Baaghi TV

Category: اسلام

  • Microburst: Threat to Aviation (ہوائی جہازوں کیلئے خطرہ)   تحریر :  سلطان سکندر!

    Microburst: Threat to Aviation (ہوائی جہازوں کیلئے خطرہ) تحریر : سلطان سکندر!

    Microburst: Threat to Aviation
    (ہوائی جہازوں کیلئے خطرہ) : بقلم سلطان سکندر!

    جدید تحقیق اور قرآن مجید کے مطابق مائیکروبرسٹ انسانوں کیلئے خطرہ
    👇🏻

    آسمانی کتاب بائبل "four winds” کے بارے میں بیان کرتی ہے، جس کا مطلب ہے زمین کے چاروں کونوں سے ہوا کا چلنا ہے، یعنی ایک ہوا جب ساوتھ، ایسٹ، ویسٹ، نارتھ زمین کے چاروں کونوں سے چلتی ہے تو اسے فار ونڈز کہتے ہیں، اگرچہ یہ غلط ثابت ہوا لیکن بائبل دراصل زمینی سطح کی ہوا کے متعلق بات کر رہی ہے۔
    زمینی سطح کی ہوائیں زمین کی طرف پیرالل یعنی متوازن(برابر) حرکت کرتی ہیں۔ اس وقت کوئی بھی اس ہوا کے متوازن ٹکراو کو نہیں جانتا تھا جو زمین کو آ کر ٹکراتی ہیں۔ تاہم آج اس موسم کے مظاہر(ہوا، بادل، بارش، فوگ، مٹی کا طوفان وغیرہ) نے ہوابازی کی صنعت(جہاز بنانے والی انڈسٹریوں) کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔

    "مائیکروبرسٹ کا مطلب چھوٹے پیمانے پر ہوا کی رو کا نیچے کی طرف چلنا ہے جو مٹی کے طوفان یا مسلسل تیز بارش کے سبب پیدا ہوتی ہے۔ مائیکرو برسٹ دو طرح کے ہوتے ہیں
    1:- ویٹ(گیلا) مائکروبرسٹ (بارش میں ہوا کی رو کا نیچے کی طرف آنا)
    2:- ڈرائی(خشک) مائیکروبرسٹ(مٹی کے طوفان میں ہوا کی رو کا نیچے کی طرف چلنا)
    یہ اپنے چکر میں تین حالتوں سے گزرتے ہیں، ڈاون برسٹ (ہوا کا نیچے کی طرف شدید جھکاو)، آوٹ برسٹ (پھاڑ دینے والا طوفان)، جھٹکے دار طوفان یعنی جس میں ہوا کے اچانک تیز جھونکے رونما ہوتے ہوں۔
    یہ مائیکروبرسٹ (ہوائی طوفان) خاص طور پر ہوائی جہاز کیلئے بہت خطرناک ہوتے ہیں، خاص طور پر جہاز کی لینڈنگ کے وقت جب ہوا کا جھونکا سامنے سے جہاز کو ٹکراتا ہے تو یہ اسکے لیے بہت مشکل اور خطرناک مرحلہ ہوتا ہے۔
    پچھلی کچھ دہائیوں سے ہوائی جہازوں کے کئی تاریخی حادثات موسم کے مظاہر کی وجہ سے ہی رونما ہوئے ہیں، جہاز کے عملے کی بڑے پیمانے پہ تربیت اسی بات پہ ہوتی ہے کہ موسم کے ان مظاہر یعنی مائیکروبرسٹ اور مشکلات میں ہوائی جہاز کو کیسے بہتر طریقے سے نکالا جا سکتا ہے۔

    مائیکروبرسٹ عام طور پر بہت ہی تیز اور شدید ہواؤں پہ مشتمل ہوتا ہے جو بڑے بڑے اونچے درختوں کو زمین پہ گرا دیتا ہے۔ یہ عمل عام طور پر کچھ سیکنڈز سے کچھ منٹس تک جاری رہتا ہے۔”
    Reference:- Wikipedia, Microburst, 2018

    یہ شدید ڈاون کرافٹ(ہوا کی رو کا نیچے کی طرف آنا اور زمین کو ٹکرا کر پھیل جانا) زمین کو ٹکراتا ہے اور درختوں کو گرا دیتا ہے، یہ متعدد انسانی اموات کے ساتھ ہوا بازی(ہوائی جہازوں) کیلئے سنگین خطرہ ہے۔ یہ تحقیق حال ہی میں کی گئی ہے جبکہ قرآن میں 1400 سال پہلے ہی یہ درج تھا،

    حُنَفَآءَ لِلّـٰهِ غَيْـرَ مُشْرِكِيْنَ بِهٖ ۚ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّـٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْـرُ اَوْ تَهْوِىْ بِهِ الرِّيْحُ فِىْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ (الحج 31)

    "خاص اللہ کے ہو کر رہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا پھر اسے پرندے اچک لیتے ہیں یا اسے ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے۔”

    "ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے” یہاں پہ ہوا کی رو کا نیچے کی طرف آنے اور زمین سے ٹکرانے کی بات ہو رہی ہے یعنی ڈاون ڈرافٹ۔

    قرآن کے مطابق یہ ڈاون ڈرافٹ ہوا میں انسانوں کیلئے خطرہ ہے(ہوائی جہازوں کے کریش ہونے کی صورت میں)۔ اور آج ہم جانتے ہیں کہ مائیکروبرسٹ انسانوں کیلئے ہوا میں خطرے کا باعث ہے۔

    ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے یہ کیسے جان سکتا ہے کہ ایک ڈاون ڈرافٹ(ہوا کا دباو) بھی ہوتا ہے جو زمین سے ٹکراتا ہے اور تو اور ہوا میں بھی انسانوں کے خطرے کا باعث بنتا ہے جبکہ 1400 سال پہلے جہاز موجود ہی نہیں تھے؟

  • ریپٹرز(گوشت کھانے والے پرندے) کا قرآن مجید میں ذکر  بقلم سلطان سکندر!!!

    ریپٹرز(گوشت کھانے والے پرندے) کا قرآن مجید میں ذکر بقلم سلطان سکندر!!!

    ریپٹرز(گوشت کھانے والے پرندے) کا قرآن مجید میں ذکر

    "شکار کرنے والے پرندے، ریپٹرز، پرندوں کی ان انواع (سپیشیز) میں شامل ہیں جو کشیرے (ریڑھ دار) جانوروں کا شکار کرتے اور ان کا گوشت کھاتے ہیں جو شکاری کی بہ نسبت بڑے ہوتے ہیں۔
    مزید براں، انکی نظر اتنی تیز ہوتی ہے جو انہیں اڑان کے دوران ہی یا کچھ فاصلے پر ہی اپنے شکاری کی طرف متوجہ(فوکس) کر دیتی ہے، انکے پاوں پنجوں کے ساتھ اتنے مضبوط ہوتے ہیں جو شکاری کو پکڑنے یا مارنے کیلئے کافی ہوتے ہیں، اور مڑی ہوئی چونچ جو شکاری کے جسم کو پھاڑنے کیلئے کافی ہوتی ہے۔”
    Reference:- Wikipedia, bird of prey, 2019.

    ریپٹرز اپنے پنجوں کے ذریعے شکار کو پکڑتے ہیں۔ جبکہ اکثر پرندے اپنی چونچ کے ذریعے اپنے شکار کو پکڑتے ہیں جیسا کہ ہاکنگ(Hawking)

    "ہاکنگ (Hawking) پرندوں میں شکار کو پکڑنے کی ایک ایسی حکمت عملی ہے، جس میں ہوا میں اڑنے والے کیڑوں کو پکڑنا شامل ہے، ہاکنگ کی اصطلاح اس طرز عمل سے مماثلت رکھتی ہے جس میں ہاک (Hawk) یعنی شکار کو ہوا میں پکڑنا شامل ہے، جہاں ریپٹرز اپنے پنجوں کے ذریعے شکار کو پکڑ سکتے ہیں اسی طرح ہاکنگ کا بھی اپنے شکار کو چونچ کے ذریعے پکڑنے کا ایک طرز عمل ہے۔
    Reference:- Wikipedia, Hawking, 2019

    دوسرے پرندوں سے مختلف، ریپٹرز اپنے شکار کو اپنے پاوں(پنجوں) کے ذریعے شکار کرتے ہیں۔

    تو ثابت ہوا کہ ریپٹرز اپنے شکار کو اپنے پنجوں کے ذریعے پکڑتے ہیں، چونچ کے ذریعے نہیں۔
    ایسی ہی بات 1400 سال پہلے قرآن میں لکھی ہوئی پائی گئی،

    Quran 22:31

    حُنَفَآءَ لِلّـٰهِ غَيْـرَ مُشْرِكِيْنَ بِهٖ ۚ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّـٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْـرُ اَوْ تَهْوِىْ بِهِ الرِّيْحُ فِىْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ ( الحج 31#)

    خاص اللہ کے ہو کر رہو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا پھر اسے پرندے اچک لیتے ہیں یا اسے ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے۔

    "پرندے اچک لیتے ہیں” جیسا کہ یہ پرندے اس انسان پہ حملہ کرکے اسے اچک لیتے ہیں تو مطلب یہ ریپٹرز (گوشت کھانے والے) پرندے ہوتے ہیں۔

    جیسا کہ قرآن کہتا ہے کہ وہ لوگ اچک لیے جاتے ہیں، کھائے نہیں جاتے، اگر وہ پرندے انسانوں کو ہوا میں ہی اچک لے جاتے ہیں، کھائے نہیں جاتے تو اسکا مطلب وہ پرندے اپنے پاوں کا استعمال کرتے ہیں، آج ہم جانتے ہیں کہ ریپٹرز اپنے پاوں کے ذریعے شکار کو پکڑتے ہیں، چونچ کے ذریعے نہیں۔


    سوال یہ بنتا ہے کہ ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے ہی کیسے جان سکتا ہے کہ اکثر باقی پرندوں سے مختلف ریپٹرز اپنے پاوں کے ذریعے شکار کرتے ہیں؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • سلسلہ امہات المؤمنین: 1؛حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا۔ تحریر: جویریہ بتول

    سلسلہ امہات المؤمنین: 1؛حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا۔ تحریر: جویریہ بتول

    سلسلہ امہات المؤمنین:
    1)۔حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا۔
    تحریر:(جویریہ بتول)۔

    رسول اللّٰہ کی بیویاں امہات المؤمنین ہیں۔۔۔
    ان کی سیرت و کردار تمام مسلمانوں کے لیئے بالعموم اور خواتین کے لیئے بالخصوص مشعل راہ ہے۔۔۔
    ہماری حقیقی فلاح اسی بات میں پوشیدہ ہے کہ ہم اپنی ماؤں کی سیرت سے آگہی حاصل کریں اور ان کے عظیم ترین کردار کو اپنانے کی کوشش بھی کریں۔۔۔مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم میں سے اکثریت کو اپنی ماؤں کے نام تک بھی مکمل یاد نہیں ہوتے،جبکہ فلمی دنیا کے کرداروں کے لفظ بہ لفظ نام ہمارے حافظے میں موجود رہتے ہیں۔۔۔؟
    رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عائلی زندگی ہماری اصلاح کا بہترین نمونہ ہے۔۔۔بہترین رفیقِ حیات کا نقشہ ہے۔۔۔
    اس سلسلہ میں ہم اپنی ماؤں۔۔۔۔امہات المؤمنین کے بارے میں کچھ جانیں گے۔۔۔ان شآ ء اللہ۔
    پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جب پہلی شادی کی تو آپ پچیس سال کے بھر پور جوان تھے،لیکن آپ نے نکاح کے لیئے جس خاتون کا انتخاب کیا،ان کی عمر چالیس سال تھی۔۔۔
    معروف ادیب اور عظیم نعمت خواں مرحوم نعیم صدیقی نے اس بات کو کتنے خوب صورت انداز میں لکھا ہے کہ:
    "یہ نوجوان رفیقۂ حیات کا انتخاب کرتا ہے تو مکہ کی نو عمر اور شوخ و شنگ لڑکیوں کو اک ذرا سا خراج نگاہ دیئے بغیر ایک ایسی عورت سے رشتۂ مناکحت استوار کرتا ہے کہ جس کی بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ خاندان اور ذاتی سیرت و کردار کے لحاظ سے نہایت اشرف خاتون ہے،اس کا یہ ذوق انتخاب اس کے ذہن،روح اور مزاج کی گہرائیوں کو پوری طرح نمایاں کر دیتا ہے۔۔۔”
    ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا مکہ معظمہ میں پیدا ہوئیں،جاہلیت میں آپ کا لقب طاہرہ تھا۔
    آپ قریش کے شریف و معزز خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔۔۔
    آپ کا اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا خاندان ایک ہی تھا۔۔۔یعنی قریش۔
    حضرت خدیجہ کا قبیلہ بنو اسد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ کا قبیلہ بنو ہاشم تھا۔
    یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ قریش خاندان عرب میں ممتاز خاندان سمجھا جاتا تھا۔۔۔ام المؤمنین حضرت خدیجہ کے خاندان میں لڑکیوں کی پیدائش کو کئی دیگر قبائل کی طرح برا نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ ان کی پرورش محبت سے کی جاتی تھی۔۔۔
    آپ کا گھرانہ تجارت کے پیشہ سے وابستہ تھا۔
    آپ کے والد تجارت کرتے تھے اور اپنا مال بیرون ممالک لے جاتے اور وہاں سے سامان حجاز خرید کر لاتے۔
    حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا نے بھی تجارت کو اختیار کیا۔۔۔
    آپ محنتی اور امانت دار لوگوں کو اپنا مالِ تجارت دے کر فروخت کرنے بھیجا کرتی تھیں۔۔۔یعنی حضرت خدیجہ کے کردار کی روشنی میں مسلمان خواتین کاروبار کا طریقہ سمجھ سکتی ہیں کہ ام المؤمنین حضرت خدیجہ کس طریقے سے تجارت کرتی تھیں۔۔۔؟
    آپ کی پہلے دو شادیاں ہوئی تھیں،اپنے دوسرے شوہر کی وفات کے بعد آپ نے قریش کے کئی سرداروں کے پیغامِ نکاح مسترد کر دیئے۔۔۔
    یہاں تک کہ وہ رحمت اللعالمین کے نکاح میں آئیں۔۔۔۔

    حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لیئے ہر قربانی پیش کی،
    اپنا تن من دھن،مال و زر آپ کی خدمت اقدس میں حاضر کر دیا اور ایثار کا مثالی نمونہ پیش کیا۔
    اپنا مال آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر کے اس کے خرچ کا اختیار بھی آپ صلی اللہ علیہ کو دے دیا۔۔۔
    یہی وجہ ہے کہ
    حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب بھی حضرت خدیجہ کا ذکر کرتے تو بہت زیادہ توصیف کرتے،
    حضرت عائشہ فرماتی ہیں،مجھے غیرت آئی تو میں نے فرمایا:
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اکثر ایک سرخ مسوڑھوں والی عورت کا ذکر کرتے رہتے ہیں،حالانکہ اللہ نے آپ کو اس سے بہتر بیوی عطا کی ہے یعنی(حضرت عائشہ)۔۔۔
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    اللّٰہ تعالی نے مجھے اس سے بہتر بیوی عطا نہیں کی،وہ مجھ پر اس وقت ایمان لائیں،جب سب لوگوں نے میرا انکار کیا۔
    اس نے اس وقت میری تصدیق کی،جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا۔
    اس نے اپنے مال و دولت سے میری مدد کی جب دوسروں نے مجھے محروم کیا۔
    اور اللّٰہ تعالی نے مجھے اس سے اولاد کی نعمت عطا کی،جبکہ دوسری بیویوں سے اولاد نہیں ہوئی۔
    (رواہ احمد)۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا کی موجودگی میں،ان کی پچیس سالہ ازدواجی زندگی میں کوئی اور نکاح نہیں کیا۔۔اور یہ عرصہ انتہائی محبت و الفت سے بھر پور گزرا۔۔۔
    اسی تعاون بھری زندگی کا نتیجہ تھا کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عمر بھر ان کی نیکیاں بیان کرتے رہے۔۔۔
    کفار مکہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے بدکنے لگے اور ان کا کچھ اثر نہ لیا،تو اس سخت اذیت کے ماحول میں حضرت خدیجہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ڈھارس بندھاتیں۔
    اس صاحبہ فراست خاتون نے ہر تکلیف کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی و تشفی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔
    نزول وحی کے وقت گھبراہٹ کے موقع پر آپ رضی اللّٰہُ عنھا نے ان الفاظ میں رسول اللہ کو تسلی دی کہ:
    اللّٰہ تعالی آپ کو ہر گز رسوا نہیں کرے گا،آپ صلہ رحمی کرتے ہیں،یتیموں،ناداروں کا خیال رکھتے ہیں،مہمان نوازی کرتے ہیں،مصیبت زدگان کی مدد کرتے ہیں۔۔۔ !!!
    اپنے مال سے تکلیف زدہ مسلمانوں کاخیال رکھنے ،اسلام کی راہ میں عظیم قربانی اور کردار ادا کرنے والی ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا کے کردار کی اللہ رب العزت نے کتنی قدر دانی کی کہ
    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا اے اللہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم !
    یہ خدیجہ ہیں جو کھانے کا برتن آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس لا رہی ہیں،
    جب وہ آپ کے پاس آئیں تو انہیں ان کے رب کی طرف سے سلام کہیں اور میری طرف سے بھی۔
    اور انہیں جنت میں موتیوں کے محل کی خوشخبری دیجیئے،جس میں شوروغل ہے اور نہ کوئی تکلیف و تھکاوٹ۔۔۔”
    (صحیح بخاری)۔
    دنیا میں جنت کی بشارت پانے والی پہلی خاتون سے رسول اللہ کو بہت زیادہ محبت تھی۔۔۔
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حضرت خدیجہ کے رشتہ داروں کی عزت کیا کرتے تھے،آپ کی سہیلیوں کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے،آپ کی سہیلیوں کے گھروں میں کھانا بھجواتے۔
    حضرت خدیجہ سب سے پہلے ایمان لائیں،مسلمان بنیں اور سب سے پہلے پہلی وحی کو تسلیم کیا۔۔۔ان منفرد اعزازات کی حامل،اپنی غمگسار و ہمدرد بیوی کی وفات پر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بہت رنجیدہ ہوئے،
    اور اس صدمہ کی ہی مناسبت سے نبوت کا دسواں سال عام الحزن کہلایا۔۔۔ !!!
    آپ رضی اللّٰہُ عنھا نے 10 رمضان المبارک 10 نبوی میں وفات پائی۔۔۔
    اولاد میں بیٹے کم عمری میں ہی اللہ کو پیارے ہو گئے۔۔۔
    اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا کی چاروں بیٹیاں،زینب،رقیہ،ام کلثوم اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھن تھیں جن میں سے حضرت زینب ابو العاص،حضرت رقیہ و ام کلثوم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔
    (رضی اللہ عنھا)۔
    اللّٰہ تعالی ہم مسلمان مردوں،عورتوں کو اپنی زندگیاں اپنے پیارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا کے عظیم کردار کی روشنی میں گزار کر ابدی فلاح سے ہمکنار ہونے کی توفیق بخشے۔
    دین اسلام کی ترویج و اشاعت کی خاطر ایسے ہی جذبۂ قربانی سے مالا مال فرمائے۔آمین۔
    لا ریب امت کے لیئے اسوۂ حسنہ میں بہترین ازدواجی تعلقات کی یہ انتہائی روشن مثال ہے۔
    اللّٰہ ہمارے احوال کی بھی اصلاح فرما دے اور ہر شوہر،بیوی سیرتِ طیبہ کی راہ نمائی میں اپنا اپنا کردار سمجھ سکیں۔۔۔۔ !!!!!

  • رمضان المبارک اور ہمارا سلوک  بقلم:  ساجدہ بٹ

    رمضان المبارک اور ہمارا سلوک بقلم: ساجدہ بٹ

    رمضان المبارک اور ہمارا سلوک

    ساجدہ بٹ
    رمضان المبارک کے با برکت مہینے میں آئیں عہد کریں کہ صرف بھوک اور پیاس کا روزہ نہیں رکھنا بلکہ ہمیں ہر چھوٹے چھوٹے گناہوں سے بچنے کا بھی روزہ رکھنا ہے
    ہمیں چغلی ،غیبت ،جھوٹ،حسد،لالچ ،اور نا انصافی سے بھی بچنا ہے۔۔۔۔۔
    اگر ہم نے صرف کھانے پینے کا پرہیز رکھا اور باقی گناہوں سے توبہ نہ کی تو شاید ہمارے سارا دن بھوک پیاس کی کوئی قبولیت نہ ہو۔
    سگے بہن بھائیوں میں اختلاف ہو اور رشتے داروں سے دوری ہو تو بتاؤ پھر روزہ کے اجر کے حقدار ہو؟؟

    منافقت دل میں پالنے والے کا روزہ کیا قبول ہو گا؟
    سوچئے ۔۔۔۔
    ہم نے کس قدر گناہوں سے توبہ کی اور آج نیت کی کہ ان شاء اللہ رب کے مہمان،
    ماہ رمضان کی خوب مہمان نوازی کریں گے اور خاص کر ان سب گناہوں سے بچنے کی بھر پور کوشش کریں گے۔۔۔
    ہم نے تو شاید یہ اہتمام ہی کیا کہ افطاری اور سّهری میں مزے مزے کے پکوان بنے گیں
    دسترخوان سجیں گے لیکن اپنی ان نعمتوں کے ساتھ ساتھ اُن کا بھی خیال رکھیں گے جن کے پاس یہ چیزیں میسر نہیں ہیں اپنے کھانوں کو ضائع مت ہونے دیں ۔۔۔۔۔۔
    اپنے کھانوں میں کچھ کمی کرکے دوسروں کو بھی دیں اور نیکیاں سمیٹنے کا حسین موقع حاصل کریں پھر ساتھ ساتھ جھوٹ بولنے سے بچیں جھوٹ کے بلبوتے پر کاروبار مت کریں دوسروں کی چغلی غیبت سے بچیں اپنے سگے بہن بھائیوں میں اگر ناراضگی ہے تو اسے ضرور ختم کریں گھر کو خوشیوں کا گہوارہ بنائیں اسی میں ہماری بھلائی اور اسی میں سکون و اطمینان اور اسی میں میرے رب کریم کی رضا ہے حقوق العباد کا سوال پہلے پوچھا جائے گا اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں اس رمضان المبارک کے صدقے حقوق اللہ اور حقوق العباد کے ادا کرنے کی توفیق عطا فرما آمین ثم آمین ثم آمین یا رب العالمین

  • Keraunoparalysis  ایک عارضی مفلوج پن کی بیماری ہے جو آسمانی بجلی گرنے کی وجہ سے لگتی ہے. بقلم سلطان سکندر!!!

    Keraunoparalysis ایک عارضی مفلوج پن کی بیماری ہے جو آسمانی بجلی گرنے کی وجہ سے لگتی ہے. بقلم سلطان سکندر!!!

    Keraunoparalysis
    ایک عارضی مفلوج پن کی بیماری ہے جو آسمانی بجلی گرنے کی وجہ سے لگتی ہے.

    Keraunoparalysis
    Kerauno- ("Lightning”) + paralysis

    ناؤن keraunoparalysis(دوائی) آسمانی بجلی گرنے کے بعد اعضاء میں ہونے والی عارضی کمزوری, سردی اور جِلد کے بدبودار ہونے پر استعمال کی جاتی ہے.

    یو ایس نیشنل لائبریری آف میڈیسن کہتا ہے کہ ایک 50 سالہ آدمی ہمارے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں لایا گیا جس پہ آسمانی بجلی گری جب وہ بجلی کے طوفان کے دوران درخت کے نیچے بیٹھا ہوا تھا, وہ 15 منٹ تک بےحال پڑا رہا اور 15 منٹ بعد جب اسکی حالت ٹھیک ہونا شروع ہوئی تو وہ اپنے نچلے دونوں اعضاء(ٹانگیں پاؤں وغیرہ) ہلانے کے قابل نہ رہا تھا اور ساتھ ساتھ حساسیت (سینسیشن) اور یورینری ریٹنشن(پیشاب برقرار رکھنے کا سسٹم) کو بھی کھو چکا تھا.

    آسمانی بجلی لگنے سے عارضی طور پر مفلوج پن ہوتا ہے. یہ تحقیق حال ہی میں کی گئی ہے لیکن اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے سے یہ بات کتاب قرآن مجید میں موجود ہے کہ

    Quran 51:44-45
    فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّـهِـمْ فَاَخَذَتْهُـمُ الصَّاعِقَةُ وَهُـمْ يَنْظُرُوْنَ (44)

    پھر انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی تو ان کو بجلی نے آ پکڑا اور وہ دیکھ رہے تھے۔

    فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِيَامٍ وَّمَا كَانُـوْا مُنْتَصِرِيْنَ (45)

    پھر نہ تو وہ اٹھ(نقل و حرکت) ہی سکے اور نہ وہ کوئی مدد ہی لے سکے۔”

    "پھر نہ وہ اٹھ سکے” آج ہم جانتے ہیں کہ وہ کیوں نہ اٹھ سکے, یہ keraunoparalysis ہے, جو آسمانی بجلی لگنے سے عارضی طور پر مفلوج پن کا سبب بنتا ہے.

    سوال یہ ہے کہ 1400 سال پہلے آنے والا غیر معمولی شخص kerunoparalysis کے بارے میں کیسے جان سکتا ہے؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • ہائیپوکسیاء بیماری کی قرآن مجید میں نشانیاں : بقلم سلطان سکندر!!!!

    ہائیپوکسیاء بیماری کی قرآن مجید میں نشانیاں : بقلم سلطان سکندر!!!!

    ہائیپوکسیاء بیماری کی قرآن مجید میں نشانیاں

    فضاء کی اونچائی پر آکسیجن کی موجودگی کم ہوتی ہے۔ جب آکسیجن کی سطح پھیپھڑوں میں خون کی نالیوں(بلڈ ویسلز) کو گراتی ہے تو:👇
    Hypoxic pulmonary vasoconstriction (HPV),
    جو
    Euler-Liljestrand mechanism
    کے طور پر بھی جانا جاتا ہے, ایک جسمانی رجحان ہے جس میں
    alveolar hypoxia (آکسیجن کی کمی)
    کی موجودگی کی وجہ سے پلمونری آرٹریز (پھیپھڑوں کی نَسّیں) سکڑ جاتی ہیں,

    یعنی جب آکسیجن کی سطح کم ہوتی ہے تو پھیپھڑوں میں موجود بلڈ ویسلز سکڑ جاتی ہیں.
    یہ تحقیق حال ہی میں کی گئی ہے جبکہ اسکی دریافت سے ساڑھے 1400 سال پہلے ہی قرآن میں اسکا انکشاف کر دیا گیا تھا.

    Quran: 6/125
    فَمَنْ يُّرِدِ اللّـٰهُ اَنْ يَّـهْدِيَهٝ يَشْرَحْ صَدْرَهٝ لِلْاِسْلَامِ ۖ وَمَنْ يُّرِدْ اَنْ يُّضِلَّـهٝ يَجْعَلْ صَدْرَهٝ ضَيِّـقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِى السَّمَآءِ ۚ كَذٰلِكَ يَجْعَلُ اللّـٰهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّـذِيْنَ لَا يُؤْمِنُـوْنَ (الانعام 125)

    "سو جسے اللہ چاہتا ہے کہ ہدایت دے تو اس کے سینہ کو اسلام کے قبول کرنے کے لیے کھول دیتا ہے، اور جس کے متعلق چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کے سینہ کو بے حد تنگ کر دیتا ہے گو کہ وہ آسمان پر چڑھتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ ایمان نہ لانے والوں پر پھٹکار ڈالتا ہے۔”

    یہاں پر "اور جس کے متعلق چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کے سینہ کو بے حد تنگ کر دیتا ہے(سینہ سکڑ جاتا ہے) گو کہ وہ آسمان پر(کی طرف) چڑھتا ہے،”
    ‘آسمان پر چڑھتا ہے’ سے مراد آپ جیسے جیسے آسمان کی طرف جاتے جائیں گے یعنی اونچی سطح پر جاتے جائیں گے تو آکسیجن کی کمی ہوتی جائے گی.

    اور ہم جانتے ہیں کہ یہ سکڑاؤ کیوں ہوتا ہے؟, آکسیجن کی کمی کی وجہ سے, قرآن میں کوئی غلط بات نہیں لکھی ہوئی.

    آج سے ساڑھے 1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ اونچائی پر آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کیا چیز سکڑ سکتی ہے؟(جیسا کہ پھیپھڑوں کی نسیں وغیرہ)
    آگے چلیں, اسے واضح کرتے ہیں,

    آکسیجن کی کمی کی ایک عام نشانی یہ ہے کہ آپکی جلد نیلی پڑ جاتی ہے.

    Cyanosis (سائنوسِس)
    جلد کی نیلی یا پرپل رنگ کی رنگت ہے یا میوکس ممبرینز ہیں,
    جب جلد کی سطح کے پاس والے ٹشوز میں آکسیجن کی کمی ہوتی ہے تو جلد یہ رنگ اختیار کر لیتی ہے,
    سائنوسِس کا لفظی معنی نیلی بیماری یا نیلی حالت ہے, یہ سیان رنگ سے اخذ کیا گیا ہے جو ایک یونانی لفظ سیانوس سے نکلا ہے.

    آکسیجن کی کمی آپکی جِلد کو نیلا کر دیتی ہے. یہ تحقیق بھی حال ہی میں کی گئی ہے جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے ہی قرآن میں درج کر دیا گیا تھا کہ قیامت کے دن نافرمانوں کی جلد نیلی پڑ جائے گی.

    Quran: 20/102
    يَوْمَ يُنْفَخُ فِى الصُّوْرِ ۚ وَنَحْشُـرُ الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَئِذٍ زُرْقًا (طہٰ 102)
    "اور جس دن صُور پھونکا جائے گا, اور ہم اس دن مجرموں کو نیلا کر کے جمع کر دیں گے.”

    مجرموں کا رنگ نیلا پڑ جائے گا, آج ہم جانتے ہیں کہ یہ نیلا کیوں پڑتا ہے, آکسیجن کی کمی کی وجہ سے جو کہ ایک عام وجہ ہے.

    Hypoxia
    کی ایک اور کم معلوم وجہ موٹر (دماغ کے) فنکشنز(افعال) کے ساتھ مسئلہ ہونا ہے.

    Brain hypoxia (دماغی ہائپوکسیا)
    بھی ہائپوکسیا کی ایک قسم ہے یا دماغ پر اثر انداز آکسیجن کی کمی ہے. یہ تب ہوتا ہے جب دماغ خون کے بہاؤ کے باوجود آکسیجن کی مطلوبہ مقدار وصول نہیں کر رہا ہوتا اور جب آکسیجن کی سپلائی مکمل بند ہوجاتی ہے تو اس حالت کو دماغی ہائپوکسیا کہتے ہیں.
    دماغی ہائپوکسیا ایک طبی ہنگامی حالت ہے جسکا علاج بروقت ہنگامی حالت میں کیا جاتا ہے کیونکہ دماغ کو اپنے فنکشنز صحیح طریقے سے چلانے کیلئے آکسیجن کی مسلسل سپلائی اور نیوٹرینٹس کی ضرورت ہوتی ہے.
    دماغی ہائپوکسیا کی کئی وجوہات ہوتی ہیں.
    ان میں ڈوبنا ، دم گھٹنا ، دل کی دھڑکن رکنا اور اسٹروک(دماغی سیلز کا مرنا) شامل ہیں۔
    ہلکی علامات میں سے حافظہ کھو بیٹھنا اور دماغی فنکشنز کے ساتھ مسئلہ ہونا ہے جیسا کہ نقل و حرکت میں رکاوٹ آجانا.
    سنگین حالات میں دوریں پڑنا اور دماغ کی موت ہونا شامل ہے.

    موٹر(دماغی) فنکشنز کے ساتھ مسئلہ ہونا ہائپوکسیا کی ہلکی علامات میں سے ایک ہے,
    یہ تحقیق بھی حال ہی میں کی گئی ہے جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے ہی یہ کتاب میں درج کر دیا گیا تھا کہ قیامت کے دن مجرموں کے دماغی افعال مسئلہ کرنا شروع کر دیں گے.

    Quran: 75/29
    وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ (القیامہ 29)
    "اور ایک پنڈلی دوسری پنڈلی سے لپٹ جائے گی”

    ٹانگ دوسری ٹانگ سے لپٹ جائے گی, آج ہم جانتے ہیں کہ یہ خرابی موٹر فنکشن کے صحیح کام نہ کرنے کی وجہ سے ہے, یہ ہائپوکسیا کی ایک علامت ہے.

    قرآن کی ایک اور آیت بتاتی ہے کہ مجرم لوگ اس دن چکرانے یا نشے کی حالت میں ہوں گے.

    Quran: 75/2
    يَوْمَ تَـرَوْنَـهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَـمْلٍ حَـمْلَـهَا وَتَـرَى النَّاسَ سُكَارٰى وَمَا هُـمْ بِسُكَارٰى وَلٰكِنَّ عَذَابَ اللّـٰهِ شَدِيْدٌ (الحج 2)
    "جس دن (تم) اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال(گرا) دے گی اور تجھے لوگ مدہوش(نشے میں) نظر آئیں گے اور وہ مدہوش نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی اتنا سخت ہوگا۔”

    مدہوش ہونا نشے کی ایک علامت ہے لیکن یہ ہائپوکسیا کی بھی ایک علامت ہے. تو وہ ایسے نظر آئیں گے جیسے نشے میں ہیں جبکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے. آج ہم جانتے ہیں کہ کیوں, کیونکہ یہ آکسیجن کی کمی کی ایک علامت ہے.

    آکسیجن کی کمی عارضی طور پر اندھا پن کی بھی وجہ بنتی ہے.
    Cortical blindness(کارٹیکل بلائنڈنیس)
    ایک دماغی بیماری کا نام ہے.
    دماغ کا ایک حصہ جسے
    Brain’s occipital cortex
    کہتے ہیں, اس میں خرابی کی صورت میں ایک عام نظر آنے والی آنکھ کی تھوڑی سی بینائی یا ساری بینائی چلی جاتی ہے جسے کارٹیکل بلائنڈنیس کہتے ہیں.
    کارٹیکل بلائنڈنیس کی بیماری پیدائشی بھی ہوسکتی ہے اور بعد میں بھی اور بعض صورتوں میں یہ عارضی طور پر بھی ہوسکتی ہے
    کارٹیکل بلائنڈنیس کی ایک عام وجہ ischemia (آکسیجن کی کمی) ہے. جو کہ آکسیپیٹل لوبز میں دماغ کی بیرونی آرٹیریز میں بلاکیج کی وجہ سے ہوتی ہے.

    آکسیجن کی کمی عارضی طور پر اندھا پن کی بھی وجہ بنتی ہے, یہ تحقیق بھی حال ہی میں کی گئی جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے یہ کتاب میں موجود تھا کہ

    Quran: 20/124
    وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِىْ فَاِنَّ لَـهٝ مَعِيْشَةً ضَنْكًا وَّنَحْشُـرُهٝ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اَعْمٰى (124)

    اور جو میرے ذکر سے منہ پھیرے گا تو اس کی زندگی بھی تنگ ہوگی اور اسے قیامت کے دن اندھا کر کے اٹھائیں گے۔

    قیات کے دن مجرم اندھے کر دیے جائیں گے, ہم جانتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے, یہ آکسیجن کی کمی کی ایک علامت ہے.

    ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے ہی ہائپوکسیا کی علامات کے بارے میں کیسے اتنا سب کچھ جان سکتا ہے؟؟؟؟

    قرآن میں آکسیجن کی کمی کی وجہ دم گھٹنا ہے.

    Quran: 14/16-17
    مِّنْ وَّرَآئِهٖ جَهَنَّـمُ وَيُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِيْدٍ (ابراہیم 16)
    اور اس کے پیچھے دوزخ ہے اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔

    يَتَجَرَّعُهٝ وَلَا يَكَادُ يُسِيْغُهٝ وَيَاْتِيْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّمَا هُوَ بِمَيِّتٍ ۖ وَمِنْ وَّرَآئِهٖ عَذَابٌ غَلِيْظٌ (ابراہیم 17)
    جسے گھونٹ گھونٹ کر پیے گا اور اسے گلے سے نہ اتار سکے گا اور اس پر ہر طرف سے موت آئے گی اور وہ نہیں مرے گا، اور اس کے پیچھے سخت عذاب ہوگا۔

    "گھونٹ گھونٹ کر پیے گا” مطلب اسکے گلے کے ساتھ یہ مسئلہ ہوگا. اسکا مطلب اس ہائپوکسیا کی وجہ دم گھٹنا ہے یا گلے کا گھٹنا ہے.

    گلے کی یہ بیماری کانٹوں کی وجہ سے ہوتی ہے.
    Quran: 88/6
    لَّيْسَ لَـهُـمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْـعٍ (6)

    "ان کے لیے کوئی کھانا سوائے کانٹے دار جھاڑی کے نہ ہوگا۔”

    وہ کانٹے دار جھاڑیوں کے ساتھ اپنا گلا گھونٹیں گے اور ہائیپوکسیا کی تمام علامات دکھائیں گے.

    سوال تو یہ بنتا ہے کہ
    ساڑھے 1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص گلا گھٹنے کی علامات کیسے جان سکتا ہے؟؟؟

    یہ باتیں اس بات کی دلیل ہے کہ یہ قرآن کسی انسان کا لکھا گیا نہیں بلکہ ایک ایسی طاقتور اور علم سے بھری ہوئی ذات کی طرف سے لکھا گیا ہے جو ہر چیز کی ہر باریکی سے مکمل طور پر واقف ہے.

    بقلم سلطان سکندر!!!!

  • روزے کی اہمیت و فضیلت کیا ہے؟ استقبال رمضان کیسے کرنا چاہیئے ؟ مبشر لقمان کی لائیو ٹرانسمیشن رحمت ہی رحمت میں خصوصی گفتگو

    روزے کی اہمیت و فضیلت کیا ہے؟ استقبال رمضان کیسے کرنا چاہیئے ؟ مبشر لقمان کی لائیو ٹرانسمیشن رحمت ہی رحمت میں خصوصی گفتگو

    پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی ویب ٹرانسمیشن رحمت ہی رحمت کا آغاز روزے کی اہمیت اور فضیلت کے عنوان سے کیا گیا جس میں سئینر اینکر پرسن مبشر لقمان کا رمضان المبارک کے کی رحمتوں اور برکتوں سے فائدہ اٹھانے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مہینے کو ہمدردی کا مہینہ قرار دیا ہے لہذا انسانوں کی زیادہ سے زیادہ خدمت کریں اور ان کے دکھ درد میں شریک ہوں بھوکوں کو کھانا کھلائیں مریضوں کا علاج و عیادت یتیموں اور بیواؤں کی خبر گیری محتاجوں کی حاجت روائی اللہ کے پسندیدہ پہلو ہیں

    باغی ٹی وی : رحمت ہی رحمت کیو موبائل کے تعاون سے مبشر لقمان یوٹیوب اور دیگر 4 چینلز سمیت فیس بک اور ٹویٹر پر پیش کی جانے والی پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی لائیو ٹرانسمیشن ہے جس میں مبشر لقمان اور زین علی اور مختلف علماء اکرام اور گلوکار سلمان احمد سے رمضان اور دنیا کے موجودہ حالات کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا

    کیو موبائل کے تعاون سے پیش کی جانے والی لائیو ٹرانسمیشن رحمت ہی رحمت کا آغاز قاری خلاد محمود نے تلاوت قرآن پاک سے کیا تلاوت کے بعد روزے کی اہمیت اور فضیلت پر روشنی ڈالتے ہوئے مبشر لقمان نے کہا یہ باربرکت اور رحمتوں والا مہینہ اپنے گناہون کی معافی مانگنے کا اللہ تعالی کے حضور سر بسجود ہو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگیں

    مبشر لقمان نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان سے پہلے اپنے ساتھیوں کو اس کی برکتوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے تیار کرتے تھے اسوہ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جتنی بھی ہمیں تعلیمات ملتی ہیں کہ ہم رمضان گزاریں کیسے ؟ اس پر روشنی ڈالتے ہوئے سینئیر اینکر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک سے پہلے یا بعد میں فجر کے بعد دو گھٹری تنہا بیٹھ جائیں اور رمضان المبارک کو زیادہ سے زیادہ مفید بنانے کا منصوبہ بنائیں دو رکعت نماز پڑھ کے اس منصوبے کو عملی صورت دینے کے لئے اللہ تعالی کی مدد مانگیں روزانہ کم از کم تین آیات ترجمعہ کے ساتھ سمجھ کر پڑھیں اور تین اچھی عادات اپنائیں تین بُری عادات کو ترک کرنے کی کوشش کریں نہ صرف رمضان میں بلکہ بعد میں بھی ان کو جاری رکھیں

    مبشر لقمان نے کہا کہ اللہ تعالی نے کہا کہ روزے کا بنیادی مقصد تقوی یعنی گناہوں سے اجتناب قرار دیا ہے مبشر رمضآن نے کہا آئیں رمضان المبارک کے مقد س مہینے کی برکتیں اور رحمتیں سمیٹیں سحر کی وقت بہت قیمتی ہے حدیث نبوی کے مطابق سال بھر رات کے آکری حصے میں اللہ تعالی بندوں کو پکارتا ہے ہے کویہ حاجت روا میں اس کی حاجت پوری کروں ہے کوئی مغفرت مانگنے والا میں اس کو بخش دوں

    مبشر لقمان نے رمضان المبارک کی اہمیت اور فضیلت کے بارے میں بتاتے ہوئے اور اس بابرکت مہینے کی مقدس ساعتوں کی فضیلت سمیٹنے کا طریقہ بتایا کہا کہ سحری ٹائم جلدی اٹھیں اور تہجد کے نفل پڑھیں اللہ سے مغفرت صحت اور عافیت مانگیں دنیا کی ہر نعمت اوپر سے ہی ملنی ہے تینوں عشروں کی دعائیں بکثرت پڑھیں کچھ نئی مسنون دعائیں یاد کریں شب قدر میں عبادت کا اہتمام کریں اعتکاف بیٹھنے کی کوشش کریں اللہ کی راہ میں زیادہ سے زیادہ پیسے خرچ کرنے کی کوشش کریں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مہینے کو ہمدردی کا مہینہ قرار دیا ہے لہذا انسانوں کی زیادہ سے زیادہ خدمت کریں اور ان کے دکھ درد میں شریک ہوں بھوکوں کو کھانا کھلائیں مریضوں کا علاج و عیادت یتیموں اور بیواؤں کی خبر گیری محتاجوں کی حاجت روائی اللہ کے پسندیدہ پہلو ہیں

    پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی ویب ٹرانسمیشن میں مبشر لقمان اور اینکر زین نے گلوکار سلمان احمد سے بھی بات کی جس میں انہوں نے اپنی کورونا بیماری کے دوارن تجربات شئیر کئے بعد ازاں علامہ عبدالشکور حقانی اور علامہ حسنین رضا موسوی بھی جلوہ گر ہوئے اور اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا
    https://www.youtube.com/watch?v=DKXKNxeUMjA&feature=youtu.be
    علامہ عبدالشکور نے کہا کہ پچھلے رمضآن اور اس رمضان میں فرق یہ ہے کہ پہلے اللہ نے اپنے گھر کے دروازے کھولے ہوئے تھے ہم نہیں جاتے تھے اب ہم جانا چاہتے ہیں تو اللہ نے اپنے گھروں کے دروازے ہمارے اوہر بند کر دیئے ہیں یہ وقت گھروں میں بیٹھ کراللہ سے معافی مانگنے کا ہے مولانا عبدالشکورحقانی نے کہا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے ہم مسجد نہیں جارہے یہ ایک شرعی عذرہے اس کا ثوات مسجد کے برابر ہے

    علامہ حسینن رضا موسوی نے کہا کہ اس کے دو ذریعے ہیں ایک ہمارے گناہوں کی بنا پر یہ ہم پر اللہ کا عذاب مسلط ہوا ہے اللہ ہم سے ناراض ہے دوسرا یہ کہ یہ آزمائش بھی ہو سکتی ہے مسلمان پر جب اللہ کی آزمائش آتی ہے تو اللہ مسلمان کے درجات بلند کرتا ہے انہوں نے کہا کہ اپنی اس کیفیت کو بدلنے کا سب سے بہترین اپنے اعمال کو خلوص دل سے ادا کریں اور اس بابرکت مہینے میں اللہ سے معافی مانگیں اور اس وبا سے نجات حاصل کرنے کی دعا کریں

    دیکھئے "رحمت ہی رحمت” رمضان ٹرانسمشن مبشر لقمان یوٹیوب چینل پر براہ راست

    کورنٹائن کے دوران تنہائی میں اللہ سے تعلق قریب ہوا ، روحانی سکون ملا ، معروف گلوکارسلمان احمد کی مبشرلقمان سے گفتگو

  • رمضان 2020: سب سے مختصر اور طویل روزہ کہاں ہوگا؟

    رمضان 2020: سب سے مختصر اور طویل روزہ کہاں ہوگا؟

    رمضان 2020: سب سے مختصر اور طویل روزہ کہاں ہوگا؟ماہرین نے اوقات بتا دیئے

    باغی ٹی وی : رمضان کا سب سے مختصر اور طویل روزہ کہاں ہوگا ماہرین نے اوقات کی لسٹ جاری کر دی وہ لسٹ کچھ یوں ہے

    ماہرین کے مطابق سب سے طویل روزہ 20 گھنٹے کے دورانیے کا ہو گا جن میں ناروے ، گرین لینڈ ، فن لینڈ

    19 گھنٹے دورانیے والے ممالک
    سویڈن ، جرمنی ،

    ساڑھے 18 گھنٹے دورانیے والے ممالک
    ڈینمارک ، پولینڈ ، برطانیہ ، قازقستان

    18 گھنٹے دورانیے والے ممالک
    بیلجیم ، سوئٹزرلینڈ

    ساڑھے 17 گھنٹے دورانیے والے ممالک
    رومانیہ۔

    17 گھنٹے دورانیے والے ممالک
    کینیڈا ، روس ، فرانس ، اٹلی ، افغانستان

    ساڑھے 16 گھنٹے دورانیے والے ممالک
    اسپین ، پرتگال ، یونان ، چین ، شمالی کوریا ، ترکی

    امریکا امریکا کی کئی ریاستوں میں 16 گھنٹے دورانیے کا روزہ ہوگا
    16 گھنٹے دورانیے والے ممالک
    مراکش ، جاپان ، ایران ، عراق

    پاکستان ۔ ملک کے مختلف علاقوں میں دورانیہ اس سے کم بھی ہوگا
    لبنان ، شام ۔

    ساڑھے 15 گھنٹے دورانیے والے ممالک
    مصر ، فلسطین ، کویت

    پاکستان کے چند علاقوں میں کچھ روزے ساڑھے 15 گھنٹے دورانیے کے ہوں گے
    15 گھنٹے دورانیے والے ممالک
    بھارت ، بنگلہ دیش ، عمان ، ہانگ کانگ ، سعودی عرب ، قطر،متحدہ عرب امارات

    ساڑھے 14 گھنٹے دورانیے والے ممالک
    سوڈان ،
    14 گھنٹے دورانیے والے ممالک
    یمن ، ایتھوپیا ، سری لنکا ، تھائی لینڈ

    ساڑھے 13 گھنٹے دورانیے والے ممالک
    ملائیشیا ، سنگاپور

    13 گھنٹے دورانیے والے ممالک
    انگولا ، انڈونیشیا ، کینیا

    ساڑھے 12 گھنٹے دورانیے والے ممالک
    برازیل ، زمبابوے

    12 گھنٹے دورانیے والے ممالک
    جنوبی افریقہ اس ملک کے بعض علاقوں میں بھی ساڑھے 11 گھنٹے دورانیے کا روزہ ہوگا۔

    سب سے مختصر دورانیے ساڑھے 11 گھنٹے والے ممالک
    ارجنٹائن ، نیوزی لینڈ ، آسٹریلیا ، چلی

  • رمضان،قرآن اور عہد و پیمان…!!! تحریر: جویریہ بتول

    رمضان،قرآن اور عہد و پیمان…!!! تحریر: جویریہ بتول

    رمضان،قرآن اور عہد و پیمان…!!!
    (تحریر: جویریہ بتول)۔

    گردشِ لیل و نہار…مختلف رنگوں اور موسمی تغیرات سے ہوتی ہوئی آج پھر اُس دہلیز پہ کھڑی ہے جہاں ہلالِ رمضان اپنے گہرے سکون،فضیلت اور ایماں کی حلاوت کے ساتھ نظر آنے کو ہے…
    وہ با برکت اور پُر فضیلت و فلاح گھڑیاں ہماری زندگی میں ایک اور گولڈن چانس کی صورت داخل ہونے کو ہیں جن کی خصوصیت یہ ہے کہ جن میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے باب بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین زنجیروں میں جکڑ دیئے جاتے ہیں…
    رحمت کی وہ گھڑیاں جن میں بجا لائی جانے والی عبادت کے بارے میں خالقِ کائنات نے فرمایا:
    روزہ خاص میرے لیئے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا اور ایک نیکی کے بدل دس گنا جزا ملے گی…
    جس عمل کو بجا لانے والوں کے لیئے جنت میں ایک باب ہی ان سے منسوب کر دیا گیا کہ روزِ محشر صرف روزہ دار ہی اس میں سے بلائے جائیں گے۔
    جن گھڑیوں کی سعادت کا مقام یہ ہے کہ ایمان اور ثواب کی نیت سے کیا جانے والا عمل (روزہ) پچھلے گناہوں کو دھو ڈالنے اور بخشش و مغفرت کی نوید بن جائے…
    دن بھر اللّٰہ کی رضا کی خواہش لیئے بھوک اور پیاس کے لمحے گزارنے والے شخص کو دو خوشیوں کی بشارت دی گئی…
    ایک روحانی و جسمانی سکون جو وہ افطار کے وقت محسوس کرتا ہے اور دوسری خوشی جب وہ اپنے رب سے اس کی جزا وصول کرے گا…
    للصائم فرحتان یفرحھما اذا افطر فَرِحَ واذا لقی ربہ فَرِحَ بصومہ…(صحیح بخاری)
    یہ گھڑیاں ہماری سمت کو درست کرنے،ہمارے بگاڑ کو سنوارنے،اور کردار کو اُجالنے کا پیام بن کر اُفق پر نمودار ہوتی ہیں…
    تاکہ سال کے بقیہ ایام کے لیئے ہم یہ سبق بہترین انداز میں ازبر کر لیں کہ…
    لعلکم تتقون¤
    یہ چڑھا رنگِ تقویٰ گزرتے لمحات میں سیاہی و گرد سے اٹ نہ جائے…
    ٹیڑھی میڑھی راہوں پہ کھو کر یہ آئینہ دھندلا نہ جائے…
    اگر تم سمجھو تو یہ ایک مہینہ کی تربیت تمہارے سال کے بقیہ ایام کے لیئے بہترین زادِ راہ ہے۔
    جھوٹ،فسق،دھوکہ،فحاشی،
    غفلت اور روحانی و جسمانی امراض سے نجات کا بہترین فارمولہ ہے…
    لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو اللّٰہ نے بھی اپنا معیار بتا دیا…
    من لم یدع قول الزور والعمل بہ فلیس اللّٰہ حاجۃ فی اَن یَّدَعَ طعامہ و شرابہ…(صحیح بخاری)۔
    جھوٹ و دغا،برائی و بے حیائی،
    سے رکنا نہیں ہے تو بھوک،پیاس بھی بے فائدہ رہے گی…!!!
    یہ Training course تمام آلائشات کو دھو دینے،خود سے دور کر دینے اور بہا دینے کا نام ہے…!!!
    آگے بڑھیئے !!!
    رمضان وہ مہینہ ہے جسے شھر القرآن کہا جاتا ہے،
    یعنی وہ مہینہ جس میں قرآن نازل ہوا…
    جس کی عظمت کو اپنے،پرائے سبھی مانتے ہیں،میرے قلم کا اظہارِ عقیدت و محبت بھی کُچھ یوں کاغذ کے سینے پر اُترا ہے:
    مومنوں کے لیئے رحمت…
    انسانیت کے لیئے ہدایت…
    ہے علوم کا سمندر…
    اسرار کا جہاں ہے…
    دیکھو تو اس کے اندر
    ہے جو یہ کتابِ آخر…!!!
    رہ کی ہے روشن قندیل…
    اس میں ہر شئے کی تفصیل…
    مہ و انجم کے ہیں اسرار…
    برے،بھلے سے کرے خبردار…
    یہ روحِ انسان کا شباب…
    جمود فکر میں انقلاب…!!!
    یہ تو ضابطۂ حیات ہے…
    منزلِ مقصود کا راز ہے…
    یہ ہے وہ شفاف چشمہ…
    جو مثلِ آبِ حیات ہے…!!!
    عقبیٰ کی ہے روشنی…
    جنت کا حصول بھی…
    جہنم سے آڑ ہے یہ…
    رحمتوں کا نزول بھی…!!!
    جس کی لحن کی کشش…
    دل کے تاروں کو کھینچتی ہے…
    اندر کی سب پیاس بجھا کر…
    گہرائی تک سینچتی ہے…!!!
    اس کے بغیر ہے انساں ادھُورا…
    نہ سمجھ سکے کوئی مسئلہ…
    نہ سیکھ پائے علم کوئی پُورا…
    دردِ انسانیت سے کرے آشنا…
    ظاہر و باطن کرے ہم صدا…
    قرآن ہی ہے میری زندگی…
    میرے لیئے ہے یہ رہِ بندگی…!!!
    شب کی ظلمت میں بھٹکتے ہوئے…
    مرے لیئے ہے یہ پیامِ سحر …!!!
    مرے لیئے تو زندگی میں بس…
    ساتھ قرآن کا ہی ہے فخر…!!!
    اسی پہ عمل، ہے عملِ جلیل…
    بِن اس کے ہے یہ انساں ذلیل…!!!
    غلاف میں لپٹا،الماری کی بلندی پر پڑا قرآن رمضان کے مہینہ میں ہمارے ہاتھوں میں ضرور کھلتا ہے…
    سال بعد ہم تلاوت کے اس ٹوٹے تعلق کو جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں…
    روز کا ایک پارہ،دو پارے تلاوت کرتے ہیں…
    لیکن سوچنا یہ ہے کہ قرآن ہم سے کہتا کیا ہے؟
    کس راہ کی طرف بلاتا،کس سے روکتا ہے؟
    ہماری معاشرت،معیشت،سیاست ،دفاع،حقوق و فرائض، صدقہ و زکوٰۃ،اولاد و والدین، صبح و شام،دن،رات،
    رشتہ داروں،اخلاقیات، کامیابی و ناکامی کے بارے میں کیا رہنمائی کرتا ہے؟
    اس رمضان میں عہد کیجیئے کہ تلاوت کے ساتھ اس کے معانی و مفاہیم کو سمجھنے کی کوشش بھی کرنی ہے۔
    پھر جو سمجھنا ہے،اُسے اپنی زندگی میں عملی طور پر فالو کرنا بھی شروع کر دینا ہے اور اس تعلق کو صرف رمضان تک محدود رکھنے کی بجائے ان شآ ء اللّٰہ آئندہ رمضان کا چاند طلوع ہونے تک جوڑے رکھنے کی عملی مشق کا نقطۂ آغاز بنانا ہے…
    پھر یہ ہو گا کہ آپ کی زندگی کا اک ایک پل رہنمائی کے لیئے اس ہدایت و رحمت کی طرف دیکھنے لگے گا…
    اور رمضان کی ساعتوں کے اعمال حرزِ جاں بن جائیں گے…
    ایک دن بھی اس کے بغیر گزرنے کا تصور محال ہو جائے گا اور یہ میرا personal experience ہے…
    پھر آپ کا دل قائل رہے گا کہ چاہے دو تین آیات ہی سہی،اُنہیں روزانہ سمجھنا آپ کی زندگی کے لیئے آکسیجن کی طرح ضروری ہے اور اس کے بغیر دل افسردہ اور مردہ ہے…!!!
    ہم ہر بار یہ عہد و پیمان باندھتے ہیں مگر چاند رات ہی اس کی دھجیاں بکھیر دیتے ہیں…
    ہمارے انداز و اطوار،
    معمولات و معاملات سب بدلنے لگ جاتے ہیں…
    تو کیا ایسے اعمال اللّٰہ کے پسندیدہ ہیں؟
    کیا متقین کی صفات یہی ہوتی ہیں؟
    کیا رمضان ہمیں یہی سبق سکھانے آتا ہے؟؟
    نہیں بلکہ متقین زندگی کا ہر ہر پَل اپنے رب کے خوف اور اُس کی بخشش کی اُمید کے سائے و سہارے میں گزارتے ہیں…
    بڑائی اور فساد کا قلع قمع کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں…
    یہ گھڑیاں ہمیں پُکار رہی ہیں:
    "اور اپنے رب کی بخشش اور جنت کی طرف لپکو،جس کا عرض زمین و آسمان کے برابر ہے اور جو متقین کے لیئے تیار کی گئی ہے۔
    وہ لوگ جو خوشحالی اور تنگی میں خرچ کرتے ہیں،اور غصے کو پی جانے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں اور اللّٰہ تعالٰی نیکی کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے…”(آل عمران)۔
    آیئے نیکیوں کی لوٹ سیل کے اس موقع پر اس عہد و پیمان کو وفا کرنے کی طرف قدم بڑھائیں…!!!
    زندگی کو اس عہدِ وفا سے مزین کر لیں…
    تو پھر دنیا و آخرت کی کامیابی اور سرفرازی ہمارا ہی خاصہ و مقدر ٹھہرے گی ان شآ ء اللّٰہ
    بقول اقبال
    وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
    تُم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر…
    یہ قرآن کھولنا،پڑھنا،اور سمجھنا صرف منبر و محراب پر بیٹھے ہوئے لوگوں کی ہی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ ہم سب کے لیئے بھی اس کو سمجھنا اتنا ہی ضروری ہے…
    "Healing for that in your breasts,a guidance and a mercy for believers…
    امراض بہت بڑھ گئے ہیں…
    چلے آؤ کہ اب شفا تلاشیں…!!!
    عہد تو کیئے ہیں عمر بھر…
    بڑھو کہ کوئی رہِ وفا تلاشیں…!!!
    ==============================
    [جویریات ادبیات،28 شعبان،23اپریل 2020]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • پیاز کھا کر مسجد نہ آنے کا حکم دینے والا دین جان لیوا وائرس پر کیسے اجازت دے سکتا؟

    پیاز کھا کر مسجد نہ آنے کا حکم دینے والا دین جان لیوا وائرس پر کیسے اجازت دے سکتا؟

    دنیا بھر میں پھیلنے والے کورونا وائرس کی وجہ سے گذشتی کئی ہفتوں سے کئی ممالک بشمول پاکستان لاک ڈاؤن جاری ہے جس میں کاروباری زندگی سمیت دفاتر مساجد تعلیمی ادارے اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے

    باغی ٹی وی : رمضان کی آمد آمد ہے تاہم اس سلسلے میں علماء اکرام نے باہمی مشاورت سے فیصلہ کیا ہے کہ ملک بھر میں مساجد کھلی رہیں گی اور لوگ نماز اور تراویح پڑھنے کے لئے مساجد جائیں گے اور صدر پاکستان نے بھی علماء کے اس فیصلے کو صحیح قرار دیتے ہوئے مساجد میں نماز اور تراویح اور عبادات کرنے کی منظوری دے دی ہے اس بات کو لے کر ملک بھر میں بحث و تکرار جاری ہے

    اسی سلسلے میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ وائرل ہو رہی ہے جس میں سوال اٹھاتے ہوئے کیا گیا کہ اسلام آپ کو کہتا ہے کہ پیاز کھانے کے بعد مسجد نہ جانا کیونکہ بدبو دوسروں کو تکلیف ہو سکتی ہے کیا آپ واقعی میں سوچتے ہیں کہ وہی مذہب جو آپ کو کسی مسجد میں جانے سے منع کرتا ہے اگر آپ کو بدبو آ رہی ہے تو ممکنہ طور پر وائرس ہونےکے دوران اندر جانے کی حوصلہ افزائی کرے گا؟

    صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں روایت بیان کی گئی ہے حدیث کے مطابق حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص پیاز اور لہسن کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے اس لئےکہ فرشتے بھی ان چیزوں سے تکلیف محسوس کرتے ہیں جن سے انسانوں کو تکلیف محسوس ہوتی ہے

    صحیح مسلم کی ایک روایت کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک بار خطبہ دیا جس میں فرمایا اے لوگو تم دو ایسے درخت یعنی سبزیاں کھاتے ہو جسے میں ناپسندیدہ سمجھتا ہوں جیسے پیاز اور لہسن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا جب مسجد میں کسی آدمی سے ان دوچیزوں کی بدبو محسوس فرما تے تواس کی بابت حکم دے کر اسے بقیع تک باہر نکلوا دیتے تھے لیکن جو شخص انہیں کھائے ان کو پکا کر اور بدبو زائل کر کے کھائے

    تو مذکورہ بالا احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ لہسن اور پیاز کی بدبوسے جہاں انسان کو ناگواری محسوس ہوتی ہے وہاں فرشتوں کو بھی بدبو سے تکلیف محسوس ہوتی ہے لہذا جو شخص اپنے منہ اور باقی جسم کی صفائی کا خیال نہیں رکھتا وہ انسانوں کو تو تکلیف دیتا ہی ہے ساتھ ساتھ فرشتوں کو بھی تکلیف دیتا ہے اور اسی وجہ سے اس سے ناگواری ظاہر کی گئی ہے

    لاک ڈاؤن کے باوجود پاکستانی علماء بہت زیادہ نماز تراویح کے لئے مسجد میں آنے کے لئے بحث و تکرار کر کر رہے ہیں اس کے حوالے سے مذکورہ بالا اھادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آداب کے خلاف یہ بات کی ہے آپ نے اگر مسجد آنا ہے تو پیاز وغیرہ نہ کھا کر آئیں یہ نہ ہو کہ آپ کے منہ کی بدبو کی وجہ سے آپ کے دائیں بائیں لوگوں کو کو پریشانی ہو

    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگر معمولی سی بات کے اوپر اتنی تاکید کی گئی ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ایسی وبا کے ٹائم پر ایسا مرض جو دکھتا بھی نہیں ہے جس کی شناخت بھی نہیں اور جس وبا کی ابھی تک کوئی میڈیسن یا اس کو ختم کرنے کا کوئی طریقہ بھی نہیں دریافت ہو سکا اور جان لیوا بھی ہے جس کی بدولت دنیا بھر میں لاکھوں اموات ہو چکی ہیں لاکھوں لوگ متاثر ہو چکے ہیں دنیا کا سارا نظام درہم برہم ہو چکا ہے تو اسلام ایسی چیزکی اجازت کیسے دے گا کہ جس سے بیماری پھیلنے اور لوگوں کی جانوں کو خطرہ ہو ہماری اسلامی تعلیمات تو یہی کہتی ہیں کسی ایسی بات اور ایسے کام سے پرہیز کرو جس سے کسی کو تکلیف ہو

    پاکستان علما کونسل کا ملک بھر میں محفوظ رمضان، محفوظ پاکستان مہم چلانے کا اعلان

    ماہ رمضان کی آمد، چاند دیکھنے کے لئے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس طلب

    کیا سوشل میڈیا سے دعوتِ دین کا کام نہیں لیا جاسکتا؟ تحریر: عبداللہ یوسف زہبی

    حکومت سرکاری سطح پر اجتماعی استغفار و توبہ کا پروگرام ترتیب دے،متحدہ علماء محاذ