 لاکھ 20 ہزار سے کسی بھی ہسپتال سے علاج کروایا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام سے بھی غریب طبقے کو فائدہ ہوگا۔ 2020ء میں ہم نے لوگوں کو روزگار دینا ہے جبکہ اگلے چار سالوں میں پچاس لاکھ گھر بنانے ہیں۔ تنخواہ دار طبقہ گھر نہیں بنا سکتا۔ پچاس لاکھ گھر بنانے سے چالیس انڈسٹریاں چل پڑیں گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ نوجوان ملک کا سب بڑا اثاثہ ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا میں سب سے بہتر تانبے اور سونے کے ذخائر ہمارے ملک میں موجود ہیں۔ ایگری کلچر، پانی کے نظام کو ٹھیک کر لیں تو پیداوار دگنی کر سکتے ہیں۔

    ہنرمند پروگرام کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہںا تھا کہ اس میں 30 ارب رکھے ہیں۔ پہلے فیز میں 10 ارب روپیہ استعمال ہوگا۔ پانچ لاکھ نوجوانوں کو ہنر سکھائیں گے۔ جیسے جیسے پیسہ آئے گا تعلیم، صحت، ٹیکنکل ایجوکیشن پر لگائیں گے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں پہلی دفعہ ایسے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ اگر ہم نے نوجوانوں کو ہنرمند بنا دیا تو یہی پاکستان کو سپر پاور بنا سکتے ہیں۔ ماضی میں پاکستانی نوجوانوں کی تعلیم اور ہنر پر توجہ نہیں دی گئی۔ ہنرمند نوجوان پروگرام پر عثمان ڈار اور شفقت محمود کو مبارکباد دیتا ہوں۔

    مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور ایران امریکا کے درمیان حالیہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے دنیا کو واضح اور دوٹوک پیغام دیتے ہوئے اعلان کیا کہ اب پاکستان کسی کی جنگ میں شرکت نہیں کرے گا بلکہ امن والا ملک بنے گا۔ ماضی میں دہشتگردی کیخلاف جنگ میں شرکت کر کے پاکستان نے بڑی قیمت ادا کی۔ ہماری سب سے بڑی کوشش ایران اور سعودی عرب میں دوستی کرانا ہے جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کہہ دیا ہے کہ ہم واشنگٹن اور تہران کو بھی قریب لانا چاہتے ہیں۔

  • ریاست مدینہ پر زور دینا میری زندگی کا تجربہ ہے، وزیر اعظم

    ریاست مدینہ پر زور دینا میری زندگی کا تجربہ ہے، وزیر اعظم

    وزیر اعظم عمران خان نے رحمۃ للعالمین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست مدینہ پر زور دینا میری زندگی کا تجربہ ہے،

    اسلام آباد میں جشن عید میلاد النبی ﷺ پررحمۃ للعالمین کانفرنس کا انعقاد،وزیراعظم عمران خان رحمۃ للعالمین کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گے.کانفرنس میں علمائےکرام،ضلعی انتظامیہ کے افسران سمیت طلباو دیگر افراد کی شریک ہوئے.کانفرنس میں حضورپاک ﷺکی شان میں تقاریر اور نعت خوانی کا اہتمام کیا گیا .وزیراعظم عمران خان رحمۃ للعالمین کانفرنس کےمہمان خصوصی ہیں. کانفرنس میں وفاقی وزیرمذہبی امورنورالحق قادری اوربابراعوان سمیت دیگر قائدین ، زعماء دینی سکالرز اور علما و مشائخ بھی شریک ہوئے
    اس موقع پر وزیر اعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہےکہ ریاست مدینہ پر زور دینا میری زندگی کا تجربہ ہے،والدصاحب زبردستی جمعہ کی نماز پڑھنے لے جاتے تھے،
    پاکستان کا ایسا کوئی علاقہ نہیں جہاں میں نہیں گیا، میر ی زندگی مغرب میں کرکٹ کھیلتے ہوئے گزری، قوم نے بھی ریاست مدینہ بنانے میں ہمارا ساتھ دینا ہے،ریاست مدینہ کے اصول پاکستان میں رائج کرتا رہوں گا،ٹیکس نہیں دیتے تو ملک کیسے چلائیں گے،ہم خیرات سب سے زیادہ دیتے ہیں لیکن ٹیکس نہیں دیتے،میرا ایمان پاکستان اوپر اٹھے گا، ہم نے سچی قوم بننا ہے،رحم کمزور اور پسے ہوئے طبقےکےلیے ہوتے ہیں،بڑے بڑے ڈاکووَں کےلیے نہیں،

    وزیراعظم نے کہا کہ نبی کریمﷺنےکرپشن کرنے والوں کو عبرت ناک سزائیں دیں،میرا کام قوم کو مقروض کرنے والوں کو معاف کرنا نہیں،یہاں طاقت ور اور کمزور کےلیے الگ الگ قانون ہے،یہ ایک موبائل سٹور ہے، یہ ایک جائے کار ہے، یہ وہ ہر چیز ہے جو آپ اسے بناتے ہیں۔ترکی اور ملائیشیا کے ساتھ مل کر اسلامی چینل بنانے کا فیصلہ کیا،چاہتا ہوں ریاست مدینہ کےلیے علما ہماری مدد کریں،تاریخ اسلام میں عالم کی بہت تعظیم ہے،یہاں طاقت ور اور کمزور کےلیے الگ الگ قانون ہے،
    محسن انسانیت حضرت محمد ﷺکے یوم پیدائش پروزیراعظم کا پیغام

    عید میلادالنبیؐ آج ملک بھر میں مذہبی عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے

  • خیر البشر، خیر الرسل-محمد ‏ﷺ خاتم الرسل–از–محمد نعیم شہزاد

    انسان کی ذات بنیادی طور پر دو اجزاء سے مرکب ہے، جسم اور روح۔ جسم نے مٹی سے وجود پایا اور پھر اس کی تخلیق پانی کی ایک بوند سے مقرر کر دی گئی۔ روح امرِ ربی ہے اور اس مٹی کے پتلے کی تمام تر صلاحیتیں اور قوتیں اسی روح کے ہونے سے کار گر ہیں۔ روح نکل جائے تو انسان مردہ اور اس کا جسم لاش قرار پاتا ہے۔ روح اور جسم کا یہ لطیف تعلق اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے۔

    اللہ تعالیٰ صرف خلاق ہی نہیں بلکہ رزاق، رب اور پروردگار بھی ہے۔ اور جیسا اس نے خود قرآن میں فرمایا "ليس كمثله شىيئ” واقعتا کوئی اس کی مثل و مثال نہیں بن سکتا۔ انسان نے سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کی، علوم و فنون میں مہارتیں حاصل کیں اور کائنات کو تسخیر کرنے کی جستجو میں محو ہے مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اس کو ہمیشہ ہی عاجز کر دیتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت و طاقت کے مظاہر ہمارے ایمان و یقین کو مزید پختہ بنا دیتے ہیں۔

    اللّٰہ تعالیٰ نے اس کائنات میں بنی نوع انسان کو تمام مخلوقات پر فضیلت دی اور اشرف المخلوقات کا درجہ عطا فرمایا اور زمین پر انسان کو اپنا خلیفہ قرار دیا۔ کیونکر ممکن تھا کہ اس قدر عزت افزائی کے بعد انسان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جاتا۔ بے پناہ انعام و اکرام سے نوازنے کے علاوہ جس بیش بہا انعام سے اللّٰہ تعالیٰ نے سرفراز فرمایا وہ رشد و ہدایت ہے جس پر عمل کر کے انسان دنیاوی زندگی کے ساتھ ساتھ اخروی زندگی میں بھی کمالات حاصل کر سکتا ہے۔

    اللہ تعالیٰ کے ان ہی بے پایاں انعامات میں سے سب سے گرانقدر حضرت محمد ‏ﷺ کی بعثت ہے۔ ایک ایسی ذات جس کی زندگی کا ایک ایک لحظہ ایمان والوں کے لیے باعث اجر اور سعادت قرار پایا۔ اور شخصیت ایسی ہمہ جہت کہ ہر کوئی اس میں اپنے لیے نمونہ و مثال پاتا ہے۔ طرز فقیری ہو یا آئین جہاں بانی ہمہ قسم کا کردار اس ذات اقدس سے راہنمائی پاتا ہے۔

    اخلاق حسنہ کا مرقع اور ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول کے مصداق مجسم قرآن تھے۔ اور ایسے خصائص کریمہ سے متصف تھے کہ جو کوئی بھی ایک بار آپ سے ملاقات کا شرف حاصل کر لیتا آپ کا گرویدہ ہو کر رہ جاتا۔ الغرض آپ کی ذات مظہر صفات و کمالات ہے۔ اور رہتی دنیا تک منبع علم و عرفان اور واجب الاطاعت ہے۔

    اس ماہ ربیع الاول میں پاک بلاگرز فورم نے سیرت طیبہ کے مہکتے ہوئے گلزار میں سے خوشہ چینی کا موقع فراہم کرتے ہوئے تحریری مقابلہ بعنوان سیرت ختم الرسل ‏ﷺ منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مقابلے کے لیے دو عنوانات کا انتخاب کیا گیا ہے جن میں سے کسی ایک پر تحریر لکھی جا سکتی ہے. مقابلے کا کوآرڈینیٹر فورم کے چیئرمین جناب خنیس الرحمن رانا کو مقرر کیا گیا ہے۔ ربیع الاول کا تمام مہینہ محبان رسول ‏ﷺ اپنے گلہائے عقیدت پیش کرتے رہے گے اور مقابلہ کا اختتام 31 نومبر 2019 کو ہو گا اور نتائج کا اعلان دسمبر میں کیا جائے گا ۔

    اس مقابلے کا مقصد نوجوان نسل کو حضور اکرم ‏ﷺ کے پاکیزہ کردار اور اعلی صفات سے متعارف کروانا اور سب سے بڑھ کر آپ کی خاتمیت کا پرچار ہے۔فی زمانہ جب انسان طرح طرح کی خامیوں اور بیماریوں سے دوجار ہے اس قسم کی علمی سرگرمیوں کو رواج دینا چاہے تاکہ نوجوانوں میں مثبت روئیے رواج پائیں۔

    خیر البشر، خیر الرسل-محمد ‏ﷺ خاتم الرسل
    تحریر-محمد نعیم شہزاد